Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِلاَّ مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلاَ أَكْتُبُ. تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
Narrated Abu Huraira:There is none among the companions of the Prophet (ﷺ) who has narrated more Hadiths than I except `Abdullah bin `Amr (bin Al-`As) who used to write them and I never did the same
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے وہب بن منبہ نے اپنے بھائی کے واسطے سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے علاوہ مجھ سے زیادہ کوئی حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا۔ مگر وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ دوسری سند سے معمر نے وہب بن منبہ کی متابعت کی، وہ ہمام سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا.
Narrated `Aisha:I never saw the Prophet (ﷺ) offering the Duha prayer but I always offer it
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مگر میں خود پڑھتی ہوں۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "He who slaps the cheeks, tears the clothes and follows the tradition of the Days of Ignorance is not from us
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے عبداللہ بن مرہ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ( کسی میت پر ) اپنے رخسار پیٹے ‘ گریبان پھاڑے اور عہد جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ " وَيْحَكَ، إِنَّ شَأْنَهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:A Bedouin asked Allah's Messenger (ﷺ) about the emigration. The Prophet (ﷺ) said, "May Allah have mercy on you! The matter of emigration is very hard. Have you got camels? Do you pay their Zakat?" The Bedouin said, "Yes, I have camels and I pay their Zakat." The Prophet (ﷺ) said, Work beyond the seas and Allah will not decrease (waste) any of your good deeds." (See Hadith No. 260 Vol)
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن یزید نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا ( یعنی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں مدینہ میں ہجرت کر آؤں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ افسوس! اس کی تو شان بڑی ہے۔ کیا تیرے پاس زکوٰۃ دینے کے لیے کچھ اونٹ ہیں جن کی تو زکوٰۃ دیا کرتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا ہے سمندروں کے اس پار ( جس ملک میں تو رہے وہاں ) عمل کرتا رہ اللہ تیرے کسی عمل کا ثواب کم نہیں کرے گا۔
Narrated by Sa`id bin Al-Musaiyab
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ اخْتَلَفَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ ـ رضى الله عنهما ـ وَهُمَا بِعُسْفَانَ فِي الْمُتْعَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ مَا تُرِيدُ إِلاَّ أَنْ تَنْهَى عَنْ أَمْرٍ فَعَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا.
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:`Ali and `Uthman differed regarding Hajj-at-Tamattu` while they were at 'Usfan (a familiar place near Mecca). `Ali said, "I see you want to forbid people to do a thing that the Prophet (ﷺ) did?" When `Ali saw that, he assumed Ihram for both Hajj and `Umra
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن مسیب نے کہ عثمان اور علی رضی اللہ عنہما عسفان آئے تو ان میں باہم تمتع کے سلسلے میں اختلاف ہوا تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اس سے آپ کیوں روک رہے ہیں؟ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اپنے حال پر رہنے دو۔ یہ دیکھ کر علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھا۔
Narrated by Ibn Shihab
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ وَهُوَ الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِهِ وَهْوَ غُلاَمٌ مِنْ بِئْرِهِمْ. وَقَالَ عُرْوَةُ عَنِ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِهِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ.
Narrated Ibn Shihab:Mahmud bin Ar-Rabi` who was the person on whose face the Prophet (ﷺ) had ejected a mouthful of water from his family's well while he was a boy, and `Urwa (on the authority of Al-Miswar and others) who testified each other, said, "Whenever the Prophet (ﷺ) , performed ablution, his companions were nearly fighting for the remains of the water
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم سے میرے باپ نے، انہوں نے صالح سے سنا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، کہا انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی، ابن شہاب کہتے ہیں محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کے کنویں ( کے پانی ) سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی اور عروہ نے اسی حدیث کو مسور وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے اور ہر ایک ( راوی ) ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے وضو کے پانی پر صحابہ رضی اللہ عنہم جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے۔
Narrated by Tawus
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدَيْهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ فَأَفْطَرَ، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (ﷺ) set out from Medina to Mecca and he fasted till he reached 'Usfan, where he asked for water and raised his hand to let the people see him, and then broke the fast, and did not fast after that till he reached Mecca, and that happened in Ramadan." Ibn `Abbas used to say, "Allah's Messenger (ﷺ) (sometimes) fasted and (sometimes) did not fast during the journeys so whoever wished to fast could fast, and whoever wished not to fast, could do so
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غزوہ فتح میں ) مدینہ سے مکہ کے لیے سفر شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے، جب آپ عسفان پہنچے تو پانی منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ سے ( منہ تک ) اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر میں ) روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا اس لیے جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا مِنْ خَرَاجِهِ.
Narrated Anas bin Malik:Abu Taiba cupped Allah's Messenger (ﷺ) so he ordered that he be paid one Sa of dates and ordered his masters to reduce his tax (as he was a slave and had to pay a tax to them)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں حمید نے، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطیبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنا لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور ( بطور اجرت ) انہیں دینے کے لیے حکم فرمایا۔ اور ان کے مالک کو فرمایا کہ ان کے خراج میں کمی کر دیں۔
Narrated by `Umar bin Al-Khattab
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ تَشْتَرِهِ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ".
Narrated `Umar bin Al-Khattab:I gave a horse in Allah's Cause. The person to whom it was given, did not look after it. I intended to buy it from him, thinking that he would sell it cheap. When I asked the Prophet (ﷺ) he said, "Don't buy it, even if he gives it to you for one Dirham, as the person who takes back what he has given in charity, is like a dog that swallows back its vomit
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا زید بن اسلم سے، ان سے ان کے باپ نے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ( ایک شخص کو ) دیا ) ۔ جسے میں نے وہ گھوڑا دیا تھا، اس نے اسے دبلا کر دیا۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ اس سے اپنا وہ گھوڑا خرید لوں، میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ شخص وہ گھوڑا سستے داموں پر بیچ دے گا۔ لیکن جب میں نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو، خواہ تمہیں وہ ایک ہی درہم میں کیوں نہ دے۔ کیونکہ اپنے صدقہ کو واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو اپنی ہی قے خود چاٹتا ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ " إِنَّ أَقْوَامًا بِالْمَدِينَةِ خَلْفَنَا، مَا سَلَكْنَا شِعْبًا وَلاَ وَادِيًا إِلاَّ وَهُمْ مَعَنَا فِيهِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَوَّلُ أَصَحُّ.
Narrated Anas:While the Prophet (ﷺ) was in a Ghazwa he said, "Some people have remained behind us in Medina and we never crossed a mountain path or a valley, but they were with us (i.e. sharing the reward with us), as they have been held back by a (legal) excuse
امام بخاری رحمہ اللہ حدیث کی دوسری سند بیان کرتے ہیں کہ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ یہ زید کے بیٹے ہیں ‘ ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ ( تبوک ) پر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ میں ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں لیکن ہم کسی بھی گھاٹی یا وادی میں ( جہاد کے لیے ) چلیں وہ ثواب میں ہمارے ساتھ ہیں کہ وہ صرف عذر کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں آ سکے۔ اور موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے ‘ ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ پہلی سند زیادہ صحیح ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ، فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسٌ فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ". قَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ أَمَّا ذَوُو آرَائِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُ الأَنْصَارَ، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أُعْطِي رِجَالاً حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَوَاللَّهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ ". قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا. فَقَالَ لَهُمْ " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحَوْضِ ". قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ.
Narrated Anas bin Malik:When Allah favored His Apostle with the properties of Hawazin tribe as Fai (booty), he started giving to some Quraishi men even up to one-hundred camels each, whereupon some Ansari men said about Allah's Messenger (ﷺ), "May Allah forgive His Apostle! He is giving to (men of) Quraish and leaves us, in spite of the fact that our swords are still dropping blood (of the infidels)" When Allah's Messenger (ﷺ) was informed of what they had said, he called the Ansar and gathered them in a leather tent and did not call anybody else along, with them. When they gathered, Allah's Messenger (ﷺ) came to them and said, "What is the statement which, I have been informed, and that which you have said?" The learned ones among them replied," O Allah's Messenger (ﷺ)! The wise ones amongst us did not say anything, but the youngsters amongst us said, 'May Allah forgive His Apostle; he gives the Quraish and leaves the Ansar, in spite of the fact that our swords are still dribbling (wet) with the blood of the infidels.' " Allah's Messenger (ﷺ) replied, I give to such people as are still close to the period of Infidelity (i.e. they have recently embraced Islam and Faith is still weak in their hearts). Won't you be pleased to see people go with fortune, while you return with Allah's Messenger (ﷺ) to your houses? By Allah, what you will return with, is better than what they are returning with." The Ansar replied, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ), we are satisfied' Then the Prophet (ﷺ) said to them." You will find after me, others being preferred to you. Then be patient till you meet Allah and meet His Apostle at Al-Kauthar (i.e. a fount in Paradise)." (Anas added:) But we did not remain patient
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے بعض آدمیوں کو ( تالیف قلب کی غرض سے ) سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے۔ آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا۔ حالانکہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ ( قریش کے لوگوں کو حال ہی میں ہم نے مارا، ان کے شہر کو ہم ہی نے فتح کیا ) انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بلایا۔ جب سب انصاری لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے؟ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں جو عقل والے ہیں، وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں، ہاں چند نوعمر لڑکے ہیں، انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہے۔ ( اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے، تو تم لوگ اپنے گھروں کو رسول اللہ کو لے کر واپس جا رہے ہو گے۔ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے۔ سب انصاریوں نے کہا: بیشک یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا، اس وقت تم صبر کرنا، ( دنگا فساد نہ کرنا ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوض کوثر پر۔“ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، پھر ہم سے صبر نہ ہو سکا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنَ رَأَتْ، وَلاَ أُذُنَ سَمِعَتْ، وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ }".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said, "I have prepared for My Pious slaves things which have never been seen by an eye, or heard by an ear, or imagined by a human being." If you wish, you can recite this Verse from the Holy Qur'an:--"No soul knows what is kept hidden for them, of joy as a reward for what they used to do
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں، جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا ہے۔ اگر جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين» ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، سَمِعْتُ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ".
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not enter the ruined dwellings of those who were unjust to themselves unless (you enter) weeping, lest you should suffer the same punishment as was inflicted upon them
مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے یونس سے سنا ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“
Narrated by Hariz bin `Uthman
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَرَأَيْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ شَيْخًا قَالَ كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ.
Narrated Hariz bin `Uthman:That he asked `Abdullah bin Busr (i.e. the companion of the Prophet), "Did you see the Prophet (ﷺ) when he was old?" He said, "He had a few white hairs between the lower lip and the chin
ہم سے عصام بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حریز بن عثمان نے بیان کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھوڑی کے چند بال سفید ہو گئے تھے۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، عَلَيْهَا السَّلاَمُ شَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَبْىٌ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ، فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْنَا، وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْتُ لأَقُومَ فَقَالَ " عَلَى مَكَانِكُمَا ". فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ " أَلاَ أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ، وَتُسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتَحْمَدَا ثَلاَثَةً وَثَلاَثِينَ، فَهْوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ".
Narrated `Ali:Fatima complained of the suffering caused to her by the hand mill. Some Captives were brought to the Prophet, so she came to him but did not find him at home. `Aisha was present there to whom she told (of her desire for a servant). When the Prophet (ﷺ) came, Aisha informed him about Fatima's visit. `Ali added "So the Prophet (ﷺ) came to us, while we had gone to our bed. I wanted to get up but the Prophet (ﷺ) said, "Remain at your place". Then he sat down between us till I found the coolness of his feet on my chest. Then he said, "Shall I teach you a thing which is better than what you have asked me? When you go to bed, say, 'Allahu-Akbar' thirty-four times, and 'Subhan Allah thirty-three times, and 'Al hamdu-li l-lah thirty-three times for that is better for you both than a servant
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، کہا ہم سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں لیکن آپ موجود نہیں تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے، اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو، اس کے بعد آپ ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی،۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں، جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو، یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہتر ہے۔
Narrated by `Amr bin Dinar and 'Ubaidullah bin Abi Yazid
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالاَ لَمْ يَكُنْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَوْلَ الْبَيْتِ حَائِطٌ، كَانُوا يُصَلُّونَ حَوْلَ الْبَيْتِ، حَتَّى كَانَ عُمَرُ، فَبَنَى حَوْلَهُ حَائِطًا ـ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ـ جَدْرُهُ قَصِيرٌ، فَبَنَاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ.
Narrated `Amr bin Dinar and 'Ubaidullah bin Abi Yazid:In the lifetime of the Prophet (ﷺ) there was no wall around the Ka`ba and the people used to pray around the Ka`ba till `Umar became the Caliph and he built the wall around it. 'Ubaidullah further said, "Its wall was low, so Ibn Az-Zubair built it
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور عبیداللہ بن ابی زید نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیت اللہ کے گرد احاطہٰ کی دیوار نہ تھی لوگ کعبہ کے گرد نماز پڑھتے تھے پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے اس کے گرد دیوار بنوائی۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ یہ دیواریں بھی پست تھیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کو بلند کیا۔
Narrated by Ibn Ma`qil
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ أَنْفَذَهُ لَنَا ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ سَمِعَهُ مِنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ كَبَّرَ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فَقَالَ إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا.
Narrated Ibn Ma`qil:`Ali led the funeral prayer of Sahl bin Hunaif and said, "He was one of the warriors of Badr
مجھ سے محمد بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا کہ یہ روایت ہمیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ اصبہانی نے لکھ کر بھیجی، انہوں نے عبداللہ بن معقل سے سنا کہ علی رضی اللہ عنہ نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے جنازے پر تکبیریں کہیں اور کہا کہ وہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:While the people were offering the Fajr prayer at Quba' (near Medina), someone came to them and said: "It has been revealed to Allah's Messenger (ﷺ) tonight, and he has been ordered to pray facing the Ka`ba." So turn your faces to the Ka`ba. Those people were facing Sham (Jerusalem) so they turned their faces towards Ka`ba (at Mecca)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے، آپ نے فرمایا کہ لوگ قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا۔ اس نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کل وحی نازل ہوئی ہے اور انہیں کعبہ کی طرف ( نماز میں ) منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے بھی کعبہ کی جانب منہ کر لیے جب کہ اس وقت وہ شام کی جانب منہ کئے ہوئے تھے، اس لیے وہ سب کعبہ کی جانب گھوم گئے۔
Narrated by Muhammad bin Seereen
حَدَّثَنَا حِبَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى مَجْلِسٍ فِيهِ عُظْمٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَفِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَذَكَرْتُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَلَكِنَّ عَمَّهُ كَانَ لاَ يَقُولُ ذَلِكَ. فَقُلْتُ إِنِّي لَجَرِيءٌ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى رَجُلٍ فِي جَانِبِ الْكُوفَةِ. وَرَفَعَ صَوْتَهُ، قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ أَوْ مَالِكَ بْنَ عَوْفٍ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهْىَ حَامِلٌ فَقَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ، وَلاَ تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى. وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ لَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ.
Narrated Muhammad bin Seereen:I sat in a gathering in which the chiefs of the Ansar were present, and `Abdur-Rahman bin Abu Laila was amongst them. I mentioned the narration of `Abdullah bin `Utba regarding the question of Subai'a bint Al-Harith. `Abdur-Rahman said, "But `Abdullah's uncle used not to say so." I said, "I am too brave if I tell a lie concerning a person who is now in Al-Kufa," and I raised my voice. Then I went out and met Malik bin 'Amir or Malik bin `Auf, and said, "What was the verdict of Ibn Mas`ud about the pregnant widow whose husband had died?" He replied, "Ibn Mas`ud said, 'Why do you impose on her the hard order and don't let her make use of the leave? The shorter Sura of women (i.e. Surat-at- Talaq) was revealed after the longer Sura (i.e. Surat-al-Baqara)." (i.e. Her 'Idda is until she delivers)
ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں حاضر ہوا۔ بڑے بڑے انصاری وہاں موجود تھے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی موجود تھے۔ میں نے وہاں سبیعہ بنت حارث کے باب سے متعلق عبداللہ بن عتبہ کی حدیث کا ذکر کیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا لیکن عبداللہ بن عتبہ کے چچا ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) ایسا نہیں کہتے تھے۔ ( محمد بن سیرین نے کہا ) کہ میں نے کہا کہ پھر تو میں نے ایک ایسے بزرگ عبداللہ بن عتبہ کے متعلق جھوٹ بولنے میں دلیری کی ہے کہ جو کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں۔ میری آواز بلند ہو گئی تھی۔ ابن سیرین نے کہا کہ پھر جب میں باہر نکلا تو راستے میں مالک بن عامر یا مالک بن عوف سے ملاقات ہو گئی۔ ( راوی کو شک ہے کہ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے رفیقوں میں سے تھے ) میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اور وہ حمل سے ہو تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی عدت کے متعلق کیا فتویٰ دیتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ تم لوگ اس حاملہ پر سختی کے متعلق کیوں سوچتے ہو اس پر آسانی نہیں کرتے ( اس کو لمبی ) عدت کا حکم دیتے ہو۔ سورۃ نساء چھوٹی ( سورۃ الطلاق ) لمبی سورۃ نساء کے بعد نازل ہوئی ہے اور ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ تَوَافَقَا فَعِشْرَةُ مَا بَيْنَهُمَا ثَلاَثُ لَيَالٍ فَإِنْ أَحَبَّا أَنْ يَتَزَايَدَا أَوْ يَتَتَارَكَا تَتَارَكَا ". فَمَا أَدْرِي أَشَىْءٌ كَانَ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَيَّنَهُ عَلِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَنْسُوخٌ.
Salama bin Al-Akwa` said:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a man and a woman agree (to marry temporarily), their marriage should last for three nights, and if they like to continue, they can do so; and if they want to separate, they can do so." I do not know whether that was only for us or for all the people in general. Abu `Abdullah (Al-Bukhari) said: `Ali made it clear that the Prophet said, "The Mut'a marriage has been cancelled (made unlawful)
اور ابن ابی ذئب نے بیان کیا کہ مجھ سے ایاس بن سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد اور عورت متعہ کر لیں اور کوئی مدت متعین نہ کریں تو ( کم سے کم ) تین دن، تین رات مل کر رہیں، پھر اگر وہ تین دن سے زیادہ اس متعہ کو رکھنا چاہیں یا ختم کرنا چاہیں تو انہیں اس کی اجازت ہے ( سلمہ بن الاکوع کہتے ہیں کہ ) مجھے معلوم نہیں یہ حکم صرف ہمارے ( صحابہ ) ہی کے لیے تھا یا تمام لوگوں کے لیے ہے ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ خود علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایت کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ کی حلت منسوخ ہے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَأَحْلَفَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
Narrated `Abdullah:An Ansari man accused his wife (of committing illegal sexual intercourse). The Prophet (ﷺ) made both of them takes the oath of Lian, and separated them from each other (by divorce)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ نے کہ قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میاں بیوی سے قسم کھلوائی اور پھر دونوں میں جدائی کرا دی۔
Narrated by Abu Musa Al-Ash`ari
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لاَ رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ".
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of a Believer who recites the Qur'an, is that of a citron which smells good and tastes good; And the example of a Believer who does not recite the Qur'an, is that of a date which has no smell but tastes sweet; and the example of a hypocrite who recites the Qur'an, is that of an aromatic plant which smells good but tastes bitter; and the example of a hypocrite who does not recite the Qur'an, is that of a colocynth plant which has no smell and is bitter in taste
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ ( پھول ) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔
Narrated by Abu Tha`laba
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ. تَابَعَهُ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَالْمَاجِشُونُ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Abu Tha`laba:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the eating of the meat of beasts having fangs
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوادریس خولانی نے اور وہ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کھانے والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔ اس روایت کی متابعت یونس، معمر، ابن عیینہ اور ماجشون نے زہری کی سند سے کی ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) forbade the drinking of water direct from the mouth of a water-skin
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کو منع فرمایا تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَيْنُ حَقٌّ ". وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The effect of an evil eye is a fact." And he prohibited tattooing
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظر بد لگنا حق ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم پر گودنے سے منع فرمایا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الأَعْرَجِ، يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever could get one rak`a (of the Fajr prayer) before sunrise, he has got the (morning) prayer and whoever could get one rak`a of the `Asr prayer before sunset, he has got the (`Asr) prayer
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار اور بسر بن سعید اور عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے، ان تینوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے فجر کی ایک رکعت ( جماعت کے ساتھ ) سورج نکلنے سے پہلے پا لی اس نے فجر کی نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا۔ اور جس نے عصر کی ایک رکعت ( جماعت کے ساتھ ) سورج ڈوبنے سے پہلے پا لی، اس نے عصر کی نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا۔
Narrated by Ibn Azib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ ابْنِ عَازِبٍ، قَالَ نَهَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّ.
Narrated Ibn Azib:The Prophet (ﷺ) forbade us to use the red Mayathir and to use Al-Qassiy
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اشعث بن ابی شعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے بیان کیا اور ان سے ابن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سرخ «ميثرة» اور «قسي» کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ. قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ".
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) A group of Jews entered upon the Prophet (ﷺ) and said, "As-Samu-Alaikum." (i.e. death be upon you). I understood it and said, "Wa-Alaikum As-Samu wal-la'n. (death and the curse of Allah be Upon you)." Allah's Messenger (ﷺ) said "Be calm, O `Aisha! Allah loves that on, should be kind and lenient in all matters." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Haven't you heard what they (the Jews) have said?" Allah's Messenger (ﷺ) said "I have (already) said (to them) "And upon you
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعید نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السام عليكم.» ( تمہیں موت آئے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اس کا مفہوم سمجھ گئی اور میں نے ان کا جواب دیا کہ «وعليكم السام واللعنة.» ( یعنی تمہیں موت آئے اور لعنت ہو ) بیان کیا کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ٹھہرو، اے عائشہ! اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی اور ملائمت کو پسند کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کا جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» ( اور تمہیں بھی ) ۔
Narrated by Thumama
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، كَانَتْ تَبْسُطُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نِطَعًا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى ذَلِكَ النِّطَعِ ـ قَالَ ـ فَإِذَا نَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخَذَتْ مِنْ عَرَقِهِ وَشَعَرِهِ، فَجَمَعَتْهُ فِي قَارُورَةٍ، ثُمَّ جَمَعَتْهُ فِي سُكٍّ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا حَضَرَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْوَفَاةُ أَوْصَى أَنْ يُجْعَلَ فِي حَنُوطِهِ مِنْ ذَلِكَ السُّكِّ ـ قَالَ ـ فَجُعِلَ فِي حَنُوطِهِ.
Narrated Thumama:Anas said, "Um Sulaim used to spread a leather sheet for the Prophet (ﷺ) and he used to take a midday nap on that leather sheet at her home." Anas added, "When the Prophet (ﷺ) had slept, she would take some of his sweat and hair and collect it (the sweat) in a bottle and then mix it with Suk (a kind of perfume) while he was still sleeping. "When the death of Anas bin Malik approached, he advised that some of that Suk be mixed with his Hanut (perfume for embalming the dead body), and it was mixed with his Hanut
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ( ان کی والدہ ) ام سلیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا فرش بچھا دیتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں اسی پر قیلولہ کر لیتے تھے۔ بیان کیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ( اور بیدار ہوئے ) تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور ( جھڑے ہوئے ) آپ کے بال لے لیے اور ( پسینہ کو ) ایک شیشی میں جمع کیا اور پھر «سك» ( ایک خوشبو ) میں اسے ملا لیا۔ بیان کیا ہے کہ پھر جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ اس «سك» ( جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا تھا ) میں سے ان کے حنوط میں ملا دیا جائے۔ بیان کیا ہے کہ پھر ان کے حنوط میں اسے ملایا گیا۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلاَمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي قَالَ " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:We said, "O Allah's Messenger (ﷺ) This is (i.e. we know) the greeting to you; will you tell us how to send Salat on you?" He said, "Say: 'Allahumma Salli 'ala Muhammadin `Abdika wa rasulika kama sal-laita 'ala Ibrahima wa barik 'ala Muhammadin wa all Muhammadin kama barakta 'ala Ibrahima wa `Ali Ibrahim
ہم سے ابراہیم بن حمزہ زبیری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن اسامہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو سلام اس طرح کیا جاتا ہے، لیکن آپ پر درود کس طرح بھیجا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك، كما صليت على إبراهيم، وبارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم» ”اے اللہ! اپنی رحمت نازل کر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جو تیرے بندے ہیں اور تیرے رسول ہیں جس طرح تو نے رحمت نازل کی ابراہیم پر اور برکت بھیج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور ان کی آل پر جس طرح برکت بھیجی تو نے ابراہم پر اور آل ابراہیم پر۔“
Narrated by Alqama
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ قَالَتْ لاَ، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَطِيعُ.
Narrated 'Alqama:I asked `Aisha, mother of the believers, "O mother of the believers! How were the deeds of the Prophet? Did he use to do extra deeds of worship on special days?" She said, "No, but his deeds were regular and constant, and who among you is able to do what the Prophet (ﷺ) was able to do (i.e. in worshipping Allah)?
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر عبادت کیا کرتے تھے کیا آپ نے کچھ خاص دن خاص کر رکھے تھے؟ بتلایا کہ نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور تم میں کون ہے جو ان عملوں کی طاقت رکھتا ہو جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طاقت رکھتے تھے۔
Narrated by Humaid
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلِ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا فَقَالَ نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلاَةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ بَعْدَ مَا صَلَّى فَقَالَ " صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا ". قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ.
Narrated Humaid:Anas was asked, "Did Allah's Messenger (ﷺ) wear a ring?" He said, "Yes. Once he delayed the `Isha' prayer till midnight and after the prayer, he faced us and said, 'The people prayed and have slept and you remained in prayer as long as you waited for it.' " Anas added, "As if I were just now observing the glitter of his ring
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا حمید طویل سے، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی انگوٹھی پہنی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں! ایک رات عشاء کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھی رات تک دیر کی۔ نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے۔ اور تم لوگ اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں تھے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جیسے اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کا سماں میری آنکھوں میں ہے ) ۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُهُ الْحُمْلاَنَ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَىْءٍ ". وَوَافَقْتُهُ وَهْوَ غَضْبَانُ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ قَالَ " انْطَلِقْ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ ـ أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ يَحْمِلُكُمْ ".
Narrated Abu Musa:My companions sent me to the Prophet (ﷺ) to ask him for some mounts. He said, "By Allah! I will not mount you on anything!" When I met him, he was in an angry mood, but when I met him (again), he said, "Tell your companions that Allah or Allah's Messenger (ﷺ) will provide you with mounts
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا ( کیونکہ موجود نہیں ہیں ) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا ( یہ کہا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے سواری کا انتظام کر دیا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ عُمَرُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ لاَ نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ. فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ، أَلاَ وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى، وَقَدْ أَحْصَنَ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ، أَوْ كَانَ الْحَمْلُ أَوْ الاِعْتِرَافُ ـ قَالَ سُفْيَانُ كَذَا حَفِظْتُ ـ أَلاَ وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ.
Narrated Ibn `Abbas:`Umar said, "I am afraid that after a long time has passed, people may say, "We do not find the Verses of the Rajam (stoning to death) in the Holy Book," and consequently they may go astray by leaving an obligation that Allah has revealed. Lo! I confirm that the penalty of Rajam be inflicted on him who commits illegal sexual intercourse, if he is already married and the crime is proved by witnesses or pregnancy or confession." Sufyan added, "I have memorized this narration in this way." `Umar added, "Surely Allah's Messenger (ﷺ) carried out the penalty of Rajam, and so did we after him
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں زیادہ وقت گزر جائے اور کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو رجم کا حکم ہمیں کہیں نہیں ملتا اور اس طرح وہ اللہ کے ایک فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ رجم کا حکم اس شخص کے لیے فرض ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو بشرطیکہ صحیح شرعی گواہیوں سے ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا کوئی خود اقرار کرے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے اسی طرح یاد کیا تھا آگاہ ہو جاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا تھا۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الأَنْصَارِ لَطَمَ فِي وَجْهِي. قَالَ " ادْعُوهُ ". فَدَعَوْهُ. قَالَ " لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ. قَالَ قُلْتُ وَعَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ فَلَطَمْتُهُ. قَالَ " لاَ تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الأَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:A Jew whose face had been slapped (by someone), came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Muhammad! A man from your Ansari companions slapped me. " The Prophet (ﷺ) said, "Call him". They called him and the Prophet (ﷺ) asked him, "Why did you slap his face?" He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! While I was passing by the Jews, I heard him saying, 'By Him Who chose Moses above all the human beings.' I said (protestingly), 'Even above Muhammad?' So I became furious and slapped him." The Prophet (ﷺ) said, "Do not give me preference to other prophets, for the people will become unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain conscious, and behold, I will Find Moses holding one of the pillars of the Throne (of Allah). Then I will not know whether he has become conscious before me or he has been exempted because of his unconsciousness at the mountain (during his worldly life) which he received
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا ( وہ حاضر ہوا ) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا ( غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( دیکھو خیال رکھو ) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ ( ہیبت خداوندی سے ) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام ( مجھ سے بھی پہلے ) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو ( دنیا میں ) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأَيْتُ فِي رُؤْيَا أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى، فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ، وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ ".
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "I saw in a dream that I waved a sword and it broke in the middle, and behold, that symbolized the casualties the believers suffered on the Day (of the battle) of Uhud. Then I waved the sword again, and it became better than it had ever been before, and behold, that symbolized the Conquest (of Mecca) which Allah brought about and the gathering of the believers
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ ابن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو وہ بیچ سے ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر احد کی جنگ میں مسلمانوں کے شہید ہونے کی صورت میں سامنے آئی پھر دوبارہ میں نے اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی شکل میں ہو گئی۔ اس کی تعبیر فتح اور مسلمانوں کے اتفاق و اجتماع کی صورت میں سامنے آئی۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا، أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ ".
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Allah sends punishment upon a nation then it befalls upon the whole population indiscriminately and then they will be resurrected (and judged) according to their deeds
ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“
Narrated by Abu Huraira and Zaid bin Khalid Al-Juhani
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالاَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ صَدَقَ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ. فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَقَالُوا لِي عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ. فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَقَالُوا إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ ـ لِرَجُلٍ ـ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَارْجُمْهَا ". فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا.
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid Al-Juhani:A bedouin came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Judge between us according to Allah's Book (Laws)." His opponent stood up and said, "He has said the truth, so judge between us according to Allah's Laws." The bedouin said, "My son was a laborer for this man and committed illegal sexual intercourse with his wife. The people said to me, 'Your son is to be stoned to death,' so I ransomed my son for one hundred sheep and a slave girl. Then I asked the religious learned men and they said to me, 'Your son has to receive one hundred lashes plus one year of exile.' " The Prophet (ﷺ) said, "I shall judge between you according to Allah's Book (Laws)! As for the slave girl and the sheep, it shall be returned to you, and your son shall receive one-hundred lashes and be exiled for one year. O you, Unais!" The Prophet (ﷺ) addressed some man, "Go in the morning to the wife of this man and stone her to death." So Unais went to her the next morning and stoned her to death
Narrated by `Abdur-Rahman bin `Abis
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلاَ إِقَامَةً، ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَتَاهُنَّ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated `Abdur-Rahman bin `Abis:Ibn `Abbas was asked, "Did you offer the Id prayer with the Prophet?" He said, "Yes, had it not been for my close relation to the Prophet, I would not have performed it (with him) because of my being too young The Prophet (ﷺ) came to the mark which is near the home of Kathir bin As-Salt and offered the Id prayer and then delivered the sermon. I do not remember if any Adhan or Iqama were pronounced for the prayer. Then the Prophet (ﷺ) ordered (the women) to give alms, and they started stretching out their hands towards their ears and throats (giving their ornaments in charity), and the Prophet (ﷺ) ordered Bilal to go to them (to collect the alms), and then Bilal returned to the Prophet
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں میں اس وقت کم سن تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھ کو اتنا نزدیک کا رشتہ نہ ہوتا اور کم سن نہ ہوتا تو آپ کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے اور وہاں آپ نے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں زیوروں کا صدقہ دینے کے لیے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا، وہ آئے اور صدقہ میں ملی ہوئی چیزوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " النَّاسُ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ". وَقَالَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "The people will fall unconscious on the Day of Resurrection, then suddenly I will see Moses holding one of the pillars of the Throne." Abu Huraira said: The Prophet (ﷺ) said, "I will be the first person to be resurrected and will see Moses holding the Throne
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ " أَصَلَّيْتَ ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
Narrated Jabir:A man entered the Mosque while the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutba. The Prophet (ﷺ) said to him, "Have you prayed?" The man replied in the negative. The Prophet (ﷺ) said, "Pray two rak`at
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو سے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے ( تحیۃ المسجد کی ) نماز پڑھ لی ہے؟ آنے والے نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اٹھو اور دو رکعت نماز ( تحیۃ المسجد ) پڑھ لو۔