بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
64
2 hadith
Narrated by `Ikrima
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقَمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ تِسْعَ عَشْرَةَ نَقْصُرُ الصَّلاَةَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ نَقْصُرُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا زِدْنَا أَتْمَمْنَا‏.‏
Narrated `Ikrima:Ibn `Abbas said, "We stayed for 19 days with the Prophet on a journey during which we used to offer shortened prayers." Ibn `Abbas added, "We offer the Qasr prayer (i.e. shortened prayer) If we stay up to 19 days as travelers, But if we stay longer, we offer complete prayers
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عاصم نے ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ( فتح مکہ کے بعد ) انیس دن تک تو نماز قصر پڑھتے تھے ‘ لیکن جب اس سے زیادہ مدت گزر جاتی تو پھر پوری نماز پڑھتے تھے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ يَعْلَى إِنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوا قَدْ قَتَلُوا وَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا وَأَكْثَرُوا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً‏.‏ فَنَزَلَ ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ‏}‏ وَنَزَلَ ‏{‏قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ‏}‏
Narrated Ibn `Abbas:Some pagans who committed murders in great number and committed illegal sexual intercourse excessively, came to Muhammad and said, "O Muhammad! Whatever you say and invite people to, is good: but we wish if you could inform us whether we can make an expiation for our (past evil) deeds." So the Divine Verses came: 'Those who invoke not with Allah any other god, not kill such life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse.' (25.68) And there was also revealed:-- 'Say: O My slaves who have transgressed against their souls! Despair not of the Mercy of Allah
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے یعلیٰ بن مسلم نے بیان کیا، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ مشرکین میں بعض نے قتل کا گناہ کیا تھا اور کثرت سے کیا تھا۔ اسی طرح زناکاری بھی کثرت سے کرتے رہے تھے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں ( یعنی اسلام ) یقیناً اچھی چیز ہے، لیکن ہمیں یہ بتائیے کہ اب تک ہم نے جو گناہ کئے ہیں وہ اسلام لانے سے معاف ہوں گے یا نہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون‏» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اور کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی بھی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے، ہاں مگر حق کے ساتھ“ اور یہ آیت نازل ہوئی «قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله‏» ”آپ کہہ دیں کہ اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ بیشک اللہ وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔“