حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الأَنْطَاكِيُّ، - لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ . قَالَ مَحْمُودٌ قَالَ أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ .
Al-Miqdam b. Ma’dikarib reported :I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perform ablution. When he reached the stage of wiping his head, he placed his palms on the front of the head. Then he moved them until he reached the nape. He then returned them to the place from where he had started
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة ۵۲ ( ۴۴۲ ) ، ( تحفة الأشراف: ۱۱۵۷۲ ) ( صحیح)
Narrated by AbuMusa al-Ash'ari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ " اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ " .
Narrated AbuMusa al-Ash'ari: When the Prophet (ﷺ) feared a (group of) people, he would say: "O Allah, we make Thee our shield against them, and take refuge in Thee from their evils
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم» اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ " جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
Abu Hurairah reported I asked Messenger of Allah (ﷺ), What kind of sadaqah is most excellent? He replied What a man with little property can afford to give; and begin with those for whom you are responsible
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال والے کا تکلیف اٹھا کر دینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ مِثْلَهُ زَادَ " وَلاَ يَخْطُبُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Aban bin ‘Uthman on the authority of ‘Uthman from the Apostle of Allaah(ﷺ) in a similar manner. This version adds “And he should not make a betrothal”
اس سند سے بھی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے «ولا يخطب» ( نہ شادی کا پیغام دے ) کے لفظ کا اضافہ کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ خَالَتِهِ، مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا .
Maimunah daughter of Al Harith said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) intended to associate and lie with any of his wives who was menstruating, he ordered her to wrap up the lower garment(loin-cloth) and then he had association with her
عبداللہ بن شداد اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے حالت حیض میں مباشرت کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقُلْتُ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طُلِّقَتْ فَخَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا فَقَالَ سَعِيدٌ تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتِ النَّاسَ إِنَّهَا كَانَتْ لَسِنَةً فَوُضِعَتْ عَلَى يَدَىِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى .
Maimun bin Mihram said “I came to Median and went to Sa’id bin Al Musayyab”. I said (to him) Fathimah daughter of Qais was divorced and she shifted from her house. Sa’id said “This woman has perverted people. She was arrogant so she was placed with Ibn Umm Makhtum, the blind.”
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو طلاق دی گئی تو وہ اپنے گھر سے چلی گئی ( ایسا کیوں ہوا؟ ) تو سعید نے جواب دیا: اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ وہ زبان دراز تھی لہٰذا اسے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا گیا جو نابینا تھے۔
Narrated by Aishah, wife of Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلاَّ رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ .
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):The Messenger of Allah (ﷺ) used to fast to such an extent that we thought that he would never break his fast, and he would go without fasting to such an extent that we thought he would never fast. I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) fast a complete month except in Ramadan, and I never saw his fast more in any month than in Sha'ban
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے اتنے روزے کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَافَرَ قَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ " .
Narrated AbuHurayrah: When the Messenger of Allah (ﷺ) proceeded on journey, he would say: O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family; O Allah, I seek refuge in Thee from the difficulty of travelling, finding harm when I return, and unhappiness in what I see coming to my family and property. O Allah, make the length of his journey short for us, and the journey easy for us
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر» اے اللہ! تو ( میرے ) سفر کا رفیق اور گھر والوں کے لیے میرا قائم مقام ہے، اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی پریشانیوں سے اور غمگین و ناکام ہو کر لوٹنے سے اور لوٹ کر اہل اور مال میں برے منظر ( دیکھنے سے ) سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر آسان کر دے ۔
Narrated by A man of Banu Taghlib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، - رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ - قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي الإِسْلاَمَ وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُهُ إِلاَّ الصَّدَقَةَ أَفَأُعَشِّرُهُمْ قَالَ " لاَ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى النَّصَارَى وَالْيَهُودِ " .
Narrated A man of Banu Taghlib: Harb ibn Ubaydullah ibn Umayr ath-Thaqafi told on the authority of his grandfather, a man of Banu Taghlib: I came to the Prophet (ﷺ), embraced Islam, and he taught me Islam. He also taught me how I should take sadaqah from my people who had become Muslim. I then returned to him and said: Messenger of Allah, I remembered whatever you taught me except the sadaqah. Should I levy tithe on them? He replied: No, tithes are to be levied on Christians and Jews
حرب بن عبیداللہ کے نانا جو بنی تغلب سے تعلق رکھتے تھے کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان ہو کر آیا، آپ نے مجھے اسلام سکھایا، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو اسلام لے آئیں کس طرح سے صدقہ لیا کروں، پھر میں آپ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو آپ نے مجھے سکھایا تھا سب مجھے یاد ہے، سوائے صدقہ کے کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، دسواں حصہ تو یہود و نصاریٰ پر ہے ۔
Narrated by Abu Marhab
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَحَّبٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ أَرْبَعَةً .
Narrated Abu Marhab:That 'Abd al-Rahman b. 'Awf alighted in the grave of the Prophet (ﷺ). He said: I still seem to see the four of them
ابومرحب سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے وہ کہتے ہیں: مجھے ایسا لگ رہا ہے گویا کہ میں ان چاروں ( علی، فضل بن عباس، اسامہ، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ) کو دیکھ رہا ہوں۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَقْبَلُ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا مِنْ أَحَدٍ هَدِيَّةً إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مُهَاجِرًا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا أَوْ دَوْسِيًّا أَوْ ثَقَفِيًّا " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: I swear by Allah, I shall not accept gift from anyone after this day except from an immigrant Qarashi, an Ansari a Dawsi or a Thaqafi
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎ ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When you put on (a garment) and when you perform ablution, you should begin with your right side
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو ۔
Narrated by Abu Umamah b. Sahl Hunaif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ فَعَادَ جِلْدَةً عَلَى عَظْمٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالُ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ وَقَالَ اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَىَّ . فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مِثْلَ الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ مَا هُوَ إِلاَّ جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً .
Narrated Abu Umamah b. Sahl Hunaif: AbuUmamah ibn Sahl ibn Hunayf said that some companions of the Messenger of Allah (ﷺ) told that one of their men suffered so much from some illness that he pined away until he was skin and bone (i.e. only a skeleton). A slave-girl of someone visited him, and he was cheered by her and had unlawful intercourse with her. When his people came to visit the patient, he told them about it. He said: Ask the Messenger of Allah (ﷺ) about the legal verdict for me, for I have had unlawful intercourse with a slave-girl who visited me. So they mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ) saying: We have never seen anyone (so weak) from illness as he is. If we bring him to you, his bones will disintegrate. He is only skin and bone. So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to take one hundred twigs and strike him once
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ " . قَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ أَبِي فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
‘Amir reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :The woman who buries alive her new-born girl and the girl who is buried alive both will go to Hell. This tradition has also been transmitted by Ibn Mas’ud from the Prophet (May peace be upon him) to the same effect through a different chain of narrators
عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وائدہ» ( زندہ درگور کرنے والی ) اور «مؤودہ» ( زندہ درگور کی گئی دونوں ) جہنم میں ہیں ۱؎۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالاَ فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:when two men abuse one another, what they say is laid to the charge of the one who began it, so long as the one who is wronged does not go over the score
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہم گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا جس نے ابتداء کی ہو گی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے ( اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہو گا ) ۔
Narrated by Abdullah ibn Zayd
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الأَذَانِ أَشْيَاءَ لَمْ يَصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ " أَلْقِهِ عَلَى بِلاَلٍ " . فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ قَالَ " فَأَقِمْ أَنْتَ " .
Narrated Abdullah ibn Zayd: The Prophet (ﷺ) intended to do many things for calling (the people) to prayer, but he did not do any of them. Then Abdullah ibn Zayd was taught in a dream how to pronounce the call to prayer. He came to the Prophet (ﷺ) and informed him. He said: Teach it to Bilal. He then taught him, and Bilal made a call to prayer. Abdullah said: I saw it in a dream and I wished to pronounce it, but he (the Prophet) said: You should pronounce iqamah
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے سلسلہ میں کئی کام کرنے کا ( جیسے ناقوس بجانے یا سنکھ میں پھونک مارنے کا ) ارادہ کیا لیکن ان میں سے کوئی کام کیا نہیں۔ محمد بن عبداللہ کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھائی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلال کو سکھا دو ، چنانچہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اسے بلال رضی اللہ عنہ کو سکھا دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، اس پر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے میں نے دیکھا تھا اور میں ہی اذان دینا چاہتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم تکبیر کہہ لو ۔