بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by `Abdur-Rahman bin Yazid
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَ��ْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَرَمَى بِسَبْعٍ، وَقَالَ هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Narrated `Abdur-Rahman bin Yazid:When `Abdullah, reached the big Jamra (i.e. Jamrat-ul-Aqaba) he kept the Ka`ba on the left side and Mina on his right side and threw seven pebbles (at the Jamra) and said, "The one on whom Surat-al- Baqara was revealed (i.e. the Prophet) had done the Rami similarly
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نحعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ کبریٰ کے پاس پہنچے تو کعبہ کو اپنے بائیں طرف کیا اور منیٰ کو دائیں طرف، پھر سات کنکریوں سے رمی کی اور فرمایا کہ جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے بھی اسی طرح رمی کی تھی۔ ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔
Narrated by `Ikrima
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ حَرَّقَ قَوْمًا، فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ، لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ وَلَقَتَلْتُهُمْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏‏.‏
Narrated `Ikrima:`Ali burnt some people and this news reached Ibn `Abbas, who said, "Had I been in his place I would not have burnt them, as the Prophet (ﷺ) said, 'Don't punish (anybody) with Allah's Punishment.' No doubt, I would have killed them, for the Prophet (ﷺ) said, 'If somebody (a Muslim) discards his religion, kill him
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے عکرمہ نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو ( جو عبداللہ بن سبا کی متبع تھی اور علی رضی اللہ عنہ کو اپنا رب کہتی تھی ) جلا دیا تھا۔ جب یہ خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو آپ نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو کبھی انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کی سزا کسی کو نہ دو ‘ البتہ میں انہیں قتل ضرور کرتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کر دے اسے قتل کر دو۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، سَمِعَ النَّضْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ عُمَرُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى فَرَسٍ لَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يَأْتِي بِهِ لِيُقَاتِلَ عَلَيْهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُبَايِعُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، وَعُمَرُ لاَ يَدْرِي بِذَلِكَ، فَبَايَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْفَرَسِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، وَعُمَرُ يَسْتَلْئِمُ لِلْقِتَالِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ـ قَالَ ـ فَانْطَلَقَ فَذَهَبَ مَعَهُ حَتَّى بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَهِيَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ‏.‏
Narrated Nafi`:The people used to say that Ibn `Umar had embraced Islam before `Umar. This is not true. What happened is that `Umar sent `Abdullah to bring his horse from an Ansari man so as to fight on it. At that time the people were giving the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) near the Tree, and `Umar was not aware of that. So `Abdullah (bin `Umar) gave the Pledge of Allegiance (to the Prophet) and went to take the horse and brought it to `Umar. While `Umar was putting on the armor to get ready for fighting, `Abdullah informed him that the people were giving the Pledge of allegiance to Allah's Apostle beneath the Tree. So `Umar set out and `Abdullah accompanied him till he gave the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ), and it was this event that made people say that Ibn `Umar had embraced Islam before `Umar
مجھ سے شجاع بن ولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے نضر بن محمد سے سنا ‘ کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عبداللہ، عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنا ایک گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تھا ‘ جو ایک انصاری صحابی کے پاس تھا تاکہ اسی پر سوار ہو کر جنگ میں شریک ہوں۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت لے رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ابھی اس کی اطلاع نہیں ہوئی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے بیعت کی پھر گھوڑا لینے گئے۔ جس وقت وہ اسے لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ جنگ کے لیے اپنی زرہ پہن رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ اپنے لڑکے کو ساتھ لے گئے اور بیعت کی۔ اتنی سی بات تھی جس پر لوگ اب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسلام لائے تھے۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُمُّ الْقُرْآنِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Um (substance) of the Qur'an is the seven oft-repeated verses (Al-Mathani) and is the Great Qur'an (i.e. Surat-al-Fatiha)
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام القرآن ( یعنی سورۃ فاتحہ ) ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي الثَّقَلِ وَأَنْجَشَةُ غُلاَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسُوقُ بِهِنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أَنْجَشَ، رُوَيْدَكَ، سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas:Once Um Sulaim was (with the women who were) in charge of the luggage on a journey, and Anjashah, the slave of the Prophet, was driving their camels (very fast). The Prophet (ﷺ) said, "O Anjash! Drive slowly (the camels) with the glass vessels (i.e., ladies)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا مسافروں کے سامان کے ساتھ تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام انجشہ عورتوں کے اونٹ کو ہانک رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انجش! ذرا اس طرح آہستگی سے لے چل جیسے شیشوں کو لے کر جاتا ہے۔“
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ ‏"‏‏.‏ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَعِيذُ فِي صَلاَتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) used to invoke Allah in the prayer saying "Allahumma inni a`udhu bika min `adhabi l-qabr, wa a`udhu bika min fitnati l-masihi d-dajjal, wa a`udhu bika min fitnati l-mahya wa fitnati l-mamat. Allahumma inni a`udhu bika mina l-ma'thami wa l-maghram. (O Allah, I seek refuge with You from the punishment of the grave, from the afflictions of the imposter- Messiah, and from the afflictions of life and death. O Allah, I seek refuge with You from sins and from debt)." Somebody said to him, "Why do you so frequently seek refuge with Allah from being in debt?" The Prophet (ﷺ) replied, "A person in debt tells lies whenever he speaks, and breaks promises whenever he makes (them)." `Aisha also narrated: I heard Allah's Messenger (ﷺ) in his prayer seeking refuge with Allah from the afflictions of Ad-Dajjal