بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
16 hadith
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يُغَيِّرُ بَعْضَ مَعَانِي بِشْرٍ قَالَ فِيهِ وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا ‏.‏
Ibn ‘Uqail reported this tradition with a slight change of wording. In his tradition he said:He rinsed his mouth three times and snuffed up water three times
ابن عقیل سے بھی یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے، اس میں (سفیان نے) بشر کی حدیث کے بعض مفاہیم کو بدل دیا ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ‏"‏ ‏.‏
Abd Allah b. 'Abbas said:The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us this supplication as he taught us the surah from the Qur'an. He would say: O Allah! I seek refuge in You from the punishment of Hell and I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge from You from the trails of Al-Masihid-Dajjal, and I seek refuge in You from the trials of life and death
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے، فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے ۔
Narrated by Abu Sa'id (al-Khudri)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِشْكَابَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - الَّذِي كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي دَالاَنَ - عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا عَلَى عُرْىٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَقَى مُسْلِمًا عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Sa'id (al-Khudri): The Prophet (ﷺ) said: If any Muslim clothes a Muslim when he is naked, Allah will clothe him with some green garments of Paradise; if any Muslim feeds a Muslim when he is hungry, Allah will feed him with some of the fruits of Paradise; and if any Muslim gives a Muslim drink when he is thirsty, Allah will give him some of the pure wine which is sealed to drink
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا جب کہ وہ ننگا تھا تو اللہ اسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا، اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا تو اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جب کہ وہ پیاسا تھا تو اللہ اسے ( جنت کی ) مہربند شراب پلائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَمْسٌ قَتْلُهُنَّ حَلاَلٌ فِي الْحَرَمِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying There are five(creatures) the killing of which is lawful in the sacred territory. The Snake, the Scorpion, the Kite, the Rat and the biting Dog
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں بھی مارنا حلال ہے: سانپ، بچھو، کوا، چیل، چوہیا، اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْىِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ ثُمَّ قُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ وَهِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Muhairiz said “I entered the mosque and saw Abu Sa’id Al Khudri . I sat with him and asked about withdrawing the penis (while having intercourse). Abu Sa’id said We went out with the Apostle of Allaah(ﷺ) on the expedition to Banu Al Mustaliq and took some Arab women captive and we desired the women for we were suffering from the absence of our wives and we wanted ransom, so we intended to withdraw the penis (while having intercourse with the slave women). But we asked ourselves “can we draw the penis when the Apostle of Allaah(ﷺ) is among us before asking him about it? So we asked him about it. He said “it does not matter if you do not do it, for very soul that is to be born up to the Day of Resurrection will be born.”
عبداللہ بن محیریز کہتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہوا تو میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ان کے پاس بیٹھ گیا، ان سے عزل کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہمیں کچھ عربی لونڈیاں ہاتھ لگیں، ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہم پر گراں گزرنے لگا ہم ان لونڈیوں کو فدیہ میں لینا چاہ رہے تھے اس لیے حمل کے ڈر سے ہم ان سے عزل کرنا چاہ رہے تھے، پھر ہم نے اپنے ( جی میں ) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں تو آپ سے اس بارے میں پوچھنے سے پہلے ہم عزل کریں ( تو یہ کیونکر درست ہو گا ) چنانچہ ہم نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ کرو تو تمہارا کیا نقصان ہے؟ قیامت تک جو جانیں پیدا ہونے والی ہیں وہ تو ہو کر رہیں گی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ قَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهِ فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ‏}‏ قَالَ عَطَاءٌ إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ ‏}‏ قَالَ عَطَاءٌ ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ ‏.‏
Ibn ‘Abbas said “The following verse abrogated the rule of passing her waiting period with her people. A year’s maintenance and residence. She may pass her waiting period now anywhere she wishes. ‘Ata said “If she wishes she can pass her waiting period with the people of her husband and live in the house left by her husband by will. Or she may shift if she wishes according to the pronouncement of Allah the Exalted. But if they leave (the residence) there is no blame on you for what they do. Ata’ said “Then the verses regarding inheritance were revealed. The commandment for living in a house (for one year) was repealed. She may pass her waiting period wherever she wishes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «غير إخراج» ( سورة البقرہ: ۲۴۰ ) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کر دی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں: اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان «فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن» اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آ گیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَائِمًا الْعَشْرَ قَطُّ ‏.‏
Aishah said:I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) fasting during the first ten days of Dhu al-Hijjah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرہ ذی الحجہ ۱؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
Narrated by Abdullah ibn Amr
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ ‏ "‏ يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr: When the Messenger of Allah (ﷺ) was travelling and night came on, he said: O earth, my Lord and your Lord is Allah; I seek refuge in Allah from your evil, the evil of what you contain, the evil of what has been created in you, and the evil of what creeps upon you; I seek refuge in Allah from lions, from large black snakes, from other snakes, from scorpions, from the evil of jinn which inhabit a settlement, and from a parent and his offspring
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے: «يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن ساكن البلد ومن والد وما ولد» اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی ہے اور اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور زمین پر رہنے والے ( انسانوں اور جنوں ) کے شر سے اور جننے والے کے شر اور جس چیز کو جسے اس نے جنا ہے اس کے شر سے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ سُئِلَ سُفْيَانُ عَنْ تَفْسِيرِ، هَذَا فَقَالَ إِذَا أَسْلَمَ فَلاَ جِزْيَةَ عَلَيْهِ ‏.‏
Muhammad bin Kathir said “Sufyan was asked to explain the tradition mentioned above.” He said “When he embraces Islam, no jizyah will be levied on him.”
محمد بن کثیر کہتے ہیں سفیان سے اس حدیث کا مطلب ۱؎ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب ذمی اسلام قبول کر لے تو اس پر ( اسلام لاتے وقت سال میں سے گزرے ہوئے دنوں کا ) جزیہ نہ ہو گا۔
Narrated by Hisham ibn Amir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَهُمْ عَنْ حُمَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ هِلاَلٍ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ جَاءَتِ الأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللّ��هِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالُوا أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا قَالَ ‏"‏ احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلاَثَةَ فِي الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ فَأَيُّهُمْ يُقَدَّمُ قَالَ ‏"‏ أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أُصِيبَ أَبِي يَوْمَئِذٍ عَامِرٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ قَالَ وَاحِدٌ ‏.‏
Narrated Hisham ibn Amir: The Ansar came to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Uhud and said: We have been afflicted with wound and fatigue. What do you command us? He said: Dig graves, make them wide, bury two or three in a single grave. He was asked: Which of them should be put first? He replied: The one who knew the Qur'an most. He (Hisham) said: My father Amir died on the day and was buried with two or one
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں آپ ہمیں کیسی قبر کھودنے کا حکم دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کشادہ قبر کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو ، پوچھا گیا: آگے کسے رکھیں؟ فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے ساتھ دفن ہوئے۔
Narrated by Al-Nu'man b. Bashir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، وَأَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَأَنْبَأَنَا مُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ أَنْحَلَنِي أَبِي نُحْلاً - قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نِحْلَةً غُلاَمًا لَهُ - قَالَ فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ إِيتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَشْهِدْهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَشْهَدَهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلاً وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ قَالَ فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلاَءِ الْمُحَدِّثِينَ ‏"‏ هَذَا جَوْرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ ‏"‏ هَذَا تَلْجِئَةٌ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ قَالَ بَعْضُهُمْ ‏"‏ أَكُلَّ بَنِيكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ ‏"‏ وَلَدِكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ فِيهِ ‏"‏ أَلَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو الضُّحَى عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ‏"‏ أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Al-Nu'man b. Bashir: My father gave me a gift. The narrator Isma'il b. Salim said: (He gave me) his slave as a gift. My mother 'Umrah daughter of Rawahah said: Go to the Messenger of Allah and call him as witness. He then came to the Prophet (ﷺ) and mentioned it to him. He said him: I have given my son al-Nu'man a gift, and 'Umrah has asked me to call you as witness to it. He asked him: Have you children other than him? He said: I replied: Yes. He again asked: Have you given the rest of them the same as you have given al-Nu'man ? He said: No. Some of these narrators said in their version (that the Prophet said:) This in injustice. The others said in their version (that the Prophet said:) This is under force. So call some other person than me as witness to it. Mughirah said in his version: (The Prophet asked): Are you not pleased with the fact that all of them may be equal in virtue and grace ? He replied: Yes. He said: Then call some other person than me as witness to it. Mujahid mentioned in his version: They have right to you that you should do justice to them, as you have right to them that they should do good to you. Abu Dawud said: In the version of al-Zuhri some (narrators) said: (Have you given) to all your sons ? and some (narrators) said: Your children. Ibn Abi Khalid narrated from al-Sha'bi in his version: Have your sons other than him ? Abu al-Duha narrated on the authority of al-Nu'man b. Bashir: Have you children other than him ?
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کوئی چیز ( بطور عطیہ ) دی، ( اسماعیل بن سالم کی روایت میں ہے کہ انہیں اپنا ایک غلام بطور عطیہ دیا ) اس پر میری والدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے ( اور میرے بیٹے کو جو دیا ہے اس پر ) آپ کو گواہ بنا لیجئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( آپ کو گواہ بنانے کے لیے ) حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور ( میری بیوی ) عمرہ نے کہا ہے کہ میں آپ کو اس بات کا گواہ بنا لوں ( اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ہوں ) آپ نے ان سے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے اور کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سب کو اسی جیسی چیز دی ہے جو نعمان کو دی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ظلم ہے اور بعض کی روایت میں ہے: یہ جانب داری ہے، جاؤ تم میرے سوا کسی اور کو اس کا گواہ بنا لو ( میں ایسے کاموں کی شہادت نہیں دیتا ) ۔ مغیرہ کی روایت میں ہے: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ تمہارے سارے لڑکے تمہارے ساتھ بھلائی اور لطف و عنایت کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں ( مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو ( مجھے یہ امتیاز اور ناانصافی پسند نہیں ) ۔ اور مجالد نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے: ان ( بیٹوں ) کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان سب کے درمیان عدل و انصاف کرو جیسا کہ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی روایت میں ۱؎ بعض نے: «أكل بنيك» کے الفاظ روایت کئے ہیں اور بعض نے «بنيك» کے بجائے «ولدك» کہا ہے، اور ابن ابی خالد نے شعبی کے واسطہ سے «ألك بنون سواه» اور ابوالضحٰی نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے «ألك ولد غيره» روایت کی ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ - الَّتِي يَنَامُ عَلَيْهَا بِاللَّيْلِ - ثُمَّ اتَّفَقَا - مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ‏.‏
Narrated 'Aishah:The pillow of the Messenger of Allah (ﷺ) on which he slept at night (according to the version on Ibn Mani') was of leather stuffed with palm fibre (according to the agreed version)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ ‏"‏ اضْرِبُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُولُوا هَكَذَا لاَ تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:When a man who had drunk wine was brought to the Messenger of Allah (ﷺ), he said: Beat him. Abu Hurairah said: Some struck him with their hands, some with their garment. When he turned his face, some people said: Allah put you shame! The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not say like that and help the devil to get power over him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا: اسے مارو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - قَالَ حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، مَوْلَى بَنِي تَيْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا قَالُوا ذَلِكَ فَقُولُوا ‏{‏ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ * لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ‏}‏ ثُمَّ لْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثًا وَلْيَسْتَعِذْ مِنَ الشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He then mentioned a tradition like it. This version adds: When they propound that, say: "Say Allah is one. Allah is He to Whom men repair. He has not begotten and He has not been begotten, and no one is equal to Him." Then one should spit three times on his left side and seek refuge in Allah from Satan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ لاَ تَقَعُوا فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
A’ishah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :When your companion dies, leave him and do not revile him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارا ساتھی ( یعنی مسلمان جس کے ساتھ تم رہتے سہتے ہو ) مر جائے تو اسے چھوڑ دو ۱؎ اس کے عیوب نہ بیان کرو۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The imam is responsible and the mu'adhdhin is trusted, O Allah, guide the imams and forgive the mu'adhdhins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام ( مقتدیوں کی نماز کا ) ضامن ۱؎ اور کفیل ہے اور مؤذن امین ہے ۲؎، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کو بخش دے ۴؎ ۔