بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
64
2 hadith
Narrated by Hisham's father
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ سَيْرِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّتِهِ‏.‏ فَقَالَ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ‏.‏
Narrated Hisham's father:In my presence, Usama was asked about the speed of the Prophet (ﷺ) during his Hajj. He replied, "It was Al-`Anaq (i.e. moderate easy speed) and if he encountered an open space, he used to increase his speed
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( سفر میں ) رفتار کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیچ کی چال چلتے تھے اور جب کشادہ جگہ ملتی تو اس سے تیز چلتے تھے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ، عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ، تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَكُثْتُ سَنَةً فَلَمْ أَجِدْ لَهُ مَوْضِعًا، حَتَّى خَرَجْتُ مَعَهُ حَاجًّا، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرَانَ ذَهَبَ عُمَرُ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ أَدْرِكْنِي بِالْوَضُوءِ فَأَدْرَكْتُهُ بِالإِدَاوَةِ، فَجَعَلْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ مَوْضِعًا فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَا أَتْمَمْتُ كَلاَمِي حَتَّى قَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:I intended to ask `Umar about those two ladies who back each other against 'Allah's Messenger (ﷺ) . For one year I was seeking the opportunity to ask this question, but in vain, until once when I accompanied him for Hajj. While we were in Zahran, `Umar went to answer the call of nature and told me to follow him with some water for ablution. So I followed him with a container of water and started pouring water for him. I found it a good opportunity to ask him, so I said, "O chief of the Believers! Who were those two ladies who had backed each other (against the Prophet)?" Before I could complete my question, he replied, "They were `Aisha and Hafsa
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن انصاری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبید بن حنین سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے متعلق سوال کرنا چاہا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر زور کیا تھا۔ ایک سال اسی فکر میں رہا اور مجھے کوئی موقع نہیں ملتا تھا آخر ان کے ساتھ حج کے لیے نکلا ( واپسی میں ) جب ہم مقام ظہران میں تھے تو عمر رضی اللہ عنہ رفع حاجت کے لیے گئے۔ پھر کہا کہ میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں ایک برتن میں پانی لایا اور ان کو وضو کرانے لگا اس وقت مجھ کو موقع ملا۔ میں نے عرض کیا امیرالمؤمنین! وہ عورتیں کون تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل ایسا کیا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری نہ کی تھی انہوں نے کہا کہ وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔