بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
23
26 hadith
Narrated by Talha bin `Abdullah bin `Auf
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ‏.‏
Narrated Talha bin `Abdullah bin `Auf:I offered the funeral prayer behind Ibn `Abbas and he recited Al-Fatiha and said, "You should know that it (i.e. recitation of Al-Fatiha) is the tradition of the Prophet Muhammad (ﷺ)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے اور ان سے طلحہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اقتداء میں نماز ( جنازہ ) پڑھی ( دوسری سند ) ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن ابراہیم نے ‘ انہیں طلحہ بن عبداللہ بن عوف نے ‘ انہوں نے بتلایا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو آپ نے سورۃ فاتحہ ( ذرا پکار کر ) پڑھی۔ پھر فرمایا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہی طریقہ نبوی ہے۔
Narrated by `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَشْتَرِ وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated `Umar:Once I gave a horse in Allah's Cause (in charity) but that person did not take care of it. I intended to buy it, as I thought he would sell it at a low price. So, I asked the Prophet (ﷺ) about it. He said, "Neither buy, nor take back your alms which you have given, even if the seller were willing to sell it for one Dirham, for he who takes back his alms is like the one who swallows his own vomit
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک بن انس نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا۔ لیکن اس شخص نے گھوڑے کو خراب کر دیا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ خواہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کر کے چاٹنے والے کی سی ہے۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَعَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ أَشْوَاطٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ‏.‏ تَابَعَهُ اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) did Ramal in (first) three rounds (of Tawaf), and walked in the remaining four, in Hajj and Umra
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سریج بن نعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور بقیہ چار چکروں میں حسب معمول چلے، حج اور عمرہ دونوں میں۔ سریج کے ساتھ اس حدیث کو لیث نے روایت کیا ہے۔ کہا کہ مجھ سے کثیر بن فرقد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔
Narrated by Mutarrif from `Imran Ibn Husain
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلاَنَ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ أَنَّهُ سَأَلَهُ ـ أَوْ سَأَلَ رَجُلاً وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ ـ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا فُلاَنٍ أَمَا صُمْتَ سَرَرَ هَذَا الشَّهْرِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ يَعْنِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ‏"‏‏.‏ لَمْ يَقُلِ الصَّلْتُ أَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ثَابِثٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ ‏"‏‏.‏
Narrated Mutarrif from `Imran Ibn Husain:That the Prophet (ﷺ) asked him (Imran) or asked a man and `Imran was listening, "O Abu so-and-so! Have you fasted the last days of this month?" (The narrator thought that he said, "the month of Ramadan"). The man replied, "No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said to him, "When you finish your fasting (of Ramadan) fast two days (in Shawwal)." Through another series of narrators `Imran said, "The Prophet (ﷺ) said, '(Have you fasted) the last days of Sha'ban?
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے مطرف نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا ( مطرف نے یہ کہا کہ ) سوال تو کسی اور نے کیا تھا لیکن وہ سن رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوفلاں! کیا تم نے اس مہینے کے آخر کے روزے رکھے؟ ابونعمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ کی مراد رمضان سے تھی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ ثابت نے بیان کیا، ان سے مطرف نے، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رمضان کے آخر کے بجائے ) شعبان کے آخر میں کا لفظ بیان کیا ( یہی صحیح ہے ) ۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَقَلَّ يَوْمٌ كَانَ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ يَأْتِي فِيهِ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ أَحَدَ طَرَفَىِ النَّهَارِ، فَلَمَّا أُذِنَ لَهُ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْمَدِينَةِ لَمْ يَرُعْنَا إِلاَّ وَقَدْ أَتَانَا ظُهْرًا، فَخُبِّرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا جَاءَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذِهِ السَّاعَةِ، إِلاَّ لأَمْرٍ حَدَثَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ ‏"‏ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَاىَ‏.‏ يَعْنِي عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ‏"‏‏.‏ قَالَ الصُّحْبَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الصُّحْبَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي نَاقَتَيْنِ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ، فَخُذْ إِحْدَاهُمَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ ‏"‏‏.‏
Narrated Aisha:Rarely did the Prophet (ﷺ) fail to visit Abu Bakr's house everyday, either in the morning or in the evening. When the permission for migration to Medina was granted, all of a sudden the Prophet (ﷺ) came to us at noon and Abu Bakr was informed, who said, "Certainly the Prophet (ﷺ) has come for some urgent matter." The Prophet (ﷺ) said to Abu Bakr, when the latter entered, "Let nobody stay in your home." Abu Bakr said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! There are only my two daughters (namely `Aisha and Asma') present." The Prophet (ﷺ) said, "I feel (am informed) that I have been granted the permission for migration." Abu Bakr said, "I will accompany you, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "You will accompany me." Abu Bakr then said "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have two she-camels I have prepared specially for migration, so I offer you one of them. The Prophet (ﷺ) said, "I have accepted it on the condition that I will pay its price
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے باپ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایسے دن ( مکی زندگی میں ) بہت ہی کم آئے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام میں کسی نہ کسی وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی گئی، تو ہماری گھبراہٹ کا سبب یہ ہوا کہ آپ ( معمول کے خلاف اچانک ) ظہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے یہاں کوئی نئی بات پیش آنے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت جو لوگ تمہارے پاس ہوں انہیں ہٹا دو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہاں تو صرف میری یہی دو بیٹیاں ہیں یعنی عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہما۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے مجھے تو یہاں سے نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے نکلنے ہی کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ آپ ان میں سے ایک لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، قیمت کے بدلے میں، میں نے ایک اونٹنی لے لی۔
Narrated by Hudhaifa
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَجِئْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ‏.‏
Narrated Hudhaifa:Once the Prophet (ﷺ) went to the dumps of some people and passed urine while standing. He then asked for water and so I brought it to him and he performed ablution
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے اعمش کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابووائل سے، وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑی پر تشریف لائے ( پس ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ پھر پانی منگایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لاَ، وَاللَّهِ مَا وَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ، فَلَقِيَهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ‏"‏
Narrated Al-Bara:that a man asked him. "O Abu '`Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain?" He replied, "No, by Allah, the Prophet (ﷺ) did not flee but the hasty people fled and the people of the Tribe of Hawazin attacked them with arrows, while the Prophet (ﷺ) was riding his white mule and Abu Sufyan bin Al-Harith was holding its reins, and the Prophet (ﷺ) was saying, 'I am the Prophet (ﷺ) in truth, I am the son of `Abdul Muttalib
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ ان سے ایک شخص نے پوچھا اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے ( مسلمانوں کے لشکر نے ) حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ جلد باز لوگ ( میدان سے ) بھاگ پڑے تھے ( اور وہ لوٹ میں لگ گئے تھے ) قبیلہ ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دئیے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب‏ ‏» میں نبی ہوں جس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔
Narrated by Safiya bint Huyay
حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ حُيَىٍّ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي‏.‏ وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ‏"‏‏.‏ فَقَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا سُوءًا ـ أَوْ قَالَ ـ شَيْئًا ‏"‏‏.‏
Narrated Safiya bint Huyay:While Allah's Messenger (ﷺ) was in I`tikaf, I called on him at night and having had a talk with him, I got up to depart. He got up also to accompany me to my dwelling place, which was then in the house of Usama bin Zaid. Two Ansari men passed by, and when they saw the Prophet (ﷺ) they hastened away. The Prophet said (to them). "Don't hurry! It is Safiya, the daughter of Huyay (i.e. my wife)." They said, "Glorified be Allah! O Allah's Messenger (ﷺ)! (How dare we suspect you?)" He said, "Satan circulates in the human mind as blood circulates in it, and I was afraid that Satan might throw an evil thought (or something) into your hearts
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے اور ان سے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لیے ( مسجد میں ) آئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتی رہی، پھر جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا مکان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان ہی میں تھا۔ اسی وقت دو انصاری صحابہ ( اسید بن حضیر، عبادہ بن بشیر ) گزرے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیز چلنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، ذرا ٹھہر جاؤ یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا، سبحان اللہ: یا رسول اللہ! ( کیا ہم بھی آپ کے بارے میں کوئی شبہ کر سکتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ نہ ڈال دے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لفظ «سوء» کی جگہ ) لفظ «شيئا» فرمایا، معنی ایک ہی ہیں۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَهُ وَأَبَا، سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَقُولُ وَاللَّهِ لأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ وَاللَّهِ لأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ ‏"‏ قُلْتُ قَدْ قُلْتُهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ، وَهْوَ عَدْلُ الصِّيَامِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Amr:Allah's Messenger (ﷺ) was informed that I have said: "By Allah, I will fast all the days and pray all the nights as long as I live." On that, Allah's Messenger (ﷺ) asked me, "Are you the one who says: 'I will fast all the days and pray all the nights as long as I live?' " I said, "Yes, I have said it." He said, "You cannot do that. So fast (sometimes) and do not fast (sometimes). Pray and sleep. Fast for three days a month, for the reward of a good deed is multiplied by ten times, and so the fasting of three days a month equals the fasting of a year." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I can do (fast) more than this." He said, "Fast on every third day. I said: I can do (fast) more than that, He said: "Fast on alternate days and this was the fasting of David which is the most moderate sort of fasting." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I can do (fast) more than that." He said, "There is nothing better than that
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہیں سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں نے کہا ہے کہ اللہ کی قسم ‘ جب تک میں زندہ رہوں گا ‘ دن میں روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کیا کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں نے یہ کہا ہے کہ اللہ کی قسم جب تک زندہ رہوں گا دن بھر روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کروں گا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں میں نے یہ جملہ کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے نبھا نہیں سکو گے ‘ اس لیے روزہ بھی رکھا کرو اور بغیر روزے کے بھی رہا کرو اور رات میں عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو۔ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو ‘ کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اس طرح روزہ کا یہ طریقہ بھی ( ثواب کے اعتبار سے ) زندگی بھر کے روزے جیسا ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں اس سے افضل طریقہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور دو دن بغیر روزے کے رہا کرو۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا کرو۔ داؤد علیہ السلام کے روزے کا طریقہ بھی یہی تھا اور یہی سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل اور کوئی طریقہ نہیں۔
Narrated by `Abdur-Rahman bin Abi Bakr
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ أَصْحَابَ، الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَرَّةً ‏ "‏ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ ‏"‏‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلاَثَةٍ وَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَشَرَةٍ، وَأَبُو بَكْرٍ وَثَلاَثَةً، قَالَ فَهْوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي ـ وَلاَ أَدْرِي هَلْ قَالَ امْرَأَتِي وَخَادِمِي ـ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ ضَيْفِكَ‏.‏ قَالَ أَوَ عَشَّيْتِهِمْ قَالَتْ أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ، قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ، فَذَهَبْتُ فَاخْتَبَأْتُ، فَقَالَ يَا غُنْثَرُ‏.‏ فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ كُلُوا وَقَالَ لاَ أَطْعَمُهُ أَبَدًا‏.‏ قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنَ اللُّقْمَةِ إِلاَّ رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا، وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلُ، فَنَظَرَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا شَىْءٌ أَوْ أَكْثَرُ قَالَ لاِمْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ‏.‏ قَالَتْ لاَ وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهْىَ الآنَ أَكْثَرُ مِمَّا قَبْلُ بِثَلاَثِ مَرَّاتٍ‏.‏ فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ إِنَّمَا كَانَ الشَّيْطَانُ ـ يَعْنِي يَمِينَهُ ـ ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ‏.‏ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَمَضَى الأَجَلُ، فَتَفَرَّقْنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ‏.‏ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ، غَيْرَ أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ، قَالَ أَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ‏.‏ وَغَيْرُهُ يَقُولُ فَعَرَفْنَا مِنْ الْعِرَافَةِ
Narrated `Abdur-Rahman bin Abi Bakr:The companions of Suffa were poor people. The Prophet (ﷺ) once said, "Whoever has food enough for two persons, should take a third one (from among them), and whoever has food enough for four persons, should take a fifth or a sixth (or said something similar)." Abu Bakr brought three persons while the Prophet (ﷺ) took ten. And Abu Bakr with his three family members (who were I, my father and my mother) (the sub-narrator is in doubt whether `Abdur-Rahman said, "My wife and my servant who was common for both my house and Abu Bakr's house.") Abu Bakr took his supper with the Prophet (ﷺ) and stayed there till he offered the `Isha' prayers. He returned and stayed till Allah's Messenger (ﷺ) took his supper. After a part of the night had passed, he returned to his house. His wife said to him, "What has detained you from your guests?" He said, "Have you served supper to them?" She said, "They refused to take supper until you come. They (i.e. some members of the household) presented the meal to them but they refused (to eat)" I went to hide myself and he said, "O Ghunthar!" He invoked Allah to cause my ears to be cut and he rebuked me. He then said (to them): Please eat!" and added, I will never eat the meal." By Allah, whenever we took a handful of the meal, the meal grew from underneath more than that handful till everybody ate to his satisfaction; yet the remaining food was more than the original meal. Abu Bakr saw that the food was as much or more than the original amount. He called his wife, "O sister of Bani Firas!" She said, "O pleasure of my eyes. The food has been tripled in quantity." Abu Bakr then started eating thereof and said, "It (i.e. my oath not to eat) was because of Satan." He took a handful from it, and carried the rest to the Prophet. So that food was with the Prophet (ﷺ). There was a treaty between us and some people, and when the period of that treaty had elapsed, he divided us into twelve groups, each being headed by a man. Allah knows how many men were under the command of each leader. Anyhow, the Prophet (ﷺ) surely sent a leader with each group. Then all of them ate of that meal
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صفہ والے محتاج اور غریب لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ ایک تیسرے کو بھی اپنے ساتھ لیتا جائے اور جس کے گھر چار آدمیوں کا کھانا ہو وہ پانچواں آدمی اپنے ساتھ لیتا جائے یا چھٹے کو بھی یا آپ نے اسی طرح کچھ فرمایا ( راوی کو پانچ اور چھ میں شک ہے ) خیر تو ابوبکر رضی اللہ عنہ تین اصحاب صفہ کو اپنے ساتھ لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دس اصحاب کو لے گئے اور گھر میں، میں تھا اور میرے ماں باپ تھے۔ ابوعثمان نے کہا مجھ کو یاد نہیں عبدالرحمٰن نے یہ بھی کہا، اور میری عورت اور خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھروں میں کام کرتا تھا۔ لیکن خود ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا اور عشاء کی نماز تک وہاں ٹھہرے رہے ( مہمانوں کو پہلے ہی بھیج چکے تھے ) اس لیے انہیں اتنا ٹھہرنا پڑا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھا لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کو جتنا منظور تھا اتنا حصہ رات کا جب گزر گیا تو آپ گھر واپس آئے۔ ان کی بیوی نے ان سے کہا، کیا بات ہوئی۔ آپ کو اپنے مہمان یاد نہیں رہے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مہمانوں کو اب تک کھانا نہیں کھلایا؟ بیوی نے کہا کہ مہمانوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکار کیا۔ ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تھا لیکن وہ نہیں مانے۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں تو جلدی سے چھپ گیا ( کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے تھے ) ۔ آپ نے ڈانٹا، اے پاجی! اور بہت برا بھلا کہا، پھر ( مہمانوں سے ) کہا چلو اب کھاؤ اور خود قسم کھا لی کہ میں تو کبھی نہ کھاؤں گا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم، پھر ہم جو لقمہ بھی ( اس کھانے میں سے ) اٹھاتے تو جیسے نیچے سے کھانا اور زیادہ ہو جاتا تھا ( اتنی اس میں برکت ہوئی ) سب لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھایا اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ رہا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو کھانا جوں کا توں تھا یا پہلے سے بھی زیادہ۔ اس پر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، اے بنی فراس کی بہن ( دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہوا ) انہوں نے کہا، کچھ بھی نہیں، میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم، کھانا تو پہلے سے تین گنا زیادہ معلوم ہوتا ہے، پھر وہ کھانا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کھایا اور فرمایا کہ یہ میرا قسم کھانا تو شیطان کا اغوا تھا۔ ایک لقمہ کھا کر اسے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے وہاں وہ صبح تک رکھا رہا۔ اتفاق سے ایک کافر قوم جس کا ہم مسلمانوں سے معاہدہ تھا اور معاہدہ کی مدت ختم ہو چکی تھی۔ ان سے لڑنے کے لیے فوج جمع کی گئی۔ پھر ہم بارہ ٹکڑیاں ہو گئے اور ہر آدمی کے ساتھ کتنے آدمی تھے یہ اللہ ہی جانتا ہے مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ آپ نے ان نقیبوں کو لشکر والوں کے ساتھ بھیجا۔ حاصل یہ کہ فوج والوں نے اس میں سے کھایا۔ یا عبدالرحمٰن نے کچھ ایسا ہی کہا۔
Narrated by Hudhaifa
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ نَجْرَانَ ‏ "‏ لأَبْعَثَنَّ ـ يَعْنِي عَلَيْكُمْ ـ يَعْنِي أَمِينًا ـ حَقَّ أَمِينٍ ‏"‏‏.‏ فَأَشْرَفَ أَصْحَابُهُ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ رضى الله عنه‏.‏
Narrated Hudhaifa:The Prophet (ﷺ) said to the people of Najran, "I will send you the most trustworthy man." (Every one of) the companions of the Prophet (ﷺ) was looking forward (to be that person). He then sent Abu 'Ubaida
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے صلہ نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے یہاں ایک امین کو بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہو گا۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شوق ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عِنْدَ دَارِهِ وَقَالُوا صَبَا عُمَرُ‏.‏ وَأَنَا غُلاَمٌ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِي، فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ فَقَالَ قَدْ صَبَا عُمَرُ‏.‏ فَمَا ذَاكَ فَأَنَا لَهُ جَارٌ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّاسَ تَصَدَّعُوا عَنْهُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:When `Umar embraced Islam, all The (disbelieving) people gathered around his home and said, "`Umar has embraced Islam." At that time I was still a boy and was on the roof of my house. There came a man wearing a cloak of Dibaj (i.e. a kind of silk), and said, "`Umar has embraced Islam. Nobody can harm him for I am his protector." I then saw the people going away from `Umar and asked who the man was, and they said, "Al-`As bin Wail
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے۔ میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہو گیا لیکن یہ مجمع کیسا ہے؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہو گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَقِينَا الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ، وَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا مِنَ الرُّمَاةِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ وَقَالَ ‏"‏ لاَ تَبْرَحُوا، إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ فَلاَ تَبْرَحُوا وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا فَلاَ تُعِينُونَا ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا لَقِينَا هَرَبُوا حَتَّى رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ، رَفَعْنَ عَنْ سُوقِهِنَّ قَدْ بَدَتْ خَلاَخِلُهُنَّ، فَأَخَذُوا يَقُولُونَ الْغَنِيمَةَ الْغَنِيمَةَ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ تَبْرَحُوا‏.‏ فَأَبَوْا، فَلَمَّا أَبَوْا صُرِفَ وُجُوهُهُمْ، فَأُصِيبَ سَبْعُونَ قَتِيلاً، وَأَشْرَفَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تُجِيبُوهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ قَالَ ‏"‏ لاَ تُجِيبُوهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلاَءِ قُتِلُوا، فَلَوْ كَانُوا أَحْيَاءً لأَجَابُوا، فَلَمْ يَمْلِكْ عُمَرُ نَفْسَهُ فَقَالَ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، أَبْقَى اللَّهُ عَلَيْكَ مَا يُخْزِيكَ‏.‏ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ أُعْلُ هُبَلْ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَجِيبُوهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا مَا نَقُولُ قَالَ ‏"‏ قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ لَنَا الْعُزَّى وَلاَ عُزَّى لَكُمْ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَجِيبُوهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا مَا نَقُولُ قَالَ ‏"‏ قُولُوا اللَّهُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلَى لَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ، وَتَجِدُونَ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي‏.‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اصْطَبَحَ الْخَمْرَ يَوْمَ أُحُدٍ نَاسٌ ثُمَّ قُتِلُوا شُهَدَاءَ‏.‏
Narrated Al-Bara:We faced the pagans on that day (of the battle of Uhud) and the Prophet (ﷺ) placed a batch of archers (at a special place) and appointed `Abdullah (bin Jubair) as their commander and said, "Do not leave this place; if you should see us conquering the enemy, do not leave this place, and if you should see them conquering us, do not (come to) help us," So, when we faced the enemy, they took to their heels till I saw their women running towards the mountain, lifting up their clothes from their legs, revealing their leg-bangles. The Muslims started saying, "The booty, the booty!" `Abdullah bin Jubair said, "The Prophet (ﷺ) had taken a firm promise from me not to leave this place." But his companions refused (to stay). So when they refused (to stay there), (Allah) confused them so that they could not know where to go, and they suffered seventy casualties. Abu Sufyan ascended a high place and said, "Is Muhammad present amongst the people?" The Prophet (ﷺ) said, "Do not answer him." Abu Sufyan said, "Is the son of Abu Quhafa present among the people?" The Prophet (ﷺ) said, "Do not answer him." `Abu Sufyan said, "Is the son of Al-Khattab amongst the people?" He then added, "All these people have been killed, for, were they alive, they would have replied." On that, `Umar could not help saying, "You are a liar, O enemy of Allah! Allah has kept what will make you unhappy." Abu Sufyan said, "Superior may be Hubal!" On that the Prophet said (to his companions), "Reply to him." They asked, "What may we say?" He said, "Say: Allah is More Elevated and More Majestic!" Abu Sufyan said, "We have (the idol) Al-`Uzza, whereas you have no `Uzza!" The Prophet (ﷺ) said (to his companions), "Reply to him." They said, "What may we say?" The Prophet (ﷺ) said, "Say: Allah is our Helper and you have no helper." Abu Sufyan said, "(This) day compensates for our loss at Badr and (in) the battle (the victory) is always undecided and shared in turns by the belligerents. You will see some of your dead men mutilated, but neither did I urge this action, nor am I sorry for it." Narrated Jabir: Some people took wine in the morning of the day of Uhud and were then killed as martyrs
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابن اسحاق (عمرو بن عبیداللہ سبیعی) نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کے موقع پر جب مشرکین سے مقابلہ کے لیے ہم پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کا ایک دستہ عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہما کی ماتحتی میں ( پہاڑی پر ) مقرر فرمایا تھا اور انہیں یہ حکم دیا تھا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، اس وقت بھی جب تم لوگ دیکھ لو کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں پھر بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور اس وقت بھی جب دیکھ لو کہ وہ ہم پر غالب آ گئے، تم لوگ ہماری مدد کے لیے نہ آنا۔ پھر جب ہماری مڈبھیڑ کفار سے ہوئی تو ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ میں نے دیکھا کہ ان کی عورتیں پہاڑیوں پر بڑی تیزی کے ساتھ بھاگی جا رہی تھیں، پنڈلیوں سے اوپر کپڑے اٹھائے ہوئے، جس سے ان کے پازیب دکھائی دے رہے تھے۔ عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہما کے ( تیرانداز ) ساتھی کہنے لگے کہ غنیمت غنیمت۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کی تھی کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا ( اس لیے تم لوگ مال غنیمت لوٹنے نہ جاؤ ) لیکن ان کے ساتھیوں نے ان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کی اس حکم عدولی کے نتیجے میں مسلمانوں کو ہار ہوئی اور ستر مسلمان شہید ہو گئے۔ اس کے بعد ابوسفیان نے پہاڑی پر سے آواز دی، کیا تمہارے ساتھ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی جواب نہ دے، پھر انہوں نے پوچھا، کیا تمہارے ساتھ ابن ابی قحافہ موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب کی بھی ممانعت فرما دی۔ انہوں نے پوچھا، کیا تمہارے ساتھ ابن خطاب موجود ہیں؟ اس کے بعد وہ کہنے لگے کہ یہ سب قتل کر دیئے گئے۔ اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ بے قابو ہو گئے اور فرمایا: اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ اللہ نے ابھی انہیں تمہیں ذلیل کرنے لیے باقی رکھا ہے۔ ابوسفیان نے کہا، ہبل ( ایک بت ) بلند رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا جواب دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، اللہ سب سے بلند اور بزرگ و برتر ہے۔ ابوسفیان نے کہا، ہمارے پاس عزیٰ ( بت ) ہے اور تمہارے پاس کوئی عزیٰ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا جواب دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، کیا جواب دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، اللہ ہمارا حامی اور مددگار ہے اور تمہارا کوئی حامی نہیں۔ ابوسفیان نے کہا، آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی کی مثال ڈول کی ہوتی ہے۔ ( کبھی ہمارے ہاتھ میں اور کبھی تمہارے ہاتھ میں ) تم اپنے مقتولین میں کچھ لاشوں کا مثلہ کیا ہوا پاؤ گے، میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن مجھے برا نہیں معلوم ہوا۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَىْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِنْسَانٍ ‏"‏ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ ‏"‏‏.‏ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، وَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ ‏"‏ قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:Allah's Messenger (ﷺ) went to Fatima's house but did not find `Ali there. So he asked, "Where is your cousin?" She replied, "There was something between us and he got angry with me and went out. He did not sleep (midday nap) in the house." Allah's Messenger (ﷺ) asked a person to look for him. That person came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! He (Ali) is sleeping in the mosque." Allah's Messenger (ﷺ) went there and `Ali was lying. His upper body cover had fallen down to one side of his body and he was covered with dust. Allah's Messenger (ﷺ) started cleaning the dust from him saying: "Get up! O Aba Turab. Get up! O Aba Turab (literally means: O father of dust)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ ابوحازم سہل بن دینار سے، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آ گئی اور وہ مجھ پر خفا ہو کر کہیں باہر چلے گئے ہیں اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کرو کہ کہاں ہیں؟ وہ آئے اور بتایا کہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے، چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جسم سے دھول جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے اٹھو ابوتراب اٹھو۔
Narrated by Alqama bin Waqqas
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ لِبَوَّابِهِ اذْهَبْ يَا رَافِعُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، مُعَذَّبًا، لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ إِنَّمَا دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَهُودَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ شَىْءٍ، فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ، وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ، فَأَرَوْهُ أَنْ قَدِ اسْتَحْمَدُوا إِلَيْهِ بِمَا أَخْبَرُوهُ عَنْهُ فِيمَا سَأَلَهُمْ، وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ‏}‏ كَذَلِكَ حَتَّى قَوْلِهِ ‏{‏يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا‏}‏‏.‏ تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ‏.‏ حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بِهَذَا‏.‏
Narrated Alqama bin Waqqas:Marwan said to his gatekeeper, "Go to Ibn `Abbas, O Rafi`, and say, 'If everybody who rejoices in what he has done, and likes to be praised for what he has not done, will be punished, then all of us will be punished." Ibn `Abbas said, "What connection have you with this case? It was only that the Prophet (ﷺ) called the Jews and asked them about something, and they hid the truth and told him something else, and showed him that they deserved praise for the favor of telling him the answer to his question, and they became happy with what they had concealed. Then Ibn `Abbas recited:-- "(And remember) when Allah took a Covenant from those who were given the Scripture..and those who rejoice in what they have done and love to be praised for what they have not done.' " (3.187-188) Humaid bin `Abdur-Rahman bin `Auf narrated that Marwan had told him (the above narration)
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے اور انہیں علقمہ بن وقاص نے خبر دی کہ مروان بن حکم نے ( جب وہ مدینہ کے امیر تھے ) اپنے دربان سے کہا کہ رافع! ابن عباس رضی اللہ عنہما کے یہاں جاؤ اور ان سے پوچھو کہ آیت «لا يحسبن الذين يفرحون‏» کی رو سے تو ہم سب کو عذاب ہونا چاہیئے کیونکہ ہر ایک آدمی ان نعمتوں پر جو اس کو ملی ہیں، خوش ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا نہیں اس پر بھی اس کی تعریف ہو۔ ابورافع نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر پوچھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، تم مسلمانوں سے اس آیت کا کیا تعلق! یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بلایا تھا اور ان سے ایک دین کی بات پوچھی تھی۔ ( جو ان کی آسمانی کتاب میں موجود تھی ) انہوں نے اصل بات کو تو چھپایا اور دوسری غلط بات بیان کر دی، پھر بھی اس بات کے خواہشمند رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کے جواب میں جو کچھ انہوں نے بتایا ہے اس پر ان کی تعریف کی جائے اور ادھر اصل حقیقت کو چھپا کر بھی بڑے خوش تھے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت «وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب‏» کی ”اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ کتاب کو پوری ظاہر کر دینا لوگوں پر، آیت «يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا‏» ”جو لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام نہیں کئے ہیں، ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے۔“ تک۔ ہشام بن یوسف کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی ابن جریج سے روایت کیا۔ ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو حجاج بن محمد نے خبر دی، انہوں نے ابن جریج سے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی، ان کو حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا، پھر یہی حدیث بیان کی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ قَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) saw the traces of Sufra (yellow perfume) on `Abdur-Rahman bin `Auf and said, "What is this?" `Abdur-Rahman, said, "I have married a woman and have paid gold equal to the weight of a datestone (as her Mahr). The Prophet (ﷺ) said to him, "May Allah bless you: Offer a wedding banquet even with one sheep
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔
Narrated by Zainab bint Um Salama
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ، لَمَّا جَاءَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ‏.‏ لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏‏.‏
Narrated Zainab bint Um Salama:When Um Habiba bint Abi Sufyan was informed of her father's death, she asked for perfume and rubbed it over her arms and said, "I am not in need of perfume, but I have heard the Prophet (ﷺ) saying, "It is not lawful for a lady who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days except for her husband for whom the (mourning) period is four months and ten days
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، ان سے حمید بن نافع نے بیان، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔
Narrated by Abu Mas`ud Al-Ansari
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ، فَعَرَفَ الْجُوعَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَ إِلَى غُلاَمِهِ اللَّحَّامِ فَقَالَ اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً، لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ‏.‏ فَصَنَعَ لَهُ طُعَيِّمًا، ثُمَّ أَتَاهُ فَدَعَاهُ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أَبَا شُعَيْبٍ إِنَّ رَجُلاً تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ بَلْ أَذِنْتُ لَهُ‏.‏
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari:There was an Ansari man nicknamed, Abu Shu'aib, who had a slave who was a butcher. He came to the Prophet (ﷺ) while he was sitting with his companions and noticed the signs of hunger on the face of the Prophet (ﷺ) . So he went to his butcher slave and said, "Prepare for me a meal sufficient for five persons so that I may invite the Prophet (ﷺ) along with four other men." He had the meal prepared for him and invited him. A (sixth) man followed them. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Shu'aib! Another man has followed us. If you wish, you may invite him; and if you wish, you may refuse him." Abu Shu'aib said, "No, I will admit him
ہم سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے، اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ جماعت انصار کے ایک صحابی ابوشعیب رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے فاقہ کا اندازہ لگا لیا۔ چنانچہ وہ اپنے گوشت فروش غلام کے پاس گئے اور کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ دعوت دوں گا۔ غلام نے کھانا تیار کر دیا۔ اس کے بعد ابوشعیب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ کو کھانے کی دعوت دی۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوشعیب! یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر تم چاہو تو انہیں بھی اجازت دے دو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهْوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، يَتَرَدَّى فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سَمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَسَمُّهُ فِي يَدِهِ، يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ، يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever purposely throws himself from a mountain and kills himself, will be in the (Hell) Fire falling down into it and abiding therein perpetually forever; and whoever drinks poison and kills himself with it, he will be carrying his poison in his hand and drinking it in the (Hell) Fire wherein he will abide eternally forever; and whoever kills himself with an iron weapon, will be carrying that weapon in his hand and stabbing his `Abdomen with it in the (Hell) Fire wherein he will abide eternally forever
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ذکوان سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خودکشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اور اس میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور جس نے زہر پی کر خودکشی کر لی وہ زہر اس کے ساتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اسی طرح ہمیشہ پیتا رہے گا اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خودکشی کر لی تو اس کا ہتھیار اس کے ساتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے وہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ عُثْمَانَ، حَتَّى وَقَعَ بَعْدُ فِي بِئْرِ أَرِيسَ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) had a silver ring made for himself and it was worn by him on his hand. Afterwards it was worn by Abu Bakr, and then by `Umar, and then by `Uthman till it fell in the Aris well. (On that ring) was engraved: 'Muhammad, the Messenger of Allah
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی، انہیں عبیداللہ عمری نے، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ وہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گر گئی اس کا نقش «محمد رسول الله» تھا۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ فَقَالَ ‏ "‏ أَهْلَكْتُمْ ـ أَوْ قَطَعْتُمْ ـ ظَهْرَ الرَّجُلِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) heard a man praising another man and he was exaggerating in his praise. The Prophet (ﷺ) said (to him). "You have destroyed (or cut) the back of the man
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور تعریف میں بہت مبالغہ سے کام لے رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ہلاک کر دیا یا ( یہ فرمایا کہ ) تم نے اس شخص کی کمر کو توڑ دیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُونَ السَّامُ عَلَيْكَ‏.‏ فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ فَقَالَتْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ قَالَ ‏"‏ أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:The Jews used to greet the Prophet (ﷺ) by saying, "As-Samu 'Alaika (i.e., death be upon you), so I understood what they said, and I said to them, "As-Samu 'alaikum wal-la'na (i.e. Death and Allah's Curse be upon you)." The Prophet (ﷺ) said, "Be gentle and calm, O `Aisha, as Allah likes gentleness in all affairs." I said, "O Allah's Prophet! Didn't you hear what they said?" He said, "Didn't you hear me answering them back by saying, 'Alaikum (i.e., the same be upon you)?
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے «السام عليك‏.‏» آپ کو موت آئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ «عليكم السام واللعنة‏.‏» تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو عائشہ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں «وعليكم» ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةٌ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ نَاقَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، وَكَانَتْ لاَ تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَبَقَهَا، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَقَالُوا سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) had a she-camel called Al-`Adba' and it was too fast to surpass in speed. There came a bedouin riding a camel of his, and that camel outstripped it (i.e. Al-Aqba'). That result was hard on the Muslims who said sorrowfully, "Al- Adba has been outstripped." Allah's Messenger (ﷺ) said, "It is due from Allah that nothing would be raised high in this world except that He lowers or puts it down
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زبیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو فزاری نے اور ابوخالد احمر نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا ( کوئی جانور دوڑ میں ) اس سے آگے نہیں بڑھ پاتا تھا۔ پھر ایک اعرابی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے آگے بڑھ گیا۔ مسلمانوں پر یہ معاملہ بڑا شاق گزرا اور کہنے لگے کہ افسوس عضباء پیچھے رہ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا ہے کہ جب دنیا میں وہ کسی چیز کو بڑھاتا ہے تو اسے وہ گھٹاتا بھی ہے۔
Narrated by Ubaid-Ullah bin Adi bin Khiyar
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ـ رضى الله عنه ـ وَهْوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا تَرَى وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ‏.‏ فَقَالَ الصَّلاَةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ‏.‏ وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ لاَ نَرَى أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُخَنَّثِ إِلاَّ مِنْ ضَرُورَةٍ لاَ بُدَّ مِنْهَا‏.‏
Narrated 'Ubaid-Ullah bin Adi bin Khiyar:I went to 'Uthman bin Affan while he was besieged, and said to him, "You are the chief of all Muslims in general and you see what has befallen you. We are led in the Salat (prayer) by a leader of Al-Fitan (trials and afflictions etc.) and we are afraid of being sinful in following him." 'Uthman said. "As-Salat (the prayers) is the best of all deeds so when the people do good deeds do the same with them and when they do bad deeds, avoid those bad deeds." Az-Zuhri said, "In our opinion one should not offer Salat behind an effeminate person unless there is no alternative
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے نقل کیا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہ وہ خود عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب کہ باغیوں نے ان کو گھیر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہی عام مسلمانوں کے امام ہیں مگر آپ پر جو مصیبت ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ ان حالات میں باغیوں کا مقررہ امام نماز پڑھا رہا ہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھ کر گنہگار نہ ہو جائیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نماز تو جو لوگ کام کرتے ہیں ان کاموں میں سب سے بہترین کام ہے۔ تو وہ جب اچھا کام کریں تم بھی اس کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو اور محمد بن یزید زبیدی نے کہا کہ امام زہری نے فرمایا کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ مگر ایسی ہی لاچاری ہو تو اور بات ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔
Narrated by Ubaidullah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَىْءٍ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْدَثُ، تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ وَقَدْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَغَيَّرُوهُ وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ وَقَالُوا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ‏.‏ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلاً، أَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ، لاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلاً يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ‏.‏
Narrated Ubaidullah:Ibn `Abbas said, "Why do you ask the people of the scripture about anything while your Book (Qur'an) which has been revealed to Allah's Messenger (ﷺ) is newer and the latest? You read it pure, undistorted and unchanged, and Allah has told you that the people of the scripture (Jews and Christians) changed their scripture and distorted it, and wrote the scripture with their own hands and said, 'It is from Allah,' to sell it for a little gain. Does not the knowledge which has come to you prevent you from asking them about anything? No, by Allah, we have never seen any man from them asking you regarding what has been revealed to you
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ تمہارے پاس ( قرآن و حدیث کا ) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے۔ واللہ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ فَاعْزِمُوا فِي الدُّعَاءِ، وَلاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ مُسْتَكْرِهَ لَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whenever anyone of you invoke Allah for something, he should be firm in his asking, and he should not say: 'If You wish, give me...' for none can compel Allah to do something against His Will
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم دعا کرو تو عزم کے ساتھ کرو اور کوئی دعا میں یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو فلاں چیز مجھے عطا کر، کیونکہ اللہ سے کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔“