بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
3
42 hadith
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Name yourselves with my name (use my name) but do not name yourselves with my Kunya name (i.e. Abul Qasim). And whoever sees me in a dream then surely he has seen me for Satan cannot impersonate me. And whoever tells a lie against me (intentionally), then (surely) let him occupy his seat in Hell-fire
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے ابی حصین کے واسطہ سے نقل کیا، وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ( اپنی اولاد ) کا میرے نام کے اوپر نام رکھو۔ مگر میری کنیت اختیار نہ کرو اور جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو بلاشبہ اس نے مجھے دیکھا۔ کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ تلاش کرے۔
Narrated by `Amr
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، جَابِرًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا‏.‏ قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ‏.‏ قَالَ وَأَنَا أَظُنُّهُ‏.‏
Narrated `Amr:I heard Abu Ash-sha'tha' Jabir saying, "I heard Ibn `Abbas saying, 'I offered with Allah's Messenger (ﷺ) eight rak`at (of Zuhr and `Asr prayers) together and seven rak`at (the Maghrib and the `Isha' prayers) together.' " I said, "O Abu Ash-shatha! I think he must have prayed the Zuhr late and the `Asr early; the `Isha early and the Maghrib late." Abu Ash-sha'tha' said, "I also think so." (See Hadith No. 518 Vol)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالشعثاء جابر بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت ایک ساتھ ( ظہر اور عصر ) اور سات رکعت ایک ساتھ ( مغرب اور عشاء ملا کر ) پڑھیں۔ ( بیچ میں سنت وغیرہ کچھ نہیں ) ابوالشعثاء سے میں نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر آخر وقت میں اور عصر اول وقت میں پڑھی ہو گی۔ اسی طرح مغرب آخر وقت میں پڑھی ہو گی اور عشاء اول وقت میں۔ ابوالشعثاء نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah:the Prophet (ﷺ) said, "He who slaps his cheeks, tears his clothes and follows the ways and traditions of the Days of Ignorance is not one of us
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہ ہم سے سفیان ثوری نے ‘ ان سے زبید یامی نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں ( کسی کی موت پر ) اپنے چہروں کو پیٹتی اور گریبان چاک کر لیتی ہیں اور جاہلیت کی باتیں بکتی ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلاَلٌ نَاشِرَ ثَوْبِهِ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي، وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:I am a witness that Allah's Messenger (ﷺ) offered the Id prayer before delivering the sermon and then he thought that the women would not be able to hear him (because of the distance), so he went to them along with Bilal who was spreading his garment. The Prophet (ﷺ) advised and ordered them to give in charity. So the women started giving their ornaments (in charity). (The sub-narrator Aiyub pointed towards his ears and neck meaning that they gave ornaments from those places such as earrings and necklaces)
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ایوب سے بیان کیا اور ان سے عطاء بن ابی رباح نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا اس وقت میں موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز ( عید ) پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عورتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچی ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے جو اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ سنایا اور ان سے صدقہ کرنے کے لیے فرمایا اور عورتیں ( اپنا صدقہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔ یہ کہتے وقت ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ ـ رضى الله عنهم ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:Hafsa the wife of the Prophet (ﷺ) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why have the people finished their Ihram after performing `Umra but you have not finished your Ihram after performing `Umra?" He replied, "I have matted my hair and garlanded my Hadi. So I will not finish my Ihram till I have slaughtered (my Hadi)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ! کیا بات ہے اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کی تلبید ( بالوں کو جمانے کے لیے ایک لیس دار چیز کا استعمال کرنا ) کی ہے اور اپنے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) لایا ہوں اس لیے میں قربانی کرنے سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا۔
Narrated by `Amr
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ‏.‏
Narrated `Amr:My father saw `Amr bin Abi Hasan asking `Abdullah bin Zaid about the ablution of the Prophet. `Abdullah bin Zaid asked for earthenware pot containing water and in front of them performed ablution like that of the Prophet (ﷺ) . He poured water from the pot over his hand and washed his hands thrice and then he put his hands in the pot and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out with three handfuls of water. Again he put his hand in the water and washed his face thrice and washed his forearms up to the elbows twice; and then put his hands in the water and then passed them over his head by bringing them to the front and then to the rear of the head once, and then he washed his feet up to the ankles
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے اپنے باپ (یحییٰ) سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میری موجودگی میں عمرو بن حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پانی کا طشت منگوایا اور ان ( پوچھنے والوں ) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سا وضو کیا۔ ( پہلے طشت سے ) اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا۔ پھر تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا ( اور پانی لیا ) پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، ناک صاف کی، تین چلوؤں سے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور تین مرتبہ منہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور سر کا مسح کیا۔ ( پہلے ) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے، ایک بار۔ پھر ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
Narrated by Abu Ad-Darda
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ حَارٍّ حَتَّى يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلاَّ مَا كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَابْنِ رَوَاحَةَ‏.‏
Narrated Abu Ad-Darda:We set out with Allah's Messenger (ﷺ) on one of his journeys on a very hot day, and it was so hot that one had to put his hand over his head because of the severity of heat. None of us was fasting except the Prophet and Ibn Rawaha
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن عبیداللہ نے بیان کیا، اور ان سے ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے۔ دن انتہائی گرم تھا۔ گرمی کا یہ عالم تھا کہ گرمی کی سختی سے لوگ اپنے سروں کو پکڑ لیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی شخص روزہ سے نہیں تھا۔
Narrated by `Amr
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو كَانَ هَا هُنَا رَجُلٌ اسْمُهُ نَوَّاسٌ، وَكَانَتْ عِنْدَهُ إِبِلٌ هِيمٌ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَاشْتَرَى تِلْكَ الإِبِلَ مِنْ شَرِيكٍ لَهُ، فَجَاءَ إِلَيْهِ شَرِيكُهُ فَقَالَ بِعْنَا تِلْكَ الإِبِلَ‏.‏ فَقَالَ مِمَّنْ بِعْتَهَا قَالَ مِنْ شَيْخٍ، كَذَا وَكَذَا‏.‏ فَقَالَ وَيْحَكَ ذَاكَ ـ وَاللَّهِ ـ ابْنُ عُمَرَ‏.‏ فَجَاءَهُ فَقَالَ إِنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلاً هِيمًا، وَلَمْ يَعْرِفْكَ‏.‏ قَالَ فَاسْتَقْهَا‏.‏ قَالَ فَلَمَّا ذَهَبَ يَسْتَاقُهَا فَقَالَ دَعْهَا، رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ عَدْوَى‏.‏ سَمِعَ سُفْيَانُ عَمْرًا‏.‏
Narrated `Amr:Here (i.e. in Mecca) there was a man called Nawwas and he had camels suffering from the disease of excessive and unquenchable thirst. Ibn `Umar went to the partner of Nawwas and bought those camels. The man returned to Nawwas and told him that he had sold those camels. Nawwas asked him, "To whom have you sold them?" He replied, "To such and such Sheikh." Nawwas said, "Woe to you; By Allah, that Sheikh was Ibn `Umar." Nawwas then went to Ibn `Umar and said to him, "My partner sold you camels suffering from the disease of excessive thirst and he had not known you." Ibn `Umar told him to take them back. When Nawwas went to take them, Ibn `Umar said to him, "Leave them there as I am happy with the decision of Allah's Messenger (ﷺ) that there is no oppression
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے کہا یہاں ( مکہ میں ) ایک شخص نواس نام کا تھا۔ اس کے پاس ایک بیمار اونٹ تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گئے اور اس کے شریک سے وہی اونٹ خرید لائے۔ وہ شخص آیا تو اس کے ساجھی نے کہا کہ ہم نے تو وہ اونٹ بیچ دیا۔ اس نے پوچھا کہ کسے بیچا؟ شریک نے کہا کہ ایک شیخ کے ہاتھوں جو اس طرح کے تھے۔ اس نے کہا افسوس! وہ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے ساتھی نے آپ کو مریض اونٹ بیچ دیا ہے اور آپ سے اس نے اس کے مرض کی وضاحت بھی نہیں کی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پھر اسے واپس لے جاؤ۔ بیان کیا کہ جب وہ اس کو لے جانے لگا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اچھا رہنے دو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہیں ( آپ نے فرمایا تھا کہ ) «لا عدوى‏.‏» ( یعنی امراض چھوت والے نہیں ہوتے ) علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان نے اس روایت کو عمرو سے سنا۔
Narrated by Asma' bint Abu Bakr
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي وَهْىَ مُشْرِكَةٌ، فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ ‏{‏إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ‏}‏ وَهْىَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ ‏"‏‏.‏
Narrated Asma' bint Abu Bakr:My mother came to me during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and she was a pagan. I said to Allah's Apostle (seeking his verdict), "My mother has come to me and she desires to receive a reward from me, shall I keep good relations with her?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes, keep good relation with her
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ہشام سے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میری والدہ ( قتیلہ بنت عبدالعزیٰ ) جو مشرکہ تھیں، میرے یہاں آئیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، میں نے یہ بھی کہا کہ وہ ( مجھ سے ملاقات کی ) بہت خواہشمند ہیں، تو کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ وَيَقُولُ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ‏"‏‏.‏
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) went on carrying (i.e. the earth) and saying, "Without You (O Allah!) we would have got no guidance
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( خندق کھودتے ہوئے مٹی ) اٹھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ ” ( اے اللہ! ) اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی۔“ یعنی تو ہدایت گر نہ ہوتا تو نہ ملتی ہم کو راہ۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَىَّ اعْتِكَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ‏.‏ قَالَ وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ مِنْ سَبْىِ حُنَيْنٍ، فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ مَكَّةَ ـ قَالَ ـ فَمَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سَبْىِ حُنَيْنٍ، فَجَعَلُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ فَقَالَ عُمَرُ يَا عَبْدَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا هَذَا فَقَالَ مَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّبْىِ‏.‏ قَالَ اذْهَبْ فَأَرْسِلِ الْجَارِيَتَيْنِ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ وَلَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجِعْرَانَةِ وَلَوِ اعْتَمَرَ لَمْ يَخْفَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ‏.‏ وَزَادَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مِنَ الْخُمُسِ‏.‏ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّذْرِ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ‏.‏
Narrated Nafi`:`Umar bin Al-Khattab said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I vowed to observe I`tikaf for one day during the pre-Islamic period." The Prophet (ﷺ) ordered him to fulfill his vow. `Umar gained two lady captives from the war prisoners of Hunain and he left them in some of the houses at Mecca. When Allah's Messenger (ﷺ) freed the captives of Hunain without ransom, they came out walking in the streets. `Umar said (to his son), "O `Abdullah! See what is the matter." `Abdullah replied, "Allah's Messenger (ﷺ) has freed the captives without ransom." He said (to him), "Go and set free those two slave girls." (Nafi` added:) Allah's Apostle did not perform the `Umra from Al-Ji'rana, and if he had performed the `Umra, it would not have been hidden from `Abdullah
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت ( کفر ) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا۔ نافع نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا ( اور سب کو مفت آزاد کر دیا ) تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، عبداللہ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا ہے ( اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دئیے گئے ہیں ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دے۔ نافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے عمرہ کا احرام باندھتے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ضرور معلوم ہوتا اور جریر بن حازم نے جو ایوب سے روایت کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، اس میں یوں ہے کہ ( وہ دونوں باندیاں جو عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تھیں ) خمس میں سے تھیں۔ ( اعتکاف سے متعلق یہ روایت ) معمر نے ایوب سے نقل کی ہے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نذر کا قصہ جو روایت کیا ہے اس میں ایک دن کا لفظ نہیں ہے۔
Narrated by `Imran bin Husain
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ‏"‏‏.‏
Narrated `Imran bin Husain:The Prophet (ﷺ) said, "I looked at Paradise and found poor people forming the majority of its inhabitants; and I looked at Hell and saw that the majority of its inhabitants were women
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلم بن زریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو جنتیوں میں زیادتی غریبوں کی نظر آئی اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو دوزخیوں میں کثرت عورتوں کی نظر آئی۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ أَبُو الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ بْنِ حَيَّانَ أَبُو زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَهُمْ أَنْ لاَ يَشْرَبُوا مِنْ بِئْرِهَا، وَلاَ يَسْتَقُوا مِنْهَا فَقَالُوا قَدْ عَجَنَّا مِنْهَا، وَاسْتَقَيْنَا‏.‏ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَطْرَحُوا ذَلِكَ الْعَجِينَ وَيُهَرِيقُوا ذَلِكَ الْمَاءَ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ وَأَبِي الشُّمُوسِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِلْقَاءِ الطَّعَامِ‏.‏ وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ عَنِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اعْتَجَنَ بِمَائِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:When Allah's Messenger (ﷺ) landed at Al-Hijr during the Ghazwa of Tabuk, he ordered his companions not to drink water from its well or reserve water from it. They said, "We have already kneaded the dough with its water. and also filled our bags with its water.'' On that, the Prophet (ﷺ) ordered them to throw away the dough and pour out the water
ہم سے محمد بن مسکین ابوالحسن نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حسان بن حیان ابوزکریا نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حجر ( ثمود کی بستی ) میں غزوہ تبوک کے لیے جاتے ہوئے پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم فرمایا کہ یہاں کے کنوؤں کا پانی نہ پینا اور نہ اپنے برتنوں میں ساتھ لینا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم نے تو اس سے اپنا آٹا بھی گوندھ لیا ہے اور پانی اپنے برتنوں میں بھی رکھ لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ گندھا ہوا آٹا پھینک دیا جائے اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ جس نے آٹا اس پانی سے گوندھ لیا ہو ( وہ اسے پھینک دے ) ۔
Narrated by Abu Juhaifa
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الْحَسَنُ يُشْبِهُهُ‏.‏
Narrated Abu Juhaifa:I saw the Prophet, and Al-Hasan resembled him
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زبیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا اور ان سے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا تھا۔ حسن رضی اللہ عنہ میں آپ کی پوری شباہت موجود تھی۔
Narrated by Salama
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ كَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ ـ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ ـ غَدًا رَجُلاً يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ـ أَوْ قَالَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ـ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ، فَقَالُوا هَذَا عَلِيٌّ‏.‏ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ‏.‏
Narrated Salama:`Ali happened to stay behind the Prophet (ﷺ) and (did not join him) during the battle of Khaibar for he was having eye trouble. Then he said, "How could I remain behind Allah's Messenger (ﷺ)?" So `Ali set out following the Prophet (ﷺ) , When it was the eve of the day in the morning of which Allah helped (the Muslims) to conquer it, Allah's Messenger (ﷺ) said, "I will give the flag (to a man), or tomorrow a man whom Allah and His Apostle love will take the flag," or said, "A man who loves Allah and His Apostle; and Allah will grant victory under his leadership." Suddenly came `Ali whom we did not expect. The people said, "This is `Ali." Allah's Messenger (ﷺ) gave him the flag and Allah granted victory under his leadership
(ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے حاتم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بوجہ آنکھ دکھنے کے نہیں آ سکے تھے، پھر انہوں نے سوچا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکوں! چنانچہ گھر سے نکلے اور آپ کے لشکر سے جا ملے، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں ایک ایسے شخص کو عَلم دوں گا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ کل ) ایک ایسا شخص عَلم کو لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے یا آپ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائے گا، اتفاق سے علی رضی اللہ عنہ آ گئے، حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں امید نہیں تھی لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلم انہیں دے دیا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کرا دیا۔
Narrated by Ibn 'Umar
قَالَ مُوسَى حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ تُحُدِّثَ بِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ، يَسْأَلُ عَنِ الدِّينِ وَيَتْبَعُهُ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنَ الْيَهُودِ، فَسَأَلَهُ عَنْ دِينِهِمْ، فَقَالَ إِنِّي لَعَلِّي أَنْ أَدِينَ دِينَكُمْ، فَأَخْبِرْنِي‏.‏ فَقَالَ لاَ تَكُونُ عَلَى دِينِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بِنَصِيبِكَ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ مَا أَفِرُّ إِلاَّ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، وَلاَ أَحْمِلُ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ شَيْئًا أَبَدًا، وَأَنَّى أَسْتَطِيعُهُ فَهَلْ تَدُلُّنِي عَلَى غَيْرِهِ قَالَ مَا أَعْلَمُهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَنِيفًا‏.‏ قَالَ زَيْدٌ وَمَا الْحَنِيفُ قَالَ دِينُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَكُنْ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلاَ يَعْبُدُ إِلاَّ اللَّهَ‏.‏ فَخَرَجَ زَيْدٌ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنَ النَّصَارَى، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَقَالَ لَنْ تَكُونَ عَلَى دِينِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بِنَصِيبِكَ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ مَا أَفِرُّ إِلاَّ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ، وَلاَ أَحْمِلُ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ وَلاَ مِنْ غَضَبِهِ شَيْئًا أَبَدًا، وَأَنَّى أَسْتَطِيعُ فَهَلْ تَدُلُّنِي عَلَى غَيْرِهِ قَالَ مَا أَعْلَمُهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَنِيفًا‏.‏ قَالَ وَمَا الْحَنِيفُ قَالَ دِينُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَكُنْ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلاَ يَعْبُدُ إِلاَّ اللَّهَ‏.‏ فَلَمَّا رَأَى زَيْدٌ قَوْلَهُمْ فِي إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ خَرَجَ، فَلَمَّا بَرَزَ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:Zaid bin 'Amr bin Nufail went to Sham, inquiring about a true religion to follow. He met a Jewish religious scholar and asked him about their religion. He said, "I intend to embrace your religion, so tell me something about it." The Jew said, "You will not embrace our religion unless you receive your share of Allah's Anger." Zaid said, "'I do not run except from Allah's Anger, and I will never bear a bit of it if I have the power to avoid it. Can you tell me of some other religion?" He said, "I do not know any other religion except the Hanif." Zaid enquired, "What is Hanif?" He said, "Hanif is the religion of (the prophet) Abraham who was neither a Jew nor a Christian, and he used to worship None but Allah (Alone)" Then Zaid went out and met a Christian religious scholar and told him the same as before. The Christian said, "You will not embrace our religion unless you get a share of Allah's Curse." Zaid replied, "I do not run except from Allah's Curse, and I will never bear any of Allah's Curse and His Anger if I have the power to avoid them. Will you tell me of some other religion?" He replied, "I do not know any other religion except Hanif." Zaid enquired, "What is Hanif?" He replied, Hanif is the religion of (the prophet) Abraham who was neither a Jew nor a Christian and he used to worship None but Allah (Alone)" When Zaid heard their Statement about (the religion of) Abraham, he left that place, and when he came out, he raised both his hands and said, "O Allah! I make You my Witness that I am on the religion of Abraham
موسیٰ نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور مجھے یقین ہے کہ انہوں نے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تھا کہ زید بن عمرو بن نفیل شام گئے دین ( خالص ) کی تلاش میں نکلے، وہاں وہ ایک یہودی عالم سے ملے تو انہوں نے ان کے دین کے بارے میں پوچھا اور کہا ممکن ہے کہ میں تمہارا دین اختیار کر لوں اس لیے تم مجھے اپنے دین کے متعلق بتاؤ یہودی عالم نے کہا کہ ہمارے دین میں تم اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک تم اللہ کے غضب کے ایک حصہ کے لیے تیار نہ ہو جاؤ، اس پر زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واہ میں اللہ کے غضب ہی سے بھاگ کر آیا ہوں، پھر اللہ کے غضب کو میں اپنے اوپر کبھی نہ لوں گا اور نہ مجھ کو اسے اٹھانے کی طاقت ہے! کیا تم مجھے کسی اور دوسرے دین کا کچھ پتہ بتا سکتے ہو؟ اس عالم نے کہا میں نہیں جانتا ( کوئی دین سچا ہو تو دین حنیف ہو ) ۔ زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا دین حنیف کیا ہے؟ اس عالم نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام کا دین جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور وہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ زید رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے آئے اور ایک نصرانی پادری سے ملے، ان سے بھی اپنا خیال بیان کیا اس نے بھی یہی کہا کہ تم ہمارے دین میں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی لعنت میں سے ایک حصہ لو گے۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا میں اللہ کی لعنت سے ہی بچنے کے لیے تو یہ سب کچھ کر رہا ہوں اللہ کی لعنت اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں اور نہ میں اس کا یہ غضب کس طرح اٹھا سکتا ہوں! کیا تم میرے لیے اس کے سوا کوئی اور دین بتلا سکتے ہو؟ پادری نے کہا کہ میری نظر میں ہو تو صرف ایک دین حنیف سچا دین ہے زید نے پوچھا دین حنیف کیا ہے؟ کہا کہ وہ دین ابراہیم ہے جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور اللہ کے سوا وہ کسی کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ زید نے جب دین ابراہیم کے بارے میں ان کی یہ رائے سنی تو وہاں سے روانہ ہو گئے اور اس سر زمین سے باہر نکل کر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ دعا کی «اللهم إني أشهد أني على دين إبراهيم‏.‏» اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں۔
Narrated by Ar-Rubai bint Muauwidh
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ بُنِيَ عَلَىَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، وَجُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، يَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةٌ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقُولِي هَكَذَا، وَقُولِي مَا كُنْتِ تَقُولِينَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ar-Rubai bint Muauwidh:The Prophet (ﷺ) came to me the night my marriage was consummated and sat down on my bed as you (the sub-narrator) are sitting now, and small girls were beating the tambourine and singing in lamentation of my father who had been killed on the day of the battle of Badr. Then one of the girls said, "There is a Prophet amongst us who knows what will happen tomorrow." The Prophet (ﷺ) said (to her)," Do not say this, but go on saying what you have spoken before
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے، ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جس رات میری شادی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی صبح کو میرے یہاں تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے، جیسے اب تم یہاں میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ چند بچیاں دف بجا رہی تھیں اور وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جن میں ان کے ان خاندان والوں کا ذکر تھا جو بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے۔ انہیں میں ایک لڑکی نے یہ مصرع بھی پڑھا کہ ہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو کل ہونے والی بات کو جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ پڑھو، بلکہ جو پہلے پڑھ رہی تھیں وہی پڑھو۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لاَ أَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ ـ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا‏.‏ فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) prayed (and the sub-narrator Ibrahim said, "I do not know whether he prayed more or less than usual"), and when he had finished the prayers he was asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Has there been any change in the prayers?" He said, "What is it?' The people said, "You have prayed so much and so much." So the Prophet (ﷺ) bent his legs, faced the Qibla and performed two prostration's (of Sahu) and finished his prayers with Taslim (by turning his face to right and left saying: 'As-Salamu `Alaikum- Warahmat-ullah'). When he turned his face to us he said, "If there had been anything changed in the prayer, surely I would have informed you but I am a human being like you and liable to forget like you. So if I forget remind me and if anyone of you is doubtful about his prayer, he should follow what he thinks to be correct and complete his prayer accordingly and finish it and do two prostrations (of Sahu)
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور ( سہو کے ) دو سجدے کئے اور سلام پھیرا۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی ضرور کہہ دیتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلایا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اس وقت ٹھیک بات سوچ لے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے۔
Narrated by Al-Hasan
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَىَّ‏.‏ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ،‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أُخْتَ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَتَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَخَطَبَهَا فَأَبَى مَعْقِلٌ، فَنَزَلَتْ ‏{‏فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ‏}‏‏.‏
Narrated Al-Hasan:The sister of Ma'qil bin Yasar was divorced by her husband who left her till she had fulfilled her term of 'Iddat (i.e. the period which should elapse before she can Remarry) and then he wanted to remarry her but Ma'qil refused, so this Verse was revealed:-- "Do not prevent them from marrying their (former) husbands
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میری ایک بہن تھیں۔ ان کو ان کے اگلے خاوند نے نکاح کا پیغام دیا۔ ( دوسری سند ) اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ ( تیسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا اور ان سے امام حسن بصری نے کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی لیکن جب عدت گزر گئی اور طلاق بائن ہو گئی تو انہوں نے پھر ان کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا، مگر عورت چاہتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی «فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن‏» کہ ”تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کریں۔“
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لأَهَبَ لَكَ نَفْسِي فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ـ قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ ـ فَلَهَا نِصْفُهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ ‏"‏ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّهَا قَالَ ‏"‏ أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:A lady came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have come to you to offer myself to you." He raised his eyes and looked at her and then lowered his head. When the lady saw that he did not make any decision, she sat down. On that, a man from his companions got up and said. "O Allah's Apostle! If you are not in need of this woman, then marry her to me." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do you have anything to offer her?" He replied. "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said to him, "Go to your family and see if you can find something.' The man went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! I have not found anything." The Prophet (ﷺ) said, "Try to find something, even if it is an iron ring.'' He went again and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ), not even an iron ring, but I have this waist sheet of mine." The man had no upper garment, so he intended to give her, half his waist sheet. So Allah's Messenger (ﷺ) said, ''What would she do with your waist sheet? If you wear it, she will have nothing of it over her body, and if she wears it, you will have nothing over your body." So that man sat for a long period and then got up, and Allah's Messenger (ﷺ) saw him going away, so he ordered somebody to call him. When he came, the Prophet (ﷺ) asked him, " How much of the Qur'an do you know?" He replied, "I know such Surat and such Surat and such Surat," and went on counting it, The Prophet (ﷺ) asked him, "Can you recite it by heart?" he replied, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Go, I have married this lady to you for the amount of the Qur'an you know by heart
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر نظر نیچی کر لی اور سر جھکا لیا۔ جب اس خاتون نے دیکھا کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو میرے ساتھ ان کا نکاح کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ ( مہر کے لیے ) بھی ہے۔ انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ، اللہ کی قسم! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز ملے، وہ صاحب گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! مجھے وہاں کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دیکھ لو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ گئے اور عرض کیا نہیں اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مجھے نہیں ملی۔ البتہ یہ ایک تہبند میرے پاس ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی چادر بھی ( اوڑھنے کے لیے ) نہیں تھی۔ اس صحابی نے کہا کہ خاتون کو اس میں سے آدھا پھاڑ کر دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اس تہبند کا وہ کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنتے ہو تو اس کے قابل نہیں رہتا اور اگر وہ پہنتی ہے تو تمہارے قابل نہیں۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے ہوئے دیکھا تو بلوایا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ فلاں، فلاں، فلاں سورتیں مجھے یاد ہیں۔ انہوں نے ان کے نام گنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم انہیں زبانی پڑھ لیتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تمہیں قرآن مجید کی جو سورتیں یاد ہیں ان کے بدلے میں میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ‏.‏
Narrated `Ali:I said to Ibn `Abbas, "During the battle of Khaibar the Prophet (ﷺ) forbade (Nikah) Al-Mut'a and the eating of donkey's meat
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے حسن بن محمد بن علی اور ان کے بھائی عبداللہ بن محمد بن علی نے اپنے والد (محمد بن الحنفیہ) سے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اور پالتو گدھے کے گوشت سے جنگ خیبر کے زمانہ میں منع فرمایا تھا۔
Narrated by Abu Masud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ وَأَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ ‏ "‏ الإِيمَانُ هَا هُنَا ـ مَرَّتَيْنِ ـ أَلاَ وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Masud:The Prophet (ﷺ) pointed with his hand towards Yemen and said twice, "Faith is there," and then pointed towards the East, and said, "Verily, sternness and mercilessness are the qualities of those who are busy with their camels and pay no attention to their religion, where the two sides of the head of Satan will appear," namely, the tribes of Rabl'a and Muqar
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ برکتیں ادھر ہیں۔ دو مرتبہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) ہاں اور سختی اور قساوت قلب ان کی کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں یعنی ربیعہ اور مضر میں۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْىِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ تَابَعَهُ مُحَمَّدٌ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَقَالَ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ لاَ‏.‏
Narrated Jabir:We used to carry the meat of the Hadis (sacrificed animals) to Medina during the life-time of the Prophet
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (مکہ مکرمہ سے حج کی) ( مکہ مکرمہ سے حج کی ) قربانی کا گوشت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ منورہ لاتے تھے۔ اس کی متابعت محمد نے کی ابن عیینہ کے واسطہ سے اور ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا۔
Narrated by Abu Tha'alba
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ‏.‏ تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ وَعُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ وَمَعْمَرٌ وَالْمَاجِشُونُ وَيُونُسُ وَابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ‏.‏
Narrated Abu Tha'alba: Allah's Messenger (ﷺ) prohibited the eating of donkey's meat. Narrated Az-Zuhri: The Prophet (ﷺ) prohibited the eating of beasts having fangs
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں ابوادریس نے خبر دی اور ان سے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے کا گوشت کھانا حرام قرار دیا تھا۔ اس روایت کی متابعت زبیدی اور عقیل نے ابن شہاب سے کی ہے۔ مالک، معمر، ماجشون، یونس اور ابن اسحاق نے زہری سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کر کھانے والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ مَعْمَرٌ أَوْ غَيْرُهُ هُوَ الشُّرْبُ مِنْ أَفْوَاهِهَا‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:I heard Allah's Messenger (ﷺ) forbidding the drinking of water by bending the mouths of water skins, i.e., drinking from the mouths directly
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مشکوں میں «اختناث» سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ معمر نے بیان کیا یا ان کے غیر نے کہ «اختناث» مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي سِيدَانُ بْنُ مُضَارِبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ ـ هُوَ صَدُوقٌ ـ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْبَرَّاءُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَرُّوا بِمَاءٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ ـ أَوْ سَلِيمٌ ـ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلاً لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا‏.‏ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ، فَبَرَأَ، فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا‏.‏ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Some of the companions of the Prophet (ﷺ) passed by some people staying at a place where there was water, and one of those people had been stung by a scorpion. A man from those staying near the water, came and said to the companions of the Prophet, "Is there anyone among you who can do Ruqya as near the water there is a person who has been stung by a scorpion." So one of the Prophet's companions went to him and recited Surat-al-Fatiha for a sheep as his fees. The patient got cured and the man brought the sheep to his companions who disliked that and said, "You have taken wages for reciting Allah's Book." When they arrived at Medina, they said, ' O Allah's Messenger (ﷺ)! (This person) has taken wages for reciting Allah's Book" On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "You are most entitled to take wages for doing a Ruqya with Allah's Book
ہم سے سیدان بن مضارب ابو محمد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعشر یوسف بن یزید البراء نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن اخنس ابو مالک نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ چند صحابہ ایک پانی سے گزرے جس کے پاس کے قبیلہ میں بچھو کا کاٹا ہوا ( لدیغ یا سلیم راوی کو ان دونوں الفاظ کے متعلق شبہ تھا ) ایک شخص تھا۔ قبیلہ کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے۔ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا ہے چنانچہ صحابہ کی اس جماعت میں سے ایک صحابی اس شخص کے ساتھ گئے اور چند بکریوں کی شرط کے ساتھ اس شخص پر سورۃ فاتحہ پڑھی، اس سے وہ اچھا ہو گیا وہ صاحب شرط کے مطابق بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے تو انہوں نے اسے قبول کر لینا پسند نہیں کیا اور کہا کہ اللہ کی کتاب پر تم نے اجرت لے لی۔ آخر جب سب لوگ مدینہ آئے تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان صاحب نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان میں سے زیادہ اس کی مستحق اللہ کی کتاب ہی ہے۔
Narrated by Qatada
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، سَمِعَ رَوْحًا، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى‏.‏ قُلْنَا لأَنَسٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلاَةِ قَالَ قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً‏.‏
Narrated Qatada:Anas bin Malik said, "The Prophet (ﷺ) and Zaid bin Thabit took the 'Suhur' together and after finishing the meal, the Prophet (ﷺ) stood up and prayed (Fajr prayer)." I asked Anas, "How long was the interval between finishing their 'Suhur' and starting the prayer?" He replied, "The interval between the two was just sufficient to recite fifty 'Ayat." (Verses of the Qur'an)
ہم سے حسن بن صباح نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے روح بن عبادہ سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کھائی، پھر جب وہ سحری کھا کر فارغ ہوئے تو نماز کے لیے اٹھے اور نماز پڑھی۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کی سحری سے فراغت اور نماز کی ابتداء میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ اتنا کہ ایک شخص پچاس آیتیں پڑھ سکے۔
Narrated by Umar bin Al-Khattab (ra)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْحَرِيرِ، فَقَالَتِ ائْتِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَلْهُ‏.‏ قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَلِ ابْنَ عُمَرَ‏.‏ قَالَ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَفْصٍ ـ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ صَدَقَ وَمَا كَذَبَ أَبُو حَفْصٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنِي عِمْرَانُ‏.‏ وَقَصَّ الْحَدِيثَ‏.‏
Narrated 'Umar bin Al-Khattab (ra):Allah's Messenger (ﷺ) said, "None wears silk in this world, but he who will have no share in the Hereafter
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے علی مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عمران بن حطان نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ریشم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ بیان کی کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوحفص یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ریشم تو وہی مرد پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ میں نے اس پر کہا کہ سچ کہا اور ابوحفص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات نسبت نہیں کر سکتے اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے عمران نے اور پوری حدیث بیان کی۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, Enjoining, all that is good is a Sadaqa
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر نیک کام صدقہ ہے۔“
Narrated by Ibrahim
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ قَدِمَ الشَّأْمَ‏.‏ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا‏.‏ فَقَعَدَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ ـ يَعْنِي حُذَيْفَةَ ـ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ كَانَ فِيكُمُ ـ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الشَّيْطَانِ ـ يَعْنِي عَمَّارًا ـ أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّوَاكِ وَالْوِسَادِ ـ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ـ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ ‏{‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏‏.‏ قَالَ ‏{‏وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏‏.‏ فَقَالَ مَا زَالَ هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي، وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Ibrahim:'Alaqama went to Sham and came to the mosque and offered a two-rak`at prayer, and invoked Allah: "O Allah! Bless me with a (pious) good companion." So he sat beside Abu Ad-Darda' who asked, "From where are you?" He said, "From the people of Kufa." Abu Darda' said, "Wasn't there among you the person who keeps the secrets (of the Prophet (ﷺ) ) which nobody knew except him (i.e., Hudhaifa (bin Al-Yaman)). And isn't there among you the person whom Allah gave refuge from Satan through the request (tongue) of Allah's Messenger (ﷺ)? (i.e., `Ammar). Isn't there among you the one who used to carry the Siwak and the cushion (or pillows (of the Prophets)? (i.e., Ibn Mas`ud). How did Ibn Mas`ud use to recite 'By the night as it conceals (the light)?" (Sura 92). 'Alqama said, "Wadhdhakari Wal Untha' (And by male and female.") Abu Ad-Darda added. 'These people continued to argue with me regarding it till they were about to cause me to have doubts although I heard it from Allah's Messenger (ﷺ)
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ بن قیس نے کہ آپ ملک شام میں پہنچے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے اور ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ ملک شام گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ دعا کی اے اللہ! مجھے ایک ہم نشین عطا فرما۔ چنانچہ وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جا بیٹھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا۔ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ کہا کہ اہل کوفہ سے، پوچھا کیا تمہارے یہاں ( نفاق اور منافقین کے ) بھیدوں کے جاننے والے وہ صحابی نہیں ہیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ہے؟ ان کا اشارہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں ( یا یوں کہا کہ ) تمہارے وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دی تھی؟ اشارہ عمار رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں مسواک اور گدے والے نہیں ہیں؟ ان کا اشارہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ «والليل إذا يغشى‏» کس طرح پڑھتے تھے۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ «والذكر والأنثى‏» پڑھتے تھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ لوگ کوفہ والے اپنے مسلسل عمل سے قریب تھا کہ مجھے شبہ میں ڈال دیتے حالانکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود اسے سنا تھا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيَدْعُو لَهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ‏.‏
Narrated `Aisha:The boys used to be brought to the Prophet (ﷺ) and he used to invoke for Allah's blessing upon them. Once an infant was brought to him and it urinated on his clothes. He asked for water and poured it over the place of the urine and did not wash his clothes
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ ان کے لیے دعا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور پیشاب کی جگہ پر اسے ڈالا کپڑے کو دھویا نہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَلاَ أَنَا، إِلاَّ أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاغْدُوا وَرُوحُوا، وَشَىْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ‏.‏ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The deeds of anyone of you will not save you (from the (Hell) Fire)." They said, "Even you (will not be saved by your deeds), O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "No, even I (will not be saved) unless and until Allah bestows His Mercy on me. Therefore, do good deeds properly, sincerely and moderately, and worship Allah in the forenoon and in the afternoon and during a part of the night, and always adopt a middle, moderate, regular course whereby you will reach your target (Paradise)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکے گا۔“ صحابہ نے عرض کی اور آپ کو بھی نہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا ”اور مجھے بھی نہیں، سوا اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔ پس تم کو چاہئے کہ درستی کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔ صبح اور شام، اسی طرح رات کو ذرا سا چل لیا کرو اور اعتدال کے ساتھ چلا کرو منزل مقصود کو پہنچ جاؤ گے۔“
Narrated by Malik bin Huwairith
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ‏"‏‏.‏
Narrated Malik bin Huwairith:Prophet said (to two persons), "Whenever the prayer time becomes due, you should pronounce Adhan and then Iqama and the older of you should lead the prayer
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، انہوں نے مالک بن حویرث سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کا وقت آ جائے تو تم دونوں اذان دو اور اقامت کہو، پھر جو تم میں بڑا ہے وہ امام بنے۔
Narrated by Jundub
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jundub:I witnessed the Prophet (ﷺ) offering the `Id prayer (and after finishing it) he delivered a sermon and said, "Whoever has slaughtered his sacrifice (before the prayer) should make up for it (i.e. slaughter another animal) and whoever has not slaughtered his sacrifice yet, should slaughter it by mentioning Allah's Name over it
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنِكْتَهَا ‏"‏‏.‏ لاَ يَكْنِي‏.‏ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:When Ma'iz bin Malik came to the Prophet (in order to confess), the Prophet (ﷺ) said to him, "Probably you have only kissed (the lady), or winked, or looked at her?" He said, "No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet said, using no euphemism, "Did you have sexual intercourse with her?" The narrator added: At that, (i.e. after his confession) the Prophet (ﷺ) ordered that he be stoned (to death)
مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے کہا کہ میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا، انہوں نے عکرمہ سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تو نے بوسہ دیا ہو گا یا اشارہ کیا ہو گا یا دیکھا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کیا پھر تو نے ہمبستری ہی کر لی ہے؟ اس مرتبہ آپ نے کنایہ سے کام نہیں لیا۔ بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کا حکم دیا۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever killed a Mu'ahid (a person who is granted the pledge of protection by the Muslims) shall not smell the fragrance of Paradise though its fragrance can be smelt at a distance of forty years (of traveling)
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے، کہا ہم سے حسن بن عمرو فقیمی نے، کہا ہم سے مجاہد نے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی جان کو مار ڈاے جس سے عہد کر چکا ہو ( اس کی امان دے چکا ہو ) جیسے ذمی، کافر کو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا ( چہ جائے کہ اس میں داخل ہو ) حالانکہ بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے۔“
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رَأَيْتُ كَأَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ، خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ، حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ ـ وَهْىَ الْجُحْفَةُ ـ فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَيْهَا ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling at Mahai'a, i.e., Al-Juhfa. I interpreted that as a symbol of epidemic of Medina being transferred to that place (Al-Juhfa)
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا جیسے ایک سیاہ عورت پراگندہ بال، مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ مہیعہ حجفہ کو کہتے ہیں۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا حجفہ نامی بستی میں چلی گئی۔
Narrated by Abu Wail
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَامَ عَمَّارٌ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ عَائِشَةَ وَذَكَرَ مَسِيرَهَا وَقَالَ إِنَّهَا زَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَلَكِنَّهَا مِمَّا ابْتُلِيتُمْ‏.‏
Narrated Abu Wail:`Ammar stood on the pulpit at Kufa and mentioned `Aisha and her coming (to Busra) and said, "She is the wife of your Prophet in this world and in the Hereafter, but you people are being put to test in this issue
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی غنیہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ کوفہ میں عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو۔
Narrated by Sahl bin Sa`d As-Saidi
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرٍو، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ وَأَقَامَ وَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلاَةِ، فَشَقَّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَتَقَدَّمَ فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ‏.‏ قَالَ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْرُغَ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لاَ يُمْسَكُ عَلَيْهِ الْتَفَتَ فَرَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْضِهْ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً يَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لاَ تَكُونَ مَضَيْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَمْ يَكُنْ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ لِلْقَوْمِ ‏"‏ إِذَا نَابَكُمْ أَمْرٌ، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ ‏"‏‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d As-Saidi:There was some quarrel (sighting) among Bani `Amr, and when this news reached the Prophet, he offered the Zuhr prayer and went to establish peace among them. In the meantime the time of `Asr prayer was due, Bilal pronounced the Adhan and then the Iqama for the prayer and requested Abu Bakr (to lead the prayer) and Abu Bakr went forward. The Prophet (ﷺ) arrived while Abu Bakr was still praying. He entered the rows of praying people till he stood behind Abu Bakr in the (first) row. The people started clapping, and it was the habit of Abu Bakr that whenever he stood for prayer, he never glanced side-ways till he had finished it, but when Abu Bakr observed that the clapping was not coming to an end, he looked and saw the Prophet (ﷺ) standing behind him. The Prophet (ﷺ) beckoned him to carry on by waving his hand. Abu Bakr stood there for a while, thanking Allah for the saying of the Prophet (ﷺ) and then he retreated, taking his steps backwards. When the Prophet saw that, he went ahead and led the people in prayer. When he finished the prayer, he said, "O Abu Bakr! What prevented you from carrying on with the prayer after I beckoned you to do so?" Abu Bakr replied, "It does not befit the son of Abi Quhafa to lead the Prophet (ﷺ) in prayer." Then the Prophet (ﷺ) said to the people, "If some problem arises during prayers, then the men should say, Subhan Allah!; and the women should clap." (See Hadith No. 652, Vol)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوحازم المدینی نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں باہم لڑائی ہو گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور ان کے یہاں صلح کرانے کے لیے تشریف لائے۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا ( مدینہ میں ) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ہی میں تھے ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی صف کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اس صف میں آ گئے جو ان سے قریب تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو بتانے کے لیے ہاتھ مارے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ختم کرنے سے پہلے کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا رکتا ہی نہیں تو آپ متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پوری کریں اور آپ نے اس طرح ہاتھ سے اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا اشارہ کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اللہ کی حمد کرنے کے لیے ٹھہرے رہے، پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو آپ نے نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد آپ نے فرمایا، ابوبکر! جب میں نے ارشاد کر دیا تھا تو آپ کو نماز پوری پڑھانے میں کیا چیز مانع تھی؟ انہوں نے عرض کیا، ابن ابی قحافہ کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نماز میں ) جب کوئی معاملہ پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہئیے اور عورتوں کو ہاتھ پر ہاتھ مارنا چاہئے۔
Narrated by Jabir bin 'Abdullah As-Salami
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ، فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي‏.‏ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي‏.‏ فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي‏.‏ فَأَبَى فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طِيبُهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Jabir bin 'Abdullah As-Salami: A bedouin gave the Pledge of allegiance for embracing Islam to Allah's Messenger (ﷺ), and then he got an attack of fever in Medina and came to Allah's Messenger (ﷺ): and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Cancel my pledge." Allah's Messenger (ﷺ) refused to do so. The bedouin came to him again and said, "Cancel my pledge," but he refused again, and then again, the bedouin came to him and said, "Cancel my pledge," and Allah's Messenger (ﷺ) refused. The bedouin finally went away, and Allah's Messenger (ﷺ) said, "Medina is like a pair of bellows (furnace), it expels its impurities while it brightens and clears its good
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ ایک گنوار ( قیس بن ابی حازم یا قیس بن حازم یا اور کوئی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ میں اس کو تپ آنے لگی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت توڑ دیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ وہ پھر آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کیا۔ اس کے بعد وہ مدینہ سے نکل کر اپنے جنگل کو چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی طرح ہے جو اپنی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور کھرے پاکیزہ مال کو رکھ لیتی ہے۔
Narrated by Abu Dharr
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ـ هُوَ التَّيْمِيُّ ـ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا‏}‏ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ‏.‏
Narrated Abu Dharr:I entered the mosque while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting there. When the sun had set, the Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dharr! Do you know where this (sun) goes?" I said, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and asks permission to prostrate, and it is allowed, and (one day) it, as if being ordered to return whence it came, then it will rise from the west." Then the Prophet (ﷺ) recited, "That: "And the sun runs on its fixed course (for a term decreed)," (36.38) as it is recited by `Abdullah
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، پھر جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟“ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور سجدہ کی اجازت چاہتا ہے پھر اسے اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ واپس وہاں جاؤ جہاں سے آئے ہو۔ چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوتا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذلك مستقر لها‏» عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرآت یوں ہی ہے۔
Narrated by `Abdullah Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا‏.‏
Narrated `Abdullah Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) used to deliver two Khutbas and sit in between them
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ میں ) دو خطبے دیتے اور دونوں کے بیچ میں بیٹھتے تھے۔ ( خطبہ جمعہ کے بیچ میں یہ بیٹھنا بھی مسنون طریقہ ہے ) ۔