بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
15
62 hadith
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ـ هُوَ ابْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ـ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ ‏ "‏ صَيِّبًا نَافِعًا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ‏.‏ وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ وَعُقَيْلٌ عَنْ نَافِعٍ‏.‏
Narrated Aisha:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) saw the rain, he used to say, "O Allah! Let it be a strong fruitful rain
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبیداللہ عمری نے نافع سے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی دیکھتے تو یہ دعا کرتے «صيبا نافعا» اے اللہ! نفع بخشنے والی بارش برسا۔ اس روایت کی متابعت قاسم بن یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے کی ہے اور اس کی روایت اوزاعی اور عقیل نے نافع سے کی ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ، وَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas: Allah's Messenger (ﷺ) used to offer the Zuhr and `Asr prayers together on journeys, and also used to offer the Maghrib and `Isha' prayers together. Narrated Anas bin Malik: The Prophet (ﷺ) used to offer the Maghrib and the `Isha' prayers together on journeys
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے حسین معلم نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے، اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔
Narrated by Al-Aswad
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَيْفَ صَلاَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ، فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ اغْتَسَلَ، وَإِلاَّ تَوَضَّأَ وَخَرَجَ‏.‏
Narrated Al-Aswad:I asked `Aisha "How is the night prayer of the Prophet?" She replied, "He used to sleep early at night, and get up in its last part to pray, and then return to his bed. When the Mu'adh-dhin pronounced the Adhan, he would get up. If he was in need of a bath he would take it; otherwise he would perform ablution and then go out (for the prayer)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، (دوسری سند) اور مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے، انہوں نے بتلایا کہ میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز کیونکر پڑھتے تھے؟ آپ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے۔ اس کے بعد بستر پر آ جاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے۔ اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ النَّاسُ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَلَقِيتُ رَجُلاً فَقُلْتُ بِمَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَارِحَةَ فِي الْعَتَمَةِ فَقَالَ لاَ أَدْرِي‏.‏ فَقُلْتُ لَمْ تَشْهَدْهَا قَالَ بَلَى‏.‏ قُلْتُ لَكِنْ أَنَا أَدْرِي، قَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا‏.‏
Narrated Abu Huraira:People say that I narrate too many narrations of the Prophet; once I met a man (during the lifetime of the Prophet) and asked him, "Which Sura did Allah's Messenger (ﷺ) recite yesterday in the `Isha' prayer?" He said, "I do not know." I said, "Did you not attend the prayer?" He said, "Yes, (I did)." I said, "I know. He recited such and such Sura
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے کہا کہ مجھے ابن ابی ذئب نے خبر دی، انہیں سعید مقبری نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتا ہے ( اور حال یہ ہے کہ ) میں ایک شخص سے ایک مرتبہ ملا اور اس سے میں نے ( بطور امتحان ) دریافت کیا کہ گزشتہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں کون کون سی سورتیں پڑھی تھیں؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔ میں نے پوچھا کہ تم نماز میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں شریک تھا۔ میں نے کہا لیکن مجھے تو یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں سورتیں پڑھی تھیں۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْصَعَتْهُ ـ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلاَ تُحَنِّطُوهُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:While a man was at `Arafat (for Hajj) with Allah's Messenger (ﷺ), he fell down from his Mount and broke his neck (and died). So Allah's Messenger (ﷺ) said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be saying 'Labbaik
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفہ میں وقوف کئے ہوئے تھا کہ وہ اپنے اونٹ سے گر پڑا اور اونٹ نے انہیں کچل دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں کا کفن دو، خوشبو نہ لگاؤ اور نہ سر ڈھکو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ إِمَامٌ عَدْلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Seven people will be shaded by Allah under His shade on the day when there will be no shade except His. They are: (1) a just ruler; (2) a young man who has been brought up in the worship of Allah, (i.e. worship Allah (Alone) sincerely from his childhood), (3) a man whose heart is attached to the mosque (who offers the five compulsory congregational prayers in the mosque); (4) two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only; (5) a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for an illegal sexual intercourse with her and says: I am afraid of Allah; (6) a person who practices charity so secretly that his left hand does not know what his right hand has given (i.e. nobody knows how much he has given in charity). (7) a person who remembers Allah in seclusion and his eyes get flooded with tears
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا عبیداللہ عمری سے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے حفص بن عاصم سے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے ( عرش کے ) سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ انصاف کرنے والا حاکم ‘ وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو ‘ وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے ‘ دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں ‘ اسی پر وہ جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے ‘ ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگ جائیں۔
Narrated by Salim from his father
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ مُلَبِّدًا‏.‏
Narrated Salim from his father:I heard that Allah's Messenger (ﷺ) assumed Ihram with his hair matted together
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبید کی حالت میں لبیک کہتے سنا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever performs ablution should clean his nose with water by putting the water in it and then blowing it out, and whoever cleans his private parts with stones should do it with odd number of stones
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا انہیں یونس نے زہری کے واسطے سے خبر دی، کہا انہیں ابوادریس نے بتایا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے چاہیے کہ ناک صاف کرے اور جو پتھر سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد ( یعنی ایک یا تین یا پانچ ہی ) سے کرے۔
Narrated by Humaid
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً حَرَّكَهَا‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ زَادَ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُمَيْدٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جُدُرَاتٍ‏.‏ تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ‏.‏
Narrated Humaid:Anas said, "Whenever Allah's Messenger (ﷺ) returned from a journey, he, on seeing the high places of Medina, would make his she-camel proceed faster; and if it were another animal, even then he used to make it proceed faster." Narrated Humaid that the Prophet (ﷺ) used to make it proceed faster out of his love for Medina. Narrated Anas: As above, but mentioned "the walls of Medina" instead of "the high places of Medina." Al-Harith bin `Umar agrees with Anas
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے حمید طویل نے خبر دی انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے مدینہ واپس ہوتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے، کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید سے یہ لفظ زیادہ کئے ہیں کہ ”مدینہ سے محبت کی وجہ سے سواری تیز کر دیتے تھے۔“ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے ( درجات کے بجائے ) «جدرات» کہا، اس کی متابعت حارث بن عمیر نے کی۔
Narrated by Ya'li
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ فِيهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ أَوْ نَحْوُهُ، وَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ لِي تُحِبُّ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ أَنْ تَرَاهُ فَنَزَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ ‏ "‏ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ ‏"‏‏.‏
Narrated Ya'li:While I was with Allah's Messenger (ﷺ) there came to him a man wearing a cloak having a trace of yellowish perfume or a similar thing on it. `Umar used to say to me, "Would you like to see the Prophet (ﷺ) at the time when he is inspired divinely?" So, it happened that he was inspired (then) and when the inspiration was over the Prophet (ﷺ) said (to that man), "Do in your `Umra the same as you do in your Hajj
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ہم سے عطاء نے بیان کیا، کہا مجھ سے صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص جو جبہ پہنے ہوئے تھا حاضر ہوا اور اس پر زردی یا اسی طرح کی کسی خوشبو کا نشان تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے کہا کرتے تھے کیا تم چاہتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگے تو تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکو؟ اس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی پھر وہ حالت جاتی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو اسی طرح عمرہ میں بھی کرو۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ح‏.‏ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أُنْزِلَتْ ‏{‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ‏}‏ وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ الْفَجْرِ، فَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ الأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الأَسْوَدَ، وَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدُ ‏{‏مِنَ الْفَجْرِ‏}‏ فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:When the following verses were revealed: 'Eat and drink until the white thread appears to you, distinct from the black thread' and of dawn was not revealed, some people who intended to fast, tied black and white threads to their legs and went on eating till they differentiated between the two. Allah then revealed the words, 'of dawn', and it became clear that meant night and day
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل بن سعد نے (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری، سیاہ دھاری سے کھل جائے“ لیکن «من الفجر» ( صبح کی ) کے الفاظ نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جب روزے کا ارادہ ہوتا تو سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگے پوری طرح دکھائی نہ دینے لگتے، کھانا پینا بند نہ کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے «من الفجر» کے الفاظ نازل فرمائے پھر لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا، فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, it is better for any one of you to cut a bundle of wood and carry it over his back rather than to ask someone who may or may not give him
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابی عبید نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے چاہئیے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ إِنَّا كُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ سِلْقٍ لَنَا كُنَّا نَغْرِسُهُ فِي أَرْبِعَائِنَا فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ لَهَا فَتَجْعَلُ فِيهِ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِيهِ شَحْمٌ وَلاَ وَدَكٌ، فَإِذَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ زُرْنَاهَا فَقَرَّبَتْهُ، إِلَيْنَا فَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَمَا كُنَّا نَتَغَدَّى وَلاَ نَقِيلُ إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةَ‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:We used to be very happy on Friday as an old lady used to cut some roots of the Silq, which we used to plant on the banks of our small water streams, and cook them in a pot of her's, adding to them, some grains of barley. (Ya'qub, the sub-narrator said, "I think the narrator mentioned that the food did not contain fat or melted fat (taken from meat).") When we offered the Friday prayer we would go to her and she would serve us with the dish. So, we used to be happy on Fridays because of that. We used not to take our meals or the midday nap except after the Jumua prayer (i.e. Friday prayer)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ جمعہ کے دن ہمیں بہت خوشی ( اس بات کی ) ہوتی تھی کہ ہماری ایک بوڑھی عورت تھیں جو اس چقندر کو اکھاڑ لاتیں جسے ہم اپنے باغ کی مینڈوں پر بو دیا کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی ہانڈی میں پکاتیں اور اس میں تھوڑے سے جَو بھی ڈال دیتیں۔ ابوحازم نے کہا میں نہیں جانتا کہ سہل نے یوں کہا نہ اس میں چربی ہوتی نہ چکنائی۔ پھر جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ وہ اپنا پکوان ہمارے سامنے کر دیتیں۔ اور اس لیے ہمیں جمعہ کے دن کی خوشی ہوتی تھی۔ اور ہم دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔
Narrated by Abdullah (ra)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ نَخْلاً بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فِي الْعَبْدِ‏.‏
Narrated 'Abdullah (ra): I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, "If somebody buys date-palms after they have been pollinated, the fruits will belong to the seller unless the buyer stipulates the contrary. If somebody buys a slave having some property, the property will belong to the seller unless the buyer stipulate that it should belong to him
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ پیوندکاری کے بعد اگر کسی شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچا تو ( اس سال کی فصل کا ) پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے ( کہ پھل بھی خریدار ہی کا ہو گا ) تو یہ صورت الگ ہے۔ اور اگر کسی شخص نے کوئی مال والا غلام بیچا تو وہ مال بیچنے والے کا ہوتا ہے۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے تو یہ صورت الگ ہے۔ یہ حدیث امام مالک سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے اس میں صرف غلام کا ذکر ہے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَا رَجُلٌ بِطَرِيقٍ، اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ، فَمَلأَ خُفَّهُ مَاءً، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لأَجْرًا فَقَالَ ‏"‏ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "A man felt very thirsty while he was on the way, there he came across a well. He went down the well, quenched his thirst and came out. Meanwhile he saw a dog panting and licking mud because of excessive thirst. He said to himself, "This dog is suffering from thirst as I did." So, he went down the well again and filled his shoe with water and watered it. Allah thanked him for that deed and forgave him. The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Is there a reward for us in serving the animals?" He replied: "Yes, there is a reward for serving any animate (living being)." (See Hadith No)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوبکر کے غلام سمی نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک شخص راستے میں سفر کر رہا تھا کہ اسے پیاس لگی۔ پھر اسے راستے میں ایک کنواں ملا اور وہ اس کے اندر اتر گیا اور پانی پیا۔ جب باہر آیا تو اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی سختی سے کیچڑ چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے سوچا کہ اس وقت یہ کتا بھی پیاس کی اتنی ہی شدت میں مبتلا ہے جس میں میں تھا۔ چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھر کر اس نے کتے کو پلایا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا یہ عمل مقبول ہوا۔ اور اس کی مغفرت کر دی گئی۔ صحابہ نے پوچھا، یا رسول اللہ کیا جانوروں کے سلسلہ میں بھی ہمیں اجر ملتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، ہر جاندار مخلوق کے سلسلے میں اجر ملتا ہے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَعَالَهَا، فَأَحْسَنَ إِلَيْهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "He who has a slave-girl and educates and treats her nicely and then manumits and marries her, will get a double reward
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے مطرف سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے مطرف سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Aisha:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) wanted to go on a journey, he would draw lots as to which of his wives would accompany him. He would take her whose name came out. He used to fix for each of them a day and a night. But Sauda bint Zam`a gave up her (turn) day and night to `Aisha, the wife of the Prophet in order to seek the pleasure of Allah's Messenger (ﷺ) (by that action)
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی زہری سے، وہ عروہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ اندازی کرتے اور جن کا قرعہ نکل آتا انہیں کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی طریقہ تھا کہ اپنی تمام ازواج کے لیے ایک ایک دن اور رات کی باری مقرر کر دی تھی، البتہ ( آخر میں ) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی، اس سے ان کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل کرنی تھی۔
Narrated by Abu Musa Al-Ash`ari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ، وَيُطْرِيهِ فِي مَدْحِهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَهْلَكْتُمْ ـ أَوْ قَطَعْتُمْ ـ ظَهْرَ الرَّجُلِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:The Prophet (ﷺ) heard someone praising another and exaggerating in his praise. The Prophet (ﷺ) said, "You have ruined or cut the man's back (by praising him so much)
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا۔ اس کی پشت توڑ دی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قِيَامًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلاَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ فَقَالَ لَنَا ‏:‏ ‏ "‏ مَكَانَكُمْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ‏.‏ تَابَعَهُ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَرَوَاهُ الأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏
Narrated Abu Huraira:Once the call (Iqama) for the prayer was announced and the rows were straightened. Allah's Messenger (ﷺ) came out; and when he stood up at his Musalla, he remembered that he was Junub. Then he ordered us to stay at our places and went to take a bath and then returned with water dropping from his head. He said, "Allahu-Akbar", and we all offered the prayer with him
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی زہری کے واسطے سے، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نماز کی تکبیر ہوئی اور صفیں برابر ہو گئیں، لوگ کھڑے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے ہماری طرف تشریف لائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہو چکے تو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور آپ واپس چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور واپس ہماری طرف تشریف لائے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ عثمان بن عمر سے اس روایت کی متابعت کی ہے عبدالاعلیٰ نے معمر سے اور وہ زہری سے۔ اور اوزاعی نے بھی زہری سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا هَارُونُ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ عُمَرَ، تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ يُقَالُ لَهُ ثَمْغٌ، وَكَانَ نَخْلاً، فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالاً وَهُوَ عِنْدِي نَفِيسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ، لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ ‏"‏‏.‏ فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ، فَصَدَقَتُهُ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِي الرِّقَابِ وَالْمَسَاكِينِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَلِذِي الْقُرْبَى، وَلاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُوكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ بِهِ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) , `Umar gave in charity some of his property, a garden of date-palms called Thamgh. `Umar said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have some property which I prize highly and I want to give it in charity." The Prophet; said, "Give it in charity (i.e. as an endowment) with its land and trees on the condition that the land and trees will neither be sold nor given as a present, nor bequeathed, but the fruits are to be spent in charity." So `Umar gave it in charity, and it was for Allah's Cause, the emancipation of slaves, for the poor, for guests, for travelers, and for kinsmen. The person acting as its administrator could eat from it reasonably and fairly, and could let a friend of his eat from it provided he had no intention of becoming wealthy by its means
ہم سے ہارون بن اشعث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے بنو ہاشم کے غلام ابوسعید نے بیان کیا ‘ ان سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک جائیداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وقف کر دی ‘ اس جائیداد کا نام ثمغ تھا اور یہ ایک کھجور کا ایک باغ تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ایک جائیداد ملی ہے اور میرے خیال میں نہایت عمدہ ہے ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے صدقہ کر دوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اصل مال کو صدقہ کر کہ نہ بیچا جا سکے نہ ہبہ کیا جا سکے اور نہ اس کا کوئی وارث بن سکے ‘ صرف اس کا پھل ( اللہ کی راہ میں ) صرف ہو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کر دیا ‘ ان کا یہ صدقہ غازیوں کے لیے ‘ غلام آزاد کرانے کے لیے، محتاجوں اور کمزوروں کے لیے ‘ مسافروں کے لیے اور رشتہ داروں کے لیے تھا اور یہ کہ اس کے نگراں کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہو گا کہ وہ دستور کے موافق اس میں سے کھائے یا اپنے کسی دوست کو کھلائے بشرطیکہ اس میں سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔
Narrated by Abu `Abs
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا عَبَايَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْسٍ، هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu `Abs:(who is `Abdur-Rahman bin Jabir) Allah's Messenger (ﷺ) said," Anyone whose both feet get covered with dust in Allah's Cause will not be touched by the (Hell) fire
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ انہیں عبایہ بن رافع بن خدیج نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے ابوعبس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ آپ کا نام عبدالرحمٰن بن جبیر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس بندے کے بھی قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہو گئے ‘ انہیں ( جہنم کی ) آگ چھوئے؟ ( یہ نا ممکن ہے ) ۔“
Narrated by Khaula Al-Ansariya
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ـ وَاسْمُهُ نُعْمَانُ ـ عَنْ خَوْلَةَ الأَنْصَارِيَّةِ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ رِجَالاً يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللَّهِ بِغَيْرِ حَقٍّ، فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏
Narrated Khaula Al-Ansariya:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Some people spend Allah's Wealth (i.e. Muslim's wealth) in an unjust manner; such people will be put in the (Hell) Fire on the Day of Resurrection
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی عیاش نے بیان کیا اور ان کا نام نعمان تھا ‘ ان سے خولہ بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مال کو بے جا اڑاتے ہیں ‘ انہیں قیامت کے دن آگ ملے گی۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى جَاءَتْ فَاطِمَةُ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَأَخَذَتْ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ـ أَوْ أُبَىَّ بْنَ خَلَفٍ ‏"‏‏.‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَىٍّ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلاً ضَخْمًا، فَلَمَّا جَرُّوهُ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ قَبْلَ أَنْ يُلْقَى فِي الْبِئْرِ‏.‏
Narrated `Abdullah:While the Prophet (ﷺ) was in the state of prostration, surrounded by a group of people from Quraish pagans. `Uqba bin Abi Mu'ait came and brought the intestines of a camel and threw them on the back of the Prophet (ﷺ) . The Prophet (ﷺ) did not raise his head from prostration till Fatima (i.e. his daughter) came and removed those intestines from his back, and invoked evil on whoever had done (the evil deed). The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Destroy the chiefs of Quraish, O Allah! Destroy Abu Jahl bin Hisham, `Utba bin Rabi`a, Shaiba bin Rabi`a, `Uqba bin Abi Mu'ait, Umaiya bin Khalaf (or Ubai bin Khalaf)." Later on I saw all of them killed during the battle of Badr and their bodies were thrown into a well except the body of Umaiya or Ubai, because he was a fat person, and when he was pulled, the parts of his body got separated before he was thrown into the well
ہم سے عبدان بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ابواسحاق نے، انہیں عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ میں ( شروع اسلام کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی حالت میں تھے اور قریب ہی قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی لایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر اسے ڈال دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ سے اپنا سر نہ اٹھا سکے۔ آخر فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سے اس اوجھڑی کو ہٹایا اور جس نے یہ حرکت کی تھی اسے برا بھلا کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بددعا کی کہ اے اللہ! قریش کی اس جماعت کو پکڑ۔ اے اللہ! ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو برباد کر۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ سب بدر کی لڑائی میں قتل کر دئیے گئے۔ اور ایک کنویں میں انہیں ڈال دیا گیا تھا۔ سوا امیہ یا ابی کے کہ یہ شخص بہت بھاری بھر کم تھا۔ جب اسے صحابہ نے کھینچا تو کنویں میں ڈالنے سے پہلے ہی اس کے جوڑ جوڑ الگ ہو گئے۔)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ أَىْ فُلُ هَلُمَّ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ذَاكَ الَّذِي لاَ تَوَى عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Who ever spends a couple (of objects) in Allah's cause, will be called by the Gatekeepers of Paradise who will say, "O so-and-so, come on!" Abu Bakr said, "Such a person will never perish or be miserable' The Prophet (ﷺ) said, "I hope you will be among such person
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ کے راستے میں جو شخص کسی چیز کا بھی جوڑا دے، تو جنت کے چوکیدار فرشتے اسے بلائیں گے کہ فلاں اس دروازے سے اندر آ جا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ تو وہ شخص ہو گا جسے کوئی نقصان نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو گا۔
Narrated by Zainab bint Abi Salama
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فِي الْخَمِيلَةِ، فَانْسَلَلْتُ فَخَرَجْتُ مِنْهَا، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي فَلَبِسْتُهَا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنُفِسْتِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ، فَدَعَانِي فَأَدْخَلَنِي مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ‏.‏ قَالَتْ وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ‏.‏
Narrated Zainab bint Abi Salama:Um-Salama said, "I got my menses while I was lying with the Prophet (ﷺ) under a woolen sheet. So I slipped away, took the clothes for menses and put them on. Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Have you got your menses?' I replied, 'Yes.' Then he called me and took me with him under the woolen sheet." Um Salama further said, "The Prophet (ﷺ) used to kiss me while he was fasting. The Prophet (ﷺ) and I used to take the bath of Janaba from a single pot
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا، اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کر لیا۔ زینب نے کہا کہ مجھ سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے اور اسی حالت میں ان کا بوسہ لیتے۔ اور میں نے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن میں جنابت کا غسل کیا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ لَمْ يَدْخُلْ، حَتَّى أَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ، وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ بِأَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ فَقَالَ ‏ "‏ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهِ إِنِ اسْتَقْسَمَا بِالأَزْلاَمِ قَطُّ ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) saw pictures in the Ka`ba, he did not enter it till he ordered them to be erased. When he saw (the pictures of Abraham and Ishmael carrying the arrows of divination, he said, "May Allah curse them (i.e. the Quraish)! By Allah, neither Abraham nor Ishmael practiced divination by arrows
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ایوب نے، انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں تو اندر اس وقت تک داخل نہ ہوئے جب تک وہ مٹا نہ دی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی تصویریں دیکھیں کہ ان کے ہاتھوں میں تیر ( پانسے کے ) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ ان پر بربادی لائے۔ واللہ ان حضرات نے کبھی تیر نہیں پھینکے۔“
Narrated by Abdullah bin 'Amr
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has the following four (characteristics) will be a pure hypocrite and whoever has one of the following four characteristics will have one characteristic of hypocrisy unless and until he gives it up. 1. Whenever he is entrusted, he betrays. 2. Whenever he speaks, he tells a lie. 3. Whenever he makes a covenant, he proves treacherous. 4. Whenever he quarrels, he behaves in a very imprudent, evil and insulting manner
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے یہ حدیث بیان کی، ان سے سفیان نے، وہ اعمش بن عبیداللہ بن مرہ سے نقل کرتے ہیں، وہ مسروق سے، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ ( بھی ) نفاق ہی ہے، جب تک اسے نہ چھوڑ دے۔ ( وہ یہ ہیں ) جب اسے امین بنایا جائے تو ( امانت میں ) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب ( کسی سے ) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب ( کسی سے ) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے۔ اس حدیث کو شعبہ نے ( بھی ) سفیان کے ساتھ اعمش سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Abu Hurairah (ra)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Hurairah (ra):The Prophet (ﷺ) said, "The hour will not be established unless a man from the tribe of Qahtan appears, driving the people with his stick (ruling them with violence and oppression)
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابولغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ قبیلہ قحطان میں ایک ایسا شخص پیدا نہیں ہو گا جو لوگوں پر اپنی لاٹھی کے زور سے حکومت کرے گا۔“
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ، فَدَعَوُا اللَّهَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى مَنْكِبِي، يَقُولُ رَحِمَكَ اللَّهُ، إِنْ كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، لأَنِّي كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ‏.‏ فَإِنْ كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا‏.‏ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:While I was standing amongst the people who were invoking Allah for `Umar bin Al-Khattab who was lying (dead) on his bed, a man behind me rested his elbows on my shoulder and said, "(O `Umar!) May Allah bestow His Mercy on you. I always hoped that Allah will keep you with your two companions, for I often heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "I, Abu Bakr and `Umar were (somewhere). I, Abu Bakr and `Umar did (something). I, Abu Bakr and `Umar set out.' So I hoped that Allah will keep you with both of them." I turned back to see that the speaker was `Ali bin Abi Talib
ہم سے ولید بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن سعید بن ابی الحسین مکی نے ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اس وقت ان کا جنازہ چارپائی پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آ کر میرے شانوں پر اپنی کہنیاں رکھ دیں اور ( عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ) کہنے لگے اللہ آپ پر رحم کرے۔ مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ( دفن ) کرائے گا، میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ ”میں اور ابوبکر اور عمر تھے“، ”میں نے اور ابوبکر اور عمر نے یہ کام کیا“، ”میں اور ابوبکر اور عمر گئے“ اس لیے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ہی دونوں بزرگوں کے ساتھ رکھے گا۔ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔
Narrated by `Uqba bin 'Amir
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ‏"‏‏.‏
Narrated `Uqba bin 'Amir:The Prophet (ﷺ) was given a silken Farruj [??] as a present. He wore it while praying. When he had finished his prayer, he took it off violently as if with a strong aversion to it and said, "It is not the dress of Allah-fearing pious people
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے یزید بن حبیب سے بیان کیا، انہوں نے ابوالخیر مرثد سے، انہوں نے عقبہ بن عامر سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشم کی قباء تحفہ میں دی گئی۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا اور نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو بڑی تیزی کے ساتھ اسے اتار دیا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر ناگواری محسوس کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حُلَّةُ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ ‏ "‏ أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ خَيْرٌ مِنْهَا ‏"‏‏.‏ أَوْ أَلْيَنُ‏.‏ رَوَاهُ قَتَادَةُ وَالزُّهْرِيُّ سَمِعَا أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated Al-Bara:A silken cloth was given as a present to the Prophet (ﷺ) . His companions started touching it and admiring its softness. The Prophet (ﷺ) said, "Are you admiring its softness? The handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh (in Paradise) are better and softer than it
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا مجھ سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ آیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس کی نرمی پر تعجب ہے، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال ( جنت میں ) اس سے کہیں بہتر ہیں یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) اس سے کہیں زیادہ نرم و نازک ہیں، اس حدیث کی روایت قتادہ اور زہری نے بھی کی ہے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Hisham
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ سَيْفُ الزُّبَيْرِ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ وَكَانَ سَيْفُ عُرْوَةَ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ‏.‏
Narrated Hisham:That his father said, "The sword of Az-Zubair was decorated with silver." Hisham added, "The sword of `Urwa was (also) decorated with silver
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ‘ ان سے علی بن مسہر نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد عروہ نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔ ہشام نے کہا کہ ( میرے والد ) عروہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ، عَمَّتَهُ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا إِلَيْهَا الْعَفْوَ فَأَبَوْا، فَعَرَضُوا الأَرْشَ فَأَبَوْا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَوْا إِلاَّ الْقِصَاصَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ ‏"‏‏.‏ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:That his aunt, Ar-Rubai' broke an incisor tooth of a girl. My aunt's family requested the girl's relatives for forgiveness but they refused; then they proposed a compensation, but they refused. Then they went to Allah's Messenger (ﷺ) and refused everything except Al-Qisas (i.e. equality in punishment). So Allah's Apostle passed the judgment of Al-Qisas (i.e. equality of punishment). Anas bin Al-Nadr said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will the incisor tooth of Ar-Rubai be broken? No, by Him Who sent you with the Truth, her incisor tooth will not be broken." Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Anas! The prescribed law of Allah is equality in punishment (i.e. Al-Qisas.)" Thereupon those people became satisfied and forgave her. Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "Among Allah's Worshippers there are some who, if they took Allah's Oath (for something), Allah fulfills their oaths
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن بکر سہمی سے سنا، ان سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ میری پھوپھی ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دئیے، پھر اس لڑکی سے لوگوں نے معافی کی درخواست کی لیکن اس لڑکی کے قبیلے والے معافی دینے کو تیار نہیں ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قصاص کے سوا اور کسی چیز پر راضی نہیں تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ربیع رضی اللہ عنہا کے دانت توڑ دئیے جائیں گے، نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، ان کے دانت نہ توڑے جائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انس! کتاب اللہ کا حکم قصاص کا ہی ہے۔ پھر لڑکی والے راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر ہی دیتا ہے۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ أُبَىٌّ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ لَحَنِ أُبَىٍّ، وَأُبَىٌّ يَقُولُ أَخَذْتُهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَتْرُكُهُ لِشَىْءٍ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نَنْسَأْهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا‏}‏
Narrated Ibn `Abbas:`Umar said, Ubai was the best of us in the recitation (of the Qur'an) yet we leave some of what he recites.' Ubai says, 'PI have taken it from the mouth of Allah's Messenger (ﷺ) and will not leave for anything whatever." But Allah said "None of Our Revelations do We abrogate or cause to be forgotten but We substitute something better or similar
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید قطان نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں حبیب بن ابی ثابت نے، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، ابی بن کعب ہم میں سب سے اچھے قاری ہیں لیکن ابی جہاں غلطی کرتے ہیں اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں ( وہ بعض منسوخ التلاوۃ آیتوں کو بھی پڑھتے ہیں ) اور کہتے ہیں کہ میں نے تو اس آیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے سنا ہے، میں کسی کے کہنے سے اسے چھوڑنے والا نہیں اور اللہ نے خود فرمایا ہے «ما ننسخ من آية أو ننسأها نأت بخير منها أو مثلها‏» کہ ”ہم جب کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں پھر یا تو اسے بھلا دیتے ہیں یا اس سے بہتر لاتے ہیں۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَجِدُنِي إِلاَّ وَجِعَةً‏.‏ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ حُجِّي وَاشْتَرِطِي، قُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ‏"‏‏.‏ وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ‏.‏
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) entered upon Dubaa bint Az-Zubair and said to her, "Do you have a desire to perform the Hajj?" She replied, "By Allah, I feel sick." He said to her, "Intend to perform Hajj and stipulate something by saying, 'O Allah, I will finish my Ihram at any place where You stop me (i.e. I am unable to go further)." She was the wife of Al-Miqdad bin Al-Aswad
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ( یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے ( مرض کی وجہ سے ) روک لے گا۔ اور ( ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا ) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
Narrated by Al-Miswar bin Makhrama Az-Zuhri
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ، فَلاَ آذَنُ ‏"‏‏.‏
Narrated Al-Miswar bin Makhrama Az-Zuhri:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Banu Al-Mughira have asked my leave to let `Ali marry their daughter, but I give no leave to this effect
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔
Narrated by Abu Juhaifa
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ ‏ "‏ لاَ آكُلُ وَأَنَا مُتَّكِئٌ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Juhaifa:While I was with the Prophet (ﷺ) he said to a man who was with him, "I do not take my meals while leaning
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں علی ابن الاقمر نے اور ان سے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهِ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) used to offer the `Asr prayer at a time when the sun was still hot and high and if a person went to Al-`Awali (a place) of Medina, he would reach there when the sun was still high. Some of Al-`Awali of Medina were about four miles or so from the town
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا کہ کہا ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج بلند اور تیز روشن ہوتا تھا۔ پھر ایک شخص مدینہ کے بالائی علاقہ کی طرف جاتا وہاں پہنچنے کے بعد بھی سورج بلند رہتا تھا ( زہری نے کہا کہ ) مدینہ کے بالائی علاقہ کے بعض مقامات تقریباً چار میل پر یا کچھ ایسے ہی واقع ہیں۔
Narrated by Ka`b
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ، فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا، فَقَالَ لأَهْلِهِ لاَ تَأْكُلُوا حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ، أَوْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْ بَعَثَ إِلَيْهِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَكْلِهَا‏.‏
Narrated Ka`b:that a slave girl of theirs used to shepherd some sheep at Si'a (a mountain near Medina). On seeing one of her sheep dying, she broke a stone and slaughtered it. Ka`b said to his family, "Do not eat (of it) till I go to the Prophet (ﷺ) and ask him, or, till I send someone to ask him." So he went to the Prophet (ﷺ) or sent someone to him The Prophet (ﷺ) permitted (them) to eat it
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، انہوں نے ابن کعب بن مالک سے سنا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان کے گھر ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی ( چراتے وقت ایک مرتبہ ) اس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے۔ چنانچہ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری ذبح کر دی تو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے اس وقت تک نہ کھانا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ آؤں یا ( انہوں نے یہ کہا کہ ) میں کسی کو بھیجوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ آئے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت بخشی۔
Narrated by Abu `Ubaid
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْعِيدَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَأَمَّا الآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ نُسُكَكُمْ‏.‏
Narrated Abu `Ubaid:the freed slave of Ibn Azhar that he witnessed the Day of `Id-al-Adha with `Umar bin Al-Khattab. `Umar offered the `Id prayer before the sermon and then delivered the sermon before the people, saying, "O people! Allah's Messenger (ﷺ) has forbidden you to fast (on the first day of) each of these two 'Ida, for one of them is the Day of breaking your fast, and the other is the one, on which you eat the meat of your sacrifices
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ازہر کے غلام ابو عبید نے بیان کیا کہ وہ بقر عید کے دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم ( رمضان کے ) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو ( عیدالفطر ) اور دوسرا تمہاری قربانی کا دن ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالرُّطَبِ‏.‏
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) forbade the drinking of alcoholic drinks prepared from raisins, dates, unripe dates and fresh ripe dates
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، کہا مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور ( کے شیرہ ) کو اور تازہ ( پختہ، پکی ہوئی ) کھجور اور نیم پختہ ( کچی، گدری ہوئی ) کھجور کو ملا کر بھگونے سے منع فرمایا تھا، اس طور اس میں نشہ جلدی پیدا ہو جاتا ہے۔
Narrated by Ibn Mas`ud
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَجَلْ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَكَ أَجْرَانِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Ibn Mas`ud:I visited the Prophet (ﷺ) while he was having a high fever. I touched him an said, "You have a very high fever" He said, "Yes, as much fever as two me of you may have." I said. "you will have a double reward?" He said, "Yes No Muslim is afflicted with hurt caused by disease or some other inconvenience, but that Allah will remove his sins as a tree sheds its leaves
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے آپ کا جسم چھو کر عرض کیا کہ آپ کو بڑا تیز بخار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم میں کے دو آدمیوں کے برابر ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر بھی دو گنا ہے۔ کہا ہاں پھر آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو بھی جب کسی مرض کی تکلیف یا اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے گناہ کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑتا ہے۔
Narrated by Abu Huraira
وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(There is) no 'Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's permission). nor is there any bad omen (from birds), nor is there any Hamah, nor is there any bad omen in the month of Safar, and one should run away from the leper as one runs away from a lion." Note: The majority of scholars interpret this to mean that these things in and of themselves do not transmit or cause harm through supernatural or hidden means but that Allah is ultimately in control and any fearful superstition around these is false
اور عفان بن مسلم (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے کہا (ان کو ابونعیم نے وصل کیا) ہے کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا، ان سے سعید بن میناء نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ، ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:Once I was walking with Allah's Messenger (ﷺ) and he was wearing a Najram Burd with thick margin. A bedouin followed him and pulled his Burd so violently that I noticed the side of the shoulder of Allah's Messenger (ﷺ) affected by the margin of the Burd because of that violent pull. The Bedouin said, "O Muhammad! Give me some of Allah's wealth which is with you." Allah's Messenger (ﷺ) turned and looked at him, and smiling, 'he ordered that he be given something
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ( یمن کے ) نجران کی بنی ہوئی موٹے حاشیے کی ایک چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آ گیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ کر اتنی زور سے کھینچا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھے پر دیکھا کہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے نشان پڑ گیا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! مجھے اس مال میں سے دیئے جانے کا حکم کیجیئے جو اللہ کا مال آپ کے پاس ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے اور آپ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا۔
Narrated by Abu Qatada
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، وَإِذَا رَفَعَ رَفَعَهَا‏.‏
Narrated Abu Qatada:The Prophet (ﷺ) came out towards us, while carrying Umamah, the daughter of Abi Al-As (his granddaughter) over his shoulder. He prayed, and when he wanted to bow, he put her down, and when he stood up, he lifted her up
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن سلیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور امامہ بنت ابی العاص ( جو بچی تھیں ) وہ آپ کے شانہ مبارک پر تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا ‏ "‏ إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ‏.‏
Narrated `Aisha:That the Prophet (ﷺ) said to her, "Gabriel sends Salam (greetings) to you." She replied, "Wa 'alaihi-s- Salam Wa Rahmatu-l-lah." (Peace and Allah's Mercy be on him)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عامر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ ان پر بھی اللہ کی طرف سے سلامتی اور اس کی رحمت نازل ہو۔
Narrated by Malik bin Huwairith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ أَتَى رَجُلاَنِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُرِيدَانِ السَّفَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ‏"‏‏.‏
Narrated Malik bin Huwairith:Two men came to the Prophet (ﷺ) with the intention of a journey. The Prophet (ﷺ) said, "When (both of) you set out, pronounce Adhan and then Iqama and the oldest of you should lead the prayer
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، انہوں نے مالک بن حویرث سے، انہوں نے کہا کہ دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے یہ کسی سفر میں جانے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھو جب تم سفر میں نکلو تو ( نماز کے وقت راستے میں ) اذان دینا پھر اقامت کہنا، پھر جو شخص تم میں عمر میں بڑا ہو نماز پڑھائے۔
Narrated by Warrad
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ إِذَا سَلَّمَ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهْوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسَيَّبَ‏.‏
Narrated Warrad:(the freed slave of Al-Mughira bin Shu`ba) Al-Mughira wrote to Muawiya bin Abu Sufyan that Allah's Messenger (ﷺ) used to say at the end of every prayer after the Taslim, "La ilaha illa-l-lahu wahdahu la sharika lahu; lahu-l-mulk wa lahu-l-hamd, wahuwa 'ala kulli shai'n qadir. Allahumma la mani'a Lima a taita, wa la mu'ta Lima mana'ta, wa la yanfa'u dhal-jaddu minkal-jadd
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے مسیب بن رافع نے، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولا وراد نے بیان کیا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو یہ کہا کرتے تھے «لا إله إلا الله،‏‏‏‏ وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير،‏‏‏‏ اللهم لا مانع لما أعطيت،‏‏‏‏ ولا معطي لما منعت،‏‏‏‏ ولا ينفع ذا الجد منك الجد‏ ‏‏.‏» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کے لیے ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو نے دیا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو نے روک دیا اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی مالدار اور نصیبہ ور ( کو تیری بارگاہ میں ) اس کا مال نفع نہیں پہنچا سکتا۔“ اور شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا کہ میں نے مسیب رضی اللہ عنہ سے سنا۔
Narrated by Sahl bin Sa`d
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، عَلَى الْمِنْبَرِ بِمَكَّةَ فِي خُطْبَتِهِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ أُعْطِيَ وَادِيًا مَلأً مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَانِيًا، وَلَوْ أُعْطِيَ ثَانِيًا أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَالِثًا، وَلاَ يَسُدُّ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ‏"‏‏.‏
Narrated Sahl bin Sa`d:I heard Ibn Az-Zubair who was on the pulpit at Mecca, delivering a sermon, saying, "O men! The Prophet used to say, "If the son of Adam were given a valley full of gold, he would love to have a second one; and if he were given the second one, he would love to have a third, for nothing fills the belly of Adam's son except dust. And Allah forgives he who repents to Him." Ubai said, "We considered this as a saying from the Qur'an till the Sura (beginning with) 'The mutual rivalry for piling up of worldly things diverts you..' (102.1) was revealed
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مکہ مکرمہ میں منبر پر یہ کہتے سنا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اے لوگو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر انسان کو ایک وادی سونا بھر کے دے دیا جائے تو وہ دوسری کا خواہشمند رہے گا اگر دوسری دے دی جائے تو تیسری کا خواہشمند رہے گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ پاک اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not swear by your fathers
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ۔“
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The boy is for the owner of the bed
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑکا بستر والے کا حق ہوتا ہے۔“
Narrated by `Abdullah bin `Umar
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَطَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ‏.‏ تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ‏ "‏ قِيمَتُهُ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) cutoff the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال پر کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی، اس روایت کی متابعت محمد بن اسحاق نے کی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ( «ثمنه» کے بجائے ) لفظ «قيمته» کہا۔
Narrated by Yahya
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ،، أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَدَّدَ إِلَيْهِ مِشْقَصًا‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ‏.‏
Narrated Yahya:Humaid said, "A man peeped into the house of the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) aimed an arrow head at him to hit him." I asked, "Who told you that?" He said, "Anas bin Malik" (See Hadith No. 258 and 259, Vol)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمید نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف تیر کا پھل بڑھایا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث تم سے کس نے بیان کی ہے؟ تو انہوں نے بیان کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔
Narrated by Abu Rafi`
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنِ اشْتَرَى دَارًا بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّى يَشْتَرِيَ الدَّارَ بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَيَنْقُدَهُ تِسْعَةَ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَتِسْعَمِائَةَ دِرْهَمٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، وَيَنْقُدَهُ دِينَارًا بِمَا بَقِيَ مِنَ الْعِشْرِينَ الأَلْفَ، فَإِنْ طَلَبَ الشَّفِيعُ أَخَذَهَا بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَإِلاَّ فَلاَ سَبِيلَ لَهُ عَلَى الدَّارِ، فَإِنِ اسْتُحِقَّتِ الدَّارُ، رَجَعَ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِمَا دَفَعَ إِلَيْهِ، وَهْوَ تِسْعَةُ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَتِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ دِرْهَمًا وَدِينَارٌ، لأَنَّ الْبَيْعَ حِينَ اسْتُحِقَّ انْتَقَضَ الصَّرْفُ فِي الدِّينَارِ، فَإِنْ وَجَدَ بِهَذِهِ الدَّارِ عَيْبًا وَلَمْ تُسْتَحَقَّ، فَإِنَّهُ يَرُدُّهَا عَلَيْهِ بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ‏.‏ قَالَ فَأَجَازَ هَذَا الْخِدَاعَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ دَاءَ وَلاَ خِبْثَةَ وَلاَ غَائِلَةَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Rafi`:The Prophet (ﷺ) said, "The neighbor has more right to be taken care of by his neighbor (than anyone else)." Some men said, "If one wants to buy a house for 20,000 Dirhams then there is no harm to play a trick to deprive somebody of preemption by buying it (just on paper) with 20,000 Dirhams but paying to the seller only 9,999 Dirhams in cash and then agree with the seller to pay only one Dinar in cash for the rest of the price (i.e. 10,001 Dirhams). If the preemptor offers 20,000 Dirhams for the house, he can buy it otherwise he has no right to buy it (by this trick he got out of preemption). If the house proves to belong to somebody else other than the seller, the buyer should take back from the seller what he has paid, i.e., 9,999 Dirhams and one Dinar, because if the house proves to belong to somebody else, so the whole bargain (deal) is unlawful. If the buyer finds a defect in the house and it does not belong to somebody other than the seller, the buyer may return it and receive 20,000 Dirhams (instead of 9999 Dirham plus one Dinar) which he actually paid.' Abu `Abdullah said, "So that man allows (some people) the playing of tricks amongst the Muslims (although) the Prophet (ﷺ) said, 'In dealing with Muslims one should not sell them sick (animals) or bad things or stolen things
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے ‘ ان سے عمرو بن شرید نے اور ان سے ابورافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے۔“ اور بعض لوگوں نے کہا اگر کسی شخص نے ایک گھر بیس ہزار درہم کا خریدا ( تو شفعہ کا حق ساقط کرنے کے لیے ) یہ حیلہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ مالک مکان کو نو ہزار نو سو ننانوے درہم نقد ادا کرے اب بیس ہزار کے تکملہ میں جو باقی رہے یعنی دس ہزار اور ایک درہم اس کے بدل مالک مکان کو ایک دینار ( اشرفی ) دیدے۔ اس صورت میں اگر شفیع اس مکان کو لینا چاہے گا تو اس کو بیس ہزار درہم پر لینا ہو گا ورنہ وہ اس گھر کو نہیں لے سکتا۔ ایسی صورت میں اگر بیع کے بعد یہ گھر ( بائع کے سوا ) اور کسی کا نکلا تو خریدار بائع سے وہی قیمت واپس لے گا جو اس نے دی ہے یعنی نو ہزار نو سو ننانوے درہم اور ایک دینار ( بیس ہزار درہم نہیں واپس سکتا ) کیونکہ جب وہ گھر کسی اور کا نکلا تو اب وہ بیع صرف جو بائع اور مشتری کے بیچ میں ہو گئی تھی بالکل باطل ہو گئی ( تو اصل دینار پھرنا لازم ہو گا نہ کہ اس کے ثمن ( یعنی دس ہزار اور ایک درہم ) اگر اس گھر میں کوئی عیب نکلا لیکن وہ بائع کے سوا کسی اور کی ملک نہیں نکلا تو خریدار اس گھر کو بائع کو واپس اور بیس ہزار درہم اس سے لے سکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا تو ان لوگوں نے مسلمانوں کے آپس میں مکر و فریب کو جائز رکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ مسلمان کی بیع میں جو مسلمان کے ساتھ ہو نہ عیب ہونا چاہئیے یعنی ( بیماری ) نہ خباثت نہ کوئی آفت۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Khudri
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ عُرِضُوا عَلَىَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْىَ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجْتَرُّهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الدِّينَ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I saw (in a dream) the people being displayed before me, wearing shirts, some of which (were so short that it) reached as far as their breasts and some reached below that. Then `Umar bin Al-Khattab was shown to me and he was wearing a shirt which he was dragging (behind him)." They asked. What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "The religion
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، کہا ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ کو ابوامامہ بن سہل نے خبر دی اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو اپنے سامنے پیش ہوتے دیکھا۔ وہ قمیص پہنے ہوئے تھے، ان میں بعض کی قمیص تو سینے تک کی تھی اور بعض کی اس سے بڑی تھی اور میرے سامنے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیش کئے گئے تو ان کی قمیص ( زمین سے ) گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین اس کی تعبیر ہے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ‏"‏‏.‏
Narrated `Abdullah:The Prophet, said, "Abusing a Muslim is Fusuq (evil doing) and killing him is Kufr (disbelief)
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا، کہا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“
Narrated by Abdullah bin As-Sa'di
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ، نَمِرٍ أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَدِمَ عَلَى عُمَرَ فِي خِلاَفَتِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالاً، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا‏.‏ فَقُلْتُ بَلَى‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ مَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ قُلْتُ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا، وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأَرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ‏.‏ قَالَ عُمَرُ لاَ تَفْعَلْ فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي‏.‏ حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالاً فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَإِلاَّ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ‏"‏
Narrated 'Abdullah bin As-Sa'di: That when he went to 'Umar during his Caliphate. 'Umar said to him, "Haven't I been told that you do certain jobs for the people but when you are given payment you refuse to take it?" 'Abdullah added: I said, "Yes." 'Umar said, "Why do you do so?" I said, "I have horses and slaves and I am living in prosperity and I wish that my payment should be kept as a charitable gift for the Muslims." 'Umar said, "Do not do so, for I intended to do the same as you do. Allah's Messenger (ﷺ) used to give me gifts and I used to say to him, 'Give it to a more needy one than me.' Once he gave me some money and I said, 'Give it to a more needy person than me,' whereupon the Prophet (ﷺ) said, 'Take it and keep it in your possession and then give it in charity. Take what ever comes to you of this money if you are not keen to have it and not asking for it; otherwise (i.e., if it does not come to you) do not seek to have it yourself
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید نے خبر دی، انہیں حویطب بن عبدالعزیٰ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن السعیدی نے خبر دی کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں آئے تو ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا مجھ سے یہ جو کہا گیا ہے وہ صحیح ہے کہ تمہیں لوگوں کے کام سپرد کئے جاتے ہیں اور جب اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینا پسند نہیں کرتے؟ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارا اس سے مقصد کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں خوشحال ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ میں نے بھی اس کا ارادہ کیا تھا جس کا تم نے ارادہ کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں عرض کر دیتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ اس کے ضرورت مند کو عطا فرما دیجئیے۔ آخر آپ نے ایک مرتبہ مجھے مال عطا کیا اور میں نے وہی بات دہرائی کہ اسے ایسے شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کرو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے نہ خواہشمند ہو اور نہ اسے مانگا تو اسے لے لیا کرو اور اگر اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَىْءٍ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "People will not stop asking questions till they say, 'This is Allah, the Creator of everything, then who created Allah?
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان برابر سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ سوال کرے گا کہ یہ تو اللہ ہے، ہر چیز کا پیدا کرنے والا لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثًا عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ، يَأْتُونَا بِلُحْمَانٍ لاَ نَدْرِي يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لاَ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اذْكُرُوا أَنْتُمُ اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ وَأُسَامَةُ بْنُ حَفْصٍ‏.‏
Narrated `Aisha:The people said to the Prophet (ﷺ) , "O Allah's Messenger (ﷺ)! Here are people who have recently embraced Islam and they bring meat, and we do not know whether they had mentioned Allah's Name while slaughtering the animals or not." The Prophet (ﷺ) said, "You should mention Allah's Name and eat
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوخالد احمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سنا، وہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے بیان کرتے تھے کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہاں کے قبیلے ابھی حال ہی میں اسلام لائے اور وہ ہمیں گوشت لا کر دیتے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ذبح کرتے وقت انہوں نے اللہ کا نام بھی لیا تھا یا نہیں ( تو کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن دراوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ وَالْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ‏"‏‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ فَقَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا، كَأَنَّهُ يُرِيدُ الْقَتْلَ‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "(Religious) knowledge will be taken away (by the death of religious scholars) ignorance (in religion) and afflictions will appear; and Harj will increase." It was asked, "What is Harj, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He replied by beckoning with his hand indicating "killing." (Fath-al-Bari Page 192, Vol)
ہم سے مکی ابن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں حنظلہ نے سالم سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب ) علم اٹھا لیا جائے گا۔ جہالت اور فتنے پھیل جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا۔ آپ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر فرمایا اس طرح، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قتل مراد لیا۔
Narrated by Yahya bin Sa`id
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَمْرَةَ عَنِ الْغُسْلِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ النَّاسُ مَهَنَةَ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانُوا إِذَا رَاحُوا إِلَى الْجُمُعَةِ رَاحُوا فِي هَيْئَتِهِمْ فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ‏.‏
Narrated Yahya bin Sa`id:I asked `Amra about taking a bath on Fridays. She replied, " Aisha said, 'The people used to work (for their livelihood) and whenever they went for the Jumua prayer, they used to go to the mosque in the same shape as they had been in work. So they were asked to take a bath on Friday
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں یحیٰی بن سعید نے خبر دی کہ انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ لوگ اپنے کاموں میں مشغول رہتے اور جمعہ کے لیے اسی حالت ( میل کچیل ) میں چلے آتے، اس لیے ان سے کہا گیا کہ کاش تم لوگ ( کبھی ) غسل کر لیا کرتے۔
Narrated by Ibn Juraij
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفِطْرِ، فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ ثُمَّ خَطَبَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهْوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلاَلٍ وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ، يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ‏.‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لاَ وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ، تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ‏.‏ قُلْتُ أَتُرَى حَقًّا عَلَى الإِمَامِ ذَلِكَ وَيُذَكِّرُهُنَّ قَالَ إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لاَ يَفْعَلُونَهُ
Narrated Ibn Juraij:`Ata' told me that he had heard Jabir bin `Abdullah saying, "The Prophet (ﷺ) stood up to offer the prayer of the `Id ul Fitr. He first offered the prayer and then delivered the Khutba. After finishing it he got down (from the pulpit) and went towards the women and advised them while he was leaning on Bilal's hand. Bilal was spreading out his garment where the women were putting their alms." I asked `Ata' whether it was the Zakat of `Id ul Fitr. He said, "No, it was just alms given at that time. Some lady put her finger ring and the others would do the same." I said, (to `Ata'), "Do you think that it is incumbent upon the Imam to give advice to the women (on `Id day)?" He said, "No doubt, it is incumbent upon the Imams to do so and why should they not do so?
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو میں نے یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کی نماز پڑھی۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں منبر نہیں لے کر جاتے تھے۔ تو اس اترے سے مراد بلند جگہ سے اترے ) اور عورتوں کی طرف آئے۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے ( وغیرہ ) برابر ڈال رہی تھیں۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔