Narrated by Salim bin `Abdullah
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، ثُمَّ يُكَبِّرُ عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُسْهِلُ، فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلاً، فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى كَذَلِكَ، فَيَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ، وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلاً، فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَلاَ يَقِفُ عِنْدَهَا، وَيَقُولُ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ.
Narrated Salim bin `Abdullah:`Abdullah bin `Umar used to do Rami of the Jamrat-ud-Dunya with seven small pebbles and used to recite Takbir on throwing each stone. He, then, would proceed further till he reached the level ground, where he would stay for a long time, facing the Qibla to invoke (Allah) while raising his hands. Then he would do Rami of the Jamrat-ul-Wusta similarly and would go to the left towards the level ground, where he would stand for a long time facing the Qibla to invoke (Allah) while raising his hands. Then he would do Rami of the Jamrat-ul-Aqaba from the middle of the valley, but he would not stay by it. Ibn `Umar used to say, "I saw Allah's Messenger (ﷺ) doing like that
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے جمرہ کی رمی سات کنکریوں کے ساتھ کرتے اور ہر کنکری پر «الله اكبر» کہتے تھے، اس کے بعد آگے بڑھتے اور ایک نرم ہموار زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے، دعائیں کرتے رہتے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے پھر جمرہ وسطی کی رمی میں بھی اسی طرح کرتے اور بائیں طرف آگے بڑھ کر ایک نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے، بہت دیر تک اسی طرح کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہتے، پھر جمرہ عقبہ کی رمی بطن وادی سے کرتے لیکن وہاں ٹھہرتے نہیں تھے، آپ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ حَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) burnt the date-palms of Bani An-Nadir
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں موسیٰ بن عقبہ نے ‘ انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہود ) بنو نضیر کے کھجور کے باغات جلوا دیئے تھے۔
Narrated by Ka`b bin Ujra
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ {أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ}. قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ". قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي بِأَىِّ هَذَا بَدَأَ.
Narrated Ka`b bin Ujra:The Prophet (ﷺ) came to me at the time of Al-Hudaibiya Pledge while lice were falling on my face. He said, "Are the lice of your head troubling you?" I said, "Yes." He said, "Shave your head and fast for three days, or feed six poor persons, or slaughter a sheep as sacrifice." (The sub-narrator, Aiyub said, "I do not know with which of these three options he started)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے ‘ ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ عمرہ حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ جوئیں جو تمہارے سر سے گر رہی ہیں ‘ تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سر منڈوا لو اور تین دن روزہ رکھ لو یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دو یا پھر کوئی قربانی کر ڈالو۔ ( سر منڈوانے کا فدیہ ہو گا ) ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ان تینوں امور میں سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی بات ارشاد فرمائی تھی۔
Narrated by Ibn Mas`ud
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالْكَهْفِ وَمَرْيَمَ إِنَّهُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلاَدِي. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {فَسَيُنْغِضُونَ} يَهُزُّونَ. وَقَالَ غَيْرُهُ نَغَضَتْ سِنُّكَ أَىْ تَحَرَّكَتْ.
Narrated Ibn Mas`ud:Surat Bani Israel and Al-Kahf and Mary are among my first old property
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبیداللہ سبیعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف اور سورۃ مریم کے متعلق کہا کہ یہ اول درجہ کی عمدہ نہایت فصیح و بلیغ سورتیں ہیں اور میری پرانی یاد کی ہوئی ( آیت ) «فسينغضون» کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اپنے سر ہلائیں گے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ یہ «نغضت سنك» سے نکلا ہے یعنی تیرا دانت ہل گیا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً قَالَ " أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ ـ وَقَالَ سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ أَخْنَعُ الأَسْمَاءِ عِنْدَ اللَّهِ ـ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الأَمْلاَكِ ". قَالَ سُفْيَانُ يَقُولُ غَيْرُهُ تَفْسِيرُهُ شَاهَانْ شَاهْ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The most awful (meanest) name in Allah's sight." Sufyan said more than once, "The most awful (meanest) name in Allah's sight is (that of) a man calling himself king of kings." Sufyan said, "Somebody else (i.e. other than Abu Az-Zinad, a sub-narrator) says: What is meant by 'The king of kings' is 'Shahan Shah
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام۔ اور کبھی سفیان نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ روایت اس طرح بیان کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین ناموں ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) میں اس کا نام ہو گا جو ”ملک الاملاک“ اپنا نام رکھے گا۔ سفیان نے بیان کیا کہ ابوالزناد کے غیر نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے ”شاہان شاہ“۔
Narrated by Um Salama
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأُرَى ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ أَنَّ مُكْثَهُ لِكَىْ يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ.
Narrated Um Salama:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) finished his prayers with Taslim, the women would get up and he would stay on for a while in his place before getting up. Ibn Shihab said, "I think (and Allah knows better), that the purpose of his stay was that the women might leave before the men who had finished their prayer
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب زہری نے ہند بنت حارث سے حدیث بیان کی کہ (ام المؤمنین) ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( نماز سے ) سلام پھیرتے تو سلام کے ختم ہوتے ہی عورتیں کھڑی ہو جاتیں ( باہر آنے کے لیے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں اور پورا علم تو اللہ ہی کو ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے ٹھہر جاتے تھے کہ عورتیں جلدی چلی جائیں اور مرد نماز سے فارغ ہو کر ان کو نہ پائیں۔