Narrated by `Abdullah bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ إِنِّي لاَ أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا يُحَدِّثُ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ. قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ".
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair:I said to my father, 'I do not hear from you any narration (Hadith) of Allah's Apostle as I hear (his narration) from so and so?" Az-Zubair replied, 'I was always with him (the Prophet) and I heard him saying, "Whoever tells a lie against me (intentionally) then (surely) let him occupy, his seat in Hellfire
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے جامع بن شداد نے، وہ عامر بن عبداللہ بن زبیر سے اور وہ اپنے باپ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ یعنی زبیر سے عرض کیا کہ میں نے کبھی آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں سنیں۔ جیسا کہ فلاں، فلاں بیان کرتے ہیں، کہا میں کبھی آپ سے الگ تھلگ نہیں رہا لیکن میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ ـ أَوْ قَدْ خَرَجَ ـ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:While delivering a sermon, Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you comes while the Imam is delivering the sermon or has come out for it, he should offer a two rak`at prayer
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص بھی ( مسجد میں ) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کے لیے نکل چکا ہو تو وہ دو رکعت نماز ( تحیۃ المسجد کی ) پڑھ لے۔
Narrated by Al-Mughira
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ كَذِبًا عَلَىَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ". سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ".
Narrated Al-Mughira:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Ascribing false things to me is not like ascribing false things to anyone else. Whosoever tells a lie against me intentionally then surely let him occupy his seat in Hell-Fire." I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The deceased who is wailed over is tortured for that wailing
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن عبید نے ‘ ان سے علی بن ربیعہ نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی سنا کہ کسی میت پر اگر نوحہ و ماتم کیا جائے تو اس نوحہ کی وجہ سے بھی اس پر عذاب ہوتا ہے۔
Narrated by Um 'Atiyya
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بُعِثَ إِلَى نُسَيْبَةَ الأَنْصَارِيَّةِ بِشَاةٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ مِنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ". فَقُلْتُ لاَ إِلاَّ مَا أَرْسَلَتْ بِهِ نُسَيْبَةُ مِنْ تِلْكَ الشَّاةِ فَقَالَ " هَاتِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا ".
Narrated Um 'Atiyya:A sheep was sent to me (Nusaiba Al-Ansariya) (in charity) and I sent some of it to `Aisha. The Prophet asked `Aisha for something to eat. `Aisha replied that there was nothing except what Nusaiba Al-Ansariya had sent of that sheep. The Prophet (ﷺ) said to her, "Bring it as it has reached its place
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نسیبہ نامی ایک انصاری عورت کے ہاں کسی نے ایک بکری بھیجی ( یہ نسیبہ نامی انصاری عورت خود ام عطیہ رضی اللہ عنہا ہی کا نام ہے ) ۔ اس بکری کا گوشت انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی بھیج دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اور تو کوئی چیز نہیں البتہ اس بکری کا گوشت جو نسیبہ رضی اللہ عنہا نے بھیجا تھا ‘ وہ موجود ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہی لاؤ اب اس کا کھانا درست ہو گیا۔
Narrated by Marwan bin Al-Hakam
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا ـ رضى الله عنهما ـ وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا. فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ، أَهَلَّ بِهِمَا لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ قَالَ مَا كُنْتُ لأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِقَوْلِ أَحَدٍ.
Narrated Marwan bin Al-Hakam:I saw `Uthman and `Ali. `Uthman used to forbid people to perform Hajj-at-Tamattu` and Hajj-al-Qiran (Hajj and `Umra together), and when `Ali saw (this act of `Uthman), he assumed Ihram for Hajj and `Umra together saying, "Labbaik for `Umra and Hajj," and said, "I will not leave the tradition of the Prophet (ﷺ) on the saying of somebody
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے علی بن حسین (زین العابدین) نے اور ان سے مروان بن حکم نے بیان کیا کہ عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو میں نے دیکھا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے سے روکتے تھے لیکن علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا اور کہا «لبيك بعمرة وحجة» آپ نے فرمایا تھا کہ میں کسی ایک شخص کی بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں چھوڑ سکتا۔
Narrated by `Abdullah bin `Abbas
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ خَالَتُهُ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى، يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.
Narrated `Abdullah bin `Abbas:That he stayed overnight in the house of Maimuna the wife of the Prophet, his aunt. He added: I lay on the bed (cushion transversally) while Allah's Messenger (ﷺ) and his wife lay in the lengthwise direction of the cushion. Allah's Messenger (ﷺ) slept till the middle of the night, either a bit before or a bit after it and then woke up, rubbing the traces of sleep off his face with his hands. He then, recited the last ten verses of Sura Al-`Imran, got up and went to a hanging water-skin. He then Performed the ablution from it and it was a perfect ablution, and then stood up to offer the prayer. I, too, got up and did as the Prophet had done. Then I went and stood by his side. He placed his right hand on my head and caught my right ear and twisted it. He prayed two rak`at, then two rak`at and then two rak`at and then two rak`at and then two rak`at and then two rak`at (separately six times), and finally one rak`a (the witr). Then he lay down again in the bed till the Mu'adh-dhin came to him where upon the Prophet (ﷺ) got up, offered a two light rak`at prayer and went out and led the Fajr prayer
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان کے واسطے سے نقل کیا، وہ کریب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری۔ ( وہ فرماتے ہیں کہ ) میں تکیہ کے عرض ( یعنی گوشہ ) کی طرف لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ نے ( معمول کے مطابق ) تکیہ کی لمبائی پر ( سر رکھ کر ) آرام فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے اور جب آدھی رات ہو گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد آپ بیدار ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی نیند کو دور کرنے کے لیے آنکھیں ملنے لگے۔ پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر ایک مشکیزہ کے پاس جو ( چھت میں ) لٹکا ہوا تھا آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا، خوب اچھی طرح، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا۔ پھر جا کر میں بھی آپ کے پہلوئے مبارک میں کھڑا ہو گیا۔ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پڑھ کر اس کے بعد آپ نے وتر پڑھا اور لیٹ گئے، پھر جب مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اٹھ کر دو رکعت معمولی ( طور پر ) پڑھیں۔ پھر باہر تشریف لا کر صبح کی نماز پڑھی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ.
Narrated `Aisha:Hamza bin `Amr Al-Aslami said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I fast continuously
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ عروہ نے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ! میں سفر میں لگاتار روزہ رکھتا ہوں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ.
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) bought food grains from a Jew on credit and mortgaged his armor to him
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ادھار خریدا۔ اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھوائی۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيَّةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا فَقِيلَ أَلاَ نَقْتُلُهَا. قَالَ " لاَ ". فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas bin Malik:A Jewess brought a poisoned (cooked) sheep for the Prophet (ﷺ) who ate from it. She was brought to the Prophet and he was asked, "Shall we kill her?" He said, "No." I continued to see the effect of the poison on the palate of the mouth of Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا ( لیکن فوراً ہی فرمایا کہ اس میں زہر پڑا ہوا ہے ) پھر جب اسے لایا گیا ( اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کر لیا ) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیا۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Aisha:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot fell. He also used to fix for everyone of his wives a day and a night, but Sauda bint Zam`a gave her day and night to `Aisha, the wife of the Prophet (ﷺ) intending thereby to please Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی زہری سے، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں میں قرعہ اندازی فرماتے اور جس کا نام نکل آتا، انہیں اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی معمول تھا کہ اپنی ہر بیوی کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر کر دی تھی۔ البتہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنی عمر کے آخری دور میں ) اپنی باری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کو رضا حاصل ہو ( اس سے بھی قرعہ اندازی ثابت ہوئی ) ۔
Narrated by Salim Abu-An-Nadr
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، كَتَبَ فَقَرَأْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا ".
Narrated Salim Abu-An-Nadr:`Abdullah bin Abi `Aufa wrote and I read what he wrote that Allah's Messenger (ﷺ) said, "When you face them ( i.e. your enemy) then be patient
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سالم بن ابی النضر نے کہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ( عمر بن عبیداللہ کو ) لکھا تو میں نے وہ تحریر پڑھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب تمہاری کفار سے مڈبھیڑ ہو تو صبر سے کام لو۔
Narrated by `Abdur-Rahman bin `Auf
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ، فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بِغُلاَمَيْنِ، مِنَ الأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قُلْتُ نَعَمْ، مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لاَ يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا. فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ، قُلْتُ أَلاَ إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي. فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلاَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ " أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ". قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ. فَقَالَ " هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ". قَالاَ لاَ. فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ " كِلاَكُمَا قَتَلَهُ ". سَلَبُهُ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ. وَكَانَا مُعَاذَ ابْنَ عَفْرَاءَ وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ. قَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعَ يُوسُفُ صَالِحًا وَإِبْرَاهِيمَ أَبَاهُ (عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ)
Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf:While I was standing in the row on the day (of the battle) of Badr, I looked to my right and my left and saw two young Ansari boys, and I wished I had been stronger than they. One of them called my attention saying, "O Uncle! Do you know Abu Jahl?" I said, "Yes, What do you want from him, O my nephew?" He said, "I have been informed that he abuses Allah's Messenger (ﷺ). By Him in Whose Hands my life is, if I should see him, then my body will not leave his body till either of us meet his fate." I was astonished at that talk. Then the other boy called my attention saying the same as the other had said. After a while I saw Abu Jahl walking amongst the people. I said (to the boys), "Look! This is the man you asked me about." So, both of them attacked him with their swords and struck him to death and returned to Allah'S Apostle to inform him of that. Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Which of you has killed him?" Each of them said, "I Have killed him." Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Have you cleaned your swords?" They said, "No. " He then looked at their swords and said, "No doubt, you both have killed him and the spoils of the deceased will be given to Mu`adh bin `Amr bin Al-Jamuh." The two boys were Mu`adh bin 'Afra and Mu`adh bin `Amr bin Al-Jamuh
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن ماجشون نے، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص) نے بیان کے کہ بدر کی لڑائی میں، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا، تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے۔ میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زبردست زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا، اور پوچھا چچا! آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہو گا، مر نہ جائے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی۔ پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں ( کفار کے لشکر میں ) گھومتا پھر رہا تھا۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ سامنے ( پھرتا ہوا نظر آ رہا ) ہے۔ دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے؟ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے۔ اس لیے آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے۔ اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا۔ وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع تھے۔ محمد نے کہا یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْىُ فَتْرَةً، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي. فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} إِلَى {فَاهْجُرْ} ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَالرِّجْزُ الأَوْثَانُ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "The Divine Inspiration was delayed for a short period but suddenly, as I was walking. I heard a voice in the sky, and when I looked up towards the sky, to my surprise, I saw the angel who had come to me in the Hira Cave, and he was sitting on a chair in between the sky and the earth. I was so frightened by him that I fell on the ground and came to my family and said (to them), 'Cover me! (with a blanket), cover me!' Then Allah sent the Revelation: "O, You wrapped up (In a blanket)! (Arise and warn! And your Lord magnify And keep pure your garments, And desert the idols)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا تھا کہ ( پہلے غار حراء میں جو جبرائیل علیہ السلام مجھ کو سورۃ اقراء پڑھا کر گئے تھے اس کے بعد ) مجھ پر وحی کا نزول ( تین سال ) بند رہا۔ ایک بار میں کہیں جا رہا تھا کہ میں نے آسمان میں سے ایک آواز سنی اور نظر آسمان کی طرف اٹھائی، میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا ( یعنی جبرائیل علیہ السلام ) آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں انہیں دیکھ کر اتنا ڈر گیا کہ زمین پر گر پڑا۔ پھر میں اپنے گھر آیا اور کہنے لگا کہ مجھے کچھ اوڑھا دو، مجھے کچھ اوڑھا دو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ «يا أيها المدثر» اللہ تعالیٰ کے ارشاد «فاهجر» تک۔ ابوسلمہ نے کہا کہ آیت میں «الرجز» سے بت مراد ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ {يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ}.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "May Allah forgive Lot: He wanted to have a powerful support
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ ) کی پناہ میں گئے تھے۔“
Narrated by Al-Ju'aid bin `Abdur Rahman
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ جَلْدًا مُعْتَدِلاً فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ مَا مُتِّعْتُ بِهِ سَمْعِي وَبَصَرِي إِلاَّ بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، إِنَّ خَالَتِي ذَهَبَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي شَاكٍ فَادْعُ اللَّهَ. قَالَ فَدَعَا لِي.
Narrated Al-Ju'aid bin `Abdur Rahman:I saw As-Sa'ib bin Yazid when he was ninety-four years old, quite strong and of straight figure. He said, "I know that I enjoyed my hearing and seeing powers only because of the invocation of Allah's Apostle . My aunt took me to him and said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! My nephew is sick; will you invoke Allah for him?' So he invoked (Allah) for me
مجھ سے اسحٰق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو فضل بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو چورانوے سال کی عمر میں دیکھا کہ خاصے قوی و توانا تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے کانوں اور آنکھوں سے جو میں نفع حاصل کر رہا ہوں وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے۔ میری خالہ مجھے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں۔ اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھانجا بیمار ہے، آپ اس کے لیے دعا فرما دیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُمْ قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُحُدًا، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ وَقَالَ " اسْكُنْ أُحُدُ ـ أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ ـ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ".
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) ascended the mountain of Uhud and Abu Bakr, `Umar and `Uthman were accompanying him. The mountain gave a shake (i.e. trembled underneath them) . The Prophet (ﷺ) said, "O Uhud ! Be calm." I think that the Prophet (ﷺ) hit it with his foot, adding, "For upon you there are none but a Prophet, a Siddiq and two martyrs
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد پہاڑ پر چڑھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے تو پہاڑ کانپنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ”احد ٹھہر جا۔“ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا بھی تھا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ هَزِيمَةً بَيِّنَةً، فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ، فَاجْتَلَدَتْ أُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَنَادَى أَىْ عِبَادَ اللَّهِ، أَبِي أَبِي. فَقَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ. قَالَ أَبِي فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
Narrated `Aisha:On the day of the battle of Uhud the pagans were defeated completely. Then Satan shouted loudly, "O Allah's slaves! Beware the ones behind you!" So the front files attacked the back ones. Then Hudhaifa looked and saw his father, and said loudly, "O Allah's slaves! My father! My father!" By Allah, they did not stop till they killed him (i.e. Hudaifa's father). Hudhaifa said, "May Allah forgive you!" The sub-narrator said, "By Allah, because of what Hudhaifa said, he remained in a good state till he met Allah (i.e. died)
مجھ سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن رجاء نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں جب مشرکین ہار چکے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اے اللہ کے بندو! پیچھے والوں کو ( قتل کرو ) چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر پل پڑے اور انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد ( یمان رضی اللہ عنہ ) بھی وہیں موجود تھے انہوں نے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندو یہ تو میرے والد ہیں میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! اس وقت تک لوگ وہاں سے نہیں ہٹے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ ( ہشام نے بیان کیا کہ ) اللہ کی قسم! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے ( کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کر بیٹھے ) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ وَقَالَ " هَذِهِ الْقِبْلَةُ ".
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) entered the Ka`ba, he invoked Allah in each and every side of it and did not pray till he came out of it, and offered a two-rak`at prayer facing the Ka`ba and said, "This is the Qibla
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابن جریج نے خبر پہنچائی عطاء ابن ابی رباح سے، انہوں نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو اس کے چاروں کونوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور نماز نہیں پڑھی۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو دو رکعت نماز کعبہ کے سامنے پڑھی اور فرمایا کہ یہی قبلہ ہے۔
Narrated by `Urwa
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ الزُّبَيْرُ لَقِيتُ يَوْمَ بَدْرٍ عُبَيْدَةَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهْوَ مُدَجَّجٌ لاَ يُرَى مِنْهُ إِلاَّ عَيْنَاهُ، وَهْوَ يُكْنَى أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ، فَقَالَ أَنَا أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ. فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالْعَنَزَةِ، فَطَعَنْتُهُ فِي عَيْنِهِ فَمَاتَ. قَالَ هِشَامٌ فَأُخْبِرْتُ أَنَّ الزُّبَيْرَ قَالَ لَقَدْ وَضَعْتُ رِجْلِي عَلَيْهِ ثُمَّ تَمَطَّأْتُ، فَكَانَ الْجَهْدَ أَنْ نَزَعْتُهَا وَقَدِ انْثَنَى طَرَفَاهَا. قَالَ عُرْوَةُ فَسَأَلَهُ إِيَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ سَأَلَهَا إِيَّاهُ عُمَرُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا قُبِضَ عُمَرُ أَخَذَهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا عُثْمَانُ مِنْهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ وَقَعَتْ عِنْدَ آلِ عَلِيٍّ، فَطَلَبَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَكَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّى قُتِلَ.
Narrated `Urwa:Az-Zubair said, "I met Ubaida bin Sa`id bin Al-As on the day (of the battle) of Badr and he was covered with armor; so much that only his eyes were visible. He was surnamed Abu Dhat-al-Karish. He said (proudly), 'I am Abu Dhat-al-Karish.' I attacked him with the spear and pierced his eye and he died. I put my foot over his body to pull (that spear) out, but even then I had to use a great force to take it out as its both ends were bent." `Urwa said, "Later on Allah's Messenger (ﷺ) asked Az-Zubair for the spear and he gave it to him. When Allah's Messenger (ﷺ) died, Az-Zubair took it back. After that Abu Bakr demanded it and he gave it to him, and when Abu Bakr died, Az-Zubair took it back. `Umar then demanded it from him and he gave it to him. When `Umar died, Az-Zubair took it back, and then `Uthman demanded it from him and he gave it to him. When `Uthman was martyred, the spear remained with `Ali's offspring. Then `Abdullah bin Az-Zubair demanded it back, and it remained with him till he was martyred
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں میری مڈبھیڑ عبیدہ بن سعید بن عاص سے ہو گئی۔ اس کا سارا جسم لوہے میں غرق تھا اور صرف آنکھ دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی کنیت ابوذات الکرش تھی۔ کہنے لگا کہ میں ابوذات الکرش ہوں۔ میں نے چھوٹے برچھے سے اس پر حملہ کیا اور اس کی آنکھ ہی کو نشانہ بنایا۔ چنانچہ اس زخم سے وہ مر گیا۔ ہشام نے بیان کیا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اپنا پاؤں اس کے اوپر رکھ کر پورا زور لگایا اور بڑی دشواری سے وہ برچھا اس کی آنکھ سے نکال سکا۔ اس کے دونوں کنارے مڑ گئے تھے۔ عروہ نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کا وہ برچھا طلب فرمایا تو انہوں نے وہ پیش کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو انہوں نے اسے واپس لے لیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تو انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا۔ انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انہوں نے اسے لے لیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تو انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس اور اس کے بعد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے لے لیا اور ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ وہ شہید کر دیئے گئے۔
Narrated by Ibn Abu Mulaika
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا} خَفِيفَةً، ذَهَبَ بِهَا هُنَاكَ، وَتَلاَ {حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ} فَلَقِيتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَعَاذَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا وَعَدَ اللَّهُ رَسُولَهُ مِنْ شَىْءٍ قَطُّ إِلاَّ عَلِمَ أَنَّهُ كَائِنٌ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلِ الْبَلاَءُ بِالرُّسُلِ حَتَّى خَافُوا أَنْ يَكُونَ مَنْ مَعَهُمْ يُكَذِّبُونَهُمْ، فَكَانَتْ تَقْرَؤُهَا {وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا} مُثَقَّلَةً.
Narrated Ibn Abu Mulaika:Ibn `Abbas recited: "(Respite will be granted) until when the Apostles gave up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people). There came to them Our Help ...." (12.110) reading Kudhibu without doubling the sound 'dh', and that was what he understood of the Verse. Then he went on reciting: "..even the Apostle and those who believed along with him said: When (will come) Allah's Help? Yes, verily, Allah's Help is near." (2.214) Then I met `Urwa bin Az-Zubair and I mentioned that to him. He said, "Aisha said, 'Allah forbid! By Allah, Allah never promised His Apostle anything but he knew that it would certainly happen before he died. But trials were continuously presented before the Apostles till they were afraid that their followers would accuse them of telling lies. So I used to recite:-- "Till they (come to) think that they were treated as liars." reading 'Kudh-dhibu with double 'dh
Narrated by `Uthman
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ". قَالَ وَأَقْرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ الْحَجَّاجُ، قَالَ وَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا.
Narrated `Uthman:The Prophet (ﷺ) said, "The best among you (Muslims) are those who learn the Qur'an and teach it
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے علقمہ بن مرثد نے خبر دی، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے اور انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمٰن سلمی نے لوگوں کو عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج بن یوسف کے عراق کے گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ ( قرآن مجید پڑھانے کے لیے ) بٹھا رکھا ہے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ.
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Ash-Shighar, which means that somebody marries his daughter to somebody else, and the latter marries his daughter to the former without paying Mahr
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی ( بیٹی یا بہن ) اس کو بیاہ دے اور کچھ مہر نہ ٹھہرے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ". قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ ". ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ، فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Shall I tell you of the best families among the Ansar?" They (the people) said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "The best are Banu- An-Najjar, and after them are Banu `Abdil Ash-hal, and after them are Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, and after them are Banu Sa`ida." The Prophet (ﷺ) then moved his hand by closing his fingers and then opening them like one throwing something, and then said, "Anyhow, there is good in all the families of the Ansar
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے اور انہوں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بتاؤں کہ قبیلہ انصار کا سب سے بہتر گھرانہ کون سا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا۔ اس کے بعد ان کا مرتبہ ہے جو ان سے قریب ہیں یعنی بنو عبدالاشہل کا، ان کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنی الحارث بن خزرج کا۔ اس کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنو ساعدہ کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مٹھی بند کی، پھر اسے اس طرح کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھ کی چیز کو پھینکتا ہے پھر فرمایا کہ انصار کے ہر گھرانہ میں خیر ہے۔
Narrated by Qatada
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ، وَلاَ رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ.
Narrated Qatada:We used to visit Anas bin Malik while his baker was standing (and baking). Anas would say, "Eat! I do not know that the Prophet (ﷺ) had ever seen well-baked bread till he met Allah, nor had he ever seen a roasted sheep with his own eyes
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی روٹی پکانے والا ان کے پاس ہی کھڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھاؤ۔ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پتلی روٹی ( چپاتی ) دیکھی ہو۔ یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مسلم بھنی ہوئی بکری دیکھی۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُتْعَةِ عَامَ خَيْبَرَ وَلُحُومِ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ.
Narrated `Ali:Allah's Messenger (ﷺ) prohibited Al-Mut'a marriage and the eating of donkey's meat in the year of the Khaibar battle
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں محمد بن علی کے بیٹے عبداللہ اور حسن نے اور انہیں ان کے والد نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع فرما دیا تھا۔
Narrated by Sa'd bin Abi Waqqas
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فَمِ امْرَأَتِكَ
Narrated Sa'd bin Abi Waqqas: Allah's Messenger (ﷺ) said, "You will be rewarded for whatever you spend for Allah's sake even if it were a morsel which you put in your wife's mouth
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عامر بن سعد نے سعد بن ابی وقاص سے بیان کیا، انہوں نے ان کو خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک تو جو کچھ خرچ کرے اور اس سے تیری نیت اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو تو تجھ کو اس کا ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ اس پر بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ ـ أَوْ أَمْسَيْتُمْ ـ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحُلُّوهُمْ، فَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا وَأَطْفِئُوا، مَصَابِيحَكُمْ ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When night falls (or when it is evening), stop your children from going out, for the devils spread out at that time. But when an hour of the night has passed, release them and close the doors and mention Allah's Name, for Satan does not open a closed door. Tie the mouth of your waterskin and mention Allah's Name; cover your containers and utensils and mention Allah's Name. Cover them even by placing something across it, and extinguish your lamps
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی جب ابتداء ہو یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) جب شام ہو تو اپنے بچوں کو روک لو ( اور گھر سے باہر نہ نکلنے دو ) کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو اور دروازے بند کر لو اور اس وقت اللہ کا نام لو کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دو۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھک دو، خواہ کسی چیز کو چوڑائی میں رکھ کر ہی ڈھک سکو اور اپنے چراغ ( سونے سے پہلے ) بجھا دیا کرو۔
Narrated by Jarir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لاَ تُضَامُّونَ ـ أَوْ لاَ تُضَاهُونَ ـ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ". ثُمَّ قَالَ " فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ".
Narrated Jarir bin `Abdullah:We were with the Prophet (ﷺ) on a full moon night. He looked at the moon and said, "You will certainly see your Lord as you see this moon, and there will be no trouble in seeing Him. So if you can avoid missing (through sleep, business, etc.) a prayer before the rising of the sun (Fajr) and before its setting (`Asr) you must do so. He (the Prophet (ﷺ) ) then recited the following verse: And celebrate the praises Of Your Lord before The rising of the sun And before (its) setting
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے اسماعیل سے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ نے بیان کیا، کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف نظر اٹھائی جو چودھویں رات کا تھا۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ بے ٹوک اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو ( اسے دیکھنے میں تم کو کسی قسم کی بھی مزاحمت نہ ہو گی ) یا یہ فرمایا کہ تمہیں اس کے دیدار میں مطلق شبہ نہ ہو گا اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے ( فجر اور عصر ) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے تو ایسا ضرور کرو۔ ( کیونکہ ان ہی کے طفیل دیدار الٰہی نصیب ہو گا یا ان ہی وقتوں میں یہ رویت ملے گی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» ”پس اپنے رب کے حمد کی تسبیح پڑھ سورج کے نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔“ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن شہاب نے اسماعیل کے واسطہ سے جو قیس سے بواسطہ جریر ( راوی ہیں ) یہ زیادتی نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے رب کو صاف دیکھو گے“۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْنَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلاَّ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ ". تَابَعَهُ النَّضْرُ عَنْ دَاوُدَ.
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) that she asked Allah's Messenger (ﷺ) about plague, and Allah's Messenger (ﷺ) informed her saying, "Plague was a punishment which Allah used to send on whom He wished, but Allah made it a blessing for the believers. None (among the believers) remains patient in a land in which plague has broken out and considers that nothing will befall him except what Allah has ordained for him, but that Allah will grant him a reward similar to that of a martyr
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرت نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن عمر نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب تھا اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا اس پر اس کو بھیجتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین ( امت محمدیہ کے لیے ) رحمت بنا دیا اب کوئی بھی اللہ کا بندہ اگر صبر کے ساتھ اس شہر میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون پھوٹ پڑا ہو اور یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے اس کے سوا اس کو اور کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور پھر طاعون میں اس کا انتقال ہو جائے تو اسے شہید جیسا ثواب ملے گا۔ حبان بن حلال کے ساتھ اس حدیث کو نضر بن شمیل نے بھی داؤد سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ أَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ شَدِيدًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الآخِرَةِ ".
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, Whoever wears silk in this world shall not wear it in the Hereafter
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، شعبہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے پوچھا کیا یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ قطعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Anybody who believes in Allah and the Last Day should not harm his neighbor, and anybody who believes in Allah and the Last Day should entertain his guest generously and anybody who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet. (i.e. abstain from all kinds of evil and dirty talk)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔“
Narrated by `Uqba bin Al-Harith
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ، فَأَسْرَعَ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ.
Narrated `Uqba bin Al-Harith:Once the Prophet (ﷺ) offered the `Asr prayer and then he walked quickly and entered his house
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ چل کر آپ گھر میں داخل ہو گئے۔
Narrated by As-Sa'ib bin Yazid
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ. فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ.
Narrated As-Sa'ib bin Yazid:My aunt took me to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My sister's son is sick." So he passed his hand over my head and invoked for Allah's blessing upon me and then performed the ablution. I drank from the water of his ablution and I stood behind him and looked at his Khatam (the seal of Prophethood) between his shoulders (and its size was) like the button of a tent
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے جعد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میری خالہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا۔ اس کے بعد میں آپ کی پشت کی طرف کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو دونوں شانوں کے درمیان میں تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی ہوتی ہے یا حجلہ کا انڈہ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ ارْزُقْ آلَ مُحَمَّدٍ قُوتًا ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Give food to the family of Muhammad
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ ". ثُمَّ قَالَ " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِيقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". وَقَالَ " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا لاَسْتَهَمُوا عَلَيْهِ ". " وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While a man was going on a way, he saw a thorny branch and removed it from the way and Allah became pleased by his action and forgave him for that." Then the Prophet (ﷺ) said, "Five are martyrs: One who dies of plague, one who dies of an Abdominal disease, one who dies of drowning, one who is buried alive (and) dies and one who is killed in Allah's cause." (The Prophet (ﷺ) further said, "If the people knew the reward for pronouncing the Adhan and for standing in the first row (in the congregational prayer) and found no other way to get it except by drawing lots they would do so, and if they knew the reward of offering the Zuhr prayer early (in its stated time), they would race for it and if they knew the reward for `Isha' and Fajr prayers in congregation, they would attend them even if they were to crawl
ہم سے قتیبہ بن سعید نے امام مالک سے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نامی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ( صرف اسی بات پر ) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی۔
Narrated by Ibn Mas`ud
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا ـ قَالَ مَنْصُورٌ لاَ أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ وَهِمَ أَمْ عَلْقَمَةُ ـ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ قَالَ " وَمَا ذَاكَ ". قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ " هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لاَ يَدْرِي، زَادَ فِي صَلاَتِهِ أَمْ نَقَصَ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ، فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ ".
Narrated Ibn Mas`ud:that Allah's Prophet led them in the Zuhr prayer and he offered either more or less rak`at, and it was said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ) ! Has the prayer been reduced, or have you forgotten?" He asked, "What is that?" They said, "You have prayed so many rak`at." So he performed with them two more prostrations and said, "These two prostrations are to be performed by the person who does not know whether he has prayed more or less (rak`at) in which case he should seek to follow what is right. And then complete the rest (of the prayer) and perform two extra prostrations
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا، کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے ( سہو کے ) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً ". قَالَ لاَ. قَالَ " هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ".
Narrated Abu Huraira: A person had sexual relation with his wife in the month of Ramadan (while he was fasting), and he came to Allah's Messenger (ﷺ) seeking his verdict concerning that action. The Prophet (ﷺ) said (to him), "Can you afford to manumit a slave?" The man said, "No." The Prophet (ﷺ) said, "Can you fast for two successive months?" He said, "No." The Prophet (ﷺ) said, "Then feed sixty poor persons
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا دو مہینے روزے رکھنے کی تم میں طاقت نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کہا کہ پھر ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلاؤ۔
Narrated by `Abdul-`Aziz
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ. قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَىْءٍ صَنَعْتُهُ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا وَلاَ لِشَىْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا
Narrated `Abdul-`Aziz:Anas said, "When Allah's Messenger (ﷺ) arrived at Medina, Abu Talha took hold of my hand and brought me to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Anas is an intelligent boy, so let him serve you." Anas added, "So I served the Prophet (ﷺ) L at home and on journeys; by Allah, he never said to me for anything which I did: Why have you done this like this or, for anything which I did not do: 'Why have you not done this like this?
مجھ سے عمر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔
Narrated by `Abdullah bin `Abbas
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَىَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا، فَأُذِنَ لِي، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ ". فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزٌ بِالْيَمَنِ، وَالآخَرُ مُسَيْلِمَةُ.
Narrated `Abdullah bin `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, two golden bangles were put in my two hands, so I got scared (frightened) and disliked it, but I was given permission to blow them off, and they flew away. I interpret it as a symbol of two liars who will appear." 'Ubaidullah said, "One of them was Al-`Ansi who was killed by Fairuz at Yemen and the other was Musailama (at Najd)
تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔
Narrated by Abu Wail
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ قِيلَ لأُسَامَةَ أَلاَ تُكَلِّمُ هَذَا. قَالَ قَدْ كَلَّمْتُهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا، أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَفْتَحُهُ، وَمَا أَنَا بِالَّذِي أَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَنْتَ خَيْرٌ. بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ، فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ، فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ أَىْ فُلاَنُ أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَيَقُولُ إِنِّي كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ أَفْعَلُهُ، وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ ".
Narrated Abu Wail:Someone said to Usama, "Will you not talk to this (Uthman)?" Usama said, "I talked to him (secretly) without being the first man to open an evil door. I will never tell a ruler who rules over two men or more that he is good after I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'A man will be brought and put in Hell (Fire) and he will circumambulate (go around and round) in Hell (Fire) like a donkey of a (flour) grinding mill, and all the people of Hell (Fire) will gather around him and will say to him, O so-and-so! Didn't you use to order others for good and forbid them from evil?' That man will say, 'I used to order others to do good but I myself never used to do it, and I used to forbid others from evil while I myself used to do evil
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان نے کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے کہا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ ( عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ) سے گفتگو کیوں نہیں کرتے ( کہ عام مسلمانوں کی شکایات کا خیال رکھیں ) انہوں نے کہا کہ میں نے ( خلوت میں ) ان سے گفتگو کی ہے لیکن ( فتنہ کے ) دروازہ کو کھولے بغیر کہ اس طرح میں سب سے پہلے اس دروازہ کو کھولنے والا ہوں گا میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ کسی شخص سے جب وہ دو آدمیوں پر امیر بنا دیا جائے یہ کہوں کہ تو سب سے بہتر ہے۔ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو ( قیامت کے دن ) لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطُعِنَ فِي إِمَارَتِهِ، وَقَالَ " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمْرَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ".
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) sent an army unit headed by Usama bin Zaid and the people criticized his leadership. The Prophet (ﷺ) said (to the people), "If you are criticizing his leadership now, then you used to criticize his father's leadership before. By Allah, he (Usama's father) deserved the leadership and used to be one of the most beloved persons to me, and now his son (Usama) is one of the most beloved persons to me after him. " (See Hadith No. 745, Vol)
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا لیکن ان کی سرداری پر طعن کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر آج تم ان کی امارت کو مطعون قرار دیتے ہو تو تم نے اس سے پہلے اس کے والد ( زید رضی اللہ عنہ ) کی امارت کو بھی مطعون قرار دیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ امارت کے لیے سزاوار تھے اور وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) ان کے بعد سب سے زیادہ مجھے عزیز ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِأَخْذِ الْقُرُونِ قَبْلَهَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ". فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَفَارِسَ وَالرُّومِ. فَقَالَ " وَمَنِ النَّاسُ إِلاَّ أُولَئِكَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The Hour will not be established till my followers copy the deeds of the previous nations and follow them very closely, span by span, and cubit by cubit (i.e., inch by inch)." It was said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you mean by those (nations) the Persians and the Byzantines?" The Prophet said, "Who can it be other than they?
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں، پارسی اور نصرانی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اور کون۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَأَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ أَنْكَحَنِي فِي السَّمَاءِ.
Narrated Anas bin Malik:The Verse of Al-Hijab (veiling of women) was revealed in connection with Zainab bint Jahsh. (On the day of her marriage with him) the Prophet (ﷺ) gave a wedding banquet with bread and meat; and she used to boast before other wives of the Prophet (ﷺ) and used to say, "Allah married me (to the Prophet (ﷺ) in the Heavens
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن طہمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ پردہ کی آیت ام المؤمنین زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی اور اس دن آپ نے روٹی اور گوشت کے ولیمہ کی دعوت دی اور زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میرا نکاح اللہ نے آسمان پر کرایا تھا۔
Narrated by Abu Hummaid As-Sa`idi
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ ". تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَمَّا بَعْدُ ". تَابَعَهُ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ فِي أَمَّا بَعْدُ.
Narrated Abu Hummaid As-Sa`idi:One night Allah's Messenger (ﷺ) stood up after the prayer and recited "Tashah-hud" and then praised Allah as He deserved and said, "Amma ba'du
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد کھڑے ہوئے۔ پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا، پھر اللہ تعالیٰ کے لائق اس کی تعریف کی، پھر فرمایا «امابعد» ! زہری کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور ابواسامہ نے ہشام سے کی، انہوں نے اپنے والد عروہ سے اس کی روایت کی، انہوں نے ابوحمید سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «امابعد» ! اور ابوالیمان کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن یحییٰ نے بھی سفیان سے روایت کیا۔ اس میں صرف «امابعد» ہے۔