بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
18 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ، قَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَضْمَضَةَ وَالاِسْتِنْشَاقَ وَقَالَ فِيهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ هَكَذَا وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ دُونَ هَذَا كَفَاهُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الصَّلاَةِ ‏.‏
Humran said :I saw ‘Uthman b. ‘Affan performing ablution. He then narrated the same tradition. In this version there is no mention of rinsing the mouth and snuffing up water. This traditions adds : “He wiped his head three times. He then washed his feet three times. He then said : I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution in like manner. He (the Prophet) said: He who performs ablution less than this, it is sufficient for him. 73 The narrator did not mention prayer (in this version)
حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا، حمران نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے، اس کے بعد آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس سے کم وضو کرے گا ( یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا ) تو بھی کافی ہے ، یہاں پر نماز کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الأَسَدِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏:‏ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَا أَمْسَى فَقَالَ ‏:‏ ‏ "‏ أَصَلَّى الْغُلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ‏:‏ نَعَمْ ‏.‏ فَاضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَامَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَبْعًا أَوْ خَمْسًا أَوْتَرَ بِهِنَّ لَمْ يُسَلِّمْ إِلاَّ فِي آخِرِهِنَّ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:I spent a night with my maternal aunt Maimunah. The Messenger of Allah (ﷺ) came after the evening has come. He asked: Did the boy pray ? She said: Yes. Then he lay down till a part of night had passed as much as Allah willed; he got up, performed ablution and prayed seven or five rak'ahs, observing witr with them. He uttered the salutation only in the last of them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: کیا بچے نے نماز پڑھ لی؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِهِ وَقَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لاَ تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ تَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ ‏"‏ ‏.‏ وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏
Mu'adh b. Jabal reported that the Messenger of Allah (ﷺ) caught his hand and said:By Allah, I love you, Mu'adh. I give some instruction to you. Never leave to recite this supplication after every (prescribed) prayer: "O Allah, help me in remembering You, in giving You thanks, and worshipping You well." Mu'adh willed this supplication to the narrator al-Sunabihi and al-Sunabihi to 'Abu Abd al-Rahman
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ مِنْ كُلِّ جَادِّ عَشَرَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ بِقِنْوٍ يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ ‏.‏
Jabir bin ‘Abdallah said The bProphet (SWAS) commanded that he who plucks ten wasqs of dates from date palms should hang a bunch of dates in the mosque for the poor
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو دس وسق کھجور توڑے تو ایک خوشہ مسکینوں کے واسطے مسجد میں لٹکا دے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ فَإِنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنِ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَحَبَّتْ مِنْ أَلْوَانِ الثِّيَابِ مُعَصْفَرًا أَوْ خَزًّا أَوْ حُلِيًّا أَوْ سَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصًا أَوْ خُفًّا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ إِلَى قَوْلِهِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ ‏.‏
‘Abd Allaah bin Umar said that he heard the Apostle of Allaah(ﷺ) prohibiting women in the sacred state (wearing ihram) to wear gloves, veil(their faces) and to wear clothes with dye of waras or saffron on them. But afterwards they can wear any kind of clothing they like dyed yellow or silk or jewelry or trousers or shirts or shoes. Abu Dawud said ‘Abdah and Muhammad bin Ishaq narrated this tradition from Muhammad bin Ishaq up to the words “And to wear clothes with dye of waras or saffron on them”. They did not mention the words after them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب اوڑھنے، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے، یا ریشمی کپڑے، یا زیور، یا پائجامہ، یا قمیص، یا کرتا، یا موزہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث «وما مس الورس والزعفران من الثياب» تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn ‘Abbas said “I did not see anything more resembling to minor sins than what Abu Hurairah reported from the Prophet (ﷺ) who said “Allaah has decreed for the children of Adam a share in adultery, he will get it by all means, the adultery of eyes is looking; the adultery of tongue is speaking; the soul desires and has a passion; the private parts confirms or falsifies it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ( قرآن میں وارد لفظ ) «لمم» ( چھوٹے گناہ ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چنانچہ آنکھوں کا زنا ( غیر محرم کو بنظر شہوت ) دیکھنا ہے زبان کا زنا ( غیر محرم سے شہوت کی ) بات کرنی ہے، ( انسان کا ) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا طُلِّقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَكُنْ لِلْمُطَلَّقَةِ عِدَّةٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ طُلِّقَتْ أَسْمَاءُ بِالْعِدَّةِ لِلطَّلاَقِ فَكَانَتْ أَوَّلَ مَنْ أُنْزِلَتْ فِيهَا الْعِدَّةُ لِلْمُطَلَّقَاتِ ‏.‏
Amr ibn Muhajir reported on the authority of his father:Asma', daughter of Yazid ibn as-Sakan al-Ansariyyah, was divorced in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). No waiting period was prescribed for a divorced woman (at that time). When Asma' was divorced, Allah, the Exalted, sent down the injunction of waiting period for divorce. She is the first of the divorced women about whom the verse relating to waiting period was sent down
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں طلاق دے دی گئی، اس وقت مطلقہ کی کوئی عدت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا چنانچہ یہی پہلی خاتون ہیں جن کے متعلق مطلقہ عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا۔
Narrated by Uqbah ibn Amir
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَىٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، - وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet (ﷺ) said: The day of Arafah, the day of sacrifice, the days of tashriq are (the days of) our festival, O people of Islam. These are the days of eating and drinking
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
Narrated by Anas ibn Malik
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِضَّةً ‏.‏
Narrated Anas ibn Malik: The pommel of the sword of the Messenger of Allah (ﷺ) was of silver
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی خول چاندی کی تھی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ مَالِكٌ قَدْ أَجْلَى عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ يَهُودَ نَجْرَانَ وَفَدَكَ ‏.‏
Malik said “’Umar expelled the Jews of Najran and Fadak.”
مالک کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے نجران و فدک کے یہودیوں کو جلا وطن کیا ( کیونکہ یہ دونوں عرب کی سرحد میں ہیں ) ۔
Narrated by Samurah bin Jundab
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلاَةِ وَسَطَهَا ‏.‏
Narrated Samurah bin Jundab:I prayed behing the Prophet (ﷺ) over a woman who died in childbirth, and he stood opposite her waist
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں مر گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، - يَعْنِي الْخَبَائِرِيَّ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ - عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو الْهُذَيْلِ الْحِمْصِيُّ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ قَالَ ‏ "‏ فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَتَاعُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ مَالِكٍ أَصَحُّ ‏.‏
A similar tradition (to the No. 3513) has been transmitted by AbuHurayrah from the Prophet (ﷺ). This version has:If he paid something from its price, then he will be equal to the creditors in the remaining price. If a man dies and he has the very property of a man (i.e. seller), he is equal to the creditors whether he (the buyer) pays him (the price) or not. Abu Dawud said: Malik's version of this tradition is sounder
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہو گا، اور جو شخص مر گیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کی روایت ( بہ نسبت زبیدی کی روایت کے ) زیادہ صحیح ہے۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، - وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلاَ تَقْرَبُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْحَسَنُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرُبَّمَا حَدَّثَ بِهِ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When a mouse falls into clarified butter, if it is sold, throw the mouse and what is around it away, but if it is in a liquid state, do not go near it. Al-Hasan said: AbdurRazzaq said: This tradition has been transmitted by Ma'mar, from az-Zuhri, from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Abbas, from Maymunah, from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چوہیا گھی میں گر جائے تو اگر گھی جما ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا حصہ پھینک دو ( اور باقی کھا لو ) اور اگر گھی پتلا ہو تو اس کے قریب مت جاؤ ۔ حسن کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کہا: اس روایت کو بسا اوقات معمر نے: «عن الزهري عن عبيدالله بن عبدالله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کے طریق سے بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا ‏.‏ فَقَالَتْ أَوَيَحِلُّ ذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ ‏"‏ ‏.‏
Al-Aliyah, daughter of Subay', said:I had some sheep at Uhud, and they began to die. I then entered upon Maymunah, wife of the Prophet (ﷺ), and mentioned it to her. Maymunah said to me: If you took their skins and made use of them, (that would be better for you). She asked: Is that lawful? She replied, Yes. Some people of the Quraysh passed by the Messenger of Allah (ﷺ) dragging a sheep of theirs as big as an ass. The Messenger of Allah (ﷺ) said to them: Would that you took its skin. They said: It died a natural death. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Water and leaves of the mimosa flava purify it
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں! تو میں بولی: کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی لوگوں نے عرض کیا: وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی ۔
Narrated by Al-Bara' ibn Azib
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ ‏.‏
Narrated Al-Bara' ibn Azib: I met my uncle who was carrying a standard. I asked him: Where are you going? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) has sent me to a man who has married his father's wife. He has ordered me to cut off his head and take his property
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مُوسَى قَالَ يَا رَبِّ أَرِنَا آدَمَ الَّذِي أَخْرَجَنَا وَنَفْسَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَأَرَاهُ اللَّهُ آدَمَ فَقَالَ أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ فَقَالَ لَهُ آدَمُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَنْتَ الَّذِي نَفَخَ اللَّهُ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَعَلَّمَكَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ أَخْرَجْتَنَا وَنَفْسَكَ مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ وَمَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مُوسَى ‏.‏ قَالَ أَنْتَ نَبِيُّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ لَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ رَسُولاً مِنْ خَلْقِهِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَفَمَا وَجَدْتَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَفِيمَ تَلُومُنِي فِي شَىْءٍ سَبَقَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى فِيهِ الْقَضَاءُ قَبْلِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ ‏"‏ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ‏"‏ ‏.‏
‘Umar b. al-Khattab reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :Moses said : My lord, show us Adam who caused us and himself to come out from Paradise. So Allah showed him Adam. He asked : Are you our father, Adam? Adam said to him : Yes. He said : Are you the one into whom Allah breathed of his spirit, taught you all the names, and commanded angels (to prostrate) and they prostrated to you? He replied : Yes. He asked : Then what moved you to cause us and yourself to come out from paradise? Adam asked him : And who are you? He said : Yes. He asked : Did you not find that was decreed in the book (records) of Allah before I was created? He replied : Yes. He asked : Then why do you blame me about a thing for which Divine decree had already passed before me ? The Messenger of Allah (May peace be upon him) said : So Adam got the better of Moses in argument (peace be upon him)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا: اے میرے رب! ہمیں آدم علیہ السلام کو دکھا جنہوں نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوایا، تو اللہ نے انہیں آدم علیہ السلام کو دکھایا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے باپ آدم ہیں؟ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: آپ ہی ہیں جس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی، جسے تمام نام سکھائے اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے آپ کو اس پر آمادہ کیا کہ آپ نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم نے ان سے کہا: اور تم کون ہو؟ وہ بولے: میں موسیٰ ہوں، انہوں نے کہا: تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جس سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی اور تمہارے اور اپنے درمیان اپنی مخلوق میں سے کوئی قاصد مقرر نہیں کیا؟ کہا: ہاں، آدم علیہ السلام نے کہا: تو کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ وہ ( جنت سے نکالا جانا ) میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی کتاب میں لکھا ہوا تھا؟ کہا: ہاں معلوم ہے، انہوں نے کہا: پھر ایک چیز کے بارے میں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کیوں مجھے ملامت کرتے ہو؟ یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو آدم، موسیٰ پر غالب آ گئے، تو آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى ‏.‏
This tradition has also been transmitted by ‘Isa b. Abi ‘Isa al-sailahini from Abu al-Mughirah, as Ibn al-musaffa said
ابومغیرہ سے بھی اسی طرح مروی ہے جیسا کہ ابن مصفیٰ نے روایت کیا ہے۔
Narrated by Mu'adh ibn Abdullah ibn Khubayb al-Juhani
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ مَتَى يُصَلِّي الصَّبِيُّ فَقَالَتْ كَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا عَرَفَ يَمِينَهُ مِنْ شِمَالِهِ فَمُرُوهُ بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Mu'adh ibn Abdullah ibn Khubayb al-Juhani: Hisham ibn Sa'd reported: We entered upon Mu'adh ibn Abdullah ibn Khubayb al-Juhani. He said to his wife: When (at what age) should a boy pray? She replied: Some person of us reported: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about it; he said: When a boy distinguishes right hand from the left hand, then command him to pray
ہشام بن سعد کا بیان ہے کہ مجھ سے معاذ بن عبداللہ بن خبیب جہنی نے بیان کیا، ہشام کہتے ہیں: ہم معاذ کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا: بچے کب نماز پڑھنا شروع کریں؟ تو انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہا تھا کہ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: جب بچہ اپنے داہنے اور بائیں ہاتھ میں تمیز کرنے لگے تو تم اسے نماز کا حکم دو ۔