بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
15 hadith
Narrated by Ar-Rubayyi' daughter of Mu'awwidh ibn Afra
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي جُحْرَىْ أُذُنَيْهِ ‏.‏
Narrated Ar-Rubayyi' daughter of Mu'awwidh ibn Afra': The Prophet (ﷺ) performed ablution. He inserted his two fingers in the ear-holes
بیع بنت معوذ ( ربیع بنت معوذ بن عفراء ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ( مسح کے لیے ) اپنے دونوں کانوں کے سوراخ میں داخل کیں ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّلِيكِ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الأَخْلاَقِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) used to supplicate by saying: "O Allah, I seek refuge in Thee from divisiveness, hypocrisy, and evil character
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تو فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من الشقاق، والنفاق، وسوء الأخلاق» اے اللہ! میں پھوٹ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النِّسَاءَ قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأُرَى فِيهِ وَأَزْوَاجِنَا - فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَقَالَ ‏ "‏ الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الرَّطْبُ الْخُبْزُ وَالْبَقْلُ وَالرُّطَبُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ يُونُسَ ‏.‏
Sa’d said When the Messenger of Allah (SWAS) took the oath of allegiance from woman, a woman of high rank, who seemed to be one of the women of Mudar, rose and said Prophet of Allah (SWAS), we are dependant on our parents, our sons. (Abu Dawud said I think (this version) has the word “ and our husbands”. ) So what part of their property can be spent lawfully? He said Fresh food which you eat and give as a present. Abu Dawud said The Arabic word ratb means bread, vegetables and fresh dates. Abu Dawud said Al-Thawri transmitted from Yunus in a similar manner
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی: اللہ کے نبی! ہم ( عورتیں ) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے خیال میں «أزواجنا» کا لفظ کہا ( یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں ) ، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے ( کہ ہم خرچ کریں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رطب» ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «رطب» روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ الْقَارِيَّ - عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلاَلٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُنْظَرُ بِمَا أَخَذَ بِهِ أَصْحَابُهُ ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The game of the land is lawful for you (when you are wearing ihram) as long as you do not hunt it or have it hunted on your behalf. Abu Dawud said: When two traditions from the Prophet (ﷺ) conflict, one should see which of them was followed by his Companions
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أُسَيْدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا، تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَيْهَا فَتَكْتَحِلُ بِالْجَلاَءِ - قَالَ أَحْمَدُ الصَّوَابُ بِكُحْلِ الْجَلاَءِ - فَأَرْسَلَتْ مَوْلاَةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجَلاَءِ فَقَالَتْ لاَ تَكْتَحِلِي بِهِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْهُ يَشْتَدُّ عَلَيْكِ فَتَكْتَحِلِينَ بِاللَّيْلِ وَتَمْسَحِينَهُ بِالنَّهَارِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبِرًا فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلاَ تَجْعَلِيهِ إِلاَّ بِاللَّيْلِ وَتَنْزِعِينَهُ بِالنَّهَارِ وَلاَ تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلاَ بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ ‏"‏ ‏.‏
Umm Hakim, daughter of Usayd, reported on the authority of her mother that her husband died and she was suffering from sore eyes. She therefore applied collyrium (jala'). Ahmad said:The correct version is "glittering collyrium (kuhl al-jala'). She sent her slave-girl to Umm Salamah, and she asked her about the use of glittering collyrium (kuhl al-jala'). She said: Do not apply it except in the case of dire need which is troubling you. In that case you can use it at night, but you should remove it in the daytime. Then Umm Salamah said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to visit me when AbuSalamah died, and I had put the juice of aloes in my eye. He asked : What is this, Umm Salamah? I replied: It is only the juice of aloes and contains no perfume. He said: It gives the face a glow, so apply it only at night and remove it in daytime, and do not comb yourself with scent or henna, for it is a dye. I asked: What should I use when I comb myself, Messenger of Allah? He said: Use lote-tree leaves and smear your head copiously with them
ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا، ان کی آنکھوں میں تکلیف رہتی تھی تو وہ «جلاء» ( سرمہ ) لگا لیتیں تو اپنی ایک لونڈی کو انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ وہ «جلاء» کے سرمہ کے متعلق ان سے پوچھے، انہوں نے کہا: اس کا سرمہ نہ لگاؤ جب تک ایسی سخت ضرورت پیش نہ آ جائے جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس صورت میں تم اسے رات میں لگاؤ، اور دن میں پونچھ لیا کرو، پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسی وقت یہ بھی بتایا کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور میں نے اپنی آنکھ میں ایلوا لگا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! یہ ایلوا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے، فرمایا: یہ چہرے میں حسن پیدا کرتا ہے لہٰذا اسے رات ہی میں لگاؤ، اور دن میں ہٹا دو، اور خوشبو لگا کر کنگھی نہ کرو، اور نہ مہندی لگا کر، کیونکہ وہ خضاب ہے میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کنگھی کس چیز سے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیری کے پتوں کو اپنے سر پر لپیٹ کر ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَذَا يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar said:'Ashurah was a day on which we used to fast in pre-Islamic days. When (fasting of) Ramadan was prescribed, the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is one of the days of Allah ; he who wishes may fast on it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( یوم عاشوراء ) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلاَثَةُ رَكْبٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) said: A single rider is a devil, and a pair of riders are a pair of devils, but three are a company of riders
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ۱؎۔
Narrated by Alqamah ibn Wa'il
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ ‏.‏
Narrated Alqamah ibn Wa'il: The Prophet (ﷺ) bestowed land in Hadramawt as fief
وائل رضی اللہ عنہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضر موت ۱؎ میں زمین کا ٹکڑا جاگیر میں دیا ۲؎۔
Narrated by Abu 'Ali al-Hamdani
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِرُودِسَ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رُودِسُ جَزِيرَةٌ فِي الْبَحْرِ ‏.‏
Narrated Abu 'Ali al-Hamdani: We were with Fudalah b. 'Ubaid at Rudis in the land of Rome. One of our Companions dies, Fudalah commanded us to dig his grave; it was (dug and) levelled. He then said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) commanding to level them. Abu Dawud said: Rudis is an island, in the sea
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں ہم سر زمین روم میں رودس ۱؎ میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہاں ہمارا ایک ساتھی انتقال کر گیا تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کی قبر کھودنے کا حکم دیا، پھر وہ ( دفن کے بعد ) برابر کر دی گئی، پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اسے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رودس سمندر کے اندر ایک جزیرہ ہے۔
Narrated by Amr bin Shu'aib
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَجُوزُ لاِمْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Amr bin Shu'aib:On his father's authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: It is not permissible for a woman to present a gift from the property which she has in her possession when her husband owns her chastity
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے نکاح میں رہتے ہوئے جو اس کی عصمت کا مالک ہے اپنا مال اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَكَانَ سِتْرًا مَوْشِيًّا ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted through a different chain of narrators by Ibn Fudail on his father's authority. This version has:"The curtain was embellished
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنِ الدَّانَاجِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَمْرِ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ الأَصْمَعِيُّ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا وَلِّ شَدِيدَهَا مَنْ تَوَلَّى هَيِّنَهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا كَانَ سَيِّدَ قَوْمِهِ حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) and AbuBakr gave forty lashes for drinking wine and Umar made it eighty. And all this is sunnah, the model and standard practice. Abu Dawud said: Al-Asma'i explaning the maxim, "He who enjoys its cold should bear its heat," said: He who enjoys the easy if it should also take the responsibility of the hard of it. Abu Dawud said: Hudain b. al-Mundhir Abu Sasan was the leader of his tribe
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے پورے کئے، اور یہ سب سنت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی کہتے ہیں: «من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها» کے معنی یہ ہیں جو خلافت کی آسانیوں کا ذمہ دار رہا ہے اسی کو اس کی دشواریوں کا ذمہ دار رہنا چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، - قَالَ أَحْمَدُ كَتَبْنَاهُ مِنْ نُسْخَتِهِ وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جُهِدَتِ الأَنْفُسُ وَضَاعَتِ الْعِيَالُ وَنُهِكَتِ الأَمْوَالُ وَهَلَكَتِ الأَنْعَامُ فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا تَقُولُ ‏"‏ وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ إِنَّهُ لاَ يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَوَاتِهِ لَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ ‏"‏ وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَوَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَى وَابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الصَّحِيحُ وَافَقَهُ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ كَمَا قَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِ الأَعْلَى وَابْنِ الْمُثَنَّى وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي ‏.‏
Muhammad b. Jubair b. Mut’im said from his father on the authority of his grandfather:An A’rab(a nomadic Arab) came to the Messenger of Allah(ﷺ) and said: People suffering distress, the children are hungry, the crops are withered, and the animals are perished, so ask Allah to grant us rain, for we seek you as our intercessor with Allah, and Allah as intercessor with you. The Messenger of Allah(ﷺ) said: Woe to you: Do you know what you are saying? Then the Messenger of Allah(ﷺ) declared Allah’s glory and he continued declaring His glory till the effect of that was apparent in the faces of his Companions. He then said: Woe to you: Allah is not to be sought as intercessor with anyone. Allah’s state is greater than that. Woe to you! Do you know how great Allah is? His throne is above the heavens thus(indicating with his fingers like a dome over him), and it groans on account of Him as a saddle does because of the rider. Ibn Bashshar said in his version: Allah is above the throne, and the throne is above the heavens. He then mentioned the rest of the tradition. ‘Abd al-A’la, Ibn al- Muthana and Ibn Bashshar transmitted it from Ya’qub b. ‘Utbah and Jubair b. Muhammad b. Jubair from his father on the authority of his grandfather. Abu Dawud said: This tradition with the chain of Ahmad b. Sa’ad is sound. It has been approved by the body (of traditionists) , which includes Yahya b. Ma’in and ‘Ali b. al-Madani, and a group has transmitted it from Ibn Ishaq, as Ahmad also said. And so far as I have been informed ‘Abd al-A’la, Ibn al-Muthanna, and Ibn Bashshar had heard from the same copy(of the collection of tradition)
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے، گھربار تباہ ہو گئے، مال گھٹ گئے، جانور ہلاک ہو گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور اللہ کو سفارشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا برا ہو، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ کہنے لگے، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا: تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے دربار میں سفارشی نہیں بنایا جا سکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے، تمہارا برا ہو! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے ( آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا ) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے، ( ابن بشار کی حدیث میں ہے ) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔ عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے، اور عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، ایک ہی نسخے سے ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ الْعُشْبَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Avoid envy, for envy devours good deeds just as fire devours fuel or (he said) "grass
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو ( کھا لیتی ہے ) ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The supplication made between the adhan and the iqamah is not rejected
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی ۔