Narrated by `Uqba bin 'Amir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاَتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ـ أَوْ مَفَاتِيحَ الأَرْضِ ـ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا ".
Narrated `Uqba bin 'Amir:One day the Prophet (ﷺ) went out and offered the funeral prayers of the martyrs of Uhud and then went up the pulpit and said, "I will pave the way for you as your predecessor and will be a witness on you. By Allah! I see my Fount (Kauthar) just now and I have been given the keys of all the treasures of the earth (or the keys of the earth). By Allah! I am not afraid that you will worship others along with Allah after my death, but I am afraid that you will fight with one another for the worldly things
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالخیر یزید بن عبداللہ نے ‘ ان سے عقبہ بن عامر نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا ( یہ فرمایا کہ ) مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے ( نتیجہ یہ کہ آخرت سے غافل ہو جاؤ گے ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is no compensation for one killed or wounded by an animal or by falling in a well, or because of working in mines; but Khumus is compulsory on Rikaz
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانور سے جو نقصان پہنچے اس کا کچھ بدلہ نہیں اور کنویں کا بھی یہی حال ہے اور کان کا بھی یہی حکم ہے اور رکاز میں سے پانچواں حصہ لیا جائے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ طَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ، كُلَّمَا أَتَى الرُّكْنَ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَىْءٍ كَانَ عِنْدَهُ وَكَبَّرَ. تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) performed Tawaf of the Ka`ba riding a camel, and every time he came in front of the Corner (having the Black Stone), he pointed towards it with something he had with him and said Takbir
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف ایک اونٹنی پر سوار رہ کر کیا۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔ خالد طحان کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن طہمان نے بھی خالد حذاء سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَا، قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ يُنْهَى عَنْ صِيَامَيْنِ، وَبَيْعَتَيْنِ الْفِطْرِ، وَالنَّحْرِ،، وَالْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ،.
Narrated Abu Huraira:Two fasts and two kinds of sale are forbidden: fasting on the day of `Id ul Fitr and `Id-ul-Adha and the kinds of sale called Mulamasa and Munabadha. (These two kinds of sale used to be practiced in the days of Pre-Islamic period of ignorance; Mulamasa means when you touch something displayed for sale you have to buy it; Munabadha means when the seller throws something to you, you have to buy it)
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہوں نے عطاء بن میناء سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے اور دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے سے۔ اور ملامست اور منابذت کے ساتھ خرید و فروخت کرنے سے۔
Narrated by Abu Sa`id
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ.
Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) forbade two kinds of dresses and two kinds of sale, i.e., Mulamasa and Munabadha
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عطاء بن یزید نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے لباس سے منع فرمایا، اور دو طرح کی بیع، بیع ملامسۃ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔
Narrated by Abu Qilaba
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلِقَاحٍ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَجَاءَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ. قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ فَهَؤُلاَءِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
Narrated Abu Qilaba:Anas said, "Some people of `Ukl or `Uraina tribe came to Medina and its climate did not suit them. So the Prophet (ﷺ) ordered them to go to the herd of (Milch) camels and to drink their milk and urine (as a medicine). So they went as directed and after they became healthy, they killed the shepherd of the Prophet and drove away all the camels. The news reached the Prophet (ﷺ) early in the morning and he sent (men) in their pursuit and they were captured and brought at noon. He then ordered to cut their hands and feet (and it was done), and their eyes were branded with heated pieces of iron, They were put in 'Al-Harra' and when they asked for water, no water was given to them." Abu Qilaba said, "Those people committed theft and murder, became infidels after embracing Islam and fought against Allah and His Apostle
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے حماد بن زید سے، وہ ایوب سے، وہ ابوقلابہ سے، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ عکل یا عرینہ ( قبیلوں ) کے مدینہ میں آئے اور بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لقاح میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لقاح چلے گئے اور جب اچھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے وہ جانوروں کو ہانک کر لے گئے۔ علی الصبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اس واقعہ کی ) خبر آئی۔ تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے۔ دن چڑھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کر لائے گئے۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر دی گئیں اور ( مدینہ کی ) پتھریلی زمین میں ڈال دئیے گئے۔ ( پیاس کی شدت سے ) وہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے ( ان کے جرم کی سنگینی ظاہر کرتے ہوئے ) کہا کہ ان لوگوں نے چوری کی اور چرواہوں کو قتل کیا اور ( آخر ) ایمان سے پھر گئے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ انْزِعْ هَذَا السَّهْمَ. فَنَزَعْتُهُ، فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ، فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ ".
Narrated Abu Musa:Abu 'Amir was hit with an arrow in his knee, so I went to him and he asked me to remove the arrow. When I removed it, the water started dribbling from it. Then I went to the Prophet (ﷺ) and told him about it. He said, "O Allah! Forgive `Ubaid Abu 'Amir
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر لگا تو میں ان کے پاس پہنچا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس تیر کو کھینچ کر نکال لو میں نے کھینچ لیا تو اس سے خون بہنے لگا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حادثہ کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کے لیے ) دعا فرمائی «اللهم اغفر لعبيد أبي عامر» اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ. فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ فَقَالَ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي. فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ. قَالَ عُرْوَةُ فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ.
Narrated `Aisha:On the day (of the battle) of Uhud when the pagans were defeated, Satan shouted, "O slaves of Allah! Beware of the forces at your back," and on that the Muslims of the front files fought with the Muslims of the back files (thinking they were pagans). Hudhaifa looked back to see his father "Al-Yaman," (being attacked by the Muslims). He shouted, "O Allah's Slaves! My father! My father!" By Allah, they did not stop till they killed him. Hudhaifa said, "May Allah forgive you." `Urwa said that Hudhaifa continued to do good (invoking Allah to forgive the killer of his father till he met Allah (i.e. died)
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہشام نے ہمیں اپنے والد عروہ سے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہا کہ احد کی لڑائی میں جب مشرکین کو شکست ہو گئی تو ابلیس نے چلا کر کہا کہ اے اللہ کے بندو! ( یعنی مسلمانو ) اپنے پیچھے والوں سے بچو، چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والوں کو ( جو مسلمان ہی تھے ) انہوں نے مارنا شروع کر دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ بھی پیچھے تھے۔ انہوں نے بہتیرا کہا کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں۔ لیکن اللہ گواہ ہے کہ لوگوں نے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا نہ چھوڑا۔ بعد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا کہ خیر۔ اللہ تمہیں معاف کرے ( کہ تم نے غلط فہمی سے ایک مسلمان کو مار ڈالا ) عروہ نے بیان کیا کہ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے قاتلوں کے لیے برابر مغفرت کی دعا کرتے رہے۔ تاآنکہ اللہ سے جا ملے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَنَزَلَتْ {لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ }
Narrated `Abdullah:When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong." was revealed, the companions of the Prophet (ﷺ) said, "Who amongst us has not mixed his belief with wrong?" Then Allah revealed: "Join none in worship with Allah, Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنے ایمان میں ظلم نہیں کیا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ بیشک شرک ہی ظلم عظیم ہے۔“
Narrated by `Umar bin Taghlib
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ، وَتُقَاتِلُونَ قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ".
Narrated `Umar bin Taghlib:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Near the Hour you will fight with people who will wear hairy shoes; and you will also fight people with flat faces like shields
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا میں نے حسن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے قریب تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کا جوتا پہنتی ہو گی اور ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے منہ تہ بہ تہ ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا، وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا. يَعْنِي بِلاَلاً.
Narrated Jabir bin `Abdullah:`Umar used to say, "Abu Bakr is our chief, and he manumitted our chief," meaning Bilal
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا ہم کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کو انہوں نے آزاد کیا ہے، ان کی مراد بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے تھی۔
Narrated by Um Khalid bint Khalid
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ، قَالَتْ قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ، فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمِيصَةً لَهَا أَعْلاَمٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ الأَعْلاَمَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ " سَنَاهْ، سَنَاهْ ". قَالَ الْحُمَيْدِيُّ يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ.
Narrated Um Khalid bint Khalid:When I came from Ethiopia (to Medina), I was a young girl. Allah's Messenger (ﷺ) made me wear a sheet having marks on it. Allah's Messenger (ﷺ) was rubbing those marks with his hands saying, "Sanah! Sanah!" (i.e. good, good)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سعید سعیدی نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے، ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں جب حبشہ سے آئی تو بہت کم عمر تھی۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر عنایت فرمائی اور پھر آپ نے اس کی دھاریوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا «سناه، سناه .» ۔ حمیدی نے بیان کیا کہ «سناه، سناه .» حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا اچھا۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما أَنَّ أَبَاهُ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا، وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ، فَلَمَّا حَضَرَ جِذَاذُ النَّخْلِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي قَدِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيرًا، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ. فَقَالَ " اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلَى نَاحِيَةٍ ". فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ، فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " ادْعُ لَكَ أَصْحَابَكَ ". فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ، وَأَنَا أَرْضَى أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي، وَلاَ أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ، فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا وَحَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً.
Narrated Jabir bin `Abdullah:That his father was martyred on the day of the battle of Uhud and was in debt and left six (orphan) daughters. Jabir, added, "When the season of plucking the dates came, I went to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "You know that my father was martyred on the day of Uhud, and he was heavily in debt, and I would like that the creditors should see you." The Prophet (ﷺ) said, "Go and pile every kind of dates apart." I did so and called him (i.e. the Prophet (ﷺ) ). When the creditors saw him, they started claiming their debts from me then in such a harsh manner (as they had never done before). So when he saw their attitude, he went round the biggest heap of dates thrice, and then sat over it and said, 'O Jabir), call your companions (i.e. the creditors).' Then he kept on measuring (and giving) to the creditors (their due) till Allah paid all the debt of my father. I would have been satisfied to retain nothing of those dates for my sisters after Allah had paid the debts of my father. But Allah saved all the heaps (of dates), so that when I looked at the heap where the Prophet (ﷺ) had been sitting, it seemed as if a single date had not been taken away thereof
ہم سے احمد بن ابی شریح نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ان کے والد ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور قرض چھوڑ گئے تھے اور چھ لڑکیاں بھی۔ جب درختوں سے کھجور اتارے جانے کا وقت قریب آیا تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، میرے والد صاحب احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا تھا کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں ( اور کچھ نرمی برتیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور ہر قسم کی کھجور کا الگ الگ ڈھیر لگا لو۔ میں نے حکم کے مطابق عمل کیا اور پھر آپ کو بلانے گیا۔ جب قرض خواہوں نے آپ کو دیکھا تو جیسے اس وقت مجھ پر اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ ( کیونکہ وہ یہودی تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا یہ طرز عمل دیکھا تو آپ پہلے سب سے بڑے ڈھیر کے چاروں طرف تین مرتبہ گھومے۔ اس کے بعد اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر انہیں ناپ کے دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی طرف سے ان کی ساری امانت ادا کر دی۔ میں اس پر خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کی امانت ادا کرا دے اور میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی نہ لے جاؤں لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام دوسرے ڈھیر بچا دیئے بلکہ اس ڈھیر کو بھی جب دیکھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ جیسے اس میں سے ایک کھجور کا دانہ بھی کم نہیں ہوا۔
Narrated by Ubaidullah Al-Khaulani
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم إِنَّكُمْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا ـ قَالَ بُكَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ـ يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ ".
Narrated 'Ubaidullah Al-Khaulani:I heard `Uthman bin `Affan saying, when people argued too much about his intention to reconstruct the mosque of Allah's Messenger (ﷺ), "You have talked too much. I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'Whoever built a mosque, (Bukair thought that `Asim, another sub-narrator, added, "Intending Allah's Pleasure"), Allah would build for him a similar place in Paradise
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمرو بن قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن اسود خولانی سے سنا، انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے متعلق لوگوں کی باتوں کو سن کر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے بہت زیادہ باتیں کی ہیں۔ حالانکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس نے مسجد بنائی بکیر ( راوی ) نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، تو اللہ تعالیٰ ایسا ہی ایک مکان جنت میں اس کے لیے بنائے گا۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مُنْكَدِرٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ مَاشِيَيْنِ فَوَجَدَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ أَعْقِلُ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ رَشَّ عَلَىَّ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَزَلَتْ {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ}
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr came on foot to pay me a visit (during my illness) at Banu Salama's (dwellings). The Prophet (ﷺ) found me unconscious, so he asked for water and performed the ablution from it and sprinkled some water over me. I came to my senses and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you order me to do as regards my wealth?" So there was revealed:-- "Allah commands you as regards your children's (inheritance):
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی، بیان کیا کہ مجھے ابن منکدر نے خبر دی اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو سلمہ تک پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مجھ پر بے ہوشی طاری ہے، اس لیے آپ نے پانی منگوایا اور وضو کر کے اس کا پانی مجھ پر چھڑکا، میں ہوش میں آ گیا، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا حکم ہے، میں اپنے مال کا کیا کروں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يوصيكم الله في أولادكم» کہ ”اللہ تمہیں تمہاری اولاد ( کی میراث ) کے بارے میں حکم دیتا ہے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلاَدَةً، فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاَةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ. فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلاَّ جَعَلَ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجُعِلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةٌ.
Narrated `Aisha:That she borrowed a necklace from Asma' and then it got lost. So Allah's Messenger (ﷺ) sent some people from his companions in search of it. In the meantime the stated time for the prayer became due and they offered their prayer without ablution. When they came to the Prophet, they complained about it to him, so the Verse regarding Tayammum was revealed . Usaid bin Hudair said, "(O `Aisha!) may Allah bless you with a good reward, for by Allah, never did a difficulty happen in connection with you, but Allah made an escape from it for you, and brought Allah's Blessings for the Muslims
مجھ سے عبید بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے ( اپنی بہن ) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ لے لیا تھا، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا ( اور پانی نہیں تھا ) اس لیے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ کے سامنے یہ شکوہ کیا۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ! اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے۔ واللہ! جب بھی آپ پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اسے دور کیا اور مزید برآں یہ کہ مسلمانوں کے لیے برکت اور بھلائی ہوئی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هَلَكَتْ قِلاَدَةٌ لأَسْمَاءَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَلَبِهَا رِجَالاً، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ. زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ.
Narrated `Aisha:A necklace belonging to Asma' was lost, and the Prophet (ﷺ) sent men in its search. The time for the prayer became due and they were without ablution and they could not find water; therefore they prayed without ablution, They mentioned that to the Prophet (ﷺ) . Then Allah revealed the Verse of Tayammum. (`Aisha added: that she had borrowed (the necklace) from Asma
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کا ہار ( جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عاریت پر لیا تھا ) گم ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا اسی دوران میں نماز کا وقت ہو گیا اور لوگ بلا وضو ( وضو کے بغیر ) تھے چونکہ پانی بھی موجود نہیں تھا، اس لیے سب نے بلا وضو نماز پڑھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ہار انہوں نے اسماء سے عاریتاً لیا تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلاَّ الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْمَجَانَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلاً، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَيَقُولَ يَا فُلاَنُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ ".
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying. "All the sins of my followers will be forgiven except those of the Mujahirin (those who commit a sin openly or disclose their sins to the people). An example of such disclosure is that a person commits a sin at night and though Allah screens it from the public, then he comes in the morning, and says, 'O so-and-so, I did such-and-such (evil) deed yesterday,' though he spent his night screened by his Lord (none knowing about his sin) and in the morning he removes Allah's screen from himself
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب نے، ان سے ابن شہاب (محمد بن مسلم) نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی ( گناہ کا ) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔
Narrated by `Amr bin Maimun
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ مَنْ قَالَ عَشْرًا كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ. قَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ مِثْلَهُ. فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ فَقَالَ مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ. فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ فَقَالَ مِنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى. فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَقُلْتُ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ فَقَالَ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَوْلَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الرَّبِيعِ قَوْلَهُ. وَقَالَ آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ سَمِعْتُ هِلاَلَ بْنَ يَسَافٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَوْلَهُ. وَقَالَ الأَعْمَشُ وَحُصَيْنٌ عَنْ هِلاَلٍ عَنِ الرَّبِيعِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَوْلَهُ. وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَالصَّحِيحُ قَوْلُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو.
Narrated `Amr bin Maimun:Whoever recites it (i.e., the invocation in the above Hadith (412) ten times will be as if he manumitted one of Ishmael's descendants. Abu Aiyub narrated the same Hadith from the Prophet (ﷺ) saying, "(Whoever recites it ten times) will be as if he had manumitted one of Ishmael's descendants
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو نے، کہا کہ ہم سے عمر بن ابی زائد نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس نے یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھ لیا وہ ایسا ہو گا جیسے اس نے ایک عربی غلام آزاد کیا۔ اسی سند سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع بن خثیم نے یہی مضمون تو میں نے ربیع بن خثیم سے پوچھا کہ تم نے کس سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرو بن میمون اودی سے۔ پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابن ابی لیلیٰ سے۔ ( پھر میں ) ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے، وہ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے اور ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی ہند نے،، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع نے موقوفاً ان کا قول نقل کیا۔ اور آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ہلال بن یساف سے سنا، ان سے ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون دونوں نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ اور اعمش اور حصین دونوں نے ہلال سے بیان کیا، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یہی حدیث روایت کی۔ اور ابو محمد حضرمی نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً اسی حدیث کو روایت کیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو، ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهَ صلى الله عليه وسلم كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ ـ أَوْ عُلْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ، يَشُكُّ عُمَرُ ـ فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ، فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ ". ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ " فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ". حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ الْعُلْبَةُ مِنْ الْخَشَبِ وَالرَّكْوَةُ مِنْ الْأَدَمِ
Narrated `Aisha:There was a leather or wood container full of water in front of Allah's Messenger (ﷺ) (at the time of his death). He would put his hand into the water and rub his face with it, saying, "None has the right to be worshipped but Allah! No doubt, death has its stupors." Then he raised his hand and started saying, "(O Allah!) with the highest companions." (See Qur'an 4:69) (and kept on saying it) till he expired and his hand dropped
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی وفات کے وقت ) آپ کے سامنے ایک بڑا پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا۔ یہ عمر کو شبہ ہوا کہ ہانڈی کا کونڈا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈالتے اور پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرہ پر ملتے اور فرماتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بلاشبہ موت میں تکلیف ہوتی ہے، پھر آپ اپنا ہاتھ اٹھا کر فرمانے لگے «في الرفيق الأعلى» یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض ہو گئی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا۔
Narrated by Abu Mas`ud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنِ الصَّلاَةِ فِي الْفَجْرِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلاَنٌ فِيهَا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِي مَوْضِعٍ كَانَ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ".
Narrated Abu Mas`ud:A man came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I keep away from the morning prayer because so-and-so (Imam) prolongs it too much." Allah's Messenger (ﷺ) became furious and I had never seen him more furious than he was on that day. The Prophet (ﷺ) said, "O people! Some of you make others dislike the prayer, so whoever becomes an Imam he should shorten the prayer, as behind him are the weak, the old and the needy
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، انہوں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں فجر کی نماز میں تاخیر کر کے اس لیے شریک ہوتا ہوں کہ فلاں صاحب فجر کی نماز بہت طویل کر دیتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غصہ ہوئے کہ میں نے نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ غضب ناک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! تم میں بعض لوگ ( نماز سے لوگوں کو ) دور کرنے کا باعث ہیں۔ پس جو شخص امام ہو اسے ہلکی نماز پڑھنی چاہئے اس لیے کہ اس کے پیچھے کمزور، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی ہوتے ہیں۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي عِيسَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ الْمَلاَئِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلاَ يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ وَلاَ الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Ad-Dajjal will come to Medina and find the angels guarding it. If Allah will, neither Ad-Dajjal nor plague will be able to come near it
ہم سے اسحاق بن ابی عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال مدینہ تک آئے گا لیکن دیکھے گا کہ فرشتہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں پس نہ تو دجال اس سے قریب ہو سکے گا اور نہ طاعون، اگر اللہ نے چاہا۔“