بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
64
2 hadith
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَاضَتْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحَابِسَتُنَا هِيَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَلْتَنْفِرْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) Safiya bint Huyai, the wife of the Prophet (ﷺ) menstruated during Hajjat-ul- Wada` The Prophet (ﷺ) said, "Is she going to detain us?" I said to him, "She has already come to Mecca and performed the Tawaf (ul-ifada) around the Ka`ba, O Allah's Messenger (ﷺ)." The Prophet (ﷺ) said, " Let her then proceed on (to Medina)
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صفیہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کے موقع پر حائضہ ہو گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا ابھی ہمیں ان کی وجہ سے رکنا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو مکہ لوٹ کر طواف زیارت کر چکی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے چلنا چاہئیے ( طواف وداع کی ضرورت نہیں ) ۔
Narrated by Zaid bin Arqam
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، وَلَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي، فَذَكَرَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏فَدَعَانِي فَحَدَّثْتُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، وَكَذَّبَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏}‏ وَصَدَّقَهُمْ، فَأَصَابَنِي غَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي وَقَالَ عَمِّي مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَقَتَكَ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ‏}‏ وَأَرْسَلَ إِلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهَا وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ ‏"‏‏.‏
Narrated Zaid bin Arqam:While I was with my uncle, I heard `Abdullah bin Ubai bin Salul saying, "Do not spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ), that they may disperse and go away (from him). And if we return to Medina, surely, the more honorable will expel therefrom the meaner. "I mentioned that to my uncle who, in turn, mentioned it to the Prophet. The Prophet (ﷺ) called me and I told him about that. Then he sent for `Abdullah bin Ubai and his companions, and they swore that they did not say so. The Prophet (ﷺ) disbelieved my statement and believed theirs. I was distressed as I have never been before, and I remained in my house. My uncle said to me, "You just wanted the Prophet (ﷺ) to consider you a liar and hate you." Then Allah revealed:-- 'When the hypocrites come to you, they say: 'We bear witness that you are indeed the Apostle of Allah." (63.1) So the Prophet (ﷺ) sent for me and recited it and said, "Allah has confirmed your statement
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے اپنے چچا کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں اور اگر اب ہم مدینہ واپس لوٹیں گے تو ہم میں سے جو عزت والے ہیں ان ذلیلوں کو نکال باہر کر دیں گے۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی تصدیق کر دی تو مجھے اس کا اتنا افسوس ہوا کہ پہلے کبھی کسی بات پر نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے کہا کہ تمہارا کیا ایسا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھٹلایا اور تم پر خفا ہوئے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إذا جاءك المنافقون قالوا نشهد إنك لرسول الله‏» ”جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق نازل کر دی ہے۔