بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
18
54 hadith
Narrated by `Imran bin Husain
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ـ وَكَانَ مَبْسُورًا ـ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهْوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ ‏"‏‏.‏
Narrated `Imran bin Husain:(who had piles) I asked Allah's Messenger (ﷺ) about the praying of a man while sitting. He said, "If he prays while standing it is better and he who prays while sitting gets half the reward of that who prays standing; and whoever prays while Lying gets half the reward of that who prays while sitting
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں حسین نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن بریدہ نے، انہیں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( دوسری سند ) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
Narrated by Ubada bin As-Samit
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‏.‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي‏.‏ أَوْ دَعَا اسْتُجِيبَ، فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلاَتُهُ ‏"‏‏.‏
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir li (O Allah! Forgive me). Or invokes (Allah), he will be responded to and if he performs ablution (and prays), his prayer will be accepted
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏.‏ الحمد لله،‏‏‏‏ وسبحان الله،‏‏‏‏ ولا إله إلا الله،‏‏‏‏ والله أكبر،‏‏‏‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت“ پھر یہ پڑھے «اللهم اغفر لي‏» ( ترجمہ ) اے اللہ! میری مغفرت فرما“۔ یا ( یہ کہا کہ ) کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر اگر اس نے وضو کیا ( اور نماز پڑھی ) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے۔
Narrated by Sa`d from his father
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ يَوْمًا بِطَعَامِهِ فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ـ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي ـ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلاَّ بُرْدَةٌ، وَقُتِلَ حَمْزَةُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلاَّ بُرْدَةٌ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي‏.‏
Narrated Sa`d from his father:Once the meal of `Abdur-Rahman bin `Auf was brought in front of him, and he said, "Mus`ab bin `Umair was martyred and he was better than I, and he had nothing except his Burd (a black square narrow dress) to be shrouded in. Hamza or another person was martyred and he was also better than I and he had nothing to be shrouded in except his Burd. No doubt, I fear that the rewards of my deeds might have been given early in this world." Then he started weeping
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے ‘ ان سے ان کے باپ سعد نے اور ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ( غزوہ احد میں ) شہید ہوئے ‘ وہ مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز مہیا نہ ہو سکی۔ اسی طرح جب حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے یا کسی دوسرے صحابی کا نام لیا ‘ وہ بھی مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے بھی صرف ایک ہی چادر مل سکی۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے چین اور آرام کے سامان ہم کو جلدی سے دنیا ہی میں دے دئیے گئے ہوں پھر وہ رونے لگے۔
Narrated by Abu Burda bin Abu Musa
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ، أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ قَالَ ‏ "‏ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Burda bin Abu Musa:that his father said, "Whenever a beggar came to Allah's Messenger (ﷺ) or he was asked for something, he used to say (to his companions), "Help and recommend him and you will receive the reward for it; and Allah will bring about what He will through His Prophet's tongue
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ان کے باپ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مانگنے والا آتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے فرماتے کہ تم سفارش کرو کہ اس کا ثواب پاؤ گے اور اللہ پاک اپنے نبی کی زبان سے جو فیصلہ چاہے گا وہ دے گا۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ تَلْبِيَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Talbiya of Allah's Messenger (ﷺ) was : 'Labbaika Allahumma labbaik, Labbaika la sharika Laka labbaik, Inna-l-hamda wan-ni'mata Laka walmulk, La sharika Laka' (I respond to Your call O Allah, I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, You have no partner, I respond to Your call All the praises and blessings are for You, All the sovereignty is for You, And You have no partners with You)
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللهم لبيك،‏‏‏‏ لبيك لا شريك لك لبيك،‏‏‏‏ إن الحمد والنعمة لك والملك،‏‏‏‏ لا شريك لك‏» ”حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں میں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ حاضر ہوں، تمام حمد تیرے ہی لیے ہے اور تمام نعمتیں تیری ہی طرف سے ہیں، بادشاہت تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔“
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:I saw Allah's Messenger (ﷺ) when the `Asr prayer was due and the people searched for water to perform ablution but they could not find it. Later on (a pot full of) water for ablution was brought to Allah's Apostle. He put his hand in that pot and ordered the people to perform ablution from it. I saw the water springing out from underneath his fingers till all of them performed the ablution (it was one of the miracles of the Prophet)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے خبر دی، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز عصر کا وقت آ گیا، لوگوں نے پانی تلاش کیا، جب انہیں پانی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ایک برتن میں ) وضو کے لیے پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اسی ( برتن ) سے وضو کریں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ( چشمے کی طرح ) ابل رہا تھا۔ یہاں تک کہ ( قافلے کے ) آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔
Narrated by Abdullah bin 'Abbas (ra)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ، فَقَالَتْ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas (ra):Al Fadl was riding behind the Prophet (ﷺ) and a woman from the tribe of Khath'am came up. Al Fadl started looking at her and she looked at him. The Prophet (ﷺ) turned Al-Fadl's face to the other side. She said, "My father has come under Allah's obligation of performing Hajj but he is very old man and cannot sit properly on his Rahila (mount). Shall I perform Hajj on his behalf?" The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative. That happened during Hajjat-ul-Wada' of the Prophet (ﷺ)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی۔ فضل رضی اللہ عنہ اس کو دیکھنے لگے اور وہ فضل رضی اللہ عنہ کو دیکھنے لگی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، اس عورت نے کہا کہ اللہ کا فریضہ ( حج ) نے میرے بوڑھے والد کو اس حالت میں پا لیا ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں، آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ، وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ‏.‏ وَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏مَآرِبُ‏}‏ حَاجَةٌ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ ‏{‏أُولِي الإِرْبَةِ‏}‏ الأَحْمَقُ لاَ حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ‏.‏
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to kiss and embrace (his wives) while he was fasting, and he had more power to control his desires than any of you. Said Jabir, "The person who gets discharge after casting a look (on his wife) should complete his fast
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے لیکن ( اپنی ازواج کے ساتھ ) «يقبل» ( بوسہ لینا ) و مباشرت ( اپنے جسم سے لگا لینا ) بھی کر لیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے، بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( سورۃ طہٰ میں جو «مآرب‏» کا لفظ ہے وہ ) حاجت و ضرورت کے معنی میں ہے، طاؤس نے کہا کہ لفظ «أولي الإربة‏» ( جو سورۃ النور میں ہے ) اس احمق کو کہیں گے جسے عورتوں کی کوئی ضرورت نہ ہو۔
Narrated by Hakim bin Hizam
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ـ أَوْ قَالَ حَتَّى يَتَفَرَّقَا ـ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ‏"‏‏.‏
Narrated Hakim bin Hizam:The Prophet (ﷺ) said, "The buyer and the seller have the option to cancel or to confirm the deal, as long as they have not parted or till they part, and if they spoke the truth and told each other the defects of the things, then blessings would be in their deal, and if they hid something and told lies, the blessing of the deal would be lost
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے، کہا کہ میں نے ابوخلیل سے سنا، وہ عبداللہ بن حارث سے نقل کرتے تھے اور وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں ( کہ بیع فسخ کر دیں یا رکھیں ) یا آپ نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے ) «حتى يتفرقا» فرمایا۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی۔
Narrated by `Abdullah bin Yazid Al-Ansari
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الأَنْصَارِيّ َ ـ وَهُوَ جَدُّهُ أَبُو أُمِّهِ ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النُّهْبَى وَالْمُثْلَةِ‏.‏
Narrated `Abdullah bin Yazid Al-Ansari:The Prophet (ﷺ) forbade robbery (taking away what belongs to others without their permission), and also forbade mutilation (or maiming) of bodies
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، جو عدی بن ثابت کے نانا تھے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، اسْقِ رَبَّكَ‏.‏ وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلاَىَ‏.‏ وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي‏.‏ وَلْيَقُلْ فَتَاىَ وَفَتَاتِي وَغُلاَمِي ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "You should not say, 'Feed your lord (Rabbaka), help your lord in performing ablution, or give water to your lord, but should say, 'my master (e.g. Feed your master instead of lord etc.) (Saiyidi), or my guardian (Maulai), and one should not say, my slave (Abdi), or my girl-slave (Amati), but should say, my lad (Fatai), my lass (Fatati), and 'my boy (Ghulami)
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص ( کسی غلام یا کسی بھی شخص سے ) یہ نہ کہے۔ اپنے رب ( مراد آقا ) کو کھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اپنے رب کو پانی پلا“۔ بلکہ صرف میرے سردار، میرے آقا کے الفاظ کہنا چاہئے۔ اسی طرح کوئی شخص یہ نہ کہے۔ ”میرا بندہ، میری بندی، بلکہ یوں کہنا چاہئے میرا چھوکرا، میری چھوکری، میرا غلام۔“
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ،‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمْتُهُ، فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِي، وَيُحَلِّلُوا أَبِي، فَأَبَوْا، فَلَمْ يُعْطِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَائِطِي، وَلَمْ يَكْسِرْهُ لَهُمْ، وَلَكِنْ قَالَ ‏"‏ سَأَغْدُو عَلَيْكَ ‏"‏‏.‏ فَغَدَا عَلَيْنَا حَتَّى أَصْبَحَ، فَطَافَ فِي النَّخْلِ، وَدَعَا فِي ثَمَرِهِ بِالْبَرَكَةِ، فَجَدَدْتُهَا، فَقَضَيْتُهُمْ حُقُوقَهُمْ، وَبَقِيَ لَنَا مِنْ ثَمَرِهَا بَقِيَّةٌ، ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ جَالِسٌ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعُمَرَ ‏"‏ اسْمَعْ ـ وَهْوَ جَالِسٌ ـ يَا عُمَرُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَلاَّ يَكُونُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:My father was martyred on the day (of the battle) of Uhud and his creditors demanded the debt back in a harsh manner. So I went to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him of that, he asked them to accept the fruits of my garden and excuse my father, but they refused. So, Allah's Messenger (ﷺ) did not give them the fruits, nor did he cut them and distribute them among them, but said, "I will come to you tomorrow morning." So, he came to us the next morning and walked about in between the date-palms and invoked Allah to bless their fruits. I plucked the fruits and gave back all the rights of the creditors in full, and a lot of fruits were left for us. Then I went to Allah's Messenger (ﷺ), who was sitting, and informed him about what happened. Allah's Messenger (ﷺ) told `Umar, who was sitting there, to listen to the story. `Umar said, "Don't we know that you are Allah's Messenger (ﷺ)? By Allah! you are Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ابن شہاب سے، وہ ابن کعب بن مالک سے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ احد کی لڑائی میں ان کے باپ شہید ہو گئے ( اور قرض چھوڑ گئے ) قرض خواہوں نے تقاضے میں بڑی شدت کی، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ میرے باغ کی کھجور لے لیں ( جو بھی ہوں ) اور میرے والد کو ( جو باقی رہ جائے وہ قرض ) معاف کر دیں۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا باغ انہیں نہیں دیا اور نہ ان کے لیے پھل تڑوائے۔ بلکہ فرمایا کہ کل صبح میں تمہارے یہاں آؤں گا۔ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجور کے درختوں میں ٹہلتے رہے اور برکت کی دعا فرماتے رہے پھر میں نے پھل توڑ کر قرض خواہوں کے سارے قرض ادا کر دئیے اور میرے پاس کھجور بچ بھی گئی۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، عمر! سن رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، ہمیں تو پہلے سے معلوم ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قسم اللہ کی! اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
Narrated by Ibn Mas`ud
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn Mas`ud:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever takes a (false) oath in order to grab (other's) property, then Allah will be angry with him when he will meet Him
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاحد نے بیان کیا اعمش سے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص قسم اس لیے کھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کسی کا مال ( ناجائز طور پر ) ہضم کر جائے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَصَابَ عُمَرُ بِخَيْبَرَ أَرْضًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ مِنْهُ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ‏"‏‏.‏ فَتَصَدَّقَ عُمَرُ أَنَّهُ لاَ يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ، فِي الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:When `Umar got a piece of land in Khaibar, he came to the Prophet (ﷺ) saying, "I have got a piece of land, better than which I have never got. So what do you advise me regarding it?" The Prophet (ﷺ) said, "If you wish you can keep it as an endowment to be used for charitable purposes." So, `Umar gave the land in charity (i.e. as an endowment) on the condition that the land would neither be sold nor given as a present, nor bequeathed, (and its yield) would be used for the poor, the kinsmen, the emancipation of slaves, Jihad, and for guests and travelers; and its administrator could eat in a reasonable just manner, and he also could feed his friends without intending to be wealthy by its means
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن عون رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن عون رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
Narrated by Abu Huraira
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ ـ أَوْ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ ـ كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said, "Once Solomon, son of David said, '(By Allah) Tonight I will have sexual intercourse with one hundred (or ninety-nine) women each of whom will give birth to a knight who will fight in Allah's Cause.' On that, a companion (angel) said to him, "(Say) Allah willing", but he did not say, "Allah willing." Therefore only one of those women conceived and gave birth to a half-man. By Him in Whose Hands Muhammad's life is, if he had said, "Allah willing', (he would have begotten sons) all of whom would have been knights striving in Allah's Cause
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ہرمز نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا آج رات اپنی سو یا ( راوی کو شک تھا ) ننانوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ بھی کہہ لیجئے لیکن انہوں نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان کے بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر سلیمان علیہ السلام اس وقت ان شاءاللہ کہہ لیتے تو ( تمام بیویاں حاملہ ہوتیں اور ) سب کے یہاں ایسے شہسوار بچے پیدا ہوتے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَقِيَهُ فِي بَعْضِ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَهْوَ جُنُبٌ، فَانْخَنَسْتُ مِنْهُ، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ كُنْتُ جُنُبًا، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ وَأَنَا عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) came across me in one of the streets of Medina and at that time I was Junub. So I slipped away from him and went to take a bath. On my return the Prophet (ﷺ) said, "O Abu Huraira! Where have you been?" I replied, "I was Junub, so I disliked to sit in your company." The Prophet (ﷺ) said, "Subhan Allah! A believer never becomes impure
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا ہم سے حمید طویل نے، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے ابورافع کے واسطہ سے، انہوں نے ابوہریرہ سے سنا کہ مدینہ کے کسی راستے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں پیچھے رہ کر لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغیر غسل کے بیٹھنا برا جانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ سبحان اللہ! مومن ہرگز نجس نہیں ہو سکتا۔
Narrated by Abu Musa Al-Ash`ari
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ أَعْرَابِيٌّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، مَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهْوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:A bedouin asked the Prophet, "A man may fight for the sake of booty, and another may fight so that he may be mentioned by the people, and a third may fight to show his position (i.e. bravery); which of these is regarded as fighting in Allah's Cause?" The Prophet (ﷺ) said, "He who fights so that Allah's Word (i.e. Islam) should be superior, fights for Allah's Cause
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابووائل سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی ( لاحق بن ضمیرہ باہلی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ایک شخص ہے جو غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوا ‘ ایک شخص ہے جو اس لیے شرکت کرتا ہے کہ اس کی بہادری کے چرچے زبانوں پر آ جائیں ‘ ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے ‘ تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون سا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جنگ میں شرکت اس لیے کرے تاکہ اللہ کا کلمہ ( دین ) ہی بلند رہے۔ فقط وہی اللہ کے راستے میں ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ حَشَوْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وِسَادَةً فِيهَا تَمَاثِيلُ كَأَنَّهَا نُمْرُقَةٌ، فَجَاءَ فَقَامَ بَيْنَ الْبَابَيْنِ وَجَعَلَ يَتَغَيَّرُ وَجْهُهُ، فَقُلْتُ مَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا بَالُ هَذِهِ الْوِسَادَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ وِسَادَةٌ جَعَلْتُهَا لَكَ لِتَضْطَجِعَ عَلَيْهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَأَنَّ مَنْ صَنَعَ الصُّورَةَ يُعَذَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:I stuffed for the Prophet (ﷺ) a pillow decorated with pictures (of animals) which looked like a Namruqa (i.e. a small cushion). He came and stood between the two doors and his face began to change. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What did we do wrong?" He said, "What is this pillow?" I said, "I have prepared this pillow for you, so that you may recline on it." He said, "Don't you know that angels do not enter a house wherein there are pictures; and whoever makes a picture will be punished on the Day of Resurrection and will be asked to give life to (what he has created)?
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں اسماعیل بن امیہ نے، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک تکیہ بھرا، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ وہ ایسا ہو گیا جیسے نقشی تکیہ ہوتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور آپ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سے کیا غلطی ہوئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا، یہ تو میں نے آپ کے لیے بنایا ہے تاکہ آپ اس پر ٹیک لگا سکیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہوتی ہے اور یہ کہ جو شخص بھی تصویر بنائے گا، قیامت کے دن اسے اس پر عذاب دیا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ جس کی مورت تو نے بنائی، اب اسے زندہ بھی کر کے دکھا۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said to me, "Give up the prayer when your menses begin and when it has finished, wash the blood off your body (take a bath) and start praying
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حیض کا زمانہ آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ زمانہ گزر جائے تو خون کو دھو اور نماز پڑھ۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ ‏{‏الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ كَمَا تَقُولُونَ ‏{‏لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ بِشِرْكٍ، أَوَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لاِبْنِهِ ‏{‏يَا بُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ‏}‏‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah:When the Verse:--"It is those who believe and do not confuse their belief with wrong ( i.e. joining others in worship with Allah" (6.83) was revealed, we said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is there amongst us who has not done wrong to himself?" He replied, "It is not as you say, for 'wrong' in the Verse and 'do not confuse their belief, with wrong means 'SHIRK' (i.e. joining others in worship with Allah). Haven't you heard Luqman's saying to his son, 'O my son! Join not others in worship with Allah, verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم‏» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی قسم کے ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔“ تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔ ( میں ظلم سے مراد ) شرک ہے کیا تم نے لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو یہ نصیحت نہیں سنی کہ ”اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، بیشک شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَادِي ‏"‏ يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:When the Verse:-- 'And warn your tribe of near kindred.' (26.214) was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling (the 'Arab tribes), "O Bani Fihr, O Bani `Adi" mentioning first the various branch tribes of Quraish
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» ”اے پیغمبر! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو بلایا اے بنی فہر! اے بنی عدی! جو قریش کے خاندان تھے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ، فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ، وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي، فَإِذَا عَلِيٌّ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَحَسِبْتُ أَنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:When (the dead body of) `Umar was put on his deathbed, the people gathered around him and invoked (Allah) and prayed for him before the body was taken away, and I was amongst them. Suddenly I felt somebody taking hold of my shoulder and found out that he was `Ali bin Abi Talib. `Ali invoked Allah's Mercy for `Umar and said, "O `Umar! You have not left behind you a person whose deeds I like to imitate and meet Allah with more than I like your deeds. By Allah! I always thought that Allah would keep you with your two companions, for very often I used to hear the Prophet (ﷺ) saying, 'I, Abu Bakr and `Umar went (somewhere); I, Abu Bakr and `Umar entered (somewhere); and I, Abu Bakr and `Umar went out
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم سے عمر بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( شہادت کے بعد ) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے ( اللہ سے ) دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے، نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا رحمت کی اور ( ان کی نعش کو مخاطب کر کے ) کہا: آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم! مجھے تو ( پہلے سے ) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ”میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے۔“
Narrated by Qatada
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىٌّ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو زَيْدٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ‏.‏ قُلْتُ لأَنَسِ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي‏.‏
Narrated Qatada:Anas said, "The Qur'an was collected in the lifetime of the Prophet (ﷺ) by four (men), all of whom were from the Ansar: Ubai, Mu`adh bin Jabal, Abu Zaid and Zaid bin Thabit." I asked Anas, "Who is Abu Zaid?" He said, "One of my uncles
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے۔ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم میں نے پوچھا: ابوزید کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهْىَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ، اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ‏.‏
Narrated `Aisha:Allah's Apostle prayed while I was lying like a dead body on his family bed between him and his Qibla
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ان کو عروہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بچھونے پر نماز پڑھتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتیں جیسے ( نماز کے لیے ) جنازہ رکھا جاتا ہے۔
Narrated by Usaid
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَدْرٍ ‏ "‏ إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Usaid:On the day of Badr, Allah's Messenger (ﷺ) said to us, "When the enemy comes near to you, shoot at them but use your arrows sparingly (so that your arrows should not be wasted)
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا ‘ ان سے حمزہ بن ابی اسید اور زبیر بن منذر بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر ہمیں ہدایت فرمائی تھی کہ جب کفار تمہارے قریب آ جائیں تو ان پر تیر چلانا اور ( جب تک وہ دور رہیں ) اپنے تیروں کو بچائے رکھنا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلاَمَهُ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said, "If any one of you improves (follows strictly) his Islamic religion then his good deeds will be rewarded ten times to seven hundred times for each good deed and a bad deed will be recorded as it is
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ان سے عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے ہمام سے خبر دی، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص جب اپنے اسلام کو عمدہ بنا لے ( یعنی نفاق اور ریا سے پاک کر لے ) تو ہر نیک کام جو وہ کرتا ہے اس کے عوض دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہر برا کام جو کرتا ہے تو وہ اتنا ہی لکھا جاتا ہے ( جتنا کہ اس نے کیا ہے ) ۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ لَمَّا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ كَانُوا لاَ يَقْرَبُونَ النِّسَاءَ رَمَضَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ رِجَالٌ يَخُونُونَ أَنْفُسَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ‏}‏‏.‏
Narrated Al-Bara':When the order of compulsory fasting of Ramadan was revealed, the people did not have sexual relations with their wives for the whole month of Ramadan, but some men cheated themselves (by violating that restriction). So Allah revealed: "Allah is aware that you were deceiving yourselves but He accepted your repentance and forgave you
ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، ان سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب رمضان کے روزے کا حکم نازل ہوا تو مسلمان پورے رمضان میں اپنی بیویوں کے قریب نہیں جاتے تھے اور کچھ لوگوں نے اپنے کو خیانت میں مبتلا کر لیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم فتاب عليكم وعفا عنكم‏» ”اللہ نے جان لیا کہ تم اپنے کو خیانت میں مبتلا کرتے رہتے تھے۔ پس اس نے تم پر رحمت سے توجہ فرمائی اور تم کو معاف کر دیا۔“
Narrated by Abu Said Al-Khudri
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Said Al-Khudri: A man heard another man reciting (Surat-Al-Ikhlas) 'Say He is Allah, (the) One.' (112. 1) repeatedly. The next morning he came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him about it as if he thought that it was not enough to recite. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my life is, this Surah is equal to one-third of the Qur'an
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، انہیں ان کے والد عبداللہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی ( خود ابو سعید خدری ) نے ایک دوسرے صحابی ( قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ) اپنے ماں جائے بھائی کو دیکھا کہ وہ رات کو سورۃ «قل هو الله أحد‏» باربار پڑھ رہے ہیں۔ صبح ہوئی تو وہ صحابی ( ابوسعید رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گویا انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بڑا ثواب نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ عَتَقَتْ فَخُيِّرَتْ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏‏.‏ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبُرْمَةٌ عَلَى النَّارِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ ‏"‏ لَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ ‏"‏ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:Three principles were established because of Barira: (i) When Banra was manumitted she was given the option (to remain with her slave husband or not). (ii) Allah's Messenger (ﷺ) said "The Wala of the slave) is for the one who manumits (the slave). (iii) When Allah's Messenger (ﷺ) entered (the house), he saw a cooking pot on the fire but he was given bread and meat soup from the soup of the home. The Prophet (ﷺ) said, "Didn't I see the cooking pot (on the fire)?" It was said, "That is the meat given in charity to Barira, and you do not eat the (things given in) charity." The Prophet (ﷺ) said, "It is an object of charity for Barira, and it is a present for us
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہیں ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے انہیں قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ کے ساتھ تین سنت قائم ہوتی ہیں، انہیں آزاد کیا اور پھر اختیار دیا گیا ( کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سابقہ سے اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ) فرمایا کہ ولاء آزاد کرانے والے کے ساتھ قائم ہوئی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ایک ہانڈی ( گوشت کی ) چولہے پر تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( چولہے پر ) ہانڈی ( گوشت کی ) بھی تو میں نے دیکھی تھی۔ عرض کیا گیا کہ وہ ہانڈی اس گوشت کی تھی جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اب ہمارے لیے ان کی طرف سے تحفہ ہے۔ ہم اسے کھا سکتے ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ، عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْمُؤْمِنِينَ، كَانُوا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ، وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لاَ يُقَاتِلُهُمْ وَلاَ يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ، وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا، وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas: The pagans were of two kinds as regards their relationship to the Prophet and the Believers. Some of them were those with whom the Prophet was at war and used to fight against, and they used to fight him; the others were those with whom the Prophet (ﷺ) made a treaty, and neither did the Prophet (ﷺ) fight them, nor did they fight him. If a lady from the first group of pagans emigrated towards the Muslims, her hand would not be asked in marriage unless she got the menses and then became clean. When she became clean, it would be lawful for her to get married, and if her husband emigrated too before she got married, then she would be returned to him. If any slave or female slave emigrated from them to the Muslims, then they would be considered free persons (not slaves) and they would have the same rights as given to other emigrants. The narrator then mentioned about the pagans involved with the Muslims in a treaty, the same as occurs in Mujahid's narration. If a male slave or a female slave emigrated from such pagans as had made a treaty with the Muslims, they would not be returned, but their prices would be paid (to the pagans)
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت ( اسلام قبول کرنے کے بعد ) ہجرت کر کے ( مدینہ منورہ ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں، پھر جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان سے نکاح جائز ہو جاتا، پھر اگر ان کے شوہر بھی، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کر دی جاتی تھی۔
Narrated by Abu Qatada
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَازِلٌ أَمَامَنَا، وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي، فَلَمْ يُؤْذِنُونِي لَهُ، وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ، فَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ فَأَسْرَجْتُهُ‏.‏ ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقُلْتُ لَهُمْ نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ‏.‏ فَقَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَىْءٍ‏.‏ فَغَضِبْتُ فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا، ثُمَّ رَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي، فَأَدْرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ مَعَكُمْ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَكَلَهَا حَتَّى تَعَرَّقَهَا، وَهْوَ مُحْرِمٌ‏.‏ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ مِثْلَهُ‏.‏
Narrated Abu Qatada:Once, while I was sitting with the companions of the Prophet (ﷺ) at a station on the road to Mecca and Allah's Messenger (ﷺ) was stationing ahead of us and all the people were assuming Ihram while I was not. My companion, saw an onager while I was busy Mending my shoes. They did not Inform me of the onager but they wished that I would see it Suddenly I looked and saw the onager Then I headed towards my horse, saddled it and rode, but I forgot to take the lash and the spear. So I said to them my companions), "Give me the lash and the spear." But they said, "No, by Allah we will not help you in any way to hunt it ' I got angry, dismounted, took it the spear and the lash), rode (the horse chased the onager and wounded it Then I brought it when it had dyed. My companions started eating of its (cooked) meat, but they suspected that it might be unlawful to eat of its meat while they were in a state of Ihram Then I proceeded further and I kept one of its forelegs with me. When we met Allah's Apostle we asked him about that. He said, "Have you some of its meat with you?" I gave him that foreleg and he ate the meat till he stripped the bone of its flesh although he was in a state of Ihram
اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ اسلمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں ایک منزل پر بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احرام کی حالت میں تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر کو دیکھا۔ میں اس وقت اپنا جوتا ٹانکنے میں مصروف تھا۔ ان لوگوں نے مجھے اس گورخر کے متعلق بتایا کچھ نہیں لیکن چاہتے تھے کہ میں کسی طرح دیکھ لوں۔ چنانچہ میں متوجہ ہوا اور میں نے اسے دیکھ لیا، پھر میں گھوڑے کے پاس گیا اور اسے زین پہنا کر اس پر سوار ہو گیا لیکن کوڑا اور نیزہ بھول گیا تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ کوڑا اور نیزہ مجھے دے دو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم تمہاری شکار کے معاملہ میں کوئی مدد نہیں کریں گے۔ ( کیونکہ ہم محرم ہیں ) میں غصہ ہو گیا اور میں نے اتر کر خود یہ دونوں چیزیں اٹھائیں پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور ذبح کر لیا۔ جب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے ساتھ لایا پھر پکا کر میں نے اور سب نے کھایا لیکن بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں اس ( شکار کا گوشت ) کھانا کیسا ہے؟ پھر ہم روانہ ہوئے اور میں نے اس کا گوشت چھپا کر رکھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، تمہارے پاس کچھ بچا ہوا بھی ہے؟ میں نے وہی دست پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت آپ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کھینچ کر کھایا اور آپ احرام میں تھے۔ محمد بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے یہ واقعہ بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سارا واقعہ بیان کیا۔
Narrated by Rafi` bin Khadij
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى فَقَالَ ‏"‏ اعْجَلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ‏"‏‏.‏ وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ لِهَذِهِ الإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَىْءٌ، فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا ‏"‏‏.‏
Narrated Rafi` bin Khadij:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are going to face the enemy tomorrow and we do not have knives." He said, "Hurry up (in killing the animal). If the killing tool causes blood to flow out, and if Allah's Name is mentioned, eat (of the slaughtered animal). But do not slaughter with a tooth or a nail. I will tell you why: As for the tooth, it is a bone; and as for the nail, it is the knife of Ethiopians." Then we got some camels and sheep as war booty, and one of those camels ran away, whereupon a man shot it with an arrow and stopped it. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Of these camels there are some which are as wild as wild beasts, so if one of them (runs away and) makes you tired, treat it in this manner
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے اور ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کل ہمارا مقابلہ دشمن سے ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جلدی کر لو یا ( اس کے بجائے ) «أرن» کہا یعنی جلدی کر لو جو آلہ خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے اور اس کی وجہ بھی بتا دوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اور ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا تو ایک صاحب نے تیر سے مار کر گرا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے بھی کوئی تمہارے قابو سے باہر ہو جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلاً إِلَى اللَّيْلِ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ، فَقَالُوا لاَ حَاجَةَ لَنَا إِلَى أَجْرِكَ، فَاسْتَأْجَرَ آخَرِينَ فَقَالَ أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ، وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ صَلاَةِ الْعَصْرِ قَالُوا لَكَ مَا عَمِلْنَا‏.‏ فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا فَعَمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "The example of Muslims, Jews and Christians is like the example of a man who employed laborers to work for him from morning till night. They worked till midday and they said, 'We are not in need of your reward.' So the man employed another batch and said to them, 'Complete the rest of the day and yours will be the wages I had fixed (for the first batch). They worked until the time of the `Asr prayer and said, 'Whatever we have done is for you.' He employed another batch. They worked for the rest of the day till sunset, and they received the wages of the two former batches
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ عامر بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں اور یہود و نصاری کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے کہ جس نے کچھ لوگوں سے مزدوری پر رات تک کام کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے آدھے دن کام کیا۔ پھر جواب دے دیا کہ ہمیں تمہاری اجرت کی ضرورت نہیں، ( یہ یہود تھے ) پھر اس شخص نے دوسرے مزدور بلائے اور ان سے کہا کہ دن کا جو حصہ باقی بچ گیا ہے ( یعنی آدھا دن ) اسی کو پورا کر دو۔ شرط کے مطابق مزدوری تمہیں ملے گی۔ انہوں نے بھی کام شروع کیا لیکن عصر تک وہ بھی جواب دے بیٹھے۔ ( یہ نصاریٰ تھے ) پس اس تیسرے گروہ نے ( جو اہل اسلام ہیں ) پہلے دو گروہوں کے کام کی پوری مزدوری لے لی۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ لَهُ دَسَمًا ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) drank milk and then rinsed his mouth and said, "It contains fat
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا ـ أَوْ أُتِيَ بِهِ ـ قَالَ ‏ "‏ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏‏.‏ قَالَ عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَأَبِي الضُّحَى إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ، وَقَالَ جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى وَحْدَهُ، وَقَالَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا‏.‏
Narrated `Aisha:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) paid a visit to a patient, or a patient was brought to him, he used to invoke Allah, saying, "Take away the disease, O the Lord of the people! Cure him as You are the One Who cures. There is no cure but Yours, a cure that leaves no disease
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے «أذهب الباس رب الناس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ شفاء لا يغادر سقما» ”اے پروردگار لوگوں کے! بیماری دور کر دے، اے انسانوں کے پالنے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔“ اور عمرو بن ابی قیس اور ابراہیم بن طہمان نے منصور سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم اور ابوالضحیٰ سے کہ ”جب کوئی مریض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا۔“
Narrated by Um Oais
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ،، وَكَانَتْ، مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللاَّتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لَهَا قَدْ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ ‏ "‏ اتَّقُوا اللَّهَ، عَلَى مَا تَدْغَرُونَ أَوْلاَدَكُمْ بِهَذِهِ الأَعْلاَقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ الْكُسْتَ يَعْنِي الْقُسْطَ، قَالَ وَهْىَ لُغَةٌ‏.‏
Narrated Um Oais:that she took to Allah's Messenger (ﷺ) one of her sons whose palate and tonsils she had pressed to treat a throat trouble. The Prophet (ﷺ) said, "Be afraid of Allah! Why do you pain your children by having their tonsils pressed like that? Use the Ud Al-Hindi (a certain Indian incense) for it cures seven diseases, one of which is pleurisy
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی، انہیں اسحاق نے، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور وہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئیں۔ انہوں نے اس بچے کا کوا گرنے میں تالو دبا کر علاج کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو کہ تم اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو عود ہندی ( کوٹ ) اس میں استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کے لیے شفاء ہے جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عود ہندی سے «كست» تھی جسے «قسط» بھی کہتے ہیں یہ بھی ایک لغت ہے۔
Narrated by Abu Burda
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً وَإِزَارًا غَلِيظًا فَقَالَتْ قُبِضَ رُوحُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَيْنِ‏.‏
Narrated Abu Burda:Aisha brought out to us a Kisa and an Izar and said, "The Prophet (ﷺ) died while wearing these two." (Kisa, a square black piece of woolen cloth. Izar, a sheet cloth garment covering the lower half of the body)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی ( «كساء» ) اور ایک موٹی ازار نکال کر دکھائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان ہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلاَثِ سِنِينَ، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا‏.‏
Narrated `Aisha:I never felt so jealous of any woman as I did of Khadija, though she had died three years before the Prophet married me, and that was because I heard him mentioning her too often, and because his Lord had ordered him to give her the glad tidings that she would have a palace in Paradise, made of Qasab and because he used to slaughter a sheep and distribute its meat among her friends
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں۔ ( رشک کی وجہ یہ تھی ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک خولدار موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے۔
Narrated by Abu Hurairah (ra)
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا، فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهِ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نَجَرَ خَشَبَةً، فَجَعَلَ الْمَالَ فِي جَوْفِهَا، وَكَتَبَ إِلَيْهِ صَحِيفَةً مِنْ فُلاَنٍ إِلَى فُلاَنٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Hurairah (ra):Allah's Messenger (ﷺ) mentioned a person from Bani Israel who took a piece of wood, made a hole in it, and put therein one thousand Dinar and letter from him to his friend. The Prophet (ﷺ) said, "(That man) cut a piece of wood and put the money inside it and wrote a letter from such and such a person to such and such a person
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیع نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ انہوں نے لکڑی کا ایک لٹھا لیا اور اس میں سوراخ کر کے ایک ہزار دینار اور خط رکھ دیا وہ ان کی طرف سے ان کے ساتھی ( قرض خواہ ) کی طرف تھا اور عمر بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے لکڑی کے ایک لٹھے میں سوراخ کیا اور مال اس کے اندر رکھ دیا اور ان کے پاس ایک خط لکھا، فلاں کی طرف سے فلاں کو ملے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، وَلاَ يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي‏.‏ فَإِنَّهُ لاَ مُسْتَكْرِهَ لَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When anyone of you appeal to Allah for something, he should ask with determination and should not say, 'O Allah, if You wish, give me.', for nobody can force Allah to do something against His Will
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالعزیز بن صہیب نے خبر دی، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اللہ سے قطعی طور پر مانگے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔“
Narrated by `Abdullah bin Abi Qatada
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ‏.‏
Narrated `Abdullah bin Abi Qatada: My father said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If the Iqama is pronounced, then do not stand for the prayer till you see me (in front of you) and do it calmly
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کی تکبیر ہو تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو اور آہستگی کو لازم رکھو۔ شیبان کے ساتھ اس حدیث کو یحییٰ سے علی بن مبارک نے بھی روایت کیا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Wealth is not in having many possessions, but rather (true) wealth is feeling sufficiency in the soul
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تونگری یہ نہیں ہے کہ سامان زیادہ ہو، بلکہ امیری یہ ہے کہ دل غنی ہو۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، تَمَسُّهُ النَّارُ، إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Any Muslim who has lost three of his children will not be touched by the Fire except that which will render Allah's oath fulfilled
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔“
Narrated by Al-Aswad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَأَعْتَقْتُهَا ـ قَالَتْ ـ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَقَالَتْ لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا بِتُّ عِنْدَهُ‏.‏ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا‏.‏
Narrated Al-Aswad:Aisha said, "I bought Barira and her masters stipulated that the Wala would be for them." Aisha mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said, "Manumit her, as the Wala is for the one who gives the silver (i.e. pays the price for freeing the slave)." Aisha added, "So I manumitted her. After that, the Prophet caller her (Barira) and gave her the choice to go back to her husband or not. She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." So she selected her ownself (i.e. refused to go back to her husband)
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہو گی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلاَءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا قَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ‏.‏ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا، حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Seven (people) will be shaded by Allah by His Shade on the Day of Resurrection when there will be no shade except His Shade. (They will be), a just ruler, a young man who has been brought up in the worship of Allah, a man who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man whose heart is attached to mosques (offers his compulsory congregational prayers in the mosque), two men who love each other for Allah's Sake, a man who is called by a charming lady of noble birth to commit illegal sexual intercourse with her, and he says, 'I am afraid of Allah,' and (finally), a man who gives in charity so secretly that his left hand does not know what his right hand has given
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“
وَقَالَ لِي ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ غُلاَمًا، قُتِلَ غِيلَةً فَقَالَ عُمَرُ لَوِ اشْتَرَكَ فِيهَا أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ‏.‏ وَقَالَ مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ أَرْبَعَةً قَتَلُوا صَبِيًّا فَقَالَ عُمَرُ مِثْلَهُ‏.‏ وَأَقَادَ أَبُو بَكْرٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلِيٌّ وَسُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ مِنْ لَطْمَةٍ‏.‏ وَأَقَادَ عُمَرُ مِنْ ضَرْبَةٍ بِالدِّرَّةِ‏.‏ وَأَقَادَ عَلِيٌّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَسْوَاطٍ‏.‏ وَاقْتَصَّ شُرَيْحٌ مِنْ سَوْطٍ وَخُمُوشٍ‏.‏
Ibn 'Umar said:A boy was assassinated. 'Umar said, "If all the people of San'a took part in the assassination I would kill them all." Al-Mughira bin Hakim said that his father said, "Four persons killed a boy, and 'Umar said (as above)." Abu Bakr, Ibn Az-Zubair, 'Ali and Suwaid bin Muqarrin gave the judgement of Al-Qisas (equality in punishment) in cases of slapping. And 'Umar carried out Al-Qisas for a strike with a stick. And 'Ali carried out Al-Qisas for three lashes with a whip. And Shuraih carried out for one last and for scratching
اور مجھ سے ابن بشار نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک لڑکے اصیل نامی کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سارے اہل صنعاء ( یمن کے لوگ ) اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرا دیتا۔ اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی۔ ابوبکر، ابن زبیر، علی اور سوید بن مقرن رضی اللہ عنہما نے چانٹے کا بدلہ دلوایا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے درے کی جو مار ایک شخص کو ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے فرمایا اور علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑوں کا قصاص لینے کا حکم دیا اور شریح نے کوڑے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی۔
Narrated by Kharija bin Zaid bin Thabit
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلاَء ِ ـ وَهْىَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ طَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتِ الأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ، فَاشْتَكَى فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ جَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا يُدْرِيكِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لاَ أَدْرِي وَاللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، إِنِّي لأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ مِنَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلاَ بِكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أُمُّ الْعَلاَءِ فَوَاللَّهِ لاَ أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ‏.‏ قَالَتْ وَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ فِي النَّوْمِ عَيْنًا تَجْرِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ ذَاكِ عَمَلُهُ يَجْرِي لَهُ ‏"‏
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:Um Al-`Ala an Ansari woman who had given the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) said, "`Uthman bin Maz'un came in our share when the Ansars drew lots to distribute the emigrants (to dwell) among themselves, He became sick and we looked after (nursed) him till he died. Then we shrouded him in his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) came to us, I (addressing the dead body) said, "May Allah's Mercy be on you, O Aba As-Sa'ib! I testify that Allah has honored you." The Prophet (ﷺ) said, 'How do you know that?' I replied, 'I do not know, by Allah.' He said, 'As for him, death has come to him and I wish him all good from Allah. By Allah, though I am Allah's Messenger (ﷺ), I neither know what will happen to me, nor to you.'" Um Al-`Ala said, "By Allah, I will never attest the righteousness of anybody after that." She added, "Later I saw in a dream, a flowing spring for `Uthman. So I went to Allah's Messenger (ﷺ) and mentioned that to him. He said, 'That is (the symbol of) his good deeds (the reward for) which is going on for him
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے اور ان سے ام علاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو انہیں کی ایک خاتون ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب انصار نے مہاجرین کے قیام کے لیے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے یہاں ٹھہرنے کے لیے نکلا۔ پھر وہ بیمار پڑ گئے، ہم نے ان کی تیمارداری کی لیکن ان کی وفات ہو گئی۔ پھر ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوالسائب! تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی بات ( موت ) ان تک پہنچ چکی ہے اور میں اللہ سے ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں لیکن اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہوں اور اس کے باوجود مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ واللہ! اس کے بعد میں کسی انسان کی پاکی نہیں بیان کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے خواب میں ایک جاری چشمہ دیکھا تھا۔ چنانچہ میں نے حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے جس کا ثواب ان کے لیے جاری ہے۔
Narrated by Hudhaifa bin Al-Yaman
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ ‏"‏ قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْىٍ، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ ‏"‏ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ، حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ، وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏‏.‏
Narrated Hudhaifa bin Al-Yaman:The people used to ask Allah's Messenger (ﷺ) about the good but I used to ask him about the evil lest I should be overtaken by them. So I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We were living in ignorance and in an (extremely) worst atmosphere, then Allah brought to us this good (i.e., Islam); will there be any evil after this good?" He said, "Yes." I said, 'Will there be any good after that evil?" He replied, "Yes, but it will be tainted (not pure.)'' I asked, "What will be its taint?" He replied, "(There will be) some people who will guide others not according to my tradition? You will approve of some of their deeds and disapprove of some others." I asked, "Will there be any evil after that good?" He replied, "Yes, (there will be) some people calling at the gates of the (Hell) Fire, and whoever will respond to their call, will be thrown by them into the (Hell) Fire." I said, "O Allah's Apostle! Will you describe them to us?" He said, "They will be from our own people and will speak our language." I said, "What do you order me to do if such a state should take place in my life?" He said, "Stick to the group of Muslims and their Imam (ruler)." I said, "If there is neither a group of Muslims nor an Imam (ruler)?" He said, "Then turn away from all those sects even if you were to bite (eat) the roots of a tree till death overtakes you while you are in that state
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن جابر نے بیان کیا، ان سے بسر بن عبیداللہ الخصرمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوادریس خولانی سے سنا، انہوں نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن اس خیر میں کمزوری ہو گی۔ میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہو گی؟ فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے، ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے۔ میں نے پوچھا کیا پھر دور خیر کے بعد دور شر آئے گا؟ فرمایا کہ ہاں جہنم کی طرف سے بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے۔ فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان ( عربی ) بولیں گے۔ میں نے پوچھا: پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟ فرمایا کہ پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو کر خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے۔
Narrated by `Ali bin Husain
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ فَلَمَّا رَجَعَتِ انْطَلَقَ مَعَهَا، فَمَرَّ بِهِ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَعَاهُمَا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ ‏"‏‏.‏ قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ شُعَيْبٌ وَابْنُ مُسَافِرٍ وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ ـ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ـ عَنْ صَفِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated `Ali bin Husain:Safiya bint (daughter of) Huyai came to the Prophet (in the mosque), and when she returned (home), the Prophet (ﷺ) accompanied her. It happened that two men from the Ansar passed by them and the Prophet called them saying, "She is Safiya!" those two men said, "Subhan Allah!" The Prophet (ﷺ) said, "Satan circulates in the human body as blood does
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے جناب زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ نے کہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ( رات کے وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ( اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے ) جب وہ واپس آنے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ آئے۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں۔ ان دونوں انصاریوں نے کہا، سبحان اللہ ( کیا ہم آپ پر شبہ کریں گے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔ اس کی روایت شعیب، ابن مسافر، ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے کی ہے، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ نقل کیا ہے۔
Narrated by Sahl bin Sa`d As-Sa`idi
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ جَاءَ عُوَيْمِرٌ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَيَقْتُلُهُ، أَتَقْتُلُونَهُ بِهِ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَكَرِهَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَ، فَرَجَعَ عَاصِمٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَرِهَ الْمَسَائِلَ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لآتِيَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَجَاءَ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْقُرْآنَ خَلْفَ عَاصِمٍ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكُمْ قُرْآنًا ‏"‏‏.‏ فَدَعَا بِهِمَا فَتَقَدَّمَا فَتَلاَعَنَا، ثُمَّ قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا‏.‏ فَفَارَقَهَا وَلَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِفِرَاقِهَا، فَجَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ‏.‏ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا مِثْلَ وَحَرَةٍ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ كَذَبَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلاَ أَحْسِبُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا ‏"‏‏.‏ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الأَمْرِ الْمَكْرُوهِ‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi:'Uwaimir Al-`Ajlani came to `Asim bin `Adi and said, "If a man found another man with his wife and killed him, would you sentence the husband to death (in Qisas,) i.e., equality in punishment)? O `Asim! Please ask Allah's Messenger (ﷺ) about this matter on my behalf." `Asim asked the Prophet (ﷺ) but the Prophet disliked the question and disapproved of it. `Asim returned and informed 'Uwaimir that the Prophet disliked that type of question. 'Uwaimir said, "By Allah, I will go (personally) to the Prophet." 'Uwaimir came to the Prophet (ﷺ) when Allah had already revealed Qur'anic Verses (in that respect), after `Asim had left (the Prophet (ﷺ) ). So the Prophet (ﷺ) said to 'Uwaimir, "Allah has revealed Qur'anic Verses regarding you and your wife." The Prophet (ﷺ) then called for them, and they came and carried out the order of Lian. Then 'Uwaimir said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Now if I kept her with me, I would be accused of telling a lie." So 'Uwaimir divorced her although the Prophet (ﷺ) did not order him to do so. Later on this practice of divorcing became the tradition of couples involved in a case of Li'an. The Prophet (ﷺ) said (to the people). "Wait for her! If she delivers a red short (small) child like a Wahra (a short red animal). then I will be of the opinion that he ('Uwaimir) has told a lie but if she delivered a black big-eyed one with big buttocks, then I will be of the opinion that he has told the truth about her." 'Ultimately she gave birth to a child that proved the accusation. (See Hadith No. 269, Vol)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے کہا، ہم سے زہری نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی کے پاس آیا اور کہا اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے، کیا آپ لوگ مقتول کے بدلہ میں اسے قتل کر دیں گے؟ عاصم! میرے لیے آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ دیجئیے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لیکن آپ نے اس طرح کے سوال کو ناپسند کیا اور معیوب جانا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوال کو ناپسند کیا ہے۔ اس پر عویمر رضی اللہ عنہ بولے کہ واللہ! میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا خیر عویمر آپ کے پاس آئے اور عاصم کے لوٹ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا ہے، پھر آپ نے دونوں ( میاں بیوی ) کو بلایا۔ دونوں آگے بڑھے اور لعان کیا۔ پھر عویمر نے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر میں اسے اب بھی اپنے پاس رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں چنانچہ اس نے فوری اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جدا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھتے رہو اس کا بچہ لال لال پست قد بامنی کی طرح کا پیدا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ عویمر ہی کا بچہ ہے۔ عویمر نے عورت پر جھوٹا طوفان باندھا اور اور اگر سانولے رنگ کا بڑی آنکھ والا بڑے بڑے چوتڑ والا پیدا ہو، جب میں سمجھوں گا کہ عویمر سچا ہے پھر اس عورت کا بچہ اس مکروہ صورت کا یعنی جس مرد سے وہ بدنام ہوئی تھی، اسی صورت کا پیدا ہوا۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ‏}‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ ‏{‏أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ‏}‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ‏{‏أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا‏}‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا أَيْسَرُ ‏"‏‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:when this Verse:--'Say (O Muhammad!): He has Power to send torments on you from above,' (6.65) was revealed; The Prophet (ﷺ) said, "I take refuge with Your Face." Allah revealed:-- '..or from underneath your feet.' (6.65) The Prophet (ﷺ) then said, "I seek refuge with Your Face!" Then Allah revealed:--'...or confuse you in party-strife.' (6.65) Oh that, the Prophet (ﷺ) said, "This is easier
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم‏» ”آپ کہہ دیجئیے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب نازل کرے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ”میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر آیت کے یہ الفاظ نازل ہوئے «أو من تحت أرجلكم‏» ”وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب آ جائے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ دعا کی کہ میں تیرے منہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی «أو يلبسكم شيعا‏» ”یا تمہیں فرقہ بندی میں مبتلا کر دے ( کہ یہ بھی عذاب کی قسم ہے ) “ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسان ہے بہ نسبت اگلے عذابوں کے۔
Narrated by Ibn Juraij
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَقْعَدِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ‏.‏ قُلْتُ لِنَافِعٍ الْجُمُعَةَ قَالَ الْجُمُعَةَ وَغَيْرَهَا‏.‏
Narrated Ibn Juraij:I heard Nafi' saying, "Ibn `Umar, said, 'The Prophet (ﷺ) forbade that a man should make another man to get up to sit in his place' ". I said to Nafi`, 'Is it for Jumua prayer only?' He replied, "For Jumua prayer and any other (prayer)
ہم سے محمد بن سلام بیکندی رحمہ اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔ میں نے نافع سے پوچھا کہ کیا یہ جمعہ کے لیے ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جمعہ اور غیر جمعہ سب کے لیے یہی حکم ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي فَقَالَ ‏"‏ أَبُوكَ حُذَافَةُ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ ‏"‏ سَلُونِي ‏"‏‏.‏ فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَبِيًّا، فَسَكَتَ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:One day Allah's Messenger (ﷺ) came out (before the people) and `Abdullah bin Hudhafa stood up and asked (him) "Who is my father?" The Prophet (ﷺ) replied, "Your father is Hudhafa." The Prophet (ﷺ) told them repeatedly (in anger) to ask him anything they liked. `Umar knelt down before the Prophet (ﷺ) and said thrice, "We accept Allah as (our) Lord and Islam as (our) religion and Muhammad as (our) Prophet." After that the Prophet (ﷺ) became silent
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہیں انس بن مالک نے بتلایا کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حذافہ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار فرمایا کہ مجھ سے پوچھو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے دو زانو ہو کر عرض کیا کہ ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں ( اور یہ جملہ ) تین مرتبہ ( دہرایا ) پھر ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ فُلَيْحٍ‏.‏ وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:On the Day of `Id the Prophet (ﷺ) used to return (after offering the `Id prayer) through a way different from that by which he went
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابوتمیلہ یحییٰ بن واضح نے خبر دی، انہیں فلیح بن سلیمان نے، انہیں سعید بن حارث نے، انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستہ سے جاتے پھر دوسرا راستہ بدل کر آتے۔ اس روایت کی متابعت یونس بن محمد نے فلیح سے کی، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا لیکن جابر کی روایت زیادہ صحیح ہے۔