Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ شَكَى النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُحُوطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَبَّرَ صلى الله عليه وسلم وَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ " إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَدْعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ " . ثُمَّ قَالَ " { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ } لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلاَغًا إِلَى حِينٍ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ثُمَّ حَوَّلَ عَلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ وَقَلَّبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَقَالَ " أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقْرَءُونَ { مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ } وَإِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ حُجَّةٌ لَهُمْ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The people complained to the Messenger of Allah (ﷺ) of the lack of rain, so he gave an order for a pulpit. It was then set up for him in the place of prayer. He fixed a day for the people on which they should come out. Aisha said: The Messenger of Allah (ﷺ), when the rim of the sun appeared, sat down on the pulpit, and having pronounced the greatness of Allah and expressed His praise, he said: You have complained of drought in your homes, and of the delay in receiving rain at the beginning of its season. Allah has ordered you to supplicate Him has and promised that He will answer your prayer. Then he said: Praise be to Allah, the Lord of the Universe, the Compassionate, the Merciful, the Master of the Day of Judgment. There is no god but Allah Who does what He wishes. O Allah, Thou art Allah, there is no deity but Thou, the Rich, while we are the poor. Send down the rain upon us and make what Thou sendest down a strength and satisfaction for a time. He then raised his hands, and kept raising them till the whiteness under his armpits was visible. He then turned his back to the people and inverted or turned round his cloak while keeping his hands aloft. He then faced the people, descended and prayed two rak'ahs. Allah then produced a cloud, and the storm of thunder and lightning came on. Then the rain fell by Allah's permission, and before he reached his mosque streams were flowing. When he saw the speed with which the people were seeking shelter, he (ﷺ) laughed till his back teeth were visible. Then he said: I testify that Allah is Omnipotent and that I am Allah's servant and apostle. Abu Dawud said: This is a ghraib (rate) tradition, but its chain is sound. The people of Medina recite "maliki" (instead of maaliki) yawm al-din" (the master of the Day of Judgement). But this tradition (in which the word maalik occurs) is an evidence for them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر ( رکھنے ) کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرہ سے ) اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایا: تم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ( اگر تم اسے پکارو گے ) تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين ، لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين» یعنی تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لیے قوت ( رزق ) بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا، آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی، اسی وقت ( اللہ کے حکم سے ) آسمان سے بادل اٹھے، جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد نہیں آ سکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید ( عمدہ ) ہے، اہل مدینہ «ملك يوم الدين» پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔
Narrated by Abd Allah b. 'Abbas
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ . قَالَ مَالِكٌ أُرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَرَوَاهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا إِلَى تَبُوكَ .
Narrated 'Abd Allah b. 'Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) combined the noon and the afternoon prayers, and combined the sunset and night prayers without any danger or journey. Malik said: I think it so happened during rain. Abu Dawud said: Hammad b. Salamah narrated it like manner from Abu al-Zubair, it has also been narrated by Qurrah b. Khalid from Abu al-Zubair. He said: It is so happened in a journey that we made to Tabuk
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا ۱؎۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہو گا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابوالزبیر سے روایت کیا ہے، نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَضَى صَلاَتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلاَةِ الصُّبْحِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ .
Narrated 'Aishah:When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer late in the night, he would see. If I was awake, he would talk to me. If I was sleeping, he would awaken me, and pray two rak'ahs, then he would lie down as long as the mu'adhdhin came to him and call him for the dawn prayer. Then he would pray two rak'ahs lightly and come out for prayer
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet of Allah (ﷺ) forbade us to face the qiblah at the time of making water. Then I saw him facing it (qiblah) urinating or easing himself one year before his death
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا، ( لیکن ) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( قضائے حاجت کی حالت میں ) قبلہ رو دیکھا ۱؎۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " . قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا . قَالَ أَجَلْ . قُلْتُ مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ قَالَ إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ وَإِذَا مَضَى ثَلاَثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ وَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لاَ أَدْرِي أَخَفِيَ عَلَىَّ مِنْهُ شَىْءٌ أَمْ لاَ .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: Seek it (laylat al-Qadr) in the last ten days of Ramadan. Seek it on the ninth, seventh and fifth night. I (AbuNadrah) said: You know counting better than us, AbuSa'id. He said: Yes. I asked: What do you mean by the ninth, seventh and fifth night? He said: When the twenty-first night passes, the night which follows it is the night; when the twenty-third night passes, the night which follows it is the seventh; when the twenty-fifth passes, the night which follows it is the fifth. Abu Dawud said: I do not know whether anything remained hidden from me or not
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو ۔ ابونضرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوسعید! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب ( ۲۱ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے، اور جب ( ۲۳ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے، اور جب ( ۲۵ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يُعْجِبُهُ لأَنَّهُ كَبَّرَ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite the Qur'an to us. When he came upon the verse containing prostration, he would utter the takbir (Allah is most great) and we would prostrate ourselves along with him. The narrator 'Abd al-Razzaq said: Al-Thawri liked this tradition very much. Abu Dawud said: This was liked by him for this contains the uttering of takbir
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن سناتے، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو الله أكبر کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں الله أكبر کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِهِ أَنَّ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ، أَمَّهُمْ - يَعْنِي فِي رَمَضَانَ - وَكَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ الآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ .
Muhammad reported on the authority of some of his teachers that Ubayy b. Ka'b led them in prayer during Ramadan. He used to recite the supplication (in the witr) during the second half of Ramadan
محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كِتَابَ الصَّدَقَةِ فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ فِيهِ " فِي خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشَرَةَ ثَلاَثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِنْ كَانَتِ الإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَإِنْ كَانَتِ الْغَنَمُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمِائَةَ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَلاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَيْبٍ " . قَالَ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قُسِمَتِ الشَّاءُ أَثْلاَثًا ثُلُثًا شِرَارًا وَثُلُثًا خِيَارًا وَثُلُثًا وَسَطًا فَأَخَذَ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِ وَلَمْ يَذْكُرِ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) wrote a letter about sadaqah (zakat) but he died before he could send it to his governors. He had kept it with his sword. So AbuBakr acted upon it till he died, and then Umar acted upon it till he died. It contained: "For five camels one goat is to be given; for ten camels two goats are to be given; for fifteen camels three goats are to be given; for twenty camels four goats are to be given; for twenty-five to thirty-five camels a she-camel in her second year is to be given. If the number exceeds by one up to seventy camels, a she-camel in her fourth year is to be given; if they exceed by one up to seventy-five camels, a she-camel in her fifth year is to be given; if they exceed by one up to ninety camels, two she-camels in their third year are to be given; if they exceed by one up to one hundred and twenty, two she-camels in their fourth year are to be given. If the camels are more than this, a she-camel in her fourth year is to be given for every fifty camels, and a she-camel in her third year is to be given for every forty camels. For forty to one hundred and twenty goats one goat is to be given; if they exceed by one up to two hundred, two goats are to be given. If they exceed by one up to three hundred, three goats are to be given; if the goats are more than this, one goat for every hundred goats is to be given. Nothing is payable until they reach one hundred. Those which are in one flock are not to be separated, and those which are in separate flocks are not be brought together from fear of sadaqah (zakat). Regarding that which belongs to two partners, they can make claims for restitution from each other with equity. An old goat and a defective one are not to be accepted as sadaqah (zakat)." Az-Zuhri said: When the collector comes, the goats will be apportioned into three flocks: one containing bad, the second good, and the third moderate. The collector will take zakat from the moderate. Az-Zuhri did not mention the cows (to be apportioned in three flocks)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی کتاب لکھی، لیکن اسے اپنے عمال کے پاس بھیج نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی تلوار سے لگائے رکھا پھر اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات تک اس پر عمل کیا، اس کتاب میں یہ تھا: پا نچ ( ۵ ) اونٹ میں ایک ( ۱ ) بکری ہے، دس ( ۱۰ ) اونٹ میں دو ( ۲ ) بکریاں، پندرہ ( ۱۵ ) اونٹ میں تین ( ۳ ) بکریاں، اور بیس ( ۲۰ ) میں چار ( ۴ ) بکریاں ہیں، پھر پچیس ( ۲۵ ) سے پینتیس ( ۳۵ ) تک میں ایک بنت مخاض ہے، پینتیس ( ۳۵ ) سے زیادہ ہو جائے تو پینتالیس ( ۴۵ ) تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس ( ۴۵ ) سے زیادہ ہو جائے تو ساٹھ ( ۶۰ ) تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ ( ۶۰ ) سے زیادہ ہو جائے تو پچہتر ( ۷۵ ) تک ایک جذعہ ہے، جب پچہتر ( ۷۵ ) سے زیادہ ہو جائے تو نوے ( ۹۰ ) تک دو بنت لبون ہیں، جب نوے ( ۹۰ ) سے زیادہ ہو جائیں تو ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) تک دو حقے ہیں، اور جب اس سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس ( ۵۰ ) پر ایک حقہ اور ہر چالیس ( ۴۰ ) پر ایک بنت لبون واجب ہے۔ بکریوں میں چالیس ( ۴۰ ) سے لے کر ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) بکریوں تک ایک ( ۱ ) بکری واجب ہو گی، اگر اس سے زیادہ ہو جائیں تو دو سو ( ۲۰۰ ) تک دو ( ۲ ) بکریاں ہیں، اس سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو ( ۳۰۰ ) تک تین ( ۳ ) بکریاں ہیں، اگر اس سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ہر سو ( ۱۰۰ ) بکری پر ایک ( ۱ ) بکری ہو گی، اور جو سو ( ۱۰۰ ) سے کم ہو اس میں کچھ بھی نہیں، زکاۃ کے ڈر سے نہ جدا مال کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال کو جدا کیا جائے اور جو مال دو آدمیوں کی شرکت میں ہو وہ ایک دوسرے سے لے کر اپنا اپنا حصہ برابر کر لیں، زکاۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے گا ۔ زہری کہتے ہیں: جب مصدق ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آئے تو بکریوں کے تین غول کریں گے، ایک غول میں گھٹیا درجہ کی بکریاں ہوں گی دوسرے میں عمدہ اور تیسرے میں درمیانی درجہ کی تو مصدق درمیانی درجہ کی بکریاں زکاۃ میں لے گا، زہری نے گایوں کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا . قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ " فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا " .
The above mentioned tradition has also been narrated by ‘Amr bin Shu’aib from his father, from his grandfather, from the Prophet (SWAS) to the same effect. This version has:regarding the stray sheep he said: Take it (and keep it with you) till its seeker comes to it
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آ جائے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً أُكْرِي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَكَانَ نَاسٌ يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي رَجُلٌ أُكْرِي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَلَيْسَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ قَالَ قُلْتُ بَلَى . قَالَ فَإِنَّ لَكَ حَجًّا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ } فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ وَقَالَ " لَكَ حَجٌّ " .
AbuUmamah at-Taymi said:I was a man who used to give (riding-beasts) on hire for this purpose (for travelling during the pilgrimage) and the people would tell (me): Your hajj is not valid. So I met Ibn Umar and told him: AbuAbdurRahman, I am a man who gives (riding-beast) on hire for this purpose (i.e. for hajj), and the people tell me: Your hajj is not valid. Ibn Umar replied: Do you not put on ihram (the pilgrim dress), call the talbiyah (labbayk), circumambulate the Ka'bah, return from Arafat and lapidate jamrahs? I said: Why not? Then he said: Your hajj is valid. a man came to the Prophet (ﷺ) and asked him the same question you have asked me. The Messenger of Allah (ﷺ) kept silence and did not answer him till this verse came down: "It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord." The Messenger of Allah (ﷺ) sent for him and recited this verse to him and said: Your hajj is valid
ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا، تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم احرام نہیں باندھتے؟ تلبیہ نہیں کہتے؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے؟ رمی جمار نہیں کرتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے کہا: تمہارا حج درست ہے، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا: تمہارا حج درست ہے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ حَفْصٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ - ثُمَّ اتَّفَقَا - قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ . فَقَالَ " انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " .
A’ishah said the Apostle of Allaah(ﷺ) visited her when a man was with her. The narrator Hafs said “this grieved him and he frowned”. The agreed version then goes, She said “He is my foster brother Apostle of Allaah(ﷺ)”. He said “Consider, who are you brethren, for fosterage is consequent on hunger.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، ( حفص کی روایت میں ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری، آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا ( پھر حفص اور شعبہ دونوں کی روایتیں متفق ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی طرح دیکھ لو کون تمہارے بھائی ہیں؟ کیونکہ رضاعت تو غذا سے ثابت ہوتی ہے ۱؎ ۔
Narrated by Umar ibn Mu'tab
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عَتَقَا بَعْدَ ذَلِكَ هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا قَالَ نَعَمْ قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Umar ibn Mu'tab: Abu Hasan, a client of Banu Nawfal asked Ibn Abbas: A slave had a wife who was a slave-girl. He divorced her by two pronouncements. Afterwards both of them were freed. Is it permissible for him to ask her in marriage again? He said: Yes. This is a decision given by the Messenger of Allah (ﷺ)
بنی نوفل کے غلام ابوحسن نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں کوئی لونڈی تھی تو اس نے اسے دو طلاق دے دی اس کے بعد وہ دونوں آزاد کر دیئے گئے، تو کیا غلام کے لیے درست ہے کہ وہ اس لونڈی کو نکاح کا پیغام دے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ دیا ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لاَ يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلاَثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) used to count the days in Sha'ban in a manner he did not count any other month; then he fasted when he sighted the new moon of Ramadan; but if the weather was cloudy he counted thirty days and then fasted
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہو جاتا تو تیس دن پورے کرتے، پھر روزے رکھتے۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ بِشْرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَرْكَبُ الْبَحْرَ إِلاَّ حَاجٌّ أَوْ مُعْتَمِرٌ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: No one should sail on the sea except the one who is going to perform hajj or umrah, or the one who is fighting in Allah's path for under the sea there is a fire, and under the fire there is a sea
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا سفر نہ کرے مگر حج کرنے والا، یا عمرہ کرنے والا، یا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور اس آگ کے نیچے سمندر ہے ۔
Narrated by Al-Bara' bin 'Azib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ " . فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ " . فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي قَالَ " نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Narrated Al-Bara' bin 'Azib:The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon to us on the day of sacrifice after the prayer. He said: If anyone prays like our prayer, and sacrifices like our sacrifice, his sacrifice is all right. If anyone sacrifices before the prayer (for 'Id), that is goat meant for flesh. Abu Burdah b. Niyar stood up and said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I sacrificed before I went for prayer. I thought it was the day of eating and drinking; so I made haste, and ate myself, and supplied flesh to my family and neighbors. The Messenger of Allah (ﷺ) said: That is a goat meant for eating flesh. He said: I have a kid (of less than a year) which is better than two goats meant for flesh. Will it be valid from me ? He said: Yes, but it will not be valid for anyone after you
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی، اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، تو اس نے قربانی کی ( یعنی اس کو قربانی کا ثواب ملا ) اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو وہ گوشت کی بکری ۱؎ ہو گی ، یہ سن کر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر ڈالی اور میں نے یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے اور پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی، میں نے خود کھایا، اور اپنے اہل و عیال اور ہمسایوں کو بھی کھلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت کی بکری ہے ۲؎ ، تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سالہ جوان بکری اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میری طرف سے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی ( یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ) ۔
Narrated by AbuTha'labah al-Khushani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ وَكَلْبُكَ " . زَادَ عَنِ ابْنِ حَرْبٍ " الْمُعَلَّمُ وَيَدُكَ فَكُلْ ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ " .
Narrated AbuTha'labah al-Khushani: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: AbuTha'labah, eat what returns to you by your bow and your dog. Ibn Harb's version adds: "The trained (dog), and your hand, then eat, whether it has been slaughtered or not slaughtered
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عرض کیا: ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ ۔ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ کتا سدھایا ہوا ( شکاری ) ہو، اور اپنے ہاتھ سے ( یعنی تیر سے ) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کر سکو یا نہ کر سکو ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْغَيْثِ سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ .
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Refrain from seven (characteristics) which cause destruction. He was asked: What are they, Messenger of Allah ? He replied: To assign partner to Allah, magic, to kill a soul (man) which is prohibited by Allah except for which is due, to take usury, to consume the property of an orphan, to retreat on the day of the battle, and to slander chaste women, indiscreet but believing. Abu Dawud said: The name Abu al-Ghaith is Salim client of Ibn Muti
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجَدَّ فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السُّدُسَ . قَالَ مَعَ مَنْ قَالَ لاَ أَدْرِي . قَالَ لاَ دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا .
Al-Hasan reported that Umar asked:Which of your knows what share the Messenger of Allah (ﷺ) had given to the grandfather from the estate? Ma'qil ibn Yasar said: The Messenger of Allah (ﷺ) gave him a sixth. He asked: Along with whom? He replied: I do not know. He said: You do not know; what is the use then?
حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ( جانتا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟ ۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نُبَايِعُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَيُلَقِّنُنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَ .
Narrated Ibn 'Umar:We used to take the oath of allegiance to the Prophet (ﷺ) to hear and obey, and he would tell: In What I am able
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تھے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلقین کرتے تھے کہ ہم یہ بھی کہیں: جہاں تک ہمیں طاقت ہے ( یعنی ہم اپنی پوری طاقت بھر آپ کی سمع و طاعت کرتے رہیں گے ) ۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُصِيبَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ فِي الأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ فَيَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ .
Narrated 'Aishah:When Sa'd b. Mu'adh suffered affliction on the day of Trench (i.e. the battle of Trench) a man shot an arrow in the vein of his hand. The Messenger of Allah (ﷺ) pitched a tent for him the mosque so that he might visit him from near
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب جنگ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الشَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي الصَّائِغَ - عَنْ عَطَاءٍ، فِي اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هُوَ كَلاَمُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ كَلاَّ وَاللَّهِ وَبَلَى وَاللَّهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ رَجُلاً صَالِحًا قَتَلَهُ أَبُو مُسْلِمٍ بِعَرَنْدَسَ قَالَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ الْمَطْرَقَةَ فَسَمِعَ النِّدَاءَ سَيَّبَهَا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ وَكُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said about the futile oath: It is man's speech in his house: No, by Allah, and Yes, by Allah. Abu Dawud said: Ibrahim al-Sa'igh, the narrator of this tradition , was a pious man. Abu Muslim killed him at 'Aranda. When he raised a hammed and heard the call to prayer, he gave it up. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Dawud b. Abi al-Furat from Ibrahim al-Sa'igh as a statement of 'Aishah (not attributed to the Prophet). Similarly, it has been transmitted by al-Zuhri, 'Abd al-Malik b. Abi Sulaiman and Malik b. Mughul. All of them transmitted it from 'Ata on the authority of 'Aishah on her own statement
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں ( تکیہ کلام کے طور پر ) «كلا والله وبلى والله» ( ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہاں قسم اللہ کی ) کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو ( مارنے سے پہلے ) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
Narrated by Ibn Abi Rizmah
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، قَالَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ خَالَفَكَ سُفْيَانُ . قَالَ دَمَغْتَنِي . وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ فَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ .
Narrated Ibn Abi Rizmah:I heard my father say: A man said to Shu'bah: Sufyan opposed you (i.e. narrated a tradition which differs from your version). He replied: You racked my mind. I have been told that Yahya b. Ma'in said: If anyone opposes Sufyan, the version of Sufyan will be acceptable
ابورزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا: سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے، آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہو گی ۱؎۔
Narrated by AbuMas'ud
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
Narrated AbuMas'ud: The Prophet (ﷺ) forbade the price paid for a dog, the hire paid to a prostitute, and the gift given to a soothsayer
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎، زانیہ عورت کی کمائی ۲؎، اور کاہن کی اجرت ۳؎لینے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَىْءٍ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " .
Umm Salamah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:"I am only a human being, and you bring your disputes to me, some perhaps being more eloquent in their plea than others, so that I give judgement on their behalf according to what I hear from them. Therefore, whatever I decide for anyone which by right belongs to his brother, he must not take anything, for I am granting him only a portion of Hell
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انسان ہی ہوں ۱؎، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس میں سے ہرگز کچھ نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، هَاشِمِ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ رَجُلٍ، خَدَمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا أَعَادَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
AbuSallam said on the authority of a man who served the Holy Prophet (ﷺ) that whenever he talked, he repeated it three times
ابو سلام ایک شخص سے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ( اہم ) بات بیان کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے ( تاکہ اچھی طرح سامع کی سمجھ میں آ جائے ) ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If a large amount of anything causes intoxication, a small amount of it is prohibited
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ الضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ قَالَ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " . فَقَالَ يُكْرِمُهُ وَيُتْحِفُهُ وَيَحْفَظُهُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ضِيَافَةٌ .
Abu Shuraih al-Ka’bi reported the Messenger of Allah(ﷺ) as sayings:He who believes in Allah and the Last Day should honour his guest provisions for the road are what will serve for a day and night: hospitality extends for three days; what goes after that is sadaqah(charity): and it is not allowable that a guest should stay till he makes himself an encumbrance. Abu Dawud said: Malik was asked about the saying of the Prophet: "Provisions for the road what will serve for a day a night." He said: He should honor him, present him some gift, and protect him for a day and night, and hospitality for three days
ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیئے، اس کا جائزہ ایک دن اور ایک رات ہے اور ضیافت تین دن تک ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعَطَ .
Ibn’Abbas said:The Messenger of Allah (ﷺ) snuffed medicine
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک میں دوا ڈالی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ " .
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) as saying: There is no infection* and no evil omen, and I like a good omen. Good omen means a good word. * The majority of scholars interpret this to mean that these things in and of themselves do not transmit or cause harm through supernatural or hidden means but that Allah is ultimately in control and any fearful superstition around these is false
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ - أَوْ شَقِيصًا لَهُ - فِي مَمْلُوكٍ فَخَلاَصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا " فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " . وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ .
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying:If anyone emancipates his share in a slave, he is to be completely emancipated by his money if he has money. But if he has no money, a fair price for the slave should be fixed, and the slave is required to work for his master according to the proportion of his price, but he must not be overburdened. Abu Dawud said: In the version of both the narrators the words are "he will be required to work and must not be overburdened". This is the version of 'Ali
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے ( یہ علی کے الفاظ ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَىٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ { بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ } .
(Narrated Ibn Abzi: Ubayy ibn Ka'b) said: The Prophet (ﷺ) read the verse: "Say: In the bounty of Allah and in His mercy--in that let you rejoice: that is better than the wealth you hoard
ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحواء هو خير مما تجمعون» پڑھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ بِلاَلاً، كَانَ يُؤَذِّنُ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ .
Jabir b. Samurah reported that Bilal used to call for the noon prayer when the sun had declined
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ . وَقَالَ حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا . - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلاَءِ الزُّبَيْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ اسْتَكْسَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَسَانِي خَيْشَتَيْنِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا أَكْسَى أَصْحَابِي .
Aishah said:The Messenger of Allah (ﷺ) went out one morning wearing a variegated garment of black goat hair. Narrated Utbah ibn AbdusSulami: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) to clothe me. He clothed me with two coarse clothes of linen
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ پر ایک سیاہ بالوں کی چادر تھی جس میں ( کجاوہ ) کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے کے لیے کپڑا مانگا، آپ نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے تو میں اپنے کو دیکھتا تو اپنے آپ کو اپنے اور ساتھیوں کے بالمقابل اچھے لباس والا محسوس کرتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لاَ بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ، عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
Sa'id b. Jubair said:There is no harm in fastening the hair with silk or woollen threads. Abu Dawud said: It appears that he held the view that what is prohibited is the adding of the hair of women. Abu Dawud said: Ahmad (b. hanbal) used to say: There is no harm in tying the hair with silk or woollen threads
سعید بن جبیر کہتے ہیں بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد کہتے تھے: چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله تعالى عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ شَرِيكٌ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ .
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) used to wear the signet-ring on his right hand
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بھی بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔
Narrated by Thawban
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ " . أَوْ قَالَ " إِنَّ رَبِّي زَوَى لِيَ الأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لاَ يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلاَ يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ لِي يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لاَ يُرَدُّ وَلاَ أُهْلِكُهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلاَ أُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَحَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلاَثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي وَلاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ " . قَالَ ابْنُ عِيسَى " ظَاهِرِينَ " . ثُمَّ اتَّفَقَا " لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ " .
Narrated Thawban:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Allah, the Exalted, folded for me the earth, or he said (the narrator is doubtful): My Lord folded for me the earth, so much so that I saw its easts and wests (i.e. the extremities). The kingdom of my community will reach as far as the earth was floded for me. The two treasures, the red and the white, were bestowed on me. I prayed to my Lord that He may not destroy my community by prevailing famine, and not give their control to an enemy who annihilates then en masse except from among themselves. My Lord said to me: Muhammad, If I make a decision, it is not withdrawn ; and I shall not destroy them by prevailing famine, and I shall not give their control to an enemy, except from among themselves, who exterminates them en masse, even if they are stormed from all sides of the earth ; only a section of them will destroy another section, and a section will captive another section. I am afraid about my community of those leaders who will lead astray. When the sword is used among my people, it will not be withdrawn from them till the Day of Resurrection, and the Last Hour will not come before the tribes of my people attach themselves to the polytheists and tribes of my people worship idols. There will be among my people thirty great liars each of them asserting that he is (Allah's) prophet, where as I am the seal of the Prophet s after whom (me) there will be no prophet ; and a section of my people will continue to hold to the truth - (according to the Ibn Isa's version: (will continue to dominate) - the agreed version goes: "and will not be injured by those who oppose them, till Allah's command comes
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی یا فرمایا: میرے لیے میرے رب نے زمین سمیٹ دی، تو میں نے مشرق و مغرب کی ساری جگہیں دیکھ لیں، یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی، مجھے سرخ و سفید دونوں خزانے دئیے گئے، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے، ان پر ان کے علاوہ باہر سے کوئی ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں جڑ سے مٹا دے، اور ان کا نام باقی نہ رہنے پائے، تو میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ بدلتا نہیں میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو، اور ان کو جڑ سے مٹا دے گو ساری زمین کے کافر مل کر ان پر حملہ کریں، البتہ ایسا ہو گا کہ تیری امت کے لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے، انہیں قید کریں گے، اور میں اپنی امت پر گمراہ کر دینے والے ائمہ سے ڈرتا ہوں، اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ میری امت کے کچھ لوگ مشرکین سے مل نہ جائیں اور کچھ بتوں کو نہ پوجنے لگ جائیں، اور عنقریب میری امت میں تیس ( ۳۰ ) کذاب پیدا ہوں گے، ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ( ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے ) وہ غالب رہے گا، ان کا مخالف ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعْرَ " .
Abu Hurairah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:The last hour will not come before the Muslims fight with the Turks, a people whose faces look as if they were shields covered with skin, and who will wear sandals of hair
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں جو ایک ایسی قوم ہو گی جن کے چہرے تہ بہ تہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہونگے، اور وہ بالوں کے لباس پہنتے ہوں گے ۔
Narrated by AbuBakr
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَغَيَّظَ عَلَى رَجُلٍ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَقُلْتُ تَأْذَنُ لِي يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ فَأَذْهَبَتْ كَلِمَتِي غَضَبَهُ فَقَامَ فَدَخَلَ فَأَرْسَلَ إِلَىَّ فَقَالَ مَا الَّذِي قُلْتَ آنِفًا قُلْتُ ائْذَنْ لِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ . قَالَ أَكُنْتَ فَاعِلاً لَوْ أَمَرْتُكَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لَفْظُ يَزِيدَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ أَىْ لَمْ يَكُنْ لأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقْتُلَ رَجُلاً إِلاَّ بِإِحْدَى الثَّلاَثِ الَّتِي قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْتُلَ .
Narrated AbuBakr: AbuBarzah said: I was with AbuBakr. He became angry at a man and uttered hot words. I said: Do you permit me, Caliph of the Messenger of Allah (ﷺ), that I cut off his neck? These words of mine removed his anger; he stood and went in. He then sent for me and said: What did you say just now? I said: (I had said:) Permit me that I cut off his neck. He said: Would you do it if I ordered you? I said: Yes. He said: No, I swear by Allah, this is not allowed for any man after Muhammad (ﷺ). Abu Dawud said: This is Yazid's version. Ahmad bin Hanbal said: That is, Abu Bakr has no powers to slay a man except for three reasons which the Messenger of Allah (ﷺ) had mentioned: disbelief after belief, fornication after marriage, or killing a man without (murdering) any man by him. The Prophet (ﷺ) had powers to kill
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن مار دوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کر دیا، پھر وہ اٹھے اور اندر چلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا: ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے کہا تھا: مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، بولے: اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کر گزرتے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، ضرور، بولے: نہیں، قسم اللہ کی! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی آدمی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کے الفاظ ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں: یعنی ابوبکر ایسا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں: ایک ایمان کے بعد کافر ہو جانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر سکتے تھے۔
Narrated by Amr b. Shu'aib
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ " .
Narrated 'Amr b. Shu'aib: On his father's authority said that his grandfather reported the Prophet (ﷺ) said: A believer will not be killed for an infidel. If anyone kills a man deliberately, he is to be handed over to the relatives of the one who has been killed. If they wish, they may kill, but if they wish, they may accept blood-wit
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ عَتِيقٍ - عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
‘Abd Allah b. Mas’ud reported the Prophet (ﷺ) as saying:"Beware! The extremists perished," saying it three times
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرَيْنِ إِلاَّ اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ تَعَالَى فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا .
A’ishah said:the Messenger of Allah (ﷺ) was never given his choice between two things without taking the easier(or lesser) of them provided it involved no sin, for if it did, no one kept farther away from it than he. And the Messenger of Allah (ﷺ) never took revenge on his own behalf for anything unless something Allah had forbidden has been transgressed, in which event he took revenge for it for Allah’s sake
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎۔