Narrated by Talha
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ أَوْصَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ. فَقُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِهَا قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ.
Narrated Talha:I asked `Abdullah bin Abu `Aufa "Did the Prophet (ﷺ) make a will? ' He replied, "No." I further asked, "How come is it that the making of a will was enjoined on the people or that they were ordered to make it? " He said, "The Prophet (ﷺ) made a will concerning Allah's Book
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو وصی بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ لوگوں پر وصیت کرنا کیسے فرض ہے یا وصیت کرنے کا کیسے حکم ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے کتاب اللہ کے مطابق عمل کرتے رہنے کی وصیت کی تھی۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْىِ قَالَ فِي حَدِيثِهِ " بَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ فَفَرِقْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ". فَدَثَّرُوهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ * وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ}. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَهْىَ الأَوْثَانُ الَّتِي كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَعْبُدُونَ. قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْىُ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:While Allah's Messenger (ﷺ) was talking about the period of pause in revelation. he said in his narration. "Once while I was walking, all of a sudden I heard a voice from the sky. I looked up and saw to my surprise, the same Angel as had visited me in the cave of Hira.' He was sitting on a chair between the sky and the earth. I got afraid of him and came back home and said, Wrap me! Wrap me!" So they covered him and then Allah revealed: 'O you, wrapped up! Arise and warn and your Lord magnify, and your garments purify and dessert the idols.' (74.1-5) Abu Salama said, "(Rijz) are the idols which the people of the Pre-Islamic period used to worship." After this the revelation started coming frequently and regularly
محمد بن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے کچھ دنوں کے لیے رک جانے کا ذکر فرما رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چل رہا تھا کہ میں نے اچانک آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ ( جبرائیل علیہ السلام ) جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا نظر آیا۔ میں ان سے بہت ڈرا اور گھر واپس آ کر میں نے کہا کہ مجھے چادر اڑھا دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے چادر اڑھا دی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر * وثيابك فطهر * والرجز فاهجر» ”اے کپڑے میں لپٹنے والے! اٹھئیے پھر لوگوں کو ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیئے۔“ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ «الرجز» جاہلیت کے بت تھے جن کی وہ پرستش کیا کرتے تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وحی برابر آنے لگی۔