Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ". صِرَارٌ مَوْضِعٌ نَاحِيَةً بِالْمَدِينَةِ.
Narrated Jabir:Once I returned from a journey and the Prophet (ﷺ) said (to me) "Offer two rak`at." (Sirar is a place near Medina)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محارب بن دثار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں سفر سے واپس مدینہ پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ مسجد میں جا کر دو رکعت نفل نماز پڑھوں ‘ صرار ( مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر مشرق میں ) ایک جگہ کا نام ہے۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، وَقَفَ عَلَى جَعْفَرٍ يَوْمَئِذٍ وَهْوَ قَتِيلٌ، فَعَدَدْتُ بِهِ خَمْسِينَ بَيْنَ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ، لَيْسَ مِنْهَا شَىْءٌ فِي دُبُرِهِ. يَعْنِي فِي ظَهْرِهِ.
Narrated Nafi`:Ibn `Umar informed me that on the day (of Mu'tah) he stood beside Ja`far who was dead (i.e. killed in the battle), and he counted fifty wounds in his body, caused by stabs or strokes, and none of those wounds was in his back
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن حارث انصاری نے ‘ ان سے سعید بن ابی ہلال نے بیان کیا اور کہا کہ مجھ کو نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ اس غزوہ موتہ میں جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی لاش پر کھڑے ہو کر میں نے شمار کیا تو نیزوں اور تلواروں کے پچاس زخم ان کے جسم پر تھے لیکن پیچھے یعنی پیٹھ پر ایک زخم بھی نہیں تھا۔
Narrated by Al-Musaiyab
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ عِنْدَهِ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ " أَىْ عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَى أَنْ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ". فَأَنْزَلَ اللَّهُ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم {إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ}. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {أُولِي الْقُوَّةِ} لاَ يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ. {لَتَنُوءُ} لَتُثْقِلُ. {فَارِغًا} إِلاَّ مِنْ ذِكْرِ مُوسَى. {الْفَرِحِينَ} الْمَرِحِينَ. {قُصِّيهِ} اتَّبِعِي أَثَرَهُ، وَقَدْ يَكُونُ أَنْ يَقُصَّ الْكَلاَمَ {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ}. {عَنْ جُنُبٍ} عَنْ بُعْدٍ عَنْ جَنَابَةٍ وَاحِدٌ، وَعَنِ اجْتِنَابٍ أَيْضًا، يَبْطِشُ وَيَبْطُشُ. {يَأْتَمِرُونَ} يَتَشَاوَرُونَ. الْعُدْوَانُ وَالْعَدَاءُ وَالتَّعَدِّي وَاحِدٌ. {آنَسَ} أَبْصَرَ. الْجِذْوَةُ قِطْعَةٌ غَلِيظَةٌ مِنَ الْخَشَبِ، لَيْسَ فِيهَا لَهَبٌ، وَالشِّهَابُ فِيهِ لَهَبٌ. وَالْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ الْجَانُّ وَالأَفَاعِي وَالأَسَاوِدُ. {رِدْءًا} مُعِينًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {يُصَدِّقُنِي} وَقَالَ غَيْرُهُ {سَنَشُدُّ} سَنُعِينُكَ كُلَّمَا عَزَّزْتَ شَيْئًا فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا. مَقْبُوحِينَ مُهْلَكِينَ. {وَصَّلْنَا} بَيَّنَّاهُ وَأَتْمَمْنَاهُ. {يُجْبَى} يُجْلَبُ .{بَطِرَتْ} أَشِرَتْ. {فِي أُمِّهَا رَسُولاً} أُمُّ الْقُرَى مَكَّةُ وَمَا حَوْلَهَا. {تُكِنُّ} تُخْفِي. أَكْنَنْتُ الشَّىْءَ أَخْفَيْتُهُ، وَكَنَنْتُهُ أَخْفَيْتُهُ وَأَظْهَرْتُهُ. {وَيْكَأَنَّ اللَّهَ} مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ {يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ} يُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ عَلَيْهِ.
Narrated Al-Musaiyab:When Abu Talib was on his death bed, Allah's Messenger (ﷺ) came to him and found with him, Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umaiya bin Al-Mughira. Allah's Messenger (ﷺ) said, "O uncle! Say: None has the right to be worshipped except Allah, a sentence with which I will defend you before Allah." On that Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umaiya said to Abu Talib, "Will you now leave the religion of `Abdul Muttalib?" Allah's Messenger (ﷺ) kept on inviting him to say that sentence while the other two kept on repeating their sentence before him till Abu Talib said as the last thing he said to them, "I am on the religion of `Abdul Muttalib," and refused to say: None has the right to be worshipped except Allah. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Allah, I will keep on asking Allah's forgiveness for you unless I am forbidden (by Allah) to do so." So Allah revealed:-- 'It is not fitting for the Prophet (ﷺ) and those who believe that they should invoke (Allah) for forgiveness for pagans.' (9.113) And then Allah revealed especially about Abu Talib:--'Verily! You (O, Muhammad) guide not whom you like, but Allah guides whom He will
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا۔ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن) نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ وہاں پہلے ہی سے موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چچا! آپ صرف کلمہ «لا إله إلا الله» پڑھ دیجئیے تاکہ اس کلمہ کے ذریعہ اللہ کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کروں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار ان سے یہی کہتے رہے ( کہ آپ صرف ایک کلمہ پڑھ لیں ) اور یہ دونوں بھی اپنی بات ان کے سامنے باربار دہراتے رہے ( کہ کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ ) آخر ابوطالب کی زبان سے جو آخری کلمہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہی قائم ہیں۔ انہوں نے «لا إله إلا الله» پڑھنے سے انکار کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے طلب مغفرت کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔“ اور خاص ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا «إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء» کہ ”جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کر سکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أولي القوة» سے یہ مراد ہے کہ کئی زور دار آدمی مل کر بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھا سکتے تھے۔ «لتنوء» کا مطلب ڈھوئی جاتی تھیں۔ «فارغا» کا معنی یہ ہے کہ موسیٰ کی ماں کے دل میں موسیٰ کے سوا اور کوئی خاص نہیں رہا تھا۔ «الفرحين» کا معنی خوشی سے اتراتے ہوئے۔ «قصيه» یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ «قصص» کے معنی بیان کرنے کے ہوتے ہیں جیسے سورۃ یوسف میں فرمایا «نحن نقص عليك»، «عن جنب» یعنی دور سے «عن جنابة» کا بھی یہی معنی ہے اور «عن اجتناب» کا بھی یہی ہے۔ «يبطش» بہ کسرہ طاء اور «يبطش.» بہ ضمہ طاء دونوں قرآت ہیں۔ «يأتمرون» مشورہ کر رہے ہیں۔ «عدوان» اور «عدو» اور «تعدي» سب کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی حد سے بڑھ جانا ظلم کرنا۔ «آنس» کا معنی دیکھنا۔ «جذوة» لکڑی کا موٹا ٹکڑا جس کے سر ے پر آگ لگی ہو مگر اس میں شعلہ نہ ہو اور «شهاب» جو آیت «اواتیکم بشهاب قبس» میں ہے اس سے مراد ایسی جلتی ہوئی لکڑی جس میں شعلہ ہو۔ «حيات» یعنی سانپوں کی مختلف قسمیں ( جیسے ) جان، افعی، اسود وغیرہ «ردءا» یعنی مددگار، پشت پناہ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا نے «يصدقني» بہ ضمہ قاف پڑھا ہے۔ اوروں نے کہا «سنشد» کا معنی یہ ہے کہ ہم تیری مدد کریں گے عرب لوگ کا محاورہ ہے جب کسی کو قوت دیتے ہیں تو کہتے ہیں «جعلت له عضدا.» ۔ «مقبوحين» کا معنی ہلاک کئے گئے۔ «وصلنا» ہم نے اس کو بیان کیا اور پورا کیا۔ «يجبى» کچھے آتے ہیں۔ «بطرت» شرارت کی۔ «في أمها رسولا»، «أم القرى» مکہ اور اس کے اطراف کو کہتے ہیں۔ «تكن» کا معنی چھپاتی ہیں۔ عرب لوگ کہتے ہیں «أكننت» یعنی میں نے اس کو چھپا لیا۔ «كننته» کا بھی یہی معنی ہے۔ «ويكأن الله» کا معنی «ألم تر أن الله» کے یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا۔ «يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر» یعنی اللہ جس کو چاہتا ہے فراغت سے روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے۔