Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ خُزَاعَةَ، قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَخَطَبَ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْقَتْلَ ـ أَوِ الْفِيلَ شَكَّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ـ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي أَلاَ وَإِنَّهَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ، لاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلاَ تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ، فَمَنْ قُتِلَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُعْقَلَ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ ". فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ " اكْتُبُوا لأَبِي فُلاَنٍ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ الإِذْخِرَ، إِلاَّ الإِذْخِرَ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ يُقَادُ بِالْقَافِ. فَقِيلَ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَىُّ شَىْءٍ كَتَبَ لَهُ قَالَ كَتَبَ لَهُ هَذِهِ الْخُطْبَةَ.
Narrated Abu Huraira:In the year of the Conquest of Mecca, the tribe of Khuza`a killed a man from the tribe of Bani Laith in revenge for a killed person, belonging to them. They informed the Prophet (ﷺ) about it. So he rode his Rahila (she-camel for riding) and addressed the people saying, "Allah held back the killing from Mecca. (The sub-narrator is in doubt whether the Prophet (ﷺ) said "elephant or killing," as the Arabic words standing for these words have great similarity in shape), but He (Allah) let His Apostle and the believers over power the infidels of Mecca. Beware! (Mecca is a sanctuary) Verily! Fighting in Mecca was not permitted for anyone before me nor will it be permitted for anyone after me. It (war) in it was made legal for me for few hours or so on that day. No doubt it is at this moment a sanctuary, it is not allowed to uproot its thorny shrubs or to uproot its trees or to pick up its Luqat (fallen things) except by a person who will look for its owner (announce it publicly). And if somebody is killed, then his closest relative has the right to choose one of the two-- the blood money (Diyya) or retaliation having the killer killed. In the meantime a man from Yemen came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Get that written for me." The Prophet (ﷺ) ordered his companions to write that for him. Then a man from Quraish said, "Except Al-Idhkhir (a type of grass that has good smell) O Allah's Messenger (ﷺ), as we use it in our houses and graves." The Prophet (ﷺ) said, "Except Al-Idhkhir i.e. Al-Idhkhir is allowed to be plucked
ہم سے ابونعیم الفضل بن دکین نے بیان کیا، ان سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ ( کے کسی شخص ) نے بنو لیث کے کسی آدمی کو اپنے کسی مقتول کے بدلے میں مار دیا تھا، یہ فتح مکہ والے سال کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی، آپ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا اور فرمایا کہ اللہ نے مکہ سے قتل یا ہاتھی کو روک لیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس لفظ کو شک کے ساتھ سمجھو، ایسا ہی ابونعیم وغیرہ نے «القتل» اور «الفيل» کہا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگ «الفيل» کہتے ہیں۔ ( پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) کہ اللہ نے ان پر اپنے رسول اور مسلمان کو غالب کر دیا اور سمجھ لو کہ وہ ( مکہ ) کسی کے لیے حلال نہیں ہوا۔ نہ مجھ سے پہلے اور نہ ( آئندہ ) کبھی ہو گا اور میرے لیے بھی صرف دن کے تھوڑے سے حصہ کے لیے حلال کر دیا گیا تھا۔ سن لو کہ وہ اس وقت حرام ہے۔ نہ اس کا کوئی کانٹا توڑا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیزیں بھی وہی اٹھائے جس کا منشاء یہ ہو کہ وہ اس چیز کا تعارف کرا دے گا۔ تو اگر کوئی شخص مارا جائے تو ( اس کے عزیزوں کو ) اختیار ہے دو باتوں کا، یا دیت لیں یا بدلہ۔ اتنے میں ایک یمنی آدمی ( ابوشاہ نامی ) آیا اور کہنے لگا ( یہ مسائل ) میرے لیے لکھوا دیجیئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوفلاں کے لیے ( یہ مسائل ) لکھ دو۔ تو ایک قریشی شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! مگر اذخر ( یعنی اذخر کاٹنے کی اجازت دے دیجیئے ) کیونکہ اسے ہم گھروں کی چھتوں پر ڈالتے ہیں۔ ( یا مٹی ملا کر ) اور اپنی قبروں میں بھی ڈالتے ہیں ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( ہاں ) مگر اذخر، مگر اذخر۔
Narrated by `Abdur Rahman bin Abi Laila
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، يَقُولُ مَا حَدَّثَنَا أَحَدٌ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ أَرَ صَلاَةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ.
Narrated `Abdur Rahman bin Abi Laila:Only Um Hani narrated to me that she had seen the Prophet (ﷺ) offering the Duha prayer. She said, "On the day of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) entered my house, took a bath and offered eight rak`at (of Duha prayers. I had never seen the Prophet (ﷺ) offering such a light prayer but he performed bowing and prostrations perfectly
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ مجھ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی ( صحابی ) نے یہ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ صرف ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعت ( چاشت کی ) نماز پڑھی۔ تو میں نے ایسی ہلکی پھلکی نماز کبھی نہیں دیکھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا کرتے تھے۔
Narrated by Abu Burda bin Abi Musa
وَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ.
Narrated Abu Burda bin Abi Musa:Abu Musa got seriously ill, fainted and could not reply to his wife while he was lying with his head in her lap. When he came to his senses, he said, "I am innocent of those, of whom Allah's Messenger (ﷺ) was innocent. Allah's Messenger (ﷺ) is innocent of a woman who cries aloud (or slaps her face) who shaves her head and who tear off her clothes (on the falling of a calamity)
اور حکم بن موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن جابر نے کہ قاسم بن مخیمرہ نے ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ‘ ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ بنت ابی رومہ کی گود میں تھا ( وہ ایک زور کی چیخ مار کر رونے لگی ) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسی غم کے وقت ) چلا کر رونے والی ‘ سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ كَتَبَ لَهُ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ ".
Narrated Anas:Abu Bakr wrote to me what Allah's Messenger (ﷺ) has made compulsory (regarding Zakat) and this was mentioned in it: If a property is equally owned by two partners, they should pay the combined Zakat and it will be considered that both of them have paid their Zakat equally
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں فرض زکوٰۃ میں وہی بات لکھی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی تھی اس میں یہ بھی لکھوایا تھا کہ جب دو شریک ہوں تو وہ اپنا حساب برابر کر لیں۔
Narrated by Abu Shihab
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، قَالَ قَدِمْتُ مُتَمَتِّعًا مَكَّةَ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْنَا قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ لِي أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ تَصِيرُ الآنَ حَجَّتُكَ مَكِّيَّةً. فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءٍ أَسْتَفْتِيهِ فَقَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ مَعَهُ، وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، فَقَالَ لَهُمْ " أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ بِطَوَافِ الْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَصِّرُوا ثُمَّ أَقِيمُوا حَلاَلاً، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ، وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً ". فَقَالُوا كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ فَقَالَ " افْعَلُوا مَا أَمَرْتُكُمْ، فَلَوْلاَ أَنِّي سُقْتُ الْهَدْىَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ، وَلَكِنْ لاَ يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ ". فَفَعَلُوا. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ أَبُو شِهَابٍ لَيْسَ لَهُ مُسْنَدٌ إِلَّا هَذَا
Narrated Abu Shihab:I left for Mecca for Hajj-at-Tamattu` assuming Ihram for `Umra. I reached Mecca three days before the day of Tarwiya (8th Dhul-Hijja). Some people of Mecca said to me, "Your Hajj will be like the Hajj performed by the people of Mecca (i.e. you will lose the superiority of assuming Ihram from the Miqat). So I went to `Ata' asking him his view about it. He said, "Jabir bin `Abdullah narrated to me, 'I performed Hajj with Allah's Messenger (ﷺ) on the day when he drove camels with him. The people had assumed Ihram for Hajj-al-Ifrad. The Prophet (ﷺ) ordered them to finish their Ihram after Tawaf round the Ka`ba, and between Safa and Marwa and to cut short their hair and then to stay there (in Mecca) as non-Muhrims till the day of Tarwiya (i.e. 8th of Dhul-Hijja) when they would assume Ihram for Hajj and they were ordered to make the Ihram with which they had come as for `Umra only. They asked, 'How can we make it `Umra (Tamattu`) as we have intended to perform Hajj?' The Prophet (ﷺ) said, 'Do what I have ordered you. Had I not brought the Hadi with me, I would have done the same, but I cannot finish my Ihram till the Hadi reaches its destination (i.e. is slaughtered).' So, they did (what he ordered them to do)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے ابوشہاب نے کہا کہ میں تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھ کے یوم ترویہ سے تین دن پہلے مکہ پہنچا۔ اس پر مکہ کے کچھ لوگوں نے کہا اب تمہارا حج مکی ہو گا۔ میں عطاء بن ابی رباح کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یہی پوچھنے کے لیے۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ حج کیا تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ قربانی کے اونٹ لائے تھے ( یعنی حجتہ الوداع ) صحابہ نے صرف مفرد حج کا احرام باندھا تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ( عمرہ کا احرام باندھ لو اور ) بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد اپنے احرام کھول ڈالو اور بال ترشوا لو۔ یوم ترویہ تک برابر اسی طرح حلال رہو، پھر یوم ترویہ میں مکہ ہی سے حج کا احرام باندھو اور اس طرح اپنے حج مفرد کو جس کی تم نے پہلے نیت کی تھی، اب اسے تمتع بنا لو۔ صحابہ نے عرض کی کہ ہم اسے تمتع کیسے بنا سکتے ہیں؟ ہم تو حج کا احرام باندھ چکے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح میں کہہ رہا ہوں ویسے ہی کرو۔ اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو خود میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح تم سے کہہ رہا ہوں۔ لیکن میں کیا کروں اب میرے لیے کوئی چیز اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی جب تک میرے قربانی کے جانوروں کی قربانی نہ ہو جائے۔ چنانچہ صحابہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ابوشہاب کی اس حدیث کے سوا اور کوئی مرفوع حدیث مروی نہیں ہے۔
وَقَالَ أَبُو مُوسَى دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهُمَا اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا.
Abu Musa said:The Prophet asked for a tumbler containing water and washed both his hands and face in it and then threw a mouthful of water in the tumbler and said to both of us (Abu Musa and Bilal), "Drink from the tumbler and pour some of its water on your faces and chests
(اور ایک دوسری حدیث میں) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا۔ جس میں پانی تھا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر فرمایا، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ.
Narrated Anas bin Malik:We used to travel with the Prophet (ﷺ) and neither did the fasting persons criticize those who were not fasting, nor did those who were not fasting criticize the fasting ones
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( رمضان میں ) سفر کیا کرتے تھے۔ ( سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے ) لیکن روزے دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ، وَكِيرِ الْحَدَّادِ، لاَ يَعْدَمُكَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْكِ إِمَّا تَشْتَرِيهِ، أَوْ تَجِدُ رِيحَهُ، وَكِيرُ الْحَدَّادِ يُحْرِقُ بَدَنَكَ أَوْ ثَوْبَكَ أَوْ تَجِدُ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً ".
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of a good companion (who sits with you) in comparison with a bad one, is like that of the musk seller and the blacksmith's bellows (or furnace); from the first you would either buy musk or enjoy its good smell while the bellows would either burn your clothes or your house, or you get a bad nasty smell thereof
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے سنا اور ان سے ان کے والد موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "The bad example is not for us. He who takes back his present is like a dog that swallows back its vomit
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا عکرمہ سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہئے۔ اس شخص کی سی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لے لے، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے خود چاٹتا ہے۔“
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ قَالَ رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas:We returned from the Ghazwa of Tabuk along with the Prophet. (See Hadith No. 92 below)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أُعْطِي قُرَيْشًا أَتَأَلَّفُهُمْ، لأَنَّهُمْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ".
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "I give to Quraish people in order to let them adhere to Islam, for they are near to their life of Ignorance (i.e. they have newly embraced Islam and it is still not strong in their hearts)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قریش کو میں ان کا دل ملانے کے لیے دیتا ہوں، کیونکہ ان کی جاہلیت ( کفر ) کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے ( ان کی دلجوئی کرنا ضروری ہے ) ۔“
Narrated by `Abdullah bin Qais Al-Ash`ari
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ، طُولُهَا فِي السَّمَاءِ ثَلاَثُونَ مِيلاً، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا لِلْمُؤْمِنِ أَهْلٌ لاَ يَرَاهُمُ الآخَرُونَ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ وَالْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ سِتُّونَ مِيلاً.
Narrated `Abdullah bin Qais Al-Ash`ari:The Prophet (ﷺ) said, "A tent (in Paradise) is like a hollow pearl which is thirty miles in height and on every corner of the tent the believer will have a family that cannot be seen by the others." (Narrated Abu `Imran in another narration, "The tent is sixty miles in height)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوعمران جونی سے سنا، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اشعری نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( جنتیوں کا ) خیمہ کیا ہے، ایک موتی ہے خولدار جس کی بلندی اوپر کو تیس میل تک ہے۔ اس کے ہر کنارے پر مومن کی ایک بیوی ہو گی جسے دوسرے نہ دیکھ سکیں گے۔“ ابوعبدالصمد اور حارث بن عبید نے ابوعمران سے ( بجائے تیس میل کے ) ساٹھ میل بیان کیا۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنهم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ " لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ ". ثُمَّ تَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ، وَهْوَ عَلَى الرَّحْلِ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:When the Prophet (ﷺ) passed by (a place called) Al Hijr, he said, "Do not enter the houses of those who were unjust to themselves, unless (you enter) weeping, lest you should suffer the same punishment as was inflicted upon them." After that he covered his face with his sheet cloth while he was on the camel-saddle
ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد (عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام حجر سے گزرے تو فرمایا ”ان لوگوں کی بستی میں جنہوں نے ظلم کیا تھا نہ داخل ہو ‘ لیکن اس صورت میں کہ تم روتے ہوئے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈال لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کجاوے پر تشریف رکھتے تھے۔
Narrated by Wahb Abu Juhaifa As-Suwai
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبٍ أَبِي جُحَيْفَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَرَأَيْتُ بَيَاضًا مِنْ تَحْتِ شَفَتِهِ السُّفْلَى الْعَنْفَقَةَ.
Narrated Wahb Abu Juhaifa As-Suwai:I saw the Prophet (ﷺ) and saw some white hair below his lower lip above the chin
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے وہب نے، ان سے ابوجحیفہ سوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ مبارک کے نیچے ٹھوڑی کے کچھ بال سفید تھے۔
Narrated by Sa`d bin 'Ubaida
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ عَنْ عُثْمَانَ،، فَذَكَرَ عَنْ مَحَاسِنِ، عَمَلِهِ، قَالَ لَعَلَّ ذَاكَ يَسُوؤُكَ. قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَأَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ. ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَ مَحَاسِنَ عَمَلِهِ قَالَ هُوَ ذَاكَ، بَيْتُهُ أَوْسَطُ بُيُوتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. ثُمَّ قَالَ لَعَلَّ ذَاكَ يَسُوؤُكَ. قَالَ أَجَلْ. قَالَ فَأَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ، انْطَلِقْ فَاجْهَدْ عَلَىَّ جَهْدَكَ.
Narrated Sa`d bin 'Ubaida:A man came to Ibn `Umar and asked about `Uthman and Ibn `Umar mentioned his good deeds and said to the questioner. "Perhaps these facts annoy you?" The other said, "Yes." Ibn `Umar said, "May Allah stick your nose in the dust (i.e. degrade you)!' Then the man asked him about `Ali. Ibn `Umar mentioned his good deeds and said, "It is all true, and that is his house in the midst of the houses of the Prophet. Perhaps these facts have hurt you?" The questioner said, "Yes." Ibn `Umar said, "May Allah stick your nose in the dust (i.e. degrade you or make you do things which you hate) ! Go away and do whatever you can against me
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین نے، ان سے زائدۃ نے، ان سے ابوحصین نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے محاسن کا ذکر کیا، پھر کہا کہ شاید یہ باتیں تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا جی ہاں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے پھر اس نے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، انہوں نے ان کے بھی محاسن ذکر کئے اور کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کا گھرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا نہایت عمدہ گھرانہ ہے، پھر کہا شاید یہ باتیں بھی تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا کہ جی ہاں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے، جا، اور میرا جو بگاڑنا چاہے بگاڑ لینا، کچھ کمی نہ کرنا۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعَبَّاسٌ يَنْقُلاَنِ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ يَقِيكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَخَرَّ إِلَى الأَرْضِ، وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " إِزَارِي إِزَارِي ". فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:When the Ka`ba was rebuilt, the Prophet (ﷺ) and `Abbas went to carry stones. `Abbas said to the Prophet (ﷺ) "(Take off and) put your waist sheet over your neck so that the stones may not hurt you." (But as soon as he took off his waist sheet) he fell unconscious on the ground with both his eyes towards the sky. When he came to his senses, he said, "My waist sheet! My waist sheet!" Then he tied his waist sheet (round his waist)
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عباس رضی اللہ عنہ اس کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اپنا تہبند گردن پر رکھ لیں اس طرح پتھر کی ( خراش لگنے سے ) بچ جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا کیا تو آپ زمین پر گر پڑے اور آپ کی نظر آسمان پر گڑ گئی جب ہوش ہوا تو آپ نے چچا سے فرمایا کہ میرا تہبند لائیں پھر انہوں نے آپ کا تہبند خوب مضبوط باندھ دیا۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ،. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ـ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا فِي بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَنَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَىَّ مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ، وَشَارِفَاىَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، حَتَّى جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا أَنَا بِشَارِفَىَّ قَدْ أُجِبَّتْ أَسْنِمَتُهَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَىَّ حِينَ رَأَيْتُ الْمَنْظَرَ، قُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالُوا فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهْوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، فِي شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عِنْدَهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا أَلاَ يَا حَمْزَ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ، فَوَثَبَ حَمْزَةُ إِلَى السَّيْفِ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قَالَ عَلِيٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الَّذِي لَقِيتُ فَقَالَ " مَا لَكَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَىَّ، فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ، فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ، فَارْتَدَى ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي، وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَأُذِنَ لَهُ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ ثَمِلٌ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لأَبِي فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ثَمِلٌ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى، فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ.
Narrated `Ali:I had a she-camel which I got in my share from the booty of the battle of Badr, and the Prophet (ﷺ) had given me another she camel from the Khumus which Allah had bestowed on him that day. And when I intended to celebrate my marriage to Fatima, the daughter of the Prophet, I made an arrangement with a goldsmith from Bani Qainuqa 'that he should go with me to bring Idhkhir (i.e. a kind of grass used by gold-smiths) which I intended to sell to gold-smiths in order to spend its price on the marriage banquet. While I was collecting ropes and sacks of pack saddles for my two she-camels which were kneeling down beside an Ansari's dwelling and after collecting what I needed, I suddenly found that the humps of the two she-camels had been cut off and their flanks had been cut open and portions of their livers had been taken out. On seeing that, I could not help weeping. I asked, "Who has done that?" They (i.e. the people) said, "Hamza bin `Abdul Muttalib has done it. He is present in this house with some Ansari drinkers, a girl singer, and his friends. The singer said in her song, "O Hamza, get at the fat she-camels!" On hearing this, Hamza rushed to his sword and cut off the camels' humps and cut their flanks open and took out portions from their livers." Then I came to the Prophet, with whom Zaid bin Haritha was present. The Prophet (ﷺ) noticed my state and asked, "What is the matter?" I said, "O Allah's Messenger (ﷺ), I have never experienced such a day as today! Hamza attacked my two she-camels, cut off their humps and cut their flanks open, and he is still present in a house along with some drinkers." The Prophet (ﷺ) asked for his cloak, put it on, and proceeded, followed by Zaid bin Haritha and myself, till he reached the house where Hamza was. He asked the permission to enter, and he was permitted. The Prophet (ﷺ) started blaming Hamza for what he had done. Hamza was drunk and his eyes were red. He looked at the Prophet (ﷺ) then raised his eyes to look at his knees and raised his eyes more to look at his face and then said, "You are not but my father's slaves." When the Prophet (ﷺ) understood that Hamza was drunk, he retreated, walking backwards went out and we left with him
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم کو احمد بن صالح نے خبر دی، ان سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، انہیں علی بن حسین (امام زین العابدین) نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کی غنیمت میں سے مجھے ایک اور اونٹنی ملی تھی اور اسی جنگ کی غنیمت میں سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو خمس کے طور پر حصہ مقرر کیا تھا اس میں سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اونٹنی عنایت فرمائی تھی۔ پھر میرا ارادہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا لاؤں۔ اس لیے بنی قینقاع کے ایک سنار سے بات چیت کی کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخر گھاس لائیں۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اس گھاس کو سناروں کے ہاتھ بیچ دوں گا اور اس کی قیمت ولیمہ کی دعوت میں لگاؤں گا۔ میں ابھی اپنی اونٹنی کے لیے پالان، ٹوکرے اور رسیاں جمع کر رہا تھا۔ اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے حجرہ کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں جن انتظامات میں تھا جب وہ پورے ہو گئے تو ( اونٹنیوں کو لینے آیا ) وہاں دیکھا کہ ان کے کوہان کسی نے کاٹ دیئے ہیں اور کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا، یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ ابھی اسی حجرہ میں انصار کے ساتھ شراب نوشی کی ایک مجلس میں موجود ہیں۔ ان کے پاس ایک گانے والی ہے اور ان کے دوست احباب ہیں۔ گانے والی نے گاتے ہوئے جب یہ مصرع پڑھا۔ ہاں، اے حمزہ! یہ عمدہ اور فربہ اونٹنیاں ہیں، تو حمزہ رضی اللہ عنہ نے کود کر اپنی تلوار تھامی اور ان دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے غم کو پہلے ہی جان لیا اور فرمایا کہ کیا بات پیش آئی؟ میں بولا: یا رسول اللہ! آج جیسی تکلیف کی بات کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں کو پکڑ کے ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر ڈالی ہے۔ وہ یہیں ایک گھر میں شراب کی مجلس جمائے بیٹھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک منگوائی اور اسے اوڑھ کر آپ تشریف لے چلے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ساتھ ہولئے۔ جب اس گھر کے قریب آپ تشریف لے گئے اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا تھا اس پر انہیں تنبیہ فرمائی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ شراب کے نشے میں مست تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھائی، پھر ذرا اور اوپر اٹھائی اور آپ کے گھٹنوں پر دیکھنے لگے، پھر اور نظر اٹھائی اور آپ کے چہرہ پر دیکھنے لگے۔ پھر کہنے لگے، تم سب میرے باپ کے غلام ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ وہ اس وقت بیہوش ہیں۔ اس لیے آپ فوراً الٹے پاؤں اس گھر سے باہر نکل آئے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔
Narrated by Mujahi
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَالَ كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً، إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا. زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ. وَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ}. قَالَ عَطَاءٌ إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ}. قَالَ عَطَاءٌ ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَلاَ سُكْنَى لَهَا. وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا. وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} نَحْوَهُ.
Narrated Mujahi:(regarding the Verse):-- "Those of you who die and leave wives behind. They - (their wives) -- shall wait (as regards their marriage ) for four months and ten days)." (2.234) The widow, according to this Verse, was to spend this period of waiting with her husband's family, so Allah revealed: "Those of you who die and leave wives (i.e. widows) should bequeath for their wives, a year's maintenance and residence without turning them out, but if they leave (their residence), there is no blame on you for what they do with themselves provided it is honorable.' (i.e. lawful marriage) (2.240). So Allah entitled the widow to be bequeathed extra maintenance for seven months and twenty nights, and that is the completion of one year. If she wished she could stay (in her husband's home) according to the will, and she could leave it if she wished, as Allah says: "..without turning them out, but if they leave (the residence), there is no blame on you." So the 'Idda (i.e. four months and ten days as it) is obligatory for her. 'Ata said: Ibn `Abbas said, "This Verse, i.e. the Statement of Allah: "..without turning them out.." cancelled the obligation of staying for the waiting period in her dead husband's house, and she can complete this period wherever she likes." 'Ata' said: If she wished, she could complete her 'Idda by staying in her dead husband's residence according to the will or leave it according to Allah's Statement:-- "There is no blame on you for what they do with themselves." `Ata' added: Later the regulations of inheritance came and abrogated the order of the dwelling of the widow (in her dead husband's house), so she could complete the 'Idda wherever she likes. And it was no longer necessary to provide her with a residence. Ibn `Abbas said, "This Verse abrogated her (i.e. widow's) dwelling in her dead husband's house and she could complete the 'Idda (i.e. four months and ten days) wherever she liked, as Allah's Statement says:--"...without turning them out
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبل بن عباد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور انہوں نے مجاہد سے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔“ کے بارے میں ( زمانہ جاہلیت کی طرح ) کہا کہ عدت ( یعنی چار مہینے دس دن کی ) تھی جو شوہر کے گھر عورت کو گزارنی ضروری تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف» ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت ( کر جائیں ) کہ وہ ایک سال تک گھر سے نہ نکالی جائیں، لیکن اگر وہ ( خود ) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔ اگر وہ دستور کے موافق اپنے لیے کوئی کام کریں۔“ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے سات مہینے اور بیس دن وصیت کے قرار دیئے کہ اگر وہ اس مدت میں چاہے تو اپنے لیے وصیت کے مطابق ( شوہر کے گھر میں ہی ) ٹھہرے اور اگر چاہے تو کہیں اور چلی جائے کہ اگر ایسی عورت کہیں اور چلی جائے تو تمہارے حق میں کوئی گناہ نہیں۔ پس عدت کے ایام تو وہی ہیں جنہیں گزارنا اس پر ضروری ہے ( یعنی چار مہینے دس دن ) ۔ شبل نے کہا ابن ابی نجیح نے مجاہد سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور عطا بن ابی رباح نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، اس آیت نے اس رسم کو منسوخ کر دیا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے۔ اس آیت کی رو سے عورت کو اختیار ملا جہاں چاہے وہاں عدت گزارے اور اللہ پاک کے قول «غير إخراج» کا یہی مطلب ہے۔ عطا نے کہا، عورت اگر چاہے تو اپنے خاوند کے گھر والوں میں عدت گزارے اور خاوند کی وصیت کے موافق اسی کے گھر میں رہے اور اگر چاہے تو وہاں سے نکل جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فلا جناح عليكم فيما فعلن» ”اگر وہ نکل جائیں تو دستور کے موافق اپنے حق میں جو بات کریں اس میں کوئی گناہ تم پر نہ ہو گا۔“ عطاء نے کہا کہ پھر میراث کا حکم نازل ہوا جو سورۃ نساء میں ہے اور اس نے ( عورت کے لیے ) گھر میں رکھنے کے حکم کو منسوخ قرار دیا۔ اب عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ اسے مکان کا خرچہ دینا ضروری نہیں اور محمد بن یوسف نے روایت کیا، ان سے ورقاء بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے، یہی قول بیان کیا اور فرزندان ابن ابی نجیح سے نقل کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت نے صرف شوہر کے گھر میں عدت کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج» وغیرہ سے ثابت ہے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِئْسَ مَا لأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ نُسِّيَ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "It is a bad thing that some of you say, 'I have forgotten such-and-such verse of the Qur'an,' for indeed, he has been caused (by Allah) to forget it. So you must keep on reciting the Qur'an because it escapes from the hearts of men faster than camel do
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت برا ہے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں ( کہنا چاہیے ) کہ مجھے بھلا دیا گیا اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ انسانوں کے دلوں سے دور ہو جانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، اور ان سے منصور بن معتمر نے پچھلی حدیث کی طرح۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو بشر بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن مبارک سے، انہوں نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو ابن جریج نے بھی عبدہ سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah and Salama bin Al-Akwa`
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا ".
Narrated Jabir bin `Abdullah and Salama bin Al-Akwa`:While we were in an army, Allah's Messenger (ﷺ) came to us and said, "You have been allowed to do the Mut'a (marriage), so do it
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ أَسْوَدُ. فَقَالَ " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " مَا أَلْوَانُهَا ". قَالَ حُمْرٌ. قَالَ " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَأَنَّى ذَلِكَ ". قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ. قَالَ " فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ ".
Narrated Abu Huraira:A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! A black child has been born for me." The Prophet asked him, "Have you got camels?" The man said, "Yes." The Prophet (ﷺ) asked him, "What color are they?" The man replied, "Red." The Prophet (ﷺ) said, "Is there a grey one among them?' The man replied, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Whence comes that?" He said, "May be it is because of heredity." The Prophet (ﷺ) said, "May be your latest son has this color because of heredity
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے یہاں تو کالا کلوٹا بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ رنگ کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا کہ اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر یہ پڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا یہ لڑکا بھی اپنی نسل کے کسی دور کے رشتہ دار پر پڑا ہو گا۔
Narrated by `Abdur-Rahman bin Abi Laila
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ. فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ. كَأَنَّهُ يَقُولُ لَمْ أَفْعَلْ هَذَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ وَلاَ تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلاَ تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ ".
Narrated `Abdur-Rahman bin Abi Laila:We were sitting in the company of Hudhaifa who asked for water and a Magian brought him water. But when he placed the cup in his hand, he threw it at him and said, "Had I not forbidden him to do so more than once or twice?" He wanted to say, "I would not have done so," adding, "but I heard the Prophet saying, "Do not wear silk or Dibaja, and do not drink in silver or golden vessels, and do not eat in plates of such metals, for such things are for the unbelievers in this worldly life and for us in the Hereafter
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف بن ابی سلیمان نے، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ یہ لوگ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے ان کو پانی ( چاندی کے پیالے میں ) لا کر دیا۔ جب اس نے پیالہ ان کے ہاتھ میں دیا تو انہوں نے پیالہ کو اس پر پھینک کر مارا اور کہا اگر میں نے اسے بارہا اس سے منع نہ کیا ہوتا ( کہ چاندی سونے کے برتن میں مجھے کچھ نہ دیا کرو ) آگے وہ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ تو میں اس سے یہ معاملہ نہ کرتا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ریشم و دیبا نہ پہنو اور نہ سونے چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ کیونکہ یہ چیزیں ان ( کفار کے لیے ) دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔
Narrated by `Amr
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ حُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَقَالَ قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَاكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عِنْدَنَا بِالْبَصْرَةِ، وَلَكِنْ أَبَى ذَاكَ الْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَرَأَ {قُلْ لاَ أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا}
Narrated `Amr:I said to Jabir bin Zaid, "The people claim that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the eating of donkey's meat." He said, "Al-Hakam bin `Amr Al-Ghifari used to say so when he was with us, but Ibn `Abbas, the great religious learned man, refused to give a final verdict and recited:-- 'Say: I find not in that which has been inspired to me anything forbidden to be eaten by one who wishes to eat it, unless it be carrion, blood poured forth or the flesh of swine
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں یہی بتایا تھا لیکن علم کے سمندر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے انکار کیا اور ( استدلال میں ) اس آیت کی تلاوت کی «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) forbade the drinking of water directly from the mouth of a water skin
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرما دی تھی۔
Narrated by Um Salama
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ فَقَالَ " اسْتَرْقُوا لَهَا، فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ ". وَقَالَ عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ.
Narrated Um Salama:that the Prophet (ﷺ) saw in her house a girl whose face had a black spot. He said. "She is under the effect of an evil eye; so treat her with a Ruqya
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن وہب بن عطیہ دمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ولید زبیدی نے بیان کیا، کہا ہم کو زہری نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر ( نظر بد لگنے کی وجہ سے ) کالے دھبے پڑ گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر دم کرا دو کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے۔ اور عقیل نے کہا ان سے زہری نے، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ محمد بن حرب کے ساتھ اس حدیث کو عبداللہ بن سالم نے بھی زبیدی سے روایت کیا ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، كُنَّ نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْفَجْرِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ حِينَ يَقْضِينَ الصَّلاَةَ، لاَ يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ.
Narrated `Aisha:The believing women covered with their veiling sheets used to attend the Fajr prayer with Allah's Apostle, and after finishing the prayer they would return to their home and nobody could recognize them because of darkness
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں لیث نے خبر دی، انہوں نے عقیل بن خالد سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھنے چادروں میں لپٹ کر آتی تھیں۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر جب اپنے گھروں کو واپس ہوتیں تو انہیں اندھیرے کی وجہ سے کوئی شخص پہچان نہیں سکتا تھا۔
Narrated by Hudhaifa
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ.
Narrated Hudhaifa:The Prophet (ﷺ) forbade us to drink out of gold and silver vessels, or eat in it, Ann also forbade the wearing of silk and Dibaj or sitting on it
ہم سے علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی نجیح سے سنا، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور کھانے سے منع فرمایا تھا اور ریشم اور دیباج پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا۔
Narrated by `Adi bin Hatim
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا، وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ـ قَالَ شُعْبَةُ أَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلاَ أَشُكُّ ـ ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ".
Narrated `Adi bin Hatim:The Prophet (ﷺ) mentioned the (Hell) Fire and sought refuge (with Allah) from it, and turned his face to the other side. He mentioned the (Hell) Fire again and took refuge (with Allah) from it and turned his face to the other side. (Shu`ba, the sub-narrator, said, "I have no doubt that the Prophet (ﷺ) repeated it twice.") The Prophet (ﷺ) then said, "(O people!) Save yourselves from the (Hell) Fire even if with one half of a date fruit (given in charity), and if this is not available, then (save yourselves) by saying a good pleasant friendly word
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، انہیں خیثمہ نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض و ناگواری کا اظہار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض و ناگواری کا اظہار کیا، شعبہ نے بیان کیا کہ دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہنم سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو۔ خواہ آدھی کھجور ہی ( کسی کو ) صدقہ کر کے ہو سکے اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کر کے ہی۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ " أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ". فَقَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَىْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِنْسَانٍ " انْظُرْ أَيْنَ هُوَ " فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ. فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُهُ عَنْهُ ـ وَهْوَ يَقُولُ " قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ ".
Narrated Sahl bin Sa`d:There was no name dearer to `Ali than his nickname Abu Turab (the father of dust). He used to feel happy whenever he was called by this name. Once Allah's Messenger (ﷺ) came to the house of Fatima but did not find `Ali in the house. So he asked "Where is your cousin?" She replied, "There was something (a quarrel) between me and him whereupon he got angry with me and went out without having a midday nap in my house." Allah's Messenger (ﷺ) asked a person to look for him. That person came, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! He (Ali) is sleeping in the mosque." So Allah's Messenger (ﷺ) went there and found him lying. His upper body cover had fallen off to one side of his body, and so he was covered with dust. Allah's Messenger (ﷺ) started cleaning the dust from him, saying, "Get up, O Abu Turab! Get up, Abu Turab!" (See Hadith No. 432, Vol)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن حازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نام ابوتراب سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ جب ان کو اس نام سے بلایا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ علیہا السلام کے گھر تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہیں پایا تو فرمایا کہ بیٹی تمہارے چچا کے لڑکے ( اور شوہر ) کہاں گئے ہیں؟ انہوں نے کہا میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی تھی وہ مجھ پر غصہ ہو کر باہر چلے گئے اور میرے یہاں ( گھر میں ) قیلولہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں۔ وہ صحابی واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور گرد آلود ہو گئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے، ابوتراب! ( مٹی والے ) اٹھو، ابوتراب! اٹھو۔
Narrated by `Abdur-Rahman bin Abi Laila
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً، إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ " فَقُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".
Narrated `Abdur-Rahman bin Abi Laila:Ka`b bin 'Ujra met me and said, "Shall I give you a present? Once the Prophet (ﷺ) came to us and we said, 'O Allah's Messenger (ﷺ) ! We know how to greet you; but how to send 'Salat' upon you? He said, 'Say: Allahumma Salli ala Muhammadin wa 'ala `Ali Muhammadin, kama sal-laita 'ala all Ibrahima innaka Hamidun Majid. Allahumma barik 'ala Muhammadin wa 'ala all Muhammadin, kama barakta 'ala all Ibrahima, innaka Hamidun Majid
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، کہا کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ ( یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو «اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد، وعلى آل محمد، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔ اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ " أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ ". وَقَالَ " اكْلَفُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) was asked, "What deeds are loved most by Allah?" He said, "The most regular constant deeds even though they may be few." He added, 'Don't take upon yourselves, except the deeds which are within your ability
مجھ سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ فرمایا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے، خواہ وہ تھوڑی ہی ہو اور فرمایا نیک کام کرنے میں اتنی ہی تکلیف اٹھاؤ جتنی طاقت ہے ( جو ہمیشہ نبھ سکے ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ الإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ. وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will give shade, to seven, on the Day when there will be no shade but His. (These seven persons are) a just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah (i.e. worships Allah sincerely from childhood), a man whose heart is attached to the mosques (i.e. to pray the compulsory prayers in the mosque in congregation), two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: I am afraid of Allah, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given (i.e. nobody knows how much he has given in charity), and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے ( برے ارادہ سے ) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور ( بے ساختہ ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ". فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً} إِلَى آخِرِ الآيَةِ. فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالُوا كَذَا وَكَذَا. قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ ". قُلْتُ إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ".
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If somebody is ordered (by the ruler or the judge) to take an oath, and he takes a false oath in order to grab the property of a Muslim, then he will incur Allah's Wrath when he will meet Him." And Allah revealed in its confirmation: 'Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenants and their own oaths.' (3.77) (The sub-narrator added:) Al-Ash'ath bin Qais entered, saying, "What did Abu `Abdur-Rahman narrate to you?" They said, "So-and-so," Al-Ash'ath said, "This verse was revealed in my connection. I had a well on the land of my cousin (and we had a dispute about it). I reported him to Allah's Apostle who said (to me). "You should give evidence (i.e. witness) otherwise the oath of your opponent will render your claim invalid." I said, "Then he (my opponent) will take the oath, O Allah's Messenger (ﷺ)." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever is ordered (by the ruler or the judge) to give an oath, and he takes a false oath in order to grab the property of a Muslim, then he will incur Allah's Wrath when he meets Him on the Day of Resurrection
Narrated by Abu Huraira and Zaid bin Khalid
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ قَالاَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلاَّ قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ. فَقَامَ خَصْمُهُ ـ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ ـ فَقَالَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي. قَالَ " قُلْ ". قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالاً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَعَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ، الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا ". فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا. قُلْتُ لِسُفْيَانَ لَمْ يَقُلْ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ. فَقَالَ أَشُكُّ فِيهَا مِنَ الزُّهْرِيِّ، فَرُبَّمَا قُلْتُهَا وَرُبَّمَا سَكَتُّ.
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid:While we were with the Prophet (ﷺ) , a man stood up and said (to the Prophet (ﷺ) ), "I beseech you by Allah, that you should judge us according to Allah's Laws." Then the man's opponent who was wiser than him, got up saying (to Allah's Messenger (ﷺ)) "Judge us according to Allah's Law and kindly allow me (to speak)." The Prophet (ﷺ) said, "'Speak." He said, "My son was a laborer working for this man and he committed an illegal sexual intercourse with his wife, and I gave one-hundred sheep and a slave as a ransom for my son's sin. Then I asked a learned man about this case and he informed me that my son should receive one hundred lashes and be exiled for one year, and the man's wife should be stoned to death." The Prophet (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my soul is, I will judge you according to the Laws of Allah. Your one-hundred sheep and the slave are to be returned to you, and your son has to receive one-hundred lashes and be exiled for one year. O Unais! Go to the wife of this man, and if she confesses, then stone her to death." Unais went to her and she confessed. He then stoned her to death
Narrated by Abu Sa`id
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ ".
Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) said, "Do not prefer some prophets to others
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو۔“
Narrated by Salim's father
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ، خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ، حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ، وَهْىَ الْجُحْفَةُ ".
Narrated Salim's father:The Prophet (ﷺ) said, "I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling in Mahai'a. I interpreted that as (a symbol of) epidemic of Medina being transferred to Mahai'a, namely, Al-Juhfa
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے ایک پراگندہ بال، کالی عورت دیکھی جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی۔ میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ یعنی منتقل ہو گئی۔“
Narrated by Shaqiq bin Salama
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى وَعَمَّارٍ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلاَّ لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْيَبَ عِنْدِي مِنِ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الأَمْرِ. قَالَ عَمَّارٌ يَا أَبَا مَسْعُودٍ وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلاَ مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الأَمْرِ. فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا يَا غُلاَمُ هَاتِ حُلَّتَيْنِ. فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالأُخْرَى عَمَّارًا وَقَالَ رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ.
Narrated Shaqiq bin Salama:I was sitting with Abu Mas`ud and Abu Musa and `Ammar. Abu Mas`ud said (to `Ammar), "There is none of your companions but, if I wish, I could find fault with him except with you. Since you joined the company of the Prophet (ﷺ) I have never seen anything done by you more criticizable by me than your haste in this issue." `Ammar said, O Abu Mas`ud ! I have never seen anything done by you or by this companion of yours (i.e., Abu Musa) more criticizable by me than your keeping away from this issue since the time you both joined the company of the Prophet." Then Abu Mas`ud who was a rich man, said (to his servant), "O boy! Bring two suits." Then he gave one to Abu Musa and the other to `Ammar and said (to them), "Put on these suits before going for the Friday prayer
Narrated by Abu Laila bin `Abdullah bin `Abdur-Rahman bin Sahl
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى، ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ، وَرِجَالٌ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُخْبِرَ مُحَيِّصَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ. قَالُوا مَا قَتَلْنَاهُ وَاللَّهِ. ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ، وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ ـ وَهْوَ أَكْبَرُ مِنْهُ ـ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ لِيَتَكَلَّمَ وَهْوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِمُحَيِّصَةَ " كَبِّرْ كَبِّرْ ". يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ ". فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ بِهِ، فَكُتِبَ مَا قَتَلْنَاهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ " أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ". قَالُوا لاَ. قَالَ " أَفَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ". قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ. فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتِ الدَّارَ. قَالَ سَهْلٌ فَرَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ.
Narrated Abu Laila bin `Abdullah bin `Abdur-Rahman bin Sahl:Sahl bin Abi Hathma and some great men of his tribe said, `Abdullah bin 'Sahl and Muhaiyisa went out to Khaibar as they were struck with poverty and difficult living conditions. Then Muhaiyisa was informed that `Abdullah had been killed and thrown in a pit or a spring. Muhaiyisa went to the Jews and said, "By Allah, you have killed my companion." The Jews said, "By Allah, we have not killed him." Muhaiyisa then came back to his people and told them the story. He, his elder brother Huwaiyisa and `Abdur-Rahman bin Sahl came (to the Prophet) and he who had been at Khaibar, proceeded to speak, but the Prophet (ﷺ) said to Muhaiyisa, "The eldest! The eldest!" meaning, "Let the eldest of you speak." So Huwaiyisa spoke first and then Muhaiyisa. Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Jews should either pay the blood money of your (deceased) companion or be ready for war." After that Allah's Messenger (ﷺ) wrote a letter to the Jews in that respect, and they wrote that they had not killed him. Then Allah's Messenger (ﷺ) said to Huwaiyisa, Muhaiyisa and `Abdur-Rahman, "Can you take an oath by which you will be entitled to take the blood money?" They said, "No." He said (to them), "Shall we ask the Jews to take an oath before you?" They replied, "But the Jews are not Muslims." So Allah's Apostle gave them one-hundred she-camels as blood money from himself. Sahl added: When those she-camels were made to enter the house, one of them kicked me with its leg
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن ابی لیلیٰ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابولیلیٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سہل نے، ان سے سہل بن ابی حثمہ نے، انہیں سہل اور ان کی قوم کے بعض دوسرے ذمہ داروں نے خبر دی کہ عبداللہ، سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہم خیبر کی طرف ( کھجور لینے کے لیے ) گئے۔ کیونکہ تنگ دستی میں مبتلا تھے۔ پھر محیصہ کو بتایا گیا کہ عبداللہ کو کسی نے قتل کر کے گڑھے یا کنویں میں ڈال دیا ہے۔ پھر وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا کہ واللہ! تم نے ہی قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: واللہ! ہم نے انہیں نہیں قتل کیا۔ پھر وہ واپس آئے اور اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے ذکر کیا۔ اس کے بعد وہ اور ان کے بھائی حویصہ جو ان سے بڑے تھے اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ آئے، پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنی چاہی کیونکہ آپ ہی خیبر میں موجود تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ بڑے کو آگے کرو، بڑے کو آپ کی مراد عمر کی بڑائی تھی۔ چنانچہ حویصہ نے بات کی، پھر محیصہ نے بھی بات کی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں ورنہ لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس مقدمہ میں لکھا۔ انہوں نے جواب میں یہ لکھا کہ ہم نے انہیں نہیں قتل کیا ہے۔ پھر آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ لوگ قسم کھا کر اپنے شہید ساتھی کے خون کے مستحق ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ نہیں ( کیونکہ جرم کرتے دیکھا نہیں تھا ) پھر آپ نے فرمایا، کیا آپ لوگوں کے بجائے یہودی قسم کھائیں ( کہ انہوں نے قتل نہیں کیا ہے ) ؟ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور وہ جھوٹی قسم کھا سکتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹوں کی دیت ادا کی اور وہ اونٹ گھر میں لائے گئے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
Narrated by Muhammad
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَّانٍ فَتَمَخَّطَ فَقَالَ بَخْ بَخْ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتَمَخَّطُ فِي الْكَتَّانِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ مَغْشِيًّا عَلَىَّ، فَيَجِيءُ الْجَائِي فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي، وَيُرَى أَنِّي مَجْنُونٌ، وَمَا بِي مِنْ جُنُونٍ، مَا بِي إِلاَّ الْجُوعُ.
Narrated Muhammad:We were with Abu Huraira while he was wearing two linen garments dyed with red clay. He cleaned his nose with his garment, saying, "Bravo! Bravo! Abu Huraira is cleaning his nose with linen! There came a time when I would fall senseless between the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ) and `Aisha's dwelling whereupon a passerby would come and put his foot on my neck, considering me a mad man, but in fact, I had no madness, I suffered nothing but hunger
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے گیرو میں رنگے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے، اب ایسا مالدار ہو گیا حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، حالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَلِيمُ الْحَلِيمُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) used to say at the time of difficulty, 'La ilaha il-lallah Al-`Alimul-Halim. La-ilaha illallah Rabul- Arsh-al-Azim, La ilaha-il-lallah Rabus-Samawati Rab-ul-Ard; wa Rab-ul-Arsh Al- Karim.' (See Hadith No. 356 and 357, Vol)
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے «لا إله إلا الله العليم الحليم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السموات ورب الأرض رب العرش الكريم» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت جاننے والا بڑا بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی رب نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔“
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ " أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ ". قَالَ لاَ. قَالَ " قُمْ فَارْكَعْ ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:A person entered the mosque while the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutba on a Friday. The Prophet (ﷺ) said to him, "Have you prayed?" The man replied in the negative. The Prophet (ﷺ) said, "Get up and pray two rak`at
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے فلاں! کیا تم نے ( تحیۃ المسجد کی ) نماز پڑھ لی۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اٹھ اور دو رکعت نماز پڑھ لے۔