بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
15 hadith
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الطُّهُورُ فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّاحَتَيْنِ فِي أُذُنَيْهِ وَمَسَحَ بِإِبْهَامَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ وَبِالسَّبَّاحَتَيْنِ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَكَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَسَاءَ وَظَلَمَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ ظَلَمَ وَأَسَاءَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: A man came to the Prophet (ﷺ) and asked him: Messenger of Allah, how is the ablution (to performed)? He (the Prophet) then called for water in a vessel and washed his hands up to the wrists three times, then washed his face three times, and washed his forearms three times. He then wiped his head and inserted both his index fingers in his ear-holes; he wiped the back of his ears with his thumbs and the front of his ears with the index fingers. He then washed his feet three times. Then he said: This is how ablution should be performed. If anyone does more or less than this, he has done wrong and transgressed, or (said) transgressed and done wrong
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وضو کس طرح کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دونوں پہونچوں کو تین بار دھویا، پھر چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ تین بار دھلے، پھر سر کا مسح کیا، اور شہادت کی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں داخل کیا، اور اپنے دونوں انگوٹھوں سے اپنے دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا اور شہادت کی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھلے، پھر فرمایا: وضو ( کا طریقہ ) اسی طرح ہے جس شخص نے اس پر زیادتی یا کمی کی اس نے برا کیا، اور ظلم کیا ، یا فرمایا: ظلم کیا اور برا کیا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهِ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
Farwah b. Nawfal Al-Ashja'i asked 'Aishah the Mother of the Believers, about the supplication of the Messenger of Allah (ﷺ). She replied:"He would say: 'O Allah, I seek refuge in You from the evil of what I have done, and from the evil of what I have not done
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل» اے اللہ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏ "‏ آجَرَكِ اللَّهُ أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ ‏"‏ ‏.‏
Maimunah, wife of the Probhet (ﷺ) said :I had a slave girl and I set her free. When the Prophet (ﷺ) entered upon me, I informed him (of this). He said : May Allah give reward for it; if you had given her to your maternal uncles, it would have increased your reward
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کر دیا، میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ ‏.‏
Ka’ab said “Locusts are counted along with the game of the sea.”
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ - يَعْنِي ثَلاَثًا - فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحِلُّ لِلأَوَّلِ حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الآخَرِ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about a man who divorced his wife three times, and she married another who entered upon her, but divorced her before having intercourse with her, whether she was lawful for the former husband. She said: The Prophet (ﷺ) replied: She is not lawful for the first (husband) until she tastes the honey of the other husband and he tastes her honey
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا اور وہ شخص اس کے پاس گیا لیکن جماع سے پہلے ہی اس نے اسے طلاق دے دی تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر کی مٹھاس نہ چکھ لے اور وہ شوہر اس عورت کی مٹھاس نہ چکھ لے۱؎ ۔
Narrated by AbdurRahman ibn Maslamah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ أَسْلَمَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏.‏
Narrated AbdurRahman ibn Maslamah: AbdurRahman reported on the authority of his uncle that the people of the tribe Aslam came to the Prophet (ﷺ). He said (to them): Did you fast on this day? They replied: No. He said: Complete the rest of your day, and make atonement for it
عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے؟ جواب دیا: نہیں، فرمایا: دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی عاشوراء کے دن۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلاَفٍ وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: The best number of companions is four, the best number in expeditions four hundred, and the best number in armies four thousand; and twelve thousand will not be overcome through smallness of numbers. Abu Dawud said: What is correct is that this tradition is mursal (i.e. the link of the Companion is missing)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ۱؎، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔
Narrated by Amr ibn Awf al-Muzani
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ، قَالَ الْعَبَّاسُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْطَعَ بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا - وَقَالَ غَيْرُ الْعَبَّاسِ جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا - وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُ الْعَبَّاسِ ‏"‏ جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا ‏"‏ ‏.‏ ‏"‏ وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ وَحَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ ‏.‏
Narrated Amr ibn Awf al-Muzani: The Prophet (ﷺ) assigned as a fief to Bilal ibn al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah both which lay on the upper side and which lay on the lower side, and (the land) which was suitable for cultivation at Quds. He did not give him (the land which involved) the right of a Muslim. The Prophet (ﷺ) wrote a document for him. It goes: "In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. This is what the Messenger of Allah (ﷺ) assigned to Bilal ibn Harith al-Muzani. He gave him the mines of al-Qabaliyyah, both which lay on the upper side and which lay on the lower side, and (the land) which is suitable for cultivation at Quds. He did not give him the right of any Muslim." Abu Uwais said: A similar tradition has been narrated to me by Thawr b. Zaid, client of Banu al-Dail b. Bakr b. Kinahah from 'Ikrimah on the authority of Ibn 'Abbas
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کی نشیب و فراز کی کانیں ٹھیکہ میں دیں ۱؎۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں ) اور دیگر لوگوں نے «جلسيها وغوريها» کہا ہے ) اور قدس ( ایک پہاڑ کا نام ہے ) کی وہ زمین بھی دی جو قابل کاشت تھی اور وہ زمین انہیں نہیں دی جس پر کسی مسلمان کا حق اور قبضہ تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے لیے ایک دستاویز لکھ کر دی، وہ اس طرح تھی: بسم الله الرحمن الرحيم،، یہ دستاویز ہے اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کے کانوں کا جو بلندی میں ہیں اور پستی میں ہیں، ٹھیکہ دیا اور قدس کی وہ زمین بھی دی جس میں کھیتی ہو سکتی ہے، اور انہیں کسی مسلمان کا حق نہیں دیا ۔ ابواویس راوی کہتے ہیں: مجھ سے بنو دیل بن بکر بن کنانہ کے غلام ثور بن زید نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
Narrated by Uqbah bin 'Amir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاَتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ ‏.‏
Narrated 'Uqbah bin 'Amir:One day the Messenger of Allah (ﷺ) went out and prayed over the martyrs of Uhud like his prayer over the dead, and then returned
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے نکلے اور اہل احد پر اپنے جنازے کی نماز کی طرح نماز پڑھی، پھر لوٹے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) has saying: What is given in life-tenancy belongs to the one to whom it was given
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: زندگی بھر کے لیے دی ہوئی چیز کا وہی مالک ہے جس کو چیز دے دی گئی ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا أُمَّهْ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَقَالَ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Suhail through a different chain of narrators like the previous one. This version has:I said: Mother, he has told me that the Prophet (ﷺ) has said: He also said the words ; Sa'id b. yasir client of Banu al-Najjar
اس سند سے بھی سہیل سے اسی طرح مروی ہے اس میں «فقلنا يا أم المؤمنين إن أبا طلحة حدثنا عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کے بجائے «فقلت يا أمه إن هذا حدثني أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال» ہے نیز اس میں «سعيد بن يسار الأنصاري» کے بجائے «سعيد بن يسار مولى بني النجار» ہے۔
Narrated by Qabisah ibn Dhuwayb
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنَا عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فَجَلَدَهُ وَرَفَعَ الْقَتْلَ فَكَانَتْ رُخْصَةً ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَ الزُّهْرِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَعِنْدَهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَمُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ فَقَالَ لَهُمَا كُونَا وَافِدَىْ أَهْلِ الْعِرَاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الشَّرِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ أَوْسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو غُطَيْفٍ الْكِنْدِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Narrated Qabisah ibn Dhuwayb: The Prophet (ﷺ) said: If anyone drinks wine, flog him; if he repeats it, flog him, and if he repeats it, flog him. If he does it again a third or a fourth time, kill him. A man who had drunk wine was brought (to him) and he gave him lashes. He was again brought to him, and he flogged him. He was again brought to him and he flogged him. He was again brought to him and he flogged him. The punishment of killing (for drinking) was repealed, and a concession was allowed. Sufyan said: Al-Zuhri transmitted this tradition when Mansur b. al-Mu'tamir amd Mukhawwal b. Rashid were present with him. He said to them: Take this tradition as a present to the people of Iraq. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Sharid b. Suwaid, Sharahbil b. Aws, 'Abd Allah b. 'Amr, 'Abd Allah b. 'Umar, Abu Ghutaif al-Kindi, and Abu Salamah b. 'Abd al-Rahman from Abu Hurairah
قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو تو ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، آپ نے پھر اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر لایا گیا تو پھر آپ نے کوڑے ہی لگائے، اور قتل کا حکم اٹھا دیا اور رخصت ہو گئی۔ سفیان کہتے ہیں: زہری نے اس حدیث کو بیان کیا اور ان کے پاس منصور بن معتمر اور مخول بن راشد موجود تھے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: تم دونوں اہل عراق کے لیے یہ حدیث یہاں سے تحفے میں لیتے جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شرید بن سوید، شرحبیل بن اوس، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عمر، ابوغطیف کندی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ نَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said :The people asked : Messenger of Allah! Shall we see our lord, the Exalted, on the Day of resurrection? He replied : Do you feel any trouble in seeing the sun at noon when it is not in the cloud? They said: No. He asked : Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full and not in the cloud? They replied: No. He said: By him in whose hand my soul is, you will not feel any trouble in seeing him except as much as you feel in seeing any of them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلاَ شُهَدَاءَ ‏"‏ ‏.‏
Abu al-Darda’ said :I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: Men given to cursing will not be witnesses or intercessors
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Sa’d b. Abi Waqqas reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :If anyone says when he hears the MU’ADHDHIN : “And I testify that there is no god but Allah alone who has no partner and that Muhammad is His servant and Apostle: I am satisfied with Allah as lord, with Muhammad as apostle and with Islam as religion”, he will be forgiven
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کلمات کہے: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» ‏‏‏‏ اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اسے بخش دیا جائے گا ۔