بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
12 hadith
Narrated by Laqit ibn Sabirah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ قَالَ كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ - أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ لَنَا قَالَ وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ - وَلَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ الْقِنَاعَ وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ تَمْرٌ - ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُلُوسٌ إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ فَقَالَ ‏"‏ مَا وَلَّدْتَ يَا فُلاَنُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَهْمَةً ‏.‏ قَالَ فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لاَ تَحْسِبَنَّ - وَلَمْ يَقُلْ لاَ تَحْسَبَنَّ - أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لاَ نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِهَا شَيْئًا يَعْنِي الْبَذَاءَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَطَلِّقْهَا إِذًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمُرْهَا - يَقُولُ عِظْهَا - فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلُ وَلاَ تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الاِسْتِنْشَاقِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Laqit ibn Sabirah: I was the leader of the delegation of Banu al-Muntafiq or (the narrator doubted) I was among the delegation of Banu al-Muntafiq that came to the Messenger of Allah (ﷺ). When we reached the Prophet, we did not find him in his house. We found there Aisha, the Mother of the Believers. She ordered that a dish called Khazirah should be prepared for us. It was then prepared. A tray containing dates was then presented to us. (The narrator Qutaybah did not mention the word qina', tray). Then the Messenger of Allah (ﷺ) came. He asked: Has anything been served to you or ordered for you? We replied: Yes, Messenger of Allah. While we were sitting in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) we suddenly saw that a shepherd was driving a herd of sheep to their fold. He had with him a newly-born lamb that was crying. He (the Prophet) asked him: What did it bear, O so and so? He replied: A ewe. He then said: Slaughter for us in its place a sheep. Do not think that we are slaughtering it for you. We have one hundred sheep and we do not want their number to increase. Whenever a ewe is born, we slaughter a sheep in its place. (The narrator says that the Prophet (ﷺ) used the word la tahsabanna, do not think). I (the narrator Laqit) then said: Messenger of Allah, I have a wife who has something (wrong) in her tongue, i.e. she is insolent. He said: Then divorce her. I said: Messenger of Allah, she had company with me and I have children from her. He said: Then ask her (to obey you). If there is something good in her, she will do so (obey); and do not beat your wife as you beat your slave-girl. I said: Messenger of Allah, tell me about ablution. He said: Perform ablution in full and make the fingers go through the beard and snuff with water well except when you are fasting
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا، وہ تیار کیا گیا، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ ( قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا؟ ، ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) پوچھا: اے فلاں! کیا پیدا ہوا ( نر یا مادہ ) ؟ ، اس نے جواب دیا: مادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو ۔ پھر ( لقیط سے ) فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ ( بات یہ ہے کہ ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے ( میں کیا کروں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم اسے طلاق دے دو ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو ۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - قَالَ سُفْيَانُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَفَعَهُ فِطْرٌ وَالْحَسَنُ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ هُوَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا ‏"‏ ‏.‏
Abd Allah bin `Amr said :(Sufyan said : The version of the narrator Sulaiman does not go back to The Prophet (SAWS). Fitr and al-Hasan reported from him ) : The Messenger of Allah (SAWS) said : One who compensates is not a man who unites relationship : but the man who unites relationship is the one who joins it when the relationship is cut off
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الأَنْصَارِيَّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِكْرِمَةُ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالاَ صَدَقَ ‏.‏
Al Hajjaj bin ‘Amr Al Ansari reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ If anyone breaks (a bone or leg) or becomes lame, he has come out of the sacred state and must perform Hajj the following year.” ‘Ikrimah said I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah about this. They replied He spoke the truth
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا، اب اس پر اگلے سال حج ہو گا ۱؎ ۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔
Narrated by Hafsah, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَ صِيَامَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ اللَّيْثُ وَإِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ أَيْضًا جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِثْلَهُ وَوَقَفَهُ عَلَى حَفْصَةَ مَعْمَرٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَيُونُسُ الأَيْلِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
Narrated Hafsah, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who does not determine to fast before dawn does not fast
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فجر ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَعَثَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - بُسْبَسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ ‏.‏
Anas said “the Prophet(ﷺ) sent Busaisah as a spy to see what the caravan of Abu Sufyan was doing.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔
Narrated by Asma' daughter of AbuBakr
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ آدَمَ - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ نَخْلاً ‏.‏
Narrated Asma' daughter of AbuBakr: The Messenger of Allah (ﷺ) assigned to az-Zubayr palm-trees as a fief
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ ( اسماء رضی اللہ عنہا کے خاوند ہیں ) کو کھجور کے کچھ درخت بطور جاگیر عنایت فرمائی۔
Narrated by Bashir, the Client of the Messenger of Allah
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ فَهَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا اسْمُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زَحْمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا ثُمَّ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏ وَحَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَظْرَةٌ فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلاَنِ فَقَالَ ‏"‏ يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ وَيْحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَنَظَرَ الرَّجُلُ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلَعَهُمَا فَرَمَى بِهِمَا ‏.‏
Narrated Bashir, the Client of the Messenger of Allah: Bashir's name in pre-Islamic days was Zahm ibn Ma'bad. When he migrated to the Messenger of Allah (ﷺ). He asked: What is your name? He replied: Zahm. He said: No, you are Bashir. He (Bashir) said: When I was walking with the Messenger of Allah (ﷺ) he passed by the graves of the polytheists. He said: They lived before (a period of) abundant good. He said this three times. He then passed by the graves of Muslims. He said: They received abundant good. The Messenger of Allah (ﷺ) suddenly saw a man walking in shoes between the graves. He said: O man, wearing the shoes! Woe to thee! Take off thy shoes. So the man looked (round), When he recognized the Messenger of Allah (ﷺ), he took them off and threw them away
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بشیر رضی اللہ عنہ ( جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ ، انہوں نے کہا: زحم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو کہتے ہیں: اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: یہ لوگ خیر کثیر ( دین اسلام ) سے پہلے گزر ( مر ) گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں پر سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے خیر کثیر ( بہت زیادہ بھلائی ) حاصل کی اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جوتیوں والے! تجھ پر افسوس ہے، اپنی جوتیاں اتار دے اس آدمی نے ( نظر اٹھا کر ) دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے ہی انہیں اتار پھینکا۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ - عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ طَارِقٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَعْطَاهَا ابْنُهَا حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ فَمَاتَتْ فَقَالَ ابْنُهَا إِنَّمَا أَعْطَيْتُهَا حَيَاتَهَا ‏.‏ وَلَهُ إِخْوَةٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ لَهَا حَيَاتَهَا وَمَوْتَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَيْهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) decided a case of a woman from the Ansar to whom an orchard of date-palms was given by her son. She then died. Her son said: I gave it to her for her life, and she has brothers. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: It belongs to her during her life and after death. He then said: I gave a sadaqah (charity to her. He replied: It is more unexpected from you)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے ( جو اپنا حق مانگ رہے تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو یہ ( واپسی ) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے ( کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ، حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Burdah al-Ansari through a different chain of narrators. This version has:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say. . . He then mentioned the tradition to the same effect
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوبردہ انصاری سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ‏:‏ ‏"‏ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ ‏:‏ ‏"‏ كَانَ أَبُوكُمْ يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ ‏.‏
Ibn ‘abbas said :The Prophet (May peace be upon him) used to seek refuge in Allah for al-Hasan and al-husain, saying ; I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and every poisonous thing and from the evil eye which influences. He would then say; your father sought refuge in Allah by them for Ismail and Ishaq. Abu Dawud said; this is a proof of the fact that the Quran is not created
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ( ان الفاظ میں ) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے: تمہارے باپ ( ابراہیم ) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: It is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days, for one who does so and dies will enter Hell
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، لہٰذا جو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے پھر وہ ( بغیر توبہ کے اسی حال میں ) مر جائے تو وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلاَلاً، أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ مُوسَى فَرَجَعَ فَنَادَى أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ إِلاَّ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: Bilal made a call to prayer before the break of dawn; the Prophet (ﷺ), therefore, commanded him to return and make a call: Lo! the servant of Allah (i.e. I) had slept (hence this mistake). The version of Musa has the addition: He returned and made a call: Lo! the servant of Allah had slept. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Darawardi from 'Ubaid Allah on the authority of Ibn 'Umar saying: There was a mu'adhdhin of 'Umar, named Mas'ud. He then narrated the rest of the tradition. This version is more correct than that one
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہیں: سنو، بندہ سو گیا تھا، سنو، بندہ سو گیا تھا۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اذان دی اور بلند آواز سے کہا: سنو، بندہ سو گیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔