بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by `Ikrima
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ، سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ امْرَأَةٍ، طَافَتْ ثُمَّ حَاضَتْ، قَالَ لَهُمْ تَنْفِرُ‏.‏ قَالُوا لاَ نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ وَنَدَعَ قَوْلَ زَيْدٍ‏.‏ قَالَ إِذَا قَدِمْتُمُ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا‏.‏ فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَسَأَلُوا، فَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ، فَذَكَرَتْ حَدِيثَ صَفِيَّةَ‏.‏ رَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ‏.‏
Narrated `Ikrima:The people of Medina asked Ibn `Abbas about a woman who got her menses after performing Tawafal- Ifada. He said, "She could depart (from Mecca)." They said, "We will not act on your verdict and ignore the verdict of Zaid." Ibn `Abbas said, "When you reach Medina, inquire about it." So, when they reached Medina they asked (about that). One of those whom they asked was Um Sulaim. She told them the narration of Safiya
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَصْرَمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْحَرْبَ خُدْعَةً‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) called,: "War is deceit
ہم سے ابوبکر بن اصرم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑائی کیا ہے؟ ایک چال ہے۔“
Narrated by Salama bin Al-Akwa`
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَسِرْنَا لَيْلاً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ يَا عَامِرُ أَلاَ تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ‏.‏ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلاً شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا أَبْقَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذَا السَّائِقُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا عَامِرُ بْنُ الأَكْوَعِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْلاَ أَمْتَعْتَنَا بِهِ‏.‏ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ، فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُوقِدُونَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا عَلَى لَحْمٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَى أَىِّ لَحْمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَحْمِ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ ‏"‏ أَوْ ذَاكَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ، وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ، فَأَصَابَ عَيْنَ رُكْبَةِ عَامِرٍ، فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا، قَالَ سَلَمَةُ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ آخِذٌ بِيَدِي، قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَهُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ، إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ ـ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ ـ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ قَالَ ‏"‏ نَشَأَ بِهَا ‏"‏‏.‏
Narrated Salama bin Al-Akwa`:We went out to Khaibar in the company of the Prophet. While we were proceeding at night, a man from the group said to 'Amir, "O 'Amir! Won't you let us hear your poetry?" 'Amir was a poet, so he got down and started reciting for the people poetry that kept pace with the camels' footsteps, saying:-- "O Allah! Without You we Would not have been guided On the right path Neither would be have given In charity, nor would We have prayed. So please forgive us, what we have committed (i.e. our defects); let all of us Be sacrificed for Your Cause And send Sakina (i.e. calmness) Upon us to make our feet firm When we meet our enemy, and If they will call us towards An unjust thing, We will refuse. The infidels have made a hue and Cry to ask others' help Against us." The Prophet (ﷺ) on that, asked, "Who is that (camel) driver (reciting poetry)?" The people said, "He is 'Amir bin Al-Akwa`." Then the Prophet (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on him." A man amongst the people said, "O Allah's Prophet! has (martyrdom) been granted to him. Would that you let us enjoy his company longer." Then we reached and besieged Khaibar till we were afflicted with severe hunger. Then Allah helped the Muslims conquer it (i.e. Khaibar). In the evening of the day of the conquest of the city, the Muslims made huge fires. The Prophet (ﷺ) said, "What are these fires? For cooking what, are you making the fire?" The people replied, "(For cooking) meat." He asked, "What kind of meat?" They (i.e. people) said, "The meat of donkeys." The Prophet (ﷺ) said, "Throw away the meat and break the pots!" Some man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we throw away the meat and wash the pots instead?" He said, "(Yes, you can do) that too." So when the army files were arranged in rows (for the clash), 'Amir's sword was short and he aimed at the leg of a Jew to strike it, but the sharp blade of the sword returned to him and injured his own knee, and that caused him to die. When they returned from the battle, Allah's Messenger (ﷺ) saw me (in a sad mood). He took my hand and said, "What is bothering you?" I replied, "Let my father and mother be sacrificed for you! The people say that the deeds of 'Amir are lost." The Prophet (ﷺ) said, "Whoever says so, is mistaken, for 'Amir has got a double reward." The Prophet raised two fingers and added, "He (i.e. Amir) was a persevering struggler in the Cause of Allah and there are few 'Arabs who achieved the like of (good deeds) 'Amir had done
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ رات کے وقت ہمارا سفر جاری تھا کہ ایک صاحب ( اسید بن حضیر ) نے عامر سے کہا: عامر! اپنے کچھ شعر سناؤ ‘ عامر شاعر تھے۔ اس فرمائش پر وہ سواری سے اتر کر حدی خوانی کرنے لگے۔ کہا ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا ‘ نہ ہم صدقہ کر سکتے اور نہ ہم نماز پڑھ سکتے۔ پس ہماری جلدی مغفرت کر، جب تک ہم زندہ ہیں ہماری جانیں تیرے راستے میں فدا ہیں اور اگر ہماری مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت رکھ ہم پر سکینت نازل فرما، ہمیں جب ( باطل کی طرف ) بلایا جاتا ہے تو ہم انکار کر دیتے ہیں، آج چلا چلا کر وہ ہمارے خلاف میدان میں آئے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون شعر کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو انہیں شہادت کا مستحق قرار دے دیا ‘ کاش! ابھی اور ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے دیتے۔ پھر ہم خیبر آئے اور قلعہ کا محاصرہ کیا ‘ اس دوران ہمیں سخت تکالیف اور فاقوں سے گزرنا پڑا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جس دن قلعہ فتح ہونا تھا ‘ اس کی رات جب ہوئی تو لشکر میں جگہ جگہ آگ جل رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ آگ کیسی ہے ‘ کس چیز کے لیے اسے جگہ جگہ جلا رکھا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بولے کہ گوشت پکانے کے لیے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس جانور کا گوشت ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ پالتو گدھوں کا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام گوشت پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی کر لو پھر ( دن میں جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے جنگ کے لیے ) صف بندی کی تو چونکہ عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی ‘ اس لیے انہوں نے جب ایک یہودی کی پنڈلی پر ( جھک کر ) وار کرنا چاہا تو خود انہیں کی تلوار کی دھار سے ان کے گھٹنے کا اوپر کا حصہ زخمی ہو گیا اور ان کی شہادت اسی میں ہو گئی۔ بیان کیا کہ پھر جب لشکر واپس ہو رہا تھا تو سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ‘ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا ‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا سارا عمل اکارت ہو گیا ( کیونکہ خود اپنی ہی تلوار سے ان کی وفات ہوئی ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹا ہے وہ شخص جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے ‘ انہیں تو دوہرا اجر ملے گا پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا ‘ انہوں نے تکلیف اور مشقت بھی اٹھائی اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا ‘ شاید ہی کوئی عربی ہو ‘ جس نے ان جیسی مثال قائم کی ہو۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ ان سے حاتم نے ( بجائے «مشى بها» کے ) «نشأ بها» نقل کیا یعنی کوئی عرب مدینہ میں عامر رضی اللہ عنہ جیسا نہیں ہوا۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏{‏إِلَى رَبِّهِمِ الْوَسِيلَةَ‏}‏ قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنَ الإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَاسًا مِنَ الْجِنِّ، فَأَسْلَمَ الْجِنُّ، وَتَمَسَّكَ هَؤُلاَءِ بِدِينِهِمْ‏.‏ زَادَ الأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏ ‏{‏قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ‏}‏
Narrated `Abdullah:Regarding the explanation of the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary, angels etc.) desire (for themselves) means of access to their Lord (Allah) as to which of them should be the nearer and they hope for His Mercy and fear His torment.' (17.57) They themselves (e.g. Angels, saints, Apostles, Jesus, etc.,) worshipped Allah, Those Jinns who were worshipped by some Arabs became Muslims (embraced Islam), but those human beings stuck to their (old) religion. Al- A`mash said extra: 'Say, (O Muhammad): Call unto those besides Him whom you assume (to be gods)
مجھ سے عمرو بن علی بن فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے سفیان نے، کہا مجھ سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبداللہ بن معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( آیت ) «إلى ربهم الوسيلة‏» کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، لیکن وہ جِن بعد میں مسلمان ہو گئے اور یہ مشرک ( کم بخت ) ان ہی کی پرستش کرتے جاہلی شریعت پر قائم رہے۔ عبیداللہ اشجعی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا اور ان سے اعمش نے بیان کیا، اس میں یوں ہے کہ اس آیت «قل ادعوا الذين زعمتم‏» کا شان نزول یہ ہے آخر تک۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا رَأَيْنَا مِنْ شَىْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:There was a state of fear in Medina. Allah's Messenger (ﷺ) rode a horse belonging to Abu Talha (in order to see the matter). The Prophet (ﷺ) said, "We could not see anything, and we found that horse like a sea (fast in speed)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ مدینہ منورہ پر ( ایک رات نامعلوم آواز کی وجہ سے ) ڈر طاری ہو گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہوئے۔ پھر ( واپس آ کر ) فرمایا ”ہمیں تو کوئی ( خوف کی ) چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا تو گویا دریا تھا۔“
Narrated by Warrad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَمْلَى عَلَىَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي كِتَابٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهْوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِهَذَا، وَعَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ وَرَّادٍ بِهَذَا‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ الْجَدُّ غِنًى‏.‏
Narrated Warrad:(the clerk of Al-Mughira bin Shu`ba) Once Al-Mughira dictated to me in a letter addressed to Muawiya that the Prophet (ﷺ) used to say after every compulsory prayer, "La ilaha illa l-lahu wahdahu la sharika lahu, lahu l-mulku wa lahu l-hamdu, wa huwa `ala kulli shay'in qadir. Allahumma la mani`a lima a`taita, wa la mu`tiya lima mana`ta, wa la yanfa`u dhal-jaddi minka l-jadd. [There is no Deity but Allah, Alone, no Partner to Him. His is the Kingdom and all praise, and Omnipotent is He. O Allah! Nobody can hold back what you gave, nobody can give what You held back, and no struggler's effort can benefit against You]." And Al-Hasan said, "Al-jadd' means prosperity [??]
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالملک بن عمیر سے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے کاتب وراد نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک خط میں لکھوایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم لا مانع لما أعطيت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا معطي لما منعت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اس کی ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ جسے تو دے اس سے روکنے والا کوئی نہیں اور جسے تو نہ دے اسے دینے والا کوئی نہیں اور کسی مالدار کو اس کی دولت و مال تیری بارگاہ میں کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے۔ شعبہ نے بھی عبدالملک سے اسی طرح روایت کی ہے۔ حسن نے فرمایا کہ ( حدیث میں لفظ ) «جد» کے معنی مال داری کے ہیں اور حکم، قاسم بن مخیمرہ سے وہ وراد کے واسطے سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔