بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih al-Bukhari
25
6 hadith
Narrated by Ibn `Abbas
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو‏.‏
Narrated Ibn `Abbas:I heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon at `Arafat
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن زید سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ میدان عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ میں نے خود سنا تھا۔ اس کی متابعت ابن عیینہ نے عمرو سے کی ہے۔
Narrated by Sahl
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلٌ ـ رضى الله عنه يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ ‏"‏ لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلاً يُفْتَحُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏‏.‏ فَبَاتَ النَّاسُ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا كُلُّهُمْ يَرْجُوهُ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ عَلِيٌّ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ فَقَالَ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ، فَوَاللَّهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلاً خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ ‏"‏‏.‏
Narrated Sahl:On the day (of the battle) of Khaibar the Prophet (ﷺ) said, "Tomorrow I will give the flag to somebody who will be given victory (by Allah) and who loves Allah and His Apostle and is loved by Allah and His Apostle." So, the people wondered all that night as to who would receive the flag and in the morning everyone hoped that he would be that person. Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Where is `Ali?" He was told that `Ali was suffering from eye-trouble, so he applied saliva to his eyes and invoked Allah to cure him. He at once got cured as if he had no ailment. The Prophet (ﷺ) gave him the flag. `Ali said, "Should I fight them till they become like us (i.e. Muslim)?" The Prophet (ﷺ) said, "Go to them patiently and calmly till you enter the land. Then, invite them to Islam, and inform them what is enjoined upon them, for, by Allah, if Allah gives guidance to somebody through you, it is better for you than possessing red camels
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن بن محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم مسلمہ ابن دینار نے بیان کیا ‘ انہیں سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا ”کل میں ایسے شخص کے ہاتھ میں اسلامی جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اسلامی فتح حاصل ہو گی ‘ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول بھی محبت رکھتے ہیں۔“ رات بھر سب صحابہ کے ذہن میں یہی خیال رہا کہ دیکھئیے کہ کسے جھنڈا ملتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو ہر شخص امیدوار تھا ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک تھوک ان کی آنکھوں میں لگا دیا۔ اور اس سے انہیں صحت ہو گئی ‘ کسی قسم کی بھی تکلیف باقی نہ رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا عطا فرمایا۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک نہ لڑوں جب تک یہ ہمارے ہی جیسے یعنی مسلمان نہ ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ یوں ہی چلا جا۔ جب ان کی سرحد میں اترے تو انہیں اسلام کی دعوت دینا اور انہیں بتانا کہ ( اسلام کے ناطے ) ان پر کون کون سے کام ضروری ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی مسلمان کر دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
Narrated by Abu Jamra
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ هَلْ يُنْقَضُ الْوِتْرُ قَالَ إِذَا أَوْتَرْتَ مِنْ أَوَّلِهِ، فَلاَ تُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ‏.‏
Narrated Abu Jamra:I asked Aidh bin `Amr, who was one of the companions of the Prophet (ﷺ) one of those (who gave the allegiance to the Prophet (ﷺ) under the Tree): "Can the witr prayer be repeated (in one night)?" He said, "If you have offered it in the first part of the night, you should not repeat it in the last part of the night." (See Fath-ul-Bari page 458 Vol 8th)
ہم سے محمد بن حاتم بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شاذان (اسود بن عامر) نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا کہ انہوں نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور بیعت رضوان میں شریک تھے کہ کیا وتر کی نماز ( ایک رکعت اور پڑھ کر ) توڑی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر شروع رات میں تو نے وتر پڑھ لیا ہو تو آخر رات میں نہ پڑھو۔
Narrated by `Urwa
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، فَقُلْتُ لَعَلَّهَا ‏{‏كُذِبُوا‏}‏ مُخَفَّفَةً‏.‏ قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ‏ نَحْوَهُ
Narrated `Urwa:"I told her (`Aisha): (Regarding the above narration), they (Apostles) were betrayed (by Allah)." She said: Allah forbid or said similarly
Narrated by Isma`il
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قُلْتُ لاِبْنِ أَبِي أَوْفَى رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَاتَ صَغِيرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ‏.‏
Narrated Isma`il:I asked Abi `Aufa, "Did you see Ibrahim, the son of the Prophet (ﷺ) ?" He said, "Yes, but he died in his early childhood. Had there been a Prophet after Muhammad then his son would have lived, but there is no Prophet after him
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد بجلی نے، کہ میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا۔ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا تھا؟ بیان کیا کہ ان کی وفات بچپن ہی میں ہو گئی تھی اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
Narrated by Aiyub
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا فَقَالَ إِنِّي لأُصَلِّي بِكُمْ، وَمَا أُرِيدُ الصَّلاَةَ، وَلَكِنْ أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ فَقُلْتُ لأَبِي قِلاَبَةَ وَكَيْفَ كَانَتْ صَلاَتُهُ قَالَ مِثْلَ صَلاَةِ شَيْخِنَا هَذَا ـ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ ـ قَالَ أَيُّوبُ وَكَانَ ذَلِكَ الشَّيْخُ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ عَنِ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ قَامَ‏.‏
Narrated Aiyub:Abu Qilaba said, "Malik bin Huwairith came to us and led us in the prayer in this mosque of ours and said, 'I lead you in prayer but I do not want to offer the prayer but just to show you how Allah's Apostle performed his prayers." I asked Abu Qilaba, "How was the prayer of Malik bin Huwairith?" He replied, "Like the prayer of this Sheikh of ours-- i.e. `Amr bin Salima." That Sheikh used to pronounce the Takbir perfectly and when he raised his head from the second prostration he would sit for a while and then support himself on the ground and get up
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے اور آپ نے ہماری اس مسجد میں نماز پڑھائی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھا رہا ہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ میں صرف تم کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ نبی کریم کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ مالک رضی اللہ عنہ کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح۔ ایوب نے بیان کیا کہ شیخ تمام تکبیرات کہتے تھے اور جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر بیٹھتے اور زمین کا سہارا لے کر پھر اٹھتے۔