بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
15 hadith
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (my peace be upon him) washed the limbs in ablution twice
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء دو دو بار دھلے۔ تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطھارة ۳۳ ( ۴۳ ) ، ( تحفة الأشراف: ۱۳۹۴۰ ) ، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۲/۲۸۸، ۳۶۴ ) ( حسن صحیح)
Narrated by Shakl ibn Humayd
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ - قَالَ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً قَالَ ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي ‏"‏ ‏.‏
Narrated Shakl ibn Humayd: I said: Messenger of Allah, teach me a supplication. He said: Say: "O Allah, I seek refuge in Thee from the evil of what I hear, from the evil of what I see, from the evil of what I speak, from the evil of what I think, and from the evil of my semen" (i.e. sexual passion)
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «االلهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي» ۱؎ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے ۔
Narrated by Abu Hurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي دِينَارٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي آخَرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي آخَرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ زَوْجِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي آخَرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي آخَرُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتَ أَبْصَرُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) commanded to give sadaqah. A man said: Messenger of Allah, I have a dinar. He said: Spend it on yourself. He again said: I have another. He said: Spend it on your children. He again said: I have another. He said: Spend it on your wife. He again said: I have another. He said: Spend it on your servant. He finally said: I have another. He replied: You know best (what to do with it)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے کام میں لے آؤ ، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے بیٹے کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی بیوی کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم کو دے دو ، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو ( کہ کسے دیا جائے ) ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ ‏"‏ قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلاَثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ ‏"‏ ‏.‏
Ka’ab bin ‘Ujrah said that the Apostle of Allaah(ﷺ) came upon him (during their stay) at Al Hudaibiyyah. He asked do the insects of your head (lice) annoy you? He said Yes. The Prophet (ﷺ) said Shave your head, then sacrifice a sheep as offering or fast three days or give three sa’s of dates to six poor people
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے؟ کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈوا دو، پھر ایک بکری ذبح کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
‘Abd Allaah (bin Masud) said “I asked Apostle of Allaah(ﷺ) which sin is the gravest?” He replied “That you associate someone with Allaah, while He has created you”. I again asked “Which then?” He replied “That you commit adultery with the wife of your neighbor.” Allaah then revealed the following Qur’anic verse in support of the statement of the Prophet (ﷺ) “Those who invoke not with Allaah any other god nor slay such life as Allaah has made sacred except for just cause nor commit fornication.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ ) تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ، میں نے کہا پھر اس کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ، نیز کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون الخ ( سورۃ الفرقان: ۶۸ ) جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے اور ناحق اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، - وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرًا قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يُفْطِرُ يَوْمًا وَيَصُومُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏
Abd Allah b. 'And (b. al-'As) said:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: The fast most liked by Allah is the one observed by Dawud (David), and the prayer dearer to Allah is the one offered by Dawud (David): he would sleep half the night, and stand (in prayer) one-third of it, and sleep one-sixth of it. He would go without fasting one day, and fast the other day
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے: وہ آدھی رات تک سوتے، اور تہائی رات تک قیام کرتے ( تہجد پڑھتے ) ، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے، ایک دن رکھتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا وَقَالَ ‏ "‏ إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلاَثِ خِصَالٍ أَوْ خِلاَلٍ فَأَيَّتُهَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمُ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يُجْرَى عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَىْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلاَّ أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ تَعَالَى وَقَاتِلْهُمْ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ تَعَالَى فَلاَ تُنْزِلْهُمْ فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللَّهُ فِيهِمْ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ عَلْقَمَةُ فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ ابْنُ هَيْصَمٍ - عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ‏.‏
Sulaiman bin Buraidah reported on the authority of his father. When the Apostle of Allaah(ﷺ) appointed a Commander over an Army or a detachment, he instructed him to fear Allaah himself and consider the welfare of the Muslims who were with him. He then said “When you meet the polytheists who are your enemy, summon them tone of three things and accept whichever of them they are willing to agree to, and refrain from them. Summon them to Islam and if they agree, accept it from them and refrain from them. Then summon them to leave their territory and transfer to the abode of the Emigrants and tell them that if they do so, they will have the same rights and responsibilities as the Emigrants, but if they refuse and choose their own abode, tell them that they will be like the desert Arabs who are Muslims subject to Allaah’s jurisdiction which applies to the believers, but will have no spoil or booty unless they strive with the Muslims. If they refuse demand jizyah (poll tax) from them, if they agree accept it from them and refrain from them. But if they refuse, seek Alaah’s help and fight with them. When you invade the fortress and they (its people) offer to capitulate and have the matter referred to Allaah’s jurisdiction, do not grant this, for you do not know whether or not you will hit on Allaah’s jurisdiction regarding them. But let them capitulate and have the matter refereed to your jurisdiction and make a decision about them later on as you wish. Sufyan (bin ‘Uyainah) said thah ‘Alqamah said “I mentioned this tradition to Muqatil bin Habban, He said “Muslim narrated it to me.” Abu Dawud said “He is Ibn Haidam narrated from Al Nu’man in Muqqarin from the Prophet (ﷺ) like the tradition of Sulaiman bin Buraidah
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کا کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو اسے اپنے نفس کے بارے میں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتے، اور فرماتے: جب تم اپنے مشرک دشمنوں کا سامنا کرنا تو انہیں تین چیزوں کی دعوت دینا، ان تینوں میں سے جس چیز کو وہ مان لیں تم ان سے اسے مان لینا اور ان سے رک جانا، ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی جانب بلانا، اگر تمہاری اس دعوت کو وہ لوگ تسلیم کر لیں تو تم اسے قبول کر لینا اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جانا، پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا، اور انہیں یہ بتانا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی چیز ہو گی جو مہاجرین کے لیے ہو گی، اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ انکار کریں اور اپنے وطن ہی میں رہنا چاہیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے، اور فے اور مال غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ کی ادائیگی کی دعوت دینا، اگر وہ لوگ جزیہ کی ادائیگی قبول کر لیں تو ان سے اسے قبول کر لینا اور جہاد کرنے سے رک جانا، اور اگر وہ جزیہ بھی دینے سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرنا، اور ان سے جہاد کرنا، اور اگر تم کسی قلعہ والے کا محاصرہ کرنا اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر اتارو، تو تم انہیں اللہ کے حکم پر مت اتارنا، اس لیے کہ تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ان کے سلسلے میں کیا فیصلہ کرے گا، لیکن ان کو اپنے حکم پر اتارنا، پھر اس کے بعد ان کے سلسلے میں تم جو چاہو فیصلہ کرنا ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: علقمہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم نے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابن ہیصم ہیں، بیان کیا انہوں نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور نعمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمان بن بریدہ کی حدیث کے مثل روایت کیا۔
Narrated by Amr ibn Awf al-Muzani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ سَمِعْتُ الْحُنَيْنِيَّ، قَالَ قَرَأْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ يَعْنِي كِتَابَ قَطِيعَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْطَعَ بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا - قَالَ ابْنُ النَّضْرِ وَجَرْسَهَا وَذَاتَ النُّصُبِ ثُمَّ اتَّفَقَا - وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ ‏.‏ وَلَمْ يُعْطِ بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَذَا مَا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ زَادَ ابْنُ النَّضْرِ وَكَتَبَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ ‏.‏
Narrated Amr ibn Awf al-Muzani: The Prophet (ﷺ) assigned as a fief to Bilal ibn Harith al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah, both those which lay on the upper side those and which lay on the lower side. The narrator, Ibn an-Nadr, added: "also Jars and Dhat an-Nusub." The agreed version reads: "and (the land) which is suitable for cultivation at Quds". He did not assign to Bilal ibn al-Harith the right of any Muslim. The Prophet (ﷺ) wrote a document to him: "This is what the Messenger of Allah (ﷺ) assigned to Bilal ibn al-Harith al-Muzani. He gave him the mines of al-Qabaliyyah both those which lay on the upper and lower side, and that which is fit for cultivation at Quds. He did not give him the right of any Muslim." The narrator AbuUways said: A similar tradition has been transmitted to me by Thawr ibn Zayd from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas from the Prophet (ﷺ). Ibn an-Nadr added: Ubayy ibn Ka'b wrote it
محمد بن نضر کہتے ہیں کہ میں نے حنینی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاگیر نامہ کو کئی بار پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے کئی ایک نے حسین بن محمد کے واسطہ سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ابواویس نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں: مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا ہے وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں بطور جاگیر دیں۔ ابن نضر کی روایت میں ہے: اور اس کے جرس اور ذات النصب ۱؎ کو دیا، پھر دونوں راوی متفق ہیں: اور قدس کی قابل کاشت زمین دی، اور بلال بن حارث کو کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لکھ کر دیا کہ یہ وہ تحریر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو لکھ کر دی، انہیں قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں اور قدس کی قابل کاشت زمینیں دیں، اور انہیں کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا۔ ابواویس کہتے ہیں کہ ثور بن زید نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کیا اور ابن نضر نے اتنا اضافہ کیا کہ ( یہ دستاویز ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھی۔
Narrated by Yazid b. Habib
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ ‏.‏
Narrated Yazid b. Habib:The Prophet (ﷺ) prayed over the martyrs of Uhud after eight years like a man who bids farewell to the living and dead
اس سند سے بھی یزید بن حبیب سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی، یہ ایسی نماز تھی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو وداع کرتے ہوئے پڑھے ( درد و سوز میں ڈوبی ہوئی ) ۱؎۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone is given life-tenancy, it belongs to him and to his descendants. His descendants who inherit him will inherit from it
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کی ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کی ہو گی ۱؎، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے ۔
Narrated by Abu Talhah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلاَّ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ ‏.‏
Narrated Abu Talhah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The angels do not enter the house which contains a picture. Busr (b. Sa'id), the transmitter of this tradition, said: Zaid (b. Khalid al-Juhani) then fell it and we paid him a sick visit. There was a curtain with a picture hanging at his door. I then said to 'Ubaid Allah al-Khawlani', the step-son of Maimunah, wife of the Prophet (ﷺ): Did Zaid not tell us about pictures on the first day ? 'Ubaid Allah said: Did you not hear him when he said: Except a figure on a garment
زید بن خالد رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو ۔ بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب ( پروردہ ) عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی ( پھر یہ کیا ہوا؟ ) تو عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا سوائے اس نقش و نگار کے جو کپڑے پر ہو ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ لاَ أَدِي - أَوْ مَا كُنْتُ لأَدِيَ - مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا إِلاَّ شَارِبَ الْخَمْرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ قُلْنَاهُ نَحْنُ ‏.‏
’Ali said:I shall not pay blood-money or (he said) : I am not going to pay blood-money for him on whom I inflicted the prescribed punishment except for the one who drank wine, for the Messenger of Allah (ﷺ) did not prescribe anything definite. It is a thing which we have decided (by agreement) ourselves
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے۔
Narrated by AbuRazin al-Uqayli
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - الْمَعْنَى - عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ مُوسَى - ابْنُ عُدُسٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ، - قَالَ مُوسَى الْعُقَيْلِيُّ - قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ ‏"‏ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اتَّفَقَا قُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاللَّهُ أَعْظَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuRazin al-Uqayli: I asked: Messenger of Allah! will each one of us see his Lord? Ibn Mu'adh's version has: "being alone with Him, on the Day of Resurrection? And what sign is there is His creation?" He replied: AbuRazin! does each one of you not see the moon? Ibn Mu'adh's version has: "on the night when it is full, being alone with it?" Then the agreed version goes: I said: Yes. He said: Allah is more great. Ibn Mu'adh's version has: It is only part of Allah's creation, but Allah is more glorious and greater
ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو ( قیامت کے دن ) بلا رکاوٹ دیکھے گا؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابورزین! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ۱؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، ح وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، - قَالَ زَيْدٌ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، لَعَنَ الرِّيحَ - وَقَالَ مُسْلِمٌ إِنَّ رَجُلاً نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَعَنَهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man cursed the wind. The narrator Muslim's version has: The wind snatched away a man's cloak during the time of the Prophet (ﷺ) and he cursed it. The Prophet (ﷺ) said: Do not curse it, for it is under command, and if anyone curses a thing undeservedly, the curse returns upon him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی ( مسلم کی روایت میں اس طرح ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ قَالَ ‏ "‏ وَأَنَا وَأَنَا ‏"‏ ‏.‏
‘A’ishah said that when the Messenger of Allah (ﷺ) heard the MU’ADHDHIN uttering the testimony, he would say:“And I too, and I too”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو: «أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله» کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے: اور میں بھی ( اس کا گواہ ہوں ) اور میں بھی ( اس کا گواہ ہوں ) ۔