حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ وُضُوءَهُ وَقَالَ وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا .
Habban b. Wasi’ reported on the authority of his father who heard ‘Abd Allah b. Zaid al-Asim al-Mazini say that he saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution. He then described his ablution saying:He wiped his head with water which was not what was left over after washing his hands (i.e. he wiped his head with clean water); then he washed his feet until he cleansed them
عبداللہ بن زید بن عاصم ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وضو کرتے ہوئے ) دیکھا، پھر آپ کے وضو کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي " . قَالَ : لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ . قَالَ : " فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ، فَإِنَّ لأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ " .
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) called 'Uthman b. Maz'un. When he came to him, he said: 'Uthman, did you dislike my practice ? He said: No, by Allah, but I seek your practice. He said: I sleep, I pray, I keep fast, I (sometimes) leave fast, and I marry women. Fear Allah, 'Uthman, your wife has a right on you, your guest has a right on you, your self has a right on you ; you should keep fast and (sometimes) leave fast, and pray and sleep
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمان! کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی ہے؟ ، انہوں نے جواب دیا: نہیں اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، عثمان! تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تمہاری جان کا حق ہے، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ۱؎ ۔
Narrated by Abdullah ibn Amr ibn al-'As
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ " .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: The supplication which gets the quickest answer is that made by one distant Muslim for another
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے ۔
Narrated by Abu Sa'id al-Khudri
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ أَنْ يَطْرَحُوا ثِيَابًا فَطَرَحُوا فَأَمَرَ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ ثُمَّ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَطَرَحَ أَحَدَ الثَّوْبَيْنِ فَصَاحَ بِهِ وَقَالَ " خُذْ ثَوْبَكَ " .
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: A man entered the mosque. The Prophet (ﷺ) commanded the people to throw their clothes as sadaqah. Thereupon they threw their clothes (as sadaqah). He then asked him to take two clothes from them. He reprimanded him and said: Take your clothe
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے ( بطور صدقہ ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں ( کے دیئے جانے ) کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنے کپڑے لے لو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ��َقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ . قَالَ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ أَبُو أَيُّوبَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ صلى الله عليه وسلم .
‘Abd Allah bin Hunain said ‘Abd Allah bin Abbas and Miswar bin Makhramah differed amongst themselves (on the question of washing the head in the sacred state) at al Abwa. ‘Ibn Abbas said A pilgrim in the sacred state (while wearing ihram) can wash his head. Al Miswar said A pilgrim in the sacred state(wearing ihram) cannot wash his head. ‘Abd Allah bin Abbas then sent him (‘Abd Allah bin Hunain) to Abu Ayyub Al Ansari. He found him taking a bath between two woods erected at the edge of the well and he was hiding himself with a cloth (curtain). He (the narrator) said I saluted him. He asked Who is this? I said I am ‘Abd Allah bin Hunain. ‘Abd Allah bin Abbas has sent me to you asking you how the Apostle of Allaah(ﷺ) used to wash his head while he was wearing ihram. Abu Ayyub then put his hand on the cloth and removed it till his head appeared to me. He then said to a person who was pouring water on him:Pour water. He poured water on his head and Abu Ayyub moved his head with his hands. He carried his hands forward and backward. He then said I saw him doing similarly
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے مابین مقام ابواء میں اختلاف ہو گیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم سر دھو سکتا ہے، مسور نے کہا: محرم سر نہیں دھو سکتا، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں ( ابن حنین کو ) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو آپ نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، ابن حنین کہتے ہیں: میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے آپ کے پاس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے معلوم کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے اس قدر جھکایا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر ایک آدمی سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر ایوب نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور بولے ایسا ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ، كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا كُلَّ شَىْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ " . فَقَالَتِ الْيَهُودُ مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلاَّ خَالَفَنَا فِيهِ . فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا أَفَلاَ نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنَّا ��َنْ قَدْ وَجِدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا .
Anas bin Malik said Among the Jews when a woman menstruated, they did not eat with her and drink with her and did not associate with her in their houses, so the Apostle of Allaah(ﷺ) was questioned about it. Hence, Allah the Exalted revealed “And they ask you about menstruation,. Say “It is harmful, so keep aloof from women during menstruation till the end of the verse. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Associate with them in the houses and do everything except sexual intercourse. The Jews thereupon said “This man does not leave anything we do without opposing us in it. Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr came to the Apostle of Allaah(ﷺ) and said, Apostle of Allaah(ﷺ) the Jews are saying such and such. Shall we not have intercourse with them during their menstruation? The face of the Apostle of Allaah(ﷺ) underwent such a change that we thought he was angry with them, so they went out. They were met by a gift of milk which was being brought to the Apostle of Allaah(ﷺ) and he sent after them, whereby we felt that he was not angry with them
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اسے گھر میں رکھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «يسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے لہٰذا تم حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو ( سورۃ البقرہ: ۲۲۲ ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: انہیں گھروں میں رکھو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو ، اس پر یہودیوں نے کہا کہ: یہ شخص تو ہمارے ہر کام کی مخالفت کرتا ہے، چنانچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں، تو کیا ہم ( ان کی مخالفت میں ) عورتوں سے حالت حیض میں جماع نہ کرنے لگیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، یہاں تک کہ ہمیں اپنے اوپر آپ کی ناراضگی کا گمان ہونے لگا چنانچہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل آئے، اسی اثناء میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوا بھیجا جس سے ہمیں لگا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، فِي خُرُوجِ فَاطِمَةَ قَالَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ سُوءِ الْخُلُقِ .
Sulaimah bin Yasar said about leaving the house by Fathimah “That was due to her bad manners.”
سلیمان بن یسار سے بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلنے کا قصہ مروی ہے وہ کہتے ہیں: یہ بد خلقی کی بنا پر ہوا تھا۔
Narrated by Muslim al-Qurashi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ - أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم - عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ " إِنَّ لأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَافَقَهُ زَيْدٌ الْعُكْلِيُّ وَخَالَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
Narrated Muslim al-Qurashi: I asked or someone asked the Prophet (ﷺ) about perpetual fasting. He replied: You have a duty to your family. Fast during Ramadan and the following month, and every Wednesday and Thursday. You will then have observed a perpetual fast
مسلم قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے سال کے روزوں کے متعلق پوچھا، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد ( والے ماہ میں ) روزے رکھو، اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا روزہ رکھا ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - زَمَنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ شِعَارُنَا أَمِتْ أَمِتْ .
Ilyas bin Salamah(bin Al Akwa’) said on the authority of his father “We went on an expedition with Abu Bakr (Allaah be pleased with him) in the time of the Apostle of Allaah(ﷺ) and our war cry was “Put to death” “Put to death”.”
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ کیا تو ہمارا شعار «أمت أمت» ۱؎ تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ " خَرَاجٌ " . مَكَانَ " الْعُشُورُ " .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Harb bin ‘Ubaid Allah from the Prophet (ﷺ) to the same effect through a different chain of narrators. This version has the word kharaj(land tax) instead of ‘ushr (tithes)
حرب بن عبیداللہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے لیکن «عشور» کی جگہ «خراج» کا لفظ ہے۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: The niche in the side of the grave is for us and the excavation in the middle is for others
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لحد ( بغلی قبر ) ہمارے لیے ہے، اور شق ( صندوقی قبر ) دوسروں کے لیے ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، - قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ وَقَيْسٍ - عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلاَ تَخُنْ مَنْ خَانَكَ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Pay the deposit to him who deposited it with you, and do not betray him who betrayed you
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسے امانت ( جب وہ مانگے ) لوٹا دو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت ( دھوکے بازی ) کی ہو تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۱؎ ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ لِتَكُنِ الْيَمِينُ أَوَّلَهُمَا يَنْتَعِلُ وَآخِرَهُمَا يَنْزِعُ " .
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: When one of you puts on sandals, he should put on his right one first, and when he takes them off, he should take off the left one first ; so that the right one should be the first to be put on and the last to be taken off
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی جوتا پہنے تو پہلے داہنے پاؤں سے شروع کرے، اور جب نکالے تو پہلے بائیں پاؤں سے نکالے، داہنا پاؤں پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَحُدَّهَا وَلاَ يُعَيِّرْهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَجْلِدْهَا وَلْيَبِعْهَا بِضَفِيرٍ أَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ " .
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying:When the slave-woman of any of you commits fornication, he should inflict the prescribed punishment on her, but not hurl reproaches at her. This is to be done up to three times. If she a fourth time, he should flog her, and sell her even if only for a rope of hair
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، أَخْبَرَكَ يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا، قِيلَ لَهُ إِنَّ أَهْلَ الأَهْوَاءِ يَحْتَجُّونَ عَلَيْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ مَالِكٌ احْتَجَّ عَلَيْهِمْ بِآخِرِهِ . قَالُوا أَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ قَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
Abu Dawud said :Malik was asked : The heretics argue from this tradition against us. Malik said : Argue against them from its last part which goes. The people asked : What do you think about the one who died while he was young? He replied : Allah knows best what he was going to do
ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا: اہل بدعت ( قدریہ ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو، اس لیے کہ اس میں ہے: صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔
Narrated by Uqbah ibn Amir
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ دُخَيْنًا، كَاتِبَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَنَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِنَّ جِيرَانَنَا هَؤُلاَءِ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَإِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ . فَقَالَ دَعْهُمْ . ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى عُقْبَةَ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ إِنَّ جِيرَانَنَا قَدْ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ . قَالَ وَيْحَكَ دَعْهُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسْلِمٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ لَيْثٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لاَ تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ .
Narrated Uqbah ibn Amir: AbulHaytham quoted Dukhayn, the scribe of Uqbah ibn Amir, saying: We had some neighbours who used to drink wine. I forbade them, but they did not stop. I then said to Uqbah ibn Amir: These neighbours of ours drink wine, and I tried to prevent them but they did not stop, and I am going to call the police about them. He said: Leave them. I again came to Uqbah ibn Amir and said: Our neighbours have refused to refrain from drinking wine, and I am going to call the police for them. He said: Woe to thee! Leave them alone. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: he then mentioned the tradition to the same effect as recorded above on the authority of the narrator Muslim. Abu Dawud said: In this version Hashim b. al-Qasim said on the authority of Laith: Do not do it, but preach them and threaten them
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی (سکریٹری) دخین کہتے ہیں کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے تھے، میں نے انہیں منع کیا تو وہ باز نہیں آئے، چنانچہ میں نے عقبہ بن عامر سے کہا کہ ہمارے یہ پڑوسی شراب پیتے ہیں، ہم نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہیں آئے، لہٰذا اب میں ان کے لیے پولیس کو بلاؤں گا، تو انہوں نے کہا: انہیں چھوڑ دو، پھر میں دوبارہ عقبہ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے ان سے کہا: میرے پڑوسیوں نے شراب پینے سے باز آنے سے انکار کر دیا ہے، اور اب میں ان کے لیے پولیس بلانے والا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، انہیں چھوڑ دو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے … پھر انہوں نے مسلم جیسی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہاشم بن قاسم نے کہا کہ اس حدیث میں لیث سے اس طرح روایت ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہا: ایسا نہ کرو بلکہ انہیں نصیحت کرو اور انہیں دھمکاؤ ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنَّمَا كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَالإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ فَإِذَا سَمِعْنَا الإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلاَةِ . قَالَ شُعْبَةُ وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The words of adhan were pronounced from the time of the Messenger of Allah (ﷺ) twice in pairs (i.e. four times) each, and the words of iqamah were pronounced once in pairs (twice each), except that the phrase "The time for prayer has come" would be pronounced twice. When we heard iqamah, we would perform ablution, and go out for prayer. Shu'bah said: I did not hear AbuJa'far narrating any other tradition except this one
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات سوائے: «قد قامت الصلاة» کے ایک ایک بار کہے جاتے تھے، چنانچہ جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے پھر نماز کے لیے آتے تھے ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔