بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
18
51 hadith
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهْوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهْوَ قَائِمٌ، ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَسْجُدُ، يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَضَى صَلاَتَهُ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَى تَحَدَّثَ مَعِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ‏.‏
Narrated `Aisha:(the mother of the faithful believers) Allah's Messenger (ﷺ) (in his last days) used to pray sitting. He would recite while sitting, and when thirty or forty verses remained from the recitation he would get up and recite them while standing and then he would bow and prostrate. He used to do the same in the second rak`a. After finishing the Prayer he used to look at me and if I was awake he would talk to me and if I was asleep, he would lie down
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن یزید اور عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے خبر دی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرآت بیٹھ کر کرتے۔ جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے۔ پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ جاتے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ‏.‏
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to lie down on his right side, after offering two rak`at (Sunna) of the Fajr prayer
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنت رکعتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے۔
Narrated by Um 'Atiyya
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا‏.‏
Narrated Um 'Atiyya:We were forbidden to accompany funeral processions but not strictly
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے ام ہذیل حفصہ بنت سیرین نے ‘ ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں ( عورتوں کو ) جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔
Narrated by Hakim bin Hizam
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَجْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ مِنْ خَيْرٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Hakim bin Hizam:I said to Allah's Messenger (ﷺ), "Before embracing Islam I used to do good deeds like giving in charity, slave-manumitting, and the keeping of good relations with Kith and kin. Shall I be rewarded for those deeds?" The Prophet (ﷺ) replied, "You became Muslim with all those good deeds (Without losing their reward)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ‘ انہیں عروہ نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں سے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صدقہ ‘ غلام آزاد کرنے اور صلہ رحمی کی صورت میں کیا کرتا تھا۔ کیا ان کا مجھے ثواب ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی ان تمام نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے گزر چکی ہیں۔
وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا صَلَّى بِالْغَدَاةِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ ثُمَّ رَكِبَ، فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ قَائِمًا، ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَبْلُغَ الْمَحْرَمَ، ثُمَّ يُمْسِكُ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ، فَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ اغْتَسَلَ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ ذَلِكَ‏.‏ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ فِي الْغَسْلِ‏.‏
Narrated Nafi', 'Whenever Ibn 'Umar finished his morning Salat at Dhul-Hulaifa he would get his Rahila (mount) prepared. Then, he would ride on it, and after it had stood up straight (ready to set out), he would face Al-Qiblah (the Ka'bah at Makkah) while sitting (on his mount) and recite Talbiya. When he had reached the boundaries of the Haram (or Makkah), he would stop recitation of Talbiya till he reached Dhi-Tuwa (near Makkah) where he would pass the night till it was dawn. After offering the morning Salat, he would take a bath. He claimed that Allah's Messenger (ﷺ) had done the same
اور ابومعمر نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھ چکے تو اپنی اونٹنی پر پالان لگانے کا حکم فرمایا، سواری لائی گئی تو آپ اس پر سوار ہوئے اور جب وہ آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تو آپ کھڑے ہو کر قبلہ رو ہو گئے اور پھر لبیک کہنا شروع کیا تاآنکہ حرم میں داخل ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے لبیک کہنا بند کر دیا۔ پھر ذی طویٰ میں تشریف لا کر رات وہیں گزارتے صبح ہوتی تو نماز پڑھتے اور غسل کرتے ( پھر مکہ میں داخل ہوتے ) آپ یقین کے ساتھ یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ عبدالوارث کی طرح اس حدیث کو اسماعیل نے بھی ایوب سے روایت کیا۔ اس میں غسل کا ذکر ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّ رَجُلاً رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, "A man saw a dog eating mud from (the severity of) thirst. So, that man took a shoe (and filled it) with water and kept on pouring the water for the dog till it quenched its thirst. So Allah approved of his deed and made him to enter Paradise
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، وہ ابوصالح سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔
Narrated by Al-Ju'aid bin `Abdur-Rahman
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ لِلسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، وَكَانَ قَدْ حُجَّ بِهِ فِي ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Al-Ju'aid bin `Abdur-Rahman:I heard `Umar bin `Abdul `Aziz telling about As-Sa'ib bin Yazid that he had performed Hajj (while carried) with the belongings of the Prophet
ہم سے عمرو بن ذرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں قاسم بن مالک نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا، وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے سائب رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے ساتھ ( یعنی بال بچوں میں ) حج کرایا گیا تھا۔
Narrated by Abu Bakr bin `Abdur-Rahman
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أَنَا وَأَبِي،، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ، ثُمَّ يَصُومُهُ‏.‏ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ
Narrated Abu Bakr bin `Abdur-Rahman:My father and I went to `Aisha and she said, "I testify that Allah's Messenger (ﷺ) at times used to get up in the morning in a state of Janaba from sexual intercourse, not from a wet dream and then he would fast that day." Then he went to Um Salama and she also narrated a similar thing
Narrated by `Aun bin Abu Juhaifa
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى عَبْدًا حَجَّامًا، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَثَمَنِ الدَّمِ، وَنَهَى عَنِ الْوَاشِمَةِ وَالْمَوْشُومَةِ، وَآكِلِ الرِّبَا، وَمُوكِلِهِ، وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ‏.‏
Narrated `Aun bin Abu Juhaifa:My father bought a slave who practiced the profession of cupping. (My father broke the slave's instruments of cupping). I asked my father why he had done so. He replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the acceptance of the price of a dog or blood, and also forbade the profession of tattooing, getting tattooed and receiving or giving Riba, (usury), and cursed the picture-makers
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد کو ایک پچھنا لگانے والا غلام خریدتے دیکھا۔ میں نے یہ دیکھ کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے اور خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے، آپ نے گودنے والی اور گدوانے والی کو ( گودنا لگوانے سے ) سود لینے والے اور سود دینے والے کو ( سود لینے یا دینے سے ) منع فرمایا اور تصویر بنانے والے پر لعنت بھیجی۔
Narrated by `Abdullah bin Mas`ud
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ، وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ يَطْعَنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَجَعَلَ يَقُولُ ‏{‏جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ‏}‏ الآيَةَ‏.‏
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:The Prophet (ﷺ) entered Mecca and (at that time) there were three hundred-and-sixty idols around the Ka`ba. He started stabbing the idols with a stick he had in his hand and reciting: "Truth (Islam) has come and Falsehood (disbelief) has vanished
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، ان سے ابومعمر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ دن جب ) مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بتوں پر مارنے لگے اور فرمانے لگے کہ «جاء الحق وزهق الباطل‏» ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا“۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَلْيُنَاوِلْهُ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ أَوْ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ، فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلاَجَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When your servant brings your meals to you then if he does not let him sit and share the meals, then he should at least give him a mouthful or two mouthfuls of that meal or a meal or two meals, as he has prepared it
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب کسی کا غلام کھانا لائے اور وہ اسے اپنے ساتھ ( کھلانے کے لیے ) نہ بٹھا سکے تو اسے ایک یا دو نوالے ضرور کھلا دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لقمة أو لقمتين» کے بدل «أكلة أو أكلتين» فرمایا ( یعنی ایک یا دو لقمے ) کیونکہ اسی نے اس کو تیار کرنے کی تکلیف اٹھائی ہے۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِشَرَابٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَقَالَ لِلْغُلاَمِ ‏ "‏ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلاَءِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الْغُلاَمُ لاَ، وَاللَّهِ لاَ أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا‏.‏ فَتَلَّهُ فِي يَدِهِ‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:A drink (of milk and water) was brought to Allah's Messenger (ﷺ) while a boy was sitting on his right side and old men were sitting on his left side. He asked the boy, "Will you allow me to give it to these (people)?" The boy said, "No, by Allah, I will not allow anyone to take my right from you." Then the Prophet put the bowl in the boy's hand
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے ابوحازم سے، وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پینے کو لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک بچہ تھا اور قوم کے بڑے لوگ بائیں طرف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا کہ کیا تمہاری طرف سے اس کی اجازت ہے کہ میں بچا ہوا پانی ان بزرگوں کو دے دوں؟ تو اس بچے نے کہا کہ نہیں قسم اللہ کی! میں آپ سے ملنے والے اپنے حصہ کا ہرگز ایثار نہیں کر سکتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب ان کی طرف جھٹکے کے ساتھ بڑھا دیا۔
Narrated by Talha bin 'Ubaidullah
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُهُ عَنِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ ‏"‏ لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَصِيَامُ رَمَضَانَ ‏"‏‏.‏ قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُ قَالَ ‏"‏ لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الزَّكَاةَ‏.‏ قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ ‏"‏ لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ ‏"‏‏.‏ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهْوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏‏.‏
Narrated Talha bin 'Ubaidullah:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) asking him about Islam, Allah's Messenger (ﷺ) said, "You have to offer five compulsory prayers in a day and a night (24 hours)." The man asked, "Is there any more compulsory prayers for me?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "No, unless you like to offer Nawafil (i.e. optional prayers)." Allah's Messenger (ﷺ) then added, "You have to observe fasts during the month of Ramadan." The man said, "Am I to fast any other days?' Allah's Messenger (ﷺ) said, "No, unless you wish to observe the optional fast voluntarily." Then Allah's Messenger (ﷺ) told him about the compulsory Zakat. The man asked, "Do I have to give anything besides?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "No, unless you wish to give in charity voluntarily." So, the man departed saying, "By Allah I will neither do more nor less than that." Allah's Messenger (ﷺ) said, "If he has said the truth he will be successful
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا ابوسہیل نے، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ ایک صاحب ( ضمام بن ثعلبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام کے متعلق پوچھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دن اور رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ نماز اور ضروری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں یہ دوسری بات ہے کہ تم نفل پڑھو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور رمضان کے روزے ہیں۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ( روزے ) واجب ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ”سوا اس کے جو تم اپنے طور پر نفل رکھو۔“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا، کیا ( جو فرض زکوٰۃ آپ نے بتائی ہے ) اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی خیرات واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں، سوا اس کے جو تم خود اپنی طرف سے نفل دو۔“ اس کے بعد وہ صاحب یہ کہتے ہوئے جانے لگے کہ اللہ گواہ ہے نہ میں ان میں کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کوئی کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہوا۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقْتَسِمْ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهْوَ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "My heirs will not inherit a Dinar or a Dirham (i.e. money), for whatever I leave (excluding the adequate support of my wives and the wages of my employees) is given in charity
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں ابوالزناد نے ‘ انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آدمی میرے وارث ہیں ‘ وہ روپیہ اشرفی اگر میں چھوڑ جاؤں تو وہ تقسیم نہ کریں ‘ وہ میری بیویوں کا خرچ اور جائیداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) used to say, "O Allah! I seek refuge with You from helplessness, laziness, cowardice and feeble old age; I seek refuge with You from afflictions of life and death and seek refuge with You from the punishment in the grave
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے ‘ بزدلی اور بڑھاپے کی ذلیل حدود میں پہنچ جانے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔“
Narrated by `Umar bin Al-Khattab
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهْوَ جُنُبٌ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ وَهُوَ جُنُبٌ ‏"‏‏.‏
Narrated `Umar bin Al-Khattab:I asked Allah's Messenger (ﷺ) "Can any one of us sleep while he is Junub?" He replied, "Yes, if he performs ablution, he can sleep while he is Junub
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ فرمایا ہاں، وضو کر کے جنابت کی حالت میں بھی سو سکتے ہو۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِنَّمَا تَغَيَّبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ، فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مَرِيضَةً‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Umar:`Uthman did not join the Badr battle because he was married to one of the daughters of Allah's Apostle and she was ill. So, the Prophet (ﷺ) said to him. "You will get a reward and a share (from the war booty) similar to the reward and the share of one who has taken part in the Badr battle
ہم سے موسیٰ بن اسمعٰیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‏.‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the Imam, during the prayer, says, "Allah hears him who praises Him', say: 'O Allah! Our Lord! All the praises are for You/, for if the saying of anyone of you coincides with the saying of the angels, his past sins will be forgiven
ہم سے اسماعیل بن ادریس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب ( نماز میں ) امام کہے کہ «سمع الله لمن حمده» تو تم کہا کرو «اللهم ربنا لك الحمد» کیونکہ جس کا ذکر ملائکہ کے ساتھ موافق ہو جاتا ہے اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ، خَرَجَ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيلَ، وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيمُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاتَّبَعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، حَتَّى لَمَّا بَلَغُوا كَدَاءً نَادَتْهُ مِنْ وَرَائِهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِلَى مَنْ تَتْرُكُنَا قَالَ إِلَى اللَّهِ‏.‏ قَالَتْ رَضِيتُ بِاللَّهِ‏.‏ قَالَ فَرَجَعَتْ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى لَمَّا فَنِيَ الْمَاءُ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا‏.‏ قَالَ فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ هَلْ تُحِسُّ أَحَدًا فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، فَلَمَّا بَلَغَتِ الْوَادِيَ سَعَتْ وَأَتَتِ الْمَرْوَةَ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ أَشْوَاطًا، ثُمَّ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ ـ تَعْنِي الصَّبِيَّ ـ فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَإِذَا هُوَ عَلَى حَالِهِ كَأَنَّهُ يَنْشَغُ لِلْمَوْتِ، فَلَمْ تُقِرَّهَا نَفْسُهَا، فَقَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا، فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، حَتَّى أَتَمَّتْ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ، فَإِذَا هِيَ بِصَوْتٍ فَقَالَتْ أَغِثْ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ خَيْرٌ‏.‏ فَإِذَا جِبْرِيلُ، قَالَ فَقَالَ بِعَقِبِهِ هَكَذَا، وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَى الأَرْضِ، قَالَ فَانْبَثَقَ الْمَاءُ، فَدَهَشَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَعَلَتْ تَحْفِزُ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ تَرَكَتْهُ كَانَ الْمَاءُ ظَاهِرًا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الْمَاءِ، وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا ـ قَالَ ـ فَمَرَّ نَاسٌ مِنْ جُرْهُمَ بِبَطْنِ الْوَادِي، فَإِذَا هُمْ بِطَيْرٍ، كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَاكَ، وَقَالُوا مَا يَكُونُ الطَّيْرُ إِلاَّ عَلَى مَاءٍ‏.‏ فَبَعَثُوا رَسُولَهُمْ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ، فَأَتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ فَأَتَوْا إِلَيْهَا، فَقَالُوا يَا أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَكُونَ مَعَكِ أَوْ نَسْكُنَ مَعَكِ فَبَلَغَ ابْنُهَا فَنَكَحَ فِيهِمُ امْرَأَةً، قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي‏.‏ قَالَ فَجَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ ذَهَبَ يَصِيدُ‏.‏ قَالَ قُولِي لَهُ إِذَا جَاءَ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ‏.‏ فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ قَالَ أَنْتِ ذَاكِ فَاذْهَبِي إِلَى أَهْلِكِ‏.‏ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي‏.‏ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ ذَهَبَ يَصِيدُ، فَقَالَتْ أَلاَ تَنْزِلُ فَتَطْعَمَ وَتَشْرَبَ فَقَالَ وَمَا طَعَامُكُمْ وَمَا شَرَابُكُمْ قَالَتْ طَعَامُنَا اللَّحْمُ، وَشَرَابُنَا الْمَاءُ‏.‏ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي طَعَامِهِمْ وَشَرَابِهِمْ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَرَكَةٌ بِدَعْوَةِ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي‏.‏ فَجَاءَ فَوَافَقَ إِسْمَاعِيلَ مِنْ وَرَاءِ زَمْزَمَ، يُصْلِحُ نَبْلاً لَهُ، فَقَالَ يَا إِسْمَاعِيلُ، إِنَّ رَبَّكَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا‏.‏ قَالَ أَطِعْ رَبَّكَ‏.‏ قَالَ إِنَّهُ قَدْ أَمَرَنِي أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ إِذًا أَفْعَلَ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ‏.‏ قَالَ فَقَامَا فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ يَبْنِي، وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ، وَيَقُولاَنِ ‏{‏رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ‏}‏ قَالَ حَتَّى ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ وَضَعُفَ الشَّيْخُ عَلَى نَقْلِ الْحِجَارَةِ، فَقَامَ عَلَى حَجَرِ الْمَقَامِ، فَجَعَلَ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ، وَيَقُولاَنِ ‏{‏رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ‏}‏‏.‏
(Narrated Ibn `Abbas:When Abraham had differences with his wife), (because of her jealousy of Hajar, Ishmael's mother), he took Ishmael and his mother and went away. They had a water-skin with them containing some water, Ishmael's mother used to drink water from the water-skin so that her milk would increase for her child. When Abraham reached Mecca, he made her sit under a tree and afterwards returned home. Ishmael's mother followed him, and when they reached Kada', she called him from behind, 'O Abraham! To whom are you leaving us?' He replied, '(I am leaving you) to Allah's (Care).' She said, 'I am satisfied to be with Allah.' She returned to her place and started drinking water from the water-skin, and her milk increased for her child. When the water had all been used up, she said to herself, 'I'd better go and look so that I may see somebody.' She ascended the Safa mountain and looked, hoping to see somebody, but in vain. When she came down to the valley, she ran till she reached the Marwa mountain. She ran to and fro (between the two mountains) many times. Then she said to herself, 'I'd better go and see the state of the child,' she went and found it in a state of one on the point of dying. She could not endure to watch it dying and said (to herself), 'If I go and look, I may find somebody.' She went and ascended the Safa mountain and looked for a long while but could not find anybody. Thus she completed seven rounds (of running) between Safa and Marwa. Again she said (to herself), 'I'd better go back and see the state of the child.' But suddenly she heard a voice, and she said to that strange voice, 'Help us if you can offer any help.' Lo! It was Gabriel (who had made the voice). Gabriel hit the earth with his heel like this (Ibn `Abbas hit the earth with his heel to Illustrate it), and so the water gushed out. Ishmael's mother was astonished and started digging. (Abu Al-Qasim) (i.e. the Prophet) said, "If she had left the water, (flow naturally without her intervention), it would have been flowing on the surface of the earth.") Ishmael's mother started drinking from the water and her milk increased for her child . Afterwards some people of the tribe of Jurhum, while passing through the bottom of the valley, saw some birds, and that astonished them, and they said, 'Birds can only be found at a place where there is water.' They sent a messenger who searched the place and found the water, and returned to inform them about it. Then they all went to her and said, 'O Ishmael's mother! Will you allow us to be with you (or dwell with you)?' (And thus they stayed there.) Later on her boy reached the age of puberty and married a lady from them. Then an idea occurred to Abraham which he disclosed to his wife (Sarah), 'I want to call on my dependents I left (at Mecca).' When he went there, he greeted (Ishmael's wife) and said, 'Where is Ishmael?' She replied, 'He has gone out hunting.' Abraham said (to her), 'When he comes, tell him to change the threshold of his gate.' When he came, she told him the same whereupon Ishmael said to her, 'You are the threshold, so go to your family (i.e. you are divorced).' Again Abraham thought of visiting his dependents whom he had left (at Mecca), and he told his wife (Sarah) of his intentions. Abraham came to Ishmael's house and asked, "Where is Ishmael?" Ishmael's wife replied, "He has gone out hunting," and added, "Will you stay (for some time) and have something to eat and drink?' Abraham asked, 'What is your food and what is your drink?' She replied, 'Our food is meat and our drink is water.' He said, 'O Allah! Bless their meals and their drink." Abu Al-Qa-sim (i.e. Prophet) said, "Because of Abraham's invocation there are blessings (in Mecca)." Once more Abraham thought of visiting his family he had left (at Mecca), so he told his wife (Sarah) of his decision. He went and found Ishmael behind the Zamzam well, mending his arrows. He said, "O Ishmael, Your Lord has ordered me to build a house for Him." Ishmael said, "Obey (the order of) your Lord." Abraham said, "Allah has also ordered me that you should help me therein." Ishmael said, "Then I will do." So, both of them rose and Abraham started building (the Ka`ba) while Ishmael went on handing him the stones, and both of them were saying, "O our Lord ! Accept (this service) from us, Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing." (2.127). When the building became high and the old man (i.e. Abraham) could no longer lift the stones (to such a high position), he stood over the stone of Al- Maqam and Ishmael carried on handing him the stones, and both of them were saying, 'O our Lord! Accept (this service) from us, Verily You are All-Hearing, All-Knowing
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، ان سے کثیر بن کثیر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی ( سارہ علیہ السلام ) کے درمیان جو کچھ جھگڑا ہونا تھا جب وہ ہوا تو آپ اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ ( ہاجرہ علیہ السلام ) کو لے کر نکلے، ان کے ساتھ ایک مشکیزہ تھا۔ جس میں پانی تھا، اسماعیل علیہ السلام کی والدہ اسی مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور اپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں۔ جب ابراہیم مکہ پہنچے تو انہیں ایک بڑے درخت کے پاس ٹھہرا کر اپنے گھر واپس جانے لگے۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں۔ جب مقام کداء پر پہنچے تو انہوں نے پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیم! ہمیں کس پر چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پر! ہاجرہ علیہ السلام نے کہا کہ پھر میں اللہ پر خوش ہوں۔ بیان کیا کہ پھر ہاجرہ اپنی جگہ پر واپس چلی آئیں اور اسی مشکیزے سے پانی پیتی رہیں اور اپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں جب پانی ختم ہو گیا تو انہوں نے سوچا کہ ادھر ادھر دیکھنا چاہئے، ممکن ہے کہ کوئی آدمی نظر آ جائے۔ راوی نے بیان کیا کہ یہی سوچ کر وہ صفا ( پہاڑی ) پر چڑھ گئیں اور چاروں طرف دیکھا کہ شاید کوئی نظر آ جائے لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ پھر جب وادی میں اتریں تو دوڑ کر مروہ تک آئیں۔ اسی طرح کئی چکر لگائے، پھر سوچا کہ چلوں ذرا بچے کو تو دیکھوں کس حالت میں ہے۔ چنانچہ آئیں اور دیکھا تو بچہ اسی حالت میں تھا ( جیسے تکلیف کے مارے ) موت کے لیے تڑپ رہا ہو۔ یہ حال دیکھ کر ان سے صبر نہ ہو سکا، سوچا چلوں دوبارہ دیکھوں ممکن ہے کہ کوئی آدمی نظر آ جائے، آئیں اور صفا پہاڑ پر چڑھ گئیں اور چاروں طرف نظر پھیر پھیر کر دیکھتی رہیں لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ اس طرح ہاجرہ علیہ السلام نے سات چکر لگائے پھر سوچا، چلوں دیکھوں بچہ کس حالت میں ہے؟ اسی وقت انہیں ایک آواز سنائی دی۔ انہوں نے ( آواز سے مخاطب ہو کر ) کہا کہ اگر تمہارے پاس کوئی بھلائی ہے تو میری مدد کرو۔ وہاں جبرائیل علیہ السلام موجود تھے۔ انہوں نے اپنی ایڑی سے یوں کیا ( اشارہ کر کے بتایا ) اور زمین ایڑی سے کھودی۔ راوی نے بیان کیا کہ اس عمل کے نتیجے میں وہاں سے پانی پھوٹ پڑا۔ ام اسماعیل ڈریں۔ ( کہیں یہ پانی غائب نہ ہو جائے ) پھر وہ زمین کھودنے لگیں۔ راوی نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ پانی کو یوں ہی رہنے دیتیں تو پانی زمین پر بہتا رہتا۔ غرض ہاجرہ علیہ السلام زمزم کا پانی پیتی رہیں اور اپنا دودھ اپنے بچے کو پلاتی رہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس کے بعد قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وادی کے نشیب سے گزرے۔ انہیں وہاں پرند نظر آئے۔ انہیں یہ کچھ خلاف عادت معلوم ہوا۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ پرندہ تو صرف پانی ہی پر ( اس طرح ) منڈلا سکتا ہے۔ ان لوگوں نے اپنا آدمی وہاں بھیجا۔ اس نے جا کر دیکھا تو واقعی وہاں پانی موجود تھا۔ اس نے آ کر اپنے قبیلے والوں کو خبر دی تو یہ سب لوگ یہاں آ گئے اور کہا کہ اے ام اسماعیل! کیا ہمیں اپنے ساتھ رہنے کی یا ( یہ کہا کہ ) اپنے ساتھ قیام کرنے کی اجازت دیں گی؟ پھر ان کے بیٹے ( اسماعیل علیہ السلام ) بالغ ہوئے اور قبیلہ جرہم ہی کی ایک لڑکی سے ان کا نکاح ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا اور انہوں نے اپنی اہلیہ ( سارہ علیہا السلام ) سے فرمایا کہ میں جن لوگوں کو ( مکہ میں ) چھوڑ آیا تھا ان کی خبر لینے جاؤں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ابراہیم علیہ السلام مکہ تشریف لائے اور سلام کر کے دریافت فرمایا کہ اسماعیل کہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ شکار کے لیے گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب وہ آئیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ جب اسماعیل علیہ السلام آئے تو ان کی بیوی نے واقعہ کی اطلاع دی۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہیں ہو ( جسے بدلنے کے لیے ابراہیم علیہ السلام کہہ گئے ہیں ) اب تم اپنے گھر جا سکتی ہو۔ بیان کیا کہ پھر ایک مدت کے بعد دوبارہ ابراہیم علیہ السلام کو خیال ہوا اور انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ میں جن لوگوں کو چھوڑ آیا ہوں انہیں دیکھنے جاؤں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ اسماعیل کہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ شکار کے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ ٹھہرئیے اور کھانا تناول فرما لیجئے۔ ابراہیم علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے پیتے کیا ہو؟ انہوں نے بتایا کہ گوشت کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ آپ نے دعا کی کہ اے اللہ! ان کے کھانے اور ان کے پانی میں برکت نازل فرما۔ بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کی برکت اب تک چلی آ رہی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ( تیسری بار ) ابراہیم علیہ السلام کو ایک مدت کے بعد خیال ہوا اور اپنی اہلیہ سے انہوں نے کہا کہ جن کو میں چھوڑ آیا ہوں ان کی خبر لینے مکہ جاؤں گا۔ چنانچہ آپ تشریف لائے اور اس مرتبہ اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جو زمزم کے پیچھے اپنے تیر ٹھیک کر رہے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، اے اسماعیل! تمہارے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں اس کا ایک گھر بناؤں، بیٹے نے عرض کیا کہ پھر آپ اپنے رب کا حکم بجا لائیے۔ انہوں نے فرمایا اور مجھے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو۔ عرض کیا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں۔ یا اسی قسم کے اور الفاظ ادا کئے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر دونوں باپ بیٹے اٹھے۔ ابراہیم علیہ السلام دیواریں اٹھاتے تھے اور اسماعیل علیہ السلام انہیں پتھر لا لا کر دیتے تھے اور دونوں یہ دعا کرتے جاتے تھے۔ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے یہ خدمت قبول کر۔ بیشک تو بڑا سننے والا، بہت جاننے والا ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر جب دیوار بلند ہو گئی اور بزرگ ( ابراہیم علیہ السلام ) کو پتھر ( دیوار پر ) رکھنے میں دشواری ہوئی تو وہ مقام ( ابراہیم ) کے پتھر پر کھڑے ہوئے اور اسماعیل علیہ السلام ان کو پتھر اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے اور ان حضرات کی زبان پر یہ دعا جاری تھی۔ ”اے ہمارے رب! ہماری طرف سے اسے قبول فرما لے۔ بیشک تو بڑا سننے والا بہت جاننے والا ہے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ ‏"‏ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ، وَتِلْكَ الأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى ‏"‏‏.‏ وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ ‏{‏عُمَرُ‏}‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُمْ أَمْنًا بَنِي أَرْفَدَةَ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي مِنَ الأَمْنِ‏.‏
Narrated `Aisha:That during the Mina days, Abu Bakr came to her, while there were two girls with her, beating drums, and the Prophet (ﷺ) was (lying) covering himself with his garment. Abu Bakr rebuked the two girls, but the Prophet (ﷺ) uncovered his face and said, "O Abu Bakr! Leave them, for these are the days of Id (festival)." Those days were the days of Mina-. `Aisha added, "I was being screened by the Prophet (ﷺ) while I was watching the Ethiopians playing in the Mosque. `Umar rebuked them, but the Prophet (ﷺ) said, "Leave them, O Bani Arfida! Play. (for) you are safe
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ( انصار کی ) دو لڑکیاں دف بجا کر گا رہی تھیں۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا ”ابوبکر! انہیں چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ ‏"‏‏.‏ زَادَ زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ، فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ ‏"‏‏.‏ قال ابن عباس رضي الله عنهما: "من نبيِّ ولا محدَّث
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said, "Among the nations before you there used to be people who were inspired (though they were not prophets). And if there is any of such persons amongst my followers, it is 'Umar." Narrated Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, "Among the nation of Bani Israel who lived before you, there were men who used to be inspired with guidance though they were not prophets, and if there is any of such persons amongst my followers, it is 'Umar
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے، اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہیں۔ زکریا بن زائدہ نے اپنی روایت میں سعد سے یہ بڑھایا ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوا کرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود فرشتے ان سے کلام کیا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے تو وہ عمر ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھا «من نبي ولا محدث» ۔
Narrated by Abu Burda
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَلاَ تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا، وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ، إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ، أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ، فَلاَ تَأْخُذْهُ، فَإِنَّهُ رِبًا‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ الْبَيْتَ‏.‏
Narrated Abu Burda:When I came to Medina. I met `Abdullah bin Salam. He said, "Will you come to me so that I may serve you with Sawiq (i.e. powdered barley) and dates, and let you enter a (blessed) house that in which the Prophet (ﷺ) entered?" Then he added, "You are In a country where the practice of Riba (i.e. usury) is prevalent; so if somebody owes you something and he sends you a present of a load of chopped straw or a load of barley or a load of provender then do not take it, as it is Riba
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، انہوں نے کہا، آؤ تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک ( باعظمت ) مکان میں داخل ہو گے ( کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جَو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابر بھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے۔ نضر، ابوداؤد اور وہب نے ( اپنی روایتوں میں ) «البيت‏.‏» ( گھر ) کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated by Ibrahim
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَسُئِلَ فَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مِثْلَ هَذَا‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَكَانَ يُعْجِبُهُمْ، لأَنَّ جَرِيرًا كَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ أَسْلَمَ‏.‏
Narrated Ibrahim:Hammam bin Al-Harith said, "I saw Jarir bin `Abdullah urinating. Then he performed ablution and passed his (wet) hands over his Khuffs (socks made from thick fabric or leather), stood up and prayed. He was asked about it. He replied that he had seen the Prophet (ﷺ) doing the same." They approved of this narration as Jarir was one of those who embraced Islam very late
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے اعمش کے واسطہ سے، اس نے کہا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے سنا۔ وہ ہمام بن حارث سے روایت کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور ( موزوں سمیت ) نماز پڑھی۔ آپ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ ابراہیم نخعی نے کہا کہ یہ حدیث لوگوں کی نظر میں بہت پسندیدہ تھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ آخر میں اسلام لائے تھے۔
Narrated by `Abdur-Rahman bin `Auf
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِنِّي لَفِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ إِذِ الْتَفَتُّ، فَإِذَا عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي فَتَيَانِ حَدِيثَا السِّنِّ، فَكَأَنِّي لَمْ آمَنْ بِمَكَانِهِمَا، إِذْ قَالَ لِي أَحَدُهُمَا سِرًّا مِنْ صَاحِبِهِ يَا عَمِّ أَرِنِي أَبَا جَهْلٍ‏.‏ فَقُلْتُ يَا ابْنَ أَخِي، وَمَا تَصْنَعُ بِهِ قَالَ عَاهَدْتُ اللَّهَ إِنْ رَأَيْتُهُ أَنْ أَقْتُلَهُ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُ‏.‏ فَقَالَ لِي الآخَرُ سِرًّا مِنْ صَاحِبِهِ مِثْلَهُ قَالَ فَمَا سَرَّنِي أَنِّي بَيْنَ رَجُلَيْنِ مَكَانَهُمَا، فَأَشَرْتُ لَهُمَا إِلَيْهِ، فَشَدَّا عَلَيْهِ مِثْلَ الصَّقْرَيْنِ حَتَّى ضَرَبَاهُ، وَهُمَا ابْنَا عَفْرَاءَ‏.‏
Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf:While I was fighting in the front file on the day (of the battle) of Badr, suddenly I looked behind and saw on my right and left two young boys and did not feel safe by standing between them. Then one of them asked me secretly so that his companion may not hear, "O Uncle! Show me Abu Jahl." I said, "O nephew! What will you do to him?" He said, "I have promised Allah that if I see him (i.e. Abu Jahl), I will either kill him or be killed before I kill him." Then the other said the same to me secretly so that his companion should not hear. I would not have been pleased to be in between two other men instead of them. Then I pointed him (i.e. Abu Jahl) out to them. Both of them attacked him like two hawks till they knocked him down. Those two boys were the sons of 'Afra' (i.e. an Ansari woman)
مجھ سے یعقوب نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان کے دادا سے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا بدر کی لڑائی کے موقع پر میں صف میں کھڑا ہوا تھا۔ میں نے مڑ کے دیکھا تو میری داہنی اور بائیں طرف دو نوجوان کھڑے تھے۔ ابھی میں ان کے متعلق کوئی فیصلہ بھی نہ کر پایا تھا کہ ایک نے مجھ سے چپکے سے پوچھا تاکہ اس کا ساتھی سننے نہ پائے۔ چچا! مجھے ابوجہل کو دکھا دو۔ میں نے کہا بھتیجے! تم اسے دیکھ کر کیا کرو گے؟ اس نے کہا، میں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ عہد کیا ہے کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو یا اسے قتل کر کے رہوں گا یا پھر خود اپنی جان دے دوں گا۔ دوسرے نوجوان نے بھی اپنے ساتھی سے چھپاتے ہوئے مجھ سے یہی بات پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان دونوں نوجوانوں کے درمیان میں کھڑے ہو کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے اشارے سے انہیں ابوجہل دکھا دیا۔ جسے دیکھتے ہی وہ دونوں باز کی طرح اس پر جھپٹے اور فوراً ہی اسے مار گرایا۔ یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانُوا إِذَا أَحْرَمُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَتَوُا الْبَيْتَ مِنْ ظَهْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا‏}‏
Narrated Al-Bara:In the Pre-Islamic Period when the people assumed Ihram, they would enter their houses from the back. So Allah revealed:-- "And it is not righteousness that you enter houses from the back, but the righteous man is he who fears Allah, obeys His Orders and keeps away from what He has forbidden. So enter houses through their doors
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب لوگ جاہلیت میں احرام باندھ لیتے تو گھروں میں پیچھے کی طرف سے چھت پر چڑھ کر داخل ہوتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «وليس البر بأن تأتوا البيوت من ظهورها ولكن البر من اتقى وأتوا البيوت من أبوابها‏» کہ ”اور یہ نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پیچھے کی طرف سے آؤ، البتہ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ۔“
Narrated by Talha bin 'Ubaidullah
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، ثَائِرُ الرَّأْسِ، يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ، وَلاَ يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ ‏"‏ لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَصِيَامُ رَمَضَانَ ‏"‏‏.‏ قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُ قَالَ ‏"‏ لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الزَّكَاةَ‏.‏ قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ ‏"‏ لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏‏.‏
Narrated Talha bin 'Ubaidullah: A man from Najd with unkempt hair came to Allah's Messenger (ﷺ) and we heard his loud voice but could not understand what he was saying, till he came near and then we came to know that he was asking about Islam. Allah's Messenger (ﷺ) said, "You have to offer prayers perfectly five times in a day and night (24 hours)." The man asked, "Is there any more (praying)?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, but if you want to offer the Nawafil prayers (you can)." Allah's Messenger (ﷺ) further said to him: "You have to observe fasts during the month of Ramadan." The man asked, "Is there any more fasting?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, but if you want to observe the Nawafil fasts (you can.)" Then Allah's Messenger (ﷺ) further said to him, "You have to pay the Zakat (obligatory charity)." The man asked, "Is there any thing other than the Zakat for me to pay?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, unless you want to give alms of your own." And then that man retreated saying, "By Allah! I will neither do less nor more than this." Allah's Messenger (ﷺ) said, "If what he said is true, then he will be successful (i.e. he will be granted Paradise)
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے چچا ابوسہیل بن مالک سے، انہوں نے اپنے باپ (مالک بن ابی عامر) سے، انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ سے وہ کہتے تھے نجد والوں میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، سر پریشان یعنی بال بکھرے ہوئے تھے، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نزدیک آن پہنچا، جب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے، اس نے کہا بس اس کے سوا تو اور کوئی نماز مجھ پر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل پڑھے ( تو اور بات ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے کہا اور تو کوئی روزہ مجھ پر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل روزے رکھے ( تو اور بات ہے ) طلحہ نے کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بیان کیا۔ وہ کہنے لگا کہ بس اور کوئی صدقہ مجھ پر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل صدقہ دے ( تو اور بات ہے ) راوی نے کہا پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا۔ یوں کہتا جاتا تھا، قسم اللہ کی میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ وَ‏{‏قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ‏}‏ وَ‏{‏قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ‏}‏ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ‏.‏
Narrated 'Aisha: Whenever the Prophet (ﷺ) went to bed every night, he used to cup his hands together and blow over it after reciting Surat Al-Ikhlas, Surat Al-Falaq and Surat An-Nas, and then rub his hands over whatever parts of his body he was able to rub, starting with his head, face and front of his body. He used to do that three times
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقیل بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر «قل هو الله أحد»،‏‏‏‏ «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ( تینوں سورتیں مکمل ) پڑھ کر ان پر پھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ کرتے تھے۔
Narrated by Um Habiba
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ ‏"‏ أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ وَثُوَيْبَةُ مَوْلاَةٌ لأَبِي لَهَبٍ كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيتَ قَالَ أَبُو لَهَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ‏.‏
Narrated Um Habiba:(daughter of Abu Sufyan) I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Marry my sister. the daughter of Abu Sufyan." The Prophet (ﷺ) said, "Do you like that?" I replied, "Yes, for even now I am not your only wife and I like that my sister should share the good with me." The Prophet (ﷺ) said, "But that is not lawful for me." I said, We have heard that you want to marry the daughter of Abu Salama." He said, "(You mean) the daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "Even if she were not my step-daughter, she would be unlawful for me to marry as she is my foster niece. I and Abu Salama were suckled by Thuwaiba. So you should not present to me your daughters or your sisters (in marriage)." Narrated 'Urwa: Thuwaiba was the freed slave girl of Abu Lahb whom he had manumitted, and then she suckled the Prophet. When Abu Lahb died, one of his relatives saw him in a dream in a very bad state and asked him, "What have you encountered?" Abu Lahb said, "I have not found any rest since I left you, except that I have been given water to drink in this (the space between his thumb and other fingers) and that is because of my manumitting Thuwaiba
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے خبر دی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بہن ( ابوسفیان کی لڑکی ) سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرو گی ( کہ تمہاری سوکن بہن بنے ) ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی ( غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے، نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی ( یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی ) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھ کو اور ابوسلمہ کے باپ کو دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے نہ کہو۔ عروہ راوی نے کہا ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔ ( جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کی خبر ابولہب کو دی تھی ) پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پانی ( پیر کے دن مل جاتا ہے ) ابولہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کے انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا تھا۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رضى الله عنهما كَانَ يَقُولُ فِي الإِيلاَءِ الَّذِي سَمَّى اللَّهُ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدَ الأَجَلِ إِلاَّ أَنْ يُمْسِكَ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يَعْزِمَ بِالطَّلاَقِ، كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ‏.‏
Narrated Nafi`:Ibn `Umar used to say about the Ila (which Allah defined (in the Holy Book), "If the period of Ila expires, then the husband has either to retain his wife in a handsome manner or to divorce her as Allah has ordered
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا، فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَانِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ، فَلَمْ يَكُنْ فِيهِنَّ تَمْرَةٌ أَعْجَبَ إِلَىَّ مِنْهَا، شَدَّتْ فِي مَضَاغِي‏.‏
Narrated Abu Huraira:Once the Prophet (ﷺ) distributed dates among his companions and gave each one seven dates. He gave me seven dates too, one of which was dry and hard, but none of the other dates was more liked by me than that one, for it prolonged my chewing it
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھجور تقسیم کی اور ہر شخص کو سات کھجوریں دیں۔ مجھے بھی سات کھجوریں عنایت فرمائیں۔ ان میں ایک خراب تھی ( اور سخت تھی ) لیکن مجھے وہی سب سے زیادہ اچھی معلوم ہوئی کیونکہ اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا۔
Narrated by Hisham bin Zaid
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَرَأَى غِلْمَانًا ـ أَوْ فِتْيَانًا ـ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا‏.‏ فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ‏.‏
Narrated Hisham bin Zaid:Anas and I went to Al-Hakam bin Aiyub. Anas saw some boys shooting at a tied hen. Anas said, "The Prophet has forbidden the shooting of tied or confined animals
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے، کہا کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے یہاں گیا، انہوں نے وہاں چند لڑکوں کو یا نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنَّةٍ، وَإِلاَّ كَرَعْنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ ـ قَالَ ـ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ فَانْطَلِقْ إِلَى الْعَرِيشِ ـ قَالَ ـ فَانْطَلَقَ بِهِمَا، فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ ـ قَالَ ـ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) and one of his companions entered upon an Ansari man and the Prophet (ﷺ) said to him, "If you have water kept overnight in a water skin, (give us), otherwise we will drink water by putting our mouth in it." The man was watering his garden then. He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have water kept overnight; let us go to the shade." So he took them both there and poured water into a bowl and milked a domestic goat of his in it. Allah's Messenger (ﷺ) drank, and then the man who had come along with him, drank
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک رفیق ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) بھی تھے۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے یہاں اسی رات کا باسی پانی کسی مشکیزے میں رکھا ہوا ہو ( تو ہمیں پلاؤ ) ورنہ منہ لگا کے پانی پی لیں گے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ صاحب ( جن کے یہاں آپ تشریف لیے گئے تھے ) اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ بیان کیا کہ ان صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس رات کا باسی پانی موجود ہے، آپ چھپر میں تشریف لے چلیں۔ بیان کیا کہ پھر وہ ان دونوں حضرات کو ساتھ لے کر گئے پھر انہوں نے ایک پیالہ میں پانی لیا اور اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا اس میں دودھ نکالا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، اس کے بعد آپ کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبْعًا جَمِيعًا وَثَمَانِيًا جَمِيعًا‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) prayed seven rak`at together and eight rak`at together
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا میں نے جابر بن زید سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات ( مغرب اور عشاء کی ) ایک ساتھ آٹھ رکعات ( ظہر اور عصر کی نمازیں ) ایک ساتھ پڑھیں۔
Narrated by Fatima bint Al-Mundhir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ قَدْ حُمَّتْ تَدْعُو لَهَا، أَخَذَتِ الْمَاءَ فَصَبَّتْهُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا أَنْ نَبْرُدَهَا بِالْمَاءِ‏.‏
Narrated Fatima bint Al-Mundhir:Whenever a lady suffering from fever was brought to Asma' bint Abu Bakr, she used to invoke Allah for her and then sprinkle some water on her body, at the chest and say, "Allah's Messenger (ﷺ) used to order us to abate fever with water
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا کہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے ہاں جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تھی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور اس کے گریبان میں پانی ڈالتیں وہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) forbade Ishtimal-as-Samma' and that a man should sit in an Ihtiba' posture in one garment, nothing of which covers his private parts
مجھ سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریح نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ کوئی شخص ایک کپڑے سے پنڈلی اور کمر کو ملا لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔
Narrated by Abu Sulaiman and Malik bin Huwairith
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ، مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَظَنَّ أَنَّا اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَفِيقًا رَحِيمًا فَقَالَ ‏ "‏ ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Sulaiman and Malik bin Huwairith:We came to the Prophet (ﷺ) and we were (a few) young men of approximately equal age and stayed with him for twenty nights. Then he thought that we were anxious for our families, and he asked us whom we had left behind to look after our families, and we told him. He was kindhearted and merciful, so he said, "Return to your families and teach them (religious knowledge) and order them (to do good deeds) and offer your prayers in the way you saw me offering my prayers, and when the stated time for the prayer becomes due, then one of you should pronounce its call (i.e. the Adhan), and the eldest of you should lead you in prayer
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیس دنوں تک رہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ کر آئے تھے۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا حال سنا دیا۔ آپ بڑے ہی نرم خو اور بڑے رحم کرنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ اور اپنے ملک والوں کو دین سکھاؤ اور بتاؤ اور تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص تمہارے لیے اذان دے پھر جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
Narrated by Ibn Mas`ud
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ‏.‏ وَهْوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا، فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا السَّلاَمُ‏.‏ يَعْنِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Ibn Mas`ud:Allah's Messenger (ﷺ) taught me the Tashah-hud as he taught me a Sura from the Qur'an, while my hand was between his hands. (Tashah-hud was) all the best compliments and the prayers and the good things are for Allah. Peace and Allah's Mercy and Blessings be on you, O Prophet! Peace be on us and on the pious slaves of Allah, I testify that none has the right to be worshipped but Allah, and I also testify that Muhammad is Allah's slave and His Apostle. (We used to recite this in the prayer) during the lifetime of the Prophet (ﷺ) , but when he had died, we used to say, "Peace be on the Prophet
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن بخرہ ابومعمر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا، اس وقت میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا ( اس طرح سکھایا ) جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات،‏‏‏‏ السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته،‏‏‏‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين،‏‏‏‏ أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله‏.‏» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے۔ جب آپ کی وفات ہو گئی تو ہم ( خطاب کا صیغہ کے بجائے ) اس طرح پڑھنے لگے «السلام‏.‏ على النبي» یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا‏.‏ فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَمُطِرْنَا، حَتَّى مَا كَادَ الرَّجُلُ يَصِلُ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ تَزَلْ تُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَصْرِفَهُ عَنَّا، فَقَدْ غَرِقْنَا‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ‏"‏‏.‏ فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ، وَلاَ يُمْطِرُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ‏.‏
Narrated Anas:While the Prophet (ﷺ) was delivering a sermon on a Friday, a man stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to bless us with rain." (The Prophet (ﷺ) invoked Allah for rain.) So, the sky became overcast and it started raining till one could hardly reach one's home. It kept on raining till the next Friday when the same man or another man got up and said (to the Prophet), "Invoke Allah to withhold the rain from us, for we have been drowned (with heavy rain )." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Let it rain around us and not on us." Then the clouds started dispersing around Medina and rain ceased to fall on the people of Medina
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ ہمارے لیے بارش برسائے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ) اور آسمان پر بادل چھا گیا اور بارش برسنے لگی، یہ حال ہو گیا کہ ہمارے لیے گھر تک پہنچنا مشکل تھا۔ یہ بارش اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی صحابی یا کوئی دوسرے صحابی اس دوسرے جمعہ کو کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اب بارش بند کر دے ہم تو ڈوب گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بستیوں کو سیراب کر اور ہم پر بارش بند کر دے۔ چنانچہ بادل ٹکڑے ہو کر مدینہ کے چاروں طرف بستیوں میں چلا گیا اور مدینہ والوں پر بارش رک گئی۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَاجِي رَجُلاً فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ‏.‏
Narrated Anas:Once the Iqama was pronounced and the Prophet (ﷺ) was talking to a man (in a low voice) in a corner of the mosque and he did not lead the prayer till (some of) the people had slept (dozed in a sitting posture)
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نماز کے لیے تکبیر ہو چکی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے مسجد کے ایک گوشے میں چپکے چپکے کان میں باتیں کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے جب تشریف لائے تو لوگ سو رہے تھے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمْ يَأْكُلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ، وَمَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) did not eat at a table till he died, and he did not eat a thin nicely baked wheat bread till he died
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن محمد بن عمرو بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور نہ وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی باریک چپاتی تناول فرمائی۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ‏.‏ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "The Hell Fire will keep on saying: 'Are there anymore (people to come)?' Till the Lord of Power and Honor will put His Foot over it and then it will say, 'Qat! Qat! (sufficient! sufficient!) by Your Power and Honor. And its various sides will come close to each other (i.e., it will contract)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔“ اس روایت کو شعبہ نے قتادہ سے نقل کیا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "The son of the sister of some people is from them or from their own selves
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا بھانجا اس کا ایک فرد ہے۔“ ( «منهم‏ ‏‏.‏» یا «من أنفسهم» کے الفاظ فرمائے ) ۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The one who commits an illegal sexual intercourse is not a believer at the time of committing illegal sexual intercourse and a thief is not a believer at the time of committing theft and a drinker of alcoholic drink is not a believer at the time of drinking. Yet, (the gate of) repentance is open thereafter
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ذکوان نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، وہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔“
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ بِمَشَاقِصَ وَجَعَلَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ‏.‏
Narrated Anas: A man peeped into one of the dwelling places of the Prophet. The Prophet got up and aimed a sharp-edged arrow head (or wooden stick) at him to poke him stealthily
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرہ میں جھانکنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اس کو مار دیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنِّي عَلَى حَوْضٍ أَسْقِي النَّاسَ، فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرِيحَنِي، فَنَزَعَ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَأَتَى ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ، فَلَمْ يَزَلْ يَنْزِعُ، حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ يَتَفَجَّرُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself standing over a tank (well) giving water to the people to drink. Then Abu Bakr came to me and took the bucket from me in order to relieve me and he pulled out one or two full buckets, and there was weakness in his pulling --may Allah forgive him. Then Ibn Al-Khattab took it from him and went on drawing water till the people left (after being satisfied) while the tank was over flowing with water
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں حوض پر ہوں اور لوگوں کو سیراب کر رہا ہوں پھر میرے پاس ابوبکر آئے اور مجھے آرام دینے کے لیے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا پھر انہوں نے دو ڈول کھینچے ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر بن خطاب آئے اور ان سے ڈول لے لیا اور برابر کھینچے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چل دئیے اور حوض سے پانی لبالب ابل رہا تھا۔“
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There will come a time when the best property of a Muslim will be sheep which he will take to the tops of mountains and the places of rainfall so as to flee with his religion from the afflictions
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑی کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا۔ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے وہاں بھاگ کر آ جائے گا۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَؤُمُّ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ وَأَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو سَلَمَةَ وَزَيْدٌ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:Salim, the freed salve of Abu Hudhaifa used to lead in prayer the early Muhajirin (emigrants) and the companions of the Prophet (ﷺ) in the Quba mosque. Among those (who used to pray behind him) were Abu Bakr, `Umar, Abu Salama, and Amir bin Rabi`a
ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے ( آزاد کردہ غلام ) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔
Narrated by Al-A`mash
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ هَلْ شَهِدْتَ صِفِّينَ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنَّ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَرَدَدْتُهُ، وَمَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلاَّ أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرَ هَذَا الأَمْرِ‏.‏ قَالَ وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ شَهِدْتُ صِفِّينَ وَبِئْسَتْ صِفُّونَ‏.‏
Narrated Al-A`mash:I asked Abu Wail, "Did you witness the battle of Siffin between `Ali and Muawiya?" He said, "Yes," and added, "Then I heard Sahl bin Hunaif saying, 'O people! Blame your personal opinions in your religion. No doubt, I remember myself on the day of Abi Jandal; if I had the power to refuse the order of Allah's Messenger (ﷺ), I would have refused it. We have never put our swords on our shoulders to get involved in a situation that might have been horrible for us, but those swords brought us to victory and peace, except this present situation.' " Abu Wail said, "I witnessed the battle of Siffin, and how nasty Siffin was
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، کہا میں نے اعمش سے سنا، کہا کہ میں نے ابووائل سے پوچھا تم صفین کی لڑائی میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں، پھر میں نے سہل بن حنیف کو کہتے سنا ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ( جنگ صفین کے موقع پر ) کہا کہ لوگوں! اپنے دین کے مقابلہ میں اپنی رائے کو بےحقیقت سمجھو میں نے اپنے آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے دن ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) دیکھا کہ اگر میرے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہٹنے کی طاقت ہوتی تو میں اس دن آپ سے انحراف کرتا ( اور کفار قریش کے ساتھ ان شرائط کو قبول نہ کرتا ) اور ہم نے جب کسی مہم پر اپنی تلواریں کاندھوں پر رکھیں ( لڑائی شروع کی ) تو ان تلواروں کی بدولت ہم کو ایک آسانی مل گئی جسے ہم پہچانتے تھے مگر اس مہم میں ( یعنی جنگ صفین میں مشکل میں گرفتار ہیں دونوں طرف والے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں ) ابواعمش نے کہا کہ ابووائل نے بتایا کہ میں صفین میں موجود تھا اور صفین کی لڑائی بھی کیا بری لڑائی تھی جس میں مسلمان آپس میں کٹ مرے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا‏.‏ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَمَا تَرَى النَّاسَ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلاَئِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَىْءٍ، شَفِّعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا‏.‏ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكَ ـ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ‏.‏ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ‏.‏ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطَايَاهُ الَّتِي أَصَابَهَا ـ وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا أَتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ تَكْلِيمًا ـ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ـ وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَتَهُ وَرُوحَهُ‏.‏ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم عَبْدًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ‏.‏ فَيَأْتُونِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ لَهُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ لِي ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ‏.‏ فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ عَلَّمَنِيهَا، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ عَلَّمَنِيهَا رَبِّي ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ، قُلْ يُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ عَلَّمَنِيهَا، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ‏"‏‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ مِنَ الْخَيْرِ ذَرَّةً ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will gather the believers on the Day of Resurrection in the same way (as they are gathered in this life), and they will say, 'Let us ask someone to intercede for us with our Lord that He may relieve us from this place of ours.' Then they will go to Adam and say, 'O Adam! Don't you see the people (people's condition)? Allah created you with His Own Hands and ordered His angels to prostrate before you, and taught you the names of all the things. Please intercede for us with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' Adam will say, 'I am not fit for this undertaking' and mention to them the mistakes he had committed, and add, "But you d better go to Noah as he was the first Apostle sent by Allah to the people of the Earth.' They will go to Noah who will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and mention the mistake which he made, and add, 'But you'd better go to Abraham, Khalil Ar-Rahman.' They will go to Abraham who will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and mention to them the mistakes he made, and add, 'But you'd better go to Moses, a slave whom Allah gave the Torah and to whom He spoke directly' They will go to Moses who will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and mention to them the mistakes he made, and add, 'You'd better go to Jesus, Allah's slave and His Apostle and His Word (Be: And it was) and a soul created by Him.' They will go to Jesus who will say, 'I am not fit for this undertaking, but you'd better go to Muhammad whose sins of the past and the future had been forgiven (by Allah).' So they will come to me and I will ask the permission of my Lord, and I will be permitted (to present myself) before Him. When I see my Lord, I will fall down in (prostration) before Him and He will leave me (in prostration) as long as He wishes, and then it will be said to me, 'O Muhammad! Raise your head and speak, for you will be listened to; and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will then raise my head and praise my Lord with certain praises which He has taught me, and then I will intercede. Allah will allow me to intercede (for a certain kind of people) and will fix a limit whom I will admit into Paradise. I will come back again, and when I see my Lord (again), I will fall down in prostration before Him, and He will leave me (in prostration) as long as He wishes, and then He will say, 'O Muhammad! Raise your head and speak, for you will be listened to; and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will then praise my Lord with certain praises which He has taught me, and then I will intercede. Allah will allow me to intercede (for a certain kind of people) and will fix a limit to whom I will admit into Paradise, I will return again, and when I see my Lord, I will fall down (in prostration) and He will leave me (in prostration) as long as He wishes, and then He will say, 'O Muhammad! Raise your head and speak, for you will be listened to, and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will then praise my Lord with certain praises which He has taught me, and then I will intercede. Allah will allow me to intercede (for a certain kind of people) and will fix a limit to whom I will admit into Paradise. I will come back and say, 'O my Lord! None remains in Hell (Fire) but those whom Qur'an has imprisoned therein and for whom eternity in Hell (Fire) has become inevitable.' " The Prophet (ﷺ) added, "There will come out of Hell (Fire) everyone who says: 'La ilaha illal-lah,' and has in his heart good equal to the weight of a barley grain. Then there will come out of Hell (Fire) everyone who says: ' La ilaha illal-lah,' and has in his heart good equal to the weight of a wheat grain. Then there will come out of Hell (Fire) everyone who says: 'La ilaha illal-lah,' and has in his heart good equal to the weight of an atom (or a smallest ant)
مجھ سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی طرح جیسے ہم دنیا میں جمع ہوتے ہیں، مومنوں کو اکٹھا کرے گا ( وہ گرمی وغیرہ سے پریشان ہو کر ) کہیں گے کاش ہم کسی کی سفارش اپنے مالک کے پاس لے جاتے تاکہ ہمیں اپنی اس حالت سے آرام ملتا۔ چنانچہ سب مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ ان سے کہیں گے آدم! آپ لوگوں کا حال نہیں دیکھتے کس بلا میں گرفتار ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( خاص ) اپنے ہاتھ سے بنایا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور ہر چیز کے نام آپ کو بتلائے ( ہر لغت میں بولنا بات کرنا سکھلایا ) کچھ سفارش کیجئے تاکہ ہم لوگوں کو اس جگہ سے نجات ہو کر آرام ملے۔ کہیں گے میں اس لائق نہیں، ان کو وہ گناہ یاد آ جائے گا جو انہوں نے کیا تھا ( ممنوع درخت میں سے کھانا ) ۔ ( وہ کہیں گے ) مگر تم لوگ ایسا کرو نوح علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ وہ پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا تھا۔ آخر وہ لوگ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ بھی یہی جواب دیں گے، میں اس لائق نہیں اپنی خطا جو انہوں نے ( دنیا میں ) کی تھی یاد کریں گے۔ کہیں گے تم لوگ ایسا کرو پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں ( لوگ ان کے پاس جائیں گے ) وہ بھی اپنی خطائیں یاد کر کے کہیں گے میں اس لائق نہیں تم موسیٰ علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ اللہ نے ان کو توراۃ عنائت فرمائی، ان سے بول کر باتیں کیں۔ یہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی یہی کہیں گے میں اس لائق نہیں اپنی خطا جو انہوں نے دنیا میں کی تھی یاد کریں گے مگر تم ایسا کرو عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کے خاص کلمہ اور خاص روح ہیں۔ یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے میں اس لائق نہیں تم ایسا کرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کی اگلی پچھلی خطائیں سب بخش دی گئی ہیں۔ آخر یہ سب لوگ جمع ہو کر میرے پاس آئیں گے۔ میں چلوں گا اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا، مجھ کو اجازت ملے گی۔ میں اپنے پروردگار کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا اور جب تک اس کو منظور ہے وہ مجھ کو سجدے ہی میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد حکم ہو گا ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری عرض سنی جائے گی تمہاری درخواست منظور ہو گی، تمہاری سفارش مقبول ہو گی اس وقت میں اپنے مالک کی ایسی ایسی تعریفیں کروں گا جو وہ مجھ کو سکھا چکا ہے۔ ( یا سکھلائے گا ) پھر لوگوں کی سفارش شروع کر دوں گا۔ سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا، پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اور اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہو گا ”محمد اپنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں ( یا سکھلائے گا ) اس کے بعد سفارش کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دیے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہو گا محمد اپنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں ( یا سکھلائے گا ) اس کے بعد سفارش شروع کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا۔ عرض کروں گا: یا پاک پروردگار! اب تو دوزخ میں ایسے ہی لوگ رہ گئے ہیں جو قرآن کے بموجب دوزخ ہی میں ہمیشہ رہنے کے لائق ہیں ( یعنی کافر اور مشرک ) ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ سے وہ لوگ نکال لیے جائیں گے جنہوں نے ( دنیا میں ) لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں ایک جَو برابر ایمان ہو گا پھر وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں گیہوں برابر ایمان ہو گا۔ ( گیہوں جَو سے چھوٹا ہوتا ہے ) پھر وہ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں چیونٹی برابر ( یا بھنگے برابر ) ایمان ہو گا۔
Narrated by As-Sa'ib bin Yazid
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ التَّأْذِينَ الثَّانِيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ حِينَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ يَجْلِسُ الإِمَامُ‏.‏
Narrated As-Sa'ib bin Yazid:`Uthman bin `Affan introduced the second Adhan on Fridays when the number of the people in the mosque increased. Previously the Adhan on Fridays used to be pronounced only after the Imam had taken his seat (on the pulpit)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ سائب بن یزید نے انہیں خبر دی کہ جمعہ کی دوسری اذان کا حکم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس وقت دیا جب نمازی بہت زیادہ ہو گئے تھے اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی جب امام منبر پر بیٹھا کرتا تھا۔
Narrated by Abu Burda's father
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ـ هُوَ ابْنُ سَلاَمٍ ـ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ قَالَ عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ ‏{‏يَطَؤُهَا‏}‏ فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ عَامِرٌ أَعْطَيْنَاكَهَا بِغَيْرِ شَىْءٍ، قَدْ كَانَ يُرْكَبُ فِيمَا دُونَهَا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏
Narrated Abu Burda's father: Allah's Messenger (ﷺ) said "Three persons will have a double reward: 1. A Person from the people of the scriptures who believed in his prophet (Jesus or Moses) and then believed in the Prophet Muhammad (ﷺ) (i.e. has embraced Islam). 2. A slave who discharges his duties to Allah and his master. 3. A master of a woman-slave who teaches her good manners and educates her in the best possible way (the religion) and manumits her and then marries her
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں محاربی نے خبر دی، وہ صالح بن حیان سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ عامر شعبی نے بیان کیا، کہا ان سے ابوبردہ نے اپنے باپ کے واسطے سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخص ہیں جن کے لیے دو گنا اجر ہے۔ ایک وہ جو اہل کتاب سے ہو اور اپنے نبی پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور ( دوسرے ) وہ غلام جو اپنے آقا اور اللہ ( دونوں ) کا حق ادا کرے اور ( تیسرے ) وہ آدمی جس کے پاس کوئی لونڈی ہو۔ جس سے شب باشی کرتا ہے اور اسے تربیت دے تو اچھی تربیت دے، تعلیم دے تو عمدہ تعلیم دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے، تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔ پھر عامر نے ( صالح بن حیان سے ) کہا کہ ہم نے یہ حدیث تمہیں بغیر اجرت کے سنا دی ہے ( ورنہ ) اس سے کم حدیث کے لیے مدینہ تک کا سفر کیا جاتا تھا۔