بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
17 hadith
Narrated by Al-Miqdam ibn Ma'dikarib al-Kindi
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيَّ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا ‏.‏
Narrated Al-Miqdam ibn Ma'dikarib al-Kindi: The ablution water was brought to the Messenger (ﷺ) and he performed ablution; he washed his hands up to wrists three times, then washed his forearms three times. He then rinsed his mouth and snuffed up water three times; then he wiped his head and ears inside and outside
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، آپ ﷺ نے وضو کیا۔ اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں تین بار، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا تین بار، چہرہ دھویا تین بار، کلائیاں دھوئیں تین تین بار، پھر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ ‏:‏ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ قَالَتْ ‏:‏ لاَ، كَانَ كُلُّ عَمَلِهِ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَطِيعُ
Alqamah said:'Aishah was asked about the actions of the Messenger of Allah (ﷺ). Did he perform some actions exclusively on some particular days ? She said: No, he performed his actions regularly. Which of you has the strength as much as the Messenger of Allah (ﷺ) had ?
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حال کیسا تھا؟ کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کر لیتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟ ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لاَ شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Three supplications are answered, there being no doubt about them; that of a father, that of a traveller and that of one who has been wronged
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى أَوْ تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying The best sadaqah is that which leaves a competence ; and begin with those for whom you are responsible
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا ( یوں فرمایا ) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَسْأَلُهُ وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ ‏.‏ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكَحُ ‏"‏ ‏.‏
Nubaih bin Wahb brother of Banu Abd Al Dar said ‘Umar bin Ubaid Allah sent someone to Aban bin Uthman bin Affan asking him (to participate in the marriage ceremony). Aban in those days was the chief of the pilgrims and both were in the sacred state (wearing ihram). I want to give the daughter of Shaibah bin Jubair to Talhah bin Umar in marriage. I wish that you may attend it. Aban refused and said I heard my father ‘Uthman bin Affan narrating a tradition from the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying A pilgrim may not marry and give someone in marriage in the sacred state(while wearing ihram)
نبیہ بن وہب جو بنی عبدالدار کے فرد ہیں سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے انہیں ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بھیجا، ابان اس وقت امیر الحج تھے، وہ دونوں محرم تھے، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کر دوں، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس میں شریک رہو، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ خِلاَسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَىْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَإِنْ أَصَابَ - تَعْنِي ثَوْبَهُ - مِنْهُ شَىْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I and the Messenger of Allah (ﷺ) used to lie in one cloth at night while I was menstruating. If anything from me smeared him, he washed the same place (that was smeared), and did not wash beyond it. If anything from him smeared his clothe, he washed the same place and did not wash beyond that, and prayed with it (i.e. the clothe)
خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي ‏.‏ وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ ‏.‏
Al-Qasim ibn Muhammad and Sulayman ibn Yasar reported:Yahya ibn Sa'id ibn al-'As divorced the daughter of 'Abd al-Rahman ibn al-Hakam absolutely. 'Abd al-Rahman shifted her (from there). Aisha sent a message to Marwan ibn al-Hakam who was the governor of Medina, and said to him: Fear Allah, and return the woman to her home. Marwan said (according to Sulayman's version): 'Abd al-Rahman forced me. Marwan said (according to the version of al-Qasim): Did not the case of Fatimah daughter of Qays reach you? Aisha replied: There would be no harm to you if you did not make mention of the tradition of Fatimah. Marwan said: If you think that it was due to some evil (i.e. reason), then it is sufficient for you to see that there is also an evil between the two
حییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو تین طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کر لیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو، بروایت سلیمان: مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی، اور بروایت قاسم: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا قصہ معلوم نہیں؟ تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے، تو مروان نے کہا: اگر آپ نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں ( عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے۔
Narrated by Abu Ayyub
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، صَاحِبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Ayyub:The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone fasts during Ramadan, then follows it with six days in Shawwal, it will be like a perpetual fast
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے ۔
Narrated by A man who heard the Prophet
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنْ بُيِّتُّمْ فَلْيَكُنْ شِعَارُكُمْ حم لاَ يُنْصَرُونَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated A man who heard the Prophet: Al-Muhallab ibn AbuSufrah said: A man who heard the Prophet (ﷺ) say: If the enemy attacks you at night, let your war cry be Ha-Mim. They will not be helped
مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر دشمن تمہارے اوپر شب خون ماریں تو تمہارا شعار ( کوڈ ) «حم لا ينصرون» ۱؎ ہونا چاہیئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ خَالِهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُعَشِّرُ قَوْمِي قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ‏"‏ ‏.‏
A man reported from Bakr bin Wa’il on the authority of his maternal uncle as saying, I said “Apostle of Allaah(ﷺ) may I levy tithe on my people.?” He replied “Tithes are to be levied on Jews and Christians.”
عطا سے روایت ہے انہوں نے ( قبیلہ ) بکر بن وائل کے ایک شخص سے اس نے اپنے ماموں سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم سے ( اموال تجارت میں ) دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دسواں حصہ یہود و نصاریٰ پر ہے ۔
Narrated by Amir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيٌّ وَالْفَضْلُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهُ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُرَحَّبٌ أَوِ ابْنُ أَبِي مُرَحَّبٍ أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ قَالَ إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ ‏.‏
Narrated Amir: Ali, Fadl and Usamah ibn Zayd washed the Messenger of Allah (ﷺ) and they put him in his grave. Marhab or Ibn AbuMarhab told me that they also made AbdurRahman ibn Awf join them. When Ali became free, he said: The People of the man serve him
عامر شعبی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی، فضل اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا، اور انہیں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا۔ شعبی کہتے ہیں: مجھ سے مرحب یا ابومرحب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی داخل کر لیا تھا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ( دفن سے ) فارغ ہونے کے بعد کہا کہ آدمی ( مردے ) کے قریب اس کے خاندان والے ہی ہوا کرتے ہیں۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا ‏.‏
Narrated 'Aishah:That the Prophet (ﷺ) used to accept a gift and make return for it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ وَسِوَاكِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ مُعَاذٌ وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَاكَهُ ‏.‏
Narrated 'Aishah: The Messenger of Allah (ﷺ) liked to begin with the right side as far as possible in all conditions: in his purification, and combing. The narrator Muslim added: "in using tooth-stick," and he did not mention "in all his conditions". Abu Dawud said: Shu'bah transmitted it from Mu'adh, but did not mention "his tooth-stick
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت بھر اپنے تمام کاموں میں، وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنے سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «وسواكه» بھی ہے یعنی مسواک کرنے میں اور انہوں نے «في شأنه كله» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معاذ نے شعبہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے مسواک کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِي كُلِّ مَرَّةٍ ‏"‏ فَلْيَضْرِبْهَا كِتَابُ اللَّهِ وَلاَ يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ ‏"‏ فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَضْرِبْهَا كِتَابُ اللَّهِ ثُمَّ لْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ ‏"‏ ‏.‏
This tradition has been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ). This version has:He said each time: He should give her the appropriate beating according to Allah’s Book, but not Hurl reproaches at her. He said a fourth time: If she does it again, he should give her the appropriate beating according to Allah’s Book, and then should sell her even if only for a rope of hair
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، اس میں ہے کہ ہر بار اسے اللہ کی کتاب کے موافق یعنی پچاس کوڑے مارے ۱؎ اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر نہ چھوڑ دے، یا حد لگانے کے بعد پھر نہ ڈانٹے، اور چوتھی بار میں فرمایا: اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے اللہ کی کتاب کے موافق حد لگائے، پھر چاہیئے کہ اسے بیچ دے، گو بال کی ایک رسی ہی کے بدلے کیوں نہ ہو۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، يُفَسِّرُ حَدِيثَ ‏"‏ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا عِنْدَنَا حَيْثُ أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ حَيْثُ قَالَ ‏{‏ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى ‏}‏ ‏.‏
Explaining the tradition “Every child is a born on Islam”, Hammad b. Salamah said :In our opinion it means that covenant which Allah had taken in the loins of their fathers when He said : “Am I not your Lord? They said: Yes
حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حماد بن سلمہ کو «كل مولود يولد على الفطرة» ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ۱؎ کی تفسیر کرتے سنا، آپ نے کہا: ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا: «ألست بربكم قالوا بلى» کیا میں تمہارا رب ( معبود ) نہیں ہوں؟ تو انہوں نے کہا تھا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ فَإِنَّ اللَّهَ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
‘Abd Allah b. Umar reported the prophet (May peace be upon him) as saying :A Muslim is a Muslim’s brother: he does not wrong him or abandon him. If anyone cares for his brother’s need, Allah will care for his need ; if anyone removes a Muslim’s anxiety, Allah will remove from him, on account of it, one of the anxieties of the Day of resurrection ; and if anyone conceals a Muslim’s fault, Allah will conceal his fault on the Day of resurrection
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ ( خود ) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے ( کسی ظالم ) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - يَعْنِي الْعَقَدِيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى، مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الأَكْبَرِ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ
This tradition has been narrated by Abu Ja’far, the mu’adhdhin of ‘Uryan mosque (at Kufah), from Abu al-Muthanna, the mu’adhdhin of masjid al-akbar (at kufah) on the authority of Ibn ‘Umar. The rest of the tradition was transmitted in a like manner
مسجد عریان ۱؎ کے مؤذن ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں نے بڑی مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کو کہتے سنا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، پھر انہوں نے اوپر والی حدیث پوری بیان کی۔