بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
3
41 hadith
Narrated by Um Salama
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَمْرٍو، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ‏ "‏ سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ ‏"‏‏.‏
Narrated Um Salama:One night Allah's Messenger (ﷺ) got up and said, "Subhan Allah! How many afflictions have been descended tonight and how many treasures have been disclosed! Go and wake the sleeping lady occupants of these dwellings (his wives) up (for prayers). A well-dressed (soul) in this world may be naked in the Hereafter
صدقہ نے ہم سے بیان کیا، انہیں ابن عیینہ نے معمر کے واسطے سے خبر دی، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں، زہری ہند سے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، (دوسری سند میں) عمرو اور یحییٰ بن سعید زہری سے، وہ ایک عورت سے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں ( جو ) دنیا میں ( باریک ) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔
Narrated by Anas bin Sirin
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ـ وَكَانَ ضَخْمًا ـ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنِّي لاَ أَسْتَطِيعُ الصَّلاَةَ مَعَكَ‏.‏ فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا، فَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ، وَنَضَحَ لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ بِمَاءٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ‏.‏ وَقَالَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنِ بْنِ جَارُودٍ لأَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى فَقَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى غَيْرَ ذَلِكَ الْيَوْمِ‏.‏
Narrated Anas bin Sirin: I heard Anas bin Malik al-Ansari saying, "An Ansari man, who was very fat, said to the Prophet, 'I am unable to present myself for the prayer with you.' He prepared a meal for the Prophet (ﷺ) and invited him to his house. He washed one side of a mat with water and the Prophet (ﷺ) offered two Rakat on it." So and so, the son of so and so, the son of Al-Jarud asked Anas, "Did the Prophet (ﷺ) use to offer the Duha prayer?" Anas replied, "I never saw him praying (the Duha prayer) except on that day
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے انس بن سیرین نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انصار میں سے ایک شخص ( عتبان بن مالک ) نے جو بہت موٹے آدمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ( مجھ کو گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت دیجئیے تو ) انہوں نے اپنے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر بلایا اور ایک چٹائی کے کنارے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی سے صاف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ اور فلاں بن فلاں بن جارود نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اس روز کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَابْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ ـ شَقِّ الْبَابِ ـ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ، وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، لَمْ يُطِعْنَهُ فَقَالَ انْهَهُنَّ‏.‏ فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ قَالَ وَاللَّهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ، لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعَنَاءِ‏.‏
Narrated `Aisha:When the Prophet (ﷺ) got the news of the death of Ibn Haritha, Ja`far and Ibn Rawaha he sat down and looked sad and I was looking at him through the chink of the door. A man came and told him about the crying of the women of Ja`far. The Prophet (ﷺ) ordered him to forbid them. The man went and came back saying that he had told them but they did not listen to him. The Prophet (ﷺ) said, "Forbid them." So again he went and came back for the third time and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, they did not listen to us at all." (`Aisha added): Allah's Messenger (ﷺ) ordered him to go and put dust in their mouths. I said, (to that man) "May Allah stick your nose in the dust (i.e. humiliate you)! You could neither (persuade the women to) fulfill the order of Allah's Messenger (ﷺ) nor did you relieve Allah's Messenger (ﷺ) from fatigue
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے یحییٰ سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا آپ نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زید بن حارثہ ‘ جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت ( غزوہ موتہ میں ) کی خبر ملی ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس طرح تشریف فرما تھے کہ غم کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ظاہر تھے۔ میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتوں کے رونے کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رونے سے منع کر دے۔ وہ گئے لیکن واپس آ کر کہا کہ وہ تو نہیں مانتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ انہیں منع کر دے۔ اب وہ تیسری مرتبہ واپس ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قسم اللہ کی وہ تو ہم پر غالب آ گئی ہیں ( عمرہ نے کہا کہ ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو یقین ہوا کہ ( ان کے اس کہنے پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے۔ اس پر میں نے کہا کہ تیرا برا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب جس کام کا حکم دے رہے ہیں وہ تو کرو گے نہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف میں ڈال دیا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏ "‏ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَالَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلاَ يُعْطِ فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، إِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاَثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ ـ يَعْنِي ـ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلاَّ أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ، إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ، وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاَثٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ، إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلاَّ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ، إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:When Abu Bakr; sent me to (collect the Zakat from) Bahrain, he wrote to me the following:-- (In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful). These are the orders for compulsory charity (Zakat) which Allah's Messenger (ﷺ) had made obligatory for every Muslim, and which Allah had ordered His Apostle to observe: Whoever amongst the Muslims is asked to pay Zakat accordingly, he should pay it (to the Zakat collector) and whoever is asked more than that (what is specified in this script) he should not pay it; for twenty-four camels or less, sheep are to be paid as Zakat; for every five camels one sheep is to be paid, and if there are between twenty-five to thirty-five camels, one Bint Makhad is to be paid; and if there are between thirty-six to forty-five (camels), one Bint Labun is to be paid; and if there are between forty-six to sixty (camels), one Hiqqa is to be paid; and if the number is between sixty-one to seventy-five (camels), one Jadha is to be paid; and if the number is between seventy-six to ninety (camels), two Bint Labuns are to be paid; and if they are from ninety-one to one-hundredand twenty (camels), two Hiqqas are to be paid; and if they are over one-hundred and-twenty (camels), for every forty (over one-hundred-and-twenty) one Bint Labun is to be paid, and for every fifty camels (over one-hundred-and-twenty) one Hiqqa is to be paid; and who ever has got only four camels, has to pay nothing as Zakat, but if the owner of these four camels wants to give something, he can. If the number of camels increases to five, the owner has to pay one sheep as Zakat. As regards the Zakat for the (flock) of sheep; if they are between forty and one-hundred-and-twenty sheep, one sheep is to be paid; and if they are between one-hundred-and-twenty to two hundred (sheep), two sheep are to be paid; and if they are between two-hundred to three-hundred (sheep), three sheep are to be paid; and for over three-hundred sheep, for every extra hundred sheep, one sheep is to be paid as Zakat. And if somebody has got less than forty sheep, no Zakat is required, but if he wants to give, he can. For silver the Zakat is one-fortieth of the lot (i.e. 2.5%), and if its value is less than two-hundred Dirhams, Zakat is not required, but if the owner wants to pay he can
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مثنیٰ انصاری نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب انہیں بحرین ( کا حاکم بنا کر ) بھیجا تو ان کو یہ پروانہ لکھ دیا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ زکوٰۃ کا وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے فرض قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا۔ اس لیے جو شخص مسلمانوں سے اس پروانہ کے مطابق زکوٰۃ مانگے تو مسلمانوں کو اسے دے دینا چاہیے اور اگر کوئی اس سے زیادہ مانگے تو ہرگز نہ دے۔ چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری دینی ہو گی۔ ( پانچ سے کم میں کچھ نہیں ) لیکن جب اونٹوں کی تعداد پچیس تک پہنچ جائے تو پچیس سے پینتیس تک ایک ایک برس کی اونٹنی واجب ہو گی جو مادہ ہوتی ہے۔ جب اونٹ کی تعداد چھتیس تک پہنچ جائے ( تو چھتیس سے ) پینتالیس تک دو برس کی مادہ واجب ہو گی۔ جب تعداد چھیالیس تک پہنچ جائے ( تو چھیالیس سے ) ساٹھ تک میں تین برس کی اونٹنی واجب ہو گی جو جفتی کے قابل ہوتی ہے۔ جب تعداد اکسٹھ تک پہنچ جائے ( تو اکسٹھ سے ) پچھتر تک چار برس کی مادہ واجب ہو گی۔ جب تعداد چھہتر تک پہنچ جائے ( تو چھہتر سے ) نوے تک دو دو برس کی دو اونٹنیاں واجب ہوں گی۔ جب تعداد اکیانوے تک پہنچ جائے تو ( اکیانوے سے ) ایک سو بیس تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں واجب ہوں گی جو جفتی کے قابل ہوں۔ پھر ایک سو بیس سے بھی تعداد آگے بڑھ جائے تو ہر چالیس پر دو برس کی اونٹنی واجب ہو گی اور ہر پچاس پر ایک تین برس کی۔ اور اگر کسی کے پاس چار اونٹ سے زیادہ نہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہو گی مگر جب ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دے اور ان بکریوں کی زکوٰۃ جو ( سال کے اکثر حصے جنگل یا میدان وغیرہ میں ) چر کر گزارتی ہیں اگر ان کی تعداد چالیس تک پہنچ گئی ہو تو ( چالیس سے ) ایک سو بیس تک ایک بکری واجب ہو گی اور جب ایک سو بیس سے تعداد بڑھ جائے ( تو ایک سو بیس سے ) سے دو سو تک دو بکریاں واجب ہوں گی۔ اگر دو سو سے بھی تعداد بڑھ جائے تو ( تو دو سو سے ) تین سو تک تین بکریاں واجب ہوں گی اور جب تین سو سے بھی تعداد آگے نکل جائے تو اب ہر ایک سو پر ایک بکری واجب ہو گی۔ اگر کسی شخص کی چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی مگر اپنی خوشی سے مالک کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ اور چاندی میں زکوٰۃ چالیسواں حصہ واجب ہو گی لیکن اگر کسی کے پاس ایک سو نوے ( درہم ) سے زیادہ نہیں ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی مگر خوشی سے کچھ اگر مالک دینا چاہیے تو اور بات ہے۔
Narrated by `Imran
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ، عَنْ عِمْرَانَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَ الْقُرْآنُ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ‏.‏
Narrated `Imran:We performed Hajj-at-Tamattu` in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and then the Qur'an was revealed (regarding Hajj-at-Tamattu`) and somebody said what he wished (regarding Hajj-at-Tamattu`) according his own opinion
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا کہا کہ مجھ سے مطرف نے عمران بن حصین سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے تمتع کیا تھا اور خود قرآن میں تمتع کا حکم نازل ہوا تھا۔ اب ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
Narrated by `Amr bin Yahya
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ أَفْرَغَ مِنَ الإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ غَسَلَ أَوْ مَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفَّةٍ وَاحِدَةٍ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثًا، فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَا أَقْبَلَ وَمَا أَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated `Amr bin Yahya:(on the authority of his father) `Abdullah bin Zaid poured water on his hands from a utensil containing water and washed them and then with one handful of water he rinsed his mouth and cleaned his nose by putting water in it and then blowing it out. He repeated it thrice. He, then, washed his hands and forearms up to the elbows twice and passed wet hands over his head, both forwards and backwards, and washed his feet up to the ankles and said, "This is the ablution of Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ (یحییٰ) کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ( وضو کرتے وقت ) انہوں نے برتن سے ( پہلے ) اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ پھر انہیں دھویا۔ پھر دھویا۔ ( یا یوں کہا کہ ) کلی کی اور ناک میں ایک چلو سے پانی ڈالا۔ اور تین مرتبہ اسی طرح کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے۔ پھر سر کا مسح کیا۔ اگلی جانب اور پچھلی جانب کا اور ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح ہوا کرتا تھا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ كَانَ يَكُونُ عَلَىَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلاَّ فِي شَعْبَانَ‏.‏ قَالَ يَحْيَى الشُّغْلُ مِنَ النَّبِيِّ أَوْ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated `Aisha:Sometimes I missed some days of Ramadan, but could not fast in lieu of them except in the month of Sha'ban." Said Yahya, a sub-narrator, "She used to be busy serving the Prophet (ﷺ)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتیں کہ رمضان کا روزہ مجھ سے چھوٹ جاتا۔ شعبان سے پہلے اس کی قضاء کی توفیق نہ ہوتی۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغول رہنے کی وجہ سے تھا۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ ـ أَوْ سِيرَاءَ ـ فَرَآهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ، إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا ‏"‏‏.‏ يَعْنِي تَبِيعُهَا‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:Once the Prophet (ﷺ) sent to `Umar a silken two-piece garment, and when he saw `Umar wearing it, he said to him, "I have not sent it to you to wear. It is worn by him who has no share in the Hereafter, and I have sent it to you so that you could benefit by it (i.e. sell it)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن حفص نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کے باپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک ریشمی جبہ بھیجا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ اسے ( ایک دن ) پہنے ہوئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو، اسے تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ میں نے تو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے ( بیچ کر ) فائدہ اٹھاؤ۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَى أَنَّهَا لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ‏.‏
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) gave the verdict that `Umra is for the one to whom it is presented
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہو جاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّ خَزَنَةِ باب أَىْ فُلُ هَلُمَّ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَاكَ الَّذِي لاَ تَوَى عَلَيْهِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever spends two things in Allah's Cause, will be called by all the gate-keepers of Paradise who will be saying, 'O so-and-so! Come here.' " Abu Bakr said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Such persons will never be destroyed." The Prophet (ﷺ) said, "I hope you will be one of them
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا یحییٰ سے ‘ وہ ابوسلمہ سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک جوڑا ( کسی چیز کا ) خرچ کیا تو اسے جنت کے داروغہ بلائیں گے۔ جنت کے ہر دروازے کا داروغہ ( اپنی طرف ) بلائے گا کہ اے فلاں! اس دروازے سے آ، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے۔ یا رسول اللہ! پھر اس شخص کو کوئی خوف نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَثَّرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:While I was walking with the Prophet (ﷺ) who was wearing a Najrani outer garment with a thick hem, a bedouin came upon the Prophet (ﷺ) and pulled his garment so violently that I could recognize the impress of the hem of the garment on his shoulder, caused by the violence of his pull. Then the bedouin said, "Order for me something from Allah's Fortune which you have." The Prophet (ﷺ) turned to him and smiled, and ordered that a gift be given to him
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور زور سے آپ کو کھینچا، میں نے آپ کے شانے کو دیکھا، اس پر چادر کے کونے کا نشان پڑ گیا، ایسا کھینچا۔ پھر کہنے لگا۔ اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دئیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دینے کا حکم فرمایا ( آخری جملہ میں سے ترجمۃ الباب نکلتا ہے ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّذِينَ عَلَى إِثْرِهِمْ كَأَشَدِّ كَوْكَبٍ إِضَاءَةً، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، لاَ اخْتِلاَفَ بَيْنَهُمْ وَلاَ تَبَاغُضَ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ لَحْمِهَا مِنَ الْحُسْنِ، يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا، لاَ يَسْقَمُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ، وَلاَ يَبْصُقُونَ، آنِيَتُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ، وَأَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَقُودُ مَجَامِرِهِمُ الأُلُوَّةُ ـ قَالَ أَبُو الْيَمَانِ يَعْنِي الْعُودَ ـ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الإِبْكَارُ أَوَّلُ الْفَجْرِ، وَالْعَشِيُّ مَيْلُ الشَّمْسِ أَنْ تُرَاهُ تَغْرُبَ‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The first batch (of people) who will enter Paradise will be (glittering) like a full moon; and those who will enter next will be (glittering) like the brightest star. Their hearts will be as if the heart of a single man, for they will have no enmity amongst themselves, and everyone of them shall have two wives, each of whom will be so beautiful, pure and transparent that the marrow of the bones of their legs will be seen through the flesh. They will be glorifying Allah in the morning and evening, and will never fall ill, and they will neither blow their noses, nor spit. Their utensils will be of gold and silver, and their combs will be of gold, and the fuel used in their centers will be the aloeswood, and their sweat will smell like musk
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابولزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے چودہویں کا چاند ہوتا ہے۔ جو گروہ اس کے بعد داخل ہو گا ان کے چہرے سب سے زیادہ چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ ان کے دل ایک ہوں گے کہ کوئی بھی اختلاف ان میں آپس میں نہ ہو گا اور نہ ایک دوسرے سے بغض و حسد ہو گا۔ ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی، ان کی خوبصورتی ایسی ہو گی کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے اوپر سے دکھائی دے گا۔ وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے نہ ان کو کوئی بیماری ہو گی، نہ ان کی ناک میں کوئی آلائش آئے گی اور نہ تھوک آئے گا۔ ان کے برتن سونے اور چاندی کے اور کنگھے سونے کے ہوں گے اور ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن «ألوة» کا ہو گا، ابوالیمان نے بیان کیا کہ «ألوة» سے عود ہندی مراد ہے۔ اور ان کا پسینہ مشک جیسا ہو گا۔ مجاہد نے کہا کہ «إبكار» سے مراد اول فجر ہے۔ اور «العشي» سے مراد سورج کا اتنا ڈھل جانا کہ وہ غروب ہوتا نظر آنے لگے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ ‏"‏ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي، النَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوا ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "Who is the most honorable amongst the people?" He replied, "The most Allah fearing." The people said, "We do not want to ask you about this." He said, "The most honorable person is Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Khalil" The people said, 'We do not want to ask you about this." He said," Then you want to ask me about the origins of the Arabs? People are of various origins. The best in the pre-Islamic period are the best in Islam, provided they comprehend (the religious knowledge)
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ انہیں سعید بن ابی سعید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ شریف آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ کا خوف زیادہ رکھتا ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ عرب کے خانوادوں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو۔ دیکھو! لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے ( کسی کان میں سے اچھا مال نکلتا ہے کسی میں سے برا ) جو لوگ تم میں سے زمانہ جاہلیت میں شریف اور بہتر اخلاق کے تھے وہی اسلام کے بعد بھی اچھے اور شریف ہیں بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ، وَلاَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ، وَلَيْسَ بِالآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلاَ بِالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، فَتَوَفَّاهُ اللَّهُ، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ‏.‏
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) was neither very tall nor short, neither absolutely white nor deep brown. His hair was neither curly nor lank. Allah sent him (as an Apostle) when he was forty years old. Afterwards he resided in Mecca for ten years and in Medina for ten more years. When Allah took him unto Him, there were scarcely twenty white hairs in his head and beard
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد کے، نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دس سال تک قیام کیا اور مدینہ میں دس سال تک قیام کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی تو آپ کے سر اور داڑھی کے بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔
Narrated by Ubaida
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اقْضُوا كَمَا كُنْتُمْ تَقْضُونَ، فَإِنِّي أَكْرَهُ الاِخْتِلاَفَ حَتَّى يَكُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ، أَوْ أَمُوتَ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي‏.‏ فَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَرَى أَنَّ عَامَّةَ مَا يُرْوَى عَلَى عَلِيٍّ الْكَذِبُ‏.‏
Narrated Ubaida: Ali said (to the people of 'Iraq), "Judge as you used to judge, for I hate differences (and I do my best ) till the people unite as one group, or I die as my companions have died
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں ابن سیرین نے، انہیں عبیدہ نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے عراق والوں سے کہا کہ جس طرح تم پہلے فیصلہ کیا کرتے تھے اب بھی کیا کرو کیونکہ میں اختلاف کو برا جانتا ہوں۔ اس وقت تک کہ سب لوگ جمع ہو جائیں یا میں بھی اپنے ساتھیوں ( ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) کی طرح دنیا سے چلا جاؤں، ابن سیرین رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ عام لوگ ( روافض ) جو علی رضی اللہ عنہ سے روایات ( شیخین کی مخالفت میں ) بیان کرتے ہیں وہ قطعاً جھوٹی ہیں۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنَ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَا الدَّبَرْ، وَعَفَا الأَثَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ‏.‏ قَالَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ رَابِعَةً مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَىُّ الْحِلِّ قَالَ ‏ "‏ الْحِلُّ كُلُّهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:The people used to consider the performance of `Umra in the months of Hajj an evil deed on the earth, and they used to call the month of Muharram as Safar and used to say, "When (the wounds over) the backs (of the camels) have healed and the foot-marks (of the camels) have vanished (after coming from Hajj), then `Umra becomes legal for the one who wants to perform `Umra." Allah's Messenger (ﷺ) and his companions reached Mecca assuming Ihram for Hajj on the fourth of Dhul-Hijja. The Prophet (ﷺ) ordered his companions to perform `Umra (with that Ihram instead of Hajj). They asked, "O Allah's Apostle! What kind of finishing of Ihram?" The Prophet (ﷺ) said, "Finish the Ihram completely
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ خیال کرتے تھے۔ وہ محرم کو صفر کہتے۔ ان کے ہاں یہ مثل تھی کہ اونٹ کی پیٹھ کا زخم جب اچھا ہونے لگے اور ( حاجیوں کے ) نشانات قدم مٹ چکیں تو اب عمرہ کرنے والوں کا عمرہ جائز ہوا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو حج کا احرام باندھے ہوئے ( مکہ ) تشریف لائے تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے حج کو عمرہ کر ڈالیں ( طواف اور سعی کر کے احرام کھول دیں ) ۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ( اس عمرہ اور حج کے دوران میں ) کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام چیزیں! جو احرام کے نہ ہونے کی حالت میں حلال تھیں وہ سب حلال ہو جائیں گی۔
Narrated by Abu Masud Al-Badri
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ الْبَدْرِيَّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Masud Al-Badri:The Prophet (ﷺ) said, "A man's spending on his family is a deed of charity
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ابان نے، ان سے عبداللہ بن یزید انصاری نے، انہوں نے ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ عقبہ بن عمرو انصاری سے سنا کہ ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ابان نے، ان سے عبداللہ بن یزید انصاری نے، انہوں نے ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ عقبہ بن عمرو انصاری سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ فَحَكَّهُ بِيَدِهِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلاَتِهِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ـ أَوْ إِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ـ فَلاَ يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ ‏"‏ أَوْ يَفْعَلْ هَكَذَا ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) saw some sputum in the direction of the Qibla (on the wall of the mosque) and he disliked that and the sign of disgust was apparent from his face. So he got up and scraped it off with his hand and said, "Whenever anyone of you stands for the prayer, he is speaking in private to his Lord or his Lord is between him and his Qibla. So, none of you should spit in the direction of the Qibla but one can spit to the left or under his foot." The Prophet (ﷺ) then took the corner of his sheet and spat in it and folded it and said, "Or you can do this
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے حمید کے واسطہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص ( نماز میں اپنے ) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرو۔
Narrated by Zaid bin Arqam
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ‏}‏ فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ‏.‏
Narrated Zaid bin Arqam:We used to speak while in prayer. One of us used to speak to his brother (while in prayer) about his need, till the Verse was revealed:-- "Guard strictly the (five obligatory) prayers, especially the middle (the Best) (`Asr) Prayer and stand before Allah with obedience (and not to speak to others during the prayers)." Then we were ordered not to speak in the prayers
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے حارث بن شبل نے، ان سے ابوعمرو شیبانی نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پہلے ہم نماز پڑھتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے اپنی کسی ضرورت کے لیے بات کر لیتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين‏» ”سب ہی نمازوں کی پابندی رکھو اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں برداروں کی طرح کھڑے ہوا کرو۔“ اس آیت کے ذریعہ ہمیں نماز میں چپ رہنے کا حکم دیا گیا۔
Narrated by `Abdullah bin Mughaffal
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِيَاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهْوَ يَقْرَأُ عَلَى رَاحِلَتِهِ سُورَةَ الْفَتْحِ‏.‏
Narrated `Abdullah bin Mughaffal:I saw Allah's Messenger (ﷺ) reciting Surat-al-Fath on his she-camel on the day of the Conquest of Mecca
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوایاس نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا کہ آپ سواری پر سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ امْرَأَةً، عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي وَلَهَا نِصْفُهُ ـ قَالَ سَهْلٌ وَمَا لَهُ رِدَاءٌ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلَسُهُ قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ أَوْ دُعِي لَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمْلَكْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:A woman presented herself to the Prophet (for marriage). A man said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (If you are not in need of her) marry her to me." The Prophet (ﷺ) said, "What have you got?" The man said, "I have nothing." The Prophet (ﷺ) said (to him), "Go and search for something) even if it were an iron ring." The man went and returned saying, "No, I have not found anything, not even an iron ring; but this is my (Izar) waist sheet, and half of it is for her." He had no Rida' (upper garment). The Prophet (ﷺ) said, "What will she do with your waist sheet? If you wear it, she will have nothing over her; and if she wears it, you will have nothing over you." So the man sat down and when he had sat a long time, he got up (to leave). When the Prophet (ﷺ) saw him (leaving), he called him back, or the man was called (for him), and he said to the man, "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" The man replied I know such Sura and such Sura (by heart)," naming the Suras The Prophet (ﷺ) said, "I have married her to you for what you know of the Qur'an
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کیا۔ پھر ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس ( مہر کے لیے ) کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم! میں نے کوئی چیز نہیں پائی۔ مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی، البتہ یہ میرا تہمد میرے پاس ہے اس کا آدھا انہیں دے دیجئیے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی، اگر یہ اسے پہن لے گی تو یہ اس قدر چھوٹا کپڑا ہے کہ پھر تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا اور اگر تم پہنو گے تو اس کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے ( اور جانے لگے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور بلایا، یا انہیں بلایا گیا ( راوی کو ان الفاظ میں شک تھا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے فلاں، فلاں سورتیں یاد ہیں چند سورتیں انہوں نے گنائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے نکاح میں اس کو اس قرآن کے بدلے دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔
Narrated by Sahl bin Sa`d As-Sa`idi
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ‏.‏ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا‏.‏ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا‏.‏ فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا‏.‏ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:'Uwaimir Al-Ajlani came to `Asim bin Ad Al-Ansari and said to him, "O `Asim! Suppose a man saw another man with his wife, would he kill him whereupon you would kill him; or what should he do? Please, O `Asim, ask about this on my behalf." `Asim asked Allah's Messenger (ﷺ) about it. Allah's Messenger (ﷺ), disliked that question and considered it disgraceful. What `Asim heard from Allah's Messenger (ﷺ) was hard on him. When `Asim returned to his family, 'Uwaimir came to him and said, "O `Asim! What did Allah's Messenger (ﷺ). say to you?" `Asim said to 'Uwaimir, "You never bring me any good. Allah's Messenger (ﷺ) disliked the problem which I asked him about." 'Uwaimir said, "By Allah, I will not give up this matter until I ask the Prophet (ﷺ) about it." So 'Uwaimir proceeded till he came to Allah's Messenger (ﷺ) in the midst of people, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If a man sees another man with his wife, would he kill him, whereupon you would kill him, or what should he do?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has revealed some decree as regards you and your wives case. Go and bring her." So they carried out the process of Lian while I was present among the people with Allah's Messenger (ﷺ). When they had finished their Lian, 'Uwaimir said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If I should now keep her with me as a wife, then I have told a lie." So he divorced her thrice before Allah's Messenger (ﷺ) ordered him. (Ibn Shihab said: So divorce was the tradition for all those who were involved in a case of Lian)
ہم سے اسماعیل بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی نے خبر دی کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ عاصم آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر دے گا لیکن پھر آپ لوگ اسے بھی قتل کر دیں گے۔ آخر اسے کیا کرنا چاہیئے؟ عاصم! میرے لیے یہ مسئلہ پوچھ دو۔ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا۔ نبی کریم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اظہار ناگواری کیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اس کا بہت اثر لیا۔ پھر جب گھر واپس آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا۔ عاصم! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا، عویمر! تم نے میرے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک میں یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہ کر لوں، باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صحابہ کے درمیان میں موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے متعلق کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر دے؟ لیکن پھر آپ لوگ اسے ( قصاص ) میں قتل کر دیں گے، تو پھر اسے کیا کرنا چاہیئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں ابھی وحی نازل ہوئی ہے۔ جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر ان دونوں نے لعان کیا۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا۔ جب لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے ( اپنی بیوی کو ) اپنے ساتھ رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں تین طلاقیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی دے دیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والوں کے لیے سنت طریقہ مقرر ہو گیا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Traveling is a kind of torture, as it prevents one from sleeping and eating! So when one has finished his job, he should return quickly to his family
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے صالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو انسان کو سونے اور کھانے سے روک دیتا ہے۔ پس جب کسی شخص کی سفری ضرورت حسب منشا پوری ہو جائے تو اسے جلد ہی گھر واپس آ جانا چاہیئے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَنْزٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ ‏ "‏ مَا عَلَى أَهْلِهَا لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) passed by a dead goat and said, "There is no harm if its owners benefit from its skin
ہم سے خطاب بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حمیر نے بیان کیا، ان سے ثابت بن عجلان نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرے ہوئے بکرے کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اس کے مالکوں کو کیا ہو گیا ہے اگر وہ اس کے چمڑے کو کام میں لاتے ( تو بہتر ہوتا ) ۔
Narrated by Thumama bin `Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَنَفَّسُ ثَلاَثًا‏.‏
Narrated Thumama bin `Abdullah:Anas used to breathe twice or thrice in the vessel (while drinking) and used to say that the Prophet; used to take three breaths while drinking
ہم سے ابوعاصم اور ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عروہ بن ثابت نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے شمامہ بن عبداللہ نے خبر دی، بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ دو یا تین سانسوں میں پانی پیتے تھے۔
Narrated by `Abdul `Aziz
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَثَابِتٌ، عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ اشْتَكَيْتُ‏.‏ فَقَالَ أَنَسٌ أَلاَ أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَلَى‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شَافِيَ إِلاَّ أَنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdul `Aziz:Thabit and I went to Anas bin Malik. Thabit said, "O Abu Hamza! I am sick." On that Anas said, "Shall I treat you with the Ruqya of Allah's Messenger (ﷺ)?" Thabit said, "Yes," Anas recited, "O Allah! The Lord of the people, the Remover of trouble! (Please) cure (Heal) (this patient), for You are the Healer. None brings about healing but You; a healing that will leave behind no ailment
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ میں اور ثابت بنانی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ثابت نے کہا: ابوحمزہ! ( انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ) میری طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر کیوں نہ میں تم پر وہ دعا پڑھ کر دم کر دوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے، ثابت نے کہا کہ ضرور کیجئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ دعا پڑھ کر دم کیا «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دینے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں، ایسی شفاء عطا فرما کہ بیماری بالکل باقی نہ رہے۔
Narrated by `Umar
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ‏.‏ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَاسٌ، بِهَذَا‏.‏
Narrated `Umar:"The Prophet (ﷺ) forbade praying after the Fajr prayer till the sun rises and after the `Asr prayer till the sun sets." Narrated Ibn `Abbas: Some people told me the same narration (as above)
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے، انہوں نے ابوالعالیہ رفیع سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ میرے سامنے چند معتبر حضرات نے گواہی دی، جن میں سب سے زیادہ معتبر میرے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ تھے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے کہ میں نے ابوالعالیہ سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے چند لوگوں نے یہ حدیث بیان کی۔ ( جو پہلے ذکر ہوئی ) ۔
Narrated by `Ali bin Abi Talib
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَسَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَشَقَّقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي‏.‏
Narrated `Ali bin Abi Talib:The Prophet (ﷺ) gave me a silk suit. I went out wearing it, but seeing the signs of anger on his face, I tore it and distributed it among my wives
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے اور ان سے زید بن وہب نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا، حلہ عنایت فرمایا۔ میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے۔ چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنی عزیز عورتوں میں بانٹ دیئے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ‏.‏ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ أَوْ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "A believer to another believer is like a building whose different parts enforce each other." The Prophet (ﷺ) then clasped his hands with the fingers interlaced. (At that time) the Prophet (ﷺ) was sitting and a man came and begged or asked for something. The Prophet (ﷺ) faced us and said, "Help and recommend him and you will receive the reward for it, and Allah will bring about what He will through His Prophet's tongue
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِ الإِنْسَانِ مِنْهُ شَىْءٌ، وَالْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ‏.‏ تَابَعَهُ مَعْمَرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) forbade two kinds of dresses and two kinds of bargains; Ishtimal As-Samma and Al- Ihtiba in one garment with no part of it covering one's private parts. (The two kinds of bargains were:) Al-Mulamasa and Al-Munabadha
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تھا۔ اشتمال صماء اور ایک کپڑے میں اس طرح احتباء کرنے سے کہ انسان کی شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو اور ملامست اور منابذت سے۔ اس روایت کی متابعت معمر، محمد بن ابی حفصہ اور عبداللہ بن بدیل نے زہری سے کی ہے۔
Narrated by Abu Humaid As-Saidi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ ‏ "‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Humaid As-Saidi:The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ) ! How may we send Salat on you?" He said, "Say: Allahumma Salli 'ala- Muhammadin wa azwajihi wa dhurriyyatihi kama sal-laita 'ala `Ali Ibrahim; wa barik 'ala Muhammadin wa azwajihi wa dhurriyyatihi kamabarakta 'ala `Ali Ibrahim innaka hamidun majid
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمرو بن سلیم زرقی نے بیان کیا کہ ہم کو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته،‏‏‏‏ كما صليت على آل إبراهيم،‏‏‏‏ وبارك على محمد وأزواجه وذريته،‏‏‏‏ كما باركت على آل إبراهيم،‏‏‏‏ إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر اپنی رحمت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی اور محمد اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی۔ بلاشبہ تو تعریف کیا گیا شان و عظمت والا ہے۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى لَنَا يَوْمًا الصَّلاَةَ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ ‏ "‏ قَدْ أُرِيتُ الآنَ ـ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلاَةَ ـ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قُبُلِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:Once Allah's Messenger (ﷺ) led us in prayer and then (after finishing it) ascended the pulpit and pointed with his hand towards the Qibla of the mosque and said, "While I was leading you in prayer, both Paradise and Hell were displayed in front of me in the direction of this wall. I had never seen a better thing (than Paradise) and a worse thing (than Hell) as I have seen today, I had never seen a better thing and a worse thing as I have seen today
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے بلال بن علی نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے اور اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس وقت جب میں نے تمہیں نماز پڑھائی تو مجھے اس دیوار کی طرف جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی میں نے ( ساری عمر میں ) آج کی طرح نہ کوئی بہشت کی سی خوبصورت چیز دیکھی نہ دوزخ کی سی ڈراؤنی، میں نے آج کی طرح نہ کوئی بہشت جیسی خوبصورت چیز دیکھی نہ دوزخ جیسی ڈراونی چیز۔
Narrated by Malik Ibn Buhaina
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهُ مَالِكٌ ابْنُ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَثَ بِهِ النَّاسُ، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الصُّبْحَ أَرْبَعًا، الصُّبْحَ أَرْبَعًا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ غُنْدَرٌ وَمُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ فِي مَالِكٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ حَفْصٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ‏.‏ وَقَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا سَعْدٌ عَنْ حَفْصٍ عَنْ مَالِكٍ‏.‏
Narrated Malik Ibn Buhaina:Allah's Messenger (ﷺ) passed by a man praying two rak`at after the Iqama (had been pronounced). When Allah's Messenger (ﷺ) completed the prayer, the people gathered around him (the Prophet) or that man and Allah's Messenger (ﷺ) said to him (protesting), Are there four rak`at in Fajr prayer? Are there four rak`at in Fajr prayer?
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے اپنے باپ سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعد بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ میں نے حفص بن عاصم سے سنا، کہا کہ میں نے قبیلہ ازد کے ایک صاحب سے جن کا نام مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ تھا، سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے نمازی پر پڑی جو تکبیر کے بعد دو رکعت نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگ اس شخص کے اردگرد جمع ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا صبح کی چار رکعتیں پڑھتا ہے؟ کیا صبح کی چار رکعتیں ہو گئیں؟ اس حدیث کی متابعت غندر اور معاذ نے شعبہ سے کی ہے جو مالک سے روایت کرتے ہیں۔ ابن اسحاق نے سعد سے، انہوں نے حفص سے، وہ عبداللہ بن بحینہ سے اور حماد نے کہا کہ ہمیں سعد نے حفص کے واسطہ سے خبر دی اور وہ مالک کے واسطہ سے۔
Narrated by Abu Musa Al-Ash`ari
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَوَافَقْتُهُ وَهْوَ غَضْبَانُ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:I went along with some men from the Ash-ariyin to Allah's Messenger (ﷺ) and it happened that I met him while he was in an angry mood. We asked him to provide us with mounts, but he swore that he would not give us any. Later on he said, "By Allah, Allah willing, if ever I take an oath (to do something) and later on I find something else better than the first, then I do the better one and give expiation for the dissolution of my oath
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے قاسم نے، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ تھے پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لیے اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد فرمایا: واللہ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم توڑ دوں گا۔
Narrated by Zaid bin Khalid Al-Juhani
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةَ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، غَرَّبَ، ثُمَّ لَمْ تَزَلْ تِلْكَ السُّنَّةَ‏.‏
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani:I heard the Prophet (ﷺ) ordering that an unmarried person guilty of illegal sexual intercourse be flogged one-hundred stripes and be exiled for one year. `Umar bin Al-Khattab also exiled such a person, and this tradition is still valid
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The worst lie is that a person claims to have seen a dream which he has not seen
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان خواب میں ایسی چیز کو دیکھنے کا دعویٰ کرے جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔“
Narrated by Harmala
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ حَرْمَلَةَ، مَوْلَى أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ عَمْرٌو وَقَدْ رَأَيْتُ حَرْمَلَةَ قَالَ أَرْسَلَنِي أُسَامَةُ إِلَى عَلِيٍّ وَقَالَ إِنَّهُ سَيَسْأَلُكَ الآنَ فَيَقُولُ مَا خَلَّفَ صَاحِبَكَ فَقُلْ لَهُ يَقُولُ لَكَ لَوْ كُنْتَ فِي شِدْقِ الأَسَدِ لأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِيهِ، وَلَكِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي شَيْئًا، فَذَهَبْتُ إِلَى حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ فَأَوْقَرُوا لِي رَاحِلَتِي‏.‏
Narrated Harmala:(Usama's Maula) Usama (bin Zaid) sent me to `Ali (at Kufa) and said, "`Ali will ask you, 'What has prevented your companion from joining me?' You then should say to him, 'If you (`Ali) were in the mouth of a lion, I would like to be with you, but in this matter I won't take any part.' " Harmala added: "`Ali didn't give me anything (when I conveyed the message to him) so I went to Hasan, Hussain and Ibn Ja`far and they loaded my camels with much (wealth)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں محمد بن علی نے خبر دی، انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ کے غلام حرملہ نے خبر دی، عمرو نے بیان کیا کہ میں نے حرملہ کو دیکھا تھا۔ حرملہ نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا، اس وقت تم سے علی رضی اللہ عنہ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) جنگ جمل و صفین سے کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو ان سے کہنا کہ انہوں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تب بھی میں اس میں بھی آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ تو ( اس میں شرکت صحیح ) نہیں معلوم ہوئی ( حرملہ کہتے ہیں کہ ) چنانچہ انہوں نے کوئی چیز نہیں دی۔ پھر میں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری پر اتنا مال لدوا دیا جتنا کہ اونٹ اٹھا نہ سکتا تھا۔
Narrated by `Abdullah bin `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ قُلْ لَهُ إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَىَّ هَاتَيْنِ‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Abbas:That Abu Sufyan bin Harb told him that Heraclius had called him along with the members of a Quraish caravan and then said to his interpreter, "Tell them that I want to ask this (Abu Sufyan) a question, and if he tries to tell me a lie, they should contradict him." Then Abu Sufyan mentioned the whole narration and said that Heraclius said to the inter Peter, "Say to him (Abu Sufyan), 'If what you say is true, then he (the Prophet) will take over the place underneath my two feet
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلا بھیجا، پھر اپنے ترجمان سے کہا، ان سے کہو کہ میں ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بات کہے تو اسے جھٹلا دیں۔ پھر پوری حدیث بیان کی اس سے کہو کہ اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو وہ شخص اس ملک کا بھی ہو جائے گا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔
Narrated by Hisham's father
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي وَلاَ تَدْفِنِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْتِ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُزَكَّى‏.‏ وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ ائْذَنِي لِي أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَىَّ فَقَالَتْ إِي وَاللَّهِ‏.‏ قَالَ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرْسَلَ إِلَيْهَا مِنَ الصَّحَابَةِ قَالَتْ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُوثِرُهُمْ بِأَحَدٍ أَبَدًا‏.‏
Narrated Hisham's father:`Aisha said to `Abdullah bin Az-Zubair, "Bury me with my female companions (i.e. the wives of the Prophet) and do not bury me with the Prophet (ﷺ) in the house, for I do not like to be regarded as sanctified (just for being buried there).'' Narrated Hisham's father: `Umar sent a message to `Aisha, saying, "Will you allow me to be buried with my two companions (the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr) ?" She said, "Yes, by Allah." though it was her habit that if a man from among the companions (of the Prophet (ﷺ) ) sent her a message asking her to allow him to be buried there, she would say, "No, by Allah, I will never give permission to anyone to be buried with them
Narrated by Abu Huraira
وَقَالَ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلاَ يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلاَّ الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ ‏"‏‏.‏ وَرَوَاهُ وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَلاَ يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلاَّ الطَّيِّبُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said, "If somebody gives in charity something equal to a date from his honestly earned money ----for nothing ascends to Allah except good---- then Allah will take it in His Right (Hand) and bring it up for its owner as anyone of you brings up a baby horse, till it becomes like a mountain." Abu Huraira said: The Prophet. said, "Nothing ascends to Allah except good
اور خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی خیرات کی اور اللہ تک حلال کمائی ہی کی خیرات پہنچتی ہے، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کر لیتا ہے اور خیرات کرنے والے کے لیے اسے اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جیسے کوئی تم میں سے اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ برابر ہو جاتی ہے۔“ اور ورقاء نے اس حدیث کو عبداللہ بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس میں بھی یہ فقرہ ہے کہ اللہ کی طرف وہی خیرات چڑھتی ہے جو حلال کمائی میں سے ہو۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا‏.‏ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ صلى الله عليه وسلم فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ، وَمِنَ الْغَدِ، وَبَعْدَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ، حَتَّى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، وَقَامَ ذَلِكَ الأَعْرَابِيُّ ـ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا‏.‏ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلاَ عَلَيْنَا ‏"‏‏.‏ فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلاَّ انْفَرَجَتْ، وَصَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ، وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ حَدَّثَ بِالْجَوْدِ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:Once in the lifetime of the Prophet (ﷺ) the people were afflicted with drought (famine). While the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutba on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O, Allah's Messenger (ﷺ)! Our possessions are being destroyed and the children are hungry; Please invoke Allah (for rain)". So the Prophet (ﷺ) raised his hands. At that time there was not a trace of cloud in the sky. By Him in Whose Hands my soul is as soon as he lowered his hands, clouds gathered like mountains, and before he got down from the pulpit, I saw the rain falling on the beard of the Prophet. It rained that day, the next day, the third day, the fourth day till the next Friday. The same Bedouin or another man stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The houses have collapsed, our possessions and livestock have been drowned; Please invoke Allah (to protect us)". So the Prophet (ﷺ) raised both his hands and said, "O Allah! Round about us and not on us". So, in whatever direction he pointed with his hands, the clouds dispersed and cleared away, and Medina's (sky) became clear as a hole in between the clouds. The valley of Qanat remained flooded, for one month, none came from outside but talked about the abundant rain
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قحط پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور اہل و عیال دانوں کو ترس گئے۔ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے، اس وقت بادل کا ایک ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا امڈ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ریش مبارک سے ٹپک رہا تھا۔ اس دن اس کے بعد اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ ( دوسرے جمعہ کو ) یہی دیہاتی پھر کھڑا ہوا یا کہا کہ کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! عمارتیں منہدم ہو گئیں اور جانور ڈوب گئے۔ آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ! اب دوسری طرف بارش برسا اور ہم سے روک دے۔ آپ ہاتھ سے بادل کے لیے جس طرف بھی اشارہ کرتے، ادھر مطلع صاف ہو جاتا۔ سارا مدینہ تالاب کی طرح بن گیا تھا اور قناۃ کا نالا مہینہ بھر بہتا رہا اور اردگرد سے آنے والے بھی اپنے یہاں بھرپور بارش کی خبر دیتے رہے۔