بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
3
49 hadith
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏.‏ قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ‏.‏ فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ ‏"‏ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلاَثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلاَّ كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاثْنَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ وَاثْنَيْنِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Some women requested the Prophet (ﷺ) to fix a day for them as the men were taking all his time. On that he promised them one day for religious lessons and commandments. Once during such a lesson the Prophet said, "A woman whose three children die will be shielded by them from the Hell fire." On that a woman asked, "If only two die?" He replied, "Even two (will shield her from the Hell-fire)
ہم سے آدم نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابن الاصبہانی نے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے سنا، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ اٹھانے میں ) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے ( وعظ کے ) لیے ( بھی ) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور ( مناسب ) احکام سنائے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جو کوئی عورت تم میں سے ( اپنے ) تین ( لڑکے ) آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو ( بچے بھیج دے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور دو ( کا بھی یہ حکم ہے ) ۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ‏.‏
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to offer thirteen rak`at in the night prayer and on hearing the Adhan for the morning prayer, he used to offer two light rak`at
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ ‏"‏ اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ‏"‏‏.‏ قَالَتْ إِلَيْكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي، وَلَمْ تَعْرِفْهُ‏.‏ فَقِيلَ لَهَا إِنَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَأَتَتْ باب النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ لَمْ أَعْرِفْكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) passed by a woman who was weeping beside a grave. He told her to fear Allah and be patient. She said to him, "Go away, for you have not been afflicted with a calamity like mine." And she did not recognize him. Then she was informed that he was the Prophet (ﷺ) . so she went to the house of the Prophet (ﷺ) and there she did not find any guard. Then she said to him, "I did not recognize you." He said, "Verily, the patience is at the first stroke of a calamity
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ بولی جاؤ جی پرے ہٹو۔ یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی تھی۔ پھر جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اب وہ ( گھبرا کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر پہنچی۔ وہاں اسے کوئی دربان نہ ملا۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو پہچان نہ سکی تھی۔ ( معاف فرمائیے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو جب صدمہ شروع ہو اس وقت کرنا چاہیے ( اب کیا ہوتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، لَهَا أَجْرُهَا، وَلَهُ مِثْلُهُ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لَهُ بِمَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ‏"‏‏.‏
Narrate Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "If a woman gives in charity from her husband's house .." The Prophet (ﷺ) also said, "If a lady gives meals (in charity) from her husband's house without spoiling her husband's property, she will get a reward and her husband will also get a reward likewise. The husband will get a reward because of his earnings and the woman because of her spending
(دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل شقیق نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے کسی کو کھلائے اور اس کا ارادہ گھر کو بگاڑنے کا بھی نہ ہو تو اسے اس کا ثواب ملتا ہے اور شوہر کو بھی ویسا ہی ثواب ملتا ہے اور خزانچی کو بھی ویسا ہی ثواب ملتا ہے۔ شوہر کو کمانے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے۔
Narrated by Ata
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ ـ رضى الله عنه ـ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَذَكَرَ قَوْلَ سُرَاقَةَ‏.‏
Narrated Ata:Jabir said, "The Prophet (ﷺ) ordered `Ali to keep on assuming his Ihram." The narrator then informed about the narration of Suraqa
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ کہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں۔ انہوں نے سراقہ کا قول بھی ذکر کیا تھا۔ اور محمد بن ابی بکر نے ابن جریج سے یوں روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا علی! تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے عرض کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا احرام باندھا ہو ( اسی کا میں نے بھی باندھا ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قربانی کر اور اپنی اسی حالت پر احرام جاری رکھ۔
Narrated by `Abbad bin Tamim
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ‏"‏‏.‏
Narrated `Abbad bin Tamim:My uncle said: The Prophet (ﷺ) said, "One should not leave his prayer unless he hears sound or smells something
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے، وہ زہری سے، وہ عباد بن تمیم سے، وہ اپنے چچا سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نمازی نماز سے ) اس وقت تک نہ پھرے جب تک ( ریح کی ) آواز نہ سن لے یا اس کی بو نہ پا لے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ حَجَّتِهِ قَالَ لأُمِّ سِنَانٍ الأَنْصَارِيَّةِ ‏"‏ مَا مَنَعَكِ مِنَ الْحَجِّ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أَبُو فُلاَنٍ ـ تَعْنِي زَوْجَهَا ـ كَانَ لَهُ نَاضِحَانِ، حَجَّ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَالآخَرُ يَسْقِي أَرْضًا لَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً مَعِي ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) returned after performing his Hajj, he asked Um Sinan Al-Ansari, "What did forbid you to perform Hajj?" She replied, "Father of so-and-so (i.e. her husband) had two camels and he performed Hajj on one of them, and the second is used for the irrigation of our land." The Prophet (ﷺ) said (to her), "Perform `Umra in the month of Ramadan, (as it is equivalent to Hajj or Hajj with me (in reward)
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حبیب معلم نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سنان انصاریہ عورت رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی؟ انہوں نے عرض کی کہ فلاں کے باپ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے، اس روایت کو ابن جریج نے عطاء سے سنا، کہا انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عبیداللہ نے عبدالکریم سے روایت کیا، ان سے عطاء نے ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ فَمَكَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهَا تَمْرٌ ـ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ ـ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ خُذْهَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ـ يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ ـ أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:While we were sitting with the Prophet (ﷺ) a man came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have been ruined." Allah's Messenger (ﷺ) asked what was the matter with him. He replied "I had sexual intercourse with my wife while I was fasting." Allah's Messenger (ﷺ) asked him, "Can you afford to manumit a slave?" He replied in the negative. Allah's Messenger (ﷺ) asked him, "Can you fast for two successive months?" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) asked him, "Can you afford to feed sixty poor persons?" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) kept silent and while we were in that state, a big basket full of dates was brought to the Prophet (ﷺ) . He asked, "Where is the questioner?" He replied, "I (am here)." The Prophet (ﷺ) said (to him), "Take this (basket of dates) and give it in charity." The man said, "Should I give it to a person poorer than I? By Allah; there is no family between its (i.e. Medina's) two mountains who are poorer than I." The Prophet (ﷺ) smiled till his premolar teeth became visible and then said, 'Feed your family with it
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو تباہ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا بات ہوئی؟ اس نے کہا کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو؟ اس نے کہا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے عرض کی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت ہے؟ اس نے اس کا جواب بھی انکار میں دیا، راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر گئے، ہم بھی اپنی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بڑا تھیلا ( عرق نامی ) پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ عرق تھیلے کو کہتے ہیں ( جسے کھجور کی چھال سے بناتے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اسے لے لو اور صدقہ کر دو، اس شخص نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں، بخدا ان دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی بھی گھرانہ میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ہے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہنس پڑے کہ آپ کے آگے کے دانت دیکھے جا سکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اچھا جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ لأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُعَرِّفٍ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلاَّ الإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُفِ بُيُوتِنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عِكْرِمَةُ هَلْ تَدْرِي مَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا هُوَ أَنْ تُنَحِّيَهُ مِنَ الظِّلِّ، وَتَنْزِلَ مَكَانَهُ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ خَالِدٍ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah made Mecca a sanctuary and it was neither permitted for anyone before, nor will it be permitted for anyone after me (to fight in it). And fighting in it was made legal for me for a few hours of a day only. None is allowed to uproot its thorny shrubs or to cut down its trees or to chase its game or to pick up its Luqata (fallen things) except by a person who would announce it publicly." `Abbas bin `Abdul-Muttalib requested the Prophet, "Except Al-Idhkhir, for our goldsmiths and for the roofs of our houses." The Prophet (ﷺ) said, "Except Al-Idhkhir." `Ikrima said, "Do you know what is meant by chasing its game? It is to drive it out of the shade and sit in its place." Khalid said, "(`Abbas said: Al-Idhkhir) for our goldsmiths and our graves
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا،، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت ولا شہر قرار دیا ہے۔ یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ میرے لیے بھی ایک دن چند لمحات کے لیے حلال ہوا تھا۔ سو اب اس کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں، نہ اس کے شکار بھگائے جائیں، اور نہ اس میں کوئی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے۔ صرف «معرف» ( یعنی گمشدہ چیز کو اصل مالک تک اعلان کے ذریعہ پہنچانے والے ) کو اس کی اجازت ہے۔ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اذخر کے لیے اجازت دے دیجئیے، کہ یہ ہمارے سناروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے کام میں آتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر کی اجازت دے دی۔ عکرمہ نے کہا، یہ بھی معلوم ہے کہ حرم کے شکار کو بھگانے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ( کسی درخت کے سائے تلے اگر وہ بیٹھا ہوا ہو تو ) تم سائے سے اسے ہٹا کر خود وہاں بیٹھ جاؤ۔ عبدالوہاب نے خالد سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے کہ ( اذخر ) ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے کام میں آتی ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ، يُصَلِّي، فَجَاءَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ، فَأَبَى أَنْ يُجِيبَهَا، فَقَالَ أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي ثُمَّ أَتَتْهُ، فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ‏.‏ وَكَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لأَفْتِنَنَّ جُرَيْجًا‏.‏ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَكَلَّمَتْهُ فَأَبَى، فَأَتَتْ رَاعِيًا، فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلاَمًا، فَقَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ‏.‏ فَأَتَوْهُ، وَكَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ فَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أَتَى الْغُلاَمَ، فَقَالَ مَنْ أَبُوكَ يَا غُلاَمُ قَالَ الرَّاعِي‏.‏ قَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ قَالَ لاَ إِلاَّ مِنْ طِينٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There was an Israeli man called Juraij, while he was praying, his mother came and called him, but he did not respond to her call. He said (to himself) whether he should continue the prayer or reply to his mother. She came to him the second time and called him and said, "O Allah! Do not let him die until he sees the faces of prostitutes." Juraij used to live in a hermitage. A woman said that she would entice Juraij, so she went to him and presented herself (for an evil act) but he refused. She then went to a shepherd and allowed him to commit an illegal sexual intercourse with her and later she gave birth to a boy. She alleged that the baby was from Juraij. The people went to Juraij and broke down his hermitage, pulled him out of it and abused him. He performed ablution and offered the prayer, then he went to the male (baby) and asked him; "O boy! Who is your father?" The baby replied that his father was the shepherd. The people said that they would build for him a hermitage of gold but Juraij asked them to make it of mud only
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک صاحب تھے، جن کا نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی والدہ آئیں اور انہیں پکارا۔ انہوں نے جواب نہیں دیا۔ سوچتے رہے کہ جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ دوبارہ آئیں اور ( غصے میں ) بددعا کر گئیں، اے اللہ! اسے موت نہ آئے جب تک کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے۔ ایک عورت نے ( جو جریج کے عبادت خانے کے پاس اپنی مویشی چرایا کرتی تھی اور فاحشہ تھی ) کہا کہ جریج کو فتنہ میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے آئی اور گفتگو کرنی چاہی، لیکن انہوں نے منہ پھیر لیا۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اپنے جسم کو اس کے قابو میں دے دیا۔ آخر لڑکا پیدا ہوا۔ اور اس عورت نے الزام لگایا کہ یہ جریج کا لڑکا ہے۔ قوم کے لوگ جریج کے یہاں آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا۔ انہیں باہر نکالا اور گالیاں دیں۔ لیکن جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھ کر اس لڑکے کے پاس آئے۔ انہوں نے اس سے پوچھا۔ بچے! تمہار باپ کون ہے؟ بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ چرواہا! ( قوم خوش ہو گئی اور ) کہا کہ ہم آپ کے لیے سونے کا عبادت خانہ بنوا دیں۔ جریج نے کہا کہ میرا گھر تو مٹی ہی سے بنے گا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبٍ، فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ أَبُوهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لاَ يَتَقَدَّمِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِعْنِيهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ هُوَ لَكَ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:That he was in the company of the Prophet (ﷺ) on a journey, riding a troublesome camel belonging to `Umar. The camel used to go ahead of the Prophet, so Ibn `Umar's father would say, "O `Abdullah! No one should go ahead of the Prophet." The Prophet (ﷺ) said to him, "Sell it to me." `Umar said to the Prophet "It is for you." So, he bought it and said, "O `Abdullah! It is for you, and you can do with it what you like
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے۔ وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ جایا کرتا تھا۔ اس لیے ان کے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ اے عبداللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کسی کو نہ ہونا چاہئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ عمر! اسے مجھے بیچ دے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہ تو آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا۔ پھر فرمایا، عبداللہ یہ اب تیرا ہے۔ جس طرح تو چاہے استعمال کر۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخَلَفَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The signs of a hypocrite are three: (1) whenever he speaks, he tells a lie, (2) whenever he is entrusted, he proves to be dishonest, (3) whenever he promises, he breaks his promise
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہیل، نافع بن مالک بن ابی عامر نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کہی تو جھوٹ کہی، امانت دی گئی تو اس نے اس میں خیانت کی اور وعدہ کیا تو اسے پورا نہیں کیا۔“
وَقَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا مِنْ ذَهَبٍ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا ابْتَعْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ‏.‏ فَقَامَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَائِهِ، فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ‏.‏ قَالَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ‏إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ}‏
Ibn 'Abbas (ra) said, "A man from the tribe of Bani Sahm went out in the company of Tamim Ad-Dari and 'Adi bin Badda'. The man of Bani Sahm died in a land where there was no Muslim. When Tamim and 'Adi returned conveying the property of the deceased, they claimed that they had lost a silver bowl with gold engraving. Allah's Messenger (ﷺ) made them take an oath (to confirm their claim), and then the bowl was found in Makkah with some people who claimed that they had bought it from Tamim and 'Adi. Then two witnesses from the relatives of the deceased got up and swore that their witnesses were more valid than the witnesses of 'Adi and Tamim, and that the bowl belonged to their deceased fellow. So, this verse was revealed in connection with this case: 'O you who believe! When death approached any of you ...'," (V 5:)
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے ‘ کہا ہم سے ابن ابی زائدہ نے ‘ انہوں نے محمد بن ابی القاسم سے ‘ انہوں نے عبدالملک بن سعید بن جبیر سے ‘ انہوں نے اپنے باپ سے ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے کہا بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کو نکلا ‘ وہ ایسے ملک میں جا کر مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ یہ دونوں شخص اس کا متروکہ مال لے کر مدینہ واپس آئے۔ اس کے اسباب میں چاندی کا ایک گلاس گم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کا حکم فرمایا ( انہوں نے قسم کھا لی ) پھر ایسا ہوا کہ وہ گلاس مکہ میں ملا، انہوں نے کہا ہم نے یہ گلاس تمیم اور عدی سے خریدا ہے۔ اس وقت میت کے دو عزیز ( عمرو بن العاص اور مطلب کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ یہ ہماری گواہی تمیم اور عدی کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے ‘ یہ گلاس میت ہی کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم‏» آخر آیت تک۔)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحُوهَا، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْهِمْ لِي‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لاَ تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ، يَنْعَى عَلَىَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَىَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ‏.‏ قَالَ فَلاَ أَدْرِي أَسْهَمَ لَهُ أَمْ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السَّعِيدِيُّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ‏.‏
Narrated Abu Huraira: I went to Allah's Messenger (ﷺ) while he was at Khaibar after it had fallen in the Muslims' hands. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Give me a share (from the land of Khaibar)." One of the sons of Sa'id bin Al-'As said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do not give him a share." I said, "This is the murderer of Ibn Qauqal." The son of Sa`id bin Al-As said, "Strange! A Wabr (i.e. guinea pig) who has come down to us from the mountain of Qadum (i.e. grazing place of sheep) blames me for killing a Muslim who was given superiority by Allah because of me, and Allah did not disgrace me at his hands (i.e. was not killed as an infidel)." (The sub-narrator said "I do not know whether the Prophet (ﷺ) gave him a share or not
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ٹھہرے ہوئے تھے اور خیبر فتح ہو چکا تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا بھی ( مال غنیمت میں ) حصہ لگائیے۔ سعید بن العاص کے ایک لڑکے ( ابان بن سعید رضی اللہ عنہ ) نے کہا یا رسول اللہ! ان کا حصہ نہ لگائیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یہ شخص تو ابن قوتل ( نعمان بن مالک رضی اللہ عنہ ) کا قاتل ہے۔ ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور ( یعنی ابوہریرہ ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آ گیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا مجھ پر الزام لگاتا ہے۔ اس کو یہ خبر نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے ( شہادت ) عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا ( اگر اس وقت میں مارا جاتا ) تو دوزخی ہوتا ‘ عنبسہ نے بیان کیا کہ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حصہ لگایا یا نہیں۔ سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سعیدی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سعیدی سے مراد عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔
Narrated by Hisham
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغَسْلُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَهُ‏.‏ وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ مِثْلَهُ‏.‏
Narrated Hisham:as the following Hadith 290. Narrated Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, "When a man sits in between the four parts of a woman and did the sexual intercourse with her, bath becomes compulsory
(دوسری سند سے) امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، وہ ہشام سے، وہ قتادہ سے، وہ امام حسن بصری سے، وہ ابورافع سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ جماع کے لیے کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا، اس حدیث کی متابعت عمرو نے شعبہ کے واسطہ سے کی ہے اور موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بصری نے بیان کیا۔ اسی حدیث کی طرح۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا یہ حدیث اس باب کی تمام احادیث میں عمدہ اور بہتر ہے اور ہم نے دوسری حدیث ( عثمان اور ابن ابی کعب کی ) صحابہ کے اختلاف کے پیش نظر بیان کی اور غسل میں اختیاط زیادہ ہے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قِسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) used to give extra share to some of the members of the Sariya he used to send, in addition to the shares they shared with the army in general
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو لیث نے خبر دی ‘ انہیں عقیل نے ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض مہموں کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ ( خمس وغیرہ میں سے ) اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔
Narrated by Abu 'Is-haq-Ash-Shaibani
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ، تَعَالَى ‏{‏فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى * فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى‏}‏‏.‏ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ‏.‏
Narrated Abu 'Is-haq-Ash-Shaibani:I asked Zir bin Hubaish regarding the Statement of Allah: "And was at a distance Of but two bowlengths Or (even) nearer; So did (Allah) convey The Inspiration to His slave (Gabriel) and then he (Gabriel) Conveyed (that to Muhammad). (53.9-10) On that, Zir said, "Ibn Mas`ud informed us that the Prophet (ﷺ) had seen Gabriel having 600 wings
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے ( سورۃ النجم میں ) ارشاد «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى‏» کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ( اپنی اصلی صورت میں ) دیکھا، تو ان کے چھ سو بازو تھے۔
Narrated by Abu Humaid As-Sa`idi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Humaid As-Sa`idi:The people asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! How shall we (ask Allah to) send blessings on you?" Allah's Apostle replied, "Say: O Allah! Send Your Mercy on Muhammad and on his wives and on his offspring, as You sent Your Mercy on Abraham's family; and send Your Blessings on Muhammad and on his offspring, as You sent Your Blessings on Abraham's family, for You are the Most Praiseworthy, the Most Glorious
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی۔ انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے ‘ انہیں ان کے والد نے ‘ انہیں عمرو بن سلیم زرقی نے ‘ انہوں نے کہا مجھ کو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں کہا کرو «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كما صليت على آل إبراهيم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبارك على محمد وأزواجه وذريته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كما باركت على آل إبراهيم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إنك حميد مجيد‏ ‏‏.‏» ”اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور ان کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر جیسا کہ تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور اپنی برکت نازل فرما محمد پر اور ان کی بیویوں اور اولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر۔ بیشک تو انتہائی خوبیوں والا اور عظمت والا ہے۔“
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ كَرَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا، إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ، وَيَقُولُونَ لَوْلاَ مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "My similitude in comparison with the other prophets is that of a man who has built a house completely and excellently except for a place of one brick. When the people enter the house, they admire its beauty and say: 'But for the place of this brick (how splendid the house will be)
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسی کسی شخص نے کوئی گھر بنایا، اسے خوب آراستہ پیراستہ کر کے مکمل کر دیا۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ رہتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا۔“
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ، فَقَالَ لِي ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا عُثْمَانُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ‏.‏
Narrated Abu Musa:While I was with the Prophet (ﷺ) in one of the gardens of Medina, a man came and asked me to open the gate. The Prophet (ﷺ) said to me, "Open the gate for him and give him the glad tidings that he will enter Paradise." I opened (the gate) for him, and behold! It was Abu Bakr. I informed him of the glad tidings the Prophet (ﷺ) had said, and he praised Allah. Then another man came and asked me to open the gate. The Prophet (ﷺ) said to me "Open (the gate) and give him the glad tidings of entering Paradise." I opened (the gate) for him, and behold! It was `Umar. I informed him of what the Prophet (ﷺ) had said, and he praised Allah. Then another man came and asked me to open the gate. The Prophet (ﷺ) said to me. "Open (the gate) for him and inform him of the glad tidings, of entering Paradise with a calamity which will befall him. " Behold ! It was `Uthman, I informed him of what Allah's Messenger (ﷺ) had said. He praised Allah and said, "I seek Allah's Aid
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عثمان بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا، اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے ایک باغ ( بئراریس ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آ کر دروازہ کھلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی، پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہیں بھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ ان کے لیے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں ( دنیا میں ) واسطہ پڑے گا۔ وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ جب میں نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسَنٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا رَأَيْتُهَا، وَلَكِنْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ ذِكْرَهَا، وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ، ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ، فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلاَّ خَدِيجَةُ‏.‏ فَيَقُولُ إِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَتْ، وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ‏.‏
Narrated `Aisha:I did not feel jealous of any of the wives of the Prophet (ﷺ) as much as I did of Khadija though I did not see her, but the Prophet (ﷺ) used to mention her very often, and when ever he slaughtered a sheep, he would cut its parts and send them to the women friends of Khadija. When I sometimes said to him, "(You treat Khadija in such a way) as if there is no woman on earth except Khadija," he would say, "Khadija was such-and-such, and from her I had children
مجھ سے عمر بن محمد بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص نے بیان کیا، ان سے ہشام نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے دیکھا بھی نہیں تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے اور اگر کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے۔ میں نے اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جیسے دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میرے اولاد ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمَهْدِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلاَ تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever prays like us and faces our Qibla and eats our slaughtered animals is a Muslim and is under Allah's and His Apostle's protection. So do not betray Allah by betraying those who are in His protection
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور بن سعد نے میمون بن سیاہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ ہے۔ پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی پناہ میں خیانت نہ کرو۔
Narrated by Rifaa
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ـ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ـ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ قَالَ مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ ـ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ـ قَالَ وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلاَئِكَةِ ‏"‏‏.‏
Narrated Rifaa:(who was one of the Badr warriors) Gabriel came to the Prophet (ﷺ) and said, "How do you look upon the warriors of Badr among yourselves?" The Prophet (ﷺ) said, "As the best of the Muslims." or said a similar statement. On that, Gabriel said, "And so are the Angels who participated in the Badr (battle)
مجھ سے اسحاق بن ابرہیم نے بیان کیا، ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی نے اپنے والد (رفاعہ بن رافع) سے، جو بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے انہوں نے پوچھا کہ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں کا آپ کے یہاں درجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سب سے افضل یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ جو فرشتے بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے ان کا بھی درجہ یہی ہے۔
Narrated by `Imran bin Husain
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ‏.‏
Narrated `Imran bin Husain:The Verse of Hajj-at-Tamattu was revealed in Allah's Book, so we performed it with Allah's Messenger (ﷺ), and nothing was revealed in Qur'an to make it illegal, nor did the Prophet (ﷺ) prohibit it till he died. But the man (who regarded it illegal) just expressed what his own mind suggested
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمران ابی بکر نے، ان سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( حج میں ) تمتع کا حکم قرآن میں نازل ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کے ساتھ ( حج ) کیا، پھر اس کے بعد قرآن نے اس سے نہیں روکا اور نہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ( لہٰذا تمتع اب بھی جائز ہے ) یہ تو ایک صاحب نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَارِزًا يَوْمًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ مَا الإِيمَانُ قَالَ ‏"‏ الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَبِلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ ‏"‏ الإِسْلاَمُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ، وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا الإِحْسَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ ‏"‏ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الإِبِلِ الْبُهْمُ فِي الْبُنْيَانِ، فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ تَلاَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ‏}‏ الآيَةَ‏.‏ ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ ‏"‏ رُدُّوهُ ‏"‏‏.‏ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ جَعَلَ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنَ الإِيمَانِ‏.‏
Narrated Abu Huraira: One day while the Prophet (ﷺ) was sitting in the company of some people, (The angel) Gabriel came and asked, "What is faith?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, 'Faith is to believe in Allah, His angels, (the) meeting with Him, His Apostles, and to believe in Resurrection." Then he further asked, "What is Islam?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "To worship Allah Alone and none else, to offer prayers perfectly to pay the compulsory charity (Zakat) and to observe fasts during the month of Ramadan." Then he further asked, "What is Ihsan (perfection)?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "To worship Allah as if you see Him, and if you cannot achieve this state of devotion then you must consider that He is looking at you." Then he further asked, "When will the Hour be established?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "The answerer has no better knowledge than the questioner. But I will inform you about its portents. 1. When a slave (lady) gives birth to her master. 2. When the shepherds of black camels start boasting and competing with others in the construction of higher buildings. And the Hour is one of five things which nobody knows except Allah. The Prophet (ﷺ) then recited: "Verily, with Allah (Alone) is the knowledge of the Hour--." (31. 34) Then that man (Gabriel) left and the Prophet (ﷺ) asked his companions to call him back, but they could not see him. Then the Prophet (ﷺ) said, "That was Gabriel who came to teach the people their religion." Abu 'Abdullah said: He (the Prophet) considered all that as a part of faith
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوحیان تیمی نے ابوزرعہ سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس ( اللہ ) کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاؤ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ فرض ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احسان یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ تو سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا ( البتہ ) میں تمہیں اس کی نشانیاں بتلا سکتا ہوں۔ وہ یہ ہیں کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے ( دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے ) مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں گے ( یاد رکھو ) قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے کہ وہ کب ہو گی ( آخر آیت تک ) پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام باتوں کو ایمان ہی قرار دیا ہے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلاَ مِنَ الأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعَصْرِ وَمَغْرِبِ الشَّمْسِ، وَمَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالاً، فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى الْعَصْرِ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى، ثُمَّ أَنْتُمْ تَعْمَلُونَ مِنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ بِقِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، قَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلاً وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ قَالُوا لاَ قَالَ فَذَاكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ شِئْتُ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "Your life in comparison to the lifetime of the past nations is like the period between the time of `Asr prayer and sunset. Your example and the example of the Jews and Christians is that of person who employed laborers and said to them, "Who will work for me till the middle of the day for one Qirat (a special weight)?' The Jews did. He then said, "Who will work for me from the middle of the day till the `Asr prayer for one Qirat each?" The Christians worked accordingly. Then you (Muslims) are working from the `Asr prayer till the Maghrib prayer for two Qirats each. They (the Jews and the Christians) said, 'We did more labor but took less wages.' He (Allah) said, 'Have I wronged you in your rights?' They replied, 'No.' Then He said, 'This is My Blessing which I give to whom I wish
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانو! گزری امتوں کی عمروں کے مقابلہ میں تمہاری عمر ایسی ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے اور تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کچھ مزدور کام پر لگائے اور ان سے کہا کہ ایک قیراط مزدوری پر میرا کام صبح سے دوپہر تک کون کرے گا؟ یہ کام یہودیوں نے کیا۔ پھر اس نے کہا کہ اب میرا کام آدھے دن سے عصر تک ( ایک ہی قیراط مزدوری پر ) کون کرے گا؟ یہ کام نصاریٰ نے کیا۔ پھر تم نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط مزدوری پر کام کیا۔ یہود و نصاریٰ قیامت کے دن کہیں گے ہم نے کام زیادہ کیا لیکن مزدوری کم پائی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تمہارا کچھ حق مارا گیا؟ وہ کہیں گے کہ نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں اور جتنا چاہوں عطا کروں۔
وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ‏}‏ الآيَةَ‏.‏ وَجَمَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيٍّ وَامْرَأَةِ عَلِيٍّ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لاَ بَأْسَ بِهِ‏.‏ وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ‏.‏ وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَيْنَ ابْنَتَىْ عَمٍّ فِي لَيْلَةٍ، وَكَرِهَهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ لِلْقَطِيعَةِ، وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ‏}‏ وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ يَحْيَى الْكِنْدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَأَبِي جَعْفَرٍ، فِيمَنْ يَلْعَبُ بِالصَّبِيِّ إِنْ أَدْخَلَهُ فِيهِ، فَلاَ يَتَزَوَّجَنَّ أُمَّهُ، وَيَحْيَى هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ‏.‏ وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي نَصْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَرَّمَهُ‏.‏ وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا لَمْ يُعْرَفْ بِسَمَاعِهِ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالْحَسَنِ وَبَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ‏.‏ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ تَحْرُمُ حَتَّى يُلْزِقَ بِالأَرْضِ يَعْنِي يُجَامِعَ‏.‏ وَجَوَّزَهُ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ وَالزُّهْرِيُّ‏.‏ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عَلِيٌّ لاَ تَحْرُمُ‏.‏ وَهَذَا مُرْسَلٌ‏.‏
Ibn 'Abbas further said, "Seven types of marriages are unlawful because of blood relations, and seven because of marriage relations." Then Ibn 'Abbas recited the Verse:"Forbidden for you (for marriages) are your mothers..." (4:23). 'Abdullah bin Ja'far married the daughter and wife of 'Ali at the same time (they were step-daughter and mother). Ibn Sirin said, "There is no harm in that." But Al-Hasan Al-Basri disapproved of it at first, but then said that there was no harm in it. Al-Hasan bin Al-Hasan bin 'Ali married two of his cousins in one night. Ja'far bin Zaid disapproved of that because of it would bring hatred (between the two cousins), but it is not unlawful, as Allah said, "Lawful to you are all others [beyond those (mentioned)]. (4:24). Ibn 'Abbas said: "If somebody commits illegal sexual intercourse with his wife's sister, his wife does not become unlawful for him." And narrated Abu Ja'far, "If a person commits homosexuality with a boy, then the mother of that boy is unlawful for him to marry." Narrated Ibn 'Abbas, "If one commits illegal sexual intercourse with his mother in law, then his married relation to his wife does not become unlawful." Abu Nasr reported to have said that Ibn 'Abbas in the above case, regarded his marital relation to his wife unlawful, but Abu Nasr is not known well for hearing Hadith from Ibn 'Abbas. Imran bin Hussain, Jabir b. Zaid, Al-Hasan and some other Iraqi's, are reported to have judged that his marital relations to his wife would be unlawful. In the above case Abu Hurairah said, "The marital relation to one's wife does not become unlawful except if one as had sexual intercourse (with her mother)." Ibn Al-Musaiyab, 'Urwa, and Az-Zuhri allows such person to keep his wife. 'Ali said, "His marital relations to his wife does not become unlawful
اور امام احمد بن حنبل نے مجھ سے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انہوں نے سفیان ثوری سے، کہا مجھ سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا خون کی رو سے تم پر سات رشتے حرام ہیں اور شادی کی وجہ سے ( یعنی سسرال کی طرف سے ) سات رشتے بھی۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی «حرمت عليكم أمهاتكم‏» آخر تک۔ اور عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی زینب اور علی کی بی بی ( لیلٰی بنت مسعود ) دونوں سے نکاح کیا، ان کو جمع کیا اور ابن سیرین نے کہا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور امام حسن بصری نے ایک بار تو اسے مکروہ کہا پھر کہنے لگے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب نے اپنے دونوں چاچاؤں ( یعنی محمد بن علی اور عمرو بن علی ) کی بیٹیوں کو ایک ساتھ میں نکاح میں لے لیا اور جابر بن زید تابعی نے اس کو مکروہ جانا، اس خیال سے کہ بہنوں میں جلاپا نہ پیدا ہو مگر یہ کچھ حرام نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وأحل لكم ما وراء ذلكم‏» کہ ان کے سوا اور سب عورتیں تم کو حلال ہیں۔ اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ اگر کسی نے اپنی سالی سے زنا کیا تو اس کی بیوی ( سالی کی بہن ) اس پر حرام نہ ہو گی۔ اور یحییٰ بن قیس کندی سے روایت ہے، انہوں نے شعبی اور جعفر سے، دونوں نے کہا اگر کوئی شخص لواطت کرے اور کسی لونڈے کے دخول کر دے تو اب اس کی ماں سے نکاح نہ کرے۔ اور یحییٰ راوی مشہور شخص نہیں ہے اور نہ کسی اور نے اس کے ساتھ ہو کر یہ روایت کی ہے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اگر کسی نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی۔ اور ابونصر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حرام ہو جائے گی اور اس راوی ابونصر کا حال معلوم نہیں۔ اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے یا نہیں ( لیکن ابوزرعہ نے اسے ثقہ کہا ہے ) اور عمران بن حصین اور جابر بن زید اور حسن بصری اور بعض عراق والوں ( امام ثوری اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ) کا یہی قول ہے کہ حرام ہو جائے گی۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا حرام نہ ہو گی جب تک اس کی ماں ( اپنی خوشدامن ) کو زمین سے نہ لگا دے ( یعنی اس سے جماع نہ کرے ) اور سعید بن مسیب اور عروہ اور زہری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اگر کوئی ساس سے زنا کرے تب بھی اس کی بیٹی یعنی زنا کرنے والے کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی ( اس کو رکھ سکتا ہے ) اور زہری نے کہا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی جورو اس پر حرام نہ ہو گی اور یہ روایت منقطع ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا، إِلاَّ أَعْطَاهُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بِيَدِهِ، وَوَضَعَ أَنْمَلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الْوُسْطَى وَالْخِنْصَرِ‏.‏ قُلْنَا يُزَهِّدُهَا‏.‏
Narrated Abu Huraira: Abul Qasim (the Prophet (ﷺ) ) said, "There is an hour (or a moment) of particular significance on Friday. If it happens that a Muslim is offering a prayer and invoking Allah for some good at that very moment, Allah will grant him his request." (The sub-narrator placed the top of his finger on the palm of the other hand between the middle finger and the little one)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے ) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خِوَانٍ، وَلاَ فِي سُكْرُجَةٍ، وَلاَ خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ‏.‏ قُلْتُ لِقَتَادَةَ عَلَى مَا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) never took his meals at a dining table, nor in small plates, and he never ate thin wellbaked bread. (The sub-narrator asked Qatada, "Over what did they use to take their meals?" Qatada said, "On leather dining sheets)
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یونس بن ابی الفرات نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور نہ تشتری میں دو چار قسم کی چیزیں رکھ کر کھائیں اور نہ کبھی چپاتی کھائی۔ میں نے قتادہ سے پوچھا، پھر آپ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے؟ بتلایا کہ سفرہ ( چمڑے کے دستر خوان ) پر۔
Narrated by Abu Musa Al-Ash`ari
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ يَعْنِي الأَشْعَرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ دَجَاجًا‏.‏
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:I saw the Prophet (ﷺ) eating chicken
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے زہدم جرمی نے، ان سے ابوموسیٰ یعنی الاشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کھاتے دیکھا ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ شَرِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا مِنْ زَمْزَمَ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) drank Zamzam (water) while standing
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عاصم احول نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى قَالَ عُمَرُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ‏.‏ فَخَرَجَ فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ ‏ "‏ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) once delayed the `Isha' prayer and that was during the days when Islam still had not spread. The Prophet (ﷺ) did not come out till `Umar informed him that the women and children had slept. Then he came out and said to the people of the mosque: "None amongst the dwellers of the earth has been waiting for it (`Isha prayer) except you
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی۔ یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔
Narrated by Saud
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، يُحَدِّثُ سَعْدًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَلاَ يُنْكِرُهُ قَالَ نَعَمْ‏.‏
Narrated Saud:The Prophet (ﷺ) said, "If you hear of an outbreak of plague in a land, do not enter it; but if the plague breaks out in a place while you are in it, do not leave that place
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل رہی ہے تو وہاں مت جاؤ لیکن جب کسی جگہ یہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو اس جگہ سے نکلو بھی مت۔ ( حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے ) کہا تم نے خود یہ حدیث اسامہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے کہ انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا؟ فرمایا کہ ہاں۔
Narrated by Sa`d
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ بِشِمَالِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِيَمِينِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يَوْمَ أُحُدٍ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ‏.‏
Narrated Sa`d:On the day of the battle of Uhud, on the right and on the left of the Prophet (ﷺ) were two men wearing white clothes, and I had neither seen them before, nor did I see them afterwards
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن بشر نے خبر دی، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو ( جو فرشتے تھے ) دیکھا وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے انہیں نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ صَدَقَةً ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "If any Muslim plants any plant and a human being or an animal eats of it, he will be rewarded as if he had given that much in charity
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی مسلمان کسی درخت کا پودا لگاتا ہے اور اس درخت سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو لگانے والے کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "A man should not make another man get up from his (the latter's) seat (in a gathering) in order to sit there
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ، وَرَبُّ الأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ وَهْبٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ مِثْلَهُ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) used to say at a time of distress, "La ilaha illal-lahu Rabbul-l-'arsh il-'azim, La ilaha illallahu Rabbu-s-samawati wa Rabbu-l-ard, Rabbu-l-'arsh-il-Karim
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت پریشانی میں یہ دعا کیا کرتے تھے «لا إله إلا الله العظيم الحليم،‏‏‏‏ لا إله إلا الله رب العرش العظيم،‏‏‏‏ لا إله إلا الله رب السموات،‏‏‏‏ ورب الأرض،‏‏‏‏ ورب العرش الكريم» ”اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔“ اور وہب نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اس طرح بیان کیا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ‏.‏
Narrated `Aisha:The family of Muhammad had never eaten their fill of wheat bread for three successive days since they had migrated to Medina till the death of the Prophet
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو مدینہ آنے کے بعد کبھی تین دن تک برابر گیہوں کی روٹی کھانے کے لیے نہیں ملی، یہاں تک کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہو گئی۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلاَةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "The prayer in congregation is twenty five times superior to the prayer offered by a person alone
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ہاد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن خباب سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جماعت سے نماز تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr bin Al-As
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا‏.‏ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ لَهُنَّ كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ ‏"‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-As:While the Prophet (ﷺ) was delivering a sermon on the Day of Nahr (i.e., 10th Dhul-Hijja-Day of slaughtering the sacrifice), a man got up saying, "I thought, O Allah's Messenger (ﷺ), such-and-such a thing was to be done before such-and-such a thing." Another man got up, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! As regards these three (acts of Hajj), thought so-and-so." The Prophet (ﷺ) said, "Do, and there is no harm," concerning all those matters on that day. And so, on that day, whatever question he was asked, he said, "Do it, do it, and there is no harm therein
ہم سے عثمان بن الہیثم نے بیان کیا یا ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے عثمان بن الہیثم سے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا کہ میں نے ابن شہاب سے سنا، کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا ( اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا ) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ ( حلق، رمی اور نحر ) کی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو ( تقدیم و تاخیر کرنے میں ) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔
Narrated by Sa`d
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ـ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهْوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ‏"‏‏.‏ فَذَكَرْتُهُ لأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ، وَوَعَاهُ، قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Sa`d:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Whoever claims to be the son of a person other than his father, and he knows that person is not his father, then Paradise will be forbidden for him." I mentioned that to Abu Bakra, and he said, "My ears heard that and my heart memorized it from Allah's Messenger (ﷺ)
Narrated by Jabir bin `Abdullah Al-Ansari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ، وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah Al-Ansari:A man from the tribe of Bani Aslam came to Allah's Messenger (ﷺ) and Informed him that he had committed illegal sexual intercourse and bore witness four times against himself. Allah's Messenger (ﷺ) ordered him to be stoned to death as he was a married Person
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے زنا کیا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے زنا کا چار مرتبہ اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دیا اور انہیں رجم کیا گیا، وہ شادی شدہ تھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏
Narrated Abu Huraira:Two women from the tribe of Hudhail (fought with each other) and one of them threw (a stone at) the other, causing her to have a miscarriage and Allah's Messenger (ﷺ) gave his verdict that the killer (of the fetus) should give a male or female slave (as a Diya)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو ( پتھر سے ) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ ( جنین ) گر گیا پھر اس ( سلسلہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ بَيْنَ رَجُلَيْنٍ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً، فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ مَرْيَمَ‏.‏ فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ‏.‏ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ ‏"‏‏.‏ وَابْنُ قَطَنٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself performing the Tawaf of the Ka`ba. Behold, there I saw a whitish-red lank-haired man (holding himself) between two men with water dropping from his hair. I asked, 'Who is this?' The people replied, 'He is the son of Mary.' Then I turned my face to see another man with red complexion, big body, curly hair, and blind in the right eye which looked like a protruding out grape. I asked, 'Who is he?' They replied, 'He is Ad-Dajjal.' Ibn Qatan resembles him more than anybody else among the people and Ibn Qatan was a man from Bani Al-Mustaliq from Khuza`a
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ ابن عمر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لیے ہوئے تھے ) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ، بھاری جسم والا، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔“ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے۔
Narrated by Salim's father
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏"‏ الْفِتْنَةُ هَا هُنَا الْفِتْنَةُ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ قَرْنُ الشَّمْسِ ‏"‏‏.‏
Narrated Salim's father:The Prophet (ﷺ) stood up beside the pulpit (and pointed with his finger towards the East) and said, "Afflictions are there! Afflictions are there, from where the side of the head of Satan comes out," or said, "..the side of the sun
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے ایک طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا ”فتنہ ادھر ہے، فتنہ ادھر ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یا سورج کا سینگ فرمایا۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ هِنْدَ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَأَحْتَاجُ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:Hind (bint `Utba) said to the Prophet (ﷺ) "Abu Sufyan is a miserly man and I need to take some money of his wealth." The Prophet (ﷺ) said, "Take reasonably what is sufficient for you and your children
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہند نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ( ان کے شوہر ) ابوسفیان بخیل ہیں اور مجھے ان کے مال میں سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دستور کے مطابق اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو۔
Narrated by Humaid
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَخْطُبُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ، وَلَنْ يَزَالَ أَمْرُ هَذِهِ الأُمَّةِ مُسْتَقِيمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَوْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Humaid:I heard Muawiya bin Abi Sufyan delivering a sermon. He said, "I heard the Prophet (ﷺ) saying, "If Allah wants to do a favor to somebody, He bestows on him, the gift of understanding the Qur'an and Sunna. I am but a distributor, and Allah is the Giver. The state of this nation will remain good till the Hour is established, or till Allah's Order comes
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے انہیں حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ ) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلاَئِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ‏.‏ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ‏}‏
Narrated `Abdullah:A man from the people of the scripture came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Abal-Qasim! Allah will hold the Heavens upon a Finger, and the Earth on a Finger and the land on a Finger, and all the creation on a Finger, and will say, 'I am the King! I am the King!' " I saw the Prophet (after hearing that), smiling till his premolar teeth became visible, and he then recited: -- 'No just estimate have they made of Allah such as due to him
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم سے سنا، کہا کہ میں نے علقمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، زمین کو ایک انگلی پر روک لے گا، درخت اور مٹی کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر فرمائے گا کہ میں ”بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں“ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر ہنس دئیے، یہاں تک کہ آپ کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے، پھر یہ آیت پڑھی «وما قدروا الله حق قدره‏» ۔
Narrated by Salim
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ ‏"‏‏.‏
Narrated Salim:My father said , "I heard the Prophet (ﷺ) delivering the Khutba on the pulpit and he said, 'Whoever comes for the Jumua prayer should take a bath (before coming)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے ان کے باپ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو جمعہ کے لیے آئے وہ پہلے غسل کر لیا کرے۔