بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
64
2 hadith
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَلاَ كُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِي بَكْرٍ‏.‏ رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو مُوسَى وَابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Aisha added, "I argued with Allah's Messenger (ﷺ) repeatedly about that matter (i.e. his order that Abu Bakr should lead the people in prayer in his place when he was ill), and what made me argue so much, was, that it never occurred to my mind that after the Prophet, the people would ever love a man who had taken his place, and I felt that anybody standing in his place, would be a bad omen to the people, so I wanted Allah's Messenger (ﷺ) to give up the idea of choosing Abu Bakr (to lead the people in prayer)
مجھے عبیداللہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، میں نے اس معاملہ ( یعنی ایام مرض میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے ) کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باربار پوچھا۔ میں باربار آپ سے صرف اس لیے پوچھ رہی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ جو شخص ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ) آپ کی جگہ پر کھڑا ہو گا، لوگ اس سے کبھی محبت نہیں رکھ سکتے بلکہ میرا خیال تھا کہ لوگ اس سے بدفالی لیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم نہ دیں۔ اس کی روایت ابن عمر، ابوموسیٰ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
Narrated by Ibrahim
حَدَّثَنَا عُمَرُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَدِمَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَطَلَبَهُمْ فَوَجَدَهُمْ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُلُّنَا‏.‏ قَالَ فَأَيُّكُمْ يَحْفَظُ وَأَشَارُوا إِلَى عَلْقَمَةَ‏.‏ قَالَ كَيْفَ سَمِعْتَهُ يَقْرَأُ ‏{‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏‏.‏ قَالَ عَلْقَمَةُ ‏{‏وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏‏.‏ قَالَ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ هَكَذَا، وَهَؤُلاَءِ يُرِيدُونِي عَلَى أَنْ أَقْرَأَ ‏{‏وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى‏}‏ وَاللَّهِ لاَ أُتَابِعُهُمْ‏.‏
Narrated Ibrahim:The companions of `Abdullah (bin Mas`ud) came to Abu Darda', (and before they arrived at his home), he looked for them and found them. Then he asked them,: 'Who among you can recite (Qur'an) as `Abdullah recites it?" They replied, "All of us." He asked, "Who among you knows it by heart?" They pointed at 'Alqama. Then he asked Alqama. "How did you hear `Abdullah bin Mas`ud reciting Surat Al-Lail (The Night)?" Alqama recited: 'By the male and the female.' Abu Ad-Darda said, "I testify that I heard me Prophet reciting it likewise, but these people want me to recite it:-- 'And by Him Who created male and female.' but by Allah, I will not follow them
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کچھ شاگرد ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں ( شام ) آئے انہوں نے انہیں تلاش کیا اور پا لیا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں کون عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآت کے مطابق قرآت کر سکتا ہے؟ شاگروں نے کہا کہ ہم سب کر سکتے ہیں۔ پھر پوچھا کسے ان کی قرآت زیادہ محفوظ ہے؟ سب نے علقمہ کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے دریافت کیا انہیں سورۃ «والليل إذا يغشى‏» کی قرآت کرتے کس طرح سنا ہے؟ علقمہ نے کہا کہ «والذكر والأنثى‏» ( بغیر خلق کے ) کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح قرآت کرتے ہوئے سنا ہے۔ لیکن یہ لوگ ( یعنی شام والے ) چاہتے ہیں کہ «وما خلق الذكر والأنثى‏» پڑھوں۔ اللہ کی قسم میں ان کی پیروی نہیں کروں گا۔