بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ طَالِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) offered the Zuhr, `Asr, Maghrib and `Isha' prayers and slept for a while at a place called Al-Mahassab and then he rode towards the Ka`ba and performed Tawaf (al-Wada)
ہم سے عبدالمتعال بن طالب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی اور تھوڑی دیر کے لیے محصب میں سو رہے، پھر بیت اللہ کی طرف سوار ہو کر گئے اور طواف کیا۔ ( یہاں طواف الزیارۃ مراد ہے ) ۔
Narrated by Abdullah bin Umar (ra)
قَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، فَحُدِّثَ بِهِ فِي نَخْلٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّخْلَ، طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَابْنُ صَيَّادٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا صَافِ، هَذَا مُحَمَّدٌ، فَوَثَبَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ‏"‏‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Umar (ra):Once, Allah's Messenger (ﷺ) accompanied by Ubai bin Ka'b set out to Ibn Saiyyad. He was informed that Ibn Saiyyad was in a garden of date palms. When Allah's Messenger (ﷺ) entered the garden of date-palms, he started hiding himself behind the trunks of the palms while Ibn Saiyyad was covered with a velvet sheet with murmurs emanating from under it. Ibn Saiyyad's mother saw Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Saf! This is Muhammad." So Ibn Saiyyad got up. Allah's Messenger (ﷺ) said, "If she had left him (in his state), the truth would have been clear
لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد ( یہودی بچے ) کی طرف جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی تھے ( ابن صیاد کے عجیب و غریب احوال کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تحقیق کرنا چاہتے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تھی کہ ابن صیاد اس وقت کھجوروں کی آڑ میں موجود ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو شاخوں کی آڑ میں چلنے لگے۔ ( تاکہ وہ آپ کو دیکھ نہ سکے ) ابن صیاد اس وقت ایک چادر اوڑھے ہوئے چپکے چپکے کچھ گنگنا رہا تھا ‘ اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور پکار اٹھی کہ اے ابن صیاد! یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ پہنچے ‘ وہ چونک اٹھا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ اس کی خبر نہ کرتی تو وہ کھولتا ( یعنی اس کی باتوں سے اس کا حال کھل جاتا ) ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ قَرِيبًا مِنْ خَيْبَرَ بِغَلَسٍ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏‏.‏ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، فَقَتَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ، وَكَانَ فِي السَّبْىِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ آنْتَ قُلْتَ لأَنَسٍ مَا أَصْدَقَهَا فَحَرَّكَ ثَابِتٌ رَأْسَهُ تَصْدِيقًا لَهُ‏.‏
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) offered the Fajr Prayer near Khaibar when it was still dark and then said, "Allahu-Akbar! Khaibar is destroyed, for whenever we approach a (hostile) nation (to fight), then evil will be the morning for those who have been warned." Then the inhabitants of Khaibar came out running on the roads. The Prophet (ﷺ) had their warriors killed, their offspring and women taken as captives. Safiya was amongst the captives, She first came in the share of Dihya Al-Kalbi but later on she belonged to the Prophet . The Prophet (ﷺ) made her manumission as her 'Mahr
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز خیبر کے قریب پہنچ کر ادا کی ‘ ابھی اندھیرا تھا پھر فرمایا ‘ اللہ کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔ خیبر برباد ہوا ‘ یقیناً جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ پھر یہودی گلیوں میں ڈرتے ہوئے نکلے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنگ کرنے والے لوگوں کو قتل کرا دیا اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا۔ قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی تھیں۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئیں۔ چنانچہ آپ نے ان سے نکاح کر لیا اور مہر میں انہیں آزاد کر دیا۔ عبدالعزیز بن صہیب نے ثابت سے پوچھا: ابو محمد! کیا تم نے یہ پوچھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو مہر کیا دیا تھا؟ ثابت رضی اللہ عنہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، رضى الله عنهما يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ يَصِيرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُثًا، كُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَّهَا، يَقُولُونَ يَا فُلاَنُ اشْفَعْ، حَتَّى تَنْتَهِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَلِكَ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ‏.‏
Narrated Ibn `Umar:On the Day of Resurrection the people will fall on their knees and every nation will follow their prophet and they will say, "O so-and-so! Intercede (for us with Allah), "till (the right) intercession is given to the Prophet (Muhammad) and that will be the day when Allah will raise him into a station of praise and glory (i.e. Al-Maqam -al-Mahmud)
مجھ سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے آدم بن علی نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ قیامت کے دن امتیں گروہ در گروہ چلیں گی۔ ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور ( انبیاء سے ) کہے گی کہ اے فلاں! ہماری شفاعت کرو ( مگر وہ سب ہی انکار کر دیں گے ) آخر شفاعت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود عطا فرمائے گا۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبْتُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ ‏{‏لَهُ‏}‏ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ أَوْ تَكُونُ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ‏.‏ قَالَ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ‏.‏
Narrated Abu Musa:That he was in the company of the Prophet (ﷺ) in one of the gardens of Medina and in the hand of the Prophet there was a stick, and he was striking (slowly) the water and the mud with it. A man came (at the gate of the garden) and asked permission to enter. The Prophet (ﷺ) said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise. "I went, and behold! It was Abu Bakr. So I opened the gate for him and informed him of the glad tidings of entering Paradise. Then another man came and asked permission to enter. The Prophet (ﷺ) said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was `Umar. So I opened the gate for him and gave him the glad tidings of entering Paradise. Then another man came and asked permission to enter. The Prophet (ﷺ) was sitting in a leaning posture, so he sat up and said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise with a calamity which will befall him or which will take place." I went, and behold ! It was `Uthman. So I opened the gate for him and gave him the glad tidings of entering Paradise and also informed him of what the Prophet (ﷺ) had said (about a calamity). `Uthman said, "Allah Alone Whose Help I seek (against that calamity)
ہم سے مسدد نے کہا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عثمان بن غیاث نے، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس کو پانی اور کیچڑ میں مار رہے تھے۔ اس دوران میں ایک صاحب نے باغ کا دروازہ کھلوانا چاہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لیے دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے۔ میں گیا تو وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے اس مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان کے لیے بھی دروازہ کھولا اور انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنا دی۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا دروازہ کھول دے اور جنت کی خوشخبری سنا دے، ان آزمائشوں کے ساتھ جس سے ( دنیا میں ) انہیں دوچار ہونا پڑے گا۔ میں گیا تو وہاں عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ ان کے لیے بھی میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی اور وہ بات بھی بتا دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا خیر اللہ مددگار ہے۔
Narrated by Nafi
وَقَالَ لَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فِي مَكَانِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْفَرِيضَةَ‏.‏ وَفَعَلَهُ الْقَاسِمُ‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ لاَ يَتَطَوَّعُ الإِمَامُ فِي مَكَانِهِ‏.‏ وَلَمْ يَصِحَّ‏.‏
Narrated Nafi:Ibn Umar used to offer prayers (Nawafil) at the place where he had offered the compulsory prayer. Al-Qasim (bin Muhammad bin Abi Bakr) did the same. The narration coming from Abu Hurairah (from the Prophet (ﷺ)) forbidding the Imam from offering prayers (optional prayer) at the same place where he was offered the compulsory prayer is incorrect
اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے کہا کہ ان سے شعبہ نے بیان کیا ان سے ایوب سختیانی نے ان سے نافع نے، فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( نفل ) اسی جگہ پر پڑھتے تھے اور جس جگہ فرض پڑھتے اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بھی اسی طرح کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ امام اپنی ( فرض پڑھنے کی ) جگہ پر نفل نہ پڑھے اور یہ صحیح نہیں۔