Narrated by Mujahid
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُهَاجِرَ إِلَى الشَّأْمِ. قَالَ لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ، فَانْطَلِقْ فَاعْرِضْ نَفْسَكَ، فَإِنْ وَجَدْتَ شَيْئًا وَإِلاَّ رَجَعْتَ.
Narrated Mujahid:I said to Ibn `Umar, "I want to migrate to Sham." He said, "There is no migration, but Jihad (for Allah's Cause). Go and offer yourself for Jihad, and if you find an opportunity for Jihad (stay there) otherwise, come back
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے اور ان سے مجاہد نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں ملک شام کو ہجرت کر جاؤں، فرمایا: اب ہجرت باقی نہیں رہی، جہاد ہی باقی رہ گیا ہے۔ اس لیے جاؤ اور خود کو پیش کرو۔ اگر تم نے کچھ پا لیا تو بہتر ورنہ واپس آ جانا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ. أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ {إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلاَّ أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ.
Narrated Ibn `Abbas:That he was asked (regarding): "Except to be kind to me for my Kinship with you.' (42.23) Sa`id bin Zubair (who was present then) said, "It means here (to show what is due for) the relatives of Muhammad." On that Ibn `Abbas said: you have hurried in giving the answer! There was no branch of the tribe of Quraish but the Prophet (ﷺ) had relatives therein. The Prophet (ﷺ) said, "I do not want anything from (you ) except to be Kind to me for my Kinship with you
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إلا المودة في القربى» ”سوا رشتہ داری کی محبت کے“ متعلق پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے فرمایا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابتداری مراد ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر کہا کہ تم نے جلد بازی کی۔ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس قرابت داری کی وجہ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان میں موجود ہے۔