Narrated by `Abdur-Rahman bin Yazid
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ بِهَذَا.
Narrated `Abdur-Rahman bin Yazid:`Abdullah, did the Rami from the middle of the valley. So, I said, "O, Abu `Abdur-Rahman! Some people do the Rami (of the Jamra) from above it (i.e. from the top of the valley)." He said, "By Him except whom none has the right to be worshipped, this is the place from where the one on whom Surat-al-Baqara was revealed (i.e. Allah's Messenger (ﷺ)) did the Rami
محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیب ( بطن وادی ) میں کھڑے ہو کر کنکری ماری تو میں نے کہا، اے ابوعبدالرحمٰن! کچھ لوگ تو وادی کے بالائی علاقہ سے کنکریاں مارتے ہیں، اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہی ( بطن وادی ) ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ( رمی کرتے وقت ) جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ان سے سفیان ثوری نے اور ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْثٍ فَقَالَ " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ " إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلاَنًا وَفُلاَنًا، وَإِنَّ النَّارَ لاَ يُعَذِّبُ بِهَا إِلاَّ اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) sent us in a mission (i.e., an army-unit) and said, "If you find so-and-so and so-and-so, burn both of them with fire." When we intended to depart, Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have ordered you to burn so-and-so and so-and-so, and it is none but Allah Who punishes with fire, so, if you find them, kill them (i.e., don't burn them)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے بکیر نے ‘ ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور یہ ہدایت فرمائی کہ اگر تمہیں فلاں اور فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا ‘ پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ ایک ایسی چیز ہے جس کی سزا صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں ملیں تو انہیں قتل کرنا ( آگ میں نہ جلانا ) ۔
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ. وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ لَوْ أَقَمْتَ الْعَامَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ تَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ. قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَدَايَاهُ، وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابُهُ، وَقَالَ " أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ". فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ مَا أُرَى شَأْنَهُمَا إِلاَّ وَاحِدًا، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي. فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا، حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
Narrated Nafi`:One of `Abdullah's sons said to `Abdullah (bin `Umar) "I wish you would stay this year (and not perform Hajj) as I am afraid that you will not be able to reach the Ka`ba." On that he (i.e. `Abdullah bin `Umar) said, "We went out with the Prophet (for `Umra), and when the Quraish infidels intervened between us and the Ka`ba, the Prophet (ﷺ) slaughtered his Hadi and shaved (his head), and his companions cut short their hair." Then `Abdullah bin `Umar said, "I make you witness that I have intended to perform `Umra and if I am allowed to reach the Ka`ba, I will perform the Tawaf, and if something (i.e. obstacles) intervene between me and the Ka`ba, then I will do what Allah's Messenger (ﷺ) did." Then after going for a while, he said, "I consider the ceremonies (of both `Umra and Hajj as one and the same, so I would like you to witness that I have intended to perform Hajj along with my `Umra." So he performed only one Tawaf and one Sai (between Safa and Marwa) and finished the Ihram of both Umra and Hajj
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے ‘ ان کو عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان دونوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کسی لڑکے نے ان سے کہا ‘ اگر اس سال آپ ( عمرہ کرنے ) نہ جاتے تو بہتر تھا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے تو کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانور وہیں ( حدیبیہ میں ) ذبح کر دیئے اور سر کے بال منڈوا دیئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی بال چھوٹے کروا لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر ایک عمرہ واجب کر لیا ہے ( اور اسی طرح تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر بھی وہ واجب ہو گیا ) اگر آج مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کر لوں گا اور اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر تھوڑی دور چلے اور کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج کو بھی ضروری قرار دے لیا ہے اور کہا میری نظر میں تو حج اور عمرہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں ‘ پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور ایک سعی کی ( جس دن مکہ پہنچے ) اور دونوں ہی کو پورا کیا۔
Narrated by Abu Sa`id Al-Mualla
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أُصَلِّي فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ ". فَقُلْتُ كُنْتُ أُصَلِّي. فَقَالَ " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ} ثُمَّ قَالَ أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " فَذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِيَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَذَكَّرْتُهُ فَقَالَ "{الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Mualla:While I was praying, the Prophet (ﷺ) passed by and called me, but I did not go to him till I had finished my prayer. When I went to him, he said, "What prevented you from coming?" I said, "I was praying." He said, "Didn't Allah say" "O you who believes Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Apostle." (8.24) Then he added, "Shall I tell you the most superior Sura in the Qur'an before I go out of the mosque?" When the Prophet (ﷺ) intended to go out (of the Mosque), I reminded him and he said, "That is: "Al hamdu-li l-lahi Rabbil-`alamin (Surat-al-fatiha)' which is the seven oft repeated verses (Al-Mathani) and the Grand Qur'an which has been given to me
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فوراً ہی کیوں نہ آئے؟ عرض کیا کہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا ہے کہ اے ایمان والو! جب اللہ اور اس کے رسول تمہیں بلائیں تو لبیک کہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت بتاؤں۔ پھر آپ ( بتانے سے پہلے ) مسجد سے باہر تشریف لے جانے کے لیے اٹھے تو میں نے بات یاد دلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ «الحمد لله رب العالمين» یہی سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
Narrated by `Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ ". قُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَتْ وَهْوَ يَرَى مَا لاَ نَرَى.
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Aisha! This is Gabriel sending his greetings to you." I said, "Peace, and Allah's Mercy be on him." `Aisha added: The Prophet (ﷺ) used to see things which we used not to see
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یا عائش! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔“ میں نے کہا اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔
Narrated by Shaqiq bin Salama
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ. فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ، فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ. فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ".
Narrated Shaqiq bin Salama:`Abdullah said, "Whenever we prayed behind the Prophet (ﷺ) we used to recite (in sitting) 'Peace be on Gabriel, Michael, peace be on so and so. Once Allah's Messenger (ﷺ) looked back at us and said, 'Allah Himself is As-Salam (Peace), and if anyone of you prays then he should say, at-Tahiyatu li l-lahi wa ssalawatu wa t-taiyibat. As-salamu `alalika aiyuha n-Nabiyu wa rahmatu l-lahi wa barakatuh. Assalamu `alaina wa `ala `ibadi l-lahi s-salihin. (All the compliments, prayers and good things are due to Allah; peace be on you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings [be on you]. Peace be on us an on the pious subjects of Allah). (If you say that, it will reach all the subjects in the heaven and the earth). Ash-hadu al-la ilaha illa l-lah, wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa Rasuluh. (I testify that there is no Deity [worthy of worship] but Allah, and I testify that Muhammad is His slave and His Apostle
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے ( ترجمہ ) سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں اور فلاں پر ( اللہ پر سلام ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تو خود ”سلام“ ہے۔ ( تم اللہ کو کیا سلام کرتے ہو ) اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ کہے «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» تمام آداب بندگی، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہم پر سلام اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام۔ جب تم یہ کہو گے تو تمہارا سلام آسمان و زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔