بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
16 hadith
Narrated by Ar-Rubayyi' daughter of Mu'awwidh ibn Afra
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينَا فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ اسْكُبِي لِي وَضُوءًا ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَتْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فِيهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثًا وَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً وَوَضَّأَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ يَبْدَأُ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا وَوَضَّأَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ ‏.‏
Narrated Ar-Rubayyi' daughter of Mu'awwidh ibn Afra': The Messenger of Allah (ﷺ) used to come to us. He once said: Pour ablution water on me. She then described how the Prophet (ﷺ) performed ablution saying: He washed his hands up to wrist three times and washed his face three times, and rinsed his mouth and snuffed up water once. Then he washed his forearms three times and wiped his head twice beginning from the back of his head, then wiped its front. He wiped his ears outside and inside. Then he washed his feet three times. Abu Dawud said: The tradition narrated by Musaddad carries the same meaning
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ( اکثر ) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ ، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ ( پہلے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرے کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث کے یہی معنی ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَضَلْعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ ‏.‏
Anas b. Malik said:I used to serve the Prophet (ﷺ) and often hear him say: "O Allah, I seek refuge in You from grief and anxiety, from the hardships of debt, and from being overpowered by men
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا:«اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔
Narrated by Sa'd ibn Ubadah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ الْمَاءُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ هَذِهِ لأُمِّ سَعْدٍ ‏.‏
Narrated Sa'd ibn Ubadah: Sa'd asked: Messenger of Allah, Umm Sa'd has died; what form of sadaqah is best? He replied: Water (is best). He dug a well and said: It is for Umm Sa'd
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ام سعد ( میری ماں ) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا: یہ ام سعد ۱؎ کا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ ‏ "‏ خَمْسٌ لاَ جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn ‘Umar said The Prophet (ﷺ) was asked as to which of the creatures could be killed by a pilgrim in the sacred state. He said there are five creatures which it is not a sin for anyone to kill, outside or inside the sacred area. The Scorpion, the Crow, the Rat, the Kite and the biting Dog
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کر سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں: بچھو، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
Narrated by AbuSa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رِفَاعَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارِيَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَأَنَا أُرِيدُ مَا يُرِيدُ الرِّجَالُ وَإِنَّ الْيَهُودَ تُحَدِّثُ أَنَّ الْعَزْلَ مَوْءُودَةُ الصُّغْرَى ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ كَذَبَتْ يَهُودُ لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَصْرِفَهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuSa'id al-Khudri: A man said: Messenger of Allah, I have a slave-girl and I withdraw the penis from her (while having intercourse), and I dislike that she becomes pregnant. I intend (by intercourse) what the men intend by it. The Jews say that withdrawing the penis (azl) is burying the living girls on a small scale. He (the Prophet) said: The Jews told a lie. If Allah intends to create it, you cannot turn it away
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے جس سے میں عزل کرتا ہوں، کیونکہ اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں اور مرد ہونے کے ناطے مجھے شہوت ہوتی ہے، حالانکہ یہود کہتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی چھوٹی شکل ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود جھوٹ کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو پیدا کرنا منظور ہو گا، تو تم اسے پھیر نہیں سکتے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ، زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، - وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُّومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنِّي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ وَلاَ نَفَقَةٍ ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَخَرَجْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي قَالَتْ فَقَالَ ‏"‏ امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَىَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ ‏.‏
Zaynab, daughter of Ka'b ibn Ujrah narrated that Furay'ah daughter of Malik ibn Sinan, told her that she came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him whether she could return to her people, Banu Khidrah, for her husband went out seeking his slaves who ran away. When they met him at al-Qudum, they murdered him. So I asked the Messenger of Allah (ﷺ):"Should I return to my people, for he did not leave any dwelling house of his own and maintenance for me? She said: The Messenger of Allah (ﷺ) replied: Yes. She said: I came out, and when I was in the apartment or in the mosque, he called for me, or he commanded (someone to call me) and, therefore, I was called. He said: what did you say? So I repeated my story which I had already mentioned about my husband. Thereupon he said: Stay in your house till the term lapses. She said: So I passed my waiting period in it (her house) for four months and ten days. When Uthman ibn Affan became caliph, he sent for me and asked me about that; so I informed him, and he followed it and decided cases accordingly
زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں ، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں ؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہو جانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جا ملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں ؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( وہاں چلی جاؤ ) “ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ( یہ سن کر ) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا ، یا بلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا ، ( میں آئی ) تو پوچھا : ” تم نے کیسے کہا ؟ “ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت ( عدت ) پوری ہو جائے “ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے ، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا ، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَلاَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: There is no virtue more to the liking of Allah in any day than in these days, that is, the first ten days of Dhu al-Hijjah. They (the Companions) asked: Messenger of Allah, not even the struggle in the path of Allah (Jihad) ? He said: (Yes), not even the struggle in the path of Allah, except a man who goes out (in the path of Allah) with his life and property, and does not return with any of them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی ( اسے نہیں پا سکتا ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد بھی نہیں ، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں “ ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا - رضى الله عنه - وَأُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ قَالَ ‏{‏ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ‏}‏ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ‏.‏ ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ ضَحِكْتَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ ضَحِكْتَ قَالَ ‏"‏ إِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: Ali ibn Rabi'ah said: I was present with Ali while a beast was brought to him to ride. When he put his foot in the stirrup, he said: "In the name of Allah." Then when he sat on its back, he said: "Praise be to Allah." He then said: "Glory be to Him Who has made this subservient to us, for we had not the strength, and to our Lord do we return." He then said: "Praise be to Allah (thrice); Allah is Most Great (thrice): glory be to Thee, I have wronged myself, so forgive me, for only Thou forgivest sins." He then laughed. He was asked: At what did you laugh? He replied: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do as I have done, and laugh after that. I asked: Messenger of Allah , at what are you laughing? He replied: Your Lord, Most High, is pleased with His servant when he says: "Forgive me my sins." He know that no one forgives sins except Him
علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بسم الله» کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو «الحمد الله» کہا، اور«سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون» کہا، پھر تین مرتبہ «الحمد الله» کہا، پھر تین مرتبہ«الله اكبر» کہا، پھر «سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» کہا، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ جِزْيَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: Jizyah is not to be levied on a Muslim
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان پر جزیہ نہیں ہے ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ ثُمَّ لاَ تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: I said to the Prophet (ﷺ): Your old and astray uncle has died. He said: Go and bury your father, and then do not do anything until you come to me. So I went, buried him and came to him. He ordered me (to take a bath), so I took a bath, and he prayed for me
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا ، تو میں گیا، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔
Narrated by AbuUmamah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَفَعَ لأَخِيهِ بِشَفَاعَةٍ فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا فَقَبِلَهَا فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuUmamah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone intercedes for his brother and he presents a gift to him for it and he accepts it, he approaches a great door of the doors of usury
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے کسی بھائی کی کوئی سفارش کی اور کی اس نے اس سفارش کے بدلے میں سفارش کرنے والے کو کوئی چیز ہدیہ میں دی اور اس نے اسے قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا ۱؎ ۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَأَنَّى لَنَا الأَنْمَاطُ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jabir:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Have you made cushions ? I said: How can we afford cushions ? He said: Soon you will have cushions
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے توشک اور گدے بنا لیے؟ میں نے عرض کیا: ہمیں گدے کہاں میسر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ وَقَالَ ‏ "‏ أَفَعَلَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِشَىْءٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَدِيثُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ هَذَا ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) did not prescribe any punishment for drinking wine. Ibn Abbas said: A man who had drunk wine and become intoxicated was found staggering on the road, so he was taken to the Prophet (ﷺ). When he was opposite al-Abbas's house, he escaped, and going in to al-Abbas, he grasped hold of him. When that was mentioned to the Prophet (ﷺ), he laughed and said: Did he do that? and he gave no command regarding him. Abu Dawud said: This tradition of al-Hasan b. 'Ali has been transmitted only by the people of Medina
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس رضی اللہ عنہ کے مکان میں جا گھسا، اور ان سے چمٹ گیا، پھر یہ قصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے، اور صرف اتنا فرمایا: کیا اس نے ایسا کیا ہے؟ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported to the Messenger of Allah( may peace be upon him) as sayings:People will continue to ask one another(questions) till this is pronounced: Allah created all things, but who created Allah ? Whoever comes across anything of that, he should say: I believe in Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ۱؎۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْ الاِنْتِصَارِ، ‏{‏ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ ‏}‏ فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَجَعَلَ يَصْنَعُ شَيْئًا بِيَدِهِ فَقُلْتُ بِيَدِهِ حَتَّى فَطَنْتُهُ لَهَا فَأَمْسَكَ وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تَقْحَمُ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها فَنَهَاهَا فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ فَقَالَ لِعَائِشَةَ ‏"‏ سُبِّيهَا ‏"‏ فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ إِلَى عَلِيٍّ رضى الله عنه فَقَالَتْ إِنَّ عَائِشَةَ رضى الله عنها وَقَعَتْ بِكُمْ وَفَعَلَتْ ‏.‏ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَانْصَرَفَتْ فَقَالَتْ لَهُمْ إِنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا ‏.‏ قَالَ وَجَاءَ عَلِيٌّ رضى الله عنه إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Ibn Awn said: I asked about the meaning of intisar (revenge) in the Qur'anic verse: "But indeed if any do help and defend themselves (intasara) after a wrong (done) to them, against them there is no cause of blame." Then Ali ibn Zayd ibn Jad'an told me on the authority of Umm Muhammad, the wife of his father. Ibn Awn said: It was believed that she used to go to the Mother of the Faithful (i.e. Aisha). She said: The Mother of the Faithful said: The Messenger of Allah (ﷺ) came upon me while Zaynab, daughter of Jahsh, was with us. He began to do something with his hand. I signalled to him until I made him understand about her. So he stopped. Zaynab came on and began to abuse Aisha. She tried to prevent her but she did not stop. So he (the Prophet) said to Aisha: Abuse her. So she abused her and dominated her. Zaynab then went to Ali and said: Aisha abused you and did (such and such). Then Fatimah came (to the Prophet) and he said to her: She is the favourite of your father, by the Lord of the Ka'bah! She then returned and said to them: I said to him such and such, and he said to me such and such. Then Ali came to the Prophet (ﷺ) and spoke to him about that
ابن عون کہتے ہیں آیت کریمہ «ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل» اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد ( برابر کا ) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں ( سورۃ الشوریٰ: ۴۱ ) میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا، وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے، ( ابن عون کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ وہ ( ام محمد ) ام المؤمنین ۱؎ کے پاس جایا کرتی تھیں ) ام محمد کہتی ہیں: ام المؤمنین نے کہا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، ہمارے پاس زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے ( جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے ) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتا دیا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا: تم بھی انہیں کہو ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آ گئیں، تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا، علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں یعنی بنو ہاشم کو گالیاں دیں ہیں ( کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں ) پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کرنے ) آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ ( یعنی عائشہ ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ وَيَقُولَ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَضِلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:when the call to prayer is made; the devil turns his back and breaks wind so as not to hear the call being made; but when the call is finished, he turns round. When the second call to prayer (iqamah) is made, he turns his back, and when the second call is finished, he turns round and suggest notions in the mind of the man (at prayer) to distract his attention, saying: remember such and such, referring to something the man did not have n mind, with the result that he does not know how much he has prayed
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے یہاں تک کہ ( وہ اتنی دور چلا جاتا ہے کہ ) اذان نہیں سنتا، پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوتی ہے وہ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور مصلی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو، ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں یہاں تک کہ اس شخص کو یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ ۔