بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
3
41 hadith
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَلَوْلاَ آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا، ثُمَّ يَتْلُو ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏الرَّحِيمُ‏}‏ إِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وِإِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الْعَمَلُ فِي أَمْوَالِهِمْ، وَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشِبَعِ بَطْنِهِ وَيَحْضُرُ مَا لاَ يَحْضُرُونَ، وَيَحْفَظُ مَا لاَ يَحْفَظُونَ‏.‏
Narrated Abu Huraira:People say that I have narrated many Hadiths (The Prophet's narration). Had it not been for two verses in the Qur'an, I would not have narrated a single Hadith, and the verses are: "Verily those who conceal the clear sign and the guidance which We have sent down . . . (up to) Most Merciful." (2:159-160). And no doubt our Muhajir (emigrant) brothers used to be busy in the market with their business (bargains) and our Ansari brothers used to be busy with their property (agriculture). But I (Abu Huraira) used to stick to Allah's Messenger (ﷺ) contented with what will fill my stomach and I used to attend that which they used not to attend and I used to memorize that which they used not to memorize
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، ان سے مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے نقل کیا، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں اور ( میں کہتا ہوں ) کہ قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر یہ آیت پڑھی، ( جس کا ترجمہ یہ ہے ) کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی دلیلوں اور آیتوں کو چھپاتے ہیں ( آخر آیت ) «رحيم‏» تک۔ ( واقعہ یہ ہے کہ ) ہمارے مہاجرین بھائی تو بازار کی خرید و فروخت میں لگے رہتے تھے اور انصار بھائی اپنی جائیدادوں میں مشغول رہتے اور ابوہریرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جی بھر کر رہتا ( تاکہ آپ کی رفاقت میں شکم پری سے بھی بےفکری رہے ) اور ( ان مجلسوں میں ) حاضر رہتا جن ( مجلسوں ) میں دوسرے حاضر نہ ہوتے اور وہ ( باتیں ) محفوظ رکھتا جو دوسرے محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔
Narrated by `Abdullah Al-Muzani
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلُّوا قَبْلَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ ‏"‏‏.‏ ـ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ ـ لِمَنْ شَاءَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً‏.‏
Narrated `Abdullah Al-Muzani:The Prophet (ﷺ) said, "Pray before the Maghrib (compulsory) prayer." He (said it thrice) and in the third time, he said, "Whoever wants to offer it can do so." He said so because he did not like the people to take it as a tradition
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین معلم نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کے فرض سے پہلے ( سنت کی دو رکعتیں ) پڑھا کرو۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ لوگ اسے لازمی سمجھ بیٹھیں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "The real patience is at the first stroke of a calamity
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ان سے ثابت نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا ـ رضى الله عنه ـ عَلَى الْيَمَنِ قَالَ ‏ "‏ إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهُمْ زَكَاةً ‏{‏تُؤْخَذُ‏}‏ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:When Allah's Messenger (ﷺ) sent Mu`adh to Yemen, he said (to him), "YOU are going to people of a (Divine) Book. First of all invite them to worship Allah (alone) and when they come to know Allah, inform them that Allah has enjoined on them, five prayers in every day and night; and if they start offering these prayers, inform them that Allah has enjoined on them, the Zakat. And it is to be taken from the rich amongst them and given to the poor amongst them; and if they obey you in that, take Zakat from them and avoid (don't take) the best property of the people as Zakat
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے زید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے روح بن قاسم نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن امیہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ دیکھو! تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ( عیسائی یہودی ) ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اللہ کی عبادت کی دعوت دینا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں ( یعنی اسلام قبول کر لیں ) تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اسے بھی ادا کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض قرار دی ہے جو ان کے سرمایہ داروں سے لی جائے گی ( جو صاحب نصاب ہوں گے ) اور انہیں کے فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ جب وہ اسے بھی مان لیں تو ان سے زکوٰۃ وصول کر۔ البتہ ان کی عمدہ چیزیں ( زکوٰۃ کے طور پر لینے سے ) پرہیز کرنا۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَاتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ‏.‏ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَفْعَلُهُ‏.‏
Narrated Nafi`:' Ibn `Umar said, "The Prophet (ﷺ) passed the night at Dhi-Tuwa till it was dawn and then he entered Mecca." Ibn `Umar used to do the same
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ میں رات گزاری۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي، وَأَنَا مَرِيضٌ لاَ أَعْقِلُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ، فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنِ الْمِيرَاثُ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلاَلَةٌ‏.‏ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ‏.‏
Narrated Jabir:Allah's Messenger (ﷺ) came to visit me while I was sick and unconscious. He performed ablution and sprinkled the remaining water on me and I became conscious and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! To whom will my inheritance go as I have neither ascendants nor descendants?" Then the Divine verses regarding Fara'id (inheritance) were revealed
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے محمد بن المنکدر کے واسطے سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں بیمار تھا ایسا کہ مجھے ہوش تک نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا وارث کون ہو گا؟ میرا تو صرف ایک کلالہ وارث ہے۔ اس پر آیت میراث نازل ہوئی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ـ قَالَ ـ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى ‏"‏‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ، وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ ـ قَالاَ ـ سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ‏.‏ وَقَالَ يَحْيَى وَأَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ‏.‏ وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My mother died and she ought to have fasted one month (for her missed Ramadan). Shall I fast on her behalf?" The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative and said, "Allah's debts have more right to be paid." In another narration a woman is reported to have said, "My sister died..." Narrated Ibn `Abbas: A woman said to the Prophet (ﷺ) "My mother died and she had vowed to fast but she didn't fast." In another narration Ibn `Abbas is reported to have said, "A woman said to the Prophet, "My mother died while she ought to have fasted for fifteen days
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم بطین نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے باقی رہ گئے ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے قضاء رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ضرور، اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے ادا کر دیا جائے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ حکم اور سلمہ نے کہا جب مسلم بطین نے یہ حدیث بیان کیا تو ہم سب وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے مجاہد سے بھی سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے۔ ابوخالد سے روایت ہے کہ اعمش نے بیان کیا ان سے حکم، مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل نے، ان سے سعید بن جبیر، عطاء اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ”بہن“ کا انتقال ہو گیا ہے پھر یہی قصہ بیان کیا، یحییٰ اور سعید اور ابومعاویہ نے کہا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم نے، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے زید ابن ابی انیسہ نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر نذر کا ایک روزہ واجب تھا اور ابوحریز عبداللہ بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر پندرہ دن کے روزے واجب تھے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ الْبَيْعُ خِيَارًا ‏"‏‏.‏ قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The buyer and the seller have the option to cancel or confirm the bargain before they separate from each other or if the sale is optional." Nafi` said, "Ibn `Umar used to separate quickly from the seller if he had bought a thing which he liked
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خرید و فروخت کرنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں اختیار ہوتا ہے، یا خود بیع میں اختیار کی شرط ہو۔ ( تو شرط کے مطابق اختیار ہوتا ہے ) نافع نے کہا کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کوئی ایسی چیز خریدتے جو انہیں پسند ہوتی تو ( خریدنے کے بعد ) اپنے معاملہ دار سے جدا ہو جاتے۔
Narrated by Aiman
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَعَلَيْهَا دِرْعُ قِطْرٍ ثَمَنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، فَقَالَتِ ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى جَارِيَتِي، انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا تُزْهَى أَنْ تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ، وَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُنَّ دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ إِلاَّ أَرْسَلَتْ إِلَىَّ تَسْتَعِيرُهُ‏.‏
Narrated Aiman:I went to `Aisha and she was wearing a coarse dress costing five Dirhams. `Aisha said, "Look up and see my slave-girl who refuses to wear it in the house though during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) I had a similar dress which no woman desiring to appear elegant (before her husband) failed to borrow from me
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ قطر ( یمن کا ایک دبیز کھردرا کپڑا ) کی قمیص قیمتی پانچ درہم کی پہنے ہوئے تھیں۔ آپ نے ( مجھ سے ) فرمایا۔ ذرا نظر اٹھا کر میری اس لونڈی کو تو دیکھ۔ اسے گھر میں بھی یہ کپڑے پہننے سے انکار ہے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میرے پاس اسی کی ایک قمیص تھی۔ جب کوئی لڑکی دلہن بنائی جاتی تو میرے یہاں آدمی بھیج کر وہ قمیص عاریتاً منگا لیتی تھی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ بَيْتًا بِالْمَدِينَةِ غَيْرَ بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ، إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِ فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي أَرْحَمُهَا، قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) used not to enter any house in Medina except the house of Um Sulaim besides those of his wives when he was asked why, he said, "I take pity on her as her brother was killed in my company
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں اپنی بیویوں کے سوا اور کسی کے گھر نہیں جایا کرتے تھے مگر ام سلیم کے پاس جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس پر رحم آتا ہے، اس کا بھائی ( حرام بن ملحان ) میرے کام میں شہید کر دیا گیا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا، وَكَانَتِ الأَرْضُ لَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلْيَهُودِ وَلِلرَّسُولِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ، وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نُقِرُّكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ‏"‏‏.‏ فَأُقِرُّوا حَتَّى أَجْلاَهُمْ عُمَرُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَا‏.‏
Narrated Ibn `Umar:`Umar bin Al-Khattab expelled all the Jews and Christians from the land of Hijaz. Allah's Messenger (ﷺ) after conquering Khaibar, thought of expelling the Jews from the land which, after he conquered it belonged to Allah, Allah's Messenger (ﷺ) and the Muslims. But the Jews requested Allah's Messenger (ﷺ) to leave them there on the condition that they would do the labor and get half of the fruits (the land would yield). Allah's Messenger (ﷺ) said, "We shall keep you on these terms as long as we wish." Thus they stayed till the time of `Umar's Caliphate when he expelled them to Taima and Ariha
مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر نے یہود و نصاریٰ کو سر زمین حجاز سے نکال کر دوسری جگہ بسا دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو آپ کا بھی ارادہ ہوا تھا کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔ جب آپ نے فتح پائی تو اس وقت وہاں کی کچھ زمین یہودیوں کے قبضے میں ہی تھی۔ اور اکثر زمین پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے قبضے میں تھی۔ لیکن پھر یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، آپ زمین انہیں کے پاس رہنے دیں۔ وہ ( کھیتوں اور باغوں میں ) کام کیا کریں گے۔ اور آدھی پیداوار لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دور خلافت میں ( مسلمانوں کے خلاف ان کے فتنوں اور سازشوں کی وجہ سے یہود خیبر کو ) تیماء یا اریحا کی طرف نکال دیا تھا۔“
Narrated by Al-Bara bin Azib
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَوْبٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلُوا يَعْجَبُونَ مِنْ حُسْنِهِ وَلِينِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا ‏"‏‏.‏
Narrated Al-Bara bin Azib:Allah's Messenger (ﷺ) was given a silken garment, and its beauty and delicacy astonished the people. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, the handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh in Paradise are better than this
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا پیش کیا گیا اس کی خوبصورتی اور نزاکت نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہتر اور افضل ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Save `Aiyyash bin Abi Rabi`a (from the unjust treatment of the infidels). O Allah! Save Salama bin Hisham. O Allah! Send your Punishment on (the tribe of) Mudar. O Allah! Let them suffer from years (of drought) similar to that inflicted during the life-time of Joseph
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنج سلمة بن هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنج الوليد بن الوليد اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم اشدد وطأتك على مضر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ‘ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے ‘ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے ‘ اے اللہ تمام ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کو سخت گرفت میں پکڑ لے۔ اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی ان ( ظالموں ) پر نازل فرما۔“
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَهُ شَعَرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنِهِ، رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ‏.‏ قَالَ يُوسُفُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ إِلَى مَنْكِبَيْهِ‏.‏
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was of moderate height having broad shoulders (long) hair reaching his ear-lobes. Once I saw him in a red cloak and I had never seen a more handsome man than him
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ بہت کشادہ اور کھلا ہوا تھا۔ آپ کے ( سر کے ) بال کانوں کی لو تک لٹکتے رہتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک سرخ جوڑے میں دیکھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ یوسف بن ابی اسحٰق نے اپنے والد کے واسطہ سے «إلى منكبيه‏.‏» بیان کیا ( بجائے لفظ «شحمة أذنه» ) یعنی آپ کے بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صلى الله عليه وسلم فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا‏.‏ قَالَ فَيُسْقَوْنَ‏.‏
Narrated Anas:Whenever there was drought, `Umar bin Al-Khattab used to ask Allah for rain through Al-`Abbas bin `Abdul Muttalib, saying, "O Allah! We used to request our Prophet to ask You for rain, and You would give us. Now we request the uncle of our Prophet to ask You for rain, so give us rain." And they would be given rain
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، ان سے ابوعبداللہ بن مثنیٰ نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا کر بارش کی دعا کراتے اور کہتے کہ اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سیرابی عطا فرما۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد خوب بارش ہوئی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ لِبَعْضِ الْعَرَبِ، وَكَانَ لَهَا حِفْشٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَكَانَتْ تَأْتِينَا فَتَحَدَّثُ عِنْدَنَا فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ حَدِيثِهَا قَالَتْ وَيَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا أَلاَ إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي فَلَمَّا أَكْثَرَتْ قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ وَمَا يَوْمُ الْوِشَاحِ قَالَتْ خَرَجَتْ جُوَيْرِيَةٌ لِبَعْضِ أَهْلِي، وَعَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ أَدَمٍ فَسَقَطَ مِنْهَا، فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِ الْحُدَيَّا وَهْىَ تَحْسِبُهُ لَحْمًا، فَأَخَذَتْ فَاتَّهَمُونِي بِهِ فَعَذَّبُونِي، حَتَّى بَلَغَ مِنْ أَمْرِي أَنَّهُمْ طَلَبُوا فِي قُبُلِي، فَبَيْنَا هُمْ حَوْلِي وَأَنَا فِي كَرْبِي إِذْ أَقْبَلَتِ الْحُدَيَّا حَتَّى وَازَتْ بِرُءُوسِنَا ثُمَّ أَلْقَتْهُ، فَأَخَذُوهُ فَقُلْتُ لَهُمْ هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ‏.‏
Narrated `Aisha:A black lady slave of some of the 'Arabs embraced Islam and she had a hut in the mosque. She used to visit us and talk to us, and when she finished her talk, she used to say: "The day of the scarf was one of our Lord's wonders: Verily! He has delivered me from the land of Kufr." When she said the above verse many times, I (i.e. `Aisha) asked her, "What was the day of the scarf?" She replied, "Once the daughter of some of my masters went out and she was wearing a leather scarf (round her neck) and the leather scarf fell from her and a kite descended and picked it up, mistaking it for a piece of meat. They (i.e. my masters) accused me of stealing it and they tortured me to such an extent that they even looked for it in my private parts. So, while they all were around me, and I was in my great distress, suddenly the kite came over our heads and threw the scarf, and they took it. I said to them 'This is what you accused me of stealing, though I was innocent
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک کالی عورت جو کسی عرب کی باندی تھی اسلام لائی اور مسجد میں اس کے رہنے کے لیے ایک کوٹھری تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ ہمارے یہاں آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی، لیکن جب باتوں سے فارغ ہو جاتی تو وہ یہ شعر پڑھتی ”اور ہار والا دن بھی ہمارے رب کے عجائب قدرت میں سے ہے، کہ اسی نے ( بفضلہ ) کفر کے شہر سے مجھے چھڑایا۔“ اس نے جب کئی مرتبہ یہ شعر پڑھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے دریافت کیا کہ ہار والے دن کا قصہ کیا ہے؟ اس نے بیان کیا کہ میرے مالکوں کے گھرانے کی ایک لڑکی ( جو نئی دولہن تھی ) لال چمڑے کا ایک ہار باندھے ہوئے تھی۔ وہ باہر نکلی تو اتفاق سے وہ گر گیا۔ ایک چیل کی اس پر نظر پڑی اور وہ اسے گوشت سمجھ کر اٹھا لے گئی۔ لوگوں نے مجھ پر اس کی چوری کی تہمت لگائی اور مجھے سزائیں دینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ میری شرمگاہ کی بھی تلاشی لی۔ خیر وہ ابھی میرے چاروں طرف جمع ہی تھے اور میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی کہ چیل آئی اور ہمارے سروں کے بالکل اوپر اڑنے لگی۔ پھر اس نے وہی ہار نیچے گرا دیا۔ لوگوں نے اسے اٹھا لیا تو میں نے ان سے کہا اسی کے لیے تم لوگ مجھے اتہام لگا رہے تھے حالانکہ میں بےگناہ تھی۔
Narrated by Mahmud bin Ar-Rabi
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Mahmud bin Ar-Rabi:That `Itban bin Malik who was one of the companions of the Prophet (ﷺ) and one of the warriors of Badr, came to Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں محمود بن ربیع نے خبر دی کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور وہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور انصار میں سے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
Narrated by Abu Huraira and Abu Sa`id
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا، سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira and Abu Sa`id:Allah's Messenger (ﷺ) saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, "If anyone of you wanted to spit he should neither spit in front of him nor on his right but he could spit either on his left or under his left foot
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ ‏{‏رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي‏}‏‏"‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "We have more right to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead.' He said, 'Do you not believe?' He said, 'Yes (I believe) but to be stronger in Faith
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ اور سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ عرض کی یقین ضرور ہے، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے۔“
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَقْرَأُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏ "‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً مِنْ سُورَةِ كَذَا ‏"‏‏.‏
Narrated Aisha:The Prophet (ﷺ) heard a man reciting the Qur'an in the mosque and said, "May Allah bestow His Mercy on him, as he has reminded me of such-and-such Verses of such a Surah
ہم سے ربیع بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زائدہ بن جذامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں سورت کی فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں۔
وَقَالَ لِي طَلْقٌ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏{‏فِيمَا عَرَّضْتُمْ‏}‏ يَقُولُ إِنِّي أُرِيدُ التَّزْوِيجَ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ تَيَسَّرَ لِي امْرَأَةٌ صَالِحَةٌ‏.‏ وَقَالَ الْقَاسِمُ يَقُولُ إِنَّكِ عَلَىَّ كَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا‏.‏ أَوْ نَحْوَ هَذَا‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ يُعَرِّضُ وَلاَ يَبُوحُ يَقُولُ إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي، وَأَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ نَافِقَةٌ‏.‏ وَتَقُولُ هِيَ قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ‏.‏ وَلاَ تَعِدُ شَيْئًا وَلاَ يُوَاعِدُ وَلِيُّهَا بِغَيْرِ عِلْمِهَا، وَإِنْ وَاعَدَتْ رَجُلاً فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ ‏{‏لاَ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا‏}‏ الزِّنَا‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏{‏الْكِتَابُ أَجَلَهُ‏}‏ تَنْقَضِي الْعِدَّةُ‏.‏
Ibn `Abbas said: "Hint your intention of marrying' is made by saying (to the widow) for example: "I want to marry, and I wish that Allah will make a righteous lady available for me.' " Al-Qasim said: One may say to the widow: 'I hold all respect for you, and I am interested in you; Allah will bring you much good, or something similar 'Ata said: One should hint his intention, and should not declare it openly. One may say: 'I have some need. Have good tidings. Praise be to Allah; you are fit to remarry.' She (the widow) may say in reply: I am listening to what you say,' but she should not make a promise. Her guardian should not make a promise (to somebody to get her married to him) without her knowledge. But if, while still in the Iddat period, she makes a promise to marry somebody, and he ultimately marries her, they are not to be separated by divorce (i.e., the marriage is valid)
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے طلق بن غنام نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ بن قدام نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے مجاہد نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «فيما عرضتم‏» کی تفسیر میں کہا کہ کوئی شخص کسی ایسی عورت سے جو عدت میں ہو کہے کہ میرا ارادہ نکاح کا ہے اور میری خواہش ہے کہ مجھے کوئی نیک بخت عورت میسر آ جائے اور اس نکاح میں قاسم بن محمد نے کہا کہ ( تعریض یہ ہے کہ ) عدت میں عورت سے کہے کہ تم میری نظر میں بہت اچھی ہو اور میرا خیال نکاح کرنے کا ہے اور اللہ تمہیں بھلائی پہنچائے گا یا اسی طرح کے جملے کہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ تعریض و کنایہ سے کہے۔ صاف صاف نہ کہے ( مثلاً ) کہے کہ مجھے نکاح کی ضرورت ہے اور تمہیں بشارت ہو اور اللہ کے فضل سے اچھی ہو اور عورت اس کے جواب میں کہے کہ تمہاری بات میں نے سن لی ہے ( بصراحت ) کوئی وعدہ نہ کرے ایسی عورت کا ولی بھی اس کے علم کے بغیر کوئی وعدہ نہ کرے اور اگر عورت نے زمانہ عدت میں کسی مرد سے نکاح کا وعدہ کر لیا اور پھر بعد میں اس سے نکاح کیا تو دونوں میں جدائی نہیں کرائی جائے گی۔ حسن نے کہا کہ «لا تواعدوهن سرا‏» سے یہ مراد ہے کہ عورت سے چھپ کر بدکاری نہ کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ «الكتاب أجله‏» سے مراد عدت کا پورا کرنا ہے۔
Narrated by Sa`id bin Jubair
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ، وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏‏.‏ فَأَبَيَا‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبُ ‏"‏‏.‏ فَأَبَيَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏ فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ إِنَّ فِي الْحَدِيثِ شَيْئًا لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ مَالِي قَالَ قِيلَ لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهْوَ أَبْعَدُ مِنْكَ‏.‏
Narrated Sa`id bin Jubair:I asked Ibn `Umar, "(What is the verdict if) a man accuses his wife of illegal sexual intercourse?" Ibn `Umar said, "The Prophet (ﷺ) separated (by divorce) the couple of Bani Al-Ajlan, and said, (to them), 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. He again said, 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. So he separated them by divorce." (Aiyub, a sub-narrator said: `Amr bin Dinar said to me, "There is something else in this Hadith which you have not mentioned. It goes thus: The man said, 'What about my money (i.e. the Mahr that I have given to my wife)?' It was said, 'You have no right to restore any money, for if you have spoken the truth (as regards the accusation), you have also consummated your marriage with her; and if you have told a lie, you are less rightful to have your money back
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل نے خبر دی، انہیں ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کا حکم پوچھا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان ایسی صورت میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تو کیا تم میں سے ایک ( جو واقعی گناہ میں مبتلا ہو ) رجوع کرے گا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کر دی۔ اور بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے فرمایا کہ حدیث کے بعض اجزاء میرا خیال ہے کہ میں نے ابھی تم سے بیان نہیں کئے ہیں۔ فرمایا کہ ان صاحب نے ( جنہوں نے لعان کیا تھا ) کہا کہ میرے مال کا کیا ہو گا ( جو میں نے مہر میں دیا تھا ) بیان کیا کہ اس پر ان سے کہا گیا کہ وہ مال ( جو عورت کو مہر میں دیا تھا ) اب تمہارا نہیں رہا۔ اگر تم سچے ہو ( اس تہمت لگانے میں تب بھی کیونکہ ) تم اس عورت کے پاس تنہائی میں جا چکے ہو اور اگر تم جھوٹے ہو تب تو تم کو اور بھی مہر نہ ملنا چاہیئے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنْتُ أَلْزَمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِشِبَعِ بَطْنِي حِينَ لاَ آكُلُ الْخَمِيرَ، وَلاَ أَلْبَسُ الْحَرِيرَ، وَلاَ يَخْدُمُنِي فُلاَنٌ وَلاَ فُلاَنَةُ، وَأُلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ، وَأَسْتَقْرِئُ الرَّجُلَ الآيَةَ وَهْىَ مَعِي كَىْ يَنْقَلِبَ بِي فَيُطْعِمَنِي، وَخَيْرُ النَّاسِ لِلْمَسَاكِينِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، يَنْقَلِبُ بِنَا فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ، حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ لَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ، فَنَشْتَقُّهَا فَنَلْعَقُ مَا فِيهَا‏.‏
Narrated Abu Huraira:I used to accompany Allah's Messenger (ﷺ) to fill my stomach; and that was when I did not eat baked bread, nor wear silk. Neither a male nor a female slave used to serve me, and I used to bind stones over my belly and ask somebody to recite a Qur'anic Verse for me though I knew it, so that he might take me to his house and feed me. Ja`far bin Abi Talib was very kind to the poor, and he used to take us and feed us with what ever was available in his house, (and if nothing was available), he used to give us the empty (honey or butter) skin which we would tear and lick whatever was in it
ہم سے عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن ابی الفدیک نے خبر دی، انہیں ابن ابی ذئب نے، انہیں مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔ اس وقت میں روٹی نہیں کھاتا تھا۔ نہ ریشم پہنتا تھا، نہ فلاں اور فلانی میری خدمت کرتے تھے ( بھوک کی شدت کی وجہ سے بعض اوقات ) میں اپنے پیٹ پر کنکریاں لگا لیتا اور کبھی میں کسی سے کوئی آیت پڑھنے کے لیے کہتا حالانکہ وہ مجھے یاد ہوتی۔ مقصد صرف یہ ہوتا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے اور کھانا کھلا دے اور مسکینوں کے لیے سب سے بہترین شخص جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں اپنے گھر ساتھ لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں ہوتا کھلا دیتے تھے۔ کبھی تو ایسا ہوتا کہ گھی کا ڈبہ نکال کر لاتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا۔ ہم اسے پھاڑ کر اس میں جو کچھ لگا ہوتا چاٹ لیتے تھے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا وَنَحْنُ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا، فَأَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا، فَبَعَثَ بِوَرِكَيْهَا ـ أَوْ قَالَ بِفَخِذَيْهَا ـ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَهَا‏.‏
Narrated Anas bin Malik:Once we provoked a rabbit at Marr-az-Zahran. The people chased it till they got tired. Then I caught It and brought it to Abu Talha, who slaughtered it and then sent both its pelvic pieces (or legs) to the Prophet, and the Prophet (ﷺ) accepted the present
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ ہم مرالظہران میں تھے۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور تھک گئے پھر میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے دونوں کولہے یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) اس کی دونوں رانیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرمایا۔
Narrated by Um Salama
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ‏"‏‏.‏
Narrated Um Salama:(the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) said, "He who drinks in silver utensils is only filling his `Abdomen with Hell Fire
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے زید بن عبداللہ بن عمر نے، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو وہ شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ لِلْمَرِيضِ ‏ "‏ بِسْمِ اللَّهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا‏.‏ بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to say to the patient, "In the Name of Allah The earth of our land and the saliva of some of us cure our patient
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدربہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے لیے ( کلمے کی انگلی زمین پر لگا کر ) یہ دعا پڑھتے تھے «بسم الله،‏‏‏‏ تربة أرضنا‏.‏ بريقة بعضنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏يشفى سقيمنا بإذن ربنا‏ ‏‏.» ”اللہ کے نام کی مدد سے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک کے ساتھ تاکہ ہمارا مریض شفاء پائے ہمارے رب کے حکم سے۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَبِثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلْتُ أَهَابُهُ، فَنَزَلَ يَوْمًا مَنْزِلاً فَدَخَلَ الأَرَاكَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ فَقَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ـ ثُمَّ قَالَ ـ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لاَ نَعُدُّ النِّسَاءَ شَيْئًا، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ وَذَكَرَهُنَّ اللَّهُ، رَأَيْنَا لَهُنَّ بِذَلِكَ عَلَيْنَا حَقًّا، مِنْ غَيْرِ أَنْ نُدْخِلَهُنَّ فِي شَىْءٍ مِنْ أُمُورِنَا، وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي كَلاَمٌ فَأَغْلَظَتْ لِي فَقُلْتُ لَهَا وَإِنَّكِ لَهُنَاكِ‏.‏ قَالَتْ تَقُولُ هَذَا لِي وَابْنَتُكَ تُؤْذِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا إِنِّي أُحَذِّرُكِ أَنْ تَعْصِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏ وَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهَا فِي أَذَاهُ، فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ لَهَا‏.‏ فَقَالَتْ أَعْجَبُ مِنْكَ يَا عُمَرُ قَدْ دَخَلْتَ فِي أُمُورِنَا، فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَزْوَاجِهِ، فَرَدَّدَتْ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَشَهِدَ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِ اسْتَقَامَ لَهُ، فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ مَلِكُ غَسَّانَ بِالشَّأْمِ، كُنَّا نَخَافُ أَنْ يَأْتِيَنَا، فَمَا شَعَرْتُ إِلاَّ بِالأَنْصَارِيِّ وَهْوَ يَقُولُ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ‏.‏ قُلْتُ لَهُ وَمَا هُوَ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ قَالَ أَعْظَمُ مِنْ ذَاكَ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ‏.‏ فَجِئْتُ فَإِذَا الْبُكَاءُ مِنْ حُجَرِهَا كُلِّهَا، وَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ صَعِدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَعَلَى باب الْمَشْرُبَةِ وَصِيفٌ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِي‏.‏ فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِذَا أُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ وَقَرَظٌ، فَذَكَرْتُ الَّذِي قُلْتُ لِحَفْصَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَالَّذِي رَدَّتْ عَلَىَّ أُمُّ سَلَمَةَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:For one year I wanted to ask `Umar about the two women who helped each other against the Prophet (ﷺ) but I was afraid of him. One day he dismounted his riding animal and went among the trees of Arak to answer the call of nature, and when he returned, I asked him and he said, "(They were) `Aisha and Hafsa." Then he added, "We never used to give significance to ladies in the days of the Pre-Islamic period of ignorance, but when Islam came and Allah mentioned their rights, we used to give them their rights but did not allow them to interfere in our affairs. Once there was some dispute between me and my wife and she answered me back in a loud voice. I said to her, 'Strange! You can retort in this way?' She said, 'Yes. Do you say this to me while your daughter troubles Allah's Messenger (ﷺ)?' So I went to Hafsa and said to her, 'I warn you not to disobey Allah and His Apostle.' I first went to Hafsa and then to Um Salama and told her the same. She said to me, 'O `Umar! It surprises me that you interfere in our affairs so much that you would poke your nose even into the affairs of Allah's Messenger (ﷺ) and his wives.' So she rejected my advice. There was an Ansari man; whenever he was absent from Allah's Messenger (ﷺ) and I was present there, I used to convey to him what had happened (on that day), and when I was absent and he was present there, he used to convey to me what had happened as regards news from Allah's Messenger (ﷺ) . During that time all the rulers of the nearby lands had surrendered to Allah's Messenger (ﷺ) except the king of Ghassan in Sham, and we were afraid that he might attack us. All of a sudden the Ansari came and said, 'A great event has happened!' I asked him, 'What is it? Has the Ghassani (king) come?' He said, 'Greater than that! Allah's Messenger (ﷺ) has divorced his wives! I went to them and found all of them weeping in their dwellings, and the Prophet (ﷺ) had ascended to an upper room of his. At the door of the room there was a slave to whom I went and said, "Ask the permission for me to enter." He admitted me and I entered to see the Prophet (ﷺ) lying on a mat that had left its imprint on his side. Under his head there was a leather pillow stuffed with palm fibres. Behold! There were some hides hanging there and some grass for tanning. Then I mentioned what I had said to Hafsa and Um Salama and what reply Um Salama had given me. Allah's Messenger (ﷺ) smiled and stayed there for twenty nine days and then came down." (See Hadith No. 648, Vol. 3 for details)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبید بن حنین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن ( مکہ کے راستہ میں ) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں ( وہ قضائے حاجت کے لیے ) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا ( اور ان کے حقوق ) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخیل بننا پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ میں ( اپنی بیٹی ام المؤمنین ) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخیل ہو گئے ہو۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا۔ ( سو اب وہ بھی شروع کر دیا ) انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے ( بادشاہ وغیرہ ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔ میں نے جو ہوش و حواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب ( مدینہ ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلاَ عِنْدَ غُرُوبِهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "None of you should try to pray at sunrise or sunset
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہ کہا ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی تم میں سے انتظار میں نہ بیٹھا رہے کہ سورج طلوع ہوتے ہی نماز کے لیے کھڑا ہو جائے، اسی طرح سورج کے ڈوبنے کے انتظار میں بھی نہ رہنا چاہیے۔
Narrated by `Abdullah bin Mulaika
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ يَهُودَ، أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ، وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ ‏"‏ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلاَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin Mulaika:`Aisha said that the Jews came to the Prophet (ﷺ) and said, "As-Samu 'Alaikum" (death be on you). `Aisha said (to them), "(Death) be on you, and may Allah curse you and shower His wrath upon you!" The Prophet (ﷺ) said, "Be calm, O `Aisha ! You should be kind and lenient, and beware of harshness and Fuhsh (i.e. bad words)." She said (to the Prophet), "Haven't you heard what they (Jews) have said?" He said, "Haven't you heard what I have said (to them)? I said the same to them, and my invocation against them will be accepted while theirs against me will be rejected (by Allah)
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور کہا «السام عليكم‏.‏» ( تم پر موت آئے ) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «عليكم،‏‏‏‏ ولعنكم الله،‏‏‏‏ وغضب الله عليكم‏.‏» کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ( ٹھہرو ) عائشہ! تمہیں نرم خوئی اختیار کرنے چاہیے سختی اور بد زبانی سے بچنا چاہیئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بددعا قبول ہو جائے گی۔ لیکن میرے حق میں ان کی بددعا قبول ہی نہ ہو گی۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةٌ فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah:the Prophet (ﷺ) said "When three persons are together, then no two of them should hold secret counsel excluding the third person
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں کانا پھوسی ( سرگوشی ) نہ کریں۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَلْحَةَ ‏"‏ الْتَمِسْ لَنَا غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي ‏"‏‏.‏ فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُلَّمَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ‏"‏‏.‏ فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ، وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ قَدْ حَازَهَا، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ كِسَاءٍ ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالاً فَأَكَلُوا، وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ ‏"‏ هَذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said to Abu Talha, "Choose one of your boys to serve me." So Abu Talha took me (to serve the Prophet (ﷺ) ) by giving me a ride behind him (on his camel). So I used to serve Allah's Messenger (ﷺ) whenever he stayed somewhere. I used to hear him saying, "O Allah! I seek refuge with you (Allah) from (worries) care and grief, from incapacity and laziness, from miserliness and cowardice, from being heavily in debt and from being overpowered by other men." I kept on serving him till he returned from (the battle of) Khaibar. He then brought Safiya, the daughter of Huyay whom he had got (from the booty). I saw him making a kind of cushion with a cloak or a garment for her. He then let her ride behind him. When we reached a place called As-Sahba', he prepared (a special meal called) Hais, and asked me to invite the men who (came and) ate, and that was the marriage banquet given on the consummation of his marriage to her. Then he proceeded till the mountain of Uhud appeared, whereupon he said, "This mountain loves us and we love it." When he approached Medina, he said, "O Allah! I make the land between its (i.e., Medina's) two mountains a sanctuary, as the prophet Abraham made Mecca a sanctuary. O Allah! Bless them (the people of Medina) in their Mudd and the Sa' (units of measuring)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو، مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے لڑکوں میں سے کوئی بچہ تلاش کرو جو میرا کام کر دیا کرے۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھا کر لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر ہوتے تو میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا اکثر پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن،‏‏‏‏ والعجز والكسل،‏‏‏‏ والبخل والجبن،‏‏‏‏ وضلع الدين،‏‏‏‏ وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی و کمزوری سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور انسانوں کے غلبہ سے۔“ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا۔ پھر ہم خیبر سے واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ واپس ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے عبا یا چادر سے پردہ کیا اور انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ جب ہم مقام صہبا پہنچے تو آپ نے ایک چرمی دستر خوان پر کچھ مالیدہ تیار کرا کے رکھوایا پھر مجھے بھیجا اور میں کچھ صحابہ کو بلا لایا اور سب نے اسے کھایا، یہ آپ کی دعوت ولیمہ تھی۔ اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور احد پہاڑ دکھائی دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ آپ جب مدینہ منورہ پہنچے تو فرمایا ”اے اللہ! میں اس شہر کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقہ کو اس طرح حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا۔ اے اللہ! یہاں والوں کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔“
Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ ـ أَوْ تَنْتَفِخَ ـ قَدَمَاهُ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ ‏ "‏ أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ‏"‏‏.‏
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:The Prophet (ﷺ) used to pray so much that his feet used to become edematous or swollen, and when he was asked as to why he prays so much, he would say, "Shall I not be a thankful slave (to Allah)?
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا، کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی نماز پڑھتے کہ آپ کے قدموں میں ورم آ جاتا یا کہا کہ آپ کے قدم پھول جاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جاتی کہ آپ تو بخشے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ثُمَّ قَالَ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ يَقُولُ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ‏.‏
Narrated Nafi`:Once on a very cold and stormy night, Ibn `Umar pronounced the Adhan for the prayer and then said, "Pray in your homes." He (Ibn `Umar) added. "On very cold and rainy nights Allah's Messenger (ﷺ) used to order the Mu'adh-dhin to say, 'Pray in your homes
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ٹھنڈی اور برسات کی رات میں اذان دی، پھر یوں پکار کر کہہ دیا «ألا صلوا في الرحال‏» کہ لوگو! اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔ پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَلِمَةً وَقُلْتُ أُخْرَى ‏ "‏ مَنْ مَاتَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ النَّارَ ‏"‏‏.‏ وَقُلْتُ أُخْرَى مَنْ مَاتَ لاَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ‏.‏
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said a sentence and I said another. He said, "Whoever dies while he is setting up rivals along with Allah (i.e. worshipping others along with Allah) shall be admitted into the (Hell) Fire." And I said the other: "Whoever dies while he is not setting up rivals along with Allah (i.e. worshipping none except Allah) shall be admitted into Paradise
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور میں نے ( اسی پر قیاس کرتے ہوئے ) دوسرا کلمہ کہا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو گا تو وہ جہنم میں جائے گا۔“ اور میں نے دوسری بات کہی کہ جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو گا وہ جنت میں جائے گا۔
Narrated by Abu Huraira and Zaid bin Khalid
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ جَالِسٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بِكِتَابِ اللَّهِ‏.‏ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِكِتَابِ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَزَعَمُوا أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَارْجُمْهَا ‏"‏‏.‏ فَغَدَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا‏.‏
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid:A bedouin came to the Prophet (ﷺ) while he (the Prophet) was sitting, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Give your verdict according to Allah's Laws (in our case)." Then his opponent got up and said, "He has told the truth, O Allah's Messenger (ﷺ)! Decide his case according to Allah's Laws. My son was a laborer working for this person, and he committed illegal sexual intercourse with his wife, and the people told me that my son should be stoned to death, but I offered one-hundred sheep and a slave girl as a ransom for him. Then I asked the religious learned people, and they told me that my son should be flogged with one-hundred stripes and be exiled for one year." The Prophet (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my soul is, I will judge you according to Allah's Laws. The sheep and the slave girl will be returned to you and your son will be flogged one-hundred stripes and be exiled for one year. And you, O Unais! Go to the wife of this man (and if she confesses), stone her to death." So Unais went in the morning and stoned her to death (after she had confessed)
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَأَعْبُرَهَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اعْبُرْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالإِسْلاَمُ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ حَلاَوَتُهُ تَنْطُفُ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تُقْسِمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I saw in a dream, a cloud having shade. Butter and honey were dropping from it and I saw the people gathering it in their hands, some gathering much and some a little. And behold, there was a rope extending from the earth to the sky, and I saw that you (the Prophet) held it and went up, and then another man held it and went up and (after that) another (third) held it and went up, and then after another (fourth) man held it, but it broke and then got connected again." Abu Bakr said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father be sacrificed for you! Allow me to interpret this dream." The Prophet (ﷺ) said to him, "Interpret it." Abu Bakr said, "The cloud with shade symbolizes Islam, and the butter and honey dropping from it, symbolizes the Qur'an, its sweetness dropping and some people learning much of the Qur'an and some a little. The rope which is extended from the sky to the earth is the Truth which you (the Prophet) are following. You follow it and Allah will raise you high with it, and then another man will follow it and will rise up with it and another person will follow it and then another man will follow it but it will break and then it will be connected for him and he will rise up with it. O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father be sacrificed for you! Am I right or wrong?" The Prophet replied, "You are right in some of it and wrong in some." Abu Bakr said, "O Allah's Prophet! By Allah, you must tell me in what I was wrong." The Prophet (ﷺ) said, "Do not swear
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ انہیں اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ کوئی زیادہ اور کوئی کم اور ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اسے پکڑ اور اوپر چڑھ گئے پھر ایک دوسرے صاحب نے بھی اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھ گئے پھر ایک تیسرے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی چڑھ گئے پھر چوتھے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعہ چڑھ گئے۔ پھر وہ رسی ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی تعبیر بیان کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیان کرو۔ انہوں نے کہا سایہ سے مراد دین اسلام ہے اور شہد اور گھی ٹپک رہا تھا وہ قرآن مجید کی شیرینی ہے اور بعض قرآن کو زیادہ حاصل کرنے والے ہیں، بعض کم اور آسمان سے زمین تک کی رسی سے مراد وہ سچا طریق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اس کے ذریعہ اللہ آپ کو اٹھا لے گا پھر آپ کے بعد ایک دوسرے صاحب آپ کے خلیفہ اول اسے پکڑیں گے وہ بھی مرتے دم تک اس پر قائم رہیں گے۔ پھر تیسرے صاحب پکڑیں گے ان کا بھی یہی حال ہو گا۔ پھر چوتھے صاحب پکڑیں گے تو ان کا معاملہ خلافت کا کٹ جائے گا وہ بھی اوپر چڑھ جائیں گے۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے بتائیے کیا میں نے جو تعبیر دی ہے وہ غلط ہے یا صحیح۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض حصہ کی صحیح تعبیر دی ہے اور بعض کی غلط۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پس واللہ! آپ میری غلطی کو ظاہر فرما دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم نہ کھاؤ۔
Narrated by Abi Waih
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَوْمَئِذٍ يُسِرُّونَ وَالْيَوْمَ يَجْهَرُونَ‏.‏
Narrated Abi Waih:Hudhaifa bin Al-Yaman said, 'The hypocrites of today are worse than those of the lifetime of the Prophet, because in those days they used to do evil deeds secretly but today they do such deeds openly
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واصل احدب نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ بن الیمان نے بیان کیا کہ آج کل کے منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے منافقین سے بدتر ہیں۔ اس وقت چھپاتے تھے اور آج اس کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں۔
Narrated by Ubada bin As-Samit
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ "بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ‏.‏ ‏‏وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ ـ أَوْ نَقُولَ ـ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لاَ نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ‏"‏‏.‏
Narrated 'Ubada bin As-Samit:We gave the oath of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) that we would listen to and obey him both at the time when we were active and at the time when we were tired and that we would not fight against the ruler or disobey him, and would stand firm for the truth or say the truth wherever we might be, and in the Way of Allah we would not be afraid of the blame of the blamers. (See Hadith No. 178 and)
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ ‏"‏ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Bestow Your Blessings on their measures, and bestow Your Blessings on their Sa' and Mudd." He meant those of the people of Medina
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ان مدینہ والوں کے پیمانہ میں انہیں برکت دے اور ان کے صاع اور مد میں انہیں برکت دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل مدینہ ( کے صاع و مد ) سے تھی ( مدنی صاع اور مد کو بھی تاریخی عظمت حاصل ہے ) ۔
Narrated by Abu Dharr
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dharr:I asked the Prophet (ﷺ) regarding the Verse:--'And the sun runs on its fixed course for a term decreed for it.' (36.28) He said, "Its fixed course is underneath Allah's Throne
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «والشمس تجري لمستقر لها‏» کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا‏}‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:While we were praying (Jumua Khutba & prayer) with the Prophet (ﷺ), some camels loaded with food, arrived (from Sham). The people diverted their attention towards the camels (and left the mosque), and only twelve persons remained with the Prophet. So this verse was revealed: "But when they see Some bargain or some amusement, They disperse headlong to it, And leave you standing
ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ نے حصین سے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی جعد نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں غلہ لادے ہوئے ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا۔ لوگ خطبہ چھوڑ کر ادھر چل دیئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کل بارہ آدمی رہ گئے۔ اس وقت سورۃ الجمعہ کی یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما‏» ”اور جب یہ لوگ تجارت اور کھیل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔“