بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Abu Dawood
1
19 hadith
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لاَ وُضُوءَ لَهُ وَلاَ وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The prayer of a person who does not perform ablution is not valid, and the ablution of a person who does not mention the name of Allah (in the beginning) is not valid
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے وضو کے شروع میں «بسم الله» نہیں کہا ۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُوسَى، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها ‏:‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ كَمَا قَالَتْ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَرَكْعَتَىِ الْفَجْرِ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ ‏.‏
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray thirteen rak'ahs during the night, observing the witr prayer with nine (or as she said). He used to pray two rak'ahs while sitting and pray two rak'ahs of the dawn prayer between the adhan and the iqamah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے، نو رکعتیں وتر کی ہوتیں، یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ ‏ "‏ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَىَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: We counted that the Messenger of Allah (ﷺ) would say a hundred times during a meeting: "My Lord, forgive me and pardon me; Thou art the Pardoning and forgiving One
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم» اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے کہنے کو شمار کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بُرَيْدَةَ أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ ‏"‏ ‏.‏
Buraidah said A woman came to the Messenger of Allah (SAWS) and said I gave a slave girl as sadaqah to my mother who has now died and has left that slave girl. He said your reward is sure and the inheritance has given her back to you
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مر گئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کر گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اجر پورا ہو گیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فِيهِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْزِعَهَا نَزْعًا وَيَغْتَسِلَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
This tradition has also been transmitted by Ya’la bin Umayyah through a different chain of narrators. This version adds The Apostle of Allaah(ﷺ) commanded him to take it off (the tunic) and to take a bath twice or thrice. The narrator then transmitted the rest of the tradition
اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ ‏.‏ فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Iyas ibn Abdullah ibn Abu Dhubab reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Do not beat Allah's handmaidens, but when Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Women have become emboldened towards their husbands, he (the Prophet) gave permission to beat them. Then many women came round the family of the Messenger of Allah (ﷺ) complaining against their husbands. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: Many women have gone round Muhammad's family complaining against their husbands. They are not the best among you
ایاس بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو نہ مارو ، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ( آپ کے اس فرمان کے بعد ) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، یہ ( مار پیٹ کرنے والے ) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - عَنْ رَبَاحٍ، قَالَ زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللَّهِ ثُمَّ طَبَنَ لَهَا غُلاَمٌ لأَهْلِي رُومِيٌّ يُقَالُ لَهُ يُوحَنَّهْ فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ فَوَلَدَتْ غُلاَمًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ فَقُلْتُ لَهَا مَا هَذَا فَقَالَتْ هَذَا لِيُوحَنَّهْ ‏.‏ فَرَفَعْنَا إِلَى عُثْمَانَ أَحْسِبُهُ قَالَ مَهْدِيٌّ قَالَ فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا فَقَالَ لَهُمَا أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ ‏.‏ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فَجَلَدَهَا وَجَلَدَهُ وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ ‏.‏
Rabah said:My people married me to a Roman slave-girl of theirs. I had intercourse with her, and she gave birth to a black (male) child like me. I named it Abdullah. I again had intercourse with her, and she gave birth to a black (male) child like me. I named it Ubaydullah. Then a Roman slave of my people, called Yuhannah, incited her, and spoke to her in his own unintelligible language. She gave birth to a son like a chameleon (red). I asked her: What is this? She replied: This belongs to Yuhannah. We then brought the case to Uthman (for a decision). I think Mahdi said these words. He inquired from both of them, and they acknowledged (the facts). He then said to them: Do you agree that I take the decision about you, which the Messenger of Allah (ﷺ) had taken? The Messenger of Allah (ﷺ) decided that the child was to attributed to the one on whose bed it was born. And I think he said: He flogged her and flogged him, for they were slaves
رباح کہتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے اپنی ایک رومی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا، میں نے اس سے جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح کالا لڑکا جنا جس کا نام میں نے عبداللہ رکھا، میں نے پھر جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح ایک اور کالے لڑکے کو جنم دیا جس کا نام میں نے عبیداللہ رکھا، اس کے بعد میرے خاندان کے یوحنا نامی ایک رومی غلام نے اسے پھانس لیا اور اس نے اس سے اپنی زبان میں بات کی چنانچہ گرگٹ جیسا ( سرخ ) رنگ کا بچہ اس سے پیدا ہوا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہنے لگی: یہ یوحنا کا بچہ ہے تو ہم نے یہ معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا، تو انہوں نے ان سے بازپرس کی تو دونوں نے اعتراف کر لیا، پھر انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم دونوں اس بات پر رضامند ہو کہ میں تمہارا فیصلہ اس طرح کر دوں جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا؟ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ بستر والے کا ہے ۔ راوی کا خیال ہے کہ پھر ان دونوں کو کوڑے لگائے، ( سنگسار نہیں کیا ) کیونکہ وہ دونوں لونڈی و غلام تھے۔
Narrated by Dihyah
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ، خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ دِمَشْقَ مَرَّةً إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ مِنَ الْفُسْطَاطِ وَذَلِكَ ثَلاَثَةُ أَمْيَالٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ نَاسٌ وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَرَاهُ إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ ‏.‏ يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ ‏.‏
Narrated Dihyah: Mansur al-Kalbi said: Dihyah ibn Khalifah once went out from a village of Damascus at as much distance as it measures between Aqabah and al-Fustat during Ramadan; and that is three miles. He then broke his fast and the people broke their fast along with him. But some of them disliked to break their fast. When he came back to his village, he said: I swear by Allah, today I witnessed a thing of which I could not even think to see. The people detested the way of the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions. He said this to those who fasted. At this moment he said: O Allah, make me die
منصور کلبی سے روایت ہے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ توڑنے کو ناپسند کیا، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے ( یعنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے ) ۔
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِي الْغَايَةِ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) used to hold a race between horses and kept the one in the fifth year at a long distance
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ دوڑ کا مقابلہ کرایا اور پانچویں برس میں داخل ہونے والے گھوڑوں کی منزل دور مقرر کی۔
Narrated by Abyad ibn Hammal
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرَشِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ، سَعِيدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبْيَضَ - عَنْ جَدِّهِ، أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ كَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّدَقَةِ حِينَ وَفَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَخَا سَبَإٍ لاَ بُدَّ مِنْ صَدَقَةٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّمَا زَرْعُنَا الْقُطْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ تَبَدَّدَتْ سَبَأٌ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلٌ بِمَأْرِبٍ ‏.‏ فَصَالَحَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سَبْعِينَ حُلَّةِ بَزٍّ مِنْ قِيمَةِ وَفَاءِ بَزِّ الْمَعَافِرِ كُلَّ سَنَةٍ عَمَّنْ بَقِيَ مِنْ سَبَإٍ بِمَأْرِبَ فَلَمْ يَزَالُوا يُؤَدُّونَهَا حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّ الْعُمَّالَ انْتَقَضُوا عَلَيْهِمْ بَعْدَ قَبْضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا صَالَحَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْحُلَلِ السَّبْعِينَ فَرَدَّ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مَا وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَاتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه انْتَقَضَ ذَلِكَ وَصَارَتْ عَلَى الصَّدَقَةِ ‏.‏
Narrated Abyad ibn Hammal: Abyad spoke to the Messenger of Allah (ﷺ) about sadaqah when he came along with a deputation to him. He replied: O brother of Saba', sadaqah is unavoidable. He said: We cultivated cotton, Messenger of Allah. The people of Saba' scattered, and there remained only a few at Ma'arib. He therefore concluded a treaty of peace with the Messenger of Allah (ﷺ) to give seventy suits of cloth, equivalent to the price of the Yemeni garments known as al-mu'afir, to be paid every year on behalf of those people of Saba' who remained at Ma'arib. They continued to pay them till the Messenger of Allah (ﷺ) died. The governors after the death of the Messenger of Allah (ﷺ) broke the treaty concluded by Abyad by Hammal with the Messenger of Allah (ﷺ) to give seventy suits of garments. AbuBakr then revived it as the Messenger of Allah (ﷺ) had done till AbuBakr died. When AbuBakr died, it was discontinued and the sadaqah was levied
ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ وفد میں شامل ہو کر رسول اللہ کے پاس آئے تو آپ سے صدقے کے متعلق بات چیت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سبائی بھائی! ( سبا یمن کے ایک شہر کا نام ہے ) صدقہ دینا تو ضروری ہے ، ابیض بن حمال نے کہا: اللہ کے رسول! ہماری زراعت تو صرف کپاس ( روئی ) ہے، ( سبا اب پہلے والا سبا نہیں رہا ) سبا والے متفرق ہو گئے ( یعنی وہ شہر اور وہ آبادی اب نہیں رہی جو پہلے بلقیس کے زمانہ میں تھی، اب تو بالکل اجاڑ ہو گیا ہے ) اب کچھ تھوڑے سے سبا کے باشندے مارب ( ایک شہر کا نام ہے ) میں رہ رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر سال کپڑے کے ایسے ستر جوڑے دینے پر مصالحت کر لی جو معافر ۱؎ کے ریشم کے جوڑے کی قیمت کے برابر ہوں، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک برابر یہ جوڑے ادا کرتے رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد عمال نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ابیض بن حمال سے سال بہ سال ستر جوڑے دیتے رہنے کے معاہدے کو توڑ دیا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سال میں ستر جوڑے دئیے جانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو دوبارہ جاری کر دیا، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو یہ معاہدہ بھی ٹوٹ گیا اور ان سے بھی ویسے ہی صدقہ لیا جانے لگا جیسے دوسروں سے لیا جاتا تھا۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلاَنَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ ‏.‏
Narrated 'Aishah:I swear by Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) prayed over Suhail b. al-Baida' in the mosque
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں قسم اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی۔
Narrated by Abu Rafi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، سَمِعَ أَبَا رَافِعٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Rafi':The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: A neighbor has the best claim to the house or land of the neighbor
ابورافع رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پڑوسی اپنے سے لگے ہوئے مکان یا زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ فَيَقُولُ ‏ "‏ نَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) used to eat melon with fresh dates, and he used to say: The heat of the one is broken by the coolness of the other, and the coolness of the one by the heat of the other
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ہم اس ( کھجور ) کی گرمی کو اس ( تربوز ) کی ٹھنڈک سے اور اس ( تربوز ) کی ٹھنڈک کو اس ( کھجور ) کی گرمی سے توڑتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - قَالَ مُسَدَّدٌ وَوَهْبٌ - عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ أُهْدِيَ لِمَوْلاَةٍ لَنَا شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas said - (Musaddad and Wahb transmitted from Maimunah) Maimunah said:A sheep was given in alms to a female client of ours, but it died. The Prophet (ﷺ) passed it and said: Why did you not tan its skin and get some good out of it ? They replied: Messenger of Allah, it died a natural death. He said: It is only the eating of it that is prohibited
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی جسے میں نے آزاد کر دیا تھا کو صدقہ کی ایک بکری ہدیہ میں ملی تو وہ مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: تم اس کی کھال کو دباغت دے کر اسے اپنے کام میں کیوں نہیں لاتے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ( نہ کہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، مِنْ مُزَيْنَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ زَنَى رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ وَقَدْ أُحْصِنَا حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَقَدْ كَانَ الرَّجْمُ مَكْتُوبًا عَلَيْهِمْ فِي التَّوْرَاةِ فَتَرَكُوهُ وَأَخَذُوا بِالتَّجْبِيَةِ يُضْرَبُ مِائَةً بِحَبْلٍ مَطْلِيٍّ بِقَارٍ وَيُحْمَلُ عَلَى حِمَارٍ وَجْهُهُ مِمَّا يَلِي دُبُرَ الْحِمَارِ فَاجْتَمَعَ أَحْبَارٌ مِنْ أَحْبَارِهِمْ فَبَعَثُوا قَوْمًا آخَرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا سَلُوهُ عَنْ حَدِّ الزَّانِي ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ قَالَ وَلَمْ يَكُونُوا مِنْ أَهْلِ دِينِهِ فَيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ فَخُيِّرَ فِي ذَلِكَ قَالَ ‏{‏ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ‏}‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:A man and a woman of the Jews who were married committed fornication at the time when the Messenger of Allah (ﷺ) came to Medina. Stoning was a prescribed punishment for them in accordance with the Torah, but they abandoned it and followed tajbiyyah, meaning, the man was beaten a hundred times with a rope painted with tar and was seated on a donkey with his face towards the tail of the donkey. Their rabbis then assembled and sent some people to the Messenger of Allah (ﷺ). They said to them: Ask him about the prescribed punishment for fornication. The transmitter then mentioned the rest of the tradition. They version adds: They were not the followers of his religion, and he (the prophet) was to pronounce judgment between them. So he was given a choice in this verse:”If they do come to thee, either judge between them, or decline to interfere
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو تورات میں رجم کا حکم تحریر تھا، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ «تَجبیہ» کو اختیار کر لیا تھا، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پچھاڑی کی طرف ہوتا، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) ۔
Narrated by AbuHurayrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الصَّنْعَانِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ النَّارُ جُبَارٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: No recompense may be demanded if the fire spreads
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ باطل ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ لَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَذَكَرْنَا لَهُ الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ زَادَ قَالَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَا نَعْمَلُ أَفِي شَىْءٍ قَدْ خَلاَ أَوْ مَضَى أَوْ شَىْءٍ يُسْتَأْنَفُ الآنَ قَالَ ‏"‏ فِي شَىْءٍ قَدْ خَلاَ وَمَضَى ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
The tradition mentioned above has also been transmitted by Yahya b. Yamur and Humaid b. ‘Abd al-Rahman through a different chain of narrators. This version has :we met ‘Abd Allah b. ‘Umar. We told him about divine decree and what they said about it. He then mentioned something similar to it. He added : A man of Muzainah or juhainah asked : What is the good in doing anything, Messenger of Allah ? should we think that a thing has passed and gone or a thing that has happened now (without predestination)? He replied : About a thing that has passed and gone (i.e. predestined). A man or some people asked: Then, why action? He replied: Those who are among the number of those who go to Paradise will be helped to do the deeds of the people who will go to Paradise, and those who are among the number of those who go to Hell will be helped to do the deeds of those who will go to Hell
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے تو ہم نے آپ سے تقدیر کے بارے میں جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا ذکر کیا۔ پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ سے مزینہ یا جہینہ ۱؎ کے ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کیا جان کر عمل کریں؟ کیا یہ جان کر کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ سب پہلے ہی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے، یا یہ جان کر کہ ( پہلے سے نہیں لکھا گیا ہے ) نئے سرے سے ہونا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جان کر کہ جو کچھ ہونا ہے سب تقدیر میں لکھا جا چکا ہے پھر اس شخص نے یا کسی دوسرے نے کہا: تو آخر یہ عمل کس لیے ہے؟ ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت کے لیے اہل جنت والے اعمال آسان کر دئیے جاتے ہیں اور اہل جہنم کو اہل جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں ۔
Narrated by Ammar
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ لَهُ وَجْهَانِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ammar: The Prophet (ﷺ) said: He who is two-faced in this world will have two tongues of fire on the Day of Resurrection
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دنیا میں دو رخ ہوں گے قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، وَابْنُ، لَهِيعَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ ‏.‏ مَكَانَ فَلَمَّا بَرَزَ ‏.‏
Abu Salih narrated this tradition with a different chain of transmitters to the same effect as reported by Sulaiman b. Dawud. But this version has the word KHARAJA (he went out) instead of BARAZA (proceeded)
اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ سے سلیمان بن داود کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے، مگر اس میں: «فلما برز» کے بجائے«فلما خرج» ہے۔