Narrated by Ali ibn AbuTalib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ أَتَانَا عَلِيٌّ - رضى الله عنه - وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقُلْنَا مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ وَقَدْ صَلَّى مَا يُرِيدُ إِلاَّ أَنْ يُعَلِّمَنَا فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الإِنَاءِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا فَمَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ فِيهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاَثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلاَثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهُوَ هَذَا .
Narrated Ali ibn AbuTalib: Abdu Khayr said: Ali came upon us and he had already offered prayer. He called for water. We asked: What will you do with water when you have already offered prayer? - Perhaps to teach us. A utensil containing water and a wash-basin were brought (to him). He poured water from the utensil on his right hand and washed both his hands three times, rinsed the mouth, snuffed up water and cleansed the nose three times. He then rinsed the mouth and snuffed up water with the same hand by which he took water. He then washed his face three times, and washed his right hand three times and washed his left hand three times. He then put his hand in water and wiped his head once. He then washed his right foot thrice and left foot thrice, then said: If one is pleased to know the method of performing ablution of the Messenger of Allah, this is how he did it
عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے آپ نماز پڑھ چکے تھے، پانی منگوایا، ہم لوگوں نے ( آپس میں ) کہا آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، آپ تو نماز پڑھ چکے ہیں؟ شاید ( پانی منگوا کر ) آپ ہمیں وضو کا طریقہ ہی سکھانا چاہتے ہوں گے، خیر ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو ( کلائی تک ) تین بار دھویا پھر کلی کی اور تین بار ناک جھاڑی، آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے، پھر آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور ( پانی نکال کر ) اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا پھر فرمایا: جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو ( جان لے کہ ) وہ یہی ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَىِ الْفَجْرِ .
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) used to pray thirteen rak'ahs during the night including the two rak'ahs of the dawn prayer
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
Narrated by AbuMusa al-Ash'ari
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا مُوسَى أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " . فَقُلْتُ وَمَا هُوَ قَالَ " لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ " .
Narrated AbuMusa al-Ash'ari: Once we accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. When we reached near Medina, the people began to say aloud: "Allah is most great," and they raised their voice. The Messenger of Allah (ﷺ) said: O people, you are not supplicating one who is deaf and absent, but you are supplicating One Who is nearer to you than the neck of your riding beast. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: AbuMusa, should I not point out to you one of the treasures of Paradise? I asked: What is that? He replied: "There is no might and there is no power except in Allah
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ۱؎ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ ، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ شَيْخٍ، قَالَ رَأَيْتُ سُفْيَانَ عِنْدَهُ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
The above mentioned tradition has also been transmitted by 'Ali through a different chain of narrators in a similar manner from the Prophet(ﷺ)
اس سند سے علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ ذَكَرْتُ لاِبْنِ شِهَابٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ - يَعْنِي يَقْطَعُ الْخُفَّيْنِ لِلْمَرْأَةِ الْمُحْرِمَةِ - ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ كَانَ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ فَتَرَكَ ذَلِكَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Salim ibn Abdullah said: Abdullah ibn Umar used to do so, that is to say, he would cut the shoes of a woman who put on ihram; then Safiyyah, daughter of AbuUbayd, reported to him that Aisha (may Allah be pleased with her) narrated to her that the Messenger of Allah (ﷺ) gave licence to women in respect of the shoes (i.e. women are not required to cut the shoes). He, therefore, abandoned it
میں نے ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کرتے تھے یعنی محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے ۱؎، پھر ان سے صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ن تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۷۸۶۷ ) ، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۲/۲۹، ۳۵، ۶/۳۵ ) ( حسن ) ( محمد بن اسحاق کی یہ روایت معنعن نہیں ہے بلکہ اسے انہوں نے زہری سے بالمشافہہ اخذ کیا ہے، اس لئے حسن ہے)
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا فَقَالَ " لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا " . قَالُوا نَعَمْ . فَقَالَ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ " .
Abu Al Darda said “The Apostle of Allaah(ﷺ) was in a battle. He saw a woman who was nearing the time when she was to deliver a child. “He said “Perhaps the master has intercourse with her.”. They(the people) said “Yes”. He said “I am inclined to invoke a curse on him which will enter his grave with him. How can he make it (the child) an heir when it is not lawful for him? How can he take it into his service when that is not lawful for him?”
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں“۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِيهِ وَأَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَنَفَرًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا وَإِنَّهُ تَرَكَ لَهَا نَفَقَةً يَسِيرَةً فَقَالَ " لاَ نَفَقَةَ لَهَا " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ .
Abu Salamah bin ‘Abd Al Rahman said that Fatimah daughter of Qais told him that Abu Hafs Al Mughirah divorced her three times. He then narrated the rest of the tradition. The version has Khalid bin Walid and some people of Banu Makhzum came to the Prophet (ﷺ) and said Prophet of Allaah (ﷺ) Abu Hafs Al Mughirah divorced his wife three times and he has left a little for her. He said “No maintenance is necessary for her. He then transmitted the rest of the tradition. The tradition narrated by Malik is more perfect
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اسے معمولی نفقہ ( خرچ ) دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے نفقہ نہیں ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ۱؎۔
Narrated by Al-Laith
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ اللَّيْثَ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّهُ نُهِيَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ يَقُولُ ابْنُ شِهَابٍ هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ .
Narrated Al-Laith:When it was mentioned to Ibn Shihab (al-Zuhri) that fasting on Saturday had been prohibited, he would say: This is a Himsi tradition
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر ( ہفتے ) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا " . أَوْ قَالَ " فَلْيَقْبِضْ كَفَّهُ " . أَوْ قَالَ " فَلْيَقْبِضْ بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
Abu Musa reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ When one of you passes our Masjid or our market with an arrow, he should hold its head or hold it with its hand (the narrator is doubtful) so that no harm may be done to any Muslim.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے یا فرمایا: مٹھی میں دبائے رہے ، یا یوں کہا کہ: اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے ۔
Narrated by Mu'adh ibn Jabal
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ - يَعْنِي مُحْتَلِمًا - دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِيِّ ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ .
Narrated Mu'adh ibn Jabal: When the Prophet (ﷺ) sent him to the Yemen, he ordered to take from everyone who had reached puberty one dinar or its equivalent in Mu'afiri garment of Yemen origin
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف ( حاکم بنا کر ) بھیجا، تو انہیں حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر قیمت کا معافری کپڑا جو یمن میں تیار ہوتا ہے جزیہ لیں۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ " .
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When you pray over the dead, make a sincere supplication for him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خلوص دل سے اس کے لیے دعا کرو ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَبَنُ الدَّرِّ يُحْلَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَالظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَحْلِبُ النَّفَقَةُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ عِنْدَنَا صَحِيحٌ .
Narrated Abu Hurairah: The Prophet (ﷺ) as saying: The milk of milch camels may be drunk for payment when in pledge, and the animal may be ridden for payment when it is pledge; payment being made by the one who rides and the one who drinks. Abu Dawud said: In our opinion this is correct
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہوا ہو تو اسے کھلانے پلانے کے بقدر دوہا جائے گا، اور سواری والا جانور رہن رکھا ہوا ہو تو کھلانے پلانے کے بقدر اس پر سواری کی جائے گی، اور جو سواری کرے اور دوہے اس پر اسے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا صَنَعَ لأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامًا ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أَكْلَةً أَوْ أَكْلَتَيْنِ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :If the servant of any of you prepares food for him, and he brings it to him, while he had suffered its heat and smoke. He should make him sit with him to eat. If the food is scanty, he should put one or two morsels in his hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ " .
Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) as saying: The angels do not accompany those fellow travellers who have panther skin
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ چیتے کی کھال ہوتی ہے ۔
Narrated by Salamah ibn al-Muhabbaq
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ حُرَّةٌ وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لِسَيِّدَتِهَا .
Narrated Salamah ibn al-Muhabbaq: A similar tradition (to the No. 4445) has also been transmitted by Salamah ibn al-Muhabbaq from the Prophet (ﷺ). This version has: If she asked her to have intercourse with her voluntarily, then she and a similar slave-girl would be given to her mistress from his property
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي قَوْلِهِ { وَأَمَّا الْغُلاَمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ } " وَكَانَ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا " .
Ubayy b. Ka’b said :I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) explaining the verse “As for the youth his parents were people of Faith,” he was created infidel the day when he was created
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے فرمان «وأما الغلام فكان أبواه مؤمنين» اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے ( سورۃ الکہف: ۸۰ ) کے بارے میں فرماتے سنا کہ وہ پیدائش کے دن ہی کافر پیدا ہوا تھا۔
Narrated by Mu'adh ibn Anas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ " . أُرَاهُ قَالَ " بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَىْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ " .
Narrated Mu'adh ibn Anas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone guards a believer from a hypocrite, Allah will send an angel who will guard his flesh on the Day of Resurrection from the fire of Jahannam; but if anyone attacks a Muslim saying something by which he wishes to disgrace him, he will be restrained by Allah on the bridge over Jahannam till he is acquitted of what he said
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے جو کچھ کہا ہے اس سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ وَفِيهِ " الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الأُولَى مِنَ الصُّبْحِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَبْيَنُ قَالَ فِيهِ قَالَ وَعَلَّمَنِي الإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ " وَإِذَا أَقَمْتَ الصَّلاَةَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ أَسَمِعْتَ " . قَالَ فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لاَ يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلاَ يَفْرِقُهَا لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ عَلَيْهَا .
Abu Mahdhurah also narrated this tradition from the prophet (May peace be upon him) to the same effect through a different chain of transmitters. This version has the additional wordings. The phrases “prayer is better than sleep, prayer is better than sleep” are to be pronounced in the first ADHAN (i.e., not in Iqamah) of the morning prayer. Abu Dawud said; The version narrated by Musaddad is more clear. It reads:He (the prophet) taught me IQAMAH (to pronounce each phrase) twice: Allah is most great. Allah is most great. I testify that there is no god but Allah. I testify that there is no god but Allah; I testify that Muhammad is the Messenger of Allah, I testify that Muhammad is the Messenger of Allah: come to prayer, come to prayer: come to salvation, come to salvation: Allah is most great. Allah is great; there is no god but Allah. Abu Dawud said: The narrator ‘Abd al-Razzaq said; You pronounce IQAMAH for announcing the prayer; you must say twice: the time for prayer has come, the time for prayer has come. (The Prophet said to Abu Mahdhurah): did you listen (to me)? Abu Mahdhurah would not have the hair of his forehead cut, nor would he separate them (from him) because the Prophet (ﷺ) wiped over them
اس سند سے بھی ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اس میں فجر کی پہلی ( اذان ) میں «الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی روایت زیادہ واضح ہے، اس میں یہ ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوہری تکبیر سکھائی «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله»۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے: اور جب تم تکبیر کہو تو دوبار «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہو، کیا تم نے سنا؟ اس میں یہ بھی ہے کہ ابو محذورہ اپنی پیشانی کے بال نہیں کترتے تھے اور نہ ہی اسے جدا کرتے تھے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا۔