Narrated by `Abdullah bin Zaid
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْقَى فَقَلَبَ رِدَاءَهُ.
Narrated `Abdullah bin Zaid:The Prophet (ﷺ) turned his cloak inside out on Istisqa
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں محمد بن ابی بکر نے، انہیں عباد بن تمیم نے، انہیں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا استسقاء کی تو اپنی چادر کو بھی الٹا۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمِ بْنِ أَبِي سَلاَّمٍ الْحَبَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُودِيَ إِنَّ الصَّلاَةَ جَامِعَةٌ.
Narrated `Abdullah bin `Amr:"When the sun eclipsed in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) an announcement was made that a prayer was to be offered in congregation
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحییٰ بن صالح نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے معاویہ بن سلام بن ابی سلام رحمہ اللہ تعالیٰ حبشی دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو یہ اعلان کیا گیا کہ نماز ہونے والی ہے۔
Narrated by `Ata' bin Yasar
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ فَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم {وَالنَّجْمِ} فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.
Narrated `Ata' bin Yasar:I asked Zaid bin Thabit about prostration on which he said that he had recited An-Najm before the Prophet, yet he (the Prophet) had not performed a prostration
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یزید بن خصیفہ نے خبر دی، انہیں (یزید بن عبداللہ) ابن قسیط نے، اور انہیں عطاء بن یسار نے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ آپ نے یقین کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت آپ نے کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ مَعَهُ الْهَدْىُ. تَابَعَهُ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) and his companions reached Mecca in the morning of the 4th Dhul-Hijja reciting Talbiya (O Allah! We are obedient to your orders, we respond to your call) ... intending to perform Hajj. The Prophet (ﷺ) ordered his companions to assume the Ihram for Umra instead of Hajj, excepting those who had Hadi (sacrifice) with them
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ان سے ابوالعالیہ براء نے ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو ( مکہ میں ) تشریف لائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں۔ اس حدیث کی متابعت عطاء نے جابر سے کی ہے۔
Narrated by Um Salama
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً فَقَالَ " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ، مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ، يَا رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ ".
Narrated Um Salama:One night the Prophet (ﷺ) got up and said, "Subhan Allah! How many afflictions Allah has revealed tonight and how many treasures have been sent down (disclosed). Go and wake the sleeping lady occupants of these dwellings up (for prayers), perhaps a well dressed in this world may be naked in the Hereafter
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ہند بنت حارث نے اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات جاگے تو فرمایا سبحان اللہ! آج رات کیا کیا بلائیں اتری ہیں اور ساتھ ہی ( رحمت اور عنایت کے ) کیسے خزانے نازل ہوئے ہیں۔ ان حجرے والیوں ( ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن ) کو کوئی جگانے والا ہے افسوس! کہ دنیا میں بہت سی کپڑے پہننے والی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا. زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) used to go to the Mosque of Quba (sometimes) walking and sometimes riding. Added Nafi` (in another narration), "He then would offer two rak`at (in the Mosque of Quba)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، اور ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء آتے کبھی پیدل اور کبھی سواری پر۔ ابن نمیر نے اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے عبیداللہ بن عمیر نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
Narrated by `Abdullah bin Mas`ud
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نَقُولُ التَّحِيَّةُ فِي الصَّلاَةِ وَنُسَمِّي، وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ".
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:We used to say the greeting, name and greet each other in the prayer. Allah's Messenger (ﷺ) heard it and said:--"Say, 'at-tahiyyatu lil-lahi was-salawatu wat-taiyibatu . Assalamu 'Alaika aiyuha-n-Nabiyu warahmatu- l-lahi wa-barakatuhu. _ Assalamu alaina wa-'ala 'ibadi-l-lahi as-salihin.. Ashhadu an la ilaha illa-l-lah wa ashhadu anna Muhammadan `Abdu hu wa Rasuluh. (All the compliments are for Allah and all the prayers and all the good things (are for Allah). Peace be on you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings (are on you). And peace be on us and on the good (pious) worshipers of Allah. I testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is His slave and Apostle.) So, when you have said this, then you have surely sent the greetings to every good (pious) worshipper of Allah, whether he be in the Heaven or on the Earth
ہم سے عمرو بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعبدالصمد العمی عبدالعزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ ہم پہلے نماز میں یوں کہا کرتے تھے فلاں پر سلام اور نام لیتے تھے۔ اور آپس میں ایک شخص دوسرے کو سلام کر لیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا اس طرح کہا کرو۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”یعنی ساری تحیات، بندگیاں اور کوششیں اور اچھی باتیں خاص اللہ ہی کے لیے ہیں اور اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر سلام ہو اور اللہ کے سب نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ اگر تم نے یہ پڑھ لیا تو گویا اللہ کے ان تمام صالح بندوں پر سلام پہنچا دیا جو آسمان اور زمین میں ہیں۔
Narrated by Kharija bin Zaid bin Thabit
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ ـ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ـ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ اقْتُسِمَ الْمُهَاجِرُونَ قُرْعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ، دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَكْرَمَهُ ". فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ فَقَالَ " أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي ـ وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ مَا يُفْعَلُ بِي ". قَالَتْ فَوَاللَّهِ لاَ أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، مِثْلَهُ. وَقَالَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ، مَا يُفْعَلُ بِهِ وَتَابَعَهُ شُعَيْبٌ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَمَعْمَرٌ.
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:Um Al-`Ala', an Ansari woman who gave the pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) said to me, "The emigrants were distributed amongst us by drawing lots and we got in our share `Uthman bin Maz'un. We made him stay with us in our house. Then he suffered from a disease which proved fatal when he died and was given a bath and was shrouded in his clothes, Allah's Messenger (ﷺ) came I said, 'May Allah be merciful to you, O Abu As-Sa'ib! I testify that Allah has honored you'. The Prophet (ﷺ) said, 'How do you know that Allah has honored him?' I replied, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father be sacrificed for you! On whom else shall Allah bestow His honor?' The Prophet (ﷺ) said, 'No doubt, death came to him. By Allah, I too wish him good, but by Allah, I do not know what Allah will do with me though I am Allah's Messenger (ﷺ). ' By Allah, I never attested the piety of anyone after that." Al-Laith also narrated as above
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے کہا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی کہ ام العلاء رضی اللہ عنہا انصار کی ایک عورت نے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ مہاجرین قرعہ ڈال کر انصار میں بانٹ دیئے گئے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے حصہ میں آئے۔ چنانچہ ہم نے انہیں اپنے گھر میں رکھا۔ آخر وہ بیمار ہوئے اور اسی میں وفات پا گئے۔ وفات کے بعد غسل دیا گیا اور کفن میں لپیٹ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوسائب آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں میری آپ کے متعلق شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت فرمائی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت فرمائی ہے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر کس کی اللہ تعالیٰ عزت افزائی کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شبہ نہیں کہ ان کی موت آ چکی، قسم اللہ کی کہ میں بھی ان کے لیے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں لیکن واللہ! مجھے خود اپنے متعلق بھی معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! اب میں کبھی کسی کے متعلق ( اس طرح کی ) گواہی نہیں دوں گی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَعَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ".
Narrated Anas: The Prophet (ﷺ) said, "None of you will have faith till he wishes for his (Muslim) brother what he likes for himself
ہم سے حدیث بیان کی مسدد نے، ان کو یحییٰ نے، انہوں نے شعبہ سے نقل کیا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور شعبہ نے حسین معلم سے بھی روایت کیا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔
Narrated by `Ata' bin Yasar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلاَلٍ ـ يَعْنِي سُلَيْمَانَ ـ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا، أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الأُخْرَى، فَغَسَلَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى، فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ ـ يَعْنِي الْيُسْرَى ـ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ.
Narrated `Ata' bin Yasar:Ibn `Abbas performed ablution and washed his face (in the following way): He ladled out a handful of water, rinsed his mouth and washed his nose with it by putting in water and then blowing it out. He then, took another handful (of water) and did like this (gesturing) joining both hands, and washed his face, took another handful of water and washed his right forearm. He again took another handful of water and washed his left forearm, and passed wet hands over his head and took another handful of water and poured it over his right foot (up to his ankles) and washed it thoroughly and similarly took another handful of water and washed thoroughly his left foot (up to the ankles) and said, "I saw Allah's Messenger (ﷺ) performing ablution in this way
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے روایت کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابوسلمہ الخزاعی منصور بن سلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن بلال یعنی سلیمان نے زید بن اسلم کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے عطاء بن یسار سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ ( ایک مرتبہ ) انہوں نے ( یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ) وضو کیا تو اپنا چہرہ دھویا ( اس طرح کہ پہلے ) پانی کے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی دیا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا، پھر اس کو اس طرح کیا ( یعنی ) دوسرے ہاتھ کو ملایا۔ پھر اس سے اپنا چہرہ دھویا۔ پھر پانی کا دوسرا چلو لیا اور اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لے کر اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا۔ اس کے بعد اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا چلو لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا۔ پھر دوسرے چلو سے اپنا پاؤں دھویا۔ یعنی بایاں پاؤں اس کے بعد کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Narrated by Jarir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
Narrated Jarir bin `Abdullah:I gave the pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) for offering prayer perfectly, giving Zakat, and giving good advice to every Muslim
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے ‘ زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تھی۔
Narrated by Al-Qasim bin Muhammad
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْتَمَرْتُمْ وَلَمْ أَعْتَمِرْ. فَقَالَ " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ اذْهَبْ بِأُخْتِكَ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ". فَأَحْقَبَهَا عَلَى نَاقَةٍ فَاعْتَمَرَتْ.
Narrated Al-Qasim bin Muhammad:`Aisha said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You performed `Umra but I did not." He said, "O `Abdur-Rahman! Go along with your sister and let her perform `Umra from Tan`im." `Abdur-Rahman made her ride over the packsaddle of a she-camel and she performed `Umra
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایمن بن نابل نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انھوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ لوگوں نے تو عمرہ کر لیا لیکن میں نہ کر سکی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن اپنی بہن کو لے جا اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرا لا۔ چنانچہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اونٹ کے پیچھے بٹھا لیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ ادا کیا۔
Narrated by Qatada
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَيْثُ رَدُّوهُ، وَمِنَ الْقَابِلِ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةً فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ.
Narrated Qatada:I asked Anas (about the Prophet's `Umra) and he replied, "The Prophet (ﷺ) performed `Umra when the pagans made him return, and Umra of al-Hudaibiya (the next year), and another `Umra in Dhi-l-Qa'da, and another `Umra in combination with his Hajj
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمرہ وہاں کیا جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین نے واپس کر دیا تھا اور دوسرے سال ( اسی ) عمرہ حدیبیہ ( کی قضاء ) کی تھی اور ایک عمرہ ذی قعدہ میں اور ایک اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔
Narrated by Al-Miswar
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ.
Narrated Al-Miswar:Allah's Messenger (ﷺ) slaughtered (the Hadi) before he had his head shaved and then he ordered his Companions to do the same
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں مسور رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) قربانی سر منڈوانے سے پہلے کی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ ". وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "It is not sinful of a Muhrim to kill five kinds of animals
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں مارنے میں محرم کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔
Narrated by Abu Humaid
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ تَبُوكَ حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ " هَذِهِ طَابَةُ ".
Narrated Abu Humaid:We came with the Prophet (ﷺ) from Tabuk, and when we reached near Medina, the Prophet (ﷺ) said, "This is Tabah
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے اور ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ ہم غزوہ تبوک سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس ہوتے ہوئے جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ یہ طابہ آ گیا۔
Narrated by Sahl
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ".
Narrated Sahl:The Prophet (ﷺ) said, "There is a gate in Paradise called Ar-Raiyan, and those who observe fasts will enter through it on the Day of Resurrection and none except them will enter through it. It will be said, 'Where are those who used to observe fasts?' They will get up, and none except them will enter through it. After their entry the gate will be closed and nobody will enter through it
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ ابن دینار نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا۔
Narrated by Abu Salama bin `Abdur Rahman
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلاَ فِي غَيْرِهَا عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَىَّ تَنَامَانِ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي ".
Narrated Abu Salama bin `Abdur Rahman:that he asked `Aisha "How was the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) in Ramadan?" She replied, "He did not pray more than eleven rak`at in Ramadan or in any other month. He used to pray four rak`at ---- let alone their beauty and length----and then he would pray four ----let alone their beauty and length ---- and then he would pray three rak`at (witr)." She added, "I asked, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you sleep before praying the witr?' He replied, 'O `Aisha! My eyes sleep but my heart does not sleep
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تراویح یا تہجد کی نماز ) رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ آپ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی چار رکعت پڑھتے، تم ان کے حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، پھر چار رکعت پڑھتے، ان کے بھی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، آخر میں تین رکعت ( وتر ) پڑھتے تھے۔ میں نے ایک بار پوچھا، یا رسول اللہ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْتَمِسُوا ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "Look for (the Night of Qadr)
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( شب قدر کو ) تلاش کرو۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ. وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهْوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to embrace me during my menses. He also used to put his head out of the mosque while he was in I`tikaf, and I would wash it during my menses
Narrated by `Abdullah bin Abu Mulaika
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ جَاءَتْ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ". وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ.
Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika:`Uqba bin Al-Harith said that a black woman came and claimed that she had suckled both of them (i.e. `Uqba and his wife). So, he mentioned that to the Prophet (ﷺ) who turned his face from him and smiled and said, "How (can you keep your wife), and it was said (that both of you were suckled by the same woman)?" His wife was the daughter of Abu Ihab-al-Tamimi
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ایک سیاہ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان دونوں ( عقبہ اور ان کی بیوی ) کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ نے اس امر کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا۔ اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رہ سکتے ہو۔ ان کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں۔
Narrated by Shu`ba
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ،. وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ،، أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ. وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
Narrated Shu`ba:Muhammad or `Abdullah bin Abu Al-Mujalid said, "Abdullah bin Shaddad and Abu Burda differed regarding As-Salam, so they sent me to Ibn Abi `Aufa and I asked him about it. He replied, 'In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), Abu Bakr and `Umar, we used to pay in advance the prices of wheat, barley, dried grapes and dates to be delivered later. I also asked Ibn Abza and he, too, replied as above
Narrated by Ya`la bin Umaiya
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ " أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا ـ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ ـ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، بِمِثْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَهْدَرَهَا أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه.
Narrated Ya`la bin Umaiya:I fought in Jaish-al-Usra (Ghazwa of Tabuk) along with the Prophet (ﷺ) and in my opinion that was the best of my deeds. Then I had an employee, who quarrel led with someone and one of the them bit and cut the other's finger and caused his own tooth to fall out. He then went to the Prophet (with a complaint) but the Prophet (ﷺ) canceled the suit and said to the complainant, "Did you expect him to let his finger in your mouth so that you might snap and cut it (as does a stallion camel)?" Narrated Ibn Juraij from `Abdullah bin Abu Mulaika from his grandfather a similar story: A man bit the hand of another man and caused his own tooth to fall out, but Abu Bakr judged that he had no right for compensation (for the broken tooth)
Narrated by Salama bin Al-Akwa`
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِجَنَازَةٍ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ " هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ ". قَالُوا لاَ. فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ " هَلْ عَلَيْهِ مَنْ دَيْنٍ ". قَالُوا نَعَمْ. قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَىَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَصَلَّى عَلَيْهِ.
Narrated Salama bin Al-Akwa`:A dead person was brought to the Prophet (ﷺ) so that he might lead the funeral prayer for him. He asked, "Is he in debt?" When the people replied in the negative, he led the funeral prayer. Another dead person was brought and he asked, "Is he in debt?" They said, "Yes." He (refused to lead the prayer and) said, "Lead the prayer of your friend." Abu Qatada said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I undertake to pay his debt." Allah's Messenger (ﷺ) then led his funeral prayer
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں نماز پڑھنے کے لیے کسی کا جنازہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ کیا اس میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ پھر ایک اور جنازہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں تھا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ پھر اپنے ساتھی کی تم ہی نماز پڑھ لو۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کا قرض میں ادا کر دوں گا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ " أَعْطُوهُ ". فَطَلَبُوا سِنَّهُ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلاَّ سِنًّا فَوْقَهَا. فَقَالَ " أَعْطُوهُ ". فَقَالَ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ بِكَ. قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) owed somebody a camel of a certain age. When he came to demand it back, the Prophet (ﷺ) said (to some people), "Give him (his due)." When the people searched for a camel of that age, they found none, but found a camel one year older. The Prophet (ﷺ) said, "Give (it to) him." On that, the man remarked, "You have given me my right in full. May Allah give you in full." The Prophet (ﷺ) said, "The best amongst you is the one who pays the rights of others generously
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک شخص کا ایک خاص عمر کا اونٹ قرض تھا۔ وہ شخص تقاضا کرنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے صحابہ سے ) فرمایا کہ ادا کر دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا لیکن نہیں ملا۔ البتہ اس سے زیادہ عمر کا ( مل سکا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی انہیں دے دو۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ آپ نے مجھے پورا پورا حق دے دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا بدلہ دے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض وغیرہ کو پوری طرح ادا کر دیتے ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَتِ الأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ. قَالَ " لاَ ". فَقَالُوا تَكْفُونَا الْمَئُونَةَ وَنُشْرِكُكُمْ فِي الثَّمَرَةِ. قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا.
Narrated Abu Huraira:The Ansar said to the Prophet (ﷺ) "Distribute the date palm trees between us and our emigrant brothers." He replied, "No." The Ansar said (to the emigrants), "Look after the trees (water and watch them) and share the fruits with us." The emigrants said, "We listen and obey
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے باغات آپ ہم میں اور ہمارے ( مہاجر ) بھائیوں میں تقسیم فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا تو انصار نے ( مہاجرین سے ) کہا کہ آپ لوگ درختوں میں محنت کرو۔ ہم تم میوے میں شریک رہیں گے۔ انہوں نے کہا اچھا ہم نے سنا اور قبول کیا۔
Narrated by `Abdullah (bin Mas`ud)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ، هُوَ عَلَيْهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ" فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً} الآيَةَ. فَجَاءَ الأَشْعَثُ فَقَالَ مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي فَقَالَ لِي " شُهُودَكَ ". قُلْتُ مَا لِي شُهُودٌ. قَالَ " فَيَمِينَهُ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفَ. فَذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ذَلِكَ تَصْدِيقًا لَهُ.
Narrated `Abdullah (bin Mas`ud):The Prophet (ﷺ) said, "Whoever takes a false oath to deprive somebody of his property will meet Allah while He will be angry with him." Allah revealed: 'Verily those who purchase a little gain at the cost of Allah's covenant, and their oaths.' ........(3.77) Al-Ashath came (to the place where `Abdullah was narrating) and said, "What has Abu `Abdur- Rahman (i.e. `Abdullah) been telling you? This verse was revealed concerning me. I had a well in the land of a cousin of mine. The Prophet (ﷺ) asked me to bring witnesses (to confirm my claim). I said, 'I don't have witnesses.' He said, 'Let the defendant take an oath then.' I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! He will take a (false) oath immediately.' Then the Prophet (ﷺ) mentioned the above narration and Allah revealed the verse to confirm what he had said." (See Hadith No)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، بِبَيْتِنَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَغْلَظَ لَهُ، فَهَمَّ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ " دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً. وَاشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ ". وَقَالُوا لاَ نَجِدُ إِلاَّ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ. قَالَ " اشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".
Narrated Abu Huraira:A man demanded his debts from Allah's Messenger (ﷺ) in such a rude manner that the companions of the Prophet intended to harm him, but the Prophet (ﷺ) said, "Leave him, no doubt, for he (the creditor) has the right to demand it (harshly). Buy a camel and give it to him." They said, "The camel that is available is older than the camel he demands. "The Prophet (ﷺ) said, "Buy it and give it to him, for the best among you are those who repay their debts handsomely
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں سلمہ بن کہیل نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، وہ ہمارے گھر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور سخت سست کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کو سزا دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کہنے دو۔ صاحب حق کے لیے کہنے کا حق ہوتا ہے اور اسے ایک اونٹ خرید کر دے دو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اس کے اونٹ سے ( جو اس نے آپ کو قرض دیا تھا ) اچھی عمر ہی کا اونٹ مل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہی خرید کے اسے دے دو۔ کیونکہ تم میں اچھا وہی ہے جو قرض ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔ ( حدیث اور باب کی مطابقت ظاہر ہے)
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ.
Narrated Jabir:A man manumitted a slave and he had no other property than that, so the Prophet (ﷺ) canceled the manumission (and sold the slave for him). Nu'aim bin Al-Nahham bought the slave from him
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے اپنا ایک غلام آزاد کیا، لیکن اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کا غلام واپس کرا دیا۔ اور اسے نعیم بن نحام نے خرید لیا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ قَالَ " لَوْلاَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لأَكَلْتُهَا ". وَقَالَ يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ وَقَالَ زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) passed a date fallen on the way and said, "Were I not afraid that it may be from a Sadaqa (charitable gifts), I would have eaten it
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے طلحہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راستے میں ایک کھجور پر نظر پڑی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کا ڈر نہ ہوتا کہ صدقہ کی ہے تو میں خود اسے کھا لیتا۔
Narrated by Muawiya bin Suwaid
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ. فَذَكَرَ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعَ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتَ الْعَاطِسِ، وَرَدَّ السَّلاَمِ، وَنَصْرَ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةَ الدَّاعِي، وَإِبْرَارَ الْمُقْسِمِ.
Narrated Muawiya bin Suwaid:I heard Al-Bara' bin `Azib saying, "The Prophet (ﷺ) ordered us to do seven things and prohibited us from doing seven other things." Then Al-Bara' mentioned the following:-- (1) To pay a visit to the sick (inquiring about his health), (2) to follow funeral processions, (3) to say to a sneezer, "May Allah be merciful to you" (if he says, "Praise be to Allah!"), (4) to return greetings, (5) to help the oppressed, (6) to accept invitations, (7) to help others to fulfill their oaths. (See Hadith No. 753, Vol)
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اشعث بن سلیم نے بیان کیا، کہ میں نے معاویہ بن سوید سے سنا، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا تھا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم فرمایا تھا اور سات ہی چیزوں سے منع بھی فرمایا تھا ( جن چیزوں کا حکم فرمایا تھا ان میں ) انہوں نے مریض کی عیادت، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، سلام کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت کرنے والے ( کی دعوت ) قبول کرنے، اور قسم پوری کرنے کا ذکر کیا۔
Narrated by Abaya bin Rifa'a bin Rafi' bin Khadij
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَابُوا إِبِلاً وَغَنَمًا. قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشْرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَأَهْوَى رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ". فَقَالَ جَدِّي إِنَّا نَرْجُو ـ أَوْ نَخَافُ ـ الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ. قَالَ " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلُوهُ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ".
Narrated 'Abaya bin Rifa'a bin Rafi' bin Khadij:My grandfather said, "We were in the company of the Prophet (ﷺ) at Dhul-Hulaifa. The people felt hungry and captured some camels and sheep (as booty). The Prophet (ﷺ) was behind the people. They hurried and slaughtered the animals and put their meat in pots and started cooking it. (When the Prophet came) he ordered the pots to be upset and then he distributed the animals (of the booty), regarding ten sheep as equal to one camel. One of the camels fled and the people ran after it till they were exhausted. At that time there were few horses. A man threw an arrow at the camel, and Allah stopped the camel with it. The Prophet (ﷺ) said, "Some of these animals are like wild animals, so if you lose control over one of these animals, treat it in this way (i.e. shoot it with an arrow)." Before distributing them among the soldiers my grandfather said, "We may meet the enemies in the future and have no knives; can we slaughter the animals with reeds?" The Prophet (ﷺ) said, "Use whatever causes blood to flow, and eat the animals if the name of Allah has been mentioned on slaughtering them. Do not slaughter with teeth or fingernails and I will tell you why: It is because teeth are bones (i.e. cannot cut properly) and fingernails are the tools used by the Ethiopians (whom we should not imitate for they are infidels)
ہم سے علی بن حکم انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسروق نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کے دادا (رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام ذوالحلیفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ لوگوں کو بھوک لگی۔ ادھر ( غنیمت میں ) اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے پیچھے کے لوگوں میں تھے۔ لوگوں نے جلدی کی اور ( تقسیم سے پہلے ہی ) ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں۔ لیکن بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ ہانڈیاں اوندھا دی گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ ایک اونٹ اس میں سے بھاگ گیا تو لوگ اسے پکڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن اس نے سب کو تھکا دیا۔ قوم کے پاس گھوڑے کم تھے۔ ایک صحابی تیر لے کر اونٹ کی طرف جھپٹے۔ اللہ نے اس کو ٹھہرا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح سرکشی ہوتی ہے۔ اس لیے ان جانوروں میں سے بھی اگر کوئی تمہیں عاجز کر دے تو اس کے ساتھ تم ایسا ہی معاملہ کیا کرو۔ پھر میرے دادا نے عرض کیا کہ کل دشمن کے حملہ کا خوف ہے، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ( تلواروں سے ذبح کریں تو ان کے خراب ہونے کا ڈر ہے جب کہ جنگ سامنے ہے ) کیا ہم بانس کے کھپچی سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو چیز بھی خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ سوائے دانت اور ناخن کے۔ اس کی وجہ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ.
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) bought some foodstuff from a Jew and mortgaged his armor to him
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مدت ٹھہرا کر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ، وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever frees his share of a common slave and he has sufficient money to free him completely, should let its price be estimated by a just man and give his partners the price of their shares and manumit the slave; otherwise (i.e. if he has not sufficient money) he manumits the slave partially
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی مشترک غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے کہ غلام کی پوری قیمت ادا ہو سکے تو اس کی قیمت انصاف کے ساتھ لگائی جائے گی اور باقی ساجھیوں کو ان کے حصے کی قیمت ( اسی کے مال سے ) دے کر غلام کو اسی کی طرف سے آزاد کر دیا جائے گا۔ ورنہ غلام کا جو حصہ آزاد ہو چکا وہ ہو چکا۔ باقی حصوں کی آزادی کے لیے غلام کو خود کوشش کر کے قیمت ادا کرنی ہو گی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَيْمُونَةَ كَانَا يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ أَخِيرًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى أَبُو نُعَيْمٍ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) and Maimuna used to take a bath from a single pot
ہم سے ابونعیم نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو کے واسطہ سے بیان کیا، وہ جابر بن زید سے، وہ عبداللہ بن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا ایک برتن میں غسل کر لیتے تھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ اخیر عمر میں اس حدیث کو یوں روایت کرتے تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے اور صحیح وہی روایت ہے جو ابونعیم نے کی ہے۔
Narrated by `Abdul Wahid bin Aiman
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَيْمَنُ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَقُلْتُ كُنْتُ غُلاَمًا لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، وَمَاتَ وَوَرِثَنِي بَنُوهُ، وَإِنَّهُمْ بَاعُونِي مِنَ ابْنِ أَبِي عَمْرٍو، فَأَعْتَقَنِي ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَاشْتَرَطَ بَنُو عُتْبَةَ الْوَلاَءَ. فَقَالَتْ دَخَلَتْ بَرِيرَةُ وَهْىَ مُكَاتَبَةٌ فَقَالَتِ اشْتَرِينِي وَأَعْتِقِينِي. قَالَتْ نَعَمْ. قَالَتْ لاَ يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلاَئِي. فَقَالَتْ لاَ حَاجَةَ لِي بِذَلِكَ. فَسَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ بَلَغَهُ، فَذَكَرَ لِعَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ مَا قَالَتْ لَهَا، فَقَالَ " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، وَدَعِيهِمْ يَشْتَرِطُونَ مَا شَاءُوا ". فَاشْتَرَتْهَا عَائِشَةُ فَأَعْتَقَتْهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلاَءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ ".
Narrated `Abdul Wahid bin Aiman:I went to `Aisha and said, "I was the slave of `Utba bin Abu Lahab. "Utba died and his sons became my masters who sold me to Ibn Abu `Amr who manumitted me. The sons of `Utba stipulated that my Wala' should be for them." `Aisha said, "Barirah came to me and she was given the writing of emancipation by her masters and she asked me to buy and manumit her. I agreed to it, but Barirah told me that her masters would not sell her unless her Wala' was for them." `Aisha said, "I am not in need of that." When the Prophet (ﷺ) heard that, or he was told about it, he asked `Aisha about it. `Aisha mentioned what Barirah had told her. The Prophet (ﷺ) said, "Buy and manumit (free) her and let them stipulate whatever they like." So, `Aisha bought and manumitted her and her masters stipulated that her Wala' should be for them." The Prophet;, said, "The Wala' will be for the liberator even if they stipulated a hundred conditions
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں پہلے عتبہ بن ابی لہب کا غلام تھا۔ ان کا جب انتقال ہوا تو ان کی اولاد میری وارث ہوئی۔ ان لوگوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی عمرو کو بیچ دیا اور ابن ابی عمرو نے مجھے آزاد کر دیا۔ لیکن ( بیچتے وقت ) عتبہ کے وارثوں نے ولاء کی شرط اپنے لیے لگالی تھی ( تو کیا یہ شرط صحیح ہے؟ ) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا میرے یہاں آئی تھیں اور انہوں نے کتابت کا معاملہ کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آپ خرید کر آزاد کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں ایسا کر دوں گی ( لیکن مالکوں سے بات چیت کے بعد ) انہوں نے بتایا کہ وہ مجھے بیچنے پر صرف اس شرط کے ساتھ راضی ہیں کہ ولاء انہیں کے پاس رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے سنایا ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا کہ ) آپ کو اس کی اطلاع ملی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا، انہوں نے صورت حال کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ کو خرید کر آزاد کر دے اور مالکوں کو جو بھی شرط چاہیں لگانے دو۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ مالکوں نے چونکہ ولاء کی شرط رکھی تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک مجمع سے ) خطاب فرمایا، ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ ( اور جو آزاد نہ کریں ) اگرچہ وہ سو شرطیں بھی لگا لیں ( ولاء پھر بھی ان کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتی ) ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو طَوَالَةَ ـ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي دَارِنَا هَذِهِ، فَاسْتَسْقَى، فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً لَنَا، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا هَذِهِ، فَأَعْطَيْتُهُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَعُمَرُ تُجَاهَهُ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ عُمَرُ هَذَا أَبُو بَكْرٍ. فَأَعْطَى الأَعْرَابِيَّ، ثُمَّ قَالَ " الأَيْمَنُونَ، الأَيْمَنُونَ، أَلاَ فَيَمِّنُوا ". قَالَ أَنَسٌ فَهْىَ سُنَّةٌ فَهْىَ سُنَّةٌ. ثَلاَثَ مَرَّاتٍ.
Narrated Anas:Once Allah's Messenger (ﷺ) visited us in this house of ours and asked for something to drink. We milked one of our sheep and mixed it with water from this well of ours and gave it to him. Abu Bakr was sitting on his left side and `Umar in front of him and a bedouin on his right side. When Allah's Messenger (ﷺ) finished, `Umar said to Allah's Messenger (ﷺ) "Here is Abu Bakr." But Allah's Messenger (ﷺ) gave the remaining milk to the bedouin and said twice, "The (persons on the) right side! So, start from the right side." Anas added, "It is a Sunna (the Prophet's traditions)" and repeated it thrice
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، کہا کہ مجھ سے ابوطوالہ نے جن کا نام عبداللہ بن عبدالرحمٰن تھا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اسی گھر میں تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ ہمارے پاس ایک بکری تھی، اسے ہم نے دوہا۔ پھر میں نے اسی کنویں کا پانی ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( لسی بنا کر ) پیش کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ سامنے تھے اور ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پی کر فارغ ہوئے تو ( پیالے میں کچھ دودھ بچ گیا تھا اس لیے ) عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیہاتی کو عطا فرمایا۔ ( کیونکہ وہ دائیں طرف تھا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دائیں طرف بیٹھنے والے، دائیں طرف بیٹھنے والے ہی حق رکھتے ہیں۔ پس خبردار دائیں طرف ہی سے شروع کیا کرو۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی سنت ہے، یہی سنت ہے، تین مرتبہ ( آپ نے اس بات کو دہرایا ) ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِجَنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ " وَجَبَتْ ". ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ـ أَوْ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ ـ فَقَالَ " وَجَبَتْ ". فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ، وَلِهَذَا وَجَبَتْ، قَالَ " شَهَادَةُ الْقَوْمِ، الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ ".
Narrated Anas:A funeral procession passed in front of the Prophet (ﷺ) and the people praised the deceased. The Prophet (ﷺ) said, "It has been affirmed (Paradise)." Then another funeral procession passed by and the people talked badly of the deceased. The Prophet (ﷺ) said, "It has been affirmed (Hell)." Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You said it has been affirmed for both?" The Prophet (ﷺ) said, "The testimony of the people (is accepted), (for) the believers are Allah's witnesses on the earth
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ثابت سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس میت کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”واجب ہو گئی“ پھر دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی، یا اس کے سوا اور الفاظ ( اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ) کہے ( راوی کو شبہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی فرمایا ”واجب ہو گئی“ عرض کیا گیا۔ یا رسول اللہ! آپ نے اس جنازہ کے متعلق بھی فرمایا کہ واجب ہو گئی اور پہلے جنازہ پر بھی یہی فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایمان والی قوم کی گواہی ( بارگاہ الٰہی میں مقبول ہے ) یہ لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔“
Narrated by Abu Huraira and Zaid bin Khalid Al-Juhani
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، رضى الله عنهما قَالاَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ. فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ صَدَقَ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ. فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَقَالُوا لِي عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ. فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَقَالُوا إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ ـ لِرَجُلٍ ـ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَارْجُمْهَا ". فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا.
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid Al-Juhani:A bedouin came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Judge between us according to Allah's Laws." His opponent got up and said, "He is right. Judge between us according to Allah's Laws." The bedouin said, "My son was a laborer working for this man, and he committed illegal sexual intercourse with his wife. The people told me that my son should be stoned to death; so, in lieu of that, I paid a ransom of one hundred sheep and a slave girl to save my son. Then I asked the learned scholars who said, "Your son has to be lashed one-hundred lashes and has to be exiled for one year." The Prophet (ﷺ) said, "No doubt I will judge between you according to Allah's Laws. The slave-girl and the sheep are to go back to you, and your son will get a hundred lashes and one year exile." He then addressed somebody, "O Unais! go to the wife of this (man) and stone her to death" So, Unais went and stoned her to death
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کر دیجئیے۔ دوسرے فریق نے بھی یہی کہا کہ اس نے سچ کہا ہے۔ آپ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیں۔ دیہاتی نے کہا کہ میرا لڑکا اس کے یہاں مزدور تھا۔ پھر اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ قوم نے کہا تمہارے لڑکے کو رجم کیا جائے گا، لیکن میں نے اپنے لڑکے کے اس جرم کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی، پھر میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے ملک بدر کر دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس لوٹا دی جاتی ہیں، البتہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کیا جائے گا اور انیس تم ( یہ قبیلہ اسلم کے صحابی تھے ) اس عورت کے گھر جاؤ اور اسے رجم کر دو ( اگر وہ زنا کا اقرار کر لے ) چنانچہ انیس گئے، اور ( چونکہ اس نے بھی زنا کا اقرار کر لیا تھا اس لیے ) اسے رجم کر دیا۔“
Narrated by `Urwa
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةََ،ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ، وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ. فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ. فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
Narrated `Urwa:Aisha told me that Barirah came to seek her help in writing for emancipation and at that time she had not paid any part of her price. `Aisha said to her, "Go to your masters and if they agree that I will pay your price (and free you) on condition that your Wala' will be for me, I will pay the money." Barirah told her masters about that, but they refused, and said, "If `Aisha wants to do a favor she could, but your Wala will be for us." Aisha informed Allah's Messenger (ﷺ) of that and he said to her, "Buy and manumit Barirah as the Wala' will go to the manumitted
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ بریرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی مکاتبت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لیے آئیں، انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں ( اپنے مالکوں کو ) کچھ دیا نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کہ اپنے مالکوں کے یہاں جا کر ( ان سے دریافت کرو ) اگر وہ یہ صورت پسند کریں کہ تمہاری مکاتبت کی ساری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو جائے تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہ نے اس کا تذکرہ جب اپنے مالکوں کے سامنے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) اگر چاہیں تو یہ کار ثواب تمہارے ساتھ کر سکتی ہیں لیکن ولاء تو ہمارے ہی رہے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَوْ غَضَّ النَّاسُ إِلَى الرُّبْعِ، لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ ".
Narrated Ibn `Abbas:I recommend that people reduce the proportion of what they bequeath by will to the fourth (of the whole legacy), for Allah's Messenger (ﷺ) said, "One-third, yet even one third is too much
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کاش ! لوگ (وصیت کو) چوتھائی تک کم کر دیتے تو بہتر ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” تم تہائی (کی وصیت کر سکتے ہو) اور تہائی بھی بہت ہے ۔ “ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) ” یہ بہت زیادہ رقم ہے ۔ “
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ ـ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ، وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ سَالِمًا مَعَ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ".
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The example of a Mujahid in Allah's Cause-- and Allah knows better who really strives in His Cause----is like a person who fasts and prays continuously. Allah guarantees that He will admit the Mujahid in His Cause into Paradise if he is killed, otherwise He will return him to his home safely with rewards and war booty
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال۔۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوب جانتا ہے جو ( خلوص دل کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ) اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔۔۔۔ اس شخص کی سی ہے جو رات میں برابر نماز پڑھتا رہے اور دن میں برابر روزے رکھتا رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کیلئے اس کی ذمہ داری لے لی ہے کہ اگر اسے شہادت دے گا تو اسے بے حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا یا پھر زندہ و سلامت ( گھر ) ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، كِلاَنَا جُنُبٌ. وَكَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ، فَيُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ. وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ إِلَىَّ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) and I used to take a bath from a single pot while we were Junub. During the menses, he used to order me to put on an Izar (dress worn below the waist) and used to fondle me. While in I`tikaf, he used to bring his head near me and I would wash it while I used to be in my periods (menses)
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا فِي بَيْتِي مِنْ شَىْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلاَّ شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَىَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ.
Narrated Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) died, and there was nothing in my house that a living being could eat, except some barley Lying on a shelf. So, I ate of it for a long period and measured it, and (after a short period) it was consumed
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے ‘ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے گھر میں آدھے وسق جو کے سوا جو ایک طاق میں رکھے ہوئے تھے اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے ( جاندار ) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی اور بہت دن گزر گئے۔ پھر میں نے اس میں سے ناپ کر نکالنا شروع کیا تو وہ جلدی ختم ہو گئے۔
Narrated by Yahya bin Sa`id
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الأَنْصَارَ لِيَكْتُبَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لاَ وَاللَّهِ حَتَّى تَكْتُبَ لإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا. فَقَالَ ذَاكَ لَهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ يَقُولُونَ لَهُ قَالَ " فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ".
Narrated Yahya bin Sa`id:Once the Prophet (ﷺ) called the Ansar in order to grant them part of the land of Bahrain. On that they said, "No! By Allah, we will not accept it unless you grant a similar thing to our Quraishi brothers as well." He said, "That will be their's if Allah wishes." But when the Ansar persisted in their request, he said, "After me you will see others given preference over you in this respect (in which case) you should be patient till you meet me at the Tank (of Al-Kauthar)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا، تاکہ بحرین میں ان کے لیے کچھ زمین لکھ دیں۔ لیکن انہوں نے عرض کیا کہ نہیں! اللہ کی قسم! ( ہمیں اسی وقت وہاں زمین عنایت فرمائیے ) جب اتنی زمین ہمارے بھائی قریش ( مہاجرین ) کے لیے بھی آپ لکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تک اللہ کو منظور ہے یہ معاش ان کو بھی ( یعنی قریش والوں کو ) ملتی رہے گی۔“ لیکن انصار یہی اصرار کرتے رہے کہ قریش والوں کے لیے بھی سندیں لکھ دیجئیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی، لیکن تم صبر سے کام لینا، تاآنکہ تم آخر میں مجھ سے آ کر ملو ( جنگ اور فساد نہ کرنا ) ۔
Narrated by Muhammad bin Ibrahim bin Al-Harith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ لَهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الأَرْضَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".
Narrated Muhammad bin Ibrahim bin Al-Harith:from Abu Salama bin `Abdur-Rahman who had a dispute with some people on a piece of land, and so he went to `Aisha and told her about it. She said, "O Abu Salama, avoid the land, for Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Any person who takes even a span of land unjustly, his neck shall be encircled with it down seven earths
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں علی بن مبارک نے کہا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کا ایک دوسرے صاحب سے ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے ( جواب میں ) فرمایا: ابوسلمہ! کسی کی زمین ( کے ناحق لینے ) سے بچو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر ایک بالشت کے برابر بھی کسی نے ( زمین کے بارے میں ) ظلم کیا تو ( قیامت کے دن ) ساتھ زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُوسَى بْنُ حِزَامٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَىْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلاَهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Apostle said, "Treat women nicely, for a woman is created from a rib, and the most curved portion of the rib is its upper portion, so, if you should try to straighten it, it will break, but if you leave it as it is, it will remain crooked. So treat women nicely
ہم سے ابوکریب اور موسیٰ بن حزام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، ان سے زائدہ نے، ان سے میسرہ اشجعی نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی۔ پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔“
Narrated by Sa`id bin `Abdur Rahman bin Abza
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَمَّارٌ بِهَذَا، وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ، ثُمَّ أَدْنَاهُمَا مِنْ فِيهِ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ. وَقَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ الْحَكَمُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَمَّارٌ.
Narrated Sa`id bin `Abdur Rahman bin Abza:(on the authority of his father who said) `Ammar said so (the above Statement). And Shu`ba stroked lightly the earth with his hands and brought them close to his mouth (blew off the dust) and passed them over his face and then the backs of his hands. `Ammar said, "Ablution (meaning Tayammum here) is sufficient for a Muslim if water is not available
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ مجھے حکم بن عیینہ نے خبر دی ذر بن عبداللہ سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے باپ سے کہ عمار نے یہ واقعہ بیان کیا ( جو پہلے گزر چکا ) اور شعبہ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا۔ پھر انہیں اپنے منہ کے قریب کر لیا ( اور پھونکا ) پھر ان سے اپنے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا اور نضر بن شمیل نے بیان کیا کہ مجھے شعبہ نے خبر دی حکم سے کہ میں نے ذر بن عبداللہ سے سنا، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کے حوالہ سے حدیث روایت کرتے تھے۔ حکم نے کہا کہ میں نے یہ حدیث ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے سنی، وہ اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتے تھے کہ عمار نے کہا ( جو پہلے مذکور ہوا ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ ". "وَالنَّاسُ مَعَادِنُ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوا، تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّ النَّاسِ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ حَتَّى يَقَعَ فِيهِ
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The tribe of Quraish has precedence over the people in this connection (i.e the right of ruling). The Muslims follow the Muslims amongst them, and the infidels follow the infidels amongst them. People are of different natures: The best amongst them in the pre-Islamic period are the best in Islam provided they comprehend the religious knowledge. You will find that the best amongst the people in this respect (i.e. of ruling) is he who hates it (i.e. the idea of ruling) most, till he is given the pledge of allegiance
Narrated by `Umar bin Abi Salama
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ.
Narrated `Umar bin Abi Salama:The Prophet (ﷺ) prayed in one garment and crossed its ends
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالہ سے بیان کیا، وہ عمر بن ابی سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور آپ نے کپڑے کے دونوں کناروں کو مخالف طرف کے کاندھے پر ڈال لیا۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ وَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ ذَلِكَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللَّهِ ". قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَعَجِبْنَا لِبُكَائِهِ أَنْ يُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَبْدٍ خُيِّرَ. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ الْمُخَيَّرُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَىَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً غَيْرَ رَبِّي لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِسْلاَمِ وَمَوَدَّتُهُ، لاَ يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِد ِباب إِلاَّ سُدَّ، إِلاَّ باب أَبِي بَكْرٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) addressed the people saying, "Allah has given option to a slave to choose this world or what is with Him. The slave has chosen what is with Allah." Abu Bakr wept, and we were astonished at his weeping caused by what the Prophet (ﷺ) mentioned as to a Slave ( of Allah) who had been offered a choice, (we learned later on) that Allah's Messenger (ﷺ) himself was the person who was given the choice, and that Abu Bakr knew best of all of us. Allah's Messenger (ﷺ) added, "The person who has favored me most of all both with his company and wealth, is Abu Bakr. If I were to take a Khalil other than my Lord, I would have taken Abu Bakr as such, but (what relates us) is the Islamic brotherhood and friendliness. All the gates of the Mosque should be closed except the gate of Abu Bakr
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے وہ اختیار کر لیا جو اللہ کے پاس تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا، لیکن بات یہ تھی کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور ( واقعتاً ) ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے ( جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے ) سب بند کر دیئے جائیں۔ صرف ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْمَالِ، فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ عَلِمَتِ الأَنْصَارُ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِهَا مَالاً، سَأَقْسِمُ مَالِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَيْنِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ أَعْجَبَهُمَا إِلَيْكَ فَأُطَلِّقُهَا، حَتَّى إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا. فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ. فَلَمْ يَرْجِعْ يَوْمَئِذٍ حَتَّى أَفْضَلَ شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ يَسِيرًا، حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْيَمْ ". قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ. فَقَالَ " مَا سُقْتَ فِيهَا ". قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ".
Narrated Anas:When `Abdur-Rahman bin `Auf came to us, Allah's Messenger (ﷺ) made a bond of fraternity between him and Sa`d bin Ar-Rabi` who was a rich man, Sa`d said, "The Ansar know that I am the richest of all of them, so I will divide my property into two parts between me and you, and I have two wives; see which of the two you like so that I may divorce her and you can marry her after she becomes lawful to you by her passing the prescribed period (i.e. 'Idda) of divorce. `Abdur Rahman said, "May Allah bless you your family (i.e. wives) for you." (But `Abdur-Rahman went to the market) and did not return on that day except with some gain of dried yogurt and butter. He went on trading just a few days till he came to Allah's Messenger (ﷺ) bearing the traces of yellow scent over his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) asked him, "What is this scent?" He replied, "I have married a woman from the Ansar." Allah's Apostle asked, "How much Mahr have you given?" He said, "A date-stone weight of gold or a golden date-stone." The Prophet (ﷺ) said, "Arrange a marriage banquet even with a sheep
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ بہت دولت مند تھے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: انصار کو معلوم ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں اس لیے میں اپنا آدھا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میرے گھر میں دو بیویاں ہیں جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا اس کی عدت گزر جانے پر آپ اس سے نکاح کر لیں۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہارے اہل و مال میں برکت عطا فرمائے، ( مجھ کو اپنا بازار دکھلا دو ) پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہیں آئے جب تک کچھ گھی اور پنیر بطور نفع بچا نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جسم پر زردی کا نشان تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ بولے کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا مہر کیا دیا ہے؟ بولے ایک گٹھلی کے برابر سونا یا ( یہ کہا کہ ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اب ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} عَنْ بَدْرٍ، وَالْخَارِجُونَ، إِلَى بَدْرٍ.
Narrated Ibn `Abbas:The believers who failed to join the Ghazwa of Badr and those who took part in it are not equal (in reward)
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبدالکریم نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن حارث کے مولیٰ مقسم سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ ( سورۃ نساء کی اس آیت سے ) «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» جہاد میں شرکت کرنے والے اور اس میں شریک نہ ہونے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ وہ لوگ مراد ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے اور جو اس میں شریک نہیں ہوئے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ} فَدَخَلُوا يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، فَبَدَّلُوا وَقَالُوا حِطَّةٌ، حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "It was said to the children of Israel, 'Enter the gate (of the town), prostrate (in humility) and say: Hittatun (i.e. repentance) i.e. O Allah! Forgive our sins.' But they entered by dragging themselves on their buttocks, so they did something different (from what they had been ordered to do) and said, 'Hittatun,' but added, "A grain in a hair
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، ان سے عبداللہ بن مبارک نے، ان سے معمر نے، ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم ہوا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھکتے ہوئے داخل ہوں اور «حطة» کہتے ہوئے ( یعنی ) ”اے اللہ! ہمارے گناہ معاف کر دے۔“ لیکن وہ الٹے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کلمہ «حطة» کو بھی بدل دیا اور کہا کہ «حبة في شعرة» یعنی دل لگی کے طور پر کہنے لگے کہ ”دانہ بال کے اندر ہونا چاہیے۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنْ يَنْسَخُوهَا، فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ لَهُمْ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي عَرَبِيَّةٍ مِنْ عَرَبِيَّةِ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهَا بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا.
Narrated Anas bin Malik:(The Caliph `Uthman ordered Zaid bin Thabit, Sa`id bin Al-As, `Abdullah bin Az-Zubair and `Abdur- Rahman bin Al-Harith bin Hisham to write the Qur'an in the form of a book (Mushafs) and said to them. "In case you disagree with Zaid bin Thabit (Al-Ansari) regarding any dialectic Arabic utterance of the Qur'an, then write it in the dialect of Quraish, for the Qur'an was revealed in this dialect." So they did it
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، سعید بن عاص، عبداللہ بن زبیر، عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ قرآن مجید کو کتابی شکل میں لکھیں اور فرمایا کہ اگر قرآن کے کسی محاورے میں تمہارا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اس لفظ کو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھو، کیونکہ قرآن ان ہی کے محاورے پر نازل ہوا ہے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) used to go round (have sexual relations with) all his wives in one night, and he had nine wives
ہم سے مسدد نے بیان کیا۔ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ ابن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث بیان کی۔
Narrated by Sahl and Abu Usaid
وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّيْسَابُورِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبِي، أُسَيْدٍ قَالاَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُمَيْمَةَ بِنْتَ شَرَاحِيلَ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَكَأَنَّهَا كَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُجَهِّزَهَا وَيَكْسُوَهَا ثَوْبَيْنِ رَازِقِيَّيْنِ.
Narrated Sahl and Abu Usaid:The Prophet (ﷺ) married Umaima bint Sharahil, and when she was brought to him, he stretched his hand towards her. It seemed that she disliked that, whereupon the Prophet (ﷺ) ordered Abu Usaid to prepare her and to provide her with two white linen dresses
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَنَا صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ " الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا ". قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ". قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
Narrated `Abdullah:I asked the Prophet (ﷺ) "Which deed is the dearest to Allah?" He replied, "To offer the prayers at their early stated fixed times." I asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, "To be good and dutiful to your parents" I again asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, 'To participate in Jihad (religious fighting) in Allah's cause." `Abdullah added, "I asked only that much and if I had asked more, the Prophet (ﷺ) would have told me more
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار کوفی نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمر و شیبانی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے اس گھر کے مالک سے سنا، (آپ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کر رہے تھے) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔ ( لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The best alms is that which you give when you are rich, and you should start first to support your dependants
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین خیرات وہ ہے جسے دینے پر آدمی مالدار ہی رہے اور ابتداء ان سے کرو جو تمہاری نگرانی میں ہیں جن کے کھلانے پہنانے کے تم ذمہ دار ہو۔
Narrated by Wahb bin Kaisan Abi Nu'aim
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ " سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ ".
Narrated Wahb bin Kaisan Abi Nu'aim:A meal was brought to Allah's Messenger (ﷺ) while his step-son, `Umar bin Abi Salama was with him. Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "Mention the Name of Allah and eat of the dish what is nearer to you
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، ان سے ابونعیم وہب بن کیسان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا، آپ کے ساتھ آپ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھ اور اپنے سامنے سے کھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَةٌ. وَقَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وَقَتَادَةُ وَهِشَامٌ وَحَبِيبٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Salman bin 'Amri Ad-Dabbi, the Prophet (ﷺ) said, 'Aqiqa is to be offered for a (newly born) boy
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ (صحابی) نے بیان کیا کہ بچہ کا عقیقہ کرنا چاہیئے۔ اور حجاج بن منہال نے کہا۔ ان سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ایوب سختیانی، قتادہ، ہشام بن حسان اور حبیب بن شہید ان چاروں نے خبر دی، انہیں محمد بن سیرین نے اور انہیں سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور کئی لوگوں نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان اور ہشام بن حسان نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے، ان سے رباب بنت صلیع نے، ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس کی روایت یزید بن ابراہیم تستری نے کی، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنا قول موقوفاً ( غیر مرفوع ) ذکر کیا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِيَةٍ، نَقَصَ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطَانِ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever keeps a (pet) dog which is neither a watch dog nor a hunting dog, will get a daily deduction of two Qirat from his good deeds
ہم سے مسلم بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایسا کتا پالا جو نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ہے اور نہ شکار کرنے کے لیے تو روزانہ اس کی نیکیوں میں سے دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔
Narrated by Abu Bakra
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ " أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ " أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ". قُلْنَا بَلَى. قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ـ وَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ".
Narrated Abu Bakra:The Prophet (ﷺ) said, "Time has come back to its original state which it had on the day Allah created the Heavens and the Earth. The year is twelve months, four of which are sacred, three of them are in succession, namely Dhul-Qa'da, Dhul Hijja and Muharram, (the fourth being) Rajab Mudar which is between Juma'da (ath-thamj and Sha'ban. The Prophet (ﷺ) then asked, "Which month is this?" We said, "Allah and his Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We said, "Yes." He said, "Which town is this?" We said, "Allah and His Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it t,y a name other than its real name. He said, "isn't it the town (of Mecca)?" We replied, "Yes." He said, "What day is today?" We replied, "Allah and His Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, "Isn't it the day of Nahr?" We replied, "Yes." He then said, "Your blood, properties and honor are as sacred to one another as this day of yours in this town of yours in this month of yours. You will meet your Lord, and He will ask you about your deeds. Beware! Do not go astray after me by cutting the necks of each other. It is incumbent upon those who are present to convey this message to those who are absent, for some of those to whom it is conveyed may comprehend it better than some of those who have heard it directly." (Muhammad, the sub-narrator, on mentioning this used to say: The Prophet then said, "No doubt! Haven't I delivered (Allah's) Message (to you)? Haven't I delivered Allah's message (to you)?
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ابن ابی بکرہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ پھر کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے۔ سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں، تین پے در پے ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ) یہ کون سا مہینہ ہے، ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ ہی ہے۔ پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بلدہ ( مکہ مکرمہ ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ دن کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن ( یوم النحر ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس تمہارا خون، تمہارے اموال۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ( ابن ابی بکرہ نے ) یہ بھی کہا کہ اور تمہاری عزت تم پر ( ایک کی دوسرے پر ) اس طرح باحرمت ہیں جس طرح اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں ہے اور عنقریب اپنے رب سے ملو گے اس وقت وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا آ گاہ ہو جاؤ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض دوسرے کی گردن مارنے لگے۔ ہاں جو یہاں موجود ہیں وہ ( میرا یہ پیغام ) غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں۔ ممکن ہے کہ بعض وہ جنہیں یہ پیغام پہنچایا جائے بعض ان سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے ہوں جو اسے سن رہے ہیں۔ اس پر محمد بن سیرین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے ( اس کا پیغام تم کو ) پہنچا دیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ ـ يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ ـ خَمْرَ الأَعْنَابِ إِلاَّ قَلِيلاً، وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ.
Narrated Anas:"Alcoholic drinks were prohibited at the time we could rarely find wine made from grapes in Medina, for most of our liquors were made from unripe and ripe dates
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوشہاب عبدربہ بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ،. حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Aisha:I never saw anybody suffering so much from sickness as Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان سے بیان کیا، ان سے اعمش نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے ( مرض وفات کی تکلیف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کسی میں نہیں دیکھی۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ ـ أَوْ يَكُونُ فِي شَىْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ ـ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ الدَّاءَ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "If there is any healing in your medicines, then it is in cupping, a gulp of honey or branding with fire (cauterization) that suits the ailment, but I don't like to be (cauterized) branded with fire
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمیر بن قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری ( ان ) دواؤں میں بھلائی ہے۔ تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ), "Allah will not look, on the Day of Resurrection, at a person who drags his Izar (behind him) out of pride and arrogance
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنا تہمد غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا نہیں۔“
Narrated by Al-Mughira
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الأُمَّهَاتِ، وَمَنْعَ وَهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ".
Narrated Al-Mughira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah has forbidden you ( 1 ) to be undutiful to your mothers (2) to withhold (what you should give) or (3) demand (what you do not deserve), and (4) to bury your daughters alive. And Allah has disliked that (A) you talk too much about others ( B), ask too many questions (in religion), or (C) waste your property
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مسیب نے ان سے وراد نے اور ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام قرار دی ہے اور ( والدین کے حقوق ) نہ دینا اور ناحق ان سے مطالبات کرنا بھی حرام قرار دیا ہے، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا ( بھی حرام قرار دیا ہے ) اور «قيل وقال» ( فضول باتیں ) کثرت سوال اور مال کی بربادی کو بھی ناپسند کیا ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.
Narrated Ibn 'Abbas: Allah's Messenger (ﷺ) was the most generous of all the people, and he used to reach the peak in generosity in the month of Ramadan when Gabriel met him. Gabriel used to meet him every night of Ramadan to teach him the Qur'an. Allah's Messenger (ﷺ) was the most generous person, even more generous than the strong uncontrollable wind (in readiness and haste to do charitable deeds)
ہم کو عبدان نے حدیث بیان کی، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، ان کو یونس نے، انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ (دوسری سند یہ ہے کہ) ہم سے بشر بن محمد نے یہ حدیث بیان کی۔ ان سے عبداللہ بن مبارک نے، ان سے یونس اور معمر دونوں نے، ان دونوں نے زہری سے روایت کی پہلی سند کے مطابق زہری سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ جواد ( سخی ) تھے اور رمضان میں ( دوسرے اوقات کے مقابلہ میں جب ) جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے، غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ جود و کرم فرمایا کرتے تھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قَضَى النِّدَاءَ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قَضَى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا. لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the Adhan is pronounced Satan takes to his heels and passes wind with noise during his flight in order not to hear the Adhan. When the Adhan is completed he comes back and again takes to his heels when the Iqama is pronounced and after its completion he returns again till he whispers into the heart of the person (to divert his attention from his prayer) and makes him remember things which he does not recall to his mind before the prayer and that causes him to forget how much he has prayed
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے ابولزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پادتا ہوا بڑی تیزی کے ساتھ پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے۔ لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوئی وہ پھر پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ جب تکبیر بھی ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر فلاں بات یاد کر۔ ان باتوں کی شیطان یاد دہانی کراتا ہے جن کا اسے خیال بھی نہ تھا اور اس طرح اس شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The riding one should greet the walking one, and the walking one should greet the sitting one, and the small number of persons should greet the large number of persons
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے زیاد نے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ثابت سے سنا، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے بڑی تعداد والوں کو۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَحَدَّثَنَا هُدْبَةُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ سَقَطَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَقَدْ أَضَلَّهُ فِي أَرْضِ فَلاَةٍ ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah is more pleased with the repentance of His slave than anyone of you is pleased with finding his camel which he had lost in the desert
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ہدبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ مایوسی کے بعد اچانک اسے مل گیا ہو حالانکہ وہ ایک چٹیل میدان میں گم ہوا تھا۔“
Narrated by `Abdullah bin `Abbas
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِكِتَابِهِ رَجُلاً، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ. فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ.
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Once Allah's Messenger (ﷺ) gave a letter to a person and ordered him to go and deliver it to the Governor of Bahrain. (He did so) and the Governor of Bahrain sent it to Chousroes, who read that letter and then tore it to pieces. (The sub-narrator (Ibn Shihab) thinks that Ibn Al-Musaiyab said that Allah's Messenger (ﷺ) invoked Allah against them (saying), "May Allah tear them into pieces, and disperse them all totally
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے صالح کے واسطے سے روایت کی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنا ایک خط دے کر بھیجا اور اسے یہ حکم دیا کہ اسے حاکم بحرین کے پاس لے جائے۔ بحرین کے حاکم نے وہ خط کسریٰ ( شاہ ایران ) کے پاس بھیج دیا۔ جس وقت اس نے وہ خط پڑھا تو چاک کر ڈالا ( راوی کہتے ہیں ) اور میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے ( اس کے بعد ) مجھ سے کہا کہ ( اس واقعہ کو سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایران کے لیے بددعا کی کہ وہ ( بھی چاک شدہ خط کی طرح ) ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَطَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ، مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ وَقَالَ " هَذَا الإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ ـ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِهِ ـ وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ، وَهَذِهِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) drew a square and then drew a line in the middle of it and let it extend outside the square and then drew several small lines attached to that central line, and said, "This is the human being, and this, (the square) in his lease of life, encircles him from all sides (or has encircled him), and this (line), which is outside (the square), is his hope, and these small lines are the calamities and troubles (which may befall him), and if one misses him, an-other will snap (i.e. overtake) him, and if the other misses him, a third will snap (i.e. overtake) him
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ قطان نے خبر دی، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے منذر بن یعلیٰ نے، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکھٹا خط کھینچا۔ پھر اس کے درمیان ایک خط کھینچا جو چوکھٹے کے درمیان میں تھا۔ اس کے بعد درمیان والے خط کے اس حصے میں جو چوکھٹے کے درمیان میں تھا چھوٹے چھوٹے بہت سے خطوط کھینچے اور پھر فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ جو ( بیچ کا ) خط باہر نکلا ہوا ہے وہ اس کی امید ہے اور چھوٹے چھوٹے خطوط اس کی دنیاوی مشکلات ہیں۔ پس انسان جب ایک ( مشکل ) سے بچ کر نکلتا ہے تو دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے تو تیسری میں پھنس جاتا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تُنْتِجُونَ الْبَهِيمَةَ، هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهْوَ صَغِيرٌ قَالَ {اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born but has the Islamic Faith, but its parents turn it into a Jew or a Christian. It is as you help the animals give birth. Do you find among their offspring a mutilated one before you mutilate them yourself?" The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you think about those (of them) who die young?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah knows what they would have done (were they to live)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينٍ فَهْوَ أَعْظَمُ إِثْمًا، لِيَبَرَّ ". يَعْنِي الْكَفَّارَةَ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Anyone who takes an oath through which his family may be harmed, and insists on keeping it, he surely commits a sin greater (than that of dissolving his oath). He should rather compensate for that oath by making expiation
مجھ سے اسحاق یعنی ابن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر اڑا رہتا ہے وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ـ وَهْوَ سَلْمٌ ـ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي زَكَاةَ رَمَضَانَ بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْمُدِّ الأَوَّلِ، وَفِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ قَالَ لَنَا مَالِكٌ مُدُّنَا أَعْظَمُ مِنْ مُدِّكُمْ وَلاَ نَرَى الْفَضْلَ إِلاَّ فِي مُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ لِي مَالِكٌ لَوْ جَاءَكُمْ أَمِيرٌ فَضَرَبَ مُدًّا أَصْغَرَ مِنْ مُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَىِّ شَىْءٍ كُنْتُمْ تُعْطُونَ قُلْتُ كُنَّا نُعْطِي بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَفَلاَ تَرَى أَنَّ الأَمْرَ إِنَّمَا يَعُودُ إِلَى مُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar used to give the Zakat of Ramadan (Zakat-al-Fitr) according to the Mudd of the Prophet, the first Mudd, and he also used to give things for expiation for oaths according to the Mudd of the Prophet. Abu Qutaiba said, "Malik said to us, 'Our Mudd (i.e., of Medina) is better than yours and we do not see any superiority except in the Mudd of the Prophet!' Malik further said, to me, 'If a ruler came to you and fixed a Mudd smaller than the one of the Prophet, by what Mudd would you measure what you give (for expiation or Zakat-al-Fitr?' I replied, 'We would give it according to the Mudd of the Prophet' On that, Malik said, 'Then, don't you see that we have to revert to the Mudd of the Prophet ultimately?)
ہم سے منذر بن الولید الجارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوقتیبہ، سلم شعیری نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کا فطرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے مد کے وزن سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے۔ ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس حساب سے ( صدقہ فطر وغیرہ ) نکا لو گے؟ میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے فطرہ نکالا کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهْوَ صَدَقَةٌ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Not even a single Dinar of my property should be distributed (after my deaths to my inheritors, but whatever I leave excluding the provision for my wives and my servants, should be spent in charity)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہیں ہو گا۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچہ اور اپنے عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔“
Narrated by Abu Salama
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، أَنَسٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ قَالَ " اضْرِبُوهُ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ. قَالَ " لاَ تَقُولُوا هَكَذَا لاَ تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ ".
Narrated Abu Salama:Abu Huraira said, "A man who drank wine was brought to the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, 'Beat him!" Abu Huraira added, "So some of us beat him with our hands, and some with their shoes, and some with their garments (by twisting it) like a lash, and then when we finished, someone said to him, 'May Allah disgrace you!' On that the Prophet (ﷺ) said, 'Do not say so, for you are helping Satan to overpower him
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے انس نے بیان کیا، ان سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو شراب پیے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کے جملے نہ کہو، اس کے معاملہ میں شیطان کی مدد نہ کر۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "No human being is killed unjustly, but a part of responsibility for the crime is laid on the first son of Adam who invented the tradition of killing (murdering) on the earth. (It is said that he was Qabil)
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو جان ناحق قتل کی جائے اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل پر ) پڑتا ہے۔“
Narrated by Abu Burda
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي، وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَاكُ فَكِلاَهُمَا سَأَلَ. فَقَالَ " يَا أَبَا مُوسَى ". أَوْ " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ". قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ. فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتِ شَفَتِهِ قَلَصَتْ فَقَالَ " لَنْ ـ أَوْ ـ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى ـ أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ـ إِلَى الْيَمَنِ ". ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً قَالَ انْزِلْ، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ. قَالَ مَا هَذَا قَالَ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ. قَالَ اجْلِسْ. قَالَ لاَ أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ. قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ تَذَاكَرْنَا قِيَامَ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا أَمَّا أَنَا فَأَقُومُ وَأَنَامُ، وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي.
Narrated Abu Burda:Abu Musa said, "I came to the Prophet (ﷺ) along with two men (from the tribe) of Ash`ariyin, one on my right and the other on my left, while Allah's Messenger (ﷺ) was brushing his teeth (with a Siwak), and both men asked him for some employment. The Prophet (ﷺ) said, 'O Abu Musa (O `Abdullah bin Qais!).' I said, 'By Him Who sent you with the Truth, these two men did not tell me what was in their hearts and I did not feel (realize) that they were seeking employment.' As if I were looking now at his Siwak being drawn to a corner under his lips, and he said, 'We never (or, we do not) appoint for our affairs anyone who seeks to be employed. But O Abu Musa! (or `Abdullah bin Qais!) Go to Yemen.'" The Prophet then sent Mu`adh bin Jabal after him and when Mu`adh reached him, he spread out a cushion for him and requested him to get down (and sit on the cushion). Behold: There was a fettered man beside Abu Muisa. Mu`adh asked, "Who is this (man)?" Abu Muisa said, "He was a Jew and became a Muslim and then reverted back to Judaism." Then Abu Muisa requested Mu`adh to sit down but Mu`adh said, "I will not sit down till he has been killed. This is the judgment of Allah and His Apostle (for such cases) and repeated it thrice. Then Abu Musa ordered that the man be killed, and he was killed. Abu Musa added, "Then we discussed the night prayers and one of us said, 'I pray and sleep, and I hope that Allah will reward me for my sleep as well as for my prayers
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، انہوں نے قرۃ بن خالد سے، کہا مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے ابوموسیٰ اشعری سے، انہوں نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میرے ساتھ اشعر قبیلے کے دو شخص تھے ( نام نامعلوم ) ایک میرے داہنے طرف تھا، دوسرا بائیں طرف۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے۔ دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عہدہ کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس! ( راوی کو شک ہے ) میں نے اسی وقت عرض کیا: یا رسول اللہ! اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے اپنے دل کی بات مجھ سے نہیں کہی تھی اور مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں شخص عہدہ چاہتے ہیں۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں جیسے میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں وہ آپ کے ہونٹ کے نیچے اٹھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی ہم سے عہدہ کی درخواست کرتا ہے ہم اس کو عہدہ نہیں دیتے۔ لیکن ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس! تو یمن کی حکومت پر جا ( خیر ابوموسیٰ روانہ ہوئے ) اس کے بعد آپ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھی ان کے پیچھے روانہ کیا۔ جب معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کے بیٹھنے کے لیے گدا بچھوایا اور کہنے لگے سواری سے اترو گدے پر بیٹھو۔ اس وقت ان کے پاس ایک شخص تھا ( نام نامعلوم ) جس کی مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا یہ یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اب پھر یہودی ہو گیا ہے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا اجی تم سواری پر سے اتر کر بیٹھو۔ انہوں نے کہا میں نہیں بیٹھتا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے موافق یہ قتل نہ کیا جائے گا تین بار یہی کہا۔ آخر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا وہ قتل کیا گیا۔ پھر معاذ رضی اللہ عنہ بیٹھے۔ اب دونوں نے رات کی عبادت ( تہجد گزاری ) کا ذکر چھیڑا۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تو رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور مجھے امید ہے کہ سونے میں بھی مجھ کو وہی ثواب ملے گا جو نماز پڑھنے اور عبادت کرنے میں۔
Narrated by Khansa' bint Khidam Al-Ansariya
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ، ابْنَىْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، زَوَّجَهَا وَهْىَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ نِكَاحَهَا.
Narrated Khansa' bint Khidam Al-Ansariya:That her father gave her in marriage when she was a matron and she disliked that marriage. So she came and (complained) to the Prophets and he declared that marriage invalid. (See Hadith No. 69, Vol)
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے یزید بن حارثہ انصاری کے دو صاحبزادوں عبدالرحمٰن اور مجمع نے اور ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ نے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ان کی ایک شادی اس سے پہلے ہو چکی تھی ( اور اب بیوہ تھیں ) اس نکاح کو انہوں نے ناپسند کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ( اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر دی ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا۔
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا ". وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِذَا بَلَغَتِ الإِبِلُ عِشْرِينَ، فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ، فَإِنْ وَهَبَهَا قَبْلَ الْحَوْلِ أَوْ بَاعَهَا، فِرَارًا وَاحْتِيَالاً لإِسْقَاطِ الزَّكَاةِ، فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ، وَكَذَلِكَ إِنْ أَتْلَفَهَا فَمَاتَ، فَلاَ شَىْءَ فِي مَالِهِ.
Narrated Ibn Abbas: Sa'd bin 'Ubada Al-Ansari sought the verdict of Allah's Messenger (ﷺ) regarding a vow made by his mother who had died before fulfilling it. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Fulfill it on her behalf." Some people said, "If the number of camels reaches twenty, then their owner has to pay four sheep as Zakat; and if their owner gives them as a gift or sells them in order to escape the payment of Zakat cunningly before the completion of a year, then he is not to pay anything, and if he slaughters them and then dies, then no Zakat is to be taken from his property
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عتبہ نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں سوال کیا جو ان کی والدہ پر تھی اور ان کی وفات نذر پوری کرنے سے پہلے ہی ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو ان کی طرف سے پوری کر۔ اس کے باوجود بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب اونٹ کی تعداد بیس ہو جائے تو اس میں چار بکریاں لازم ہیں۔ پس اگر سال پورا ہونے سے پہلے اونٹ کو ہبہ کر دے یا اسے بیچ دے۔ زکوٰۃ سے بچنے یا حیلہ کے طور پر تاکہ زکوٰۃ اس پر ختم ہو جائے تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہو گی۔ یہی حال اس صورت میں ہے اگر اس نے ضائع کر دیا اور پھر مر گیا تو اس کے مال پر کچھ واجب نہیں ہو گا۔
Narrated by Ubada bin As-Samit
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ".
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "The (good) dreams of a faithful believer is a part of the forty-six parts of prophetism:
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنِ الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever disapproves of something done by his ruler then he should be patient, for whoever disobeys the ruler even a little (little = a span) will die as those who died in the Pre-Islamic Period of Ignorance. (i.e. as rebellious Sinners)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے جعد صیرفی نے، ان سے ابورجاء عطاردی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے ( خلیفہ ) کی اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "You should listen to and obey, your ruler even if he was an Ethiopian (black) slave whose head looks like a raisin
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام کو ہی عامل بنایا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو۔“
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ " لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ". إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ السِّلاَحِ قَالَ " مَنْ هَذَا ". قِيلَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَحْرُسُكَ. فَنَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَمِعْنَا غَطِيطَهُ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ بِلاَلٌ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Aisha:One night the Prophet (ﷺ) was unable to sleep and said, "Would that a righteous man from my companions guarded me tonight." Suddenly we heard the clatter of arms, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Who is it?" It was said, "I am Sa`d, O Allah's Messenger (ﷺ)! I have come to guard you." The Prophet (ﷺ) then slept so soundly that we heard him snoring. Abu `Abdullah said: `Aisha said: Bilal said, "Would that I but stayed overnight in a valley with Idhkhir and Jalil (two kinds of grass) around me (i.e., in Mecca)." Then I told that to the Prophet (ﷺ)
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک مرد میرے لیے آج رات پہرہ دیتا۔“ اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ بتایا گیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں یا رسول اللہ! ( انہوں نے کہا ) میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کے خراٹے کی آواز سنے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ جب نئے نئے مدینہ آئے تو بحالت بخار حیرانی میں یہ شعر پڑھتے تھے۔ ”کاش میں جانتا کہ میں ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا۔۔۔ ( وادی میں ) اور میرے چاروں طرف اذخر اور جیل گھاس ہو گی۔“ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی خبر کی۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا. وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:While the people were at Quba offering the morning prayer, suddenly a person came to them saying, "Tonight Divine Inspiration has been revealed to Allah's Messenger (ﷺ) and he has been ordered to face the Ka`ba (in prayers): therefore you people should face it." There faces were towards Sham, so they turned their faces towards the Ka`ba (at Mecca)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مسجد قباء میں لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والے نے ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات قرآن کی آیت نازل ہوئی ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کر لیں پس تم بھی اسی طرف رخ کر لو۔ ان لوگوں کے چہرے شام ( یعنی بیت المقدس ) کی طرف تھے، پھر وہ لوگ کعبہ کی طرف مڑ گئے۔
Narrated by Sa`id bin Al-Musaiyab
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتُمْ تَلْغَثُونَهَا أَوْ تَرْغَثُونَهَا، أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا.
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:Abu Huraira said that Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have been sent with 'Jawami-al-Kalim ' (the shortest expression with the widest meaning) and have been made victorious with awe (cast in my enemy's hearts), and while I was sleeping, I saw that the keys of the treasures of the world were placed in my hand." Abu Huraira added: Allah's Messenger (ﷺ) has gone, and you people are utilizing those treasures, or digging those treasures out." or said a similar sentence
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے «جوامع الكلم» ( مختصر الفاظ میں بہت سے معانی کو سمو دینا ) کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی اور میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں رکھ دی گئیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو چلے گئے اور تم مزے کر رہے ہو یا اسی جیسا کوئی کلمہ کہا۔
Narrated by Jarir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، وَأَبِي، ظَبْيَانَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمُ النَّاسَ ".
Narrated Jarir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah will not be merciful to those who are not merciful to mankind
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب اور ابوظبیان نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگوں پر رحم نہیں کھاتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کھاتا۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Any person who takes a bath on Friday like the bath of Janaba and then goes for the prayer (in the first hour i.e. early), it is as if he had sacrificed a camel (in Allah's cause); and whoever goes in the second hour it is as if he had sacrificed a cow; and whoever goes in the third hour, then it is as if he had sacrificed a horned ram; and if one goes in the fourth hour, then it is as if he had sacrificed a hen; and whoever goes in the fifth hour then it is as if he had offered an egg. When the Imam comes out (i.e. starts delivering the Khutba), the angels present themselves to listen to the Khutba
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی سے خبر دی، جنہیں ابوصالح سمان نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی ( اگر اول وقت مسجد میں پہنچا ) اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جو تیسرے نمبر پر گیا تو گویا اس نے ایک سینگ والے مینڈھے کی قربانی دی۔ اور جو کوئی چوتھے نمبر پر گیا تو اس نے گویا ایک مرغی کی قربانی دی اور جو کوئی پانچویں نمبر پر گیا اس نے گویا انڈا اللہ کی راہ میں دیا۔ لیکن جب امام خطبہ کے لیے باہر آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ رَكِبَ فَقَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ". فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ـ قَالَ وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ ـ فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، وَصَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا. فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا قَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا. فَتَبَسَّمَ.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) offered the Fajr prayer when it was still dark, then he rode and said, 'Allahu Akbar! Khaibar is ruined. When we approach near to a nation, the most unfortunate is the morning of those who have been warned." The people came out into the streets saying, "Muhammad and his army." Allah's Messenger (ﷺ) vanquished them by force and their warriors were killed; the children and women were taken as captives. Safiya was taken by Dihya Al-Kalbi and later she belonged to Allah's Apostle, who married her and her Mahr was her manumission
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب اور ثابت بنانی نے، بیان کیا ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھا دی، پھر سوار ہوئے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پہنچ گئے اور وہاں کے یہودیوں کو آپ کے آنے کی اطلاع ہو گئی ) اور فرمایا «الله اكبر» خیبر پر بربادی آ گئی۔ ہم تو جب کسی قوم کے آنگن میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو گی۔ اس وقت خیبر کے یہودی گلیوں میں یہ کہتے ہوئے بھاگ رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت آ گئے۔ راوی نے کہا کہ ( روایت میں ) لفظ «خميس» لشکر کے معنی میں ہے۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح ہوئی۔ لڑنے والے جوان قتل کر دئیے گئے، عورتیں اور بچے قید ہوئے۔ اتفاق سے صفیہ، دحیہ کلبی کے حصہ میں آئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا اور آزادی ان کا مہر قرار پایا۔ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: ابو محمد! کیا تم نے انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تھا کہ صفیہ کا مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا تھا انہوں نے جواب دیا کہ خود انہیں کو ان کے مہر میں دے دیا تھا۔ کہا کہ ابو محمد اس پر مسکرا دیئے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ. وَذَكَرَ مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَدَّقَهُ، قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered (his sacrifice) before the `Id prayer, should slaughter again." A man stood up and said, "This is the day on which one has desire for meat," and he mentioned something about his neighbors. It seemed that the Prophet (ﷺ) believed him. Then the same man added, "I have a young she-goat which is dearer to me than the meat of two sheep." The Prophet (ﷺ) permitted him to slaughter it as a sacrifice. I do not know whether that permission was valid only for him or for others as well
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نماز سے پہلے قربانی کر دے اسے دوبارہ کرنی چاہیے۔ اس پر ایک شخص ( ابوبردہ ) نے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی خواہش زیادہ ہوتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کی تنگی کا حال بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سچا سمجھا اس شخص نے کہا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بھی مجھے زیادہ پیاری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے اجازت دے دی کہ وہی قربانی کرے۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں۔
Narrated by Anas bin Seereen
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ أُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ وَكَأَنَّ الأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ. قَالَ حَمَّادٌ أَىْ سُرْعَةً.
Narrated Anas bin Seereen:I asked Ibn `Umar, "What is your opinion about the two rak`at before the Fajr (compulsory) prayer, as to prolonging the recitation in them?" He said, "The Prophet (ﷺ) used to pray at night two rak`at followed by two and so on, and end the prayer by one rak`ah witr. He used to offer two rak`at before the Fajr prayer immediately after the Adhan." (Hammad, the sub-narrator said, "That meant (that he prayed) quickly
ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نماز صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں ان میں لمبی قرآت کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو رات کی نماز ( تہجد ) دو، دو رکعت کر کے پڑھتے تھے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق بنا لیتے اور صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ( سنت فجر تو ) اس طرح پڑھتے گویا اذان ( اقامت ) کی آواز آپ کے کان میں پڑ رہی ہے۔ حماد کی اس سے مراد یہ ہے کہ آپ جلدی پڑھ لیتے۔