Narrated by Alqama
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَجَاءَ خَبَّابٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيَسْتَطِيعُ هَؤُلاَءِ الشَّبَابُ أَنْ يَقْرَءُوا كَمَا تَقْرَأُ قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ شِئْتَ أَمَرْتُ بَعْضَهُمْ يَقْرَأُ عَلَيْكَ قَالَ أَجَلْ. قَالَ اقْرَأْ يَا عَلْقَمَةُ. فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ أَخُو زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ أَتَأْمُرُ عَلْقَمَةَ أَنْ يَقْرَأَ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا قَالَ أَمَا إِنَّكَ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْمِكَ وَقَوْمِهِ. فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى قَالَ قَدْ أَحْسَنَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلاَّ وَهُوَ يَقْرَؤُهُ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَلَمْ يَأْنِ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَنْ تَرَاهُ عَلَىَّ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَأَلْقَاهُ. رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ.
Narrated Alqama:We were sitting with Ibn Masud when Khabbab came and said, "O Abu `Abdur-Rahman! Can these young fellows recite Qur'an as you do?" Ibn Mas`ud said, "If you wish I can order one of them to recite (Qur'an) for you ." Khabbab replied, "Yes. "Ibn Mas`ud said, "Recite, O 'Alqama!" On that, Zaid bin Hudair, the brother of Ziyad bin Hudair said, (to Ibn Mas`ud), "Why have you ordered 'Alqama to recite though he does not recite better than we?" Ibn Mas`ud said, "If you like, I would tell you what the Prophet (ﷺ) said about your nation and his (i.e. 'Alqama's) nation." So I recited fifty Verses from Sura-Maryam. `Abdullah (bin Mas`ud) said to Khabbab, "What do you think (about 'Alqama's recitation)?" Khabbab said, "He has recited well." `Abdullah said, "Whatever I recite, 'Alqama recites." Then `Abdullah turned towards Khabbab and saw that he was wearing a gold ring, whereupon he said, "Hasn't the time for its throwing away come yet?" Khabbab said, "You will not see me wearing it after today," and he threw it away
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ مشہور صحابی تشریف لائے اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا یہ نوجوان لوگ ( جو تمہارے شاگرد ہیں ) اسی طرح قرآن پڑھ سکتے ہیں جیسے آپ پڑھتے ہیں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں کسی سے تلاوت کے لیے کہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: علقمہ! تم پڑھو، زید بن حدیر، زیاد بن حدیر کے بھائی، بولے آپ علقمہ سے تلاوت قرآن کے لیے فرماتے ہیں حالانکہ وہ ہم سب سے اچھے قاری نہیں ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سنا دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم کے حق میں فرمائی تھی۔ خیر علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے سورۃ مریم کی پچاس آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہو کیسا پڑھتا ہے؟ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا بہت خوب پڑھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو آیت بھی میں جس طرح پڑھتا ہوں علقمہ بھی اسی طرح پڑھتا ہے، پھر انہوں نے خباب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، تو کہا: کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ یہ انگوٹھی پھینک دی جائے۔ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج کے بعد آپ یہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے انگوٹھی اتار دی۔ اسی حدیث کو غندر نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Ubada bin As-Samit
{حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَاهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَسْرِقُوا ". وَقَرَأَ آيَةَ النِّسَاءِ ـ وَأَكْثَرُ لَفْظِ سُفْيَانَ قَرَأَ الآيَةَ ـ " فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَهْوَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ} ". تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فِي الآيَةِ.
Narrated 'Ubada bin As-Samit:While we were with the Prophet, he said, "Will you swear to me the pledge of allegiance that you will not worship any thing besides Allah, will not commit illegal sexual intercourse, and will not steal?" Then he recited the Verse concerning the women. (Sufyan, the subnarrator, often said that the Prophet: added, "Whoever among you fulfills his pledge, will receive his reward from Allah, and whoever commits any of those sins and receives the legal punishment (in this life), his punishment will be an expiation for that sin; and whoever commits any of those sins and Allah screens him, then it is up to Allah to punish or forgive them
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوادریس نے بیان کیا اور انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ چوری کرو گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النساء کی آیتیں پڑھیں۔ سفیان نے اس حدیث میں اکثر یوں کہا کہ آپ نے یہ آیت پڑھی۔ پھر تم میں سے جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو کوئی ان میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کر بیٹھا اور اس پر اسے سزا بھی مل گئی تو سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی لیکن کسی نے اپنے کسی عہد کے خلاف کیا اور اللہ نے اسے چھپا لیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے اللہ چاہے تو اسے اس پر عذاب دے اور اگر چاہے معاف کر دے، سفیان کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی معمر سے روایت کیا انہوں نے زہری سے اور یوں ہی کہا آیت پڑھی۔