Narrated by Ibn Abu Mulaika
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ لاَ تَسْمَعُ شَيْئًا لاَ تَعْرِفُهُ إِلاَّ رَاجَعَتْ فِيهِ حَتَّى تَعْرِفَهُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ ". قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَوَ لَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} قَالَتْ فَقَالَ " إِنَّمَا ذَلِكَ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِكْ ".
Narrated Ibn Abu Mulaika:Whenever `Aisha (the wife of the Prophet) heard anything which she did not understand, she used to ask again till she understood it completely. Aisha said: "Once the Prophet (ﷺ) said, "Whoever will be called to account (about his deeds on the Day of Resurrection) will surely be punished." I said, "Doesn't Allah say: "He surely will receive an easy reckoning." (84.8) The Prophet (ﷺ) replied, "This means only the presentation of the accounts but whoever will be argued about his account, will certainly be ruined
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں نافع بن عمر نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی ایسی باتیں سنتیں جس کو سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ اس کو معلوم کرتیں تاکہ سمجھ لیں۔ چنانچہ ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ( یہ سن کر ) میں نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف ( اللہ کے دربار میں ) پیشی کا ذکر ہے۔ لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی ( سمجھو ) وہ غارت ہو گیا۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا الاِسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ ـ قَالَ ـ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) used to teach us the way of doing Istikhara (Istikhara means to ask Allah to guide one to the right sort of action concerning any job or a deed), in all matters as he taught us the Suras of the Qur'an. He said, "If anyone of you thinks of doing any job he should offer a two rak`at prayer other than the compulsory ones and say (after the prayer): -- 'Allahumma inni astakhiruka bi'ilmika, Wa astaqdiruka bi-qudratika, Wa as'alaka min fadlika Al-`azlm Fa-innaka taqdiru Wala aqdiru, Wa ta'lamu Wala a'lamu, Wa anta 'allamu l-ghuyub. Allahumma, in kunta ta'lam anna hadha-lamra Khairun li fi dini wa ma'ashi wa'aqibati `Amri (or 'ajili `Amri wa'ajilihi) Faqdirhu wa yas-sirhu li thumma barik li Fihi, Wa in kunta ta'lamu anna hadha-lamra shar-run li fi dini wa ma'ashi wa'aqibati `Amri (or fi'ajili `Amri wa ajilihi) Fasrifhu anni was-rifni anhu. Waqdir li al-khaira haithu kana Thumma ardini bihi.' (O Allah! I ask guidance from Your knowledge, And Power from Your Might and I ask for Your great blessings. You are capable and I am not. You know and I do not and You know the unseen. O Allah! If You know that this job is good for my religion and my subsistence and in my Hereafter--(or said: If it is better for my present and later needs)--Then You ordain it for me and make it easy for me to get, And then bless me in it, and if You know that this job is harmful to me In my religion and subsistence and in the Hereafter--(or said: If it is worse for my present and later needs)--Then keep it away from me and let me be away from it. And ordain for me whatever is good for me, And make me satisfied with it). The Prophet (ﷺ) added that then the person should name (mention) his need
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ شَهِدْنَا بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ ـ قَالَ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ قَالَ ـ فَقَالَ " هَلْ مِنْكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ ". فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَنَا. قَالَ " فَانْزِلْ ". قَالَ فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا.
Narrated Anas bin Malik:We were (in the funeral procession) of one of the daughters of the Prophet (ﷺ) and he was sitting by the side of the grave. I saw his eyes shedding tears. He said, "Is there anyone among you who did not have sexual relations with his wife last night?" Abu Talha replied in the affirmative. And so the Prophet told him to get down in the grave. And so he got down in her grave
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ( ام کلثوم رضی اللہ عنہا ) کے جنازہ میں حاضر تھے۔ ( وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ جن کا 5 ھ میں انتقال ہوا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر میں تم اترو۔ چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلاَّ مَلَكَانِ يَنْزِلاَنِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Every day two angels come down from Heaven and one of them says, 'O Allah! Compensate every person who spends in Your Cause,' and the other (angel) says, 'O Allah! Destroy every miser
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے بھائی ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے ‘ ان سے ابوالحباب سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! «ممسك» اور بخیل کے مال کو تلف کر دے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْمٍ بِالْيَمَنِ فَجِئْتُ وَهْوَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ ". قُلْتُ أَهْلَلْتُ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلْ مَعَكَ مِنْ هَدْىٍ ". قُلْتُ لاَ. فَأَمَرَنِي فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَحْلَلْتُ فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي، أَوْ غَسَلَتْ رَأْسِي، فَقَدِمَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ قَالَ اللَّهُ {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ} وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْىَ.
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) sent me to some people in Yemen and when I returned, I found him at Al-Batha. He asked me, "With what intention have you assumed Ihram (i.e. for Hajj or for Umra or for both?") I replied, "I have assumed Ihram with an intention like that of the Prophet." He asked, "Have you a Hadi with you?" I replied in the negative. He ordered me to perform Tawaf round the Ka`ba and between Safa and Marwa and then to finish my Ihram. I did so and went to a woman from my tribe who combed my hair or washed my head. Then, when `Umar came (i.e. became Caliph) he said, "If we follow Allah's Book, it orders us to complete Hajj and Umra; as Allah says: "Perform the Hajj and Umra for Allah." (2.196). And if we follow the tradition of the Prophet (ﷺ) who did not finish his Ihram till he sacrificed his Hadi
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے پاس یمن بھیجا تھا۔ جب ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطحاء میں ملاقات ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس کا احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا باندھا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ قربانی ہے؟ میں نے عرض کی کہ نہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں بیت اللہ کا طواف، صفا اور مروہ کی سعی کروں چنانچہ میں اپنی قوم کی ایک خاتون کے پاس آیا۔ انہوں نے میرے سر کا کنگھا کیا یا میرا سر دھویا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ کی کتاب پر عمل کریں تو وہ یہ حکم دیتی ہے کہ حج اور عمرہ پورا کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اور حج اور عمرہ پورا کرو اللہ کی رضا کے لیے۔“ اور اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی سے فراغت نہیں حاصل فرمائی۔
Narrated by Zaid bin Khalid
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنْ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ـ رضى الله عنه ـ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ فَلَمْ يُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ. قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا، وَالزُّبَيْرَ، وَطَلْحَةَ، وَأُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ ـ رضى الله عنهم ـ فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ.
Narrated Zaid bin Khalid:I asked `Uthman bin `Affan about a person who engaged in intercourse but did no discharge. `Uthman replied, "He should perform ablution like the one for an ordinary prayer but he must wash his penis." `Uthman added, "I heard it from Allah's Messenger (ﷺ)." I asked `Ali Az-Zubair, Talha and Ubai bin Ka`b about it and they, too, gave the same reply. (This order was canceled later on and taking a bath became necessary for such cases)
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ عطاء بن یسار سے نقل کرتے ہیں، انہیں زید بن خالد نے خبر دی کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص صحبت کرے اور منی نہ نکلے۔ فرمایا کہ وضو کرے جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے اور اپنے عضو کو دھولے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( یہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ( زید بن خالد کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے اس کے بارے میں علی، زبیر، طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا۔ سب نے اس شخص کے بارے میں یہی حکم دیا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالَ " مَا بَالُ هَذَا ". قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ. قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ ". وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) saw an old man walking, supported by his two sons, and asked about him. The people informed him that he had vowed to go on foot (to the Ka`ba). He said, "Allah is not in need of this old man's torturing himself," and ordered him to ride
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہمیں مروان فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کا سہارا لیے چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان صاحب کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے کعبہ کو پیدل چلنے کی منت مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے کہ یہ اپنے کو تکلیف میں ڈالیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سوار ہونے کا حکم دیا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ، وَهْوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهْوَ صَائِمٌ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) was cupped while he was in the state of Ihram, and also while he was observing a fast
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، ان سے وہیب نے، وہ ایوب سے، وہ عکرمہ سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام میں اور روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔
Narrated by Is-haq bin `Abdullah bin Abu Talha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُبْزًا وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَىِ الْقَصْعَةِ ـ قَالَ ـ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ.
Narrated 'Is-haq bin `Abdullah bin Abu Talha:I heard Anas bin Malik saying, "A tailor invited Allah's Messenger (ﷺ) to a meal which he had prepared. " Anas bin Malik said, "I accompanied Allah's Messenger (ﷺ) to that meal. He served the Prophet (ﷺ) with bread and soup made with gourd and dried meat. I saw the Prophet (ﷺ) taking the pieces of gourd from the dish." Anas added, "Since that day I have continued to like gourd
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا میں بھی اس دعوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا۔ اس درزی نے روٹی اور شوربا جس میں کدو اور بھنا ہوا گوشت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے قتلے پیالے میں تلاش کر رہے تھے۔ اسی دن سے میں بھی برابر کدو کو پسند کرتا ہوں۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ باب الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ قَالَ " إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ". ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، وَقَالَ أَكَسَوْتَنِيهَا وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ. فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ". فَكَسَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا.
Narrated `Abdullah bin `Umar:`Umar bin Al-Khattab saw a silken dress (cloak) being sold at the gate of the Mosque and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Would that you buy it and wear it on Fridays and when the delegates come to you!" Allah's Messenger (ﷺ) said, "This is worn by the one who will have no share in the Hereafter." Later on some silk dresses were brought and Allah's Messenger (ﷺ) sent one of them to `Umar. `Umar said, "How do you give me this to wear while you said what you said about the dress of 'Utarid?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have not given it to you to wear." So, `Umar gave it to a pagan brother of his in Mecca
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ ( فروخت ہو رہا ) ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے ( ریشمی ) حلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلہ ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا، جو مکے میں رہتا تھا۔
Narrated by Sa`id bin Jubair
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلَنِي يَهُودِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ أَىَّ الأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى قُلْتُ لاَ أَدْرِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى حَبْرِ الْعَرَبِ فَأَسْأَلَهُ. فَقَدِمْتُ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ قَضَى أَكْثَرَهُمَا وَأَطْيَبَهُمَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَالَ فَعَلَ.
Narrated Sa`id bin Jubair:A Jew from Hira asked me which one of the two periods Musa (i.e. Prophet Moses) completed. I said, "I don't know, (but wait) till I see the most learned 'Arab and inquire him about it." So, I went to Ibn `Abbas and asked him. He replied, "Moses completed the longer and better period." Ibn `Abbas added, "No doubt, an apostle of Allah always does what he says
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی، ان سے مروان بن شجاع نے بیان کیا، ان سے سالم افطس نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ حیرہ کے یہودی نے مجھ سے پوچھا، موسیٰ علیہ السلام نے ( اپنے مہر کے ادا کرنے میں ) کون سی مدت پوری کی تھی؟ ( یعنی آٹھ سال کی یا دس سال کی، جن کا قرآن میں ذکر ہے ) میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، ہاں! عرب کے بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ لوں ( تو پھر تمہیں بتا دوں گا ) چنانچہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے بڑی مدت پوری کی ( دس سال کی ) جو دونوں مدتوں میں بہتر تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب کسی سے وعدہ کرتے تو پورا کرتے تھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Five are regarded as martyrs: They are those who die because of plague, Abdominal disease, drowning or a falling building etc., and the martyrs in Allah's Cause
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں سمی نے ‘ انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں ہلاک ہونے والا ‘ پیٹ کی بیماری میں ہلاک ہونے والا ‘ ڈوب کر مرنے والا ‘ دب کر مر جانے والا اور اللہ کے راستے میں شہادت پانے والا۔“
Narrated by Ubai bin Ka`b
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ قَالَ " يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْغَسْلُ أَحْوَطُ، وَذَاكَ الآخِرُ، وَإِنَّمَا بَيَّنَّا لاِخْتِلاَفِهِمْ.
Narrated Ubai bin Ka`b:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about a man who engages in sexual intercourse with his wife but does not discharge. He replied, "He should wash the parts which comes in contact with the private parts of the woman, perform ablution and then pray." (Abu `Abdullah said, "Taking a bath is safer and is the last order)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام بن عروہ سے، کہا مجھے خبر دی میرے والد نے، کہا مجھے خبر دی ابوایوب نے، کہا مجھے خبر دی ابی بن کعب نے کہ انھوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا اسے دھو لے پھر وضو کرے اور نماز پڑھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا غسل میں زیادہ احتیاط ہے اور یہ آخری احادیث ہم نے اس لیے بیان کر دیں ( تاکہ معلوم ہو جائے کہ ) اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور پانی ( سے غسل کر لینا ہی ) زیادہ پاک کرنے والا ہے۔ ( نوٹ: یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا ) ۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ قَدْ جَاءَنِي مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". فَلَمْ يَجِئْ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا. فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا. فَحَثَا لِي ثَلاَثًا ـ وَجَعَلَ سُفْيَانُ يَحْثُو بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ لَنَا هَكَذَا قَالَ لَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ـ وَقَالَ مَرَّةً فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَسَأَلْتُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقُلْتُ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي. قَالَ قُلْتَ تَبْخَلُ عَلَىَّ مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلاَّ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ. قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ فَحَثَا لِي حَثْيَةً وَقَالَ عُدَّهَا. فَوَجَدْتُهَا خَمْسَمِائَةٍ قَالَ فَخُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ. وَقَالَ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ وَأَىُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ
Narrated Jabir:Allah's Messenger (ﷺ) said (to me), "If the property of Bahrain had come to us, I would have given you so much and so much." But the Bahrain property did not come till the Prophet (ﷺ) had died. When the Bahrain property came. Abu Bakr ordered somebody to announce, "Any person who has money claim on Allah's Messenger (ﷺ) or whom Allah's Messenger (ﷺ) had promised something, should come to us." So, I went to him and said, "Allah's Messenger (ﷺ) had promised to give me so much an so much." Abu Bakr scooped up money with both hands thrice for me." (The sub-narrator Sufyan illustrated this action by scooping up with both hands and said, "Ibn Munkadir, another sub-narrator, used to illustrate it in this way.") Narrated Jabir: Once I went to Abu Bakr and asked for the money but he did not give me, and I went to him again, but he did not give me, so I went to him for the third time and said, "I asked you, but you did not give me; then I asked you (for the second time) and you did not give me; then I asked you (for the third time) but you did not give me. You should either give me or allow yourself to be considered a miser regarding my case." Abu Bakr said, "You tell me that I am a miser with regard to you. But really, whenever I rejected your request, I had the inclination to give you." (In another narration Jabir added:) So, Abu Bakr scooped up money with both hands for me and asked me to count it. I found out that It was five hundred. Abu Bakr told me to take twice that amount
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ کہا ہم سے محمد بن منکدر نے ‘ اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب بحرین سے وصول ہو کر میرے پاس مال آئے گا تو میں تمہیں اس طرح اس طرح ‘ اس طرح ( تین لپ ) دوں گا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور بحرین کا مال اس وقت تک نہ آیا۔ پھر جب وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے منادی نے اعلان کیا کہ جس کا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا آپ کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ چنانچہ انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دیا۔ سفیان بن عیینہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے ( لپ بھرنے کی ) کیفیت بتائی پھر ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ابن منکدر نے بھی ہم سے اسی طرح بیان کیا تھا۔ اور ایک مرتبہ سفیان نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ پھر میں حاضر ہوا ‘ اور اس مرتبہ بھی مجھے انہوں نے کچھ نہیں دیا۔ پھر میں تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک مرتبہ آپ سے مانگا اور آپ نے عنایت نہیں فرمایا۔ دوبارہ مانگا ‘ پھر بھی آپ نے عنایت نہیں فرمایا اور پھر مانگا لیکن آپ نے عنایت نہیں فرمایا۔ اب یا آپ مجھے دیجئیے یا پھر میرے بارے میں بخل سے کام لیجئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ میرے معاملے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ حالانکہ تمہیں دینے سے جب بھی میں نے منہ پھیرا تو میرے دل میں یہ بات ہوتی تھی کہ تمہیں کبھی نہ کبھی دینا ضرور ہے۔، سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر نے ‘ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا اور فرمایا کہ اسے شمار کر میں نے شمار کیا تو پانچ سو کی تعداد تھی ‘ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اتنا ہی دو مرتبہ اور لے لے۔ اور ابن المنکدر نے بیان کیا ( کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ) بخل سے زیادہ بدترین اور کیا بیماری ہو سکتی ہے۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ، وَلَكِنْ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ، وَخَلْقُهُ سَادٌّ مَا بَيْنَ الأُفُقِ.
Narrated Aisha:Whoever claimed that (the Prophet) Muhammad saw his Lord, is committing a great fault, for he only saw Gabriel in his genuine shape in which he was created covering the whole horizon
ہم سے محمد بن عبداللہ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، کہا ہم کو قاسم نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا تو اس نے بڑی جھوٹی بات زبان سے نکالی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ( معراج کی رات میں ) ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا۔ ان کے وجود نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَيَقُولُ " إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ، أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) used to seek Refuge with Allah for Al-Hasan and Al-Husain and say: "Your forefather (i.e. Abraham) used to seek Refuge with Allah for Ishmael and Isaac by reciting the following: 'O Allah! I seek Refuge with Your Perfect Words from every devil and from poisonous pests and from every evil, harmful, envious eye
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے منہال نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے پناہ طلب کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے بزرگ دادا ( ابراہیم علیہ السلام ) بھی ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ اسماعیل اور اسحاق علیہ السلام کے لیے مانگا کرتے تھے۔ «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة، ومن كل عين لامة» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهْوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ. وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ مِثْلَهُ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) died when he was sixty three years old
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے اسی طرح بیان کیا۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ باب الْحَائِطِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ". فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ". فَإِذَا عُمَرُ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَسَكَتَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى سَتُصِيبُهُ ". فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، بِنَحْوِهِ، وَزَادَ فِيهِ عَاصِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ قَاعِدًا فِي مَكَانٍ فِيهِ مَاءٌ، قَدِ انْكَشَفَتْ عَنْ رُكْبَتَيْهِ أَوْ رُكْبَتِهِ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهَا.
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) entered a garden and ordered me to guard its gate. A man came and asked permission to enter. The Prophet (ﷺ) said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was Abu Bakr. Another man came and asked the permission to enter. The Prophet (ﷺ) said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was `Umar. Then another man came, asking the permission to enter. The Prophet (ﷺ) kept silent for a short while and then said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise with a calamity which will befall him." Behold! It was `Uthman bin `Affan. `Asim, in another narration, said that the Prophet (ﷺ) was sitting in a place where there was water, and he was uncovering both his knees or his knee, and when `Uthman entered, he covered them (or it)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ ( بئراریس ) کے اندر تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں دروازہ پر پہرہ دیتا رہوں۔ پھر ایک صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر دوسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری سنا دو، وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر تیسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے پھر فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور ( دنیا میں ) ایک آزمائش سے گزرنے کے بعد جنت کی بشارت بھی سنا دو، وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ہم سے عاصم احول اور علی بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان سے سنا اور وہ ابوموسیٰ سے اسی طرح بیان کرتے تھے، لیکن عاصم نے اپنی اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے جس کے اندر پانی تھا اور آپ اپنے دونوں گھٹنے یا ایک گھٹنہ کھولے ہوئے تھے لیکن جب عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ نے اپنے گھٹنے کو چھپا لیا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ.
Narrated Abu Huraira: Gabriel came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is Khadija coming to you with a dish having meat soup (or some food or drink). When she reaches you, greet her on behalf of her Lord (i.e. Allah) and on my behalf, and give her the glad tidings of having a Qasab palace in Paradise wherein there will be neither any noise nor any fatigue (trouble)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ! خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک برتن لیے آ رہی ہیں جس میں سالن یا ( فرمایا ) کھانا یا ( فرمایا ) پینے کی چیز ہے جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئیے گا اور میری طرف سے بھی! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئیے گا جہاں نہ شور و ہنگامہ ہو گا اور نہ تکلیف و تھکن ہو گی۔
قَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سَأَلَ مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْعَبْدِ وَمَالَهُ فَقَالَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلاَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَهُوَ الْمُسْلِمُ، لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِ، وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ.
Narrated Maimun bin Siyah that he asked Anas bin Malik, "O Abu Hamza! What makes the life and property of a person sacred?" He replied, "Whoever says, 'None has the right to be worshipped but Allah', faces our Qibla during the prayers, prays like us and eats our slaughtered animal, then he is a Muslim, and has got the same rights and obligations as other Muslims have
ابن ابی مریم نے کہا، ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے حدیث بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر کے حدیث بیان کی۔ علی بن عبداللہ بن مدینی نے فرمایا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میمون بن سیاہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! آدمی کی جان اور مال پر زیادتی کو کیا چیزیں حرام کرتی ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے۔ پھر اس کے وہی حقوق ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں اور اس کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو عام مسلمانوں پر ہیں۔
Narrated by Mu`adh
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ، أَنَّ مَلَكًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. وَعَنْ يَحْيَى، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْهَادِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ يَوْمَ حَدَّثَهُ مُعَاذٌ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ يَزِيدُ فَقَالَ مُعَاذٌ إِنَّ السَّائِلَ هُوَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ.
Narrated Mu`adh:The one who asked (the Prophet) was Gabriel (refer to Hadith)
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی اور انہوں نے معاذ بن رفاعہ سے سنا کہ ایک فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ یزید بن ہاد نے انہیں خبر دی کہ جس دن معاذ بن رفاعہ نے ان سے یہ حدیث بیان کی تھی تو وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ یزید نے بیان کیا کہ معاذ نے کہا تھا کہ پوچھنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ، ثُمَّ يَقِفَ بِهَا ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}
Narrated `Aisha:The Quraish people and those who embraced their religion, used to stay at Muzdalifa and used to call themselves Al-Hums, while the rest of the Arabs used to stay at `Arafat. When Islam came, Allah ordered His Prophet to go to `Arafat and stay at it, and then pass on from there, and that is what is meant by the Statement of Allah:--"Then depart from the place whence all the people depart
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن حازم نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ قریش اور ان کے طریقے کی پیروی کرنے والے عرب ( حج کے لیے ) مزدلفہ میں ہی وقوف کیا کرتے تھے، اس کا نام انہوں الحمس رکھا تھا اور باقی عرب عرفات کے میدان میں وقوف کرتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ عرفات میں آئیں اور وہیں وقوف کریں اور پھر وہاں سے مزدلفہ آئیں۔ آیت «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» سے یہی مراد ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمْ يَأْذَنِ اللَّهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ". وَقَالَ صَاحِبٌ لَهُ يُرِيدُ يَجْهَرُ بِهِ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah does not listen to a prophet as He listens to a prophet who recites the Qur'an in a pleasant tone." The companion of the sub-narrator (Abu Salama) said, "It means, reciting it aloud
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے کوئی چیز اتنی توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن بہترین آواز کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا ایک دوست عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کہتا تھا کہ اس حدیث میں «يتغنى بالقرآن» سے یہ مراد ہے کہ اچھی آواز سے اسے پکار کر پڑھے۔
Narrated by Um Habiba
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ. قَالَ " وَتُحِبِّينَ ". قُلْتُ نَعَمْ، لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ".
Narrated Um Habiba:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Marry my sister, the daughter of Abu Sufyan." He said, "Do you like that?" I said, "Yes, for even now I am not your only wife; and the most beloved person to share the good with me is my sister." The Prophet (ﷺ) said, "But that is not lawful for me (i.e., to be married to two sisters at a time.)" I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, we have heard that you want to marry Durra, the daughter of Abu Salama." He said, "You mean the daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "By Allah ! Even if she were not my stepdaughter, she would not be lawful for me to marry, for she is my foster niece, for Thuwaiba has suckled me and Abu Salama; so you should neither present your daughters, nor your sisters to me
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن ( غرہ ) بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تمہیں بھی پسند ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں کوئی میں تنہا تو ہوں نہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی سے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا اللہ کی قسم اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔ ( اس لیے وہ میری رضاعی بھتیجی ہو گئی ) تم لوگ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔
Narrated by An-Nu'man bin Bashir
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْحَلاَلُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِيِنِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ. أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلاَ إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ، أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ. أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ ".
Narrated An-Nu'man bin Bashir: I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'Both legal and illegal things are evident but in between them there are doubtful (suspicious) things and most of the people have no knowledge about them. So whoever saves himself from these suspicious things saves his religion and his honor. And whoever indulges in these suspicious things is like a shepherd who grazes (his animals) near the Hima (private pasture) of someone else and at any moment he is liable to get in it. (O people!) Beware! Every king has a Hima and the Hima of Allah on the earth is His illegal (forbidden) things. Beware! There is a piece of flesh in the body if it becomes good (reformed) the whole body becomes good but if it gets spoilt the whole body gets spoilt and that is the heart
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے، انہوں نے عامر سے، کہا میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی کھلا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے ( کہ حلال ہیں یا حرام ) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو ( شاہی محفوظ ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے ( اور شاہی مجرم قرار پائے ) سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ ( پس ان سے بچو اور ) سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْفِتْنَةُ مِنْ هَا هُنَا ". وَأَشَارَ إِلَى الْمَشْرِقِ.
Narrated Ibn `Umar:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Afflictions will emerge from here," pointing towards the East
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ، إِلاَّ أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ ".
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) that whenever one of her relatives died, the women assembled and then dispersed (returned to their houses) except her relatives and close friends. She would order that a pot of Talbina be cooked. Then Tharid (a dish prepared from meat and bread) would be prepared and the Talbina would be poured on it. `Aisha would say (to the women),"Eat of it, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'The Talbina soothes the heart of the patient and relieves him from some of his sadness
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل بن خالد نے، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں۔ صرف گھر والے اور خاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں۔ وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا۔ پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے۔
Narrated by Asma
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلْنَاهُ.
Narrated Asma':We slaughtered a horse during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and ate it
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے فاطمہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے کھایا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ شِمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ " الأَيْمَنَ الأَيْمَنَ ".
Narrated Anas bin Malik:Milk mixed with water was brought to Allah's Messenger (ﷺ) while a bedouin was on his right and Abu Bakr was on his left. He drank (of it) and then gave (it) to the bedouin and said, 'The right" "The right (first)
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی ملا ہوا دودھ پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف ایک دیہاتی تھا اور بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر باقی دیہاتی کو دیا اور فرمایا کہ دائیں طرف سے، پس دائیں طرف سے۔
Narrated by Abu Barza
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا.
Narrated Abu Barza:Allah's Messenger (ﷺ) disliked to sleep before the `Isha' prayer and to talk after it
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ابوالمنہال سے، انہوں نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
Narrated by `Abdullah bin 'Amir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ عُمَرَ، خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ، فَلَمَّا كَانَ بِسَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّأْمِ، فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ".
Narrated `Abdullah bin 'Amir:`Umar went to Sham and when he reached Sargh, he got the news that an epidemic (of plague) had broken out in Sham. `Abdur-Rahman bin `Auf told him that Allah's Messenger (ﷺ) said, "If you hear that it (plague) has broken out in a land, do not go to it; but if it breaks out in a land where you are present, do not go out escaping from it
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبداللہ بن عامر نے کہ عمر رضی اللہ عنہ شام کے لیے روانہ ہوئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم وبا کے متعلق سنو کہ وہ کسی جگہ ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے بھی مت بھاگو ( وبا میں طاعون، ہیضہ وغیرہ سب داخل ہیں ) ۔
Narrated by Aba `Uthman An-Nahdi
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ، إِلاَّ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الإِبْهَامَ قَالَ فِيمَا عَلِمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الأَعْلاَمَ.
Narrated Aba `Uthman An-Nahdi:While we were with `Utba bin Farqad at Adharbijan, there came `Umar's letter indicating that Allah's Apostle had forbidden the use of silk except this much, then he pointed with his index and middle fingers. To our knowledge, by that he meant embroidery
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا کہ میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب ( خط ) آیا ہم اس وقت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذر بائیجان میں تھے ( اس میں لکھا تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے استعمال سے ( مردوں کو ) منع کیا ہے سوا اتنے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کے قریب کی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے اس کی مقدار بتائی۔ ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ ہماری سمجھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس سے ( کپڑے وغیرہ ریشم کے ) پھول بوٹے بنانے سے تھی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا زَالَ يُوصِينِي جِبْرِيلُ بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said "Gabriel continued to recommend me about treating the neighbors Kindly and politely so much so that I thought he would order me to make them as my heirs
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد نے خبر دی، انہیں عمرہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں باربار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ دَعَا النَّاسَ طَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ ـ قَالَ ـ فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مَعَهُ مِنَ النَّاسِ، وَبَقِيَ ثَلاَثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا ـ قَالَ ـ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا}.
Narrated Anas bin Malik:When Allah's Messenger (ﷺ) married Zainab bint Jahsh, he invited the people who took their meals and then remained sitting and talking. The Prophet (ﷺ) pretended to be ready to get up, but the people did not get up. When he noticed that, he got up, and when he had got up, some of those people got up along with him and there remained three (who kept on sitting). Then the Prophet (ﷺ) came back and found those people still sitting. Later on those people got up and went away. So I went to the Prophet (ﷺ) and informed him that they had left. The Prophet (ﷺ) came, and entered (his house). I wanted to enter(along with him) but he dropped a curtain between me and him. Allah then revealed: 'O you who believe! Do not enter the Prophet's Houses until leave is given... (to His statement)... Verily! That shall be an enormity, in Allah's sight
ہم سے حسن بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، وہ ابومجلز (حق بن حمید) سے بیان کرتے تھے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں۔ لیکن لوگ ( پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے ) پھر بھی کھڑے نہیں ہوئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لیے تشریف لائے لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں آیا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ ( تین آدمی ) بھی جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم» اے ایمان والو! نبی کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے۔“ ارشاد ہوا «إن ذلكم كان عند الله عظيما» تک۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهْوَ صَحِيحٌ " لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ ". فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي، غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ". قُلْتُ إِذًا لاَ يَخْتَارُنَا، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا، وَهْوَ صَحِيحٌ. قَالَتْ فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ".
Narrated `Aisha:When Allah's Messenger (ﷺ) was healthy, he used to say, "No prophet dies till he is shown his place in Paradise, and then he is given the option (to live or die)." So when death approached him(during his illness), and while his head was on my thigh, he became unconscious for a while, and when he recovered, he fixed his eyes on the ceiling and said, "O Allah! (Let me join) the Highest Companions (see Qur'an 4:69)," I said, "So, he does not choose us." Then I realized that it was the application of the statement he used to relate to us when he was healthy. So that was his last utterance (before he died), i.e. "O Allah! (Let me join) the Highest Companions
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے علم والوں کے سامنے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار نہیں تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی جاتی تو پہلے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے، اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے ( کہ چاہیں دنیا میں رہیں یا جنت میں چلیں ) چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وقت آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی طاری ہوئی۔ پھر جب آپ کو اس سے کچھ ہوش ہوا تو چھت کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے، پھر فرمایا «اللهم الرفيق الأعلى» ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔“ میں نے سمجھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب ہمیں اختیار نہیں کر سکتے، میں سمجھ گئی کہ جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحت کے زمانے میں بیان فرمایا کرتے تھے، یہ وہی بات ہے۔ بیان کیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے زبان سے ادا فرمایا کہا «اللهم الرفيق الأعلى» ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَدَمٍ، وَحَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ.
Narrated `Aisha:The bed mattress of the Prophet (ﷺ) was made of a leather case stuffed with palm fibres
مجھ سے احمد بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
Narrated by Abu Salama bin `Abdur Rahman
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَفْضُلُ صَلاَةُ الْجَمِيعِ صَلاَةَ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا، وَتَجْتَمِعُ مَلاَئِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}
Narrated Abu Salama bin `Abdur Rahman:Abu Huraira said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'The reward of a prayer in congregation is twenty five times greater than that of a prayer offered by a person alone. The angels of the night and the angels of the day gather at the time of Fajr prayer.' " Abu Huraira then added, "Recite the Holy Book if you wish, for "Indeed, the recitation of the Qur'an in the early dawn (Fajr prayer) is ever witnessed." (17:)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا،، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب نے، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جماعت سے نماز اکیلے پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے۔ اور رات دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم پڑھنا چاہو تو ( سورۃ بنی اسرائیل ) کی یہ آیت پڑھو «إن قرآن الفجر كان مشهودا» یعنی فجر میں قرآن پاک کی تلاوت پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ " ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ". فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ " وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ". قَالَ فِي الثَّالِثَةِ فَأَعْلِمْنِي. قَالَ " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ، سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا ".
Narrated Abu Huraira:A man entered the mosque and started praying while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting somewhere in the mosque. Then (after finishing the prayer) the man came to the Prophet (ﷺ) and greeted him. The Prophet (ﷺ) said to him, "Go back and pray, for you have not prayed. The man went back, and having prayed, he came and greeted the Prophet. The Prophet (ﷺ) after returning his greetings said, "Go back and pray, for you did not pray." On the third time the man said, "(O Allah's Messenger (ﷺ)!) teach me (how to pray)." The Prophet said, "When you get up for the prayer, perform the ablution properly and then face the Qibla and say Takbir (Allahu Akbar), and then recite of what you know of the Qur'an, and then bow, and remain in this state till you feel at rest in bowing, and then raise your head and stand straight; and then prostrate till you feel at rest in prostration, and then sit up till you feel at rest while sitting; and then prostrate again till you feel at rest in prostration; and then get up and stand straight, and do all this in all your prayers
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لِصَاحِبَتِهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ. وَقَالَتِ الأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ. فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا. فَقَالَتِ الصُّغْرَى لاَ تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ. هُوَ ابْنُهَا. فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلاَّ يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلاَّ الْمُدْيَةَ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There were two women with whom there were their two sons. A wolf came and took away the son of one of them. That lady said to her companion, 'The wolf has taken your son.' The other said, 'But it has taken your son.' So both of them sought the judgment of (the Prophet) David who judged that the boy should be given to the older lady. Then both of them went to (the Prophet) Solomon, son of David and informed him of the case. Solomon said, 'Give me a knife so that I may cut the child into two portions and give one half to each of you.' The younger lady said, 'Do not do so; may Allah bless you ! He is her child.' On that, he gave the child to the younger lady." Abu Huraira added: By Allah! I had never heard the word 'Sakkin' as meaning knife, except on that day, for we used to call it "Mudya
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، پھر بھیڑیا آیا اور ایک بچے کو اٹھا کر لے گیا اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، دوسری عورت نے کہا کہ وہ تو تیرا بچہ لے گیا ہے۔ وہ دونوں عورتیں اپنا مقدمہ داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ وہ دونوں نکل کر سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے پاس گئیں اور انہیں واقعہ کی اطلاع دی۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چھری لاؤ میں لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو ایک ایک دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے آپ پر اللہ رحم کرے، یہ بڑی ہی کا لڑکا ہے لیکن آپ علیہ السلام نے فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں نے «سكين» چھری کا لفظ سب سے پہلی مرتبہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ) اس دن سنا تھا اور ہم اس کے لیے ( اپنے قبیلہ میں ) «مدية.» کا لفظ بولتے تھے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدٌ وَابْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ". زَادَ لَنَا قُتَيْبَةُ عَنِ اللَّيْثِ " وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ".
Narrated `Aisha:Sa`d bin Abi Waqqas and `Abd bin Zam`a quarrelled with each other (regarding a child). The Prophet (ﷺ) said, "The boy is for you, O `Abd bin Zam`a, for the boy is for (the owner) of the bed. O Sauda ! Screen yourself from the boy." The sub-narrator, Al-Laith added (that the Prophet (ﷺ) also said), "And the stone is for the person who commits an illegal sexual intercourse
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں ( ایک بچے عبدالرحمٰن نامی میں ) اختلاف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عبد بن زمعہ! بچہ تو لے لے بچہ اسی کو ملے گا جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے وہ پیدا ہوا اور سودہ! تم اس سے پردہ کیا کرو۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قتیبہ نے لیث سے اس زیادہ کے ساتھ بیان کیا کہ زانی کے حصہ میں پتھر کی سزا ہے۔
Narrated by Hisham's father
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ عُمَرَ، نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي السِّقْطِ وَقَالَ الْمُغِيرَةُ أَنَا سَمِعْتُهُ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ. قَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا.
Narrated Hisham's father: 'Umar asked the people, "Who heard the Prophet (ﷺ) giving his verdict regarding abortions?" Al-Mughira said, "I heard him judging that a male or female slave should be given (as a Diya)." 'Umar said, "Present a witness to testify your statement." Muhammad bin Maslama said, "I testify that the Prophet (ﷺ) gave such a judgment
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رِجَالاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ، وَأَنَا غُلاَمٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَبَيْتِي الْمَسْجِدُ قَبْلَ أَنْ أَنْكِحَ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَوْ كَانَ فِيكَ خَيْرٌ لَرَأَيْتَ مِثْلَ مَا يَرَى هَؤُلاَءِ. فَلَمَّا اضْطَجَعْتُ لَيْلَةً قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي رُؤْيَا. فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَنِي مَلَكَانِ فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، يُقْبِلاَ بِي إِلَى جَهَنَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا أَدْعُو اللَّهَ اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهَنَّمَ. ثُمَّ أُرَانِي لَقِيَنِي مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ لَنْ تُرَاعَ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ لَوْ تُكْثِرُ الصَّلاَةَ. فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفُوا بِي عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ، لَهُ قُرُونٌ كَقَرْنِ الْبِئْرِ، بَيْنَ كُلِّ قَرْنَيْنِ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَأَرَى فِيهَا رِجَالاً مُعَلَّقِينَ بِالسَّلاَسِلِ، رُءُوسُهُمْ أَسْفَلَهُمْ، عَرَفْتُ فِيهَا رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ، فَانْصَرَفُوا بِي عَنْ ذَاتِ الْيَمِينِ. فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ ". فَقَالَ نَافِعٌ لَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ.
Narrated Ibn `Umar:Men from the companions of Allah's Messenger (ﷺ) used to see dreams during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and they used to narrate those dreams to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) would interpret them as Allah wished. I was a young man and used to stay in the mosque before my wedlock. I said to myself, "If there were any good in myself, I too would see what these people see." So when I went to bed one night, I said, "O Allah! If you see any good in me, show me a good dream." So while I was in that state, there came to me (in a dream) two angels. In the hand of each of them, there was a mace of iron, and both of them were taking me to Hell, and I was between them, invoking Allah, "O Allah! I seek refuge with You from Hell." Then I saw myself being confronted by another angel holding a mace of iron in his hand. He said to me, "Do not be afraid, you will be an excellent man if you only pray more often." So they took me till they stopped me at the edge of Hell, and behold, it was built inside like a well and it had side posts like those of a well, and beside each post there was an angel carrying an iron mace. I saw therein many people hanging upside down with iron chains, and I recognized therein some men from the Quraish. Then (the angels) took me to the right side. I narrated this dream to (my sister) Hafsa and she told it to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, `Abdullah is a good man." (Nafi` said, "Since then `Abdullah bin `Umar used to pray much)
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ". قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا. قَالَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِي نَجْدِنَا فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةَ " هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Bestow Your blessings on our Sham! O Allah! Bestow Your blessings on our Yemen." The People said, "And also on our Najd." He said, "O Allah! Bestow Your blessings on our Sham (north)! O Allah! Bestow Your blessings on our Yemen." The people said, "O Allah's Apostle! And also on our Najd." I think the third time the Prophet (ﷺ) said, "There (in Najd) is the place of earthquakes and afflictions and from there comes out the side of the head of Satan
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں؟ میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ. فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ ابْنُ أَخِي، قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي، كَانَ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ. وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ". ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ " احْتَجِبِي مِنْهُ "، لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى.
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) `Utba bin Abi Waqqas said to his brother Sa`d bin Abi Waqqas, "The son of the slave girl of Zam`a is from me, so take him into your custody." So in the year of Conquest of Mecca, Sa`d took him and said. (This is) my brother's son whom my brother has asked me to take into my custody." `Abd bin Zam`a got up before him and said, (He is) my brother and the son of the slave girl of my father, and was born on my father's bed." So they both submitted their case before Allah's Apostle. Sa`d said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This boy is the son of my brother and he entrusted him to me." `Abd bin Zam`a said, "This boy is my brother and the son of the slave girl of my father, and was born on the bed of my father." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The boy is for you, O `Abd bin Zam`a!" Then Allah's Apostle further said, "The child is for the owner of the bed, and the stone is for the adulterer," He then said to Sauda bint Zam`a, "Veil (screen) yourself before him," when he saw the child's resemblance to `Utba. The boy did not see her again till he met Allah
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی ( کا لڑکا ) میرا ہے۔ تم اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ چنانچہ فتح مکہ کے دن سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کے بارے میں انہوں نے وصیت کی تھی، پھر عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ چنانچہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے بھائی کا لڑکا ہے، انہوں نے مجھے اس کی وصیت کی تھی اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبد بن زمعہ! یہ تمہارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کرو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھ لی تھی۔ چنانچہ اس نے سودہ رضی اللہ عنہا کو موت تک نہیں دیکھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ، وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَمَا أَلْوَانُهَا ". قَالَ حُمْرٌ. قَالَ " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ". قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا. قَالَ " فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِرْقٌ نَزَعَهَا. قَالَ " وَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ ". وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنْهُ.
Narrated Abu Huraira:A bedouin came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "My wife has delivered a black boy, and I suspect that he is not my child." Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "Have you got camels?" The bedouin said, "Yes." The Prophet said, "What color are they?" The bedouin said, "They are red." The Prophet (ﷺ) said, "Are any of them Grey?" He said, "There are Grey ones among them." The Prophet (ﷺ) said, "Whence do you think this color came to them?" The bedouin said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It resulted from hereditary disposition." The Prophet (ﷺ) said, "And this (i.e., your child) has inherited his color from his ancestors." The Prophet (ﷺ) did not allow him to deny his paternity of the child
ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہیں۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ کہا کہ سرخ ہیں۔ پوچھا کہ ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ان میں خاکی بھی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ " أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ". قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا. لِسُوَرٍ سَمَّاهَا.
Narrated Sahl bin Sa`d:The Prophet (ﷺ) said to a man, "Have you got anything of the Qur'an?" The man said, "Yes, such-andsuch Sura, and such-and-such Sura," naming the Suras
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب سے پوچھا کیا آپ کو قرآن میں سے کچھ شے یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں فلاں فلاں سورتیں انہوں نے ان کے نام بتائے۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:One day the Prophet (ﷺ) sat on the pulpit and we sat around him
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحیی بن ابی کثیر سے بیان کیا، ان سے ہلال بن ابی میمونہ نے، انہوں نے کہا ہم سے عطاء بن یسار نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے۔