Narrated by `Abdullah bin Dinar
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ، إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ. وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالَ الْيَتَامَى عِصْمَةً لِلأَرَامِلِ وَهْوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.
Narrated `Abdullah bin Dinar:My father said, "I heard Ibn `Umar reciting the poetic verses of Abu Talib: And a white (person) (i.e. the Prophet) who is requested to pray for rain and who takes care of the orphans and is the guardian of widows." Salim's father (Ibn `Umar) said, "The following poetic verse occurred to my mind while I was looking at the face of the Prophet (ﷺ) while he was praying for rain. He did not get down till the rain water flowed profusely from every roof-gutter: And a white (person) who is requested to pray for rain and who takes care of the orphans and is the guardian of widows . . . And these were the words of Abu Talib
Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ ".
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:"The sun eclipsed in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) on the day when (his son) Ibrahim died. So the people said that the sun had eclipsed because of the death of Ibrahim. Allah's Messenger (ﷺ) said, "The sun and the moon do not eclipse because of the death or life (i.e. birth) of someone. When you see the eclipse pray and invoke Allah
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن اس دن لگا جس دن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا بعض لوگ کہنے لگے کہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرہن کسی کی موت و حیات سے نہیں لگتا۔ البتہ تم جب اسے دیکھو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو۔
Narrated by `Abdullah bin Mas`ud
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ بِهَا، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلاَّ سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا.
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:The Prophet (ﷺ) recited Surat-an-Najm (53) and prostrated while reciting it and all the people prostrated and a man amongst the people took a handful of stones or earth and raised it to his face and said, "This is sufficient for me." Later on I saw him killed as a non-believer
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ابواسحاق سے بیان کیا، ان سے اسود نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اس وقت قوم کا کوئی فرد ( مسلمان اور کافر ) بھی ایسا نہ تھا جس نے سجدہ نہ کیا ہو۔ البتہ ایک شخص ( امیہ بن خلف ) نے ہاتھ میں کنکری یا مٹی لے کر اپنے چہرہ تک اٹھائی اور کہا کہ میرے لیے یہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بعد میں میں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت ہی میں قتل ہوا۔
Narrated by Haritha bin Wahab
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم آمَنَ مَا كَانَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ.
Narrated Haritha bin Wahab:The Prophet (ﷺ) led us in the prayer at Mina during the peace period by offering two rak`at
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق نے خبر دی، انہوں نے حارثہ سے سنا اور انہوں نے وہب رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں امن کی حالت میں ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی تھی۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ قَالَ " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ".
Narrated Abu Musa: Some people asked Allah's Messenger (ﷺ), "Whose Islam is the best? i.e. (Who is a very good Muslim)?" He replied, "One who avoids harming the Muslims with his tongue and hands
ہم کو سعید بن یحییٰ بن سعید اموی قریشی نے یہ حدیث سنائی، انہوں نے اس حدیث کو اپنے والد سے نقل کیا، انہوں نے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، انہوں نے ابی بردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں۔
Narrated by Jundab
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ اشْتَكَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ.
Narrated Jundab:The Prophet (ﷺ) became sick and did not get up (for Tahajjud prayer) for a night or two
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے بیان کیا، کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دو رات تک ( نماز کے لیے ) نہ اٹھ سکے۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ـ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ ـ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ لاَ يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى إِلاَّ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمَ يَقْدَمُ بِمَكَّةَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْدَمُهَا ضُحًى، فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، وَيَوْمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ. قَالَ وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا. قَالَ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّمَا أَصْنَعُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَصْنَعُونَ، وَلاَ أَمْنَعُ أَحَدًا أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَىِّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar never offered the Duha prayer except on two occasions: (1) Whenever he reached Mecca; and he always used to reach Mecca in the forenoon. He would perform Tawaf round the Ka`ba and then offer two rak`at at the rear of Maqam Ibrahim. (2) Whenever he visited Quba, for he used to visit it every Saturday. When he entered the Mosque, he disliked to leave it without offering a prayer. Ibn `Umar narrated that Allah's Messenger (ﷺ) used to visit the Mosque of Quba (sometime) walking and (sometime) riding. And he (i.e. Ibn `Umar) used to say, "I do only what my companions used to do and I don't forbid anybody to pray at any time during the day or night except that one should not intend to pray at sunrise or sunset
Narrated by Zaid bin Arqam
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى ـ هُوَ ابْنُ يُونُسَ ـ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِنْ كُنَّا لَنَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ بِحَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} الآيَةَ، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
Narrated Zaid bin Arqam:In the lifetime of the Prophet (ﷺ) we used to speak while praying, and one of us would tell his needs to his companions, till the verse, 'Guard strictly your prayers (2.238) was revealed. After that we were ordered to remain silent while praying
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے، انہیں حارث بن شبیل نے، انہیں ابوعمرو بن سعد بن ابی ایاس شیبانی نے بتایا کہ مجھ سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں نماز پڑھنے میں باتیں کر لیا کرتے تھے۔ کوئی بھی اپنے قریب کے نمازی سے اپنی ضرورت بیان کر دیتا۔ پھر آیت «حافظوا على الصلوات الخ» اتری اور ہمیں ( نماز میں ) خاموش رہنے کا حکم ہوا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهَ أَنَقَصَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ " أَحَقٌّ مَا يَقُولُ ". قَالُوا نَعَمْ. فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. قَالَ سَعْدٌ وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَقَالَ هَكَذَا فَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) led us in the `Asr or the Zuhr prayer and finished it with Taslim. Dhul-Yadain said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Has the prayer been reduced?" The Prophet (ﷺ) asked his companions in the affirmative. So Allah's Messenger (ﷺ) offered two more rak`at and then performed two prostrations (of Sahu). Sa`d said, "I saw that 'Urwa bin Az-Zubair had offered two rak`at in the Maghrib prayer and finished it with Taslim. He then talked (and when he was informed about it) he completed the rest of his prayer and performed two prostrations, and said, 'The Prophet (ﷺ) prayed like this
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ذوالیدین کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں؟ ( کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر صرف دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ کہتے ہیں؟ صحابہ نے کہا جی ہاں، اس نے صحیح کہا ہے۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اور پڑھائیں پھر دو سجدے کئے۔ سعد نے بیان کیا کہ عروہ بن زبیر کو میں نے دیکھا کہ آپ نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں۔ پھر باقی ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ رَدُّ السَّلاَمِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ ". تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ. وَرَوَاهُ سَلاَمَةُ عَنْ عُقَيْلٍ.
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The rights of a Muslim on the Muslims are five: to respond to the salaam, visiting the sick, to follow the funeral processions, to accept an invitation, and to reply to those who sneeze. (see Hadith)
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا، مریض کا مزاج معلوم کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک پر ( اس کے «الحمدلله» کے جواب میں ) «يرحمک الله» کہنا۔ اس روایت کی متابعت عبدالرزاق نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معمر نے خبر دی تھی۔ اور اس کی روایت سلامہ نے بھی عقیل سے کی ہے۔
Narrated by Kuraib
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ صَلَّى ـ وَرُبَّمَا قَالَ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ ـ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى. ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا ـ يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ ـ وَقَامَ يُصَلِّي فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ـ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ شِمَالِهِ ـ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ، فَقَامَ مَعَهُ إِلَى الصَّلاَةِ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنُهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ. قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ رُؤْيَا الأَنْبِيَاءِ وَحْىٌ، ثُمَّ قَرَأَ {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ}.
Narrated Kuraib:Ibn `Abbas said, "The Prophet (ﷺ) slept till he snored and then prayed (or probably lay till his breath sounds were heard and then got up and prayed)." Ibn `Abbas added: "I stayed overnight in the house of my aunt, Maimuna, the Prophet (ﷺ) slept for a part of the night, (See Fath-al-Bari page 249, Vol. 1), and late in the night, he got up and performed ablution from a hanging water skin, a light (perfect) ablution and stood up for the prayer. I, too, performed a similar ablution, then I went and stood on his left. He drew me to his right and prayed as much as Allah wished, and again lay and slept till his breath sounds were heard. Later on the Mu'adh-dhin (call maker for the prayer) came to him and informed him that it was time for Prayer. The Prophet (ﷺ) went with him for the prayer without performing a new ablution." (Sufyan said to `Amr that some people said, "The eyes of Allah's Messenger (ﷺ) sleep but his heart does not sleep." `Amr replied, "I heard `Ubaid bin `Umar saying that the dreams of Prophets were Divine Inspiration, and then he recited the verse: 'I (Abraham) see in a dream, (O my son) that I offer you in sacrifice (to Allah)." (37.102) (See Hadith No)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے عمرو کے واسطے سے نقل کیا، انہیں کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور کبھی ( راوی نے یوں ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس کے بعد نماز پڑھی۔ پھر سفیان نے ہم سے دوسری مرتبہ یہی حدیث بیان کی عمرو سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ وہ کہتے تھے کہ ( ایک مرتبہ ) میں نے اپنی خالہ ( ام المؤمنین ) میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، تو ( میں نے دیکھا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے۔ جب تھوڑی رات باقی رہ گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو اس کا ہلکا پن اور معمولی ہونا بیان کرتے تھے اور آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے بھی اسی طرح وضو کیا۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا اور کبھی سفیان نے «عن يساره» کی بجائے «عن شماله» کا لفظ کہا ( مطلب دونوں کا ایک ہی ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھیر لیا اور اپنی داہنی جانب کر لیا۔ پھر نماز پڑھی جس قدر اللہ کو منظور تھا۔ پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے۔ حتیٰ کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ پھر آپ کی خدمت میں مؤذن حاضر ہوا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ ( سفیان کہتے ہیں کہ ) ہم نے عمرو سے کہا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں، دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو نے کہا میں نے عبید بن عمیر سے سنا، وہ کہتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ پھر ( قرآن کی یہ ) آیت پڑھی۔ ”میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَىْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ـ وَعَقَدَ بِيَدِهِ هَكَذَا ـ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ ". وَقَالَ سُلَيْمَانُ وَأَبُو النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ " الإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ".
Narrated Ibn `Abbas:A delegation of the tribe of `Abdul Qais came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are from the tribe of Rabi`a, and the infidels of the tribe of Mudar stand between us and you; so we cannot come to you except during the Sacred Months. Please order us to do something (religious deeds) which we may carry out and also invite to it our people whom we have left behind." The Prophet said, "I order you to do four things and forbid you four others: (I order you) to have faith in Allah, and confess that none has the right to be worshipped but Allah, (and the Prophet (ﷺ) gestured with his hand like this (i.e. one knot) and to offer prayers perfectly and to pay the Zakat, and to pay one-fifth of the booty in Allah's Cause. And I forbid you to use Dubba', Hantam, Naqir and Muzaffat (all these are the names of utensils used for preparing alcoholic drinks)
ہم سے حجاج بن منہال نے حدیث بیان کی ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ آپ نے بتلایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور قبیلہ مضر کے کافر ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت کے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ( کیونکہ ان مہینوں میں لڑائیاں بند ہو جاتی ہیں اور راستے پرامن ہو جاتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلا دیجئیے جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ کے لوگوں سے بھی ان پر عمل کرنے کے لیے کہیں جو ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی شہادت دینے کا ( یہ کہتے ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا۔ نماز قائم کرنا ‘ پھر زکوٰۃ ادا کرنا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے ( کا حکم دیتا ہوں ) اور میں تمہیں کدو کے تونبی سے اور حنتم ( سبز رنگ کا چھوٹا سا مرتبان جیسا گھڑا ) فقیر ( کھجور کی جڑ سے کھودا ہوا ایک برتن ) اور زفت لگا ہوا برتن ( زفت بصرہ میں ایک قسم کا تیل ہوتا تھا ) کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد کے واسطہ سے یہی روایت اس طرح بیان کی ہے۔ «الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله» یعنی اللہ پر ایمان لانے کا مطلب «لا إله إلا الله» کی گواہی دینا۔
Narrated by Aishah
وَقَالَ أَبَانُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مَعَهَا أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْمَرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، وَحَمَلَهَا عَلَى قَتَبٍ. وَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ شُدُّوا الرِّحَالَ فِي الْحَجِّ، فَإِنَّهُ أَحَدُ الْجِهَادَيْنِ.
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) sent my brother, 'Abdur Rahman with me to Tan'im for the 'Umra, and he made me ride on the packsaddle (of a camel). 'Umar said, "Be ready to travel for Hajj as it (Hajj) is one of the two kind of Jihad
اور ابان نے کہا ہم سے مالک بن دینار نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمٰن کو بھیجا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ کرایا اور پالان کی پچھلی لکڑی پر ان کو بٹھا لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے لیے پالانیں باندھو کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے۔
Narrated by Urwa bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَجَبٍ.
Narrated 'Urwa bin Az-Zubair:I asked `Aisha (whether the Prophet (ﷺ) had performed `Umra in Rajab). She replied, "Allah's Messenger (ﷺ) never performed any `Umra in Rajab
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَلَقَ رَأْسَهُ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلاً.
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) was prevented from performing (`Umra) Therefore, he shaved his head and had sexual relations with his wives and slaughtered his Hadi and performed Umra in the following year
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے سال مکہ جانے سے روک دیئے گئے تو آپ نے حدیبیہ ہی میں اپنا سر منڈوایا اور ازواج مطہرات کے پاس گئے اور قربانی کو نحر کیا، پھر آئندہ سال ایک دوسرا عمرہ کیا۔
Narrated by `Abdullah bin Abu Qatada
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ـ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ ـ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ حَاجًّا، فَخَرَجُوا مَعَهُ فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ، فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ. فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ إِلاَّ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، وَقَالُوا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَقَدْ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ثُمَّ قُلْنَا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا. قَالَ " مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا، أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا ". قَالُوا لاَ. قَالَ " فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا ".
Narrated `Abdullah bin Abu Qatada:That his father had told him that Allah's Messenger (ﷺ) set out for Hajj and so did his companions. He sent a batch of his companions by another route and Abu Qatada was one of them. The Prophet (ﷺ) said to them, "Proceed along the seashore till we meet all together." So, they took the route of the seashore, and when they started all of them assumed Ihram except Abu Qatada. While they were proceeding on, his companions saw a group of onagers. Abu Qatada chased the onagers and attacked and wounded a sheonager. They got down and ate some of its meat and said to each other: "How do we eat the meat of the game while we are in a state of Ihram?" So, we (they) carried the rest of the she-onager's meat, and when they met Allah's Messenger (ﷺ) they asked, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We assumed Ihram with the exception of Abu Qatada and we saw (a group) of onagers. Abu Qatada attacked them and wounded a she-onager from them. Then we got down and ate from its meat. Later, we said, (to each other), 'How do we eat the meat of the game and we are in a state of Ihram?' So, we carried the rest of its meat. The Prophet asked, "Did anyone of you order Abu Qatada to attack it or point at it?" They replied in the negative. He said, "Then eat what is left of its meat
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن موہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد ابوقتادہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حج کا ) ارادہ کر کے نکلے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ایک جماعت کو جس میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ ہدایت دے کر راستے سے واپس بھیجا کہ تم لوگ دریا کے کنارے کنارے ہو کر جاؤ، ( اور دشمن کا پتہ لگاؤ ) پھر ہم سے آ ملو۔ چنانچہ یہ جماعت دریا کے کنارے کنارے چلی، واپسی میں سب نے احرام باندھ لیا تھا لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ یہ قافلہ چل رہا تھا کہ کئی گورخر دکھائی دئیے، ابوقتادہ نے ان پر حملہ کیا اور ایک مادہ کا شکار کر لیا، پھر ایک جگہ ٹھہر کر سب نے اس کا گوشت کھایا اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت بھی کھا سکتے ہیں؟ چنانچہ جو کچھ گوشت بچا وہ ہم ساتھ لائے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی یا رسول اللہ! ہم سب لوگ تو محرم تھے لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا پھر ہم نے گورخر دیکھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر کے ایک مادہ کا شکار کر لیا، اس کے بعد ایک جگہ ہم نے قیام کیا اور اس کا گوشت کھایا پھر خیال آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ہیں؟ اس لیے جو کچھ گوشت باقی بچا ہے وہ ہم ساتھ لائے ہیں۔ آپ نے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو شکار کرنے کے لیے کہا تھا؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟ سب نے کہا نہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بچا ہوا گوشت بھی کھا لو۔
Narrated by `Ali
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا عِنْدَنَا شَىْءٌ إِلاَّ كِتَابُ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ". وَقَالَ " ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ، وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ".
Narrated `Ali:We have nothing except the Book of Allah and this written paper from the Prophet (wherein is written:) Medina is a sanctuary from the 'Air Mountain to such and such a place, and whoever innovates in it an heresy or commits a sin, or gives shelter to such an innovator in it will incur the curse of Allah, the angels, and all the people, none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted. And the asylum (of protection) granted by any Muslim is to be secured (respected) by all the other Muslims; and whoever betrays a Muslim in this respect incurs the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted, and whoever (freed slave) befriends (take as masters) other than his manumitters without their permission incurs the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس کتاب اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صحیفہ کے سوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ہے اور کوئی چیز ( شرعی احکام سے متعلق ) لکھی ہوئی صورت میں نہیں ہے۔ اس صحیفہ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے اس لیے اگر کسی مسلمان کی ( دی ہوئی امان میں دوسرے مسلمان نے ) بدعہدی کی تو اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔ نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل، اور جو کوئی اپنے مالک کو چھوڑ کر اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے، اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ. مَرَّتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Fasting is a shield (or a screen or a shelter). So, the person observing fasting should avoid sexual relation with his wife and should not behave foolishly and impudently, and if somebody fights with him or abuses him, he should tell him twice, 'I am fasting." The Prophet (ﷺ) added, "By Him in Whose Hands my soul is, the smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. (Allah says about the fasting person), 'He has left his food, drink and desires for My sake. The fast is for Me. So I will reward (the fasting person) for it and the reward of good deeds is multiplied ten times
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے ( روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، ( یہ الفاظ ) دو مرتبہ ( کہہ دے ) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ( دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ.
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) used to pray (at night) in Ramadan
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار نماز ( تراویح ) پڑھی اور یہ رمضان میں ہوا تھا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ".
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Search for the Night of Qadr in the odd nights of the last ten days of Ramadan
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوسہیل نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ مالک بن عامر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصْغِي إِلَىَّ رَأْسَهُ وَهْوَ مُجَاوِرٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to (put) bend his head (out) to me while he was in I`tikaf in the mosque during my monthly periods and I would comb and oil his hair
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے اور سر مبارک میری طرف جھکا دیتے پھر میں اس میں کنگھا کر دیتی، حالانکہ میں اس وقت حیض سے ہوا کرتی تھی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ عُكَاظٌ وَمِجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ فَكَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا فِيهِ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ } فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ، قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ.
Narrated Ibn `Abbas:`Ukaz, Majanna and Dhul-Majaz were marketplaces in the Pre-Islamic period of ignorance. When Islam came, Muslims felt that marketing there might be a sin. So, the Divine Inspiration came: "There is no harm for you to seek the bounty of your Lord (in the seasons of Hajj)." (2.198) Ibn `Abbas recited the Verse in this way
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عکاظ مجنہ، اور ذوالمجاز عہد جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو ایسا ہوا کہ مسلمان لوگ ( خرید و فروخت کے لیے ان بازاروں میں جانا ) گناہ سمجھنے لگے۔ اس لیے یہ آیت نازل ہوئی ”تمہارے لیے اس میں کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل ( یعنی رزق حلال ) کی تلاش کرو حج کے موسم میں“ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرآت ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَاسْتَأْجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا ـ الْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ ـ قَدْ غَمَسَ يَمِينَ حِلْفٍ فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَأَمِنَاهُ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا، صَبِيحَةَ لَيَالٍ ثَلاَثٍ، فَارْتَحَلاَ، وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، وَالدَّلِيلُ الدِّيلِيُّ فَأَخَذَ بِهِمْ أَسْفَلَ مَكَّةَ وَهْوَ طَرِيقُ السَّاحِلِ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr employed a (pagan) man from the tribe of Bani Ad-Dail and the tribe of Bani 'Abu bin `Adi as a guide. He was an expert guide and he broke the oath contract which he had to abide by with the tribe of Al-`Asi bin Wail and he was on the religion of Quraish pagans. The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr had confidence in him and gave him their riding camels and told him to bring them to the Cave of Thaur after three days. So, he brought them their two riding camels after three days and both of them (The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr) set out accompanied by 'Amir bin Fuhaira and the Dili guide who guided them below Mecca along the road leading to the sea-shore
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( ہجرت کرتے وقت ) بنو دیل کے ایک مرد کو نوکر رکھا جو بنو عبد بن عدی کے خاندان سے تھا۔ اور اسے بطور ماہر راہبر مزدوری پر رکھا تھا ( حدیث کے لفظ ) «خريت» کے معنی راہبری میں ماہر کے ہیں۔ اس نے اپنا ہاتھ پانی وغیرہ میں ڈبو کر عاص بن وائل کے خاندان سے عہد کیا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے دین پر تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس پر بھروسہ تھا۔ اسی لیے اپنی سواریاں انہوں نے اسے دے دیں اور غار ثور پر تین رات کے بعد اس سے ملنے کی تاکید کی تھی۔ وہ شخص تین راتوں کے گزرتے ہی صبح کو دونوں حضرات کی سواریاں لے کر وہاں حاضر ہو گیا۔ اس کے بعد یہ حضرات وہاں سے عامر بن فہیرہ اور اس دیلی راہبر کو ساتھ لے کر چلے۔ یہ شخص ساحل کے کنارے سے آپ کو لے کر چلا تھا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ.
Narrated Anas:`Abdur-Rahman bin `Auf came to us and Allah's Messenger (ﷺ) established a bond of brotherhood between him and Sa`d bin Rabi`a
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں آئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کرایا تھا۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُمْ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ". وَقَالَ فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) employed someone as a governor at Khaibar. When the man came to Medina, he brought with him dates called Janib. The Prophet (ﷺ) asked him, "Are all the dates of Khaibar of this kind?" The man replied, "(No), we exchange two Sa's of bad dates for one Sa of this kind of dates (i.e. Janib), or exchange three Sa's for two." On that, the Prophet (ﷺ) said, "Don't do so, as it is a kind of usury (Riba) but sell the dates of inferior quality for money, and then buy Janib with the money". The Prophet said the same thing about dates sold by weight. (See Hadith No)
Narrated by As-Sa'ib bin Yazid
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ ـ رَجُلاً مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا، نَقَصَ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ ". قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.
Narrated As-Sa'ib bin Yazid:Abu Sufyan bin Abu Zuhair, a man from Azd Shanu'a and one of the companions of the Prophet (ﷺ) said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'If one keeps a dog which is meant for guarding neither a farm nor cattle, one Qirat of the reward of his good deeds is deducted daily." I said, "Did you hear this from Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Yes, by the Lord of this Mosque
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یزید بن خصیفہ نے، ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ سفیان بن زہیر نے ازدشنوہ قبیلے کے ایک بزرگ سے سنا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ جس نے کتا پالا، جو نہ کھیتی کے لیے ہے اور نہ مویشی کے لیے، تو اس کی نیکیوں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو جاتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں! اس مسجد کے رب کی قسم! ( میں نے ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ فَضْلَ الْكَلإِ ".
Narrated Abu Huraira:that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not withhold the superfluous water in order to withhold the superfluous grass
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب اور ابوسلمہ نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فالتو پانی سے کسی کو اس غرض سے نہ روکو کہ جو گھاس ضرورت سے زیادہ ہو اسے بھی روک لو۔
Narrated by Abu Dhar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَبْصَرَ ـ يَعْنِي أُحُدًا ـ قَالَ " مَا أُحِبُّ أَنَّهُ يُحَوَّلُ لِي ذَهَبًا يَمْكُثُ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ دِينَارًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ". ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ، إِلاَّ مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا ". وَأَشَارَ أَبُو شِهَابٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ـ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ـ وَقَالَ مَكَانَكَ. وَتَقَدَّمَ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَكَ، فَلَمَّا جَاءَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، الَّذِي سَمِعْتُ أَوْ قَالَ الصَّوْتُ الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ " وَهَلْ سَمِعْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " أَتَانِي جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قُلْتُ وَإِنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " نَعَمْ ".
Narrated Abu Dhar:Once, while I was in the company of the Prophet, he saw the mountain of Uhud and said, "I would not like to have this mountain turned into gold for me unless nothing of it, not even a single Dinar remains of it with me for more than three days (i.e. I will spend all of it in Allah's Cause), except that Dinar which I will keep for repaying debts." Then he said, "Those who are rich in this world would have little reward in the Hereafter except those who spend their money here and there (in Allah's Cause), and they are few in number." Then he ordered me to stay at my place and went not far away. I heard a voice and intended to go to him but I remembered his order, "Stay at your place till I return." On his return I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (What was) that noise which I heard?" He said, "Did you hear anything?" I said, "Yes." He said, "Gabriel came and said to me, 'Whoever amongst your followers dies, worshipping none along with Allah, will enter Paradise.' " I said, "Even if he did such-and-such things (i.e. even if he stole or committed illegal sexual intercourse)" He said, "Yes
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا، آپ کی مراد احد پہاڑ ( کو دیکھنے ) سے تھی۔ تو فرمایا کہ میں یہ بھی پسند نہیں کروں گا کہ احد پہاڑ سونے کا ہو جائے تو اس میں سے میرے پاس ایک دینار کے برابر بھی تین دن سے زیادہ باقی رہے۔ سوا اس دینار کے جو میں کسی کا قرض ادا کرنے کے لیے رکھ لوں۔ پھر فرمایا، ( دنیا میں ) دیکھو جو زیادہ ( مال ) والے ہیں وہی محتاج ہیں۔ سوا ان کے جو اپنے مال و دولت کو یوں اور یوں خرچ کریں۔ ابوشہاب راوی نے اپنے سامنے اور دائیں طرف اور بائیں طرف اشارہ کیا، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں ٹھہرے رہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دور آگے کی طرف بڑھے۔ میں نے کچھ آواز سنی ( جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے باتیں کر رہے ہوں ) میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آیا کہ ”یہیں اس وقت تک ٹھہرے رہنا جب تک میں نہ آ جاؤں“ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ابھی میں نے کچھ سنا تھا۔ یا ( راوی نے یہ کہا کہ ) میں نے کوئی آواز سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم نے بھی سنا! میں نے عرض کیا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے تھے اور کہہ گئے ہیں کہ تمہاری امت کا جو شخص بھی اس حالت میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا کہ اگرچہ وہ اس طرح ( کے گناہ ) کرتا رہا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ہاں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، قِيلَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ أَفُلاَنٌ، أَفُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
Narrated Anas:A Jew crushed the head of a girl between two stones. The girl was asked who had crushed her head, and some names were mentioned before her, and when the name of the Jew was mentioned, she nodded agreeing. The Jew was captured and when he confessed, the Prophet (ﷺ) ordered that his head be crushed between two stones
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تھا۔ ( اس میں کچھ جان باقی تھی ) اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے، فلاں نے؟ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا ( کہ ہاں ) یہودی پکڑا گیا اور اس نے بھی جرم کا اقرار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔
Narrated by Zaid bin Khalid
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ. فَقَالَ " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا ". قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ " هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ". قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ".
Narrated Zaid bin Khalid:A man came and asked Allah's Messenger (ﷺ) about picking a lost thing. The Prophet (ﷺ) said, "Remember the description of its container and the string it is tied with, and make public announcement about it for one year. If the owner shows up, give it to him; otherwise, do whatever you like with it." He then asked, "What about a lost sheep?" The Prophet (ﷺ) said, "It is for you, for your brother (i.e. its owner), or for the wolf." He further asked, "What about a lost camel?" The Prophet (ﷺ) said, "It is none of your concern. It has its water-container (reservoir) and its feet, and it will reach water and drink it and eat the trees till its owner finds it
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، انہیں منبعث کے غلام یزید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے برتن کی بناوٹ اور اس کے بندھن کو ذہن میں یاد رکھ کر ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ۔ اگر مالک مل جائے ( تو اسے دیدے ) ورنہ اپنی ضرورت میں خرچ کر۔ انہوں نے پوچھا اور اگر راستہ بھولی ہوئی بکری ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی کی ہو گی۔ ورنہ پھر بھیڑیا اسے اٹھا لے جائے گا صحابی نے پوچھا اور اونٹ جو راستہ بھول جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ خود اس کا مشکیزہ ہے، اس کے کھر ہیں، پانی پر وہ خود ہی پہنچ جائے گا اور خود ہی درخت کے پتے کھا لے گا۔ اور اس طرح کسی نہ کسی دن اس کا مالک اسے خود پا لے گا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Help your brother, whether he is an oppressor or he is an oppressed one
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن ابی بکر بن انس اور حمید طویل نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ".
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "When the people of Ash`ari tribe ran short of food during the holy battles, or the food of their families in Medina ran short, they would collect all their remaining food in one sheet and then distribute it among themselves equally by measuring it with a bowl. So, these people are from me, and I am from them
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قبیلہ اشعر کے لوگوں کا جب جہاد کے موقع پر توشہ کم ہو جاتا یا مدینہ ( کے قیام ) میں ان کے بال بچوں کے لیے کھانے کی کمی ہو جاتی تو جو کچھ بھی ان کے پاس توشہ ہوتا تو وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں۔ پھر آپس میں ایک برتن سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ پس وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔
Narrated by Abu Salama
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو، عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَبَهْزٌ وَالْجُدِّيُّ عَنْ شُعْبَةَ قَدْرِ صَاعٍ.
Narrated Abu Salama:`Aisha's brother and I went to `Aisha and he asked her about the bath of the Prophet. She brought a pot containing about a Sa` of water and took a bath and poured it over her head and at that time there was a screen between her and us
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد نے، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن حفص نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے یہ حدیث سنی کہ میں ( ابوسلمہ ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ ( نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ " الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "One can ride the mortgaged animal because of what one spends on it, and one can drink the milk of a milch animal as long as it is mortgaged
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گروی جانور پر اس کا خرچ نکالنے کے لیے سواری کی جائے، دودھ والا جانور گروی ہو تو اس کا دودھ پیا جائے۔
Narrated by Asma' bint Abu Bakr
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَثَّامٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ كُنَّا نُؤْمَرُ عِنْدَ الْخُسُوفِ بِالْعَتَاقَةِ.
Narrated Asma' bint Abu Bakr:We were ordered to free slaves at the time of lunar eclipses
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہمیں سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ وَقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي. فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي. فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا، فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَأَبَوْا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْوَلاَءُ لَهُمْ. فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ " خُذِيهَا، فَأَعْتِقِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاَءَ، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَأَيُّمَا شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهْوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، فَقَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ يَا فُلاَنُ وَلِيَ الْوَلاَءُ إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
Narrated Aisha:Barirah came (to `Aisha) and said, "I have made a contract of emancipation with my masters for nine Uqiyas (of gold) to be paid in yearly installments. Therefore, I seek your help." `Aisha said, "If your masters agree, I will pay them the sum at once and free you on condition that your Wala' will be for me." Barirah went to her masters but they refused that offer. She (came back) and said, "I presented to them the offer but they refused, unless the Wala' was for them." Allah's Messenger (ﷺ) heard of that and asked me about it, and I told him about it. On that he said, "Buy and manumit her and stipulate that the Wala' should be for you, as Wala' is for the liberator." `Aisha added, "Allah's Messenger (ﷺ) then got up amongst the people, Glorified and Praised Allah, and said, 'Then after: What about some people who impose conditions which are not present in Allah's Laws? So, any condition which is not present in Allah's Laws is invalid even if they were one-hundred conditions. Allah's ordinance is the truth, and Allah's condition is stronger and more solid. Why do some men from you say, O so-and-so! manumit the slave but the Wala will be for me? Verily, the Wala is for the liberator
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد سے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کا معاملہ کیا ہے۔ ہر سال ایک اوقیہ مجھے ادا کرنا پڑے گا۔ آپ بھی میری مدد کریں۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تمہارے مالک پسند کریں تو میں انہیں ( یہ ساری رقم ) ایک ہی مرتبہ دے دوں اور پھر تمہیں آزاد کر دوں، تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ لیکن تمہاری ولاء میرے ساتھ ہو جائے گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں تو انہوں نے اس صورت سے انکار کیا ( واپس آ کر ) انہوں نے بتایا کہ میں نے آپ کی یہ صورت ان کے سامنے رکھی تھی لیکن وہ اسے صرف اس صورت میں قبول کرنے کو تیار ہیں کہ ولاء ان کے ساتھ قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو انہیں لے کر آزاد کر دے اور انہیں ولاء کی شرط لگانے دے۔ ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کیا۔ اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا، تم میں سے کچھ لوگوں کو یہ کیا ہو گیا ہے کہ ( معاملات میں ) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل ( دلیل، بنیاد ) کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ پس جو بھی شرط ایسی ہو جس کی اصل ( دلیل، بنیاد ) کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہے۔ خواہ ایسی سو شرطیں کیوں نہ لگالی جائیں۔ اللہ کا فیصلہ ہی حق ہے اور اللہ کی شرط ہی مضبوط ہے کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں، اے فلاں! آزاد تم کرو اور ولاء میرے ساتھ قائم رہے گی۔ ولاء تو صرف اسی کے ساتھ قائم ہو گی جو آزاد کرے۔
Narrated by Sahl
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَكَانَ لَهَا غُلاَمٌ نَجَّارٌ قَالَ لَهَا " مُرِي عَبْدَكِ فَلْيَعْمَلْ لَنَا أَعْوَادَ الْمِنْبَرِ ". فَأَمَرَتْ عَبْدَهَا، فَذَهَبَ فَقَطَعَ مِنَ الطَّرْفَاءِ، فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا، فَلَمَّا قَضَاهُ أَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَدْ قَضَاهُ، قَالَ صلى الله عليه وسلم " أَرْسِلِي بِهِ إِلَىَّ ". فَجَاءُوا بِهِ فَاحْتَمَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ.
Narrated Sahl:The Prophet (ﷺ) sent for a woman from the emigrants and she had a slave who was a carpenter. The Prophet said to her "Order your slave to prepare the wood (pieces) for the pulpit." So, she ordered her slave who went and cut the wood from the tamarisk and prepared the pulpit, for the Prophet. When he finished the pulpit, the woman informed the Prophet (ﷺ) that it had been finished. The Prophet (ﷺ) asked her to send that pulpit to him, so they brought it. The Prophet (ﷺ) lifted it and placed it at the place in which you see now
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان، کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہاجرہ عورت کے پاس ( اپنا آدمی ) بھیجا۔ ان کا ایک غلام بڑھئی تھا۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے غلام سے ہمارے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنانے کے لیے کہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا۔ وہ غابہ سے جا کر جھاؤ کاٹ لایا اور اسی کا ایک منبر بنا دیا۔ جب وہ منبر بنا چکے تو اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ منبر بن کر تیار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا کہ اسے میرے پاس بھجوا دیں۔ جب لوگ اسے لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے اٹھایا اور جہاں تم اب دیکھ رہے ہو۔ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا۔
Narrated by `Abdullah bin Abu Mulaika from `Uqba bin Al-Harith
حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ. فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلاَ أَخْبَرْتِنِي. فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ يَسْأَلُهُمْ فَقَالُوا مَا عَلِمْنَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا. فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ". فَفَارَقَهَا، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ.
Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika from `Uqba bin Al-Harith:`Uqba married the daughter of Abu Ihab bin `Aziz, and then a woman came and said, "I suckled `Uqba and his wife." `Uqba said to her, "I do not know that you have suckled me, and you did not inform me." He then sent someone to the house of Abu Ihab to inquire about that but they did not know that she had suckled their daughter. Then `Uqba went to the Prophet (ﷺ) in Medina and asked him about it. The Prophet (ﷺ) said to him, "How (can you keep your wife) after it has been said (that both of you were suckled by the same woman)?" So, he divorced her and she was married to another (husband)
ہم سے حبان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی اور انہیں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ ایک خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ عقبہ کو بھی میں نے دودھ پلایا ہے اور اسے بھی جس سے اس نے شادی کی ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے تو معلوم نہیں کہ آپ نے مجھے دودھ پلایا ہے اور آپ نے مجھے پہلے اس سلسلے میں کچھ بتایا بھی نہیں تھا۔ پھر انہوں نے آل ابواہاب کے یہاں آدمی بھیجا کہ ان سے اس کے متعلق پوچھے۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے دودھ پلایا ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ کہا جا چکا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں جدائی کرا دی اور اس کا نکاح دوسرے شخص سے کرا دیا۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ أَهْلَ، قُبَاءٍ اقْتَتَلُوا حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَقَالَ " اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ بَيْنَهُمْ ".
Narrated Sahl bin Sa`d:Once the people of Quba fought with each other till they threw stones on each other. When Allah's Apostle was informed about it, he said, "Let us go to bring about a reconciliation between them
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی اور اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قباء کے لوگوں نے آپس میں جھگڑا کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک نے دوسرے پر پتھر پھینکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چلو ہم ان میں صلح کرائیں گے۔“
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:I gave the pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) for offering the prayers perfectly paying the Zakat and giving good advice to every Muslim
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرطوں کے ساتھ بیعت کی تھی۔
Narrated by Al-Aswad
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ وَصِيًّا. فَقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ وَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي ـ أَوْ قَالَتْ حَجْرِي ـ فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي، فَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ
Narrated Al-Aswad:In the presence of `Aisha some people mentioned that the Prophet (ﷺ) had appointed `Ali by will as his successor. `Aisha said, "When did he appoint him by will? Verily when he died he was resting against my chest (or said: in my lap) and he asked for a wash-basin and then collapsed while in that state, and I could not even perceive that he had died, so when did he appoint him by will?
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی عبداللہ بن عون سے ‘ انہیں ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ علی رضی اللہ عنہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) وصی تھے تو آپ نے کہا کہ کب انہیں وصی بنایا۔ میں تو آپ کے وصال کے وقت سر مبارک اپنے سینے پر یا انہوں نے ( بجائے سینے کے ) کہا کہ اپنے گود میں رکھے ہوئے تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پانی کا ) طشت منگوایا تھا کہ اتنے میں ( سر مبارک ) میری گود میں جھک گیا اور میں سمجھ نہ سکی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصی کب بنایا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَصِينٍ، أَنَّ ذَكْوَانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ. قَالَ " لاَ أَجِدُهُ ـ قَالَ ـ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ وَلاَ تَفْتُرَ وَتَصُومَ وَلاَ تُفْطِرَ ". قَالَ وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ.
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "Instruct me as to such a deed as equals Jihad (in reward)." He replied, "I do not find such a deed." Then he added, "Can you, while the Muslim fighter is in the battle-field, enter your mosque to perform prayers without cease and fast and never break your fast?" The man said, "But who can do that?" Abu Huraira added, "The Mujahid (i.e. Muslim fighter) is rewarded even for the footsteps of his horse while it wanders about (for grazing) tied in a long rope
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ہمام نے ‘ کہا ہم سے محمد بن حجادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے ابوحصین نے خبر دی ‘ ان سے ذکوان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب ( نام نامعلوم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد ( جہاد کے لیے ) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور ( نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں ) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور کوئی دن بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان صاحب نے عرض کیا بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین ( پر پاؤں ) مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، سَمِعَ زُهَيْرًا، عَنْ مَنْصُورٍ ابْنِ صَفِيَّةَ، أَنَّ أُمَّهُ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ.
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to lean on my lap and recite Qur'an while I was in menses
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے زہیر سے سنا، انہوں نے منصور بن صفیہ سے کہ ان کی ماں نے ان سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے، حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الضُّبَعِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ، بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ مِنْهُ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ـ وَعَقَدَ بِيَدِهِ ـ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُؤَدُّوا لِلَّهِ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ ".
Narrated Ibn `Abbas:The delegates of the tribe of `Abdul-Qais came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are from the tribe of Rabi`a, and there is the infidels of the tribe of Mudar intervening between you and us, so we cannot come to you except in the Sacred Months. So please order us some instructions that we may apply it to ourselves and also invite our people whom we left behind us to observe as well." The Prophet (ﷺ) said, "I order you (to do) four (things) and forbid you (to do) four: I order you to believe in Allah, that is, to testify that None has the right to be worshipped but Allah (the Prophet (ﷺ) pointed with his hand); to offer prayers perfectly; to pay Zakat; to fast the month of Ramadan, and to pay the Khumus (i.e. one-fifth) of the war booty to Allah and I forbid you to use Ad-dubba', An-Naqir, Al-Hantam and Al-Muzaffat (i.e. utensils used for preparing alcoholic drinks)." (See Hadith No. 50, Vol)
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ ضبعی نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد ( دربار رسالت میں ) حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے اور قبیلہ مضر کے کفار ہمارے اور آپ کے بیچ میں بستے ہیں۔ ( اس لیے ان کے خطرے کی وجہ سے ہم لوگ ) آپ کی خدمت میں صرف ادب والے مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ ہمیں کوئی ایسا واضح حکم فرما دیں جس پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہیں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی بتا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ( میں تمہیں حکم دیتا ہوں ) اللہ پر ایمان لانے کا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو گرہ لگائی ‘ نماز قائم کرنے کا ‘ زکوٰۃ دینے کا ‘ رمضان کے روزے رکھنے کا ‘ اور اس بات کا کہ جو کچھ بھی تمہیں غنیمت کا مال ملے۔ اس میں پانچواں حصہ ( خمس ) اللہ کے لیے نکال دو اور تمہیں میں دبا ‘ نقیر ‘ حنتم اور مزفت کے استعمال سے روکتا ہوں۔
Narrated by Abu Humaid As-Saidi
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَبُوكَ، وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ.
Narrated Abu Humaid As-Saidi:We accompanied the Prophet (ﷺ) in the Ghazwa of Tabuk and the king of 'Aila presented a white mule and a cloak as a gift to the Prophet. And the Prophet (ﷺ) wrote to him a peace treaty allowing him to keep authority over his country
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباس ساعدی نے اور ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک میں شریک تھے۔ ایلہ کے حاکم ( یوحنا بن روبہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر بطور خلعت کے اور ایک تحریر کے ذریعہ اس کے ملک پر اسے ہی حاکم باقی رکھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُرَاهُ " يَقُولُ اللَّهُ شَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتِمَنِي، وَتَكَذَّبَنِي وَمَا يَنْبَغِي لَهُ، أَمَّا شَتْمُهُ فَقَوْلُهُ إِنَّ لِي وَلَدًا. وَأَمَّا تَكْذِيبُهُ فَقَوْلُهُ لَيْسَ يُعِيدُنِي كَمَا بَدَأَنِي ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah the Most Superior said, "The son of Adam slights Me, and he should not slight Me, and he disbelieves in Me, and he ought not to do so. As for his slighting Me, it is that he says that I have a son; and his disbelief in Me is his statement that I shall not recreate him as I have created (him) before
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے ابواحمد نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ مجھے گالی دیتا۔ اس نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لیے یہ بھی مناسب نہ تھا۔ اس کی گالی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، میرا بیٹا ہے اور اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ جس طرح اللہ نے مجھے پہلی بار پیدا کیا، دوبارہ ( موت کے بعد ) وہ مجھے زندہ نہیں کر سکے گا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ مَقْدَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ نَبِيٌّ، {قَالَ مَا} أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ إِلَى أَخْوَالِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَبَّرَنِي بِهِنَّ آنِفًا جِبْرِيلُ ". قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ. وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ. وَأَمَّا الشَّبَهُ فِي الْوَلَدِ فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَشِيَ الْمَرْأَةَ فَسَبَقَهَا مَاؤُهُ كَانَ الشَّبَهُ لَهُ، وَإِذَا سَبَقَ مَاؤُهَا كَانَ الشَّبَهُ لَهَا ". قَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ، إِنْ عَلِمُوا بِإِسْلاَمِي قَبْلَ أَنْ تَسْأَلَهُمْ بَهَتُونِي عِنْدَكَ، فَجَاءَتِ الْيَهُودُ وَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ الْبَيْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ". قَالُوا أَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا وَأَخْبَرُنَا وَابْنُ أَخْيَرِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ ". قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا. وَوَقَعُوا فِيهِ.
Narrated Anas:When `Abdullah bin Salam heard the arrival of the Prophet (ﷺ) at Medina, he came to him and said, "I am going to ask you about three things which nobody knows except a prophet: What is the first portent of the Hour? What will be the first meal taken by the people of Paradise? Why does a child resemble its father, and why does it resemble its maternal uncle" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Gabriel has just now told me of their answers." `Abdullah said, "He (i.e. Gabriel), from amongst all the angels, is the enemy of the Jews." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The first portent of the Hour will be a fire that will bring together the people from the east to the west; the first meal of the people of Paradise will be Extra-lobe (caudate lobe) of fish-liver. As for the resemblance of the child to its parents: If a man has sexual intercourse with his wife and gets discharge first, the child will resemble the father, and if the woman gets discharge first, the child will resemble her." On that `Abdullah bin Salam said, "I testify that you are the Messenger of Allah." `Abdullah bin Salam further said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The Jews are liars, and if they should come to know about my conversion to Islam before you ask them (about me), they would tell a lie about me." The Jews came to Allah's Messenger (ﷺ) and `Abdullah went inside the house. Allah's Apostle asked (the Jews), "What kind of man is `Abdullah bin Salam amongst you?" They replied, "He is the most learned person amongst us, and the best amongst us, and the son of the best amongst us." Allah's Messenger (ﷺ) said, "What do you think if he embraces Islam (will you do as he does)?" The Jews said, "May Allah save him from it." Then `Abdullah bin Salam came out in front of them saying, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is the Apostle of Allah." Thereupon they said, "He is the evilest among us, and the son of the evilest amongst us," and continued talking badly of him
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مروان فزاری نے خبر دی۔ انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کی خبر ملی تو وہ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھوں گا۔ جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ وہ کون سا کھانا ہے جو سب سے پہلے جنتیوں کو کھانے کے لیے دیا جائے گا؟ اور کس چیز کی وجہ سے بچہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے آ کر اس کی خبر دی ہے۔ اس پر عبداللہ نے کہا کہ ملائکہ میں تو یہی تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کی سب سے پہلی علامت ایک آگ کی صورت میں ظاہر ہو گی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی، سب سے پہلا کھانا جو اہل جنت کی دعوت کے لیے پیش کیا جائے گا، وہ مچھلی کی کلیجی پر جو ٹکڑا ٹکا رہتا ہے وہ ہو گا اور بچے کی مشابہت کا جہاں تک تعلق ہے تو جب مرد عورت کے قریب جاتا ہے اس وقت اگر مرد کی منی پہل کر جاتی ہے تو بچہ اسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔ اگر عورت کی منی پہل کر جاتی ہے تو پھر بچہ عورت کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔“ ( یہ سن کر ) عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بول اٹھے ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ پھر عرض کیا، یا رسول اللہ! یہود انتہا کی جھوٹی قوم ہے۔ اگر آپ کے دریافت کرنے سے پہلے میرے اسلام قبول کرنے کے بارے میں انہیں علم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجھ پر ہر طرح کی تہمتیں دھرنی شروع کر دیں گے۔ چنانچہ کچھ یہودی آئے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ گھر کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تم لوگوں میں عبداللہ بن سلام کون صاحب ہیں؟ سارے یہودی کہنے لگے وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ ہم میں سب سے زیادہ بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے صاحب زادے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، اگر عبداللہ مسلمان ہو جائیں تو پھر تمہارا کیا خیال ہو گا؟ انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اتنے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہ سب ان کے متعلق کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بدترین اور سب سے بدترین کا بیٹا ہے، وہیں وہ ان کی برائی کرنے لگے۔
Narrated by Abu Juhaim Al-Ansari
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ.
Narrated Abu Juhaim Al-Ansari:The Prophet (ﷺ) came from the direction of Bir Jamal. A man met him and greeted him. But he did not return back the greeting till he went to a (mud) wall and wiped his face and hands with its dust (performed Tayammum) and then returned back the greeting
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں اور عبداللہ بن یسار جو کہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری ( صحابی ) کے پاس آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”بئر جمل“ کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، راستے میں ایک شخص نے آپ کو سلام کیا ( یعنی خود اسی ابوجہیم نے ) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کے قریب آئے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا پھر ان کے سلام کا جواب دیا۔
Narrated by Kulaib
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا كُلَيْبٌ، حَدَّثَتْنِي رَبِيبَةُ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم وَأَظُنُّهَا زَيْنَبَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْمُزَفَّتِ. وَقُلْتُ لَهَا أَخْبِرِينِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ كَانَ مِنْ مُضَرَ كَانَ قَالَتْ فَمِمَّنْ كَانَ إِلاَّ مِنْ مُضَرَ، كَانَ مِنْ وَلَدِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ.
Narrated Kulaib:I was told by the Rabiba (i.e. daughter of the wife of the Prophet) who, I think, was Zainab, that the Prophet (forbade the utensils (of wine called) Ad-Dubba, Al-Hantam, Al-Muqaiyar and Al-Muzaffat. I said to her, 'Tell me as to which tribe the Prophet (ﷺ) belonged; was he from the tribe of Mudar?'' She replied, "He belonged to the tribe of Mudar and was from the offspring of An-Nadr bin Kinana
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے کلیب نے بیان کیا، اور ان سے ربیبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، میرا خیال ہے کہ ان سے مراد زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا تھا اور میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق کس قبیلہ سے تھا؟ کیا واقعی آپ کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے کہا پھر اور کس سے ہو سکتا ہے یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا۔ آپ نضر بنی بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔
Narrated by Muhammad bin Al-Munkadir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ صَلَّى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ، وَثِيَابُهُ مَوْضُوعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ قَالَ لَهُ قَائِلٌ تُصَلِّي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ فَقَالَ إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِي أَحْمَقُ مِثْلُكَ، وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated Muhammad bin Al-Munkadir:Once Jabir prayed with his Izar tied to his back while his clothes were Lying beside him on a wooden peg. Somebody asked him, "Do you offer your prayer in a single Izar?" He replied, "I did so to show it to a fool like you. Had anyone of us two garments in the lifetime of the Prophet?
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے واقد بن محمد نے محمد بن منکدر کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے تہبند باندھ کر نماز پڑھی۔ جسے انہوں نے سر تک باندھ رکھا تھا اور آپ کے کپڑے کھونٹی پر ٹنگے ہوئے تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھ جیسا کوئی احمق مجھے دیکھے۔ بھلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو کپڑے بھی کس کے پاس تھے؟
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ مِنْ عَازِبٍ رَحْلاً بِثَلاَثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْ إِلَىَّ رَحْلِي. فَقَالَ عَازِبٌ لاَ حَتَّى تُحَدِّثَنَا كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ قَالَ ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ، فَأَحْيَيْنَا أَوْ سَرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّى أَظْهَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي هَلْ أَرَى مِنْ ظِلٍّ فَآوِيَ إِلَيْهِ، فَإِذَا صَخْرَةٌ أَتَيْتُهَا فَنَظَرْتُ بَقِيَّةَ ظِلٍّ لَهَا فَسَوَّيْتُهُ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهِ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ اضْطَجِعْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ. فَاضْطَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ انْطَلَقْتُ أَنْظُرُ مَا حَوْلِي، هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا، فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلاَمُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ. فَقُلْتُ هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ قَالَ نَعَمْ. قُلْتُ فَهَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لَبَنًا قَالَ نَعَمْ. فَأَمَرْتُهُ فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ هَكَذَا ضَرَبَ إِحْدَى كَفَّيْهِ بِالأُخْرَى فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ثُمَّ قُلْتُ قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " بَلَى ". فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَا، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ. فَقُلْتُ هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ " لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ".
Narrated Al-Bara':Abu Bakr bought a (camel) saddle from `Azib for thirteen Dirhams. Abu Bakr said to `Azib, "Tell Al- Bara' to carry the saddle for me." `Azib said, "No, unless you relate to me what happened to you and Allah's Messenger (ﷺ) when you left Mecca while the pagans were in search of you." Abu Bakr said, "We left Mecca and we traveled continuously for that night and the following day till it was midday. I looked (around) searching for shade to take as shelter, and suddenly I came across a rock, and found a little shade there. So I cleaned the place and spread a bed for the Prophet (ﷺ) in the shade and said to him, 'Lie down, O Allah's Messenger (ﷺ).' So the Prophet (ﷺ) lay down and I went out, looking around to see if there was any person pursuing us. Suddenly I saw a shepherd driving his sheep towards the rock, seeking what we had already sought from it. I asked him, 'To whom do you belong, O boy?' He said, 'I belong to a man from Quraish.' He named the man and I recognized him. I asked him, 'Is there any milk with your sheep?' He said, 'Yes.' I said, 'Will you then milk (some) for us?' He said, 'Yes.' Then I asked him to tie the legs of one of the sheep and clean its udder, and then ordered him to clean his hands from dust. Then the shepherd cleaned his hands by striking his hands against one another. After doing so, he milked a small amount of milk. I used to keep for Allah's Messenger (ﷺ) a leather water-container, the mouth of which was covered with a piece of cloth. I poured water on the milk container till its lower part was cold. Then I took the milk to the Prophet (ﷺ) whom I found awake. I said to him, 'Drink, O Allah's Messenger (ﷺ).' So he drank till I became pleased. Then I said, 'It is time for us to move, O Allah's Apostle!' He said, 'Yes.' So we set out while the people (i.e. Quraish pagans) were searching for us, but none found us except Suraqah bin Malik bin Ju`shum who was riding his horse. I said, 'These are our pursuers who have found us. O Allah's Messenger (ﷺ)!' He said, 'Do not grieve, for Allah is with us
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( ان کے والد ) عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان تیرہ درہم میں خریدا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء ( اپنے بیٹے ) سے کہو کہ وہ میرے گھر یہ پالان اٹھا کر پہنچا دیں اس پر عازب رضی اللہ عنہ نے کہا یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ وہ واقعہ بیان نہ کریں کہ آپ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے ہجرت کرنے کے لیے ) کس طرح نکلے تھے حالانکہ مشرکین آپ دونوں کو تلاش بھی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ سے نکلنے کے بعد ہم رات بھر چلتے رہے اور دن میں بھی سفر جاری رکھا۔ لیکن جب دوپہر ہو گئی تو میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ کہیں کوئی سایہ نظر آ جائے اور ہم اس میں کچھ آرام کر سکیں۔ آخر ایک چٹان دکھائی دی اور میں نے اس کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ سایہ ہے۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک فرش وہاں بچھا دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ اب آرام فرمائیں۔ چنانچہ آپ لیٹ گئے۔ پھر میں چاروں طرف دیکھتا ہوا نکلا کہ کہیں لوگ ہماری تلاش میں نہ آئے ہوں۔ پھر مجھ کو بکریوں کا ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریاں ہانکتا ہوا اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح سایہ کی تلاش میں تھا۔ میں نے بڑھ کر اس سے پوچھا کہ لڑکے تم کس کے غلام ہو۔ اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے کہا جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا تم دودھ دوہ سکتے ہوں؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا اور اس نے اپنے ریوڑ کی ایک بکری باندھ دی۔ پھر میرے کہنے پر اس نے اس کے تھن کے غبار کو جھاڑا۔ اب میں نے کہا کہ اپنا ہاتھ بھی جھاڑ لے۔ اس نے یوں اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا اور میرے لیے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن میں نے پہلے ہی سے ساتھ لے لیا تھا اور اس کے منہ کو کپڑے سے بند کر دیا تھا ( اس میں ٹھنڈا پانی تھا ) پھر میں نے دودھ پر وہ پانی ( ٹھنڈا کرنے کے لیے ) ڈالا اتنا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا تو اسے آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ آپ بھی بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کیا: دودھ پی لیجئے۔ آپ نے اتنا پیا کہ مجھے خوشی حاصل ہو گئی، پھر میں نے عرض کیا کہ اب کوچ کا وقت ہو گیا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے، چلو۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور مکہ والے ہماری تلاش میں تھے لیکن سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہم کو کسی نے نہیں پایا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، میں نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ یا رسول اللہ! ہمارا پیچھا کرنے والا دشمن ہمارے قریب آ پہنچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ الأَنْصَارَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ فِي وَادِي الأَنْصَارِ، وَلَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ ". فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي، آوَوْهُ وَنَصَرُوهُ. أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) or Abul-Qasim said, "If the Ansar took their way through a valley or a mountain pass, I would take Ansar's valley. And but for the migration, I would have been one of the Ansar." Abu Huraira used to say, "The Prophet (ﷺ) is not unjust (by saying so). May my parents be sacrificed for him, for the Ansar sheltered and helped him," or said a similar sentence
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا ( یوں بیان کیا کہ ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار جس وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں بھی انہیں کی وادی میں جاؤں گا۔ اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ نے یہ کوئی ظلم والی بات نہیں فرمائی آپ کو انصار نے اپنے یہاں ٹھہرایا اور آپ کی مدد کی تھی یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( اس کے ہم معنی ) اور کوئی دوسرا کلمہ کہا۔
Narrated by Ibn Masud
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ مَشْهَدًا، لأَنْ أَكُونَ صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لاَ نَقُولُ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ} وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ. يَعْنِي قَوْلَهُ.
Narrated Ibn Masud:I witnessed Al-Miqdad bin Al-Aswad in a scene which would have been dearer to me than anything had I been the hero of that scene. He (i.e. Al-Miqdad) came to the Prophet (ﷺ) while the Prophet (ﷺ) was urging the Muslims to fight with the pagans. Al-Miqdad said, "We will not say as the People of Moses said: Go you and your Lord and fight you two. (5.27). But we shall fight on your right and on your left and in front of you and behind you." I saw the face of the Prophet (ﷺ) getting bright with happiness, for that saying delighted him
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، ان سے مخارق بن عبداللہ بجلی نے، ان سے طارق بن شہاب نے، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسی بات سنی کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہو جاتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مشرکین پر بددعا کر رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم وہ نہیں کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ جاؤ، تم اور تمہارا رب ان سے جنگ کرو، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے اور پیچھے جمع ہو کر لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ ـ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْىِ، فَقَالَ ـ فِي حَدِيثِهِ " بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا، مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي. فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ} إِلَى قَوْلِهِ {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} فَحَمِيَ الْوَحْىُ وَتَتَابَعَ ". تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو صَالِحٍ. وَتَابَعَهُ هِلاَلُ بْنُ رَدَّادٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ " بَوَادِرُهُ ".
Narrated Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari (while talking about the period of pause in revelation) reporting the speech of the Prophet:"While I was walking, all of a sudden I heard a voice from the sky. I looked up and saw the same angel who had visited me at the cave of Hira' sitting on a chair between the sky and the earth. I got afraid of him and came back home and said, 'Wrap me (in blankets).' And then Allah revealed the following Holy Verses (of Quran): 'O you (i.e. Muhammad)! wrapped up in garments!' Arise and warn (the people against Allah's Punishment),... up to 'and desert the idols.' (74.1-5) After this the revelation started coming strongly, frequently and regularly
ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے ہلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ «فواده» کی جگہ «بوادره» نقل کیا ہے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهْوَ خَلَقَكَ ". قُلْتُ إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، قُلْتُ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ تَخَافُ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ". قُلْتُ ثُمَّ أَىُّ قَالَ " أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ".
Narrated `Abdullah:I asked the Prophet, "What is the greatest sin in the Sight of Allah?" He said, "That you set up a rival unto Allah though He Alone created you." I said, "That is indeed a great sin." Then asked, "What is next?" He said, "To kill your son lest he should share your food with you." I asked, "What is next?" He said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرحبیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو برابر ٹھہراؤ حالانکہ اللہ ہی نے تم کو پید اکیا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ تو واقعی سب سے بڑا گناہ ہے، پھر اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرو۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ اللَّهَ، تَعَالَى تَابَعَ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تَوَفَّاهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْىُ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ.
Narrated Anas bin Malik:Allah sent down His Divine Inspiration to His Apostle continuously and abundantly during the period preceding his death till He took him unto Him. That was the period of the greatest part of revelation; and Allah's Messenger (ﷺ) died after that
ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (ابراہیم بن سعد) نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا، مجھ سے انس بن مالک نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پے در پے وحی اتارتا رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریبی زمانے میں تو بہت وحی اتری پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَبَابًا لاَ نَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ".
Narrated `Abdullah:We were with the Prophet (ﷺ) while we were young and had no wealth. So Allah's Messenger (ﷺ) said, "O young people! Whoever among you can marry, should marry, because it helps him lower his gaze and guard his modesty (i.e. his private parts from committing illegal sexual intercourse etc.), and whoever is not able to marry, should fast, as fasting diminishes his sexual power
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں علقمہ اور اسود ( رحمہم اللہ ) کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔
Narrated by Shaqiq
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ أَنَا، كَمَا قَالَهُ. قَالَ إِنَّكَ عَلَيْهِ ـ أَوْ عَلَيْهَا ـ لَجَرِيءٌ. قُلْتُ " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ وَالنَّهْىُ ". قَالَ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، وَلَكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ. قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. قَالَ أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ يُكْسَرُ. قَالَ إِذًا لاَ يُغْلَقَ أَبَدًا. قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ، إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ. فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ الْبَابُ عُمَرُ.
Narrated Shaqiq:that he had heard Hudhaifa saying, "Once I was sitting with `Umar and he said, 'Who amongst you remembers the statement of Allah's Messenger (ﷺ) about the afflictions?' I said, 'I know it as the Prophet (ﷺ) had said it.' `Umar said, 'No doubt you are bold.' I said, 'The afflictions caused for a man by his wife, money, children and neighbor are expiated by his prayers, fasting, charity and by enjoining (what is good) and forbidding (what is evil).' `Umar said, 'I did not mean that but I asked about that affliction which will spread like the waves of the sea.' I (Hudhaifa) said, 'O leader of the faithful believers! You need not be afraid of it as there is a closed door between you and it.' `Umar asked, Will the door be broken or opened?' I replied, 'It will be broken.' `Umar said, 'Then it will never be closed again.' I was asked whether `Umar knew that door. I replied that he knew it as one knows that there will be night before the tomorrow morning. I narrated a Hadith that was free from any misstatement" The subnarrator added that they deputized Masruq to ask Hudhaifa (about the door). Hudhaifa said, "The door was `Umar himself
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش کی روایت سے بیان کیا، اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا کہ مجھ سے شقیق بن مسلمہ نے بیان کیا، شقیق نے کہا کہ میں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا، میں نے اسے ( اسی طرح یاد رکھا ہے ) جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے، کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتن کو معلوم کرنے میں بہت بےباک تھے۔ میں نے کہا کہ انسان کے گھر والے، مال اولاد اور پڑوسی سب فتنہ ( کی چیز ) ہیں۔ اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے گا۔ اس پر میں نے کہا کہ یا امیرالمؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیے۔ آپ کے اور فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا ( صرف ) کھولا جائے گا۔ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے، کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔ شقیق نے کہا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہاں! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے۔ ہمیں اس کے متعلق حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھنے میں ڈر ہوتا تھا ( کہ دروازہ سے کیا مراد ہے ) اس لیے ہم نے مسروق سے کہا ( کہ وہ پوچھیں ) انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ وہ دروازہ خود عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
Narrated by Al-Awza
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ أَىُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَنَا مِنْهَا قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. فَقَالَ لَهَا " لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ عَنْ جَدِّهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ.
Narrated Al-Awza:I asked Az-Zuhri, "Which of the wives of the Prophet (ﷺ) sought refuge with Allah from him?" He said "I was told by 'Urwa that `Aisha said, 'When the daughter of Al-Jaun was brought to Allah's Messenger (ﷺ) (as his bride) and he went near her, she said, "I seek refuge with Allah from you." He said, "You have sought refuge with The Great; return to your family
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کن بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جون کی بیٹی ( امیمہ یا اسماء ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ( نکاح کے بعد ) لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو اس نے یہ کہہ دیا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے بہت بڑی چیز سے پناہ مانگی ہے، اپنے میکے چلی جاؤ۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حجاج بن یوسف بن ابی منیع سے، اس نے بھی اپنے دادا ابومنیع ( عبیداللہ بن ابی زیاد ) سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Sa`d
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْد ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لِي مَالٌ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَالثُّلُثُ قَالَ " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً، يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَمَهْمَا أَنْفَقْتَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ، وَلَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ، يَنْتَفِعُ بِكَ نَاسٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُونَ ".
Narrated Sa`d:The Prophet (ﷺ) visited me at Mecca while I was ill. I said (to him), "I have property; May I bequeath all my property in Allah's Cause?" He said, "No." I said, "Half of it?" He said, "No." I said, "One third of it?" He said, "One-third (is alright), yet it is still too much, for you'd better leave your inheritors wealthy than leave them poor, begging of others. Whatever you spend will be considered a Sadaqa for you, even the mouthful of food you put in the mouth of your wife. Anyhow Allah may let you recover, so that some people may benefit by you and others be harmed by you
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں سعید بن ابراہیم نے، ان سے عامر بن سعد رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لایے۔ میں اس وقت مکہ مکرمہ میں بیمار تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے پاس مال ہے۔ کیا میں اپنے تمام مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر آدھے کی کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں! میں نے کہا، پھر تہائی کی کر دوں ( فرمایا ) تہائی کی کر دو اور تہائی بھی بہت ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج و تنگ دست چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے وہ ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جب بھی خرچ کرو گے تو وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھنے کے لیے اٹھاؤ گے اور امید ہے کہ ابھی اللہ تمہیں زندہ رکھے گا، تم سے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچے گا اور بہت سے دوسرے ( کفار ) نقصان اٹھائیں گے۔
Narrated by `Umar bin Abi Salama
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ، سَمِعَ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، يَقُولُ كُنْتُ غُلاَمًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا غُلاَمُ سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ ". فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ.
Narrated `Umar bin Abi Salama:I was a boy under the care of Allah's Messenger (ﷺ) and my hand used to go around the dish while I was eating. So Allah's Messenger (ﷺ) said to me, 'O boy! Mention the Name of Allah and eat with your right hand, and eat of the dish what is nearer to you." Since then I have applied those instructions when eating
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی، انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا، انہوں نے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور ( کھاتے وقت ) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُبِضَ الصَّبِيُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ مَا فَعَلَ ابْنِي قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ. فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ وَارِ الصَّبِيَّ. فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ " أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا ". فَوَلَدَتْ غُلاَمًا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْفَظْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْسَلَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَمَعَهُ شَىْءٌ ". قَالُوا نَعَمْ تَمَرَاتٌ. فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ، وَحَنَّكَهُ بِهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
Narrated Anas bin Malik: Abu Talha had a child who was sick. Once, while Abu Talha was out, the child died. When Abu Talha returned home, he asked, "How does my son fare?" Um Salaim (his wife) replied, "He is quieter than he has ever been." Then she brought supper for him and he took his supper and slept with her. When he had finished, she said (to him), "Bury the child (as he's dead)." Next morning Abu Talha came to Allah's Messenger (ﷺ) and told him about that. The Prophet (ﷺ) said (to him), "Did you sleep with your wife last night?" Abu Talha said, "Yes". The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Bestow your blessing on them as regards that night of theirs." Um Sulaim gave birth to a boy. Abu Talha told me to take care of the child till it was taken to the Prophet. Then Abu Talha took the child to the Prophet (ﷺ) and Um Sulaim sent some dates along with the child. The Prophet (ﷺ) took the child (on his lap) and asked if there was something with him. The people replied, "Yes, a few dates." The Prophet took a date, chewed it, took some of it out of his mouth, put it into the child's mouth and did Tahnik for him with that, and named him 'Abdullah
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے، انہیں عبداللہ بن عون نے خبر دی، انہیں انس بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا۔ ابوطلحہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے کہ بچہ کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ ( تھکے ماندے ) واپس آئے تو پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ ان کی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ سکون کے ساتھ ہے پھر بیوی نے ان کے سامنے کھانا رکھا اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے ساتھ ہمبستری کی پھر جب فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ بچہ کو دفن کر دو۔ صبح ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے رات ہمبستری بھی کی تھی؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ”اے اللہ! ان دونوں کو برکت عطا فرما۔“ پھر ان کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو مجھ سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے حفاظت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ۔ چنانچہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ کے ساتھ کچھ کھجوریں بھیجیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کو لیا اور دریافت فرمایا کہ اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں کھجوریں ہیں۔ آپ نے اسے لے کر چبایا اور پھر اسے اپنے منہ میں نکال کر بچہ کے منہ میں رکھ دیا اور اس سے بچہ کی تحنیک کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
Narrated by Abu Tha`laba Al-Khushani
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ، أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، وَبِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، فَمَا يَصْلُحُ لِي قَالَ " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَلاَ تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا، وَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ غَيْرَ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ".
Narrated Abu Tha`laba Al-Khushani:I said, "O Allah's Prophet! We are living in a land ruled by the people of the Scripture; Can we take our meals in their utensils? In that land there is plenty of game and I hunt the game with my bow and with my hound that is not trained and with my trained hound. Then what is lawful for me to eat?" He said, "As for what you have mentioned about the people of the Scripture, if you can get utensils other than theirs, do not eat out of theirs, but if you cannot get other than theirs, wash their utensils and eat out of it. If you hunt an animal with your bow after mentioning Allah's Name, eat of it. and if you hunt something with your trained hound after mentioning Allah's Name, eat of it, and if you hunt something with your untrained hound (and get it before it dies) and slaughter it, eat of it
ہم سے عبداللہ بن یزید مقبری نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ربیعہ بن یزید دمشقی نے خبر دی، انہیں ابوادریس عائذ اللہ خولانی نے، انہیں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم اہل کتاب کے گاؤں میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتن میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے تو اگر تمہیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے تو اس میں نہ کھاؤ لیکن تمہیں کوئی دوسرا برتن نہ ملے تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور ( تیر پھینکتے وقت ) اللہ کا نام لیا ہو تو ( اس کا شکار ) کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور شکار خود ذبح کیا ہو تو اسے کھا سکتے ہو۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ، قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ وَهْىَ تَبْكِي فَقَالَ " مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ". قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ". فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ.
Narrated `Aisha:that the Prophet (ﷺ) entered upon her when she had her menses at Sarif before entering Mecca, and she was weeping (because she was afraid that she would not be able to perform the Hajj). The Prophet (ﷺ) said, "What is wrong with you? Have you got your period?" She said, "Yes." He said, "This is a matter Allah has decreed for all the daughters of Adam, so perform all the ceremonies of Hajj like the others, but do not perform the Tawaf around the Ka`ba." `Aisha added: When we were at Mina, beef was brought to me and I asked, "What is this?" They (the people) said, "Allah's Messenger (ﷺ) has slaughtered some cows as sacrifices on behalf of his wives
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولاَنِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَقُولُ كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ " وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ فِيهَا حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهْوَ مُؤْمِنٌ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "An adulterer, at the time he is committing illegal sexual intercourse is not a believer; and a person, at the time of drinking an alcoholic drink is not a believer; and a thief, at the time of stealing, is not a believer." Ibn Shihab said: `Abdul Malik bin Abi Bakr bin `Abdur-Rahman bin Al- Harith bin Hisham told me that Abu Bakr used to narrate that narration to him on the authority of Abu Huraira. He used to add that Abu Bakr used to mention, besides the above cases, "And he who robs (takes illegally something by force) while the people are looking at him, is not a believer at the time he is robbing (taking)
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن مسیب سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے کہ کوئی شخص ( دن دھاڑے ) اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ كَفَأَتْهَا، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ تَكَفَّأُ بِالْبَلاَءِ، وَالْفَاجِرُ كَالأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of a believer is that of a fresh tender plant; from whatever direction the wind comes, it bends it, but when the wind becomes quiet, it becomes straight again. Similarly, a believer is afflicted with calamities (but he remains patient till Allah removes his difficulties.) And an impious wicked person is like a pine tree which keeps hard and straight till Allah cuts (breaks) it down when He wishes." (See Hadith No. 558, Vol)
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے بنی عامر بن لوی کے ایک مرد ہلال بن علی نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ أَبُو الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشِّفَاءُ فِي ثَلاَثَةٍ شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَىِّ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "Healing is in three things: cupping, a gulp of honey or cauterization, (branding with fire) but I forbid my followers to use cauterization (branding with fire)
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سریج بن یونس ابوحارث نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے مروان بن شجاع نے بیان کیا، ان سے سالم افطس نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شفاء تین چیزوں میں ہے پچھنا لگوانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں مگر میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔
Narrated by Abu Juhaifa
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ فَرَأَيْتُ بِلاَلاً جَاءَ بِعَنَزَةٍ فَرَكَزَهَا، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلاَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي حُلَّةٍ مُشَمِّرًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَى الْعَنَزَةِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ.
Narrated Abu Juhaifa:I saw Bilal bringing a short spear (or stick) and fixing it in the ground, and then he proclaimed the Iqama of the prayer, and I saw Allah's Messenger (ﷺ) coming out, wearing a cloak with its sleeves rolled up. He then offered a two-rak`at prayer while facing the stick, and I saw the people and animals passing in front of him beyond the stick
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شمیل نے خبر دی، کہا ہم کو عمر بن ابی زائدہ نے خبر دی، کہا ہم کو عون بن ابی جحیفہ نے خبر دی، ان سے ان کے والد ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر آئے اور اسے زمین میں گاڑ دیا پھر نماز کے لیے تکبیر کہی گئی۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوڑا پہنے ہوئے باہر تشریف لائے جسے آپ نے سمیٹ رکھا تھا۔ پھر آپ نے نیزہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز عید پڑھائی اور میں نے دیکھا کہ انسان اور جانور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ کے باہر کی طرف سے گزر رہے تھے۔
Narrated by `Abdullah bin `Amr
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ". قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ " يَسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أَمَّهُ ".
Narrated `Abdullah bin `Amr:Allah's Messenger (ﷺ) said. "It is one of the greatest sins that a man should curse his parents." It was asked (by the people), "O Allah's Messenger (ﷺ)! How does a man curse his parents?" The Prophet (ﷺ) said, "'The man abuses the father of another man and the latter abuses the father of the former and abuses his mother
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے ہی والدین پر کیسے لعنت بھیجے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ ـ ذَكَرُوا ـ أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلاَةِ بِشَىْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُورُوا نَارًا أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ.
Narrated Anas bin Malik:When the number of Muslims increased they discussed the question as to how to know the time for the prayer by some familiar means. Some suggested that a fire be lit (at the time of the prayer) and others put forward the proposal to ring the bell. Bilal was ordered to pronounce the wording of Adhan twice and of the Iqama once only
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مہران حذاء نے ابوقلابہ عبدالرحمٰن بن زید حرمی سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ جب مسلمان زیادہ ہو گئے تو مشورہ ہوا کہ کسی ایسی چیز کے ذریعہ نماز کے وقت کا اعلان ہو جسے سب لوگ سمجھ لیں۔ کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ آگ روشن کی جائے۔ یا نرسنگا کے ذریعہ اعلان کریں۔ لیکن آخر میں بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر کے ایک ایک دفعہ۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ". قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " هِيَ النَّخْلَةُ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "Amongst the trees, there is a tree, the leaves of which do not fall and is like a Muslim. Tell me the name of that tree." Everybody started thinking about the trees of the desert areas. And I thought of the date-palm tree. The others then asked, "Please inform us what is that tree, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He replied, "It is the date-palm tree
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ( ایک مرتبہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی بھی یہی مثال ہے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں میں چلے گئے۔ عبداللہ نے کہا کہ میرے دل میں آیا کہ بتلا دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن ( وہاں بہت سے بزرگ موجود تھے اس لیے ) مجھ کو شرم آئی۔ آخر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہی بیان فرما دیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى مِيكَائِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ. فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ثُمَّ يَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الْكَلاَمِ مَا شَاءَ ".
Narrated `Abdullah:When we prayed with the Prophet (ﷺ) we used to say: As-Salam be on Allah from His worshipers, As- Salam be on Gabriel, As-Salam be on Michael, As-Salam be on so-and-so. When the Prophet (ﷺ) finished his prayer, he faced us and said, "Allah Himself is As-Salam (Peace), so when one sits in the prayer, one should say, 'at-Tahiyatu-li l-lahi Was-Salawatu, Wat-Taiyibatu, As-Salamu 'Alaika aiyuhan- Nabiyyu wa Rah-matul-iahi wa Barakatuhu, As-Salamu 'Alaina wa 'ala 'Ibadillahi assalihin, for if he says so, then it will be for all the pious slave of Allah in the Heavens and the Earth. (Then he should say), 'Ash-hadu an la ilaha illalllahu wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa rasulu-hu,' and then he can choose whatever speech (i.e. invocation) he wishes " (See Hadith No. 797, Vol)
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے ”سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، سلام ہو جبرائیل پر، سلام ہو میکائیل پر، سلام ہو فلاں پر، پھر ( ایک مرتبہ ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ ہی سلام ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو «التحيات لله، والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين.» الخ پڑھا کرے۔ کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑھے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی۔ «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " وَاللَّهِ إِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً ".
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying." By Allah! I ask for forgiveness from Allah and turn to Him in repentance more than seventy times a day
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس سے توبہ کرتا ہوں۔
Narrated by Sahl
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".
Narrated Sahl:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "A (small) place equal to an area occupied by a whip in Paradise is better than the (whole) world and whatever is in it; and an undertaking (journey) in the forenoon or in the afternoon for Allah's Cause, is better than the whole world and whatever is in it
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے اور اللہ کے راستے میں صبح کو یا شام کو تھوڑا سا چلنا بھی «الدنيا وما فيها» سے بہتر ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) ; was asked about the offspring of the pagans. He said, "Allah knows what they would have done (were they to live)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ ( بڑے ہو کر ) کیا عمل کرتے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "We (Muslims) are the last in the world, but will be foremost on the Day of Resurrection
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے ہمام بن منبہ نے بیان کیا کہ یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ. قَالَ " وَمَا شَأْنُكَ ". قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ. قَالَ " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ". قَالَ لاَ. قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ". قَالَ لاَ أَجِدُ. فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ". فَقَالَ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا. ثُمَّ قَالَ " خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ".
Narrated Abu Huraira:A man came to the Prophets and said, "I am ruined!" The Prophet (ﷺ) said, "What is the matter with you?" He said, "I have done a sexual relation with my wife (while fasting) in Ramadan" The Prophet (ﷺ) said to him, "Can you afford to manumit a slave?" He said, "No." The Prophet (ﷺ) said, "Can you fast for two successive months?" He said, "No." The Prophet (ﷺ) said, "Can you feed sixty poor persons?" He said, "I have nothing." Later on an Irq (big basket) containing dates was given to the Prophet, and the Prophet (ﷺ) said (to him), "Take this basket and give it in charity." The man said, "To poorer people than we? Indeed, there is nobody between its (i.e., Medina's) two mountains who is poorer than we." The Prophet then said, "Take it and feed your family with it
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ دریافت فرمایا، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا کہ نہیں، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر۔ انہوں نے پوچھا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ ان دونوں میدان کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اسے لے جا اور اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ".
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "Our (Apostles') property should not be inherited, and whatever we leave, is to be spent in charity
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہماری وراثت نہیں ہوتی ہم جو کچھ بھی چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔“
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِنُعَيْمَانَ أَوْ بِابْنِ نُعَيْمَانَ وَهْوَ سَكْرَانُ فَشَقَّ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، فَضَرَبُوهُ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ.
Narrated' `Uqba bin Al-Harith:An-Nu`man or the son of An-Nu`man was brought to the Prophet (ﷺ) in a state of intoxication. The Prophet felt it hard (was angry) and ordered all those who were present in the house, to beat him. And they beat him, using palm-leaf stalks and shoes, and I was among those who beat him
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعیمان یا ابن نعیمان کو لایا گیا، وہ نشہ میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ناگوار گزرا اور آپ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں۔ چنانچہ لوگوں نے انہیں لکڑی اور جوتوں سے مارا اور میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے مارا تھا۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ ".
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "The first cases to be decided among the people (on the Day of Resurrection) will be those of blood-shed
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلے ( قیامت کے دن ) لوگوں کے درمیان خون خرابے کے فیصلہ جات کئے جائیں گے۔“
Narrated by Ibn Mas`ud
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ " مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلاَمِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الإِسْلاَمِ أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ ".
Narrated Ibn Mas`ud:A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we be punished for what we did in the pre-Islamic Period of ignorance?" The Prophet (ﷺ) said, "Whoever does good in Islam will not be punished for what he did in the Pre-Islamic Period of ignorance and whoever does evil in Islam will be punished for his former and later (bad deeds)
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے منصور اور اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا ایک شخص ( نام نامعلوم ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے جو گناہ ( اسلام لانے سے پہلے ) جاہلیت کے زمانہ میں کیے ہیں کیا ان کا مواخذہ ہم سے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہ ہو گا ( اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا ) اور جو شخص مسلمان ہو کر بھی برے کام کرتا رہا اس سے دونوں زمانوں کے گناہوں کا مواخذہ ہو گا۔“
Narrated by Khabbab bin Al-Art
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ، قَالَ شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقُلْنَا أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلاَ تَدْعُو لَنَا. فَقَالَ " قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الأَرْضِ فَيُجْعَلُ فِيهَا، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ، وَيُمَشَّطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ وَعَظْمِهِ، فَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الأَمْرُ، حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لاَ يَخَافُ إِلاَّ اللَّهَ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ ".
Narrated Khabbab bin Al-Art:We complained to Allah's Messenger (ﷺ) (about our state) while he was leaning against his sheet cloak in the shade of the Ka`ba. We said, "Will you ask Allah to help us? Will you invoke Allah for us?" He said, "Among those who were before you a (believer) used to be seized and, a pit used to be dug for him and then he used to be placed in it. Then a saw used to be brought and put on his head which would be split into two halves. His flesh might be combed with iron combs and removed from his bones, yet, all that did not cause him to revert from his religion. By Allah! This religion (Islam) will be completed (and triumph) till a rider (traveler) goes from San`a' (the capital of Yemen) to Hadramout fearing nobody except Allah and the wolf lest it should trouble his sheep, but you are impatient." (See Hadith No. 191, Vol)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی انہیں اپنے دین سے نہیں روک سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم! اس اسلام کا کام مکمل ہو گا اور ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہو گا اور بکریوں پر سوا بھیڑئیے کے خوف کے ( اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہو گا ) لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔
Narrated by Talha bin 'Ubaidullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فَقَالَ " الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ". فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ " شَهْرَ رَمَضَانَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ". قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الزَّكَاةِ قَالَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ. قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ شَيْئًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ". أَوْ " دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ ". وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ فِي عِشْرِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ حِقَّتَانِ. فَإِنْ أَهْلَكَهَا مُتَعَمِّدًا، أَوْ وَهَبَهَا أَوِ احْتَالَ فِيهَا فِرَارًا مِنَ الزَّكَاةِ، فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ.
Narrated Talha bin 'Ubaidullah:A bedouin with unkempt hair came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Tell me what Allah has enjoined on me as regards prayers." The Prophet (ﷺ) said, "You have to offer perfectly the five (compulsory) prayers in a day and a night (24 hrs.), except if you want to perform some extra optional prayers." The bedouin said, "Tell me what Allah has enjoined on me as regards fasting." The Prophet (ﷺ) said, "You have to observe fast during the month of Ramadan except if you fast some extra optional fast." The bedouin said, "Tell me what Allah has enjoined on me as regard Zakat." The Prophet (ﷺ) then told him the Islamic laws and regulations whereupon the bedouin said, "By Him Who has honored you, I will not perform any optional deeds of worship and I will not leave anything of what Allah has enjoined on me." Allah's Messenger (ﷺ) said, "He will be successful if he has told the truth (or he will enter Paradise if he said the truth)." And some people said, "The Zakat for one-hundred and twenty camels is two Hiqqas, and if the Zakat payer slaughters the camels intentionally or gives them as a present or plays some other trick in order to avoid the Zakat, then there is no harm (in it) for him
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہیل نافع نے، ان سے ان کے والد مالک بن ابی عامر نے، اور ان سے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دیہاتی ( ضمام بن ثعلبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ اس کے سر کے بال پراگندہ تھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں۔ سوا ان نمازوں کے جو تم نفلی پڑھو۔ اس نے کہا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے روزے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے روزے سوا ان کے جو تم نفلی رکھو۔ اس نے پوچھا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کتنی فرض کی ہے؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے مسائل بیان کئے۔ پھر اس دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یہ عزت بخشی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کیا ہے اس میں نہ میں کسی قسم کی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے صحیح کہا ہے تو جنت میں جائے گا اور بعض لوگوں نے کہا کہ ایک سو بیس اونٹوں میں دو حصے تین تین برس کی دو اونٹنیاں جو چوتھے برس میں لگی ہوں زکوٰۃ میں لازم آتی ہیں پس مگر کسی نے ان اونٹوں کو عمداً تلف کر ڈالا ( مثلاً ذبح کر دیا ) اور کوئی حیلہ کیا تو اس کے اوپر سے زکوٰۃ ساقط ہو گی۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا، وَلْيُحَدِّثْ بِهَا، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِّهَا، وَلاَ يَذْكُرْهَا لأَحَدٍ، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you sees a dream that he likes, then it is from Allah, and he should thank Allah for it and narrate it to others; but if he sees something else, i.e., a dream that he dislikes, then it is from Satan, and he should seek refuge with Allah from its evil, and he should not mention it to anybody, for it will not harm him
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن الہاد نے، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس پر اللہ کی حمد کرے اور اسے بتا دینا چاہئیے لیکن اگر کوئی اس کے سوا کوئی ایسا خواب دیکھتا ہے جو اسے ناپسند ہے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے پس اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے ایسے خواب کا ذکر نہ کرے یہ خواب اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ، هَذَا فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلاً، فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ، عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فِيهِ قَالَ " إِنَّهُمْ مِنِّي. فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي ".
Abu Sa`id Al-Khudri added that the Prophet (ﷺ) further said:"I will say those people are from me. It will be said, 'You do not know what changes and new things they did after you.' Then I will say, 'Far removed (from mercy), far removed (from mercy), those who changed (the religion) after me
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ الأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ ".
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "This matter (caliphate) will remain with the Quraish even if only two of them were still existing
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ امر خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گا جب تک ان میں دو شخص بھی باقی رہیں گے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْىَ، وَلَحَلَلْتُ مَعَ النَّاسِ حِينَ حَلُّوا ".
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If I had formerly known what I came to know recently, I would not have driven the Hadi with me and would have finished the state of Ihram along with the people when they finished it
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ رضی اللہ عنہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجتہ الوداع کے موقع پر ) فرمایا ”اگر مجھ کو اپنا حال پہلے سے معلوم ہوتا جو بعد کو معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور عمرہ کر کے دوسرے لوگوں کی طرح بھی احرام کھول ڈالتا۔“
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ " وَمَا ذَاكَ ". قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ.
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) led us in Zuhr prayer and prayer five rak`at. Somebody asked him whether the prayer had been increased." He (the Prophet (ﷺ) ) said, "And what is that?" They (the people) replied, "You have prayed five rak`at." Then the Prophet (ﷺ) offered two prostrations (of Sahu) after he had finished his prayer with the Taslim
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ بن قیس نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعت نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز ( کی رکعتوں ) میں کچھ بڑھ گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعت نماز پڑھائی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے ( سہو کے ) کئے۔
Narrated by Abal Minhal
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ عَوْفًا، أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ، قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُغْنِيكُمْ أَوْ نَغَشَكُمْ بِالإِسْلاَمِ وَبِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَعَ هَاهُنَا يُغْنِيكُمْ وَإِنَّمَا هُوَ نَعَشَكُمْ يُنْظَرُ فِي أَصْلِ كِتَابِ الِاعْتِصَامِ
Narrated Abal Minhal:Abu Barza said, "(O people!) Allah makes you self-sufficient or has raised you high with Islam and with Muhammad
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عوف اعرابی سے سنا ‘ ان سے ابوالمنہال نے بیان کیا، انہوں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ غنی کر دیا ہے یا بلند درجہ کر دیا ہے۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ". زَادَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَخِي، قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:A man heard another man reciting (in the prayers): 'Say (O Muhammad): "He is Allah, the One." (112.1) And he recited it repeatedly. When it was morning, he went to the Prophet (ﷺ) and informed him about that as if he considered that the recitation of that Sura by itself was not enough. Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my life is, it is equal to one-third of the Qur'an
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ایک دوسرے شخص قتادہ بن نعمان کو باربار قل ھو اللہ احد پڑھتے سنا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس طرح واقعہ بیان کیا جیسے وہ اسے کم سمجھتے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اسماعیل بن جعفر نے امام مالک سے یہ بڑھایا کہ ان سے عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان نے خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The taking of a bath on Friday is compulsory for every male (Muslim) who has attained the age of puberty
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں مالک نے صفوان بن سلیم کے واسطہ سے خبر دی، انہیں عطاء بن یسار نے، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر بالغ کے لیے غسل ضروری ہے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَلَّيْتُ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِيبَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا بَعْدُ ". قَالَ فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا.
Narrated Jabir bin `Abdullah:On the day of the Khandaq `Umar came, cursing the disbelievers of Quraish and said, "O Allah's Apostle! I have not offered the `Asr prayer and the sun has set." The Prophet (ﷺ) replied, "By Allah! I too, have not offered the prayer yet. "The Prophet (ﷺ) then went to Buthan, performed ablution and performed the `Asr prayer after the sun had set and then offered the Maghrib prayer after it
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا کہ ہم سے وکیع نے علی بن مبارک سے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن کفار کو برا بھلا کہتے ہوئے آئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ! سورج ڈوبنے ہی کو ہے اور میں نے تو اب تک عصر کی نماز نہیں پڑھی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخدا میں نے بھی ابھی تک نہیں پڑھی انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ ”بطحان“ کی طرف گئے ( جو مدینہ میں ایک میدان تھا ) اور وضو کر کے آپ نے وہاں سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد نماز مغرب پڑھی۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ ـ قَالَتْ وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ ـ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا ".
Narrated Aisha:Abu Bakr came to my house while two small Ansari girls were singing beside me the stories of the Ansar concerning the Day of Buath. And they were not singers. Abu Bakr said protestingly, "Musical instruments of Satan in the house of Allah's Messenger (ﷺ) !" It happened on the `Id day and Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Abu Bakr! There is an `Id for every nation and this is our `Id
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ (عروہ بن زبیر) نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے، آپ نے بتلایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے بعاث کی جنگ کے موقع پر کہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ گانے والیاں نہیں تھیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں یہ شیطانی باجے اور یہ عید کا دن تھا آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج یہ ہماری عید ہے۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا صَلَّيْتَ ". قَالَ الْقَاسِمُ وَرَأَيْنَا أُنَاسًا مُنْذُ أَدْرَكْنَا يُوتِرُونَ بِثَلاَثٍ، وَإِنَّ كُلاًّ لَوَاسِعٌ أَرْجُو أَنْ لاَ يَكُونَ بِشَىْءٍ مِنْهُ بَأْسٌ.
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "Night prayer is offered as two rak`at followed by two rak`at and so on, and if you want to finish it, pray only one rak`a which will be witr for all the previous rak`at." Al-Qasim said, "Since we attained the age of puberty we have seen some people offering a three-rak`at prayer as witr and all that is permissible. I hope there will be no harm in it
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ قاسم سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک ( رکعت وتر ) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔