بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
56
4 hadith
Narrated by Abu Juhaifa
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ ـ رضى الله عنه هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ مِنَ الْوَحْىِ إِلاَّ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَعْلَمُهُ إِلاَّ فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلاً فِي الْقُرْآنِ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ‏.‏ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ‏.‏
Narrated Abu Juhaifa:I asked `Ali, "Do you have the knowledge of any Divine Inspiration besides what is in Allah's Book?" `Ali replied, "No, by Him Who splits the grain of corn and creates the soul. I don't think we have such knowledge, but we have the ability of understanding which Allah may endow a person with, so that he may understand the Qur'an, and we have what is written in this paper as well." I asked, "What is written in this paper?" He replied, "(The regulations of) blood-money, the freeing of captives, and the judgment that no Muslim should be killed for killing an infidel
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے مطرف نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا ‘ آپ حضرات ( اہل بیت ) کے پاس کتاب اللہ کے سوا اور بھی کوئی وحی ہے؟ آپ نے اس کا جواب دیا۔ اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو ( زمین ) چیر کر ( نکالا ) اور جس نے روح کو پیدا کیا ‘ مجھے تو کوئی ایسی وحی معلوم نہیں ( جو قرآن میں نہ ہو ) البتہ سمجھ ایک دوسری چیز ہے ‘ جو اللہ کسی بندے کو قرآن میں عطا فرمائے ( قرآن سے طرح طرح کے مطالب نکالے ) یا جو اس ورق میں ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس ورق میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ دیت کے احکام اور قیدی کا چھڑانا اور مسلمان کا کافر کے بدلے میں نہ مارا جانا ( یہ مسائل اس ورق میں لکھے ہوئے ہیں اور بس ) ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلاَّ أَنْ أَمَرَ بِلاَلاً بِالأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالأَقِطَ وَالسَّمْنَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ‏.‏ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) stayed for three nights between Khaibar and Medina and was married to Safiya. I invited the Muslim to his marriage banquet and there waa neither meat nor bread in that banquet but the Prophet ordered Bilal to spread the leather mats on which dates, dried yogurt and butter were put. The Muslims said amongst themselves, "Will she (i.e. Safiya) be one of the mothers of the believers, (i.e. one of the wives of the Prophet (ﷺ) ) or just (a lady captive) of what his right-hand possesses" Some of them said, "If the Prophet (ﷺ) makes her observe the veil, then she will be one of the mothers of the believers (i.e. one of the Prophet's wives), and if he does not make her observe the veil, then she will be his lady slave." So when he departed, he made a place for her behind him (on his camel and made her observe the veil)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( مقام سد الصہباء میں ) تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی ( کا ملیدہ ) رکھ دیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہیں رکھا تو پھر یہ اس کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ کیا۔
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِجِبْرِيلَ ‏"‏ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا فَنَزَلَتْ ‏{‏وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا‏}‏‏"‏
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said to Gabriel, "What prevents you from visiting us more often than you visit us now?" So there was revealed:-- 'And we (angels) descend not but by the command of your Lord. To Him belongs what is before us and what is behind us
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا ”جیسا کہ اب آپ ہماری ملاقات کو آیا کرتے ہیں، اس سے زیادہ آپ ہم سے ملنے کے لیے کیوں نہیں آیا کرتے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما نتنزل إلا بأمر ربك له ما بين أيدينا وما خلفنا‏» الخ یعنی ”ہم ( فرشتے ) نازل نہیں ہوتے بجز آپ کے پروردگار کے حکم کے، اسی کی ملک ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ عَيَّاشٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ‏.‏ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلاَةَ غَيْرُكُمْ ‏"‏‏.‏ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَوْمَئِذٍ يُصَلِّي غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ‏.‏
Narrated `Aisha:Once Allah's Messenger (ﷺ) delayed the `Isha' prayer till `Umar informed him that the women and children had slept. Then Allah's Messenger (ﷺ) came out and said: "None from amongst the dwellers of earth have prayed this prayer except you." In those days none but the people of Medina prayed
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء میں دیر کی اور عیاش نے ہم سے عبد الاعلیٰ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں ایک مرتبہ دیر کی۔ یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور فرمایا کہ ( اس وقت ) روئے زمین پر تمہارے سوا اور کوئی اس نماز کو نہیں پڑھتا، اس زمانہ میں مدینہ والوں کے سوا اور کوئی نماز نہیں پڑھتا تھا۔