بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
64
2 hadith
Narrated by `Imran bin Husain
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ، جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا‏.‏ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏
Narrated `Imran bin Husain:The people of Banu Tamim came to Allah's Messenger (ﷺ), and he said, "Be glad (i.e. have good tidings). O Banu Tamim!" They said, "As you have given us good tidings then give us (some material things)." On that the features of Allah's Messenger (ﷺ) changed (i.e. he took it ill). Then some people from Yemen came, and the Prophet (ﷺ) said (to them) "Accept good tidings as Banu Tamim have not accepted them." They said, "We accept them, O Allah's Messenger (ﷺ)
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصخرہ جامع بن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن محرز مازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي الْجَهْدُ فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ رَجُلٌ يُضَيِّفُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تَدَّخِرِيهِ شَيْئًا‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلاَّ قُوتُ الصِّبْيَةِ‏.‏ قَالَ فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ، وَتَعَالَىْ فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ‏.‏ فَفَعَلَتْ ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ـ أَوْ ضَحِكَ ـ مِنْ فُلاَنٍ وَفُلاَنَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ‏}‏
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I am suffering from fatigue and hunger." The Prophet (ﷺ) sent (somebody) to his wives (to get something), but the messenger found nothing with them. Then Allah's Messenger (ﷺ) said (to his companions). "Isn't there anybody who can entertain this man tonight so that Allah may be merciful to him?" An Ansari man got up and said, "I (will, entertain him), O Allah's Messenger (ﷺ)!" So he went to his wife and said to her, "This is the guest of Allah's Messenger (ﷺ), so do not keep anything away from him." She said. "By Allah, I have nothing but the children's food." He said, "When the children ask for their dinner, put them to bed and put out the light; we shall not take our meals tonight," She did so. In the morning the Ansari man went to Allah's Messenger (ﷺ) who said, "Allah was pleased with (or He bestowed His Mercy) on so-and-so and his wife (because of their good deed)." Then Allah revealed: 'But give them preference over themselves even though they were in need of that
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم اشجعی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب خود ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا ( کہ وہ آپ کی دعوت کریں ) لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی ( ابوطلحہ ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں ( انصاری صحابی ) اور ان کی بیوی ( کے عمل ) کو پسند فرمایا۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة‏» یعنی اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں۔