بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
64
2 hadith
Narrated by Tawus
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا، لِيُرِيَهُ النَّاسَ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ‏.‏ قَالَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ‏.‏
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (ﷺ) travelled in the month of Ramadan and he fasted till he reached (a place called) 'Usfan, then he asked for a tumbler of water and drank it by the daytime so that the people might see him. He broke his fast till he reached Mecca." Ibn `Abbas used to say, "Allah's Apostle fasted and sometimes did not fast while traveling, so one may fast or may not (on journeys)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ( فتح مکہ کا ) سفر شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے لیکن جب مقام عسفان پر پہنچے تو پانی طلب فرمایا۔ دن کا وقت تھا اور آپ نے وہ پانی پیا تاکہ لوگوں کو دکھلا سکیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا اور مکہ میں داخل ہوئے۔ بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ( بعض اوقات ) روزہ بھی رکھا تھا اور بعض اوقات روزہ نہیں بھی رکھا۔ اس لیے ( سفر میں ) جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ مسافر کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ ( روایت میں فتح مکہ کے لیے سفر کرنے کا ذکر ہے۔ یہی باب سے مطابقت ہے ) ۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ، فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ وَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ، وَقَعَدَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا، فَانْطَلَقْتُ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ‏}‏ الآيَةَ
Narrated Anas bin Malik:When Allah's Messenger (ﷺ) married Zainab bint Jahsh, he invited the people to a meal. They took the meal and remained sitting and talking. Then the Prophet (showed them) as if he is ready to get up, yet they did not get up. When he noticed that (there was no response to his movement), he got up, and the others too, got up except three persons who kept on sitting. The Prophet (ﷺ) came back in order to enter his house, but he went away again. Then they left, whereupon I set out and went to the Prophet (ﷺ) to tell him that they had departed, so he came and entered his house. I wanted to enter along with him, but he put a screen between me and him. Then Allah revealed: 'O you who believe! Do not enter the houses of the Prophet
ہم سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو قوم کو آپ نے دعوت ولیمہ دی، کھانا کھانے کے بعد لوگ ( گھر کے اندر ہی ) بیٹھے ( دیر تک ) باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں ( تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور اٹھ جائیں ) لیکن کوئی بھی نہیں اٹھا، جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے، لیکن تین آدمی اب بھی بیٹھے رہ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے آئے تو دیکھا کہ کچھ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی اٹھ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لائے۔ میں نے بھی چاہا کہ اندر جاؤں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں دروازہ کا پردہ گرا لیا، اس کے بعد آیت ( مذکورہ بالا ) نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي‏» کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔“ آخر آیت تک۔