Narrated by Ibn `Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ الْعَبَّاسَ ـ رضى الله عنه ـ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِيَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى، مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ. تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو ضَمْرَةَ.
Narrated Ibn `Umar:Al-Abbas asked the permission from the Prophet (ﷺ) to stay at Mecca during the nights of Mina in order to provide water to the people, so the Prophet (ﷺ) allowed him
اور ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتوں میں ( حاجیوں ) کو پانی پلانے کے لیے مکہ میں رہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبداللہ کے ساتھ ابواسامہ عقبہ بن خالد اور ابوضمرہ نے کی ہے۔
Narrated by `Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ.
Narrated `Abdullah:During some of the Ghazawat of the Prophet (ﷺ) a woman was found killed. Allah's Messenger (ﷺ) disapproved the killing of women and children
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو لیث نے خبر دی ‘ انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو لیث نے خبر دی ‘ انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
Narrated by Nafi`
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ، صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ.
Narrated Nafi`:`Abdullah bin `Umar set out for Umra during the period of afflictions, and he said, "If I should be stopped from visiting the Ka`ba, I will do what we did when we were with Allah's Messenger (ﷺ)." He assumed Ihram for `Umra in the year of Al-Hudaibiya
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانہ میں عمرہ کے ارادہ سے نکلے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر بیت اللہ جانے سے مجھے روک دیا گیا تو میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ آپ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صلح حدیبیہ کے موقع پر صرف عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَضَى اللَّهُ الأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَئِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَالسِّلْسِلَةِ عَلَى صَفْوَانٍ ـ قَالَ عَلِيٌّ وَقَالَ غَيْرُهُ صَفْوَانٍ ـ يَنْفُذُهُمْ ذَلِكَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ، قَالُوا لِلَّذِي قَالَ الْحَقَّ وَهْوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ ـ وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدِهِ الْيُمْنَى، نَصَبَهَا بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ ـ فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ الْمُسْتَمِعَ، قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلَى صَاحِبِهِ، فَيُحْرِقَهُ وَرُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ حَتَّى يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي يَلِيهِ إِلَى الَّذِي هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ حَتَّى يُلْقُوهَا إِلَى الأَرْضِ ـ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الأَرْضِ ـ فَتُلْقَى عَلَى فَمِ السَّاحِرِ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ فَيَصْدُقُ، فَيَقُولُونَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا يَكُونُ كَذَا وَكَذَا، فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا لِلْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ ". حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِذَا قَضَى اللَّهُ الأَمْرَ. وَزَادَ الْكَاهِنِ. وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ فَقَالَ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا قَضَى اللَّهُ الأَمْرَ وَقَالَ عَلَى فَمِ السَّاحِرِ. قُلْتُ لِسُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ. قَالَ نَعَمْ. قُلْتُ لِسُفْيَانَ إِنَّ إِنْسَانًا رَوَى عَنْكَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَرْفَعُهُ أَنَّهُ قَرَأَ فُزِّعَ. قَالَ سُفْيَانُ هَكَذَا قَرَأَ عَمْرٌو. فَلاَ أَدْرِي سَمِعَهُ هَكَذَا أَمْ لاَ. قَالَ سُفْيَانُ وَهْىَ قِرَاءَتُنَا.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When Allah has ordained some affair in the Heaven, the angels beat with their wings in obedience to His statement, which sounds like a chain dragged over a rock." (`Ali and other sub-narrators said, "The sound reaches them.") "Until when fear is banished from their (angels) hearts, they (angels) say, 'What was it that your Lord said? They say, 'The truth; And He is the Most High, the Most Great.' (34.23) Then those who gain a hearing by stealing (i.e. devils) will hear Allah's Statement:-- 'Those who gain a hearing by stealing, (stand one over the other like this). (Sufyan, to illustrate this, spread the fingers of his right hand and placed them one over the other horizontally.) A flame may overtake and burn the eavesdropper before conveying the news to the one below him; or it may not overtake him till he has conveyed it to the one below him, who in his turn, conveys it to the one below him, and so on till they convey the news to the earth. (Or probably Sufyan said, "Till the news reaches the earth.") Then the news is inspired to a sorcerer who would add a hundred lies to it. His prophecy will prove true (as far as the heavenly news is concerned). The people will say. 'Didn't he tell us that on such-and-such a day, such-and-such a thing will happen? We have found that is true because of the true news heard from heaven." The above hadith is also narrated by Abu Huraira, starting: 'When Allah has ordained some affair...') In this narration the word foreteller is added to the word wizard
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو ملائکہ عاجزی سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے کہ جیسے کسی صاف چکنے پتھر پر زنجیر کے ( مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے ) اور علی بن عبداللہ المدینی نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ کے سوا اور راویوں نے «صفوان» کے بعد «ينفذهم ذلك» ( جس سے ان پر دہشت طاری ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ہیں۔ پھر اللہ پاک اپنا حکم فرشتوں تک پہنچا دیتا ہے، جب ان کے دلوں پر سے ڈر جاتا رہتا ہے تو دوسرے دور والے فرشتے نزدیک والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں پروردگار نے کیا حکم صادر فرمایا۔ نزدیک والے فرشتے کہتے ہیں بجا ارشاد فرمایا اور وہ اونچا ہے بڑا۔ فرشتوں کی یہ باتیں چوری سے بات اڑانے والے شیطان پا لیتے ہیں۔ یہ بات اڑانے والے شیطان اوپر تلے رہتے ہیں ( ایک پر ایک ) سفیان نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر ایک پر ایک کر کے بتلایا کہ اس طرح شیطان اوپر تلے رہ کر وہاں جاتے ہیں۔ پھر بھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔ فرشتے خبر پا کر آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں وہ بات سننے والے کو اس سے پہلے جلا ڈالتا ہے کہ وہ اپنے پیچھے والے کو وہ بات پہنچا دے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا اور وہ اپنے نیچے والے شیطان کو وہ بات پہنچا دیتا ہے، وہ اس سے نیچے والے کو اس طرح وہ بات زمین تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ زمین تک آ پہنچتی ہے۔ ( کبھی سفیان نے یوں کہا ) پھر وہ بات نجومی کے منہ پر ڈالی جاتی ہے۔ وہ ایک بات میں سو باتیں جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے۔ کوئی کوئی بات اس کی سچ نکلتی ہے تو لوگ کہنے لگتے ہیں دیکھو اس نجومی نے فلاں دن ہم کو یہ خبر دی تھی کہ آئندہ ایسا ایسا ہو گا اور ویسا ہی ہوا۔ اس کی بات سچ نکلی۔ یہ وہ بات ہوتی ہے جو آسمان سے چرائی گئی تھی۔
Narrated by Al-Mughira bin Shuba
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ. رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Al-Mughira bin Shuba:Solar eclipse occurred on the day of Ibrahim's death (the Prophet's son)
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے، کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے، کہا ہم نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن ہوا تھا۔ اس کو ابوبکرہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated by `Abdullah bin Buhaina
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ، مَوْلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ـ وَقَالَ مَرَّةً مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ـ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ ـ وَهْوَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَهْوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلاَةَ، وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ وَهْوَ جَالِسٌ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ.
Narrated `Abdullah bin Buhaina:(he was from the tribe of Uzd Shanu'a [??] and was the ally of the tribe of `Abdul-Manaf and was one of the companions of the Prophet): Once the Prophet (ﷺ) led us in the Zuhr prayer and stood up after the second rak`a and did not sit down. The people stood up with him. When the prayer was about to end and the people were waiting for him to say the Taslim, he said Takbir while sitting and prostrated twice before saying the Taslim and then he said the Taslim
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی، انہوں نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے بیان کیا جو مولی بن عبدالمطلب (یا مولی ربیعہ بن حارث) تھے، کہ عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول اور بنی عبد مناف کے حلیف قبیلہ ازدشنوہ سے تعلق رکھتے تھے، نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، چنانچہ سارے لوگ بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب نماز ختم ہونے والی تھی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔