بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
56
3 hadith
Narrated by Jabir bin `Abdullah
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ، فَصَاحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ، إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُؤْرًا، فَحَىَّ هَلاً بِكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Jabir bin `Abdullah:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We have slaughtered a young sheep of ours and have ground one Sa of barley. So, I invite you along with some persons." So, the Prophet (ﷺ) said in a loud voice, "O the people of the Trench! Jabir has prepared "Sur" so come along
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ انہیں حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی ‘ انہیں سعید بن میناء نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ آپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے ( جنگ خندق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پا کر چپکے سے ) عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے۔ اور ایک صاع جو کا آٹا پکوایا ہے۔ اس لیے آپ دو چار آدمیوں کو ساتھ لے کر تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا ”اے خندق کھودنے والو! جابر نے دعوت کا کھانا تیار کر لیا ہے۔ آؤ چلو ‘ جلدی چلو۔“
Narrated by Anbasa bin Sa`id
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، وَسَأَلَهُ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ، قَالَ لَهُ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لاَ تُعْطِهِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ‏.‏ فَقَالَ وَاعَجَبَاهْ لِوَبْرٍ تَدَلَّى مِنْ قَدُومِ الضَّأْنِ‏.‏
Narrated 'Anbasa bin Sa`id:Abu Huraira came to the Prophet (ﷺ) and asked him (for a share from the Khaibar booty). On that, one of the sons of Sa`id bin Al-`As said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do not give him." Abu Huraira then said (to the Prophet (ﷺ) ) "This is the murderer of Ibn Qauqal." Sa`id's son said, "How strange! A guinea pig coming from Qadum Ad-Dan
مجھ سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے زہری سے سنا اور ان سے اسماعیل بن امیہ نے سوال کیا تھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ( خیبر کی غنیمت میں سے ) حصہ مانگا۔ سعید بن عاص کے ایک لڑکے ( ابان بن سعید رضی اللہ عنہ ) نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں نہ دیجئیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ شخص تو ابن قوقل کا قاتل ہے۔ ابان رضی اللہ عنہ اس پر بولے حیرت ہے اس «وبر» ( بلی سے چھوٹا ایک جانور ) پر جو قدوم الضان پہاڑی سے اتر آیا ہے۔
Narrated by Ibn Abu Mulaika
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِهَا عَلَى عَائِشَةَ، وَهْىَ مَغْلُوبَةٌ قَالَتْ أَخْشَى أَنْ يُثْنِيَ عَلَىَّ‏.‏ فَقِيلَ ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمِنْ وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ‏.‏ قَالَتِ ائْذَنُوا لَهُ‏.‏ فَقَالَ كَيْفَ تَجِدِينَكِ قَالَتْ بِخَيْرٍ إِنِ اتَّقَيْتُ‏.‏ قَالَ فَأَنْتِ بِخَيْرٍ ـ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ـ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَكِ، وَنَزَلَ عُذْرُكِ مِنَ السَّمَاءِ‏.‏ وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلاَفَهُ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَى عَلَىَّ وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نِسْيًا مَنْسِيًّا‏.‏
Narrated Ibn Abu Mulaika:Ibn `Abbas asked permission to visit Aisha before her death, and at that time she was in a state of agony. She then said. "I am afraid that he will praise me too much." And then it was said to her, "He is the cousin of Allah's Messenger (ﷺ) and one of the prominent Muslims." Then she said, "Allow him to enter." (When he entered) he said, "How are you?" She replied, "I am Alright if I fear (Allah)." Ibn `Abbas said, "Allah willing, you are Alright as you are the wife of Allah's Messenger (ﷺ) and he did not marry any virgin except you and proof of your innocence was revealed from the Heaven." Later on Ibn Az-Zubair entered after him and `Aisha said to him, "Ibn `Abbas came to me and praised me greatly, but I wish that I was a thing forgotten and out of sight
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے تھوڑی دیر پہلے، جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور خود بھی عزت دار ہیں ( اس لیے آپ کو اجازت دے دینی چاہئے ) اس پر انہوں نے کہا کہ پھر انہیں اندر بلا لو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اللہ کے نزدیک اچھی ہوں تو سب اچھا ہی اچھا ہے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ان شاءاللہ آپ اچھی ہی رہیں گی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور آپ کی برات ( قرآن مجید میں ) آسمان سے نازل ہوئی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے۔ محترمہ نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی، میں تو چاہتی ہوں کہ کاش میں ایک بھولی بسری گمنام ہوتی۔