بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
3
41 hadith
Narrated by Muhammad b. Ibrahim
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي مَنْ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ بَاسِطًا كَفَّيْهِ ‏.‏
Narrated Muhammad b. Ibrahim:A man who witnessed the Prophet (ﷺ) reported to me that he saw the Prophet (ﷺ) praying at Ahjar al-Zait spreading his hands
محمد بن ابراہیم (تیمی) کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ احجار زیت کے پاس اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائے دعا فرما رہے تھے۔
Narrated by Abd Allaah b. 'Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ الْبَيْتِ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ
Narrated 'Abd Allaah b. 'Umar :I ascended the roof of the house and saw the Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam) sitting on two bricks facing Jerusalem (Bait al-Maqdis) for relieving himself
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( ایک روز ) میں ( کسی ضرورت سے ) گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے دو اینٹوں پر اس طرح بیٹھے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا ۱؎۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَطُّ فِي السَّفَرِ إِلاَّ مَرَّةً ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا يُرْوَى عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ لَمْ يُرَ ابْنُ عُمَرَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا قَطُّ إِلاَّ تِلْكَ اللَّيْلَةَ يَعْنِي لَيْلَةَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ وَرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَكْحُولٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) never combined the sunset and night prayers while on a journey except once. Abu Dawud said: This has been narrated by Ayyub from Nafi' from Ibn 'Umar as a statement of Ibn 'Umar. Ibn 'Umar was never seen combining these two prayers except on the night he was informed about the death of Safiyyah. The tradition narrated by Makhul from Nafi' indicates that he (Nafi') saw Ibn 'Umar doing so once or twice
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث «ایوب عن نافع عن ابن عمر» سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَمَا يُجْزِئُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ ‏.‏ قَالَ فَقِيلَ لاِبْنِ عُمَرَ هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ قَالَ لاَ وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا ‏.‏ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسُوا ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If any of you prays two rak'ahs before the dawn prayer, he should lie at his right side. Marwan ibn al-Hakam said to him: Is it not enough that one of us walks to the mosque until he lies at his right side? According to the version of Ubaydullah, he (AbuHurayrah) replied: No. This statement (of AbuHurayrah) reached Ibn Umar. He said: AbuHurayrah exceed limits on himself. He was asked: Do you look askance at what he says? He replied: No, but he dared and we showed cowardice. This (criticism of Ibn Umar) reached AbuHurayrah. He said: What is my sin if I remembered and they forgot?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے ، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا: کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے؟ عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نہیں، تو پھر یہ خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ نے ( کثرت سے روایت کر کے ) خود پر زیادتی کی ہے ( اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہو گا ) ، وہ کہتے ہیں: ابن عمر سے پوچھا گیا: جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے؟ تو ابن عمر نے جواب دیا: نہیں، البتہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( روایت کثرت سے بیان کرنے میں ) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ۱؎۔
Narrated by Abu Sa’id Al Khudri
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَمُطِرَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَبْصَرَتْ عَيْنَاىَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ‏.‏
Narrated Abu Sa’id Al Khudri :The Messenger of Allah (ﷺ) used to spend the middle ten days of Ramadan in retirement and devotion (i'tikaf) in the mosque. One year he had retirement and devotion in the mosque (as usual); when the twenty-first night came, and this night when he used to come out his devotion in the mosque, he said: He who has engaged himself in devotion along with me should do so during the last ten days; I saw that night, that was caused to forget it, but I have seen myself prostrating in water and mud on the morning following (that night), so seek it in the last ten days and seek it every night with an odd number. Abu sa'id said: Rain fell that night, the mosque that was thatched building dripped, and my eyes saw the Messenger of Allah (ﷺ) with the traces of water and mud, on his forehead on the morning following the twenty-first night
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے ( دہے ) میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں، میں نے یہ ( قدر کی ) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی، اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - الْمَعْنَى - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي غَيْرِ الصَّلاَةِ ثُمَّ اتَّفَقَا - فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى لاَ يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:The Messenger of Allah (ﷺ) would recite to us a surah (according to the version of Ibn Numair) outside the prayer (the agreed version goes), then he would prostrate along with him, and none of us could find a place for his forehead
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورۃ پڑھ کر سناتے ( ابن نمیر کی روایت میں ہے ) نماز کے علاوہ میں ( آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سجدہ کی آیت آنے پر ) سجدہ کرتے، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ۱؎۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هِشَامٌ أَقْدَمُ شَيْخٍ لِحَمَّادٍ وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ قَالَ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ - يَعْنِي فِي الْوِتْرِ - قَبْلَ الرُّكُوعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَىٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَذْكُرِ الْقُنُوتَ وَلاَ ذَكَرَ أُبَيًّا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ وَسَمَاعُهُ بِالْكُوفَةِ مَعَ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْقُنُوتَ وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ وَشُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَلَمْ يَذْكُرَا الْقُنُوتَ وَحَدِيثُ زُبَيْدٍ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ وَشُعْبَةُ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُلُّهُمْ عَنْ زُبَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقُنُوتَ إِلاَّ مَا رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ زُبَيْدٍ فَإِنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ إِنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ هُوَ بِالْمَشْهُورِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصٍ نَخَافُ أَنْ يَكُونَ عَنْ حَفْصٍ عَنْ غَيْرِ مِسْعَرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَيُرْوَى أَنَّ أُبَيًّا كَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) used to say at the end of his witr: "O Allah, I seek refuge in Thy good pleasure from Thy anger, and in Thy forgiveness from Thy punishment, and I seek refuge in Thy mercy from Thy wrath. I cannot reckon the praise due to Thee. Thou art as Thou hast praised Thyself." Abu Dawud said: Hisham is the earliest teacher of Hammad. Yahya b. Ma'in said: No one is reported to have narrated traditions form him except Hammad b. Salamah. Abu Dawud said: Ubayy b. Ka'b said: The Messenger of Allah (ﷺ) recited supplication in the witr before bowing. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by 'Isa b. Yunus through a different chain of narrators from Ubayy b. Ka'b. He also narrated it through a different chain of narrators on the authority of Ubayy b. Ka'b that the Messenger of Allah (ﷺ) recited the supplication in the witr before bowing. Abu Dawud said: The chain of narrators of the tradition of Sa'id from Qatadah goes: Yazid b. Zurai' narrated from Sa'id, from Qatadah, from 'Azrah, from Sa'id b. 'Abd al-Rahman b. Abza, on the authority of his father, from the Prophet (ﷺ). This version does not mention the supplication and the name of Ubayy. This tradition has also been narrated by 'Abd al-A'la and Muhammad b. Bishr al-'Abdi. He heard the traditions from 'Isa b. Yunus at Kufah. They did not mention the supplication in their version. This tradition has also been narrated by Hisham al-Dastuwa'i and Shu'bah from Qatadah. They did not mention the supplication in their version. The tradition of Zubaid has been narrated by Sulaiman al-A'mash, Shu'bah, 'Abd al-Malik b. Abi Sulaiman, and Jarir b. Hazim; all of them narrated on the authority of Zubaid. None of them mention the supplication in his version, except in the tradition transmitted by Hafs b. Ghiyath from Mis'ar from Zubaid; he narrated in his version that he (the Prophet) recited supplication before bowing. Abu Dawud said: This version of tradition is not well know. There is doubt that Hafs might have narrated this tradition from some other narrator than Mis'ar. Abu Dawud said: It is reported that Ubayy (b. Ka'b) used to recited the supplication )in the witr) in the second half of Ramadan
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك، وبمعافاتك من عقوبتك، وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے، ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور ابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے، انہوں نے مسعر سے، مسعر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے، اسے یزید بن زریع نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے عزرہ سے، عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا۔ اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے، اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے، انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ زبید کی روایت کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے، سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔
Narrated by Hammad
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخَذْتُ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ كِتَابًا زَعَمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَتَبَهُ لأَنَسٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا وَكَتَبَهُ لَهُ فَإِذَا فِيهِ ‏"‏ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلاَ يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ ‏.‏ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلاَثِينَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاَثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَأَنْ يَجْعَلَ مَعَهَا شَاتَيْنِ - إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ - أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ مِنْ هَا هُنَا لَمْ أَضْبِطْهُ عَنْ مُوسَى كَمَا أُحِبُّ ‏"‏ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ - إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ - أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ لَبُونٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلاَّ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِلَى هَا هُنَا ثُمَّ أَتْقَنْتُهُ ‏"‏ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلاَّ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَشَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلاَّ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَىْءٌ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلاَّ أَرْبَعٌ فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلاَثَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ وَلاَ تَيْسُ الْغَنَمِ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ فَإِنْ لَمْ تَبْلُغْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ أَرْبَعِينَ فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلاَّ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Hammad : I took a letter from Thumamah bin ‘Abd Allah bin Anas. He presumed that Abu Bakr had written it for Anas when he sent him (to Al Bahrain) as a collector of zakat. This (letter) was stamped with the stamp of the Messenger of Allah(ﷺ) and was written by Abu Bakr for him(Anas). This letter goes “This is the obligatory sadaqah(zakat) which the Messenger of Allah(ﷺ) imposed on Muslims which Allah commanded his Prophet(ﷺ) to impose. Those Muslims who are asked for the proper amount must give it, but those who are asked for more than that must not give it. For less than twenty five Camels a goat is to be given for every five Camels. When they reach twenty five to thirty five, a she Camel in her second year is to be given. If there is no she Camel in her second year, a male Camel in its third year is to be given. When they reach thirty six to forty five, a she Camel in her third year is to be given. When they reach forty six to sixty , a she Camel in her fourth year which is ready to be covered by a stallion is to be given. When they reach sixty one to seventy five, a she Camel in her fifth year is to be given. When they reach seventy six to ninety, two she Camel in their third year are to be given. When they reach ninety one to a hundred and twenty, two she Camels in their fourth year are ready to be covered by a stallion are to be given. When they exceed a hundred and twenty, a she Camel in her third year is to be given for every forty and a she Camel in her fourth year for every fifty(Camels). In case the ages of the Camel vary in the payment of obligatory sadaqah(zakat) If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her fifth year is payable does not possess one but possess one in her fourth year, that will be accepted from him along with two goats if he can conveniently give them, or else twenty dirhams. If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her fourth year is payable does not possess but possesses one in her fifth year, that will be accepted from him, and the collector must give him twenty dirhams or two goats. If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her fourth year is payable possesses only one in her third year, that will be accepted from him.” Abu Dawud said From here I could not retain accurately from Musa as I liked “And he must give along with it two goats if he can conveniently give them, or else twenty dirhams. If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her third year is payable possesses only one in her fourth year, that will be accepted from him.” Abu Dawud said (I was doubtful) up to here, and retained correctly onward “and the collector must give him twenty dirhams or two goats. If anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her third year is payable does not possess one but possesses one in her second year, that will be accepted from him, but he must give two goats or twenty dirhams. Anyone whose Camels reach the number on which a she Camel in her second year is payable does not possess one but possesses a male Camel in its third year, that will be accepted from him, and nothing extra will be demanded along with it. If anyone possesses only four Camels, no zakat will be payable on them unless their owner wishes. If the numbers of the pasturing goats reach forty to one hundred and twenty, one goat is to be given. Over one hundred and twenty up to two hundred, two goats are to be given. If they exceed two hundred reaching three hundred, three goats are to be given. If they exceed three hundred, a goat is to be for every hundred. An old sheep, one with a defect in the eye, or a male goat is not to be accepted as sadaqah (zakat) unless the collector wishes. Those which are in separate flocks are not to be brought together and those which are in one flock are not to be separated from fear of sadaqah(zakat). Regarding what belongs to two partners, they can make claims for restitution from one another with equity, If a man’s pasturing animals are less than forty, no sadaqah(zakat) is due on them unless their owner wishes. On sliver dirhams a fortieth is payable, but if there are only a hundred and ninety, nothing is payable unless their owner wishes.”
حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی، وہ کہتے تھے: یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی تھی، جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کر دی تھی، اس میں یہ عبارت لکھی تھی: یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے، وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے، وہ نہ دے: پچیس ( ۲۵ ) سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے، جب پچیس اونٹ پورے ہو جائیں تو پینتیس ( ۳۵ ) تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیدے، اور جب چھتیس ( ۳۶ ) اونٹ ہو جائیں تو پینتالیس ( ۴۵ ) تک میں ایک بنت لبون ہے، جب چھیالیس ( ۴۶ ) اونٹ پورے ہو جائیں تو ساٹھ ( ۶۰ ) تک میں ایک حقہ واجب ہے، اور جب اکسٹھ ( ۶۱ ) اونٹ ہو جائیں تو پچہتر ( ۷۵ ) تک میں ایک جذعہ واجب ہو گی، جب چھہتر ( ۷۶ ) اونٹ ہو جائیں تو نو ے ( ۹۰ ) تک میں دو بنت لبون دینا ہوں گی، جب اکیانوے ( ۹۱ ) ہو جائیں تو ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) تک دو حقہ اور جب ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) سے زائد ہوں تو ہر چالیس ( ۴۰ ) میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس ( ۵۰ ) میں ایک حقہ دینا ہو گا۔ اگر وہ اونٹ جو زکاۃ میں ادا کرنے کے لیے مطلوب ہے، نہ ہو، مثلاً کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اسے جذعہ دینا ہو لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو حقہ ہی لے لی جائے گی، اور ساتھ ساتھ دو بکریاں، یا بیس درہم بھی دیدے۔ یا اسی طرح کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ ہو تو اس سے جذعہ ہی قبول کر لی جائے گی، البتہ اب اسے عامل ( زکاۃ وصول کرنے والا ) بیس درہم یا دو بکریاں لوٹائے گا، اسی طرح سے کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ کے بجائے بنت لبون ہوں تو بنت لبون ہی اس سے قبول کر لی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں موسیٰ سے حسب منشاء اس عبارت سے «ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له، أو عشرين درهمًا» سے لے کر «ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وليس عنده إلا حقة فإنها تقبل منه» تک اچھی ضبط نہ کر سکا، پھر آگے مجھے اچھی طرح یاد ہے: یعنی اگر اسے میسر ہو تو اس سے دو بکریاں یا بیس درہم واپس لے لیں گے، اگر کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں، جن میں بنت لبون واجب ہوتا ہو اور بنت لبون کے بجائے اس کے پاس حقہ ہو تو حقہ ہی اس سے قبول کر لیا جائے گا اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں جن میں بنت لبون واجب ہوتی ہو اور اس کے پاس بنت مخاض کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اس سے بنت مخاض لے لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم اور لیے جائیں گے، جس کے اوپر بنت مخاض واجب ہوتا ہو اور بنت مخاض کے بجائے اس کے پاس ابن لبون مذکر ہو تو وہی اس سے قبول کر لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز واپس نہیں کرنی پڑے گی، اگر کسی کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دیدے۔ اگر چالیس ( ۴۰ ) بکریاں چرنے والی ہوں تو ان میں ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) تک ایک بکری دینی ہو گی، جب ایک سو اکیس ( ۱۲۱ ) ہو جائیں تو دو سو تک دو بکریاں دینی ہوں گی، جب دو سو سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو ( ۳۰۰ ) تک تین بکریاں دینی ہوں گی، جب تین سو سے زیادہ ہوں تو پھر ہر سینکڑے پر ایک بکری دینی ہو گی، زکاۃ میں بوڑھی عیب دار بکری اور نر بکرا نہیں لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مصلحتاً زکاۃ وصول کرنے والے کو نر بکرا لینا منظور ہو۔ اسی طرح زکاۃ کے خوف سے متفرق مال جمع نہیں کیا جائے گا اور نہ جمع مال متفرق کیا جائے گا اور جو نصاب دو آدمیوں میں مشترک ہو تو وہ ایک دوسرے پر برابر کا حصہ لگا کر لیں گے ۲؎۔ اگر چرنے والی بکریاں چالیس سے کم ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ مالک چا ہے تو اپنی مرضی سے کچھ دیدے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ دیا جائے گا البتہ اگر وہ صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کچھ بھی واجب نہیں سوائے اس کے کہ مالک کچھ دینا چاہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ قَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ ‏"‏ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ خُذْهَا قَطُّ ‏"‏ ‏.‏ كَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ وَيَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَخُذْهَا ‏"‏ ‏.‏
The aforesaid tradition has also been transmitted by ‘Amr bin Shu’aib through a different chain of narrators. This version has:He said about the stray sheep: You, your brother or the wolf may have them. Do take it. A similar version has been transmitted by Ayyub and Ya’qub bin `Ata from `Amr bin Shu’aid from the Propher (SWAS). He said : then take it
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو ۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: تو تم اسے پکڑے رکھو ۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِهْرَانَ أَبِي صَفْوَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: He who intends to perform hajj should hasten to do so
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اسے جلدی انجام دے لے ۱؎ ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ تَسْتَتِرِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ قَالَتْ قُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي ‏.‏ قَالَتْ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Aflah ibn AbulQu'ays entered upon me. I hid myself from him. He said: You are hiding yourself from me while I am your paternal uncle. She said: I said: From where? He said: The wife of my brother suckled you. She said: The woman suckled me and not the man. Thereafter the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and I told him this matter. He said: He is your paternal uncle; he may enter upon you
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس افلح بن ابوقعیس آئے تو میں نے پردہ کر لیا، انہوں نے کہا: مجھ سے پردہ کر رہی ہو، میں تو تمہارا چچا ہوں؟ میں نے کہا: چچا کس طرح سے؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ مرد نے، پھر میرے یہاں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے سارا واقعہ آپ سے بیان کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں، وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں ۔
Narrated by Mutarrif ibn Abdullah
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى طَلاَقِهَا وَلاَ عَلَى رَجْعَتِهَا فَقَالَ طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ ‏.‏ وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ أَشْهِدْ عَلَى طَلاَقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا وَلاَ تَعُدْ ‏.‏
Narrated Mutarrif ibn Abdullah: Imran ibn Husayn was asked about a person who divorces his wife, and then has intercourse with her, but he does not call any witness to her divorce nor to her restoration. He said: You divorced against the sunnah and took her back against the sunnah. Call someone to bear witness to her divorce, and to her return in marriage, and do not repeat it
مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کر لے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے تو انہوں نے کہا کہ تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِيهِ قَالَ ‏ "‏ وَفِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ وَكُلُّ جَمْعٍ مَوْقِفٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The end of Ramadan is on the day when you end it, and the 'Id (festival) of sacrifice is on the day when you sacrifice. The whole of Arafah is the place of staying, and the whole of Mina is the place of sacrifice, and all the roads of Mecca are the place of sacrifice, and the whole of Muzdalifah is the place of staying
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی، اس میں ہے: تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو ۱؎ اور عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو، پورا کا پورا میدان عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا میدان منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں، اور سارا مزدلفہ وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے ۔
Narrated by Thabit ibn Qays
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلاَّدٍ وَهِيَ مُنْتَقِبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنِهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِبَةٌ فَقَالَتْ إِنْ أُرْزَإِ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Thabit ibn Qays: A woman called Umm Khallad came to the Prophet (ﷺ) while she was veiled. She was searching for her son who had been killed (in the battle) Some of the Companions of the Prophet (ﷺ) said to her: You have come here asking for your son while veiling your face? She said: If I am afflicted with the loss of my son, I shall not suffer the loss of my modesty. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You will get the reward of two martyrs for your son. She asked: Why is that so, Messenger of Allah? He replied: Because the people of the Book have killed him
قیس بن شماس کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، ایک صحابی نے اس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے ، وہ کہنے لگی: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا ہے ۔
Narrated by Asim b. Kulaib
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهُ مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ الْجَذَعَ يُوَفِّي مِمَّا يُوَفِّي مِنْهُ الثَّنِيُّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏
Narrated 'Asim b. Kulaib: On the authority of his father: We were with a man from the Companions of the Prophet (ﷺ) called Mujashi' who belonged to Banu Sulaim. There was a scarcity if goats (in those days). He commanded a man to announce (among the people); so he announced that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: A lamb may be given as full payent for that for which has full-grown animal is payment. Abu Dawud said: His name is Mujashi' b. Mas'ud
کلیب کہتے ہیں کہ ہم مجاشع نامی بنی سلیم کے ایک صحابی رسول کے ساتھ تھے اس وقت بکریاں مہنگی ہو گئیں تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے تھے: جذع ( ایک سالہ ) اس چیز سے کفایت کرتا ہے جس سے «ثنی» ( وہ جانور جس کے سامنے کے دانت گر گئے ہوں ) کفایت کرتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔
Narrated by Abu Taa'labat b. al-Khushani
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ، عَائِذُ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ قَالَ ‏ "‏ مَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ وَمَا اصَّدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Taa'labat b. al-Khushani:I said: Messenger of Allah, I hunt with my trained dog, and with my untrained dog? He said: 'What you hunt with your trained dog, mention Allah's names (on it) and eat; and what you hunt with your untrained dog, and you find in a position that you slaughter it, then eat
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے اور بےسدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو اس پر اللہ کا نام لو ( یعنی «بِسْمِ اللهِ» کہو ) اور کھاؤ، اور جو شکار اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو اور اس کے ذبح کو پاؤ ( یعنی زندہ پاؤ ) تو ذبح کر کے کھاؤ ( ورنہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ کتا جو تربیت یافتہ نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا ذبح کے قائم مقام نہیں ہو سکتا ) ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا، مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُتْمَ بَعْدَ احْتِلاَمٍ وَلاَ صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: I memorised (a tradition) from the Messenger of Allah (ﷺ): There is no orphanhood after puberty, and there is no silence for the whole day till the night
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں ( یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا ) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۱؎۔
Narrated by Imran ibn Husayn
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ فَقَالَ ‏"‏ لَكَ السُّدُسُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ لَكَ سُدُسٌ آخَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ السُّدُسَ الآخَرَ طُعْمَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ فَلاَ يَدْرُونَ مَعَ أَىِّ شَىْءٍ وَرَّثَهُ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ أَقَلُّ شَىْءٍ وَرِثَ الْجَدُّ السُّدُسَ ‏.‏
Narrated Imran ibn Husayn: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: My son has died; what do I receive from his estate? He replied: You receive a sixth. When he turned away he called him and said: You receive another sixth. When he turned away, he called him and said: The other sixth is an allowance (beyond what is due). Qatadah said: They (the Companions) did not know the heirs with whom he was given (a sixth). Qatadah said: The minimum share given to the grandfather was a sixth
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے ، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے ، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا «سدس» تمہارے لیے تحفہ ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں: معلوم نہیں دادا کو کس کے ساتھ سدس حصہ دار بنایا؟ ۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ «سدس» ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، وَسَلَمَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ إِنِّي إِنْ لاَ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَسْتَخْلِفْ وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لاَ يَعْدِلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدًا وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:'Umar said: I shall not appoint a successor, for the Messenger of Allah (ﷺ) did not appoint a successor. If I appoint a successor (I can do so), for Abu Bakr had appointed a successor. He Ibn 'Umar) said: I swear by Allah, he did not mention (anyone) but the Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr. So I learnt he would not equate anyone with the Messenger of Allah (ﷺ), for he did not appoint any successor
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد نہ کروں ( تو کوئی حرج نہیں ) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا ۱؎ اور اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کر دوں ( تو بھی کوئی حرج نہیں ) کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کیا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! انہوں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو میں نے سمجھ لیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو درجہ نہیں دے سکتے اور یہ کہ وہ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔
Narrated by Abu Ja'far 'Abd Allah b. Nafi', the slave of al-Hasan b. 'Ali
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ - وَكَانَ نَافِعٌ غُلاَمَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَاقَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أُسْنِدَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ صَحِيحٍ ‏.‏
Narrated Abu Ja'far 'Abd Allah b. Nafi', the slave of al-Hasan b. 'Ali: Abu Musa paid a sick visit to al-Hasan b. 'Ali. Abu Dawud said: He narrated the tradition to the same effect as narrated by Shu'bah. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by 'Ali from the Prophet (ﷺ) without any sound manner
ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں اور نافع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں: ابوموسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث بواسطہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف طریق سے مروی ہے۔
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ بِالأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: He who swears by Amanah (faithfulness) is not one of us
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى قَرِيبٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِنُ بِالأَجْرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ قَيْسٌ كَمَا قَالَ سُفْيَانُ وَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ ‏.‏
The tradition mentioned above (No. 3330) has also been transmitted by AbuSafwan ibn Umayrah through a different chain of narrators. This version has:Abu Safwan said: I came to the Messenger of Allah (ﷺ) at Mecca before his immigration. He then narrated the rest of the tradition, but he did not mention the words "who was weighing for payment". Abu Dawud sad: Qais also transmitted it as Sufyan said: The version of Sufyan is authoritative
ابوصفوان بن عمیرۃ (یعنی سوید) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ آیا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی لیکن اجرت لے کر وزن کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قیس نے بھی سفیان کی طرح بیان کیا ہے اور لائق اعتماد بات تو سفیان کی بات ہے۔
Narrated by Rafi' b. Khadij
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعٍ - هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ - قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَسْبِ الأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ ‏.‏
Narrated Rafi' b. Khadij:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade earnings of a slave-girl unless it is known from where it came
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟ ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلاَ عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to the Yemen as judge, and I asked: Messenger of Allah, are you sending me when I am young and have no knowledge of the duties of a judge? He replied: Allah will guide your heart and keep your tongue true. When two litigants sit in front of you, do not decide till you hear what the other has to say as you heard what the first had to say; for it is best that you should have a clear idea of the best decision. He said: I had been a judge (for long); or he said (the narrator is doubtful): I have no doubts about a decision afterwards
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ( قاضی ) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء ( فیصلہ کرنے ) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آ جائے گی وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔
Narrated by Jundub
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُقْرِئُ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ مِهْرَانَ، - أَخُو حَزْمٍ الْقُطَعِيِّ - حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Jundub: The Prophet (ﷺ) said: If anyone interprets the Book of Allah in the light of his opinion even if he is right, he has erred
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی عقل سے کوئی بات کہی اور درستگی کو پہنچ گیا تو بھی اس نے غلطی کی ۔
Narrated by Abdullah Ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، يَقُولُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلاَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لاَ يَعْرِفُ حَلاَلَهُ مِنْ حَرَامِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ ‏"‏
Narrated Abdullah Ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Every intoxicant is khamr (wine) and every intoxicant is forbidden. If anyone drinks wine, Allah will not accept prayer from him for forty days, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he repeats it a fourth time, it is binding on Allah that He will give him tinat al-khabal to drink. He was asked: What is tinat al-khabal, Messenger of Allah? He replied: Discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell. If anyone serves it to a minor who does not distinguish between the lawful and the unlawful, it is binding on Allah that He will give him to drink the discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا ۔
Narrated by Jabir ibn Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ نَحَرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً ‏.‏
Narrated Jabir ibn Abdullah: When the Prophet (ﷺ) returned to Medina, he would slaughter a camel or a cow
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مِنْ رَمِيَّتِهِ ‏.‏
Jabir said:The Prophet (ﷺ) cauterized Sa’d b. Mu’adh from the wound of an arrow
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا داغا۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ - قَوْلُهُ ‏"‏ هَامَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ فَيُدْفَنُ إِلاَّ خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ ‏.‏ قُلْتُ فَقَوْلُهُ صَفَرَ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَفَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي فَقَالَ ‏"‏ لاَ صَفَرَ ‏"‏ ‏.‏
Muhammad b. al-Musaffa said to us on the authority of Baqiyyah. He said:I asked Muhammad b. Rashid about the meaning of the word hamah. He replied: The pre-Islamic Arabs used to say: When anyone dies and is buried, a bird comes forth from his grave. I asked: What did he mean by safar ? He said: I heard that the pre-Islamic Arabs used to take evil omen from safar. So the Prophet (ﷺ) said: There is no safar. Muhammad (b. Rashid) said: We heard someone say: It is a pain in the stomach. They said that it was infection. Hence he said: There is no safar
بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» میں نحوست نہیں ہے ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے ( یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے ) تو آپ نے فرمایا: «صفر» کوئی چیز نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، - يَعْنِي الْعَطَّارَ - حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلاَّ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying:If anyone emancipates a share in his slave, he should completely emancipate him if he has money; but if he has none, then slave will be required to work (to pay for his freedom), but he must not be overburdened
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے ۔
Narrated by Ubayy b. Ka'b
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ قَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ ‏{‏ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا ‏}‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ بِالتَّاءِ ‏.‏
Narrated Ubayy b. Ka'b:"Say, in the bounty of Allah, and in His mercy- in that let you rejoice
عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا» لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے ( سورۃ یونس: ۵۸ ) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( تاء کے ساتھ ) ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ ‏"‏ بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When the heat is violent, offer (the Zuhr) prayer when it becomes fairly cool, for the violent heat comes from the bubbling over the Hell
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈی کر کے پڑھو، ( ابن موہب کی روایت میں «فأبردوا عن الصلاة» کے بجائے «فأبردوا بالصلاة» ہے ) ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۱؎۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: He who copies any people is one of them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تَرِقَّهُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلاَنَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas: The woman who supplies fake hair and the one who asks for it, the woman who pulls out hair for other people and the woman who depilates herself, the woman who tattoos and the one who has it done when there is no disease to justify it have been cursed. Abu Dawud said: Wasilah means the woman who adds false hair to the hair of women. Mustawsilah means the one who asks for adding the hair to her hair. namisah means a woman who plucks hair from the brow until she makes it thin; mutanammisah means the woman who depilates herself ; washimah is a woman who tattoos in the face with antimony or ink ; mustawshimah is a woman with whom it is done
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور«متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال ( تل ) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔
Narrated by Ali
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهِدَايَةِ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَنَهَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ لِلسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - شَكَّ عَاصِمٌ - وَنَهَانِي عَنِ الْقَسِّيَّةِ وَالْمِيثَرَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقُلْنَا لِعَلِيٍّ مَا الْقَسِّيَّةُ قَالَ ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ أَوْ مِنْ مِصْرَ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الأُتْرُجِّ قَالَ وَالْمِيثَرَةُ شَىْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ ‏.‏
Narrated Ali:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Say: O Allah, guide me, and set me right. Remember by guidance (hidayah) the showing of the straight path, and remember by setting right (sadad) the setting right of an arrow. Then pointing to the middle finger and the one next to it, he said: He forbade me to wear a signet-ring on this finger of mine or on this (Asim was doubtful). He forbade me to wear qassiyyah (qasi garments) and mitharah. Abu Burdah said: We asked 'Ali: What is qasiyyah ? He said: These are garments imported to us from Syria or Egypt. They are stripped and marked like citrons. And mitharah was a thing made by women for their husbands
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں ( عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے ) اور مجھے «قسیہ» اور «میثرہ» سے منع فرمایا۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «قسیہ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے، ان کی دھاریوں میں ترنج ( چکوترہ ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور «میثرہ» وہ بچھونا ( بستر ) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ وَسَلاَحُ قَرِيبٌ مِنْ خَيْبَرَ ‏.‏
Al-Zuhri said:Salah is near Khaibar
ابن شہاب زہری کہتے ہیں اور سلاح خیبر کے قریب ایک جگہ ہے۔
Narrated by from Abi Sukainah One of the Companions
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ، - رَجُلٍ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ - عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated from Abi Sukainah One of the Companions: The Prophet (ﷺ) said: Let the Abyssinians alone as long as they let you alone, and let the Turks alone as long as they leave you alone
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشہ کے کافروں کو اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں، اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ۱؎ ۔
Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً، كَانَتْ تَشْتِمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَمَهَا ‏.‏
Narrated Ali ibn AbuTalib: A Jewess used to abuse the Prophet (ﷺ) and disparage him. A man strangled her till she died. The Messenger of Allah (ﷺ) declared that no recompense was payable for her blood
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون باطل ٹھہرا دیا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُودَى أَوْ يُقَادَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي - قَالَ الْعَبَّاسُ اكْتُبُوا لِي - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اكْتُبُوا لِي يَعْنِي خُطْبَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:When Mecca was conquered, the Messenger of Allah (ﷺ) got up and said: If a relative of anyone is killed, he will have a choice between two : he (the slayer) will either pay the blood-wit or he will be killed. A man of the Yemen called Abu Shah stood up and said: Write for me, Messenger of Allah. The narrator al-'Abbas (b. al-Walid) said: Write to me, (you people). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Write (you people), for Abu Shah. These are the wordings of the tradition of Ahmad. Abu Dawud said: Write (you people), for me, that is, the address of the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھ دیجئیے ( عباس بن ولید کی روایت «اکتب لی» کے بجائے «اکتبوا لی» یہ صیغۂ جمع ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اکتبوا لی» سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ہے۔
Narrated by Irbad ibn Sariyah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ ‏{‏ وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ‏}‏ فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ وَعَائِدِينَ وَمُقْتَبِسِينَ ‏.‏ فَقَالَ الْعِرْبَاضُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا فَقَالَ ‏"‏ أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then said: I enjoin you to fear Allah, and to hear and obey even if it be an Abyssinian slave, for those of you who live after me will see great disagreement. You must then follow my sunnah and that of the rightly-guided caliphs. Hold to it and stick fast to it. Avoid novelties, for every novelty is an innovation, and every innovation is an error
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے ۲؎ ۔
Narrated by Atiyyah as-Sa'di
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ الْقَاصُّ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّعْدِيِّ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ فَأَغْضَبَهُ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ تَوَضَّأَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Atiyyah as-Sa'di: AbuWa'il al-Qass said: We entered upon Urwah ibn Muhammad ibn as-Sa'di. A man spoke to him and made him angry. So he stood and performed ablution; he then returned and performed ablution, and said: My father told me on the authority of my grandfather Atiyyah who reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Anger comes from the devil, the devil was created of fire, and fire is extinguished only with water; so when one of you becomes angry, he should perform ablution
ابووائل قاص کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد بن سعدی کے پاس داخل ہوئے، ان سے ایک شخص نے گفتگو کی تو انہیں غصہ کر دیا، وہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا، پھر لوٹے اور وہ وضو کئے ہوئے تھے، اور بولے: میرے والد نے مجھ سے بیان کیا وہ میرے دادا عطیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ شیطان کے سبب ہوتا ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وضو کر لے ۔