حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ، دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَهُمَا إِلَى الْكُوعَيْنِ - قَالَ - ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا وَذَكَرَ الْوُضُوءَ ثَلاَثًا - قَالَ - وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي تَوَضَّأْتُ . ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَأَتَمَّ .
Abu ‘Alqamah said that ‘Uthman called for water and performed ablution. He then poured water with the right hand or the left hand ; he then washed them up to the wrist ; he then rinsed the mouth and snuffed up water three times. The narrator mentioned that ‘ Uthman washed each part three times. He then wiped head and washed his feet. He said :I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution as you saw me perform ablution. He then reported the tradition like that of al-Zuhrl and completed it
ابوعلقمہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پہلے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، اور اسی طرح وضو کے اندر بقیہ تمام اعضاء ء کو تین بار دھونے کا ذکر کیا، پھر کہا: اور آپ ( عثمان رضی اللہ عنہ ) نے اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پیر دھوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے وضو کرتے دیکھا، پھر زہری کی حدیث ( نمبر ۱۰۶ ) کی طرح اپنی حدیث بیان کی اور ان کی حدیث سے کامل بیان کی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ فِي، هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ : فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ لَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ .
Sa'id b. Jubair said that Ibn 'Abbas told him:He (the Prophet) got up and prayed eight rak'ahs in pairs, and then observed witr with five rak'ahs and he did not sit between them
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلاَثًا وَيَسْتَغْفِرَ ثَلاَثًا .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) liked to supplicate three times and to ask pardon (of Allah) three times
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ } قَالَ كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ - رضى الله عنه أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ . فَانْطَلَقَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الآيَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلاَّ لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ لِتَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ " . فَكَبَّرَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ " أَلاَ أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: When this verse was revealed: "And those who hoard gold and silver," the Muslims were grieved about it. Umar said: I shall dispel your care. He, therefore, went and said: Prophet of Allah, your Companions were grieved by this verse. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has made zakat obligatory simply to purify your remaining property, and He made inheritances obligatory that they might come to those who survive you. Umar then said: Allah is most great. He then said to him: Let me inform you about the best a man hoards; it is a virtuous woman who pleases him when he looks at her, obeys him when he gives her a command, and guards his interests when he is away from her
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «والذين يكنزون الذهب والفضة» نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں، چنانچہ وہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہو جائیں ( جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے ) اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے؟ وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لاَ يَجِدُ الإِزَارَ وَالْخُفُّ لِمَنْ لاَ يَجِدُ النَّعْلَيْنِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حَدِيثُ أَهْلِ مَكَّةَ وَمَرْجِعُهُ إِلَى الْبَصْرَةِ إِلَى جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْهُ ذِكْرُ السَّرَاوِيلِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْقَطْعَ فِي الْخُفِّ .
Ibn ‘Abbas said I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say When one who is wearing ihram cannot get a lower garment(loin cloth) he may ear trousers and when he cannot get sandals he may wear shoes. Abu Dawud said This is the tradition narrated by the narrators of Makkah. Its narrator from Basrah is Jabir bin Zaid. He mentioned only trousers and omitted the mention of cutting of the shoes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں ۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے ۱؎ اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں ۲؎ اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Narrated by Umar ibn al-Khattab
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا .
Narrated Umar ibn al-Khattab: The Prophet (ﷺ) divorced Hafsah, but he took her back in marriage
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر آپ نے ان سے رجعت کر لی۔
Narrated by As-Samma' sister of Abdullah ibn Busr
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ، - مِنْ أَهْلِ جَبَلَةَ - حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، جَمِيعًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أُخْتِهِ، - وَقَالَ يَزِيدُ الصَّمَّاءِ - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلاَّ فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلاَّ لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثٌ مَنْسُوخٌ .
Narrated As-Samma' sister of Abdullah ibn Busr: The Prophet (ﷺ) said: Do not fast on Saturday except what has been made obligatory on you; and if one of you can get nothing but a grape skin or a piece of wood from a tree, he should chew it
عبداللہ بن بسر سلمی مازنی رضی اللہ عنہما اپنی بہن مّاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر ( ہفتے ) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو ( اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے ) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھلکہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ منسوخ حدیث ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَقْوَى هَذِهِ الأَحَادِيثِ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ وَالْبَاقِيَةُ ضِعَافٌ .
The tradition mentioned above has also been narrated by Anas bin Malik through a different chain of narrators. He mentioned similar words. Abu Dawud said “the strongest of these traditions is the one of Sa’id bin Abu Al Hasan. The rest are weak
اس سند سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: ان احادیث میں سب سے زیادہ قوی سعید بن ابوالحسن کی حدیث ہے اور باقی ضعیف ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ " .
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Whatever town you come to and stay in , your portion is in it, but whatever town disobeys Allaah and His Apostle a fifth of it goes to Allaah and His Apostle and what remains is yours.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بستی میں تم آؤ اور وہاں رہو تو جو تمہارا حصہ ہے وہی تم کو ملے گا ۱؎ اور جس بستی کے لوگوں نے اللہ و رسول کی نافرمانی کی ( اور اسے تم نے زور و طاقت سے زیر کیا ) تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کا نکال کر باقی تمہیں مل جائے گا ( یعنی بطور غنیمت مجاہدین میں تقسیم ہو جائے گا ) ۔
Narrated by Ibn Abi Laila
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ زَيْدٌ - يَعْنِي ابْنَ أَرْقَمَ - يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُهَا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى أَتْقَنُ .
Narrated Ibn Abi Laila: Zaid b. Arqam used to utter four takbirs (Allah is Most Great) over our dead person (during prayer). He uttered five takbirs on a dead person. So I asked him. He replied: The Messenger of Allah (ﷺ) used to utter those. Abu Dawud said: I remember the tradition of Ibn al-Muthanna in a more guarded way
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید یعنی ابن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور ایک بار ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا ( آپ ہمیشہ چار تکبیریں کہا کرتے تھے آج پانچ کیسے کہیں؟ ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ( بھی ) کہتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابن مثنیٰ کی حدیث زیادہ یاد ہے۔
Narrated by Amir ash-Sha'bi
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، - قَالَ عَنْ أَبَانَ، أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ، - حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ وَجَدَ دَابَّةً قَدْ عَجَزَ عَنْهَا أَهْلُهَا أَنْ يَعْلِفُوهَا فَسَيَّبُوهَا فَأَخَذَهَا فَأَحْيَاهَا فَهِيَ لَهُ " . قَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ عَمَّنْ قَالَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثُ حَمَّادٍ وَهُوَ أَبْيَنُ وَأَتَمُّ .
Narrated Amir ash-Sha'bi: The Prophet (ﷺ) said: If anyone finds an animal whose owners were helpless to provide fodder to it and so they turned it out (of their house), and he took it and looked after it, it will belong to him. Abu Dawud said: This is the tradition of Hammad. It is more plain and perfect
عامر شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کر دیا ہو، وہ اسے ( کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے ) تندرست کر لے تو وہ جانور اسی کا ہو جائے گا ۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے ( ایک نہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ " .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:when a fly alights in anyone’s vessel, he should plunge it all in, for in one of its wings there is a disease, and in the other is a cure. It prevents the wing of it is which there is a cure, so plunge it all in (the vessel)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، اس کے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ - رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ - قَالَ الْحَكَمُ فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ فَخَرَجُوا إِلَىَّ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَنْ لاَ يَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَإِذَا دُبِغَ لاَ يُقَالُ لَهُ إِهَابٌ إِنَّمَا يُسَمَّى شَنًّا وَقِرْبَةً قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يُسَمَّى إِهَابًا مَا لَمْ يُدْبَغْ .
Al-Hakam ibn Uyaynah said that he went along with some people to Abdullah ibn Ukaym, a man of Juhaynah. al-Hakam said:They entered and I sat at the door. Then they came out and told me that Abdullah ibn Ukaym had informed them that the Messenger of Allah (ﷺ) had written to Juhaynah one month before his death: Do not make use of the skin or sinew of an animal which died a natural death. Abu Dawud said: Al-Nadr b. Shumail said: The skin is called ihab when it is not tanned and when it is tanned, it not called ihab but na,es shann and qirbah (tanned skin or leather)
حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے، اندر چلے گئے، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا: مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کہتے ہیں: «اہاب» ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے «اہاب»نہیں کہتے بلکہ اسے «شنّ» یا «قربۃ» کہا جاتا ہے ۱؎۔
Narrated by An-Nu'man ibn Bashir
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ قَالَ " إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جُلِدَ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ " .
Narrated An-Nu'man ibn Bashir: The Prophet (ﷺ) said: about a man who had (unlawful) intercourse with his wife's slave girl: If she made her lawful for him, he will be flogged one hundred lashes; if she did not make her lawful for him, I shall stone him
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو: اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کر دیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ جُعْثُمَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ .
Nu’aim b. Rabl’ah said :I was with ‘Umar b. al-Khattab when he transmitted this tradition. The tradition of Malik is more perfect
نعیم بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث روایت کی، مالک کی روایت زیادہ کامل ہے۔
Narrated by Al-Mustawrid
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ كُسِيَ ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Narrated Al-Mustawrid: The Prophet (ﷺ) said: If anyone eats once at the cost of a Muslim's honour, Allah will give him a like amount of Jahannam to eat; if anyone clothes himself with a garment at the cost of a Muslim's honour, Allah will clothe him with like amount of Jahannam; and if anyone puts himself in a position of reputation and show Allah will disgrace him with a place of reputation and show on the Day of Resurrection
مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک نوالا کھائے گا تو اس کو اللہ اتنا ہی جہنم سے کھلائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک کپڑا پہنے گا تو اللہ اسے اسی جیسا لباس جہنم میں پہنائے گا، اور جو شخص کسی شخص کو شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچائے گا تو قیامت کے دن اللہ اسے خوب شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچا دے گا ( یعنی اس کی ایسی رسوائی ہو گی کہ سارے لوگوں میں اس کا چرچا ہو گا ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلاَةِ طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ فَقُلْتُ نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلاَةِ . قَالَ أَفَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لَهُ بَلَى . قَالَ فَقَالَ تَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ قَالَ وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلاَةَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ فَقَالَ " إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقُمْ مَعَ بِلاَلٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ " . فَقُمْتُ مَعَ بِلاَلٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ - قَالَ - فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَيَقُولُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلِلَّهِ الْحَمْدُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَكَذَا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَقَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ " . وَقَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيهِ " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ " . لَمْ يُثَنِّيَا .
‘Abd Allah b. Zaid reported :when the Messenger of Allah (ﷺ) ordered a bell to be made so that it might be struck to gather the people for prayer, a man carrying a bell in his hand appeared to me while I was asleep, and I said; servant of ‘abd Allah, will you sell the bell? He asked; what will you do with it? I replied; we shall use it to call the people to prayer. He said; should I not suggest you something better than that. I replied: certainly. Then he told me to say: Allah is most great, Allah is most great, Allah is most great, Allah is most great. I testify that there is no god but Allah, I testify that Muhammad is the Messenger of Allah. Come to pray, come to pray; come to salvation; come to salvation. Allah is most great, Allah is most great. I testify that there is no god but Allah. He then moved backward a few steps and said: when you utter the IQAMAH, you should say: Allah is most great, Allah is most great. I testify that there is no god but Allah, I testify that Muhammad is the Messenger of Allah. Come to prayer, come to salvation. The time for prayer has come, the time for prayer has come: Allah is most great, Allah is most great. There is no god but Allah. When the morning came, I came to the Messenger of Allah (May peace be upon him) and informed him of what I had seen in the dream. He said: it is a genuine vision, and he then should use it to call people to prayer, for he has a louder voice than you have. So I got up along with Bilal and began to teach it to him and he used it in making the call to prayer. ‘Umar b. al-khattab (Allah be pleased with him) heard it while he was in his house and came out trailing his cloak and said: Messenger of Allah. By him who has sent you with the truth, I have also seen the kind of thing as has been shown to him. The Messenger of Allah (May peace be upon him) said: To Allah be the praise. Abu Dawud said; Al-Zuhri narrated this tradition in a similar way from Sa’id b. al-Musayyib on the authority of ‘Abd Allah b. Zaid. In this version Ibn Ishaq narrated from al-Zuhri: Allah is most great. Allah is most great, Allah is most great, Allah is most great. Ma;mar and yunus narrated from al-Zuhri; Allah is most great, Allah is most great. They did not report it twice again
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس کی تیاری کا حکم دینے کا ارادہ کیا تاکہ لوگوں کو نماز کی خاطر جمع ہونے کے لیے اسے بجایا جا سکے تو ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص ۱؎ کے ہاتھ میں ناقوس ہے، میں نے اس سے پوچھا: اللہ کے بندے! کیا اسے فروخت کرو گے؟ اس نے کہا: تم اسے کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، تو اس نے کہا: تم اس طرح کہو «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کے لیے آؤ، نماز کے لیے آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر وہ شخص مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، زیادہ دور نہیں گیا پھر اس نے کہا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اس طرح کہو: «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» ۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے دیکھا تھا اسے آپ سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان شاءاللہ یہ خواب سچا ہے ، پھر فرمایا: تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ انہیں بتاتے جاؤ تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے ۲؎۔ چنانچہ میں بلال کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، میں انہیں اذان کے کلمات بتاتا جاتا تھا اور وہ اسے پکارتے جاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمدللہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح زہری کی روایت ہے، جسے انہوں نے سعید بن مسیب سے، اور سعید نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ابن اسحاق نے زہری سے یوں نقل کیا ہے: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر» ( یعنی چار بار ) اور معمر اور یونس نے زہری سے صرف «الله أكبر الله أكبر» کی روایت کی ہے، اسے انہوں نے دہرایا نہیں ہے۔