Narrated by `Abdullah bin Buraida
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ـ وَكَانَ رَجُلاً مَبْسُورًا ـ وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ مَرَّةً عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ وَهْوَ قَاعِدٌ فَقَالَ " مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهْوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نَائِمًا عِنْدِي مُضْطَجِعًا هَا هُنَا.
Narrated `Abdullah bin Buraida:`Imran bin Husain had piles. Once Abu Ma mar narrated from `Imran bin Husain had said, "I asked the Prophet (ﷺ) about the prayer of a person while sitting. He said, 'It is better for one to pray standing; and whoever prays sitting gets half the reward of that who prays while standing; and whoever prays while Lying gets half the reward of that who prays while sitting
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن بریدہ نے کہ عمران بن حصین نے جنہیں بواسیر کا مرض تھا۔ اور کبھی ابومعمر نے یوں کہا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے اسے آدھا ثواب ملے گا اور لیٹ کر پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ میں «نائم» «مضطجع» کے معنی میں ہے یعنی لیٹ کر نماز پڑھنے والا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ وَهُوَ يَقْصُصُ فِي قَصَصِهِ وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَخًا لَكُمْ لاَ يَقُولُ الرَّفَثَ. يَعْنِي بِذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ وَالأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه.
Narrated Abu Huraira:That once Allah's Messenger (ﷺ) said, "Your brother, i.e. `Abdullah bin Rawaha does not say obscene (referring to his verses): Amongst us is Allah's Messenger (ﷺ), who recites His Book when it dawns. He showed us the guidance, after we were blind. We believe that whatever he says will come true. And he spends his nights in such a way as his sides do not touch his bed. While the pagans were deeply asleep
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہیثم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ اپنے وعظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی نے ( اپنے نعتیہ اشعار میں ) یہ کوئی غلط بات نہیں کہی۔ آپ کی مراد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اشعار سے تھی جن کا ترجمہ یہ ہے: ”ہم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، جو اس کی کتاب اس وقت ہمیں سناتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے۔ ہم تو اندھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گمراہی سے نکال کر صحیح راستہ دکھایا۔ ان کی باتیں اسی قدر یقینی ہیں جو ہمارے دلوں کے اندر جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بستر سے اپنے کو الگ کر کے گزارتے ہیں جبکہ مشرکوں سے ان کے بستر بوجھل ہو رہے ہوتے ہیں“۔ یونس کی طرح اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور زبیدی نے یوں کہا سعید بن مسیب اور اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
Narrated by Ibrahim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلاَهُ بَدَا رَأْسُهُ ـ وَأُرَاهُ قَالَ ـ وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ ـ أَوْ قَالَ أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا ـ وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ.
Narrated Ibrahim:Once a meal was brought to `Abdur-Rahman bin `Auf and he was fasting. He said, "Mus`ab bin `Umair was martyred and he was better than I and was shrouded in his Burd and when his head was covered with it, his legs became bare, and when his legs were covered his head got uncovered. Hamza was martyred and was better than I. Now the worldly wealth have been bestowed upon us (or said a similar thing). No doubt, I fear that the rewards of my deeds might have been given earlier in this world." Then he started weeping and left his food
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن ابراہیم نے ‘ انہیں ان کے باپ ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا حاضر کیا گیا۔ وہ روزہ سے تھے اس وقت انہوں نے فرمایا کہ ہائے! مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے ‘ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر میسر آ سکی کہ اگر اس سے ان کا سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا اور حمزہ رضی اللہ عنہ بھی ( اسی طرح ) شہید ہوئے وہ بھی مجھ سے اچھے تھے۔ پھر ان کے بعد دنیا کی کشادگی ہمارے لیے خوب ہوئی یا یہ فرمایا کہ دنیا ہمیں بہت دی گئی اور ہمیں تو اس کا ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں ہم کو مل گیا ہو پھر آپ اس طرح رونے لگے کہ کھانا بھی چھوڑ دیا۔
Narrated by Asma
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ ". حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدَةَ، وَقَالَ، " لاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ "
Narrated Asma:The Prophet (ﷺ) said to me, "Do not withhold your money, (for if you did so) Allah would withhold His blessings from you." Narrated `Abda: The Prophet (ﷺ) said, "Do not withhold your money by counting it (i.e. hoarding it), (for if you did so), Allah would also withhold His blessings from you
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبدہ نے ہشام سے خبر دی ’ انہیں ان کی بیوی فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیرات کو مت روک ورنہ تیرا رزق بھی روک دیا جائے گا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنِّي لأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ. تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ. وَقَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ.
Narrated `Aisha:I know how the Prophet (ﷺ) used to say (Talbiya) and it was: 'Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika Laka labbaik, Inna-l-hamda wan-ni'mata Laka walmu Lk, La sharika Laka
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اعمش سے بیان کیا، ان سے عمارہ نے ان سے ابوعطیہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں جانتی ہوں کہ کس طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے تھے «لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك» ( ترجمہ گزر چکا ہے ) اس کی متابعت سفیان ثوری کی طرح ابومعاویہ نے اعمش سے بھی کی ہے۔ اور شعبہ نے کہا کہ مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی کہ میں نے خیثمہ سے سنا اور انہوں نے ابوعطیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔
Narrated by Ibn Seereen
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبِيدَةَ عِنْدَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنَسٍ، أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ فَقَالَ لأَنْ تَكُونَ عِنْدِي شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.
Narrated Ibn Seereen:I said to `Abida, "I have some of the hair of the Prophet (ﷺ) which I got from Anas or from his family." `Abida replied. "No doubt if I had a single hair of that it would have been dearer to me than the whole world and whatever is in it
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے عاصم کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن سیرین سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال ( مبارک ) ہیں، جو ہمیں انس رضی اللہ عنہ سے یا انس رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کی طرف سے ملے ہیں۔ ( یہ سن کر ) عبیدہ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان بالوں میں سے ایک بال بھی ہو تو وہ میرے لیے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَعَثَنِي ـ أَوْ قَدَّمَنِي ـ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) sent me (to Mina) with the luggage from Jam' (i.e. Al-Muzdalifa) at night
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے مزدلفہ کی رات منیٰ میں سامان کے ساتھ آگے بھیج دیا تھا ۔
Narrated by Hisham's father
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ. ثُمَّ ضَحِكَتْ.
Narrated Hisham's father:Aisha said, "Allah's Messenger (ﷺ) used to kiss some of his wives while he was fasting," and then she smiled
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج کا روزہ دار ہونے کے باوجود بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر آپ ہنسیں۔
Narrated by Abu Hurairah (ra)
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لاَ يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ، أَمِنْ حَلاَلٍ أَمْ مِنْ حَرَامٍ ".
Narrated Abu Hurairah (ra):The Prophet (ﷺ) said "Certainly a time will come when people will not bother to know from where they earned the money, by lawful means or unlawful means." (See Hadith no)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا، حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهْوَ مُؤْمِنٌ ". وَعَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ إِلاَّ النُّهْبَةَ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When an adulterer commits illegal sexual intercourse, then he is not a believer at the time, he is doing it, and when a drinker of an alcoholic liquor drinks it, then he is not a believer at the time of drinking it, and when a thief steals, then he is not a believer at the time of stealing, and when a robber robs, and the people look at him, then he is not a believer at the time of doing robbery
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زانی مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کر سکتا۔ شراب خوار مومن رہتے ہوئے شراب نہیں پی سکتا۔ چور مومن رہتے ہوئے چوری نہیں کر سکتا۔ اور کوئی شخص مومن رہتے ہوئے لوٹ اور غارت گری نہیں کر سکتا کہ لوگوں کی نظریں اس کی طرف اٹھی ہوئی ہوں اور وہ لوٹ رہا ہو، سعید اور ابوسلمہ کی بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روایت ہے۔ البتہ ان کی روایت میں لوٹ کا تذکرہ نہیں ہے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنَ الْعَبْدِ، فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ، يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، وَأُعْتِقَ مِنْ مَالِهِ، وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "If one manumits his share of a common slave (Abd), and he has money sufficient to free the remaining portion of the price of the slave (justly estimated), then he should free the slave completely by paying the rest of his price; otherwise the slave is freed partly
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا، اور اس کے پاس اتنا مال بھی ہو جس سے غلام کی واجبی قیمت ادا کی جا سکے تو اسی کے مال سے پورا غلام آزاد کیا جائے گا ورنہ جتنا آزاد ہو گیا ہو گیا۔“
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلاَمِ " إِنْ أَذِنْتَ لِي أَعْطَيْتُ هَؤُلاَءِ ". فَقَالَ مَا كُنْتُ لأُوثِرَ بِنَصِيبِي مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدًا. فَتَلَّهُ فِي يَدِهِ.
Narrated Sahl bin Sa`d:A drink (milk mixed with water) was brought to the Prophet (ﷺ) who drank some of it while a boy was sitting on his right and old men on his left. The Prophet (ﷺ) said to the boy, "If you permit me, I'll give (the rest of the drink to) these old men first." The boy said, "I will not give preference to any one over me as regards my share from you, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) then put that container in the boy's hand. (See Hadith No)
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، وہ ابوحازم سے، وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پینے کو کچھ لایا، ( دودھ یا پانی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک بچہ بیٹھا تھا اور بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے فرمایا کہ اگر تو اجازت دے ( تو بچا ہوا پانی ) میں ان بڑے لوگوں کو دے دوں؟ لیکن اس نے کہا۔ یا رسول اللہ! آپ کے جوٹھے میں سے ملنے والے کسی حصہ کا میں ایثار نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ جھٹکے کے ساتھ اسی کی طرف بڑھا دیا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَرَضَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ فَأَسْرَعُوا، فَأَمَرَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي الْيَمِينِ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) asked some people to take an oath, and they hurried for it. The Prophet (ﷺ) ordered that lots should be drawn amongst them as to who would take an oath first
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں سے قسم کھانے کے لیے کہا ( ایک ایسے مقدمے میں جس کے یہ لوگ مدعیٰ علیہ تھے ) قسم کے لیے سب ایک ساتھ آگے بڑھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ”قسم کھانے کے لیے ان میں باہم قرعہ ڈالا جائے کہ پہلے کون قسم کھائے۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، رضى الله عنه وَجَدَ مَالاً بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ، قَالَ " إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا ". فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَذِي الْقُرْبَى وَالضَّيْفِ.
Narrated Ibn `Umar:`Umar got some property in Khaibar and he came to the Prophet (ﷺ) and informed him about it. The Prophet said to him, "If you wish you can give it in charity." So `Umar gave it in charity (i.e. as an endowment) the yield of which was to be used for the good of the poor, the needy, the kinsmen and the guests
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبَقَهُمْ عَلَى فَرَسٍ، وَقَالَ " وَجَدْنَاهُ بَحْرًا ".
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) was the best, the bravest and the most generous of all the people. Once when the people of Medina got frightened, the Prophet (ﷺ) rode a horse and went ahead of them and said, "We found this horse very fast
ہم سے احمد بن عبدالملک بن واقد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ثابت بنانی سے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حسین ( خوبصورت ) سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ فیاض تھے ‘ مدینہ طیبہ کے تمام لوگ ( ایک رات ) خوف زدہ تھے ( آواز سنائی دی تھی اور سب لوگ اس کی طرف بڑھ رہے تھے ) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک گھوڑے پر سوار سب سے آگے تھے ( جب واپس ہوئے تو ) فرمایا اس گھوڑے کو ( دوڑنے میں ) ہم نے سمندر پایا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) used to visit all his wives in one night and he had nine wives at that time
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج میں نو بیویاں تھیں۔
Narrated by `Abdullah bin Abu Mulaika
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ، فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنُهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ ادْعُهُ لِي. فَسَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَوْتَهُ فَأَخَذَ قَبَاءً فَتَلَقَّاهُ بِهِ وَاسْتَقْبَلَهُ بِأَزْرَارِهِ فَقَالَ " يَا أَبَا الْمِسْوَرِ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، يَا أَبَا الْمِسْوَرِ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ". وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شِدَّةٌ. وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ. قَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةٌ. تَابَعَهُ اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.
Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika:Some silken cloaks with golden buttons were presented to the Prophet. He distributed them amongst his companions and kept one for Makhrama, bin Naufal. Later on Makhrama came along with his son Al-Miswar bin Makhrama, and stood up at the gate and said (to his son). "Call him (i.e. the Prophet) to me." The Prophet (ﷺ) heard his voice, took a silken cloak and brought it to him, placing those golden buttons in front of him saying, "O Abu-al-Miswar! I have kept this aside for you! O Abu-al Miswar! I have kept this aside for you!" Makhrama was a bad-tempered man
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیبا کی کچھ قبائیں تحفہ کے طور پر آئی تھیں۔ جن میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ‘ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لیے رکھ لی۔ پھر مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی گھنڈیاں ان کے سامنے کر دیں۔ پھر فرمایا: ابومسور! یہ قباء میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لی تھی۔ مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث ( مرسلاً ہی ) روایت کی ہے۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کچھ قبائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے۔
Narrated by Abu Talha
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةُ تَمَاثِيلَ ".
Narrated Abu Talha:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying; "Angels (of Mercy) do not enter a house wherein there is a dog or a picture of a living creature (a human being or an animal)
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتے ہوں اور اس میں بھی نہیں جس میں جاندار کی تصویر ہو۔“
Narrated by Samura bin Jundub
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مَاتَتْ فِي بَطْنٍ، فَصَلَّى عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ وَسَطَهَا.
Narrated Samura bin Jundub:The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for the dead body of a woman who died during delivery (i.e. childbirth) and he stood by the middle of her body
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے، کہا ہم سے شعبہ نے حسین سے۔ وہ عبداللہ بن بریدہ سے، وہ سمرہ بن جندب سے کہ ایک عورت ( ام کعب ) زچگی میں مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ( جسم کے ) وسط میں کھڑے ہو گئے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بِلَحْمٍ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيُنْفِدُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْهُمْ ـ فَذَكَرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ ـ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنَ الأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ. فَيَقُولُ ـ فَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ ـ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى ". تَابَعَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Huraira:One day some meat was given to the Prophet (ﷺ) and he said, "On the Day of Resurrection Allah will gather all the first and the last (people) in one plain, and the voice of the announcer will reach all of them, and one will be able to see them all, and the sun will come closer to them." (The narrator then mentioned the narration of intercession): "The people will go to Abraham and say: 'You are Allah's Prophet and His Khalil on the earth. Will you intercede for us with your Lord?' Abraham will then remember his lies and say: 'Myself! Myself! Go to Moses
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ابوحیان نے، ان سے ابوزرعہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک ہموار اور وسیع میدان میں جمع کرے گا، اس طرح کہ پکارنے والا سب کو اپنی بات سنا سکے گا اور دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا ( کیونکہ یہ میدان ہموار ہو گا، زمین کی طرح گول نہ ہو گا ) اور لوگوں سے سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفاعت کا ذکر کیا کہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ آپ روئے زمین پر اللہ کے نبی اور خلیل ہیں۔ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں شفاعت کیجئے، پھر انہیں اپنے جھوٹ ( توریہ ) یاد آ جائیں گے اور کہیں گے کہ آج تو مجھے اپنی ہی فکر ہے۔ تم لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
وَقَالَ لَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُوهُمْ قَبَائِلَ قَبَائِلَ.
Narrated Ibn `Abbas: When the Verse:-- 'And warn your tribe of near kindred' (26.214). was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling every tribe by its name
(امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا کہ ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں حبیب بن ابی ثابت نے، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب یہ آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“ اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ قبائل کو دعوت دی۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، وَقَالَ، لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، وَكَهْمَسُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُحُدٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ، قَالَ " اثْبُتْ أُحُدُ فَمَا عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدَانِ ".
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) ascended the mountain of Uhud and he was accompanied by Abu Bakr, `Umar and `Uthman. The mountain shook beneath them. The Prophet (ﷺ) hit it with his foot and said, "O Uhud ! Be firm, for on you there is none but a Prophet, a Siddiq and a martyr (i.e. and two martyrs)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سواء اور کہمس بن منہال نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے تو آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے، پہاڑ لرزنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے اسے مارا اور فرمایا ”احد! ٹھہرا رہ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔“
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُجَوِّبٌ بِهِ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلاً رَامِيًا شَدِيدَ الْقِدِّ، يَكْسِرُ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْشُرْهَا لأَبِي طَلْحَةَ. فَأَشْرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لاَ تُشْرِفْ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ. وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ، أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا، تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِهَا، ثُمَّ تَجِيآنِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَىْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ، وَإِمَّا ثَلاَثًا.
Narrated Anas:On the day of the battle of Uhud, the people ran away, leaving the Prophet (ﷺ) , but Abu- Talha was shielding the Prophet (ﷺ) with his shield in front of him. Abu Talha was a strong, experienced archer who used to keep his arrow bow strong and well stretched. On that day he broke two or three arrow bows. If any man passed by carrying a quiver full of arrows, the Prophet (ﷺ) would say to him, "Empty it in front of Abu Talha." When the Prophet (ﷺ) started looking at the enemy by raising his head, Abu Talha said, "O Allah's Prophet! Let my parents be sacrificed for your sake! Please don't raise your head and make it visible, lest an arrow of the enemy should hit you. Let my neck and chest be wounded instead of yours." (On that day) I saw `Aisha, the daughter of Abu Bakr and Um Sulaim both lifting their dresses up so that I was able to see the ornaments of their legs, and they were carrying the water skins on their arms to pour the water into the mouths of the thirsty people and then go back and fill them and come to pour the water into the mouths of the people again. (On that day) Abu Talha's sword fell from his hand twice or thrice
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقعہ پر جب صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے اِدھر اُدھر چلنے لگے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی ایک ڈھال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے۔ ابوطلحہ بڑے تیرانداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے چنانچہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے توڑ دی تھیں۔ اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لیے ہوئے گزرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کے تیر ابوطلحہ کو دے دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالات معلوم کرنے کے لیے اچک کر دیکھنے لگتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: یا نبی اللہ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اچک کر ملاحظہ نہ فرمائیں، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کی ڈھال بنا رہا اور میں نے عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ( ابوطلحہ کی بیوی ) کو دیکھا کہ اپنا ازار اٹھائے ہوئے ( غازیوں کی مدد میں ) بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں۔ ( اس خدمت میں ان کے انہماک و استغراق کی وجہ سے انہیں کپڑوں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا۔ انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے جاتی تھیں اور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کر لے جاتیں اور ان کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی تھی۔
Narrated by `Urwa
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَنَامَانِ عَلَيْهِ.
Narrated `Urwa:The Prophet (ﷺ) prayed while `Aisha was lying between him and his Qibla on the bed on which they used to sleep
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے حدیث بیان کی یزید سے، انہوں نے عراک سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بچھونے پر نماز پڑھتے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عائشہ رضی اللہ عنہا سوتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان اس بستر پر لیٹی رہتیں۔
Narrated by Abu Usaid
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ " إِذَا أَكْثَبُوكُمْ ـ يَعْنِي كَثَرُوكُمْ ـ فَارْمُوهُمْ، وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ ".
Narrated Abu Usaid:On the day of (the battle of) Badr, Allah's Messenger (ﷺ) said to us, "When your enemy comes near to you (i.e. overcomes you by sheer number), shoot at them but use your arrows sparingly
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے ‘ ان سے حمزہ بن ابی اسید اور منذر بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی تھی کہ جب کفار تمہارے قریب آ جائیں یعنی حملہ و ہجوم کریں ( اتنے کہ تمہارے نشانے کی زد میں آ جائیں ) تو پھر ان پر تیر برسانے شروع کرنا اور ( جب تک وہ تم سے قریب نہ ہوں ) اپنے تیر کو محفوظ رکھنا۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ قَالَ " مَنْ هَذِهِ ". قَالَتْ فُلاَنَةُ. تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا. قَالَ " مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا ". وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.
Narrated 'Aisha: Once the Prophet (ﷺ) came while a woman was sitting with me. He said, "Who is she?" I replied, "She is so and so," and told him about her (excessive) praying. He said disapprovingly, "Do (good) deeds which is within your capacity (without being overtaxed) as Allah does not get tired (of giving rewards) but (surely) you will get tired and the best deed (act of Worship) in the sight of Allah is that which is done regularly
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے ہشام کے واسطے سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں مجھے میرے باپ (عروہ) نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن ) ان کے پاس آئے، اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی، آپ نے دریافت کیا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا، فلاں عورت اور اس کی نماز ( کے اشتیاق اور پابندی ) کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ ( سن لو کہ ) تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے۔ اللہ کی قسم! ( ثواب دینے سے ) اللہ نہیں اکتاتا، مگر تم ( عمل کرتے کرتے ) اکتا جاؤ گے، اور اللہ کو دین ( کا ) وہی عمل زیادہ پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جا سکے۔ ( اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے ) ۔
Narrated by Ash-Shu`bi
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ أَخَذَ عَدِيٌّ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ حَتَّى كَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ نَظَرَ فَلَمْ يَسْتَبِينَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلْتُ تَحْتَ وِسَادَتِي. قَالَ " إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضٌ أَنْ كَانَ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ وَالأَسْوَدُ تَحْتَ وِسَادَتِكَ ".
Narrated Ash-Shu`bi:`Adi took a white rope (or thread) and a black one, and when some part of the night had passed, he looked at them but he could not distinguish one from the other. The next morning he said, "O Allah's Apostle! I put (a white thread and a black thread) underneath my pillow." The Prophet (ﷺ) said, "Then your pillow is too wide if the white thread (of dawn) and the black thread (of the night) are underneath your pillow
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے عامر شعبی نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ انھوں نے ایک سفید دھاگا اور ایک سیاہ دھاگا لیا ( اور سوتے ہوئے اپنے ساتھ رکھ لیا ) ۔ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو انہوں نے اسے دیکھا، وہ دونوں میں تمیز نہیں ہوئی۔ جب صبح ہوئی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے تکئے کے نیچے ( سفید و سیاہ دھاگے رکھے تھے اور کچھ نہیں ہوا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بطور مذاق کے فرمایا کہ پھر تو تمہارا تکیہ بہت لمبا چوڑا ہو گا کہ صبح کا سفیدی خط اور سیاہ خط اس کے نیچے آ گیا تھا۔
Narrated by Abu Said Al-Khudri
وَزَادَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَخِي، قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ أَنَّ رَجُلاً، قَامَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ مِنَ السَّحَرِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} لاَ يَزِيدُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ.
Narrated Abu Said Al-Khudri:My brother, Qatada bin An-Nau'man said, "A man performed the night prayer late at night in the lifetime of the Prophet (ﷺ) and he read: 'Say: He is Allah, (the) One,' (112.1) and read nothing besides that. The next morning a man went to the Prophet (ﷺ) ,~ and told him about that . (The Prophet (ﷺ) replied the same as (in Hadith 532) above
اور ابومعمر (عبداللہ بن عمرو منقری) نے اتنا زیادہ کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے کھڑے «قل هو الله أحد» پڑھتے رہے۔ ان کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ پھر جب صبح ہوئی تو دوسرے صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ( باقی حصہ ) پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ، تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى}. قَالَتِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ وَهْوَ وَلِيُّهَا، فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا، وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، وَلاَ يَعْدِلُ فِي مَالِهَا، فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهَا مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ.
Narrated Aisha":(regarding) the Verse: 'And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphans...' (4.3) It is about the orphan girl who is in the custody of a man who is her guardian, and he intends to marry her because of her wealth, but he treats her badly and does not manage her property fairly and honestly. Such a man should marry women of his liking other than her, two or three or four. 'Prohibited to you (for marriage) are: ...your foster-mothers (who suckled you).' (4.23) Marriage is prohibited between persons having a foster suckling relationship corresponding to a blood relationship which renders marriage unlawful
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وإن خفتم أن لا، تقسطوا في اليتامى» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے۔“ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ ولی اس سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کرتے اور اچھی طرح اس سے سلوک نہ کرتے اور نہ اس کے مال کے بارے میں انصاف کرتے ایسے شخصوں کو یہ حکم ہوا کہ اس یتیم لڑکی سے نکاح نہ کریں بلکہ اس کے سوا جو عورتیں بھلی لگیں ان سے نکاح کر لیں۔ دو دو، تین تین یا چار چار تک کی اجازت ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
وَقَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ الثَّقَفِيُّ.
Narrated Ibn 'Abbas:Qariba, The daughter of Abi Umaiyya, was the wife of 'Umar bin Al-Khattab. 'Umar divorced her and then Mu'awiyya bin Abi Sufyan married her. Similarly, Um Al-Hakam, the daughter of Abi Sufyan was the wife of 'Iyad bin Ghanm Al-Fihri. He divorced her and then 'Abdullah bin 'Uthman Al-Thaqafi married her
اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( مشرکین سے نکاح کی مخالفت کی آیت کے بعد ) انہیں طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ان سے نکاح کر لیا اور ام الحکم بنت ابی سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس وقت اس نے انہیں طلاق دے دی ( اور وہ مدینہ ہجرت کر کے آ گئیں ) اور عبداللہ بن عثمان ثقفی نے ان سے نکاح کیا۔
Narrated by `Amr bin Umaiyya
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
Narrated `Amr bin Umaiyya:that he saw the Prophet (ﷺ) holding a shoulder piece of mutton in his hand and cutting part of it with a knife. Then he was called for the prayer whereupon he put down the shoulder piece and the knife with which he was cutting it, and then stood for prayer without performing ablution again
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری نے خبر دی، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ نے گوشت اور وہ چھری جس سے گوشت کی بوٹی کاٹ رہے تھے، ڈال دی اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ نے نیا وضو نہیں کیا ( کیونکہ آپ پہلے ہی وضو کئے ہوئے تھے ) ۔
Narrated by Asma bint Abu Bakr
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ، امْرَأَتِي عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ.
Narrated Asma bint Abu Bakr:We slaughtered a horse (by Nahr) during the lifetime of the Prophet (ﷺ) and ate it
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میری بیوی فاطمہ بنت منذر نے خبر دی ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔
Narrated by Rafi` bin Khadij
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ، صُهَيْبٌ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ.
Narrated Rafi` bin Khadij:We used to offer the Maghrib prayer with the Prophet (ﷺ) and after finishing the prayer one of us may go away and could still see as far as the spots where one's arrow might reach when shot by a bow
ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلمہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنجاشی نے بیان کیا، ان کا نام عطاء بن صہیب تھا اور یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رافع بن خدیج سے سنا آپ نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے اور تیر اندازی کرتے ( تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رُفِعْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ، نَهَرَانِ ظَاهِرَانِ، وَنَهَرَانِ بَاطِنَانِ، فَأَمَّا الظَّاهِرَانِ النِّيلُ وَالْفُرَاتُ، وَأَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ فَأُتِيتُ بِثَلاَثَةِ أَقْدَاحٍ، قَدَحٌ فِيهِ لَبَنٌ، وَقَدَحٌ فِيهِ عَسَلٌ، وَقَدَحٌ فِيهِ خَمْرٌ، فَأَخَذْتُ الَّذِي فِيهِ اللَّبَنُ فَشَرِبْتُ فَقِيلَ لِي أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَنْتَ وَأُمَّتُكَ ". قَالَ هِشَامٌ وَسَعِيدٌ وَهَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الأَنْهَارِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا ثَلاَثَةَ أَقْدَاحٍ.
The Prophet (ﷺ) added:I was raised to the Lote Tree and saw four rivers, two of which were coming out and two going in. Those which were coming out were the Nile and the Euphrates, and those which were going in were two rivers in paradise. Then I was given three bowls, one containing milk, and another containing honey, and a third containing wine. I took the bowl containing milk and drank it. It was said to me, "You and your followers will be on the right path (of Islam)
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا تو وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں۔ دو ظاہری نہریں اور دو باطنی۔ ظاہری نہریں تو نیل اور فرات ہیں اور باطنی نہریں جنت کی دو نہریں ہیں۔ پھر میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک پیالے میں دودھ تھا، دوسرے میں شہد تھا اور تیسرے میں شراب تھی۔ میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور پیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے اور تمہاری امت نے اصل فطرت کو پا لیا۔ ہشام، سعید اور ہمام نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں ندیوں کا ذکر تو ایسا ہی ہے لیکن تین پیالوں کا ذکر نہیں ہے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّ عَلَىَّ أَوْ قَالَ صُبُّوا عَلَيْهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ لاَ يَرِثُنِي إِلاَّ كَلاَلَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ.
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) came to me while I was ill. He performed ablution and threw the remaining water on me (or said, "Pour it on him) " When I came to my senses I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have no son or father to be my heir, so how will be my inheritance?" Then the Verse of inheritance was revealed
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں بیمار تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا یا فرمایا کہ اس پر یہ پانی ڈال دو اس سے مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو کلالہ ہوں ( جس کے والد اور اولاد نہ ہو ) میرے ترکہ میں تقسیم کیسے ہو گی اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلاَبَةَ، مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ، وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ. وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالأُذُنِ. قَالَ أَنَسٌ كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) allowed one of the Ansar families to treat persons who have taken poison and also who are suffering from ear ailment with Ruqya. Anas added: I got myself branded cauterized) for pleurisy, when Allah's Messenger (ﷺ) was still alive. Abu Talha, Anas bin An-Nadr and Zaid bin Thabit witnessed that, and it was Abu Talha who branded (cauterized) me
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَعَنْ صَلاَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) had forbidden: (A) the Mulamasa and Munabadha (bargains), (B) the offering of two prayers, one after the morning compulsory prayer till the sun rises, and the others, after the `Asr prayer till the sun sets (C) He also forbade that one should sit wearing one garment, nothing of which covers his private parts (D) and prevent them from exposure to the sky; (E) he also forbade Ishtimalas- Samma
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور دو وقت نمازوں سے بھی آپ نے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑا جسم پر لپیٹ کر گھٹنے اوپر اٹھا کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اس کی شرمگاہ پر آسمان و زمین کے درمیان کوئی چیز نہ ہو اور اشتمال صماء سے منع فرمایا۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ، فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا ". وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
Narrated Sahl bin Sa`d:The Prophet (ﷺ) said, "I and the person who looks after an orphan and provides for him, will be in Paradise like this," putting his index and middle fingers together
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارہ سے ( قرب کو ) بتایا۔
Narrated by Abu Sa`id
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَهْلَ، قُرَيْظَةَ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِ فَجَاءَ فَقَالَ " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ ". أَوْ قَالَ " خَيْرِكُمْ ". فَقَعَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ". قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ. فَقَالَ " لَقَدْ حَكَمْتَ بِمَا حَكَمَ بِهِ الْمَلِكُ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مِنْ قَوْلِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى حُكْمِكَ.
Narrated Abu Sa`id:The people of (the tribe of) Quraiza agreed upon to accept the verdict of Sa`d. The Prophet (ﷺ) sent for him (Sa`d) and he came. The Prophet (ﷺ) said (to those people), "Get up for your chief or the best among you!" Sa`d sat beside the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) said (to him), "These people have agreed to accept your verdict." Sa`d said, "So I give my judgment that their warriors should be killed and their women and children should be taken as captives." The Prophet (ﷺ) said, "You have judged according to the King's (Allah's) judgment." (See Hadith No. 447, Vol)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے سعد بن ابراہیم نے ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کو اٹھو یا یوں فرمایا کہ اپنے میں سب سے بہتر کو لینے کے لیے اٹھو۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر ( قلعہ سے ) اتر آئے ہیں ( اب تم کیا فیصلہ کرتے ہو ) ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں جو جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جس فیصلہ کو فرشتہ لے کر آیا تھا۔ ابوعبداللہ ( مصنف ) نے بیان کیا کہ مجھے میرے بعض اصحاب نے ابوالولید کے واسطہ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول ( «على» کے بجائے بصلہ «إلى حكمك.» نقل کیا ہے۔)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، إِنْ شِئْتَ. لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "None of you should say: 'O Allah, forgive me if You wish; O Allah, be merciful to me if You wish,' but he should always appeal to Allah with determination, for nobody can force Allah to do something against His Will
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے، میری مغفرت کر دے۔ بلکہ یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلاَّهُ انْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ قَالَ " عَلَى مَكَانِكُمْ ". فَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً وَقَدِ اغْتَسَلَ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) went out (of the mosque) when the Iqama had been pronounced and the rows straightened. The Prophet (ﷺ) stood at his Musalla (praying place) and we waited for the Prophet (ﷺ) to begin the prayer with Takbir. He left and asked us to remain in our places. We kept on standing till the Prophet returned and the water was trickling from his head for he had taken a bath (of Janaba)
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، وہ صالح بن کیسان سے، وہ ابن شہاب سے، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن حجرے سے ) باہر تشریف لائے، اقامت کہی جا چکی تھی اور صفیں برابر کی جا چکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو ہم انتظار کر رہے تھے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ ہم اسی حالت میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے، تو سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا تھا۔
Narrated by Sahl bin Sa`d As-Sa`id
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ " مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ، هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ. قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لاَ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لاَ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لاَ يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا ".
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`id:A man passed by Allah's Messenger (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) asked a man sitting beside him, "What is your opinion about this (passer-by)?" He replied, "This (passer-by) is from the noble class of people. By Allah, if he should ask for a lady's hand in marriage, he ought to be given her in marriage, and if he intercedes for somebody, his intercession will be accepted. Allah's Messenger (ﷺ) kept quiet, and then another man passed by and Allah's Messenger (ﷺ) asked the same man (his companion) again, "What is your opinion about this (second) one?" He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This person is one of the poor Muslims. If he should ask a lady's hand in marriage, no-one will accept him, and if he intercedes for somebody, no one will accept his intercession, and if he talks, no-one will listen to his talk." Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "This (poor man) is better than such a large number of the first type (i.e. rich men) as to fill the earth
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے جو آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے، پوچھا کہ اس شخص ( گزرے والے ) کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ معزز لوگوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم! یہ اس قابل ہے کہ اگر یہ پیغام نکاح بھیجے تو اس سے نکاح کر دیا جائے۔ اگر یہ سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کر لی جائے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے متعلق بھی پوچھا کہ ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ! یہ صاحب مسلمانوں کے غریب طبقہ سے ہیں اور یہ ایسے ہیں کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجیں تو ان کا نکاح نہ کیا جائے، اگر یہ کسی کی سفارش کریں تو ان کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر کچھ کہیں تو ان کی بات نہ سنی جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کے نزدیک یہ پچھلا محتاج شخص اگلے مالدار شخص سے، گو ویسے آدمی زمین بھر کر ہوں، بہتر ہے۔
Narrated by Haritha bin Wahb
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ، وَأَهْلِ النَّارِ كُلُّ جَوَّاظٍ عُتُلٍّ مُسْتَكْبِرٍ ".
Narrated Haritha bin Wahb:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Shall I tell you of the people of Paradise? They comprise every poor humble person, and if he swears by Allah to do something, Allah will fulfill it; while the people of the fire comprise every violent, cruel arrogant person
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے، کہا میں نے حارثہ بن وہب سے سنا، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں تم کو بتلاؤں بہشتی کون لوگ ہیں، ہر ایک غریب ناتواں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے ( اس کی قسم پوری کر دے ) اور دوزخی کون لوگ ہیں ہر ایک موٹا، لڑاکا، مغرور، فسادی۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَقَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُمْ يَشْتَرِطُونَ الْوَلاَءَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
Narrated Ibn `Umar:When Aisha intended to buy Barira, she said to the Prophet, "Barira's masters stipulated that they will have the Wala." The Prophet (ﷺ) said (to Aisha), "Buy her, as the Wala is for the one who manumits
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ لوگ ولاء کی شرط لگاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے ( آزاد کرائے ) ۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ. وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ وَمَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ".
Narrated Sahl bin Sa`d:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever guarantees me (the chastity of) what is between his legs (i.e. his private parts), and what is between his jaws (i.e., his tongue), I guarantee him Paradise
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے خلیفہ بن حیاط نے بیان کیا، ان سے عمر بن علی نے، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان یعنی ( شرمگاہ ) کی اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان ( یعنی زبان ) کی ضمانت دے دی تو میں اسے جنت میں جانے کا بھروسہ دلاتا ہوں۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ، وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا " لاَ تَلُدُّونِي ". قَالَ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ بِالدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ " أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ". قَالَ قُلْنَا كَرَاهِيَةٌ لِلدَّوَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ لُدَّ ـ وَأَنَا أَنْظُرُ ـ إِلاَّ الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ".
Narrated `Aisha:We poured medicine into the mouth of Allah's Messenger (ﷺ) during his illness, and he pointed out to us intending to say, "Don't pour medicine into my mouth." We thought that his refusal was out of the aversion a patient usually has for medicine. When he improved and felt a bit better he said (to us.) "Didn't I forbid you to pour medicine into my mouth?" We said, "We thought (you did so) because of the aversion, one usually have for medicine." Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is none of you but will be forced to drink medicine, and I will watch you, except Al-`Abbas, for he did not witness this act of yours
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے ( اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں ) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ حَدَّثَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ".
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(I saw in a dream that) while I was standing at a well and drawing water therefrom, suddenly Abu Bakr and `Umar came to me. Abu Bakr took the bucket and drew one or two buckets (full of water), but there was weakness in his pulling, but Allah forgave him. Then Ibn Al- Khattab took the bucket from Abu Bakr's hand and the bucket turned into a very large one in his hand. I have never seen any strong man among the people doing such a hard job as `Umar did, till (the people drank to their satisfaction) and water their camels to their fill and they sat near the water
ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( خواب میں ) میں ایک کنویں سے پانی کھینچ رہا تھا کہ ابوبکر اور عمر بھی آ گئے۔ اب ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا۔ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے آمین۔ اس کے بعد عمر بن خطاب نے اسے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے عمر جیسا پانی کھینچنے میں کسی کو ماہر نہیں دیکھا۔ انہوں نے خوب پانی نکالا یہاں تک کہ لوگوں نے اونٹوں کے لیے پانی سے حوض بھر لیے۔“
Narrated by Abu Al-Aswad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَغَيْرُهُ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ،. وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْثٌ فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَنَهَانِي أَشَدَّ النَّهْىِ ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ يُكَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَأْتِي السَّهْمُ فَيُرْمَى فَيُصِيبُ أَحَدَهُمْ، فَيَقْتُلُهُ أَوْ يَضْرِبُهُ فَيَقْتُلُهُ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ}
Narrated Abu Al-Aswad:An army unit was being recruited from the people of Medina and my name was written among them. Then I met `Ikrima, and when I informed him about it, he discouraged me very strongly and said, "Ibn `Abbas told me that there were some Muslims who were with the pagans to increase their number against Allah's Messenger (ﷺ) (and the Muslim army) so arrows (from the Muslim army) would hit one of them and kill him or a Muslim would strike him (with his sword) and kill him. So Allah revealed:-- 'Verily! As for those whom the angels take (in death) while they are wronging themselves (by staying among the disbelievers)
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح وغیرہ نے بیان کیا کہ ہم سے ابوالاسود نے بیان کیا، یا لیث نے ابوالاسود سے بیان کیا کہ اہل مدینہ کا ایک لشکر تیار کیا گیا ( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں شام والوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ) اور میرا نام اس میں لکھ دیا گیا۔ پھر میں عکرمہ سے ملا اور میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے مجھے شرکت سے سختی کے ساتھ منع کیا۔ پھر کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی ہے کہ کچھ مسلمان جو مشرکین کے ساتھ رہتے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ( غزوات ) میں مشرکین کی جماعت کی زیادتی کا باعث بنتے۔ پھر کوئی تیر آتا اور ان میں سے کسی کو لگ جاتا اور قتل کر دیتا یا انہیں کوئی تلوار سے قتل کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم» ”بلا شک وہ لوگ جن کو فرشتے فوت کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔“
Narrated by Abu Burda
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبِي وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ". فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى إِنَّهُ يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا الْبِتْعُ. فَقَالَ " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ". وَقَالَ النَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Burda:The Prophet (ﷺ) sent my father and Mu`adh bin Jabal to Yemen and said (to them), "Make things easy for the people and do not put hurdles in their way, and give them glad tiding, and don't let them have aversion (i.e. to make people to hate good deeds) and you both should work in cooperation and mutual understanding" Abu Musa said to Allah's Messenger (ﷺ), "In our country a special alcoholic drink called Al- Bit', is prepared (for drinking)." The Prophet (ﷺ) said, "Every intoxicant is prohibited
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو عقدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ہمارے ملک میں شہد کا نبیذ ( تبع ) بنایا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نضر بن شمیل، ابوداؤد طیالسی، یزید بن ہارو اور وکیع نے شعبہ سے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔
Narrated by Malik bin Aus An-Nasri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ النَّصْرِيُّ، وَكَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي ذِكْرًا مِنْ ذَلِكَ فَدَخَلْتُ عَلَى مَالِكٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى عُمَرَ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ. قَالَ نَعَمْ. فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا. فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ. فَأَذِنَ لَهُمَا. قَالَ الْعَبَّاسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ الظَّالِمِ. اسْتَبَّا. فَقَالَ الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الآخَرِ. فَقَالَ اتَّئِدُوا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفْسَهُ. قَالَ الرَّهْطُ قَدْ قَالَ ذَلِكَ. فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ذَلِكَ. قَالاَ نَعَمْ. قَالَ عُمَرُ فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الأَمْرِ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَالِ بِشَىْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ} الآيَةَ، فَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ وَلاَ اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، وَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ حَيَاتَهُ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ فَقَالُوا نَعَمْ. ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ. ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ ـ وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ ـ تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهَا كَذَا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ. فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ، جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَأَتَانِي هَذَا يَسْأَلُنِي نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا، عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ تَعْمَلاَنِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِمَا عَمِلَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ وَبِمَا عَمِلْتُ فِيهَا مُنْذُ وَلِيتُهَا، وَإِلاَّ فَلاَ تُكَلِّمَانِي فِيهَا. فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا بِذَلِكَ. فَدَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ قَالَ الرَّهْطُ نَعَمْ. فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ. قَالاَ نَعَمْ. قَالَ أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ فَوَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ لاَ أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلَىَّ، فَأَنَا أَكْفِيكُمَاهَا.
Narrated Malik bin Aus An-Nasri:I proceeded till I entered upon `Umar (and while I was sitting there), his gate-keeper Yarfa came to him and said, " `Uthman, `Abdur-Rahman, Az-Zubair and Sa`d ask your permission to come in." `Umar allowed them. So they entered, greeted, and sat down. (After a while the gatekeeper came) and said, "Shall I admit `Ali and `Abbas?'' `Umar allowed them to enter. Al-`Abbas said "O Chief of the believers! Judge between me and the oppressor (`Ali)." Then there was a dispute (regarding the property of Bani Nadir) between them (`Abbas and `Ali). `Uthman and his companions said, "O Chief of the Believers! Judge between them and relieve one from the other." `Umar said, "Be patient! beseech you by Allah, with Whose permission the Heaven and the Earth Exist! Do you know that Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Our property is not to be inherited, and whatever we leave is to be given in charity,' and by this Allah's Messenger (ﷺ) meant himself?" On that the group said, "He verily said so." `Umar then faced `Ali and `Abbas and said, "I beseech you both by Allah, do you both know that Allah's Messenger (ﷺ) said so?" They both replied, "Yes". `Umar then said, "Now I am talking to you about this matter (in detail) . Allah favored Allah's Messenger (ﷺ) with some of this wealth which He did not give to anybody else, as Allah said: 'What Allah bestowed as Fai (Booty on His Apostle for which you made no expedition... ' (59.6) So that property was totally meant for Allah's Messenger (ﷺ), yet he did not collect it and ignore you, nor did he withhold it with your exclusion, but he gave it to you and distributed it among you till this much of it was left behind, and the Prophet, used to spend of this as the yearly expenditures of his family and then take what remained of it and spent it as he did with (other) Allah's wealth. The Prophet (ﷺ) did so during all his lifetime, and I beseech you by Allah, do you know that?" They replied, "Yes." `Umar then addressed `Ali and `Abbas, saying, "I beseech you both by Allah, do you know that?" Both of them replied, "Yes." `Umar added, "Then Allah took His Apostle unto Him. Abu Bakr then said 'I am the successor of Allah's Messenger (ﷺ)' and took over all the Prophet's property and disposed of it in the same way as Allah's Messenger (ﷺ) used to do, and you were present then." Then he turned to `Ali and `Abbas and said, "You both claim that Abu Bakr did so-and-so in managing the property, but Allah knows that Abu Bakr was honest, righteous, intelligent, and a follower of what is right in managing it. Then Allah took Abu Bakr unto Him, 'I said: I am the successor of Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr.' So I took over the property for two years and managed it in the same way as Allah's Messenger (ﷺ), and Abu Bakr used to do. Then you both (`Ali and `Abbas) came to me and asked for the same thing! (O `Abbas! You came to me to ask me for your share from nephew's property; and this (`Ali) came to me asking for his wives share from her father's property, and I said to you both, 'If you wish, I will place it in your custody on condition that you both will manage it in the same way as Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr did and as I have been doing since I took charge of managing it; otherwise, do not speak to me anymore about it.' Then you both said, 'Give it to us on that (condition).' So I gave it to you on that condition. Now I beseech you by Allah, did I not give it to them on that condition?" The group (whom he had been addressing) replied, "Yes." `Umar then addressed `Abbas and `Ali saying, "I beseech you both by Allah, didn't I give you all that property on that condition?" They said, "Yes." `Umar then said, "Are you now seeking a verdict from me other than that? By Him with Whose Permission the Heaven and the Earth exists I will not give any verdict other than that till the Hour is established; and if you both are unable to manage this property, then you can hand it back to me, and I will be sufficient for it on your behalf." (See, Hadith No. 326, Vol)
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں مالک بن اوس نضری نے خبر دی کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے اس سلسلہ میں ذکر کیا تھا، پھر میں مالک کے پاس گیا اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں روانہ ہوا اور عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اتنے میں ان کے دربان یرفاء آئے اور کہا کہ عثمان، عبدالرحمٰن، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، کیا انہیں اجازت دی جائے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ سب لوگ اندر آ گئے اور سلام کیا اور بیٹھ گئے، پھر یرفاء نے آ کر پوچھا کہ کیا علی اور عباس کو اجازت دی جائے؟ ان حضرات کو بھی اندر بلایا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امیرالمؤمنین! میرے اور ظالم کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے۔ آپس میں دونوں نے سخت کلامی کی۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی جماعت نے کہا کہ امیرالمؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے تاکہ دونوں کو آرام حاصل ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صبر کرو میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کی اجازت سے آسمان و زمین قائم ہیں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری میراث تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خود اپنی ذات مراد لی تھی۔ جماعت نے کہا کہ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ پھر آپ علی اور عباس رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا؟ انہوں نے بھی کہا کہ ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد کہا کہ پھر میں آپ لوگوں سے اس بارے میں گفتگو کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا اس مال میں سے ایک حصہ مخصوص کیا تھا جو اس نے آپ کے سوا کسی کو نہیں دیا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم» الآیہ۔ تو یہ مال خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، پھر واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے لوگوں کو نظر انداز کر کے اپنے لیے جمع نہیں کیا اور نہ اسے اپنی ذاتی جائیداد بنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آپ لوگوں کو بھی دیا اور سب میں تقسیم کیا، یہاں تک اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کا سالانہ خرچ دیتے تھے، پھر باقی اپنے قبضے میں لے لیتے تھے اور اسے بیت المال میں رکھ کر عام مسلمانوں کے ضروریات میں خرچ کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر اس کے مطابق عمل کیا۔ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ کو اس کا علم ہے؟ صحابہ نے کہا کہ ہاں پھر آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے کہا، میں آپ دونوں حضرات کو بھی اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ لوگوں کو اس کا علم ہے؟ انہوں نے بھی کہا کہ ہاں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولی ہونے کی حیثیت سے اس پر قبضہ کیا اور اس میں اسی طرح عمل کیا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ آپ دونوں حضرات بھی یہیں موجود تھے۔ آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر یہ بات کہی اور آپ لوگوں کا خیال تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اس معاملے میں خطاکار ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اس معاملے میں سچے اور نیک اور سب سے زیادہ حق کی پیروی کرنے والے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وفات دی اور میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں اس طرح میں نے بھی اس جائیداد کو اپنے قبضے میں دو سال تک رکھا اور اس میں اسی کے مطابق عمل کرتا رہا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، پھر آپ دونوں حضرات میرے پاس آئے اور آپ لوگوں کا معاملہ ایک ہی تھا، کوئی اختلاف نہیں تھا۔ آپ ( عباس رضی اللہ عنہ! ) آئے اپنے بھائی کے لڑکے کی طرف سے اپنی میراث لینے اور یہ ( علی رضی اللہ عنہ ) اپنی بیوی کی طرف سے ان کے والد کی میراث کا مطالبہ کرنے آئے۔ میں نے تم سے کہا کہ یہ جائیداد تقسیم تو نہیں ہو سکتی لیکن تم لوگ چاہو تو میں اہتمام کے طور پر آپ کو یہ جائیداد دے دوں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ لوگوں پر اللہ کا عہد اور اس کی میثاق ہے کہ اس کو اسی طرح خرچ کرو گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور جس طرح میں نے اپنے زمانہ ولایت میں کیا اگر یہ منظور نہ ہو تو پھر مجھ سے اس معاملہ میں بات نہ کریں۔ آپ دونوں حضرات نے کہا کہ اس شرط کے ساتھ ہمارے حوالہ جائیداد کر دیں۔ چنانچہ میں نے اس شرط کے ساتھ آپ کے حوالہ جائیداد کر دی تھی۔ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا میں نے ان لوگوں کو اس شرط کے ساتھ جائیداد دی تھی۔ جماعت نے کہا کہ ہاں، پھر آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا میں نے جائیداد آپ لوگوں کو اس شرط کے ساتھ حوالہ کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر آپ نے کہا، کیا آپ لوگ مجھ سے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہیں۔ پس اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، اس میں، اس کے سوا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ اگر آپ لوگ اس کا انتظام نہیں کر سکتے تو پھر میرے حوالہ کر دو میں اس کا بھی انتظام کر لوں گا۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَخْفَى عَلَيْكُمْ، إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ـ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنِهِ ـ وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ".
Narrated `Abdullah:Ad-Dajjal was mentioned in the presence of the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, "Allah is not hidden from you; He is not one-eyed," and pointed with his hand towards his eye, adding, "While Al-Masih Ad- Dajjal is blind in the right eye and his eye looks like a protruding grape
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور آپ نے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہو گی، جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو۔
Narrated by As-Saib bin Yazid
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ ـ رضى الله عنه ـ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ.
Narrated As-Saib bin Yazid:In the lifetime of the Prophet, Abu Bakr and `Umar, the Adhan for the Jumua prayer used to be pronounced when the Imam sat on the pulpit. But during the Caliphate of `Uthman when the Muslims increased in number, a third Adhan at Az-Zaura' was added. Abu `Abdullah said, "Az-Zaura' is a place in the market of Medina
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری کے واسطے سے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کے لیے بیٹھتے لیکن عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی کثرت ہو گئی تو وہ مقام زوراء سے ایک اور اذان دلوانے لگے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلاَثًا، وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا.
Narrated Anas:Whenever the Prophet (ﷺ) asked permission to enter, he knocked the door thrice with greeting and whenever he spoke a sentence (said a thing) he used to repeat it thrice. (See Hadith No. 261, Vol)
ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے عبدالصمد نے، ان سے عبداللہ بن مثنی نے، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی کلمہ ارشاد فرماتے تو اسے تین بار دہراتے یہاں تک کہ خوب سمجھ لیا جاتا۔
Narrated by `Urwa on the authority of `Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ". وَتِلْكَ الأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى. وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمْ، أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ ". يَعْنِي مِنَ الأَمْنِ.
Narrated `Urwa on the authority of `Aisha:On the days of Mina, (11th, 12th, and 13th of Dhul-Hijjah) Abu Bakr came to her while two young girls were beating the tambourine and the Prophet (ﷺ) was lying covered with his clothes. Abu Bakr scolded them and the Prophet (ﷺ) uncovered his face and said to Abu Bakr, "Leave them, for these days are the days of `Id and the days of Mina." `Aisha further said, "Once the Prophet (ﷺ) was screening me and I was watching the display of black slaves in the Mosque and (`Umar) scolded them. The Prophet (ﷺ) said, 'Leave them. O Bani Arfida! (carry on), you are safe (protected)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں ( منٰی کے دنوں میں ) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور بعاث کی لڑائی کی نظمیں گا رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر جانے بھی دو یہ عید کے دن ہیں ( اور وہ بھی منٰی میں ) ۔